لعان کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 101 · 48 hadiths · Page 1 of 3

3281Mishkaat-al-Masabih

بہترین بیوی کی پہچان

وعن أبي هريرة قال : قيل لرسول الله صلى الله عليه و سلم : أي النساء خير ؟ قال : التي تسره إذا نظر وتطيعه إذا أمر ولا تخالفه في نفسها ولا مالها بما يكره . رواه النسائي والبيهقي في شعب الإيمان

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ سے پوچھا گیا کہ کون سی بیوی بہتر ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ عورت جب اس کا خاوند اس کی طرف دیکھے تو وہ اس کو خوش کر دے اور جب شوہر اس کو کوئی حکم دے تو اس کو بجا لائے (بشرطیکہ وہ حکم خلاف شرع نہ ہو) اور اپنی ذات اور اپنے مال میں اس کے خلاف کوئی ایسی بات نہ کرے جس کو وہ پسند نہ کرتا ہو۔ اس روایت کو بیہقی نے شعب الایمان میں نقل کیا ہے۔ تشریح اس روایت میں ایک اچھی بیوی کی پہچان یہ بتائی گئی ہے کہ جب اس کا شوہر اس کی طرف دیکھے یعنی اس کی خوش اخلاقی وخوش اطواری کو دیکھے تو وہ خوش ہوجائے اور اگر کہیں وہ بیوی صورت و سیرت دونوں میں اچھی ہو تو پھر کیا کہنا نور علی نور اور سرور علی سرور ہے اسی طرح ایک پہچان یہ بتائی گئی ہے کہ وہ اپنی ذات اور اپنے مال میں ایسی کوئی بات نہ کرے جو اس کے شوہر کی نظر میں پسندیدہ نہ ہو۔ یہاں اپنے مال سے خود اس بیوی کا مال بھی مراد ہوسکتا ہے یعنی جس مال کی حقیقت میں وہ خود مالک ہو اس مال کو بھی وہ اپنے شوہر کی مرضی کے خلاف خرچ نہ کرے اور اس سے وہ مال بھی ہوسکتا ہے جو خود اس کی ملکیت نہ ہو بلکہ حقیقت میں مالک تو اس کا خاوند ہو البتہ اس عورت کے قبضہ و تصرف میں ہو اس صورت میں بھی یہ مطلب ہوگا کہ اس کا خاوند اس کو جو کچھ مال و اسباب اور روپیہ پیسہ دے وہ اس کو ایک امانت کے طور پر اپنے پاس رکھے اس میں نہ تو خیانت کرے اور نہ اپنے خاوند کی مرضی کے خلاف اس کو خرچ کرے۔

3282Mishkaat-al-Masabih

امانت دار بیوی کی فضیلت

وعن ابن عباس رضي الله عنهما : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : أربع من أعطيهن فقد أعطي خير الدنيا والآخرة : قلب شاكر ولسان ذاكر وبدن على البلاء صابر وزوجة لا تبغيه خونا في نفسها ولا ماله . رواه البيهقي في شعب الإيمان

اور حضرت ابن عباس راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ چار چیزیں ایسی ہیں کہ وہ جس شخص کو مل جائیں اس کو دنیا وآخرت کی بھلائی نصیب ہوجائے اول حق تعالیٰ کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرنے والا دل، دوم خوشی اور رنج ہر حالت میں اللہ تعالیٰ کو یاد کرنیوالی زبان، سوم بلاؤں پر صبر کرنیوالا جسم اور چہارم وہ عورت جو اپنی ذات اور اپنے خاوند کے مال میں خیانت نہ کرے۔ اس روایت کو بیہقی نے شعب الایمان میں نقل کیا ہے۔

3283Mishkaat-al-Masabih

خلع اور طلاق کا بیان

خلع کا مطلب خلع خ کے پیش کے ساتھ خلع خ کے زبر کے ساتھ) اسم ہے خلع کے لغوی معنی ہیں کسی چیز کو نکالنا اور عام طور پر یہ لفظ بدن سے کسی پہنی ہوئی چیز مثلا کپڑے اور موزے وغیرہ اتارنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے لیکن شرعی اصطلاح میں اس لفظ کے معنی ہیں ملکیت نکاح کو مال کے عوض میں لفظ خلع کے ساتھ زائل کرنا یا ملکیت نکاح ختم کرنے کے لئے لفظ خلع کے ساتھ اپنی عورت سے مال لینا اس شرعی اصطلاح کی توضیح یہ ہے کہ اگر میاں بیوی میں اختلاف ہوجائے اور دونوں میں کسی طرح نباہ نہ ہو سکے اور مرد طلاق بھی نہ دیتا ہو تو عورت کو جائز ہے کہ کچھ مال دے کر اپنا مہر دے کر نجات حاصل کرلے مثلا اپنے مرد سے کہے کہ اتنا روپیہ لے کر خلع کردو یعنی میری جان چھوڑ دو یا یوں کہے کہ جو مہر تمہارے ذمہ ہے اس کے عوض میری جان چھوڑ دو اس کے جواب میں مرد کہے کہ میں نے چھوڑ دی تو اس سے عورت پر ایک طلاق بائن پڑھ جائے گی اور دونوں میں جدائی ہوجائے گی۔ مظہر نے لکھا ہے کہ اس بارے میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں کہ اگر مرد عورت سے کہے کہ میں نے اتنے مال کے عوض تم سے خلع کیا اور بیوی کہے کہ میں نے قبول کیا اور پھر میاں بیوی کے درمیان جدائی واقع ہوجائے تو آیا یہ طلاق ہے یا فسخ ہے، چناچہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور حضرت امام مالک کا مسلک یہ ہے کہ یہ طلاق بائن ہے حضرت امام شافعی کا زیادہ صحیح قول بھی یہی ہے لیکن حضرت امام احمد کا مسلک یہ ہے کہ یہ فسخ ہے اور حضرت امام شافعی کا بھی ایک قول یہی ہے اگر میاں بیوی کے باہمی اختلاف کی بنیاد شوہر کی زیادتی و سرکشی ہو اور شوہر کی اس زیادتی و سرکشی کی وجہ سے بیوی خلع چاہتی ہو تو اس صورت میں شوہر کے لئے یہ مکروہ ہے کہ وہ خلع کے معاوضہ کے طور پر کوئی چیز مثلا روپیہ وغیرہ لے اور اگر میاں بیوی کے باہمی اختلاف کی بنیاد بیوی کی نافرمانی و سرکشی ہو یعنی بیوی کی نافرمانی وبداطواری کی وجہ سے خلع کی نوبت آئی ہو تو اس صورت میں شوہر کے لئے یہ مکروہ ہے کہ وہ اس خلع کے عوض میں اس قدر رقم لے کہ اس نے عورت کے مہر میں جو رقم دی ہے اس سے بھی زیادہ ہو۔

3284Mishkaat-al-Masabih

ناپسند شوہر سے طلاق حاصل کی جاسکتی ہے

عن ابن عباس : أن امرأة ثابت بن قيس أتت النبي صلى الله عليه و سلم فقالت : يا رسول الله ثابت بن قيس ما أعتب عليه في خلق ولا دين ولكني أكره الكفر في الإسلام فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أتردين عليه حديقته ؟ قالت : نعم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اقبل الحديقة وطلقها تطليقة . رواه البخاري

حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ ثابت ابن قیس کی بیوی رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! ثابت ابن قیس پر مجھے غصہ نہیں آتا اور نہ میں ان کی عادات اور ان کے دین میں کوئی عیب لگاتی ہوں لیکن میں اسلام میں کفر یعنی کفران نعمت یا گناہ کو پسند نہیں کرسکتی، رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم ثابت ابن قیس کا باغ جو انہوں نے تمہیں مہر میں دیا ہے) ان کو واپس کرسکتی ہو؟ ثابت کی بیوی نے کہا کہ ہاں رسول کریم ﷺ نے یہ سن کر ثابت سے فرمایا کہ تم اپنا باغ لے لو اور اس کو ایک طلاق دیدو ( بخاری) تشریح ثابت ابن قیس کی بیوی کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ میں اپنے شوہر سے اس لئے جدائی اختیار کرنا نہیں چاہتی کہ وہ بد اخلاق ہیں یا ان کی عادات مجھے پسند نہیں ہیں یا یہ کہ ان کے دین میں کچھ نقصان ہے بلکہ صورت حال یہ ہے کہ مجھے ان سے محبت نہیں ہے اور وہ طبعی طور پر مجھے ناپسند ہیں لیکن بہرحال وہ میرے شوہر ہیں اور مجھے ڈر ہے کہ کہیں ان کے تئیں میری طرف سے کوئی ایسی حرکت نہ ہوجائے جو اسلامی حکم کے خلاف ہو مثلا مجھ سے کوئی نافرمانی ہوجائے یا ان کی مرضی کے خلاف کوئی فعل سرزد ہوجائے تو ایسی صورت میں گویا کفران نعمت یا گناہ ہوگا جو مجھے گوارہ نہیں ہے اس لئے میں کیوں نہ ان سے جدائی اختیار کرلوں۔ کہا جاتا ہے کہ ثابت ابن قیس بہت بد صورت تھے اور ٹھگنے (پست) قد تھے اور ان کی بیوی کا نام حبیبہ یا جمیلہ تھا جو بہت خوبصورت اور حسین تھیں اسی لئے ان دونوں کا جوڑا بہت ناموزوں تھا اور ان کی بیوی ان کو پسند نہیں کرتی تھیں چناچہ آنحضرت ﷺ نے ان کی عرض کے مطابق حضرت ثابت کو مصلحۃ یہ حکم دیا کہ وہ اپنی بیوی کو ایک طلاق دیدیں اس سے معلوم ہوا کہ طلاق دینے والے کے حق میں یہ اولی افضل ہے کہ وہ ایک طلاق دے تاکہ اگر رجوع کرنا منظور ہو تو رجوع کرلے نیز اس سے یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ خلع طلاق ہے فسخ نہیں ہے چناچہ صاحب ہدایہ نے اس سلسلہ میں آنحضرت ﷺ سے ایک حدیث بھی نقل کی ہے کہ الخلع تطلیقۃ بائنۃ یعنی خلع طلاق بائن ہے۔

3285Mishkaat-al-Masabih

حالت حیض میں طلاق دینے کی ممانعت

وعن عبد الله بن عمر : أنه طلق امرأة له وهي حائض فذكر عمر لرسول الله صلى الله عليه و سلم فتغيظ فيه رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم قال : ليراجعها ثم يمسكها حتى تطهر ثم تحيض فتطهر فإن بدا له أن يطلقها فليطلقها طاهرا قبل أن يمسها فتلك العدة التي أمر الله أن تطلق لها النساء . وفي رواية : مره فليراجعها ثم ليطلقها طاهرا أو حاملا

اور حضرت عبداللہ ابن عمر کے بارے میں روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی تو حضرت عمر نے اس کا ذکر رسول کریم ﷺ سے کیا، آنحضرت ﷺ اس واقعہ سے بہت غصہ ہوئے اور فرمایا کہ اس گناہ کا تدارک کرنے کے لئے) عبداللہ کو چاہئے کہ وہ اس عورت سے رجوع کرے یعنی مثلا یوں کہے کہ میں نے اس کو اپنے نکاح میں واپس لے لیا) اور پھر اس کو اپنے پاس رکھے یہاں تکہ کہ وہ پاک ہوجائے اور پھر جب وہ حائضہ ہو اور اس کے بعد پاک ہوجائے اور پھر جب وہ حائضہ ہو اور اس کے بعد پاک ہوجائے اور طلاق دینا ضروری ہو تو پاکی کی حالت میں اسے طلاق دے قبل اس کے کہ اس سے جماع کرے، پس یہی وہ عدت ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اس میں عورتوں کو طلاق دی جائے۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت عمر سے فرمایا کہ عبداللہ کو حکم دو کہ وہ اس عورت سے رجوع کرے اور پھر اس کو پاکی کی حالت میں بشرطیکہ وہ حاملہ نہ ہو اور حیض آتا ہو یا حمل کی حالت میں طلاق دے (بخاری ومسلم) تشریح فتغیظ فیہ (آنحضرت ﷺ اس واقعہ سے بہت غصہ ہوئے) یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حالت حیض میں طلاق دینا حرام ہے کیونکہ اگر یہ حرام نہ ہوتا تو آنحضرت ﷺ اس واقعہ پر غصہ نہ ہوتے۔ اور حالت حیض میں طلاق دینا حرام اس لئے ہے کہ ہوسکتا ہے کہ طلاق دینے والے نے حالت حیض میں محض کراہت طبع کے سبب طلاق دی ہو اور وہ مصلحت اس کے طلاق دینے کیوجہ سے نہ ہو جس کی بناء پر طلاق دینا حرام ہو۔ مگر کوئی شخص اگر حالت حیض میں طلاق دیدے تو طلاق پڑھ جائے گی یہی وجہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے عبداللہ کو رجوع کرنے کا حکم دیا اور یہ بالکل ظاہر بات ہے کہ رجوع کرنا طلاق کے بعد ہی ہوتا ہے۔ ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مذکورہ بالا صورت میں دوسرے طہر (یعنی دوسرے حیض کے بعد پاکی کی حالت) تک طلاق کو مؤخر کرنے میں کیا مصلحت ہے؟ سیدھی بات تو یہ ہے کہ حکم یہ ہوتا کہ جس حیض میں طلاق دی گئی ہے اور پھر رجوع کیا گیا ہے اسی حیض کے گزرنے کے بعد پاکی کی حالت میں طلاق دی جائے لیکن اس کے برعکس اس کو دوسرے طہر تک مؤخر کیا گیا ہے، چناچہ اس کے بارے میں علماء کہتے ہیں کہ اس کی کئی وجہیں ہیں اول تو یہ کہ رجوع کرنا صرف طلاق کی غرض سے نہ ہو لہذا طلاق دینے کو ایک ایسی مدت تک کے لئے مؤخر کردینا چاہئے جس میں ایک طرف تو طلاق دینا حلال اور دوسری طرف طلاق کے فیصلہ پر نظرثانی کا موقع بھی مل جائے اور شاید کوئی ایسی راہ نکل آئے کہ طلاق دینے کی نوبت ہی نہ آئے اور ظاہر ہے کہ ان دونوں مصلحتوں کی رعایت دوسرے طہر ہی میں ہوسکتی ہے۔ دوم یہ کہ اتنی مدت تک کے لئے طلاق دینے کو مؤخر کرنا دراصل طلاق دینے والے کے اس فعل بد یعنی حالت حیض میں طلاق دینے کی سزا ہے سوم یہ کہ جس حیض کی حالت میں طلاق دی گئی ہے وہ اور اس کے بعد کا طہر یعنی پاکی کی حالت دونوں گویا ایک ہی چیز کے حکم میں ہیں لہذا اگر پہلے طہر میں دی گئی تو گویا حیض ہی کی حالت میں دی لیکن یہ بات ملحوظ رہے کہ ان تینوں وجہوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دوسرے طہر تک طلاق سے باز رہنا واجب نہیں ہے بلکہ اولی ہے۔ طلاق کی قسمیں یہ بات جاننی چاہئے کہ وقت و محل کے اعتبار سے نفس طلاق کی تین قسمیں ہیں ١) احسن ٢) حسن۔ حسن کو سنی بھی کہتے ہیں ٣) بدعی طلاق احسن کی صورت یہ ہے کہ ایک طلاق رجعی ایسے طہر پاکی کی حالت میں دی جائے جس میں جماع نہ کیا ہو اور پھر اس کو اسی حالت میں چھوڑے یعنی پھر نہ تو اس کو اور طلاق دے اور نہ اس سے جماع کرے) یہاں تک کہ اس کی عدت پوری ہوجائے طلاق کی یہ پہلی قسم سب سے بہتر ہے۔ طلاق حسن کی صورت یہ ہے کہ ایک طلاق حسن رجعی ایسے طہر پاکی کی حالت میں دی جائے جس میں جماع نہ کیا ہو بشرطیکہ عورت مدخول بہا ہو اور اگر عورت غیر مدخول بہا ہو تو اس کے لئے ایک طلاق حسن ہے نیز اس کو حیض کی حالت میں بھی طلاق دی جاسکتی ہے اور آئسہ صغیرہ اور حاملہ عورتوں کے لئے طلاق حسن یہ ہے کہ ان کو تین مہینہ تک ہر مہینہ میں ایک طلاق دی جائے نیز ان عورتوں کو جماع کے بعد بھی طلاق دینا جائز ہے طلاق کی یہ دوسری قسم بھی بہتر ہے۔ طلاق بدعی کی صورت یہ ہے کہ مدخول بہا کو ایک ہی طہر میں یا ایک ہی دفعہ میں تین طلاقیں دیدے یا ایسی دو طلاقیں دے جس میں رجعت کی گنجائش نہ ہو یا اس کو اس طہر میں طلاق دے جس میں جماع کرچکا ہو اس طرح اگر کسی شخص نے حیض کی حالت میں طلاق دی تو یہ بھی طلاق بدعی کے حکم میں ہے اور اگر وہ عورت کہ جس کو حیض کی حالت میں طلاق دی ہے مدخول بہا ہو تو صحیح تر روایت کے مطابق اس سے رجوع کرنا واجب ہے جب کہ بعض علماء نے رجوع کرنے کو مستحب کہا ہے، پھر جب وہ پاک ہوجائے اور اس کے بعد دوسرا حیض آئے اور پھر اس سے بھی پاک ہوجائے تب اگر طلاق دینا ضروری ہو تو اس دوسرے طہر میں طلاق دی جائے طلاق کی یہ تیسری قسم شریعت کی نظر میں ناپسندیدہ ہے گو طلاق واقع ہوجاتی ہے مگر طلاق دینے والا گنہگار ہوتا ہے۔ وقوع کے اعتبار سے طلاق کی دو قسمیں ہیں رجعی۔ بائن طلاق رجعی کی صورت یہ ہے کہ طلاق دینے والا ایک بار یا دو صریح الفاظ میں یوں کہے کہ انت طالق یا طلقتک یا اردو میں یہ کہے تجھ پر طلاق ہے یا میں نے تجھے طلاق دی اس طرح طلاق دینے سے طلاق دینے والا ایام عدت میں بغیر نکاح کے رجوع کرسکتا ہے یعنی اگر وہ یوں کہے کہ میں نے تجھ سے رجوع کیا یا اس کو ہاتھ لگائے یا مساس کرے اور یا اس سے جماع کرے تو اس سے رجوع ہوجاتا ہے جدید نکاح کی ضرورت نہیں ہوتی۔ طلاق بائن کی صورت یہ ہے کہ طلاق کے صریح الفاظ کی بجائے ایسے الفاظ کے ذریعہ طلاق دی جائے جو اگرچہ صراحۃ طلاق کے لئے استعمال نہ ہوتے ہوں مگر کنایۃ وہ طلاق کا مفہوم بھی ادا کرتے ہوں علاوہ ان تین الفاظ کنایات کے جن کو فقہاء نے صریح طلاقوں کے لئے تسلیم کیا ہے طلاق بائن کا حکم یہ ہے کہ عورت نکاح سے نکل جاتی ہے تجدید نکاح کے بغیر اس عورت کو بیوی بنا کر رکھنا حرام ہے۔ حکم اور نتیجہ کے اعتبار سے بھی طلاق کی دو قسمیں ہیں مغلظہ مخففہ طلاق مغلظہ کی صورت یہ ہے کہ یکبارگی تین طلاقیں دی جائیں مثلا یوں کہے کہ میں نے طلاق دی یا الگ الگ تین طلاقیں دی جائیں مثلا یوں کہے کہ میں نے طلاق دی میں نے طلاق دی میں نے طلاق دی) اس طلاق کے بعد طلاق دینے والا اس عورت کو دوبارہ اپنے نکاح میں بغیر حلالہ نہیں لاسکتا حلالہ کی صورت یہ ہے کہ وہ عورت عدت گزارنے کے بعد کسی دوسرے مرد سے نکاح کرے اور دوسرا مرد اس سے جماع کر کے اس کو طلاق دے دے اور پھر جب اس کی عدت پوری ہوجائے تو پہلا شوہر اس سے نکاح کرلے۔ طلاق مخففہ کی صورت یہ ہے کہ یکبارگی یا الگ الگ دو طلاقیں دے یا ایک طلاق دے پھر اگر یہ دو طلاقیں یا ایک طلاق الفاظ صریح کے ساتھ ہو تو عدت کے اندر رجوع کرسکتا ہے تجدید نکاح کی ضرورت نہیں اور اگر الفاظ کنایہ کے ساتھ ہو تو تجدید نکاح کے بعد اس کو اپنی بیوی بنا سکتا ہے حلالہ کی ضرورت نہیں۔ کن لوگوں کی طلاق واقع ہوتی ہے اور کن لوگوں کی واقع نہیں ہوتی ہر عاقل وبالغ کی دی ہوئی طلاق واقع ہوجاتی ہے خواہ وہ آزاد ہو یا غلام اور خواہ وہ اپنی خوشی سے طلاق دے یا کسی کے جبر واکراہ سے دے یا نشہ کی حالت میں دے۔ اسی طرح اگر عاقل وبالغ شوہر گونگاہ و اور وہ اشارہ معہودہ کے ذریہ طلاق دے تو اس کی طلاق بھی واقع ہوجاتی ہے اور لڑکے اور دیوانے کی دی ہوئی طلاق واقع نہیں ہوگی اسی طرح اگر سویا ہوا شخص طلاق دے اور بیدار ہونے کے بعد کہے کہ میں نے تجھے سوتے میں طلاق دی ہے تو اس کی طلاق بھی واقع نہیں ہوگی اگر کسی مالک نے اپنے غلام کی بیوی کو طلاق دی تو اس کی طلاق دی تو اس کی طلاق بھی واقع نہیں ہوگی۔ طلاق میں اصلی اعتبار عورت کا ہے چناچہ آزاد عورت کے لئے تین طلاقیں ہیں اگرچہ وہ کسی غلام کے نکاح میں ہو اسی طرح لونڈی کے لئے دو طلاقیں ہیں اگرچہ وہ کسی آزاد مرد کے نکاح میں ہو۔

3286Mishkaat-al-Masabih

اختیارکا مسئلہ

وعن عائشة قالت : خيرنا رسول الله صلى الله عليه و سلم فاخترنا الله ورسوله فلم يعد ذلك علينا شيئا

اور حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ہمیں اختیار دیدیا تھا کہ اگر تم دنیا اور دنیا کی زینت و آسائش کی طلبگار ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ مال دے کر چھوڑ دوں اور اگر تم اللہ، اللہ کے رسول اور دارآخرت کی طلبگار ہو تو پھر جان لو کہ تمہارے لئے اللہ کے ہاں بیشمار اجر عظیم ثواب ہے) چناچہ ہم نے دنیا اور دنیا کی زینت و آسائش کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو اختیار کرلیا اور آنحضرت ﷺ نے اس اختیار کو ہمارے لئے طلاق کی اقسام میں کوئی قسم جیسے ایک ایک طلاق یا دو طلاقی یا رجعی یا بائن) کچھ بھی اختیار نہیں کیا (بخاری ومسلم) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شوہر اپنی بیوی سے یوں کہے کہ اپنے نفس کو اختیار کرلو یا مجھے اختیار کرلو اور پھر بیوی خاوند کو اختیار کرلے تو اس سے کسی طرح کی طلاق واقع نہیں ہوتی چناچہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور امام شافعی کا یہی مسلک ہے۔ لیکن اگر بیوی اپنے نفس کو اختیار کرلے تو اس صورت میں حضرت امام شافعی اور حضرت امام احمد کے نزدیک طلاق رجعی حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک طلائق بائن اور حضرت امام مالک کے نزدیک تین طلاقیں واقع ہوتی ہیں۔ منقول ہے کہ صحابہ میں سے امیر المؤمنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ اس بات کے قائل تھے کہ بیوی کو شوہر کے محض اختیار دے دینے ہی سے طلاق رجعی واقع ہوجاتی ہے خواہ وہ اپنے شوہر ہی کو کیوں نہ اختیار کرلے۔ اور حضرت زید ابن ثابت اس بات کے قائل تھے کہ طلاق بائن واقع ہوجاتی ہے چناچہ حضرت عائشہ نے ان دونوں ہی کے اقوال کی تردید میں یہ حدیث بیان کر کے گویا یہ واضح کردیا کہ شوہر کے محض اختیار دینے سے کوئی بھی طلاق واقع نہیں ہوتی۔

3287Mishkaat-al-Masabih

کسی چیز کو اپنے اوپرحرام کرلینے سے کفار لازم آتا ہے

وعن ابن عباس قال : في الحرام يكفر لقد كان لكم في رسول الله أسوة حسنةوعن عائشة : أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يمكث عند زينب بنت جحش وشرب عندها عسلا فتواصيت أنا وحفصة أن أيتنا دخل عليها النبي صلى الله عليه و سلم فلتقل : إني أجد منك ريح مغافير أكلت مغافير ؟ فدخل على إحداهما فقالت له ذلك فقال : لا بأس شربت عسلا عند زينب بنت جحش فلن أعود له وقد حلفت لا تخبري بذلك أحدا يبتغي مرضاة أزواجه فنزلت : ( يا أيها النبي لم تحرم ما أحل الله لك تبتغي مرضاة أزواجك ) الآية

اور حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ کسی چیز کو حرام کرلینے پر کفارہ دے اور اس سلسلہ میں تمہارے لئے رسول کریم ﷺ کی پیروی ہی بہتر ہے (بخاری ومسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے اوپر کسی چیز خواہ وہ اپنی ہو یا کسی دوسری چیز کو حرام کرلے تو اس پر قسم کا کفارہ لازم آتا ہے اور وہ چیز حرام نہیں ہوتی حضرت ابن عباس اسی کے قائل تھے اور حنفیہ کا مسلک بھی یہی ہے کہ اگر کوئی شخص کسی چیز کو اپنے اوپر حرام کرلے اگرچہ وہ چیز بذات خود حرام کیوں نہ ہو یا کسی دوسرے کی ملکیت کیوں نہ ہو مثلا یوں کہے کہ مجھ پر شراب حرام ہے یا فلاں کا مال مجھ پر حرام ہے تو یہ بمنزلہ قسم ہے بشرطیکہ اگر اس نے کسی حرام چیز کے بارے میں یہ کہا کہ یہ چیز مجھ پر حرام ہے اور اس سے اس کا مقصد اس چیز کے حرام ہونے کی خبر دینا نہ ہو لہذا جب وہ اس چیز کو کہ جسے اس نے اپنے اوپر حرام کیا ہے کھائے یا استعمال کرے گا تو وہ گویا حانث یعنی قسم توڑنے والا ہوگا اور اس پر وہی کفارہ لازم ہوگا جو قسم توڑنے پر لازم ہوتا ہے ہاں اگر اس نے اس چیز کو صدقہ کردیا یا کسی کو ہبہ کردیا تو پھر حانث نہیں ہوگا اور اس پر کوئی کفارہ لازم نہیں آئے گا۔ چنانچہ حضرت ابن عباس نے اپنی اس بات کی تائید میں یہ آیت (وَالّٰتِيْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَھُنَّ ) 33۔ الاحزاب 21) پڑھی اور اس طرف اشارہ کیا کہ جب آنحضرت ﷺ نے شہد کو اپنے اوپر حرام کیا تو اس آیت (يٰ اَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ ) 66۔ التحریم 1) کے ذریعہ آپ ﷺ کو کفارہ دینے کا حکم دیا گیا (جس کا تفصیلی ذکر اگلی روایت میں آئے گا) لہذا تم پر آنحضرت ﷺ کی پیروی لازم ہے کہ اگر تم نے کسی چیز کو اپنے اوپر حرام کرلیا اور پھر اس چیز کو استعمال کر کے حانث ہوگئے تو کفارہ ادا کرو۔ اگر کوئی شخص یوں کہے کہ تمام حلال مال مجھ پر حرام ہے یا اللہ کی حلال کی ہوئی تمام چیزیں مجھ پر حرام ہیں تو ایسے قول کے بارے میں فتوی یہی ہے کہ اس طرح کہنے سے اس کی بیوی پر طلاق پڑھ جائے گی اگرچہ اس نے طلاق کی نیت نہ کی ہو اور اگر اپنی بیوی سے یہ کہے کہ تم مجھ پر حرام ہو تو یہ ایلاء ہوجائے گا بشرطیکہ اس نے واقع حرام کرنے کی نیت کی ہو یا کچھ بھی نیت کی ہو اور اگر اس نے یہ کہتے وقت ظہار کی نیت کی ہوگی تو ظہار ہوجائے گا۔ ہاں اگر اس نے یہ کہتے وقت کہ تم مجھ پر حرام ہو جھوٹ کی نیت کی ہو تو بھی یہ کہنا ہدر (لغو) ہوگا یعنی اس کہنے سے عند اللہ تو کچھ نہیں ہوگا لیکن یہ معاملہ اگر حاکم کے ہاں پہنچا تو حاکم ایلاء کا حکم نافذ کر دے گا اور اگر یہ کہتے وقت اس نے طلاق کی نیت کی تو طلاق بائن پڑھ جائے گی اور اگر تین طلاق کی نیت کی تو تین طلاقیں پڑجائیں گی۔ اور فتوی اسی پر ہے کہ اگر طلاق کی نیت نہ بھی کرے تو تو بھی طلاق بائن پڑھ جائے گی۔ اور حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ اپنی ایک بیوی حضرت زینب بنت جحش کے پاس ٹہر جایا کرتے تھے اور وہاں شہد پیا کرتے تھے چناچہ ایک دین میں نے اور حفصہ نے آپس میں یہ طے کیا کہ نبی کریم ﷺ ہم میں سے جس کے پاس تشریف لائیں تو وہ یہ کہے کہ آپ ﷺ کے منہ مبارک سے مغافیر کی بو آتی ہے کیا آپ ﷺ نے مغافیر کھایا ہے؟ چناچہ جب ان دونوں میں سے ایک یعنی حضرت عائشہ یا حضرت حفصہ کے پاس تشریف لائے تو اس نے یہی کہا آپ ﷺ نے فرمایا کہ کوئی بات نہیں میں نے زینب بنت جحش کے ہاں شہد پیا ہے اب میں کبھی شہد نہیں پیوں گا۔ میں نے قسم کھالی ہے لیکن تم کسی کو یہ نہ بتانا تاکہ اس بات سے زینب کی دل شکنی نہ ہو کہ اب میں ان کے ہاں شہد نہیں پیوں گا اور اس سے یعنی شہد کو اپنے اوپر حرام کرلینے سے آنحضرت ﷺ کا مقصد اپنی بیویوں کو خوش کرنا تھا چناچہ اس پر یہ آیت نازل ہوئی آیت (يٰ اَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ تَبْتَغِيْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِكَ ) 66۔ التحریم 1) (یعنی اے نبی ﷺ! آپ محض اپنی بیویوں کی خوشنودی کی خاطر اپنے اوپر اس چیز کو کیوں حرام کرتے ہو جس کو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے لئے حلال کردیا ہے۔ تشریح حضرت زینب بنت جحش کے پاس ٹھہر جایا کرتے تھے، یہ ان کی نوبت باری کے دن کا ذکر نہیں ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ جب اپنی ازواج مطہرات کے ہاں گشت کے لئے نکلتے اور حضرت زینب کے گھر تشریف لاتے تو اس وقت ان کے پاس ٹھہر جایا کرتے تھے۔ مغافیر ایک درخت کے پھل کا نام ہے جو گوند کے مشابہ ہوتا ہے اس کی بو خراب ہوتی ہے اور ایک گونہ شہد کی بو کی مشابہت رکھتی ہے۔ اس روایت کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کو شہد بہت مرغوب تھا جب آپ ﷺ گشت کے وقت حضرت زینب کے ہاں تشریف لے جاتے تو وہ آنحضرت ﷺ کو شہد پلایا کرتی تھیں اس کی وجہ سے آنحضرت ﷺ حضرت زینب کے ہاں کچھ زیادہ دیر ٹھہر جایا کرتے تھے یہ بات حضرت عائشہ کو ناگوار گزری اور انہوں نے آنحضرت ﷺ کی ایک اور بیوی حضرت حفصہ سے کہ جو حضرت عائشہ کے بہت قریب تھیں اور اکثر معاملات میں ان سے اتفاق کرتی تھیں مذکورہ بالا بات کہنے کا مشورہ کیا تاکہ آنحضرت ﷺ حضرت زینب کے ہاں ٹھہرنا اور ان کے گھر میں شہد پینا چھوڑ دیں چناچہ ایسا ہی ہوا جیسا کہ ذکر کیا گیا لیکن حق تعالیٰ کے ہاں اس بات کو پسند نہیں کیا گیا کہ آنحضرت ﷺ ایک حلال چیز کو محض اپنی بیویوں کی خوشنودی کے لئے اپنے اوپر حرام کرلیں چناچہ مذکورہ بالا آیت نازل ہوئی۔

3288Mishkaat-al-Masabih

بلا ضرورت طلاق مانگنے والی عورت کے حق میں وعید

عن ثوبان قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أيما امرأة سألت زوجها طلاقا في غير ما بأس فحرام عليها رائحة الجنة . رواه أحمد والترمذي وأبو داود وابن ماجه والدارمي

حضرت ثوبان کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو عورت اپنے خاوند سے بلا ضرورت طلاق مانگے اس پر جنت کی بو حرام ہوگی یعنی جب میدان حشر میں اللہ کے نیک اور پیارے بندوں کو جنت کی خوشبو پہنچے گی تو یہ عورت اس خوشبو سے محروم رہے گی ( احمد ترمذی ابوداؤد)

3289Mishkaat-al-Masabih

طلاق کوئی اچھی چیز نہیں ہے

وعن ابن عمر أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : أبغض الحلال إلى الله الطلاق . رواه أبو داود

اور حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مباح چیزوں میں سے اللہ کے نزدیک مبغوض ترین چیز یعنی سب سے بری) چیز طلاق ہے (ابوداؤد) تشریح مطلب یہ ہے کہ اگرچہ طلاق حلال ومباح ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض و مکروہ ہے چناچہ ایسی بہت سی چیزیں ہیں جو اگرچہ مباح ہیں مگر مکروہ ناپسندیہ سمجھی جاتی ہیں مثلا فرض نماز بلا عذر گھر میں پڑھنا اسی طرح غصب کی ہوئی زمین پر نماز پڑھنا اگرچہ مباح ہے کہ فرض ادا ہوتا ہے لیکن مکروہ ہے۔

3290Mishkaat-al-Masabih

نکاح سے پہلے طلاق دینے کا مسئلہ

اور حضرت علی نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا نکاح سے پہلے طلاق نہیں ہوتی مالک ہونے سے پہلے غلام کو آزاد نہیں کیا جاسکتا اور پے درپے کے روزے یعنی رات کو افطارکئے بغیر مسلسل وپہیم روزے رکھے چلے جانا) جائز نہیں ہے (یہ صرف آنحضرت ﷺ کے خصائص میں سے تھا اور صرف آپ ﷺ ہی کے لئے جائز تھا) بالغ ہونے کے بعد کوئی یتیم نہیں رہتا یعنی جس کے ماں باپ نہ ہوں اور وہ بالغ ہوجائے تو اسے یتیم نہیں کہیں گے) دودھ پینے کی مدت کے بعد دودھ پینا رضاعت میں شامل نہیں ( یعنی دودھ پینے کی مدت دو سال یا ڈھائی سال ہے اور دودھ پینے کے سبب جو حرمت نکاح ہوتی ہے وہ اس مدت کے بعد دودھ پینے سے ثابت نہیں ہوتی) اور دن بھرچپ رہنا جائز نہیں ہے (یا یہ کہ اس کا کوئی ثواب نہیں ہے) شرح السنۃ۔ تشریح اس روایت میں چند اصولی باتوں کو ذکر کیا گیا ہے چناچہ فرمایا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص نکاح سے پہلے ہی طلاق دے تو وہ طلاق واقع نہیں ہوگی کیونکہ طلاق دراصل نکاح کا جزء ہے کہ اگر نکاح کا وجود پایا جائے گا تو اس پر طلاق کا اثر بھی مرتب ہوگا اور جب سرے سے نکاح ہی نہیں ہوگا تو طلاق کی بھی کوئی حقیقت نہیں ہوگی۔ اسی طرح فرمایا گیا کہ غلام جب تک اپنی ملکیت میں نہ آجائے اس کو آزاد کرنے کے کوئی معنی نہیں ہوں گے، اگر کوئی شخص کسی ایسے غلام کو آزاد کردے جس کا وہ ابھی تک مالک نہیں بنا ہے تو وہ غلام آزاد نہیں ہوگا اس اعتبار سے یہ حدیث حضرت امام شافعی اور امام احمد کے مسلک کی دلیل ہے جب کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا مسلک یہ ہے کہ اگر کوئی شخص نکاح سے پہلے طلاق کی اضافت سبب ملک کی طرف کرے تو درست ہے مثلا زید کسی اجنبی عورت سے یوں کہے کہ اگر میں تم سے نکاح کروں تو تم پر طلاق ہے یا یہ کہے کہ میں جس عورت سے بھ ] نکاح کروں اس پر طلاق ہے تو اس صورت میں اگر زید اس عورت سے نکاح کرے گا تو نکاح کے وقت اس پر طلاق پڑجائیگی۔ اسی طرح اگر کوئی شخص آزادی کی اضافت ملک کی طرف کرے مثلا یوں کہے کہ اگر میں اس غلام کا مالک بنوں تو یہ آزاد ہے یا یہ کہے کہ میں جس غلام کا مالک بنوں وہ آزاد ہے تو اس صورت میں وہ غلام اس شخص کی ملکیت میں آتے ہی آزاد ہوجائگا۔ لہذا یہ حدیث حنفیہ کے نزدیک نفی تنجیز پر محمول ہے یعنی اس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس طلاق کا کبھی بھی کوئی اثرمرتب نہیں ہوتا بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ جس لمحہ اس نے طلاق دی ہے اس لمحہ طلاق نہیں پقینا اس طرح اس حدیث سے طلاق کی تعلیق کی نفی نہیں ہوتی۔ ایک بات یہ فرمائی گئی ہے کہ دن بھر چپ رہنا ناجائز یا لاحاصل ہے اس ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ پچھلی امتوں میں چپ رہنا عبادت کے زمرہ میں آتا تھا۔ اور دن بھرچپ رہنا تقرب الی اللہ کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا چناچہ آنحضرت ﷺ نے وضاحت فرمائی کہ ہماری امت میں یہ درست نہیں ہے کہ اس کی وجہ سے کچھ ثواب حاصل نہیں ہوتا ہاں اپنی زبان کو لایعنی کلام اور بری باتوں میں مشغولیت کے بجائے یقینا یہ زیادہ بہتر ہے کہ اپنی زبان کو ہر وقت خاموش رکھاجائے۔

3291Mishkaat-al-Masabih

نکاح سے پہلے طلاق دینے کا مسئلہ

اور حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد حضرت شعیب سے اور حضرت شعیب اپنے دادا حضرت عبداللہ ابن عمرو سے نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ابن آدم کی نذر اس چیز میں صحیح نہیں ہوتی جس کا وہ مالک نہیں ہے نیز اس چیز یعنی لونڈی و غلام کو آزاد کرنا بھی صحیح نہیں جس کا وہ مالک نہیں ہے نیز اس چیز عورت کو طلاق دینا بھی درست نہیں جس کا وہ مالک نہیں ہے (ترمذی ابوداؤد) اور ابوداؤد نے اپنی روایت میں یہ الفاظ بھی نقل کئے ہیں کہ اس چیز کو فروخت کرنا بھی صحیح نہیں جس کی فروختگی کا معاملہ کرنے کا وہ اصالۃ یا وکالۃ یا دلایۃ مالک نہیں ہے۔ تشریح نذرصحیح ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں اللہ کی خوشنودی کے لئے اس غلام کو آزاد کرنے کی نذر مانتاہوں اور حالانکہ یہ نذر ماننے کے وقت وہ غلام اس کی ملکیت میں نہیں تھا تو یہ صحیح نذر نہیں ہوگی اور اگر اس کے بعد وہ اس غلام کا مالک ہوگیا تو وہ غلام آزاد نہیں ہوگا۔ طلاق اور آزاد کرنے کے سلسلے میں اوپر کی حدیث کی تشریح میں وضاحت کی جا چکی ہے۔

3292Mishkaat-al-Masabih

طلاق بت کا مسئلہ

وعن ركانة بن عبد يزيد أنه طلق امرأته سهيمة البتة فأخبر بذلك النبي صلى الله عليه و سلم وقال : والله ما أردت إلا واحدة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : والله ما أردت إلا واحدة ؟ فقال ركانة : والله ما أردت إلا واحدة فردها إليه رسول الله صلى الله عليه و سلم فطلقها الثانية في زمان عمر والثالثة في زمان عثمان . رواه أبو داود والترمذي وابن ماجه والدارمي إلا أنهم لم يذكروا الثانية والثالثة

اور حضرت رکانہ ابن عبد یزید کے بارے میں روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی سہیمۃ کو طلاق بت دی اور پھر اس کا ذکر رسول کریم ﷺ سے کیا اور کہا کہ اللہ کی قسم میں نے ایک طلاق کی نیت کی تھی آنحضرت ﷺ نے پوچھا کہ کیا واقعی اللہ کی قسم تم نے ایک طلاق کی نیت کی تھی؟ رکانہ نے کہا کہ ہاں اللہ کی قسم میں نے ایک طلاق کی نیت کی تھی چناچہ رسول کریم ﷺ نے ان کی عورت کو ان کی طرف لوٹا دیا پھر رکانہ نے اس عورت کو دوسری طلاق حضرت عمر کے عہد خلافت میں اور تیسری طلاق حضرت عثمان غنی کے عہد خلافت میں دی اس روایت کو ابوداؤد ترمذی ابن ماجہ اور دارمی نے نقل کیا ہے لیکن ترمذی ابن ماجہ اور دارمی نے اپنی روایت میں دوسری اور تیسری طلاق کا ذکر نہیں کیا ہے۔ تشریح طلاق بت، کا مطلب یہ ہے کہ حضرت رکانہ نے ان الفاظ میں طلاق دی انت طالق البتۃ یعنی تجھ پر طلاق البتۃ ہے) لفظ البتۃ بت کا اسم مرہ ہے جس کے معنی ہیں کاٹنا قطع کرنا لہذا طلاق بتہ کا مفہوم یہ ہوا کہ ایسی طلاق جو نکاح کا تعلق بالکل باقی نہیں رہنے دیتی اور عورت کو نکاح سے قطعی طور پر نکال دیتی ہے۔ ان کی عورت کو ان کی طرف لوٹا دیا کا مطلب حضرت امام شافعی کے نزدیک تو یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے رکانہ کو رجوع کرلینے کا حکم دیا اور گویا رکانہ نے رجوع کرلینے کے اس حکم کی بناء پر ان الفاظ راجعتہا الی نکاحی میں نے اس کو اپنے نکاح میں لوٹا لیا) کے ذریعہ اس عورت کو اپنے نکاح میں واپس کرلیا۔ حضرت امام شافعی نے یہ مطلب اس لئے مراد لئے ہیں کہ ان کے نزدیک طلاق بتہ ایک طلاق رجعی ہے ہاں اگر اس کے ذریعہ دو یا تین طلاقوں کی نیت کی گئی ہو تو پھر نیت کے مطابق ہی دو یا تین طلاقیں واقع ہوتی ہیں۔ اور حضرت امام اعظم ابوحنفیہ کے نزدیک چونکہ اس لفظ کے ساتھ طلاق دینے سے ایک طلاق بائن پڑتی ہے خواہ ایک طلاق کی نیت کی ہو یا دو طلاق کی یا اور کچھ بھی نیت نہ کی گئی ہو اس لئے ان کے نزدیک اس جملہ کے معنی یہ ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے اس عورت کو جدید نکاح کے ذریعہ رکانہ کی طرف لوٹا دیا۔

3293Mishkaat-al-Masabih

نکاح وطلاق کے الفاظ ہنسی میں منہ سے نکالے جائیں تو حکم ثابت ہوجاتا ہے

وعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ثلاث جدهن جد وهزلهن جد : النكاح والطلاق والرجعة . رواه الترمذي وأبو داود وقال الترمذي : هذا حديث حسن غريب

اور حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تین چیزیں ایسی ہیں جن کا قصد کرنا بھی قصد ہے اور ہنسی مذاق میں منہ سے نکالنا بھی قصد ہے نکاح طلاق رجعت ( ابوداؤد) تشریح جد کے معنی ہیں کسی کام میں سعی و کوشش کرنا لیکن یہاں اس کے یہ معنی مراد ہیں کہ جو لفظ جس معنی کے لئے وضع کیا گیا ہو اس کو زبان سے ادا کرتے وقت وہی معنی مراد لئے جائیں مثلا لفظ نکحت میں نے نکاح کیا زبان سے جب ادا کیا جائے تو اس کے معنی یعنی نکاح کرنا ہی مراد لیا جائے یا جب لفظ طلقت میں نے طلاق دی زبان سے ادا کیا جائے تو اس کے معنی یعنی طلاق دینا ہی مراد لیا جائے اور لفظ ھزل کے معنی یہ ہیں کہ کوئی لفظ زبان سے ادا کیا جائے مگر اس کے معنی مراد نہ ہوں۔ لہذا حدیث کا مطلب یہ ہے کہ تین چیزیں ایسی ہیں جو زبان سے ادا ہوتے ہی وقوع پذیر ہوجاتی ہیں خواہ ان کے معنی مراد ہوں یا مراد نہ ہوں۔ چناچہ اگر دو اجنبی مرد و عورت کے درمیان ہنسی ہنسی میں دو گواہوں کے سامنے ایجاب و قبول ہوجائے تو بھی نکاح ہوجاتا ہے اور وہ دونوں میاں بیوی بن جاتے ہیں یا اگر کوئی ہنسی مذاق میں طلاق دیدے تو بھی طلاق پڑھ جائے گی اسی طرح طلاق رجعی کے بعد ہنسی ہنسی میں رجوع کرنے سے بھی رجعت ثابت ہوجاتی ہے ان تین چیزوں کے علاوہ اور چیزیں مثلا بیع وشراء وغیرہ اس طرح ہنسی مذاق میں وقوع پذیر نہیں ہوتیں۔

3294Mishkaat-al-Masabih

زبردستی دلوائی جانیوالی طلاق واقع ہوتی ہے یا نہیں

وعن عائشة قالت : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : لا طلاق ولا عتاق في إغلاق . رواه أبو داود وابن ماجه قيل : معنى الإغلاق : الإكراه

اور حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ میں نے رسول کریم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اکراہ کی حالت میں نہ تو طلاق واقع ہوتی ہے اور نہ آزادی (ابوداؤد) اور بیان کیا جاتا ہے کہ اغلاق کے معنی اکراہ کے ہیں۔ تشریح اکراہ کے معنی ہیں زبردستی کرنا لہذا حدیث کا یہ مطلب ہوا کہ اگر کوئی کسی سے زبردستی طلاق دلوا دے یا اس کا غلام آزاد کرا دے تو نہ طلاق پڑے گی اور نہ وہ غلام آزاد ہوگا۔ گویا یہ حدیث حضرت امام شافعی حضرت امام مالک اور حضرت امام احمد کے مسلک کی دلیل ہے کیونکہ ان تینوں ائمہ کے نزدیک دونوں چیزیں زبردستی کی حالت میں واقع نہیں ہوتیں جب کہ امام اعظم ابوحنیفہ کا مسلک یہ ہے کہ واقع ہوجاتی ہیں انہوں نے اس کو ہزل پر قیاس کیا ہے جس کا بیان اوپر کی حدیث میں گزر چکا ہے ویسے حضرت امام اعظم نے اپنے مسلک کی دلیل میں جو کچھ پیش کیا ہے وہ فقہ کی کتابوں میں مذکور ہے۔ اس موقع پر یہ بتادینا ضروری ہے کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے مسلک کے مطابق زبردستی کی حالت میں بھی جن چیزوں کا حکم ثابت ہوجاتا ہے وہ گیارہ ہیں ( نکاح طلاق رجعت ایلاء فئی یعنی ایلاء سے رجوع کرنا ظہار عتاق عفو قصاص یعنی قصاص کو معاف کردینا قسم نذر قبولیت اسلام

3295Mishkaat-al-Masabih

دیوانے کی طلاق واقع نہیں ہوتی

وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كل طلاق جائز إلا طلاق المعتوه والمغلوب على عقله . رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريب وعطاء بن عجلان الراوي ضعيف ذاهب الحديث

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہر طلاق واقع ہوجاتی ہے مگر بےعقل اور مغلوب العقل کی طلاق واقع نہیں ہوتی امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے اور اس کے ایک راوی عطاء بن عجلان روایت حدیث میں ضعیف شمار کئے جاتے ہیں کیونکہ ان کے حافظہ میں حدیث محفوظ نہیں رہتی تھی۔ تشریح امام اعظم ابوحنیفہ کا مسلک اس حدیث کے مطابق ہے کیونکہ ان کے نزدیک کبھی دیوانے کی طلاق واقع نہیں ہوتی۔ یہاں حدیث میں معتوہ سے دیوانہ مراد ہے یعنی وہ شخص جو کبھی تو مسلوب العقل رہتا ہو اور کبھی اس کی عقل ٹھکانے رہتی ہو قاموس میں لکھا ہے کہ عتہ جو معتوہ کا مصدر ہے کے معنی ہیں کم عقل ہونا مدہوش ہونا اور صراح میں لکھا ہے کہ معتوہ الٹے ہوئے ڈول اور بےعقل شخص کو بھی کہتے ہیں چناچہ فقہ کی کتابوں میں اس کے یہی معنی بیان کئے گئے ہیں اس اعتبار سے حدیث کا یہ جملہ المغلوب علی عقلہ گویا لفظ معتوہ کا عطف تفسیری ہے یعنی اس جملہ میں معتوہ کی وضاحت مقصود ہے اسی لئے بعض روایات میں المغلوب بغیر واؤ کے ہے۔ اس تفصیل سے یہ ثابت ہوا کہ جب معتوہ کی طلاق واقع نہیں ہوتی تو مجنون مطلق یعنی پاگل شخص کہ جو سرے سے عقل و شعور رکھتا ہی نہیں اس کی طلاق بطریق اولی واقع نہیں ہوگی چناچہ زین العرب نے کہا ہے کہ یوں تو معتوہ ناقص العقل اور مغلوب العقل کو کہتے ہیں لیکن مجنون سویا ہوا شخص مدہوش اور ایسا مریض کہ جس کی عقل اس کے مرض کی وجہ سے جاتی رہے وہ بھی اس لفظ کے مفہوم میں شامل ہیں یعنی ان سب کی بھی طلاق واقع نہیں ہوتی۔ لفظ معتوہ کے بارے میں علامہ ابن ہمام نے بعض علماء کا یہ قول نقل کیا ہے کہ معتوہ اس شخص کو کہتے ہیں جو ناقص العقل وکم سمجھ اور پریشان کلام ہو یعنی بےعقلی اور ناسمجھی کی باتیں کرتا ہو اور فاسد التدبیر یعنی بےعقلی اور بےسمجھی کے کام کرتا ہو لیکن نہ تو مارتا پھرتا ہو اور نہ گالیاں بکتا پھرتا ہو بخلاف مجنوں کے کہ لوگوں کو مارتا اور گالیاں بکتا پھرتا ہے۔ امام ترمذی کے قول کے مطابق اس حدیث کا راوی اگرچہ ضعیف ہے لیکن اس کی تائید اس روایت سے ہوتی ہے جو حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے منقول ہے کہ کل طلاق جائز الا طلاق المعتوہ یعنی ہر طلاق واقع ہوجاتی ہے مگر معتوہ کی طلاق واقع نہیں ہوتی۔

3296Mishkaat-al-Masabih

تین شخص جو مرفوع القلم ہیں

وعن علي رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : رفع القلم عن ثلاثة : عن النائم حتى يستيقظ وعن الصبي حتى يبلغ وعن المعتوه حتى يعقل . رواه الترمذي وأبو داود

اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تین شخص مرفوع القلم ہیں یعنی ان تین شخصوں کے اعمال نامہ اعمال میں نہیں لکھے جاتے کیونکہ ان کے کسی قول وفعل کا کوئی اعتبار نہیں اور وہ مواخذہ سے بری ہیں ایک تو سویا ہوا شخص جب تک کہ وہ بیدار نہ ہو دوسرا لڑکا جب تک وہ بالغ نہ ہو تیسرا بےعقل شخص جب تک کہ اس کی عقل درست نہ ہوجائے ( ترمذی) اور دارمی نے اس روایت کو حضرت عائشہ ؓ اور ابن ماجہ نے حضرت عائشہ ؓ اور حضرت علی ؓ سے نقل کیا ہے۔

3297Mishkaat-al-Masabih

لونڈی کے لئے دو طلاقیں ہیں

وعن عائشة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : طلاق الأمة تطليقتان وعدتها حيضتان . رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه والدارمي

اور حضرت عائشہ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا لونڈی کے لئے دو طلاقیں ہیں اور اس کی عدت کی مدت دو حیض ہیں۔ ( ترمذی ابوداؤد ابن ماجہ دارمی) تشریح مطلب یہ ہے کہ جس طرح آزاد عورت کی عدت تین حیض ہیں اور اگر اسے حیض نہ آتا ہو تو اس کی عدت کی مدت تین مہینہ ہے اسی طرح لونڈی کی عدت دو حیض ہیں اور اگر اسے حیض نہ آتا ہو تو اس کی عدت کی مدت ڈیڑھ مہینہ ہوگی۔ اس طرح یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ طلاق اور عدت میں عورت کا اعتبار ہے نہ کہ مرد کا لہذا اگر عورت آزاد ہوگی تو اس کی طلاقیں تین ہوں گی اور اس کی عدت کی مدت تین حیض ہوں گی چاہے وہ کسی غلام ہی کے نکاح میں کیوں نہ ہو اور اگر عورت لونڈی ہوگی تو اس کی طلاقیں دو ہوں گی اور اس کی عدت کی مدت دو حیض ہوں گے خواہ اس کا خاوند کوئی آزاد شخص ہی کیوں نہ ہو چناچہ حنفیہ کا مسلک بھی یہی ہے لیکن حضرت امام شافعی کے نزدیک طلاق اور عدت میں مرد کا اعتبار ہے اگر مرد آزاد ہوگا تو اس کی بیوی کی طلاقیں تین ہوں گی اور اس کی عدت تین حیض ہوں گے اگرچہ اس کی بیوی لونڈی ہو اور اگر مرد غلام ہوگا تو اس کی بیوی کی طلاقیں دو ہوں گی اور اس کی عدت کی مدت دو حیض ہوں گے خواہ اس کی بیوی آزاد عورت ہی کیوں نہ ہو۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عدت کی مدت کا تعلق حیض سے ہے نہ کہ طہر سے جیسا کہ حنفیہ کا مسلک ہے گویا یہ حدیث اس بات کی دلیل ہوئی کہ عدت کی مدت کے سلسلہ میں قرآن کریم میں جو ثلاثۃ قروء فرمایا گیا ہے تو اس سے تین حیض مراد ہیں تین طہر مراد نہیں ہیں۔

3298Mishkaat-al-Masabih

اپنے خاوند سے طلاق یا خلع چاہنے والی عورت کے بارے میں وعید

عن أبي هريرة أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : المنتزعات والمختلعات هن المنافقات . رواه النسائي

اور حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اپنے خاوند کی نافرمانی کرنیوالی اور اپنے خاوند سے خلع چاہنے والی عورتیں منافق ہیں ( نسائی) تشریح مطلب یہ کہ جو عورتیں بلا سبب اپنے شوہروں سے طلاق مانگتی ہیں یا ان سے خلع چاہتی ہیں وہ منافق ہیں منافق کا مطلب یہ ہے کہ وہ ظاہر میں تو احکام اسلام کی مطیع و فرمانبردار ہیں مگر باطنی طور پر گنہگار وعاصی ہیں۔

3299Mishkaat-al-Masabih

عورت کے تمام مال کے عوض خلع کرنا مکروہ ہے

وعن نافع عن مولاة لصفية بنت أبي عبيد أنها اختلعت من زوجها بكل شيء لها فلم ينكر ذلك عبد الله بن عمر . رواه مالك

اور حضرت نافع صفیہ بنت ابوعبید کی ایک آزاد کی ہوئی لونڈی سے روایت کرتے ہیں کہ صفیہ نے اپنی ہر اس چیز کے عوض جو ان کے پاس موجود تھی اپنے خاوند حضرت عبداللہ ابن عمر سے خلع کیا اور عبداللہ نے اس سے انکار نہیں کیا ( مالک) تشریح حضرت عبداللہ ابن عمر نے اس لئے انکار نہیں کیا کہ خلع بہرحال جائز تھا اگرچہ اس طرح یعنی عورت کے تمام مال کے عوض خلع کرنا مکروہ ہے۔

3300Mishkaat-al-Masabih

بیک وقت تین طلاق دینا حرام ہیں

وعن محمود بن لبيد قل : أخبر رسول الله صلى الله عليه و سلم عن رجل طلق امرأته ثلاث تطليقات جميعا فقام غضبان ثم قال : أيلعب بكتاب الله عز و جل وأنا بين أظهركم ؟ حتى قام رجل فقال : يا رسول الله ألا أقتله ؟ . رواه النسائي

اور حضرت محمود ابن لبید کہتے ہیں کہ جب رسول کریم کو اس شخص کے بارے میں بتایا گیا جس نے اپنی بیوی کو ایک ساتھ تین طلاقیں دی تھیں تو آپ ﷺ غضبناک ہو کر کھڑے ہوگئے اور فرمایا کیا اللہ عزوجل کی کتاب کے ساتھ کھیلا جاتا ہے ( یعنی حکم الٰہی کے ساتھ استہزاء کیا جاتا ہے) درآنحالیکہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں یہ سن کر مجلس نبوی میں موجود صحابہ میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ کیا میں اس شخص کو قتل نہ کر دوں؟ (نسائی) تشریح اللہ عزوجل کی کتاب سے قرآن کریم کی یہ آیت (اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ فَاِمْسَاكٌ بِمَعْرُوْفٍ ) 2۔ البقرۃ 229) مراد ہے اس آیت میں یہاں یہ حکم بیان کیا گیا ہے کہ ایک ساتھ تین طلاقیں نہ دینی چاہئیں بلکہ متفرق طور پر دینی چاہئیں وہیں (وَلَا تَتَّخِذُوْ ا اٰيٰتِ اللّٰهِ ھُزُوًا) 2۔ البقرۃ 231) کے ذریعہ یہ تنبیہ فرمائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کو لہو لعب کی طرح بےوقعت مت سمجھو چناچہ آپ ﷺ نے اسی آیت کی طرف اشارہ فرمایا کہ متفرق طور پر طلاق دینے کی بجائے ایک ساتھ تینوں طلاقیں دینا حق تعالیٰ کے حکم ومنشاء کی خلاف ورزی ہے اور یہ خلاف ورزی گویا حق تعالیٰ کے احکام کے ساتھ استہزاء ہے۔ کیونکہ جس شخص نے حق تعالیٰ کے حکم کے خلاف کیا اس نے درحقیقت اپنے عمل سے یہ ثابت کیا کہ اس کی نظر میں حکم الٰہی کی کوئی وقعت نہیں ہے کہ اس پر عمل نہ کرنا اور کرنا دونوں برابر ہیں۔ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک تین طلاق ایک ساتھ دینا بدعت وحرم ہے۔ اور اس حدیث سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ کسی شخص کے اس فعل پر غضب ناک ہوتے تھے جو گناہ و معصیت کا باعث ہوتا تھا حضرت امام شافعی کے نزدیک تین طلاق ایک ساتھ دینا حرام نہیں ہے بلکہ خلاف اولی ہے۔ علماء لکھتے ہیں کہ تین طلاقیں ایک ساتھ نہ دینے میں فائدہ یہ ہے کہ ایک طلاق کے بعد شاید اللہ تعالیٰ خاوند کے دل کو اس کی بیوی کی طرف مائل کر دے اور اس کے فیصلہ میں کوئی ایسی خوشگوار تبدیلی آجائے کہ وہ رجوع کرلے اور ان دونوں کے درمیان مستقل جدائی کی نوبت نہ آئے۔ علماء کے اس بارے میں مختلف اقوال ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے یوں کہے کہ انت طالق ثلاثا (یعنی تجھ پر تین طلاق ہیں) تو آیا اس کی بیوی پر ایک طلاق پڑے گی یا تین طلاق واقع ہوں گی چناچہ حضرت امام مالک حضرت امام شافعی حضرت امام ابوحنیفہ حضرت امام احمد اور جمہور علماء یہ فرماتے ہیں کہ تین طلاقیں پڑیں گی جب کہ طاؤس اور بعض اہل ظاہریہ کہتے ہیں کہ ایک طلاق پڑھ گئ۔ ایک صحابی کا یہ کہنا کہ میں اس شخص کو قتل نہ کر دوں؟ اس بناء پر تھا کہ رسول کریم ﷺ نے اس شخص کو کتاب اللہ کے ساتھ استہزاء کرنیوالا کہا تھا جو کفر ہے اور اگر کوئی مسلمان کفر کی حد میں داخل ہوجائے تو اس کی سزا قتل ہے حالانکہ ان صحابی نے یہ نہیں جانا کہ رسول کریم ﷺ نے اس شخص کے بارے میں جو الفاظ ارشاد فرمائے ہیں وہ زجروتوبیخ پر مبنی ہیں ان کے حقیقی معنی مراد نہیں ہیں۔ اور حضرت مالک راوی ہیں کہ ان تک یہ حدیث پہنچی کہ ایک شخص نے حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو سو طلاقیں دی ہیں اس بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ یعنی کیا میری بیوی پر طلاق پڑھ گئی ہے یا نہیں) حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ وہ عورت تین طلاقوں کے ذریعہ تم سے جدا ہوگئی اور جو ستانوے طلاقیں باقی بچیں ان کے ذریعہ تم نے گویا اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا مذاق اڑایا ( مؤطا) تشریح اوپر کی حدیث میں جس آیت (اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ تا وَلَا تَتَّخِذُوْ ا اٰيٰتِ اللّٰهِ ھُزُوًا) 2۔ البقرۃ 231-229) کا ذکر کیا گیا ہے حضرت ابن عباس نے اس آیت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ تم نے اس طرح طلاق دے کر گویا حکم الٰہی کی خلاف ورزی کی ہے۔