اپنے بچہ کا انکار کرنیوالا اللہ تعالیٰ کے دیدار سے محروم رہے گا
عن أبي هريرة أنه سمع النبي صلى الله عليه و سلم يقول لما نزلت آية الملاعنة : أيما امرأة أدخلت على قوم من ليس منهم فليست من الله في شيء ولن يدخلها الله جنته وأيما رجل جحد ولده وهو ينظر إليه احتجب الله منه وفضحه على رؤوس الخلائق في الأولين والآخرين . رواه أبو داود والنسائي والدارمي
اور حضرت ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ انہوں نے لعان کی آیت نازل ہونے کے موقع پر رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو عورت کسی کو اس قوم میں داخل کرے جس میں سے وہ نہیں ہے (یعنی کسی عورت نے بدکاری کرائی اور پھر اس بدکاری کے نتیجہ میں بچہ کو جنم دیا اور اس بچہ کو اپنے خاوند کی طرف منسوب کردیا) تو وہ اللہ کے نزدیک کسی درجہ میں نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ اس کو اپنے مقرب اور نیک بندوں کے ساتھ ہرگز اپنی جنت میں داخل نہیں کرے گا اور جو شخص اپنے بچہ کا انکار کرے یعنی اس کی بیوی نے جس بچہ کو جنم دیا ہے اس کے بارے میں کہے کہ میرا نہیں ہے درآنحالیکہ وہ اس کی طرف دیکھتا ہے یعنی وہ جانتا ہے کہ بچہ میرا ہی ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے پردہ کرے گا یعنی اس کو اللہ کا دیدار نصیب نہیں ہوگا اور اللہ تعالیٰ اس کو تمام اگلے و پچھلے لوگوں میں رسوا کرے گا یعنی جب میدان حشر میں تمام اگلی پچھلی مخلوق جمع ہوگی تو ان کے درمیان اس کو ذلیل و رسوا کرے گا ( ابوداؤد نسائی درامی)
تشریح
حدیث کا حاصل یہ ہے کہ نہ تو عورت کو چاہئے کہ وہ بدکاری کرائے اور اپنے حرامی بچہ کو اپنے خاوند کی طرف منسوب کرے اور نہ مرد کو چاہئے کہ دیدہ دانستہ اپنے بچہ کا انکار کرے اور اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائے۔
بد کار بیوی کو طلاق دے دینا اولیٰ ہے
وعن ابن عباس قال : جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : إن لي امرأة لا ترد يد لامس فقال النبي صلى الله عليه و سلم : طلقها قال : إني أحبها قال : فأمسكها إذا . رواه أبو داود والنسائي وقال النسائي : رفعه أحد الرواة إلى ابن عباس وأحدهم لم يرفعه قال : وهذا الحديث ليس بثابت
اور حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک شخص نے حاضر ہو کر عرض کیا کہ میری بیوی کسی چھونے والے ہاتھ کو جھٹکتی نہیں (یعنی جو بھی شخص اس سے بدکاری کا ارادہ کرتا ہے اس کو وہ انکار نہیں کرتی) نبی کریم ﷺ نے فرمایا اسے طلاق دیدو اس نے عرض کیا یہ ممکن نہیں کیونکہ میں اس سے بہت محبت کرتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا تو پھر اس کی نگہبانی کرو تاکہ وہ بدکاری میں مبتلا نہ ہو سکے) ابوداؤد نسائی اور نسائی نے کہا ہے کہ اس روایت کے راویوں میں سے ایک راوی نے تو اس کو حضرت ابن عباس تک پہنچایا ہے اور وصل کیا ہے اور ایک راوی نے اس کو ابن عباس تک نہیں پہنچایا ہے اور وصل نہیں کیا ہے نیز نسائی نے کہا ہے کہ یہ حدیث ثابت نہیں ہے ( یعنی یہ حدیث متصل نہیں ہے بلکہ منقطع ہے)
تشریح
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ بدکار بیوی کو طلاق دیدینا اولی ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ نے طلاق دینے کا حکم پہلے دیا اور نگہبانی کرنے کا حکم بعد میں دیا ہاں اگر کسی وجہ سے طلاق دینا آسان نہ ہو مثلا اس سے اتنی زیادہ محبت ہو کہ اس کو اپنے سے جدا کرنا ناممکن ہو یا اس کے بطن سے کوئی بچہ ہو جو ماں کی جدائی کو برداشت نہ کرسکتا ہو اور یا اس بیوی کا اپنے اوپر کوئی ایسا قرض و مطالبہ مثلا مہر واجب ہو کہ جس کو ادا کرنے پر قادر نہ ہو تو ایسی صورتوں میں جائز ہے کہ اس کو طلاق نہ دے لیکن یہ شرط ہے کہ وہ اس کو بدکاری سے روکے اور اگر وہ اس کو بدکاری سے نہ روک سکا تو پھر طلاق نہ دینے کی صورت میں گنہگار ہوگا۔
اثبات نسب کے سلسلہ میں ایک واضح ہدایت وضابطہ
وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن النبي صلى الله عليه و سلم قضى أن كل مستحلق استحلق بعد أبيه الذي يدعى له ادعاه ورثته فقضى أن كل من كان من أمة يملكها يوم أصابها فقد لحق بمن استحلقه وليس له مما قسم قبله من الميراث شيء وما أدرك من ميراث لم يقسم فله نصيبه ولا يلحق إذا كان أبوه الذي يدعى له أنكره فإن كان من أمة لم يملكها أو من حرة عاهر بها فإنه لا يلحق به ولا يرث وإن كان الذي يدعى له هو الذي ادعاه فهو ولد زنية من حرة كان أو أمة . رواه أبو داود
اور حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے یہ حکم دینے کا فیصلہ کیا کہ جس لڑکے کا نسب اس کے اس باپ کے مرنے کے بعد کہ جس کی طرف نسبت کی گئی ہے ملایا گیا ہے اور اس کا دعوی اس باپ کے وارثوں نے کیا ہے (یعنی مثلا زید کے مرنے کے بعد اس کے وارثوں نے ایک لڑکے بکر کے بارے میں کہا کہ یہ زید کا بیٹا ہے لہذا یہ بھی ہماری طرح زید کا وارث ہے تو اس کے بارے میں آنحضرت ﷺ نے حکم صادر فرمایا کہ اگر وہ لڑکا جس کا نسب ملایا گیا ہے ایسی لونڈی کے بطن سے ہو جو صحبت کے دن اس کے باپ کی ملکیت میں تھی (یعنی اس لونڈی سے اس کے باپ کا جائز طریقہ پر جماع ہوا ہو) تو وہ اس شخص کے ساتھ نسب میں مل جائے گا جس نے اس کو ملایا ہے (یعنی جو وارث اس کو ملائیں گے وہ ان وارثوں میں مل جائے گا اور ان کے ساتھ میراث کا حقدار ہوگا بایں طور کہ اگر اس کو سبھی وارث ملائیں گے تو سب کے حق میں وارث ہوگا اور اگر بعض وارثوں نے ملایا ہوگا تو انہی بعض کے حق میں وارث ہوگا اور جو میراث اس کو ملنے سے پہلے تقسیم ہوچکی ہوگی اس میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا ہاں جو میراث ابھی تک تقسیم نہیں ہوئی اس میں سے اس کو حصہ ملے گا اور وہ لڑکا ایسا ہو کہ اس کی نسبت جس باپ کی طرف جاتی ہے اس نے اس کا انکار کردیا تھا (یعنی اس باپ نے اپنی زندگی میں اس کے اپنا بیٹا ہونے کا انکار کردیا تھا) تو وہ لڑکا اس کے مرنے کے بعد وارثوں کے ملانے سے نہیں ملے گا اور اس باپ کا وارث نہیں ہوگا اسی طرح اگر وہ لڑکا کسی ایسی لونڈی کے بطن سے ہو جو صحبت کے دن اس باپ کی ملکیت میں نہ رہی ہو (یعنی اس نے کسی دوسرے شخص کی لونڈی سے زنا کیا تھا اور اس زنا کے نتیجہ میں یہ لڑکا پیدا ہوا تھا) یا کسی ایسی آزاد عورت کے بطن سے ہو جس سے اس باپ نے زنا کیا تھا تو وہ لڑکا اس باپ کے وارثوں میں شامل نہیں ہوگا اور نہ اسے میراث ملے گی اگرچہ خود اس شخص یعنی باپ نے کہ جس کی طرف اس لڑکے کی نسبت کی جاتی ہے اس کا دعوی کیا ہو (یہ جملہ گویا پہلے حکم کی تاکید کے طور پر ہے کہ وہ لڑکا ولد الزنا ہو تو اس کو اس باپ یعنی زانی کے وارثوں میں کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ اگر خود وہ زانی اپنی زندگی میں اس کے نسب کا دعوی کرتا ہے کہ یہ میرا بیٹا ہے تب بھی اس کے ساتھ اس لڑکے کا نسب نہ ملتا چہ جائیکہ اس کے مرنے کے بعد اس کے وارث اس لڑکے کو اپنے میں شامل کریں لہذا وہ لڑکا حرام ہے خواہ وہ لونڈی کے بطن سے ہو یا آزاد عورت کے پیٹ سے پیدا ہوا ہو ( ابوداؤد)
تشریح
خطابی کہتے ہیں کہ یہ وہ احکام ہیں جو شروع زمانہ اسلام میں آنحضرت ﷺ نے نافذ فرمائے تھے اس زمانہ میں لوگوں کی بدکار لونڈیاں تھیں جو زنا کراتی پھرتی تھیں اور ان کے مالک بھی ان سے صحبت کرتے تھے اور پھر جب ان کے کوئی بچہ ہوتا تو اس کا دعوی مالک بھی کرتا اور زانی بھی اس قسم کے تنازعہ کو شرعی طور پر ختم کرنے کے لئے آپ ﷺ نے مذکورہ بالا حکم صادر فرمائے، چناچہ اس بارے میں آپ ﷺ نے جو شرعی ضابطہ مقرر فرمایا اور جس کا ذکر اس حدیث میں کیا گیا ہے اس کی وضاحت یہ ہے کہ مثلا ایک شخص زید کا انتقال ہوگیا اس کے بعد زید کے وارثوں کا یہ دعوی تسلیم کرلیا جائے گا اور اس لڑکے کا نسب زید سے قائم کر کے اس کی میراث کا حصہ دار قرار دے دیا جائے گا لیکن یہ اسی صورت میں ہوگا جب کہ وہ لڑکا کسی ایسی لونڈی کے بطن سے ہو جو زید کی ملکیت میں رہی ہو اور زید کا اس کے ساتھ جائز طور پر جماع ہوا ہو یا وہ کسی آزاد عورت کے بطن سے ہو جو زید کے نکاح میں رہی ہو اور خود زید نے بھی اپنی زندگی میں یہ اقرار و اعلان کیا ہو کہ یہ میرا لڑکا ہے۔ پھر جیسا کہ حدیث میں وضاحت ہے یہ لڑکا انہی وارثوں کے حق میں حصہ دار ہوگا جنہوں نے مذکورہ بالا دعوی کیا ہو اگر سب ہی وارثوں نے یہ دعوی کیا ہوگا تو وہ لڑکا سب وارثوں کے حق میں حصہ دار ہوگا اور اگر بعض وارثوں نے دعوی کیا ہوگا تو صرف انہی بعض وارثوں کے حق میں حصہ دار ہوگا۔ نیز یہ لڑکا صرف اس میراث میں حصہ دار ہوگا جو ابھی تقسیم نہیں ہوئی ہے جو میراث اس دعوی سے پہلے تقسیم ہوچکی ہوگی اس میں اسے کوئی حصہ نہیں ملے گا اور اگر یہ صورت ہو کہ زید نے اپنی زندگی میں اس لڑکے کے نسب کا انکار کردیا یعنی یہ کہا تھا کہ یہ لڑکا میرا نہیں ہے تو پھر اس کے مرنے کے بعد اگر اس کے وارث اس لڑکے کو اپنے میں شامل کرنا چاہیں تو وہ شامل نہیں ہو سکے گا اور نہ اس کو زید کی میراث میں سے کوئی حصہ ملے گا۔ اگر اسی طرح وہ لڑکا کسی ایسی لونڈی کے بطن سے ہو جو زید کی ملکیت میں نہیں تھی جیسا کہ حضرت عائشہ کی روایت میں زمعہ کے بیٹے کے بارے میں گزر چکا ہے یا کسی ایسی آزاد عورت کے بطن سے جو زید کے نکاح میں نہیں تھی یعنی وہ لڑکا زید کے زنا کے نتیجہ میں پیدا ہوا تو اس صورت میں بھی وہ زید کے وارثوں میں شامل نہیں ہو سکے گا اور نہ اس کو زید کی میراث میں سے کچھ ملے گا بلکہ اگر زید اپنی زندگی میں خود بھی یہ چاہے کہ اس کے ساتھ اپنا نسب جوڑ کر اس کو اپنے وارثوں میں شامل کر دے تو بھی وہ شامل نہیں کیا جائے گا کیونکہ ولد الزنا کا نسب زانی سے قائم نہیں ہوتا اور نہ وہ زانی کا وارث نہیں ہوتا ہے۔
غیرت بعض صورتوں میں پسندیدہ اور بعض صورتوں میں ناپسندیدہ ہے
وعن جابر بن عتيك أن نبي الله صلى الله عليه و سلم قال : من الغيرة ما يحب الله ومنها ما يبغض الله فأما التي يحبها الله فالغيرة في الريبة وأما التي يبغضها الله فالغيرة في غير ريبة وإن من الخيلاء ما يبغض الله ومنها ما يحب الله فأما الخيلاء التي يحب الله فاختيال الرجل عند القتال واختياله عند الصدقة وأما التي يبغض الله فاختياله في الفخر وفي رواية : في البغي . رواه أحمد وأبو داود والنسائي
اور حضرت جابر ابن عتیک کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اپنی بیوی اور لونڈی کے بارے میں) بعض غیرت کو تو اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے اور بعض غیرت کو ناپسند کرتا ہے چناچہ جس غیرت کو اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے وہ شک و شبہ کی جگہ پیدا ہونے والی غیرت ہے ( مثلا بیوی یا لونڈی غیر مردوں کے سامنے آتی ہے یا غیر مرد اس کے پاس آتے ہیں اور وہ ان سے ہنسی مزاق کرتی ہے تو اس موقع پر خاوند جو غیرت محسوس کرتا ہے اس کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور جس غیرت کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے وہ غیرت ہے جو کسی شک و شبہ کی وجہ کے بغیر پیدا ہوئی ہو (مثلا کسی قرینہ وسبب کے بغیر خاوند کے دل میں بیوی کے کردار کے بارے میں بدگمانی پیدا ہوجائے اور پھر اس پر غیرت محسوس کرے) اسی طرح بعض تکبر کو تو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور بعض کو ناپسند فرماتا ہے چناچہ جس تکبر کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے وہ لڑائی کے وقت آدمی کا تکبر کرنا ہے ( یعنی جہاد میں جب کفار سے مقابلہ ہو تو اپنی قوت و برتری اور کفار کی حقارت و کمتری کے اظہار کے لئے خوب اکڑے اور اپنی بڑائی و شجاعت کو بڑے فخر و غرور کے ساتھ بیان کرے) اور وہ تکبر بھی اللہ تعالیٰ کو پسند ہے جو اللہ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرنے کے سلسلہ میں ہو (یعنی جب صدقہ و خیرات دے تو خوشدلی اور بےپروائی کے ساتھ دے اور زیادہ سے زیادہ دینے کو بھی تھوڑا جانے) اور جس تکبر کو اللہ تعالیٰ نے ناپسند کرتا ہے وہ اپنے نسب پر فخر کا تکبر ہے اور ایک روایت میں فی الفخر کی بجائے فی البغی ہے یعنی جس تکبر کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے وہ ظلم کا تکبر ہے یعنی وہ تکبر جو بلا کسی حق استحقاق کیا جائے جس کی کئی صورتیں ہوسکتی ہیں) (احمد ابوداؤد نسائی)
تشریح
اپنے نسب پر فخر کا تکبر یہ ہے کہ جو شخص اعلی حسب و نسب اور اچھے خاندان کا ہو وہ یہ کہتا پھرے کہ مجھے نسب میں برتری اور امتیاز حاصل ہے اور میرے باپ دادا اعلی نسل و خاندان کے افراد ہونے کی وجہ سے بزرگ و افضل ہیں یہ ایسا تکبر ہے جو اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں تو برتری و فوقیت اور بزرگی و فضیلت اسی شخص کو حاصل ہے جو دین کے اعتبار سے سب میں ممتاز ہو چناچہ ارشاد ربانی ہے ا یت (ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم) اللہ تعالیٰ کے نزدیک تم میں سے زیادہ بزرگ وبلند مرتبہ وہ شخص ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہے مشکوۃ کے ایک نسخہ میں اس روایت میں فی الفخر کی بجائے فی الفقر ہے یعنی جس تکبر کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے وہ فقر کا تکبر ہے مطلب یہ کہ اللہ کو یہ بات پسند نہیں ہے کہ کوئی شخص حالت فقر میں اپنی قناعت اور اپنے صبر و توکل پر تکبر کرے چناچہ علماء لکھتے ہیں کہ یہ تکبر اس تکبر سے بدتر ہے جو اپنے غنا اور اپنی ثروت پر کیا جاتا ہے لیکن فقر کا تکبر اس صورت میں برا اور اللہ کے نزدیک ناپسندیدہ ہے جب کہ وہ فقراء کے مقابلہ پر کیا جائے ہاں اگر وہ تکبر امراء و اغنیاء کے مقابلہ پر ہو تو اچھا اور پسندیدہ ہے کیونکہ ایسے تکبر کو تو صدقہ کہا گیا ہے
ولد الزنا کا نسب زانی سے ثابت نہیں ہوتا
عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال : قام رجل فقال : يا رسول الله إن فلانا ابني عاهرت بأمه في الجاهلية فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا دعوة في الإسلام ذهب أمر الجاهلية الولد للفراش وللعاهر الحجر . رواه أبو داود
حضرت عمرو ابن شعیب اپنے والد حضرت شعیب سے اور حضرت شعیب اپنے دادا حضرت عبداللہ ابن عمرو) سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص مجلس نبوی میں کھڑا ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! فلاں میرا لڑکا ہے میں نے زمانہ جاہلیت میں اس کی ماں سے زنا کیا تھا رسول کریم ﷺ نے فرمایا زمانہ جاہلیت کی گئی گزری بات زمانہ اسلام میں دعوی نہیں ہوسکتا ( یعنی یہ بات زمانہ جاہلیت ہی کے ساتھ مخصوص تھی اور جو بچہ زنا کے نتیجہ میں پیدا ہوا کرتا تھا اس کا نسب زانی اپنے ساتھ جوڑ لیتا تھا اب زمانہ اسلام میں یہ بات درست نہیں بچہ صاحب فراش کا ہے اور زانی کے لئے پتھر یعنی محرومی ہے یا سنگساری (ابوداؤد)
تشریح
صاحب فراش سے وہ شخص مراد ہے جو ولد الزنا کی ماں کا خاوند یا مالک ہو مطلب یہ ہے کہ جو عورت کسی کے نکاح میں ہو یا لونڈی ہونے کی صورت میں کسی کی ملک میں ہو تو اس کے زنا کے نتیجے میں جو بچہ پیدا ہوگا اس کا نسب اس کے خاوند یا مالک سے ثابت ہوگا اور اگر وہ عورت کسی کے نکاح یا کسی کی ملک میں نہ ہو تو پھر بچہ ماں ہی کی طرف منسوب ہوگا بہرصورت زانی کا اس بچہ سے کوئی نسبی تعلق نہیں ہوگا۔
وہ چار عورتیں جن سے لعان نہیں ہوتا
وعنه أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : أربع من النساء لا ملاعنة بينهن : النصرانية تحت المسلم واليهودية تحت المسلم والحرة تحت المملوك والمملوكة تحت الحر . رواه ابن ماجه
اور حضرت عمرو ابن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا چار طرح کی عورتیں ہیں کہ ان کے اور ان کے شوہروں کے درمیان لعان نہیں ہوتا ایک تو وہ نصرانیہ عورت یعنی عیسائی عورت جو کسی مسلمان کے نکاح میں ہو اور دوسری یہودیہ یعنی یہودی عورت جو کسی مسلمان کے نکاح میں ہو اور تیسری وہ آزاد عورت جو کسی غلام کے نکاح میں ہو اور چوتھی وہ لونڈی جو کسی آزاد کے نکاح میں ہو (ابن ماجہ)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی عیسائی یا یہودی عورت کسی مسلمان کی نکاح میں ہو اور اس کا خاوند اس پر زنا کی تہمت لگائے اور وہ اس کی تردید کرے تو اس صورت میں ان دونوں کے درمیان لعان نہیں کرایا جائے گا اسی طرح اگر کوئی آزاد عورت کسی غلام کے نکاح میں ہو یا کوئی لونڈی کسی آزاد کے نکاح میں ہو تو اس کے درمیان بھی لعان نہیں ہوگا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ لعان دراصل شہادت و گواہی ہے اس لئے لعان کی صورت میں مرد و عورت دونوں کا اہل شہادت کہ جن کی شہادت شرعی طور پر معتبر ہوتی ہے ہونا ضروری ہے جب کہ مملوک یعنی غلام و لونڈی اور کافر اہل شہادت نہیں ہیں یعنی کسی معاملہ میں ان کی شہادت و گواہی شرعی طور پر معتبر نہیں ہے لہذا ان کے درمیان لعان کی کوئی صورت نہیں۔
آنحضرت ﷺ حتی الامکان لعان سے باز رکھنا چاہتے تھے
وعن ابن عباس : أن النبي صلى الله عليه و سلم أمر رجلا حين أمر المتلاعنين أن يتلاعنا أن يضع يده عند الخامسة على فيه وقال : إنها موجبة . رواه النسائي
اور حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ جب نبی کریم ﷺ کے حکم پر دو لعان کرنے والے یعنی میاں بیوی لعان کر رہے تھے تو آنحضرت ﷺ نے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ پانچویں گواہی کے وقت لعان کرنیوالے کے منہ پر ہاتھ رکھ دے اور فرمایا کہ پانچویں گواہی واجب کرنیوالی ہے (نسائی)
تشریح
کسی خاوند نے اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائی ہوگی اور بیوی نے اس کی تردید کی ہوگی اور صورت حال کو ختم کرنے کے لئے انہوں نے لعان کا ارادہ کیا ہوگا چناچہ آنحضرت ﷺ نے ان کو لعان کا حکم دیا اور اسی وقت ایک دوسرے شخص کو یہ حکم فرمایا کہ جب پانچویں گواہی کی باری آئے تو لعان کرنیوالے کے منہ پر ہاتھ رکھ دینا تاکہ وہ پانچویں گواہی دے کر لعان کو پورا نہ کرے۔ اس حکم کا بظاہر مقصد یہ تھا کہ جب اس کے منہ پر ہاتھ رکھا جائے گا تو اسے تنبہ اور اسح اس ہوگا اور جو سچ بات ہوگی اس کا اقرار کر کے پانچویں گواہی سے باز رہے گا اور جب پانچویں گواہی پوری نہیں ہوگی تو لعان واقع نہیں ہوگا یہ گویا اس بات کی علامت ہے کہ آنحضرت ﷺ حتی الامکان لعان سے روکنے کی کوشش کرتے تھے اور یہ چاہتے تھے کہ جو سچ بات ہو میاں بیوی اس کا اقرار کریں اور اس دنیا کے آسان عذاب یعنی زنا یا تہمت کی حد) کو اختیار کر کے آخرت کے سخت ترین عذاب سے محفوظ رہے۔
شیطان، میاں بیوی کو ایک دوسرے سے بدظن کرنے کی کوشش کرتا ہے
وعن عائشة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم خرج من عندها ليلا قالت : فغرت عليه فجاء فرأى ما أصنع فقال : ما لك يا عائشة أغرت ؟ فقلت : وما لي ؟ لا يغار مثلي على مثلك ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لقد جاءك شيطانك قالت : يا رسول الله أمعي شيطان ؟ قال : نعم قلت : ومعك يا رسول الله ؟ قال : نعم ولكن أعانني عليه حتى أسلم . رواه مسلم
اور حضرت عائشہ کے بارے میں منقول ہے کہ ایک مرتبہ شعبان کی پندرہویں رات کو نبی کریم ﷺ ان کے پاس سے اٹھ کر چلے گئے تو حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ مجھے آپ ﷺ پر بڑی غیرت آئی پھر جب آنحضرت ﷺ واپس تشریف لائے اور میں جس کیفیت میں مبتلا تھی اس کو دیکھا تو فرمایا کہ عائشہ! تمہیں کیا ہوا؟ کیا تم مجھ پر غیرت کرتی ہو؟ میں نے عرض کیا کہ بھلا میری جیسی عورت کو آپ ﷺ جیسے مرد پر غیرت کیوں نہ آئے گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا دراصل تمہارے پاس تمہارا شیطان آگیا ہے یعنی شیطان نے تمہیں شک وشبہ میں مبتلا کردیا میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! کیا میرے ساتھ شیطان ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ ﷺ کے ساتھ بھی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر حاوی کردیا ہے یہاں تک کہ میں اس وسوسہ سے سالم محفوظ رہتا ہوں حتی اسلم کا ترجمہ یہ ہے کہ یہاں تک کہ وہ مسلمان ہوگیا ہے یعنی میرا تابع ہوگیا ہے ( مسلم)
تشریح
ایک مرتبہ شعبان کی پندرہویں شب میں آنحضرت ﷺ چپکے سے حضرت عائشہ کے پاس سے اٹھ کر جنت البقیع تشریف لے گئے تاکہ وہاں مردوں کے لئے ایصال ثواب اور دعا و مغفرت کریں لیکن حضرت عائشہ یہ سمجھیں کہ آپ ﷺ میرے پاس سے اٹھ کر اپنی کسی اور بیوی کے ہاں چلے گئے ہیں، یہ گویا شیطان کا فریب تھا جس نے انہیں اس شک میں مبتلا کردیا اس کی وجہ سے ان کو بڑی غیرت آئی ان کی قلبی کیفیت متغیر ہوگئی چناچہ وہ بھی گھبرا کر اٹھیں اور آنحضرت ﷺ کے پیچھے پیچھے چل پڑیں پھر انہوں نے دیکھا کہ آپ ﷺ کی منزل کسی دوسری بیوی کا مکان نہیں ہے بلکہ جنت البقیع مدینہ کا قبرستان ہے) جہاں آپ ﷺ اس دنیا سے چلے جانیوالے مسلمانوں کے لئے دعاء مغفرت میں مشغول ہیں یقینی بات ہے کہ جس شک وشبہ نے حضرت عائشہ کو اتنا اکسایا اور گھبراہٹ میں مبتلا کیا کہ وہ آنحضرت ﷺ کے واپس پہنچنے سے پہلے ہی گھر میں پہنچ جانا چاہتی ہوں گی چناچہ وہ وہاں سے بھاگی دوڑتی گھر کی طرف چلیں جب گھر میں داخل ہوئی تو کچھ دوڑنے کی وجہ سے اور کچھ ندامت کے سبب سینہ دھونکنی بن گیا اور دم پھولنے لگا ان کے بعد ہی آنحضرت ﷺ گھر میں آئے اور حضرت عائشہ کی یہ کیفیت دیکھی کہ دم چڑھ رہا ہے اور گھبراہٹ طاری ہے تو فرمایا آخر اتنی گھبراہٹ تم پر کیوں طاری ہوگی کیا تم نے محض اس وجہ سے غیرت محسوس کی کہ میں اس طرح کیوں چلا گیا اس کے جواب میں حضرت عائشہ نے جو کچھ کہا وہ دراصل عورت کے جذبات فطرت کی بڑی حسین اور دلچسپ ترجمانی تھی انہوں نے کہا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ مجھ جیسی عورت آپ ﷺ جیسے مرد پر غیرت نہ کرے؟ یعنی اگرچہ مجھے آپ ﷺ کی بےپناہ محبت حاصل ہے لیکن میری سوکنیں بھی کئی ہیں اور پھر آپ ﷺ تمام ظاہری و باطنی جمال و کمال سے متصف ہیں ایسی صورت میں کیوں کر رشک و غیرت میں مبتلا نہ ہوں۔