وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ اَقَامَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم بِا لْمَدِیْنَۃِ عَشْرَ سِنِیْنَ یُضَحِّیَ۔ (رواہ الترمذی)
اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ مدینہ منورہ میں دس سال قیام فرمایا اور (ہر سال قربانی) کرتے تھے۔ (جامع ترمذی )
تشریح
قربانی واجب ہونے کی یہ سب سے بڑی دلیل ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس پر مداومت فرمائی اور ہمیشہ قربان کرتے رہتے۔
قربانی حضرت ابراہیم کی سنت ہے
وَعَنْ زَیْدِ بْنِ اَرْقَمَ قَالَ قَالَ اَصْحَابُ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَا رَسُوْلَ اﷲِ مَا ھٰذِہِ الْاَضَاحِی قَالَ سُنَّۃُ اَبِیْکُمْ اِبْرَاھِیْمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ قَالُوْا فَمَا لَنَا فِیْھَا یَا رَسُوْلَ اﷲِ قَالَ بِکُلِّ شَعْرَۃٍ حَسَنَۃٌ قَالُوْا فَالصَّوْفُ یَا رَسُوْلَ اﷲِ قَالَ بِکُلِّ شَعْرَۃٍ مِّنَ الصَّوْفِ حَسَنَۃٌ۔ (رواہ احمد بن حنبل و ابن ماجۃ)
اور حضرت زید ابن ارقم ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ کے اصحاب نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! یہ قربانی کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمہارے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کا طریقہ (یعنی ان کی سنت ہے۔ صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! پھر اس میں ہمارے لئے کیا ثواب ہے؟ فرمایا گائے اور بکری کی قربانی کرنے میں کہ جن کے بال ہوتے ہیں) ہر بال کے بدلہ ایک نیکی ہے (انہوں نے عرض کیا کہ صوف (یعنی دنبہ، بھیڑ اور اونٹ کی اون اور اس کے بدلہ میں کیا ثواب ملتا ہے؟ ) فرمایا اون کے ہر بال کے بدلے میں ایک نیکی۔ (احمد بن حنبل، سنن ابن ماجہ)