قربانى کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 18 · 42 hadiths · Page 2 of 3

1428Mishkaat-al-Masabih

قربانی کے دنبہ کی صفات

وَعَنْ عَائِشَۃَرضی اللہ عنہا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِِ صلی اللہ علیہ وسلم اَمَرَ بِکَبْشٍ اَقْرَنَ ےَطَأُ فِیْ سَوَادٍ وَّےَبْرُکُ فِیْ سَوَادٍ وَےَنْظُرُ فِیْ سَوَادٍ فَاُتِیَ بِہٖ لِےُضَحِّیَ بِہٖ قَالَ ےَا عَآئِشَۃُ ھَلُمِّی الْمُدْےَۃَ ثُمَّ قَالَ اشْحَذِےْھَا بِحَجَرٍ فَفَعَلْتُ ثُمَّ اَخَذَھَا وَاَخَذَ الْکَبْشَ فَاَضْجَعَہُ ثُمَّ ذَبَحَہُ ثُمَّ قَالَ بِسْمِ اللّٰہِ اَللّٰھُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ مُّحَمَّدٍ وَّاٰلِ مُحَمَّدٍ وَّمِنْ اُمَّۃِ مُحَمَّدٍ ثُمَّ ضَحّٰی بِہٖ۔(صحیح مسلم)

اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (قربانی کے لئے) ایک ایسے سینگ دار دنبہ کے لانے کا حکم دیا جو سیاہی میں چلتا ہو (یعنی اس کے پاؤں سیاہ ہوں) سیاہی میں بیٹھا ہو (یعنی اس کا پیٹ اور سینہ سیاہ ہو) اور سیاہی میں دیکھا ہو (یعنی اس کی آنکھوں کے گرد سیاہی ہو) چناچہ (جب) آپ کے لئے قربانی کے واسطے ایسا دنبہ لایا گیا ( تو) فرمایا کہ عائشہ! چھری لاؤ (جب چھری لائی تو) پھر فرمایا کہ اسے پتھر پر (رگڑ کر) تیز کرو، میں نے چھری تیز کی، آپ نے چھری لی اور دنبے کو پکڑ کر اسے لٹایا پھر جب اسے ذبح کرنے کا ارادہ کیا تو یہ فرمایا کہ اللھم تقبل من محمد و ال محمد و من امۃ محمد (یعنی اے اللہ! اسے محمد ﷺ، آل محمد ﷺ اور امت محمد ﷺ کی طرف سے قبول فرما) پھر اسے ذبح کردیا۔ (صحیح مسلم) تشریح جب جانور کو ذبح کیا جا رہا ہو، اس کے سامنے چھری تیز کرنا مکروہ ہے کیونکہ حضرت عمر فاروق ؓ کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے ایک ایسے آدمی کو درے سے مارا تھا جس نے ایسا کیا تھا۔ اسی طرح ایک جانور کو دوسرے جانور کے سامنے ذبح کرنا بھی مکروہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ذبح کرتے وقت جو الفاظ ارشاد فرمائے اس سے مراد صرف ثواب میں امت کو شریک کرنا تھا نہ یہ کہ آپ ﷺ نے سب کی طرف سے قبربانی کی تھی کیونکہ ایک دنبہ یا ایک بکری کی قربانی کئی آدمیوں کی طرف سے درست نہیں ہے۔

1429Mishkaat-al-Masabih

کس عمر کے جانور کی قربانی کرنی چاہیے؟

وَعَنْ جَابِرٍص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم لَا تَذْبَحُوْا اِلَّا مُسِنَّۃً اِلَّا اَنْ ےُّعْسَرَ عَلَےْکُمْ فَتَذْبَحُوْاجَذَعَۃً مِّنَ الضَّاْنِ۔(صحیح مسلم)

اور حضرت جابر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم (قربانی میں صرف) مسنہ جانور ذبح کرو، ہاں اگر مسنہ نہ پاؤ تو پھر دنبہ بھیڑ کا جزعہ ذبح کرلو۔ (صحیح مسلم) تشریح مسنہ یا جزعہ کسی خاص جانور کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک اصطلاح ہے جو قربانی کے جانور کی عمر کے سلسلہ میں مستعمل ہوتی ہے۔ چناچہ حنفی مسلک کے مطابق اس کی تفصیل یہ ہے کہ اونٹوں میں وہ اونٹ مسنہ کہلاتا ہے جو پورے پانچ سال کی عمر کا ہو اور چھٹے برس میں داخل ہوچکا ہو۔ گائے، بھینس اور بیل میں مسنہ اسے فرماتے ہیں جو پورے دو سال کی عمر کا ہو تیسرے سال میں داخل ہوچکا ہو۔ بھیڑ اور دنبہ میں مسنہ وہ ہے جو اپنی عمر کو پورا ایک سال گزار کر دوسرے سال میں داخل ہوچکا ہو۔ لہٰذا ان جانوروں میں قربانی کے لئے جانور کا مسنہ ہونا ضروری ہے۔ ہاں دنبہ اور بھیڑ کا اگر جزعہ بھی ہو تو اس کی قربانی جائز ہے۔ جزعہ بھیڑ یا دنبہ کا وہ بچہ کہلاتا ہے جس کی عمر ایک برس سے تو کم ہو مگر چھ مہینہ سے زیادہ ہو۔ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ جزعہ کی قربانی اس صورت میں جائز ہوگی جب کہ وہ اتنا فربہ ہو کہ اگر اسے مسنہ کے ساتھ کھڑا کردیا جائے تو دور سے دیکھنے والا اسے بھی مسنہ گمان کرے اگر وہ فربہ نہ ہو بلکہ چھوٹا ہو اور دبلا ہو تو اس کی قربانی درست نہیں۔ بظاہر حدیث سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ اگر مسنہ بہم نہ پہنچے یا اس کی قیمت میسر نہ ہو تو جزعہ کی قربانی درست ہے ورنہ بصورت دیگر اس کی قربانی درست نہیں ہوگی۔ بلکہ فقہاء لکھتے ہیں کہ یہ استحباب پر محمول ہے یعنی مستحب تو یہی ہے کہ اگر مسنہ مل جائے اور اس کے خریدنے کی استطاعت ہو تو جزعہ کی قربانی نہ کرے۔ ویسے اگر مسنہ ہوتے ہوئے بھی کوئی جزعہ کی قربانی کرے گا تو درست ہوگئی۔

1430Mishkaat-al-Masabih

بکری کے بچہ کی قربانی

عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍص اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلماَعْطَاہُ غَنَمًا ےَّقْسِمُھَا عَلٰی صَحَابَتِہٖ ضَحَاےَا فَبَقِیَ عَتُوْدٌ فَذَکَرَہُ لِرَسُوْل ِاللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ ضَحِّ بِہٖ اَنْتَ وَفِیْ رَوَاےَۃٍ قُلْتُ ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَصَابَنِیْ جَذَعٌ قَالَ ضَحِّ بِہٖ ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت عقبہ ابن عامر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں بکریوں کا ایک ریوڑ دیا تاکہ وہ اسے صحابہ کرام میں بطریق قربانی کے تقسیم کردیں چناچہ (انہوں نے تقسیم کردیا) تقسیم کے بعد بکری کا ایک بچہ باقی رہ گیا اور انہوں نے اس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس کی قربانی تم کرلو ایک اور روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ مجھے! دنبہ کا ایک بچہ ملا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس کی قربانی کرلو۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم) تشریح عتود بکری کے اس بچہ کو فرماتے ہیں جو موٹا تازہ ہو اور ایک سال کی عمر کا ہو۔ لہٰذا اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بکری کے ایک سال کے بچہ کی قربانی جائز ہے چناچہ امام اعظم ابوحنیفہ کا یہی مسلک ہے۔ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ عتود بکری کے اس بچے کو فرماتے ہیں جو چھ مہینہ سے زیادہ کا ہو اس صورت میں یہ حکم صرف عقبہ ابن عامر کے ساتھ مخصوص ہوگا۔ دوسروں کے لئے عتود کی قربانی جائز نہیں ہوگی۔ جزعہ کے بارے میں پہلے بھی بتایا جا چکا ہے۔ یعنی دنبہ کا وہ بچے جو چھ مہینے سے زیادہ کا ہو۔

1431Mishkaat-al-Masabih

عید گاہ میں قربانی افضل ہے۔

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَص قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم ےَذْبَحُ وَےَنْحَرُ بِالْمُصَلّٰی۔(صحیح البخاری)

اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عید گاہ میں قربانی کے جانور کو ذبح اور نحر کیا کرتے تھے۔ (صحیح البخاری ) تشریح باب صلوٰۃ العیدین کی پہلی فصل کے آخر میں ذبح اور نحر کے معنی اور ان کے باہم فرق کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا جا چکا ہے۔ علماء لکھتے ہیں کہ عید گاہ میں قربانی کرنا افضل ہے۔

1432Mishkaat-al-Masabih

قربانی کے حصے

وَعَنْ جَابِرٍص اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ الْبَقَرَۃُ عَنْ سَبْعَۃِ وَالْجَزُوْرُعَنْ سَبْعَۃٍ (صحیح مسلم)

اور حضرت جابر ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قربانی کے لئے) گائے اور ایک اونٹ سات آدمیوں کی طرف سے کافی ہے۔ (صحیح مسلم، سنن ابوداؤد)

1433Mishkaat-al-Masabih

قربانی کرنے والے کے لئے کچھ ہدایتیں

وَعَنْ اُمِّ سَلَمَۃَرضی اللہ عنہا قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ وَاَرَادَ بَعْضُکُمْ اَنْ ےُّضَحِّیَ فَلَا ےَمَسَّ مِنْ شَعْرِہٖ وَبَشَرِہٖ شَےْئًا وَّفِیْ رَوَاےَۃٍ فَلَا ےَاْخُذَنَّ شَعْرًا وَّلَا ےَقْلِمَنَّ ظُفْرًا وَّفِیْ رِوَاےَۃٍ مَّنْ رَّاٰی ھِلَالَ ذِی الْحِجَّۃِ وَاَرَادَ اَنْ ےُّضَحِّیَ فَلَا ےَاْخُذْ مِنْ شَعْرِہٖ وَلاَ مِنْ اَظْفَارِہٖ۔(صحیح مسلم)

اور حضرت ام سلمہ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب ذی الحجہ کا پہلا عشرہ شروع ہوجائے تو تم میں سے جو آدمی قربانی کرنے کا ارادہ کرے وہ ( اس وقت تک کہ قربانی نہ کرے) اپنے بال اور ناخن بالکل نہ کتروائے ایک روایت میں یوں ہے کہ نہ بال کٹوائے اور نہ ناخن کتروائے۔ ایک اور روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ جو آدمی بقر عید کا چاند دیکھے اور وہ قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو وہ (قربانی کے لینے تک) اپنے بال اور ناخن نہ کٹوائے۔ (صحیح مسلم) تشریح بقر عید کا چاند دیکھنے لینے کے بعد قربانی کرلینے تک بال وغیرہ کٹوانے سے اس لئے منع فرمایا گیا ہے تاکہ احرام والوں کی مشابہت حاصل ہوجائے۔ لیکن یہ ممانعت تنزیہی ہے لہٰذا بال وغیرہ کا نہ کٹوانا مستحب ہے اور اس کے خلاف عمل کرنا ترک اولی ہے جب کہ حضرت امام شافعی کے نزدیک اس کے خلاف کرنا مکروہ ہے۔

1434Mishkaat-al-Masabih

عشرہ ذی الحجہ کے نیک اعمال کی فضیلت

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی اللّٰہ عنھما قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَا مِنْ اَےَّامٍ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِےْھِنَّ اَحَبُّ اِلَی اللّٰہِ مِنْ ہٰذِہِ الْاَےَّامِ الْعَشْرِ قَالُوْا ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ وَلَا الْجِھَادُ فِیْ سَبِےْلِ اللّٰہِ قَالَ وَلَا الْجِھَادُ فِیْ سَبِےْلِ اللّٰہِ اِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِہٖ وَمَالِہٖ فَلَمْ ےَرْجِعْ مِنْ ذَالِکَ بِشَیئٍ۔(صحیح البخاری)

اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا دنوں میں کوئی دن نہیں ہے جس میں نیک عمل کرنا اللہ کے نزدیک ان دس دنوں (ذی الحجہ کے پہلے عشرہ) سے زیادہ محبوب ہو۔ صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! کیا ( ان ایام کے علاوہ دوسرے دنوں میں) اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی (ان دنوں کے نیک اعمال کے برابر) نہیں ہے؟ فرمایا ہاں! اس آدمی کا جہاد جو اپنی جان و مال کے ساتھ (اللہ کی راہ میں لڑنے) نکلا اور پھر واپس نہ ہوا ( ان دنوں کے نیک اعمال سے بھی زیادہ افضل ہے)۔ (صحیح البخاری ٰ تشریح مطلب یہ ہے کہ اگر جہاد ایسا ہو جس میں مال و جان سب اللہ کی راہ میں قربان ہوجائے اور جہاد کرنے والا مرتبہ شہادت پا جائے تو وہ جہاد البتہ اللہ کے نزدیک ان دس دنوں کے نیک اعمال سے بھی زیادہ محبوب ہے کیونکہ ثواب نفس کشی و مشقت کے بقدر ملتا ہے اور ظاہر ہے کہ اللہ کی راہ میں اپنی جان اور اپنا مال قربان کردینے سے زیادہ نفس کشی اور مشقت کیا ہوسکتی ہے؟ چونکہ رمضان کے نیک اعمال کی بھی بہت زیادہ فضیلت و عظمت بیان کی گئی ہے اس لئے ہوسکتا ہے کہ اس حدیث کی مراد یہ ہو کہ ان دنوں کے نیک اعمال ایام رمضان کے نیک اعمال کے علاوہ دوسرے دنوں کے نیک اعمال سے زیادہ محبوب ہیں یا رمضان کے نیک اعمال اس حیثیت سے سب سے زیادہ محبوب نہیں کہ ان دنوں میں فرض روزے رکھے جاتے ہیں۔ اور بہت زیادہ برگزیدہ و مقدس ترین شب یعنی لیلۃ القدر بھی رمضان ہی میں آتی ہے اور ذی الحجہ کے پہلے عشرہ کے اعمال اس اعتبار سے سب سے زیادہ محبوب ہیں کہ بہت زیادہ برگزید اور باعظمت و فضیلت دن یعنی عرفہ انہیں دنوں میں آتا ہے۔ اور افعال حج بھی انہیں ایام میں ہوتے ہیں

1435Mishkaat-al-Masabih

قربانی کے وقت کی دعا

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ ذَبَحُ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم یَوْمَ الذَّبْحِ کَبْشَیْنِ اَقْرَنَیْنِ اَمْلَحَیْنِ مَوْجُوْئَیْنِ فَلَمَّا وَجَّھَھُمَا قَالَ اِنِّی وَجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِی فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ عَلَی مِلَّۃِ اِبْرَاھِیْمَ حَنِیْفًا وَّمَا اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ اِنَّ صَلَاتِی وَنُسُکِی وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ لَا شَرِیْکَ لَہ، وِبِذَلِکَ اُمِرْتُ وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ اَللّٰھُمَّ مِنْکَ وَلَکَ عَنْ مُّحَمَّدٍ وَاُمَّتِہٖ بِسْمِ اﷲِ وَاﷲُ اَکْبَرُ ثُمَّ ذَبَحَ رَوَاہُ اَحْمَدُ وَ اَبُوْدَاؤدَ ابْنُ مَاجَۃَ وَالدَّارِمِیُّ وَفِی رِوَایَۃٍ لِاَحْمَدَ وَاَبِیْ دَاؤدَ وَالتِّرْمِذِیِّ ذَبَحَ بَیَدِہٖ وَقَالَ بِسْمِ اﷲِ وَاﷲُ اَکْبَرُ اَللّٰھُمَّ ھٰذَا عَنِّی وَعَمَّنْ لَّمْ یُضِحِّ مِنْ اُمَّتِیْ۔

حضرت جابر ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ذبح کے دن (یعنی عید قرباں کے دن) دو دنبے جو سینگ دار ابلق اور خصی تھے ذبح کرنے چاہے تو ان کو قبلہ رخ کیا اور یہ پڑھا۔ یعنی میں اپنا منہ اس ذات کی طرف متوجہ کرتا ہوں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اس حال میں کہ میں دین ابراہیم پر ہوں جو توحید کو ماننے والے تھے اور میں مشرکین میں سے نہیں ہوں بلاشبہ میری نماز، میری تمام عبادتیں، میری زندگی اور میری موت (سب کچھ) اللہ ہی کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور مجھے اس کا حکم دیا گیا ہے اور میں مسلمانوں میں سے ہوں اے اللہ! یہ قربانی تیری عطاء سے ہے اور خالص تیری ہی رضا کے لئے ہے تو اس کو محمد ﷺ اور اس کی امت کی جانب سے قبول فرما ساتھ نام اللہ کے اور اللہ بہت بڑا ہے۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے ذبح کیا۔ (احمد بن حنبل، سنن ابوداؤد، سنن ابن ماجہ، دارمی) نیز مسند احمد سنن ابوداؤد اور جامع ترمذی کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (دونوں دنبے) اپنے ہاتھ سے ذبح کئے ہیں کہا بسم اللہ واللہ اکبر، اے اللہ! یہ قربانی میری جانب سے ہے اور میرے امت کے ہر اس فرد کی طرف سے ہے جس نے قربانی نہیں کی۔ تشریح خصی سے مراد وہ ہے جس کے بیضے کوٹ کر اس کی شہوت ختم کردی جاتی ہے اس کی قربانی میں کوئی مضائقہ نہیں ہے ایسا خصی فربہ ہوتا ہے اور اس کا گوشت لذیذ ہوتا ہے۔ وما انا من المشرکین (اور میں مشرکین میں سے نہیں ہوں) اس بارے میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نبوت ملنے سے پہلے کس شریعت کے مطابق عبادت کیا کرتے تھے؟ چناچہ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ نبوت ملنے سے پہلے آپ ﷺ کی عبادت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی شریعت کے مطابق ہوتی تھی، بعض علماء کا قول یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت کے مطابق اور بعض علماء کی تحقیق یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت کے مطابق آپ عبادت کیا کرتے تھے۔ اس سلسلہ میں صحیح قول یہ ہے کہ آپ ﷺ کسی بھی شریعت کے مطابق عبادت نہیں کرتے تھے بلکہ اپنی فہم اور اپنے وجدان کے موافق آپ ﷺ اپنی عبادت میں مشغول رہا کرتے تھے۔ اور اللہ پر ایمان رکھتے تھے۔ البتہ یہ بات بالکل اجماعی طور پر محقق اور ثابت ہے کہ آپ ﷺ زندگی کے کسی بھی دور میں بت برستی کی نجاست میں ملوث نہیں ہوئے۔ اب سوال یہ ہے کہ آپ ﷺ کی عبادت کس نوع اور کس طریقہ کی تھی؟ تو اس کے بارے میں علماء لکھتے ہیں کہ وہ غیر معلوم ہے اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ آپ ﷺ اس وقت کس طرح عبادت کرتے تھے؟ عن محمد وامتہ میں مشارکت یا تو ثواب پر محمول ہے یعنی رسول اللہ ﷺ نے ذبح کے وقت یہ الفاظ فرما کر اپنی قربانی کے ثواب میں اپنی امت کو بھی شریک فرما لیا۔ یا اسے حقیقت پر بھی محمول کیا جاسکتا ہے مگر اس صورت میں کہا جائے گا یہ رسول اللہ ﷺ کے خصائص میں سے ہے۔ اس سلسلہ میں واضح ترین بات یہ ہے کہ آپ ﷺ نے ایک دنبہ تو اپنی طرف سے قربان کیا اور دوسرے دنبہ کی قربانی امت کی طرف سے کی۔ اس حدیث سے یہ بات معلوم ہوئی کہ اگر قربانی کرنے والا ذبح کرنے پر قادر ہو تو اس کے لئے اپنے ہاتھ سے قربانی کا جانور ذبح کرنا مستحب ہے اگرچہ عورت ہی کیوں نہ ہو۔

1436Mishkaat-al-Masabih

میت کی طرف سے قربانی جائز ہے

وَعَنْ حَنَشٍ قَالَ رَأَیْتُ عَلِیًا یُضَحِّیَ بِکَبْشَیْنِ فَقُلْتُ لَہ، مَا ھٰذَا فَقَالَ اِنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَوْ صَانِی اَنْ اُضَحِّیَ عَنْہُ فَاَنَا اَضَحِّیَ عَنْہُ۔ (رواہ ابوداؤد ، الترمذی نحوہ)

اور حضرت خش فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو دو دنبے قربانی کرتے ہوئے دیکھا تو کہا کہ یہ کیا؟ یعنی جب ایک دنبہ کی قربانی کافی ہے تو دو دنبوں کی قربانی کیوں کرتے ہیں؟ ) انہوں نے فرمایا کہ رسول کریم ﷺ نے مجھے یہ وصیت فرمائی تھی کہ (ان کے وصال کے بعد) میں ان کی طرف سے قربانی کروں لہٰذا میں ان کی طرف سے قربانی کرتا ہوں۔ (ابوداؤد، جامع ترمذی ) تشریح اس سلسلہ میں دونوں ہی احتمال ہیں یا تو حضرت علی المرتضیٰ اپنی قربانی کے علاوہ دو دنبے رسول اللہ ﷺ کی طرف سے قربان کرتے ہوں گے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ اپنی زندگی میں دو دنبوں کی قربانی کرتے تھے، یا پھر یہ کہ حضرت علی المرتضیٰ ایک دنبہ کی قربانی تو اپنی طرف سے کرتے ہوں گے اور ایک دنبہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے اور بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی المرتضیٰ کا یہ ہمیشہ کا معمول تھا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے ہر سال قربانی کرتے تھے۔ یہ حدیث اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ میت کی طرف سے قربانی کرنا جائز ہے اگرچہ بعض علماء نے اسے جائز نہیں کہا ہے۔ ابن مبارک کا قول یہ ہے کہ میں اسے پسند کرتا ہوں کہ میت کی طرف سے اللہ کی راہ میں خرچ کیا جائے۔ اس کی طرف سے قربانی نہ کی جائے، ہاں اگر میت کی طرف سے قربانی کی ہی جائے تو اس کا گوشت بالکل نہ کھایا جائے بلہ سب کا سب اللہ کے نام پر تقسیم کردیا جائے

1437Mishkaat-al-Masabih

عیب دار جانور کی قربانی نہ کرنی چاہیے

وَعَنْ عَلِیٍّ قَالَ اَمَرَنَا رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَیْنَ وَالْاُذُنَ وَاَنْ لَّا نُضَحِّیَ بِمُقَابَلَۃٍ وَلَا مُدَآبَرَۃٍ وَّلَا شَرْقَاءَ وَلَا خَرْقَاءَ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَ اَبُوْدَاؤدَ وَلنِّسَائِیُّ وَالدَّارِمِیُّ وَ ابْنُ مَاجَۃَ وَانْتَھَتْ رِوَایَتُہ، اِلَی قَوْلِہٖ وَالاذُنَ۔

اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم ( قربانی کے جانور کے) آنکھ اور کان کو خوب اچھی طرح دیکھ لیں ( کہ کوئی ایسا عیب اور نقصان نہ ہو جس کی وجہ سے قربانی درست نہ ہو اور یہ حکم بھی دیا ہے کہ) ہم اس جانور کی قربانی نہ کریں جس کا کان اگلی طرف سے یا پچھلی طرف سے کٹا ہوا ہو اور نہ اس جانور کی جس کی لمبائی پر چرے ہوئے اور گولائی میں پھٹے ہوئے ہوں یہ روایت جامع ترمذی ابوداؤد، سنن نسائی، دارمی اور ابن ماجہ نے نقل کی ہے لیکن ابن ماجہ کی روایت لفظ والاذن ختم ہوگئی ہے۔ تشریح حضرت امام شافعی کے نزدیک اس بکری کی قربانی جائز نہیں ہے جس کا کان تھوڑا سا بھی کٹا ہوا ہو جب کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک جائز ہے اگر کان آدھے سے کم کٹا ہوا ہو۔ حضرت امام طحاوی حنفی (رح) فرماتے ہیں کہ اس مسئلہ میں حضرت امام شافعی کا عمل اس حدیث پر ہے اور حضرت امام ابوحنیفہ کا مسلک ہے جو بہت جامع ہے کیونکہ اس مسلک سے اس حدیث میں اور فتادہ کی حدیث میں تطبیق ہوجاتی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں کہ حضرت قتادہ حضرت ابن کلیب سے یہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علی المرتضیٰ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عضبائے قرن و اذن ( کی قربانی) سے منع فرمایا ہے۔ قتادہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید ابن المسیب سے پوچھا کہ یہ عضائے اذن کیا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ جس کا کان آدھا یا آدھے سے زیادہ کٹا ہوا ہو۔ حنیفہ کے نزدیک کیسے جانور کی قربانی جائز نہیں؟ اس مسئلہ میں حنیفہ کا جو مسلک ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں ہے جس کا کان تہائی یا تہائی سے زیادہ کٹا ہوا ہو۔ ایسے جانور کی قربانی بھی درست نہیں ہے جس کے کان پیدائشی نہ ہوں، اسی طرح ایسے جانور کی قربانی بھی درست نہیں جس کی دم اور ناک تہائی یا تہائی سے زیادہ کٹی ہوئی ہو، جو جانور اندھا یا کانا ہو یا ایک آنکھ کی تہائی روشنی یا اس سے زیادہ جاتی رہی ہو تو اس کی قربانی بھی جائز نہیں ہے جس جانور کے تھن خشک ہوگئے ہوں اس کی قربانی بھی درست نہیں او ایسے جانور کی بھی درست نہیں جس میں مغز نہ رہا ہو اور نہ ایسے لنگڑے کی جو قربانی کی جگہ تک نہ جاسکے اور نہ ایسے بیمار کی جو گھاس نہ کھا سکے نہ ایسے جانور کی جس کے خارش ہو، وہ بغیر دانت کے جانور کی جو گھاس نہ کھا سکتا اور نہ نجاست خور جانور کی، ہاں ایسے جانور کی قربانی درست ہے جس کا کان لمبائی میں یا اس کے منہ کی طرف سے پھٹ جائے اور لٹکا ہوا یا پیچھے کی طرف پھٹا ہوا، اس صورت میں کہا جائے گا یہ حدیث کہ جس سے ایسے جانور کی قربانی کی ممانعت معلوم ہو رہی ہے نہی تنز یہی پر محمول ہے۔

1438Mishkaat-al-Masabih

عیب دار جانور کی قربانی نہ کرنی چاہیے

وَعَنْ عَلِیٍّ قَالَ نَھٰی رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اَنْ نُّضَحِّیَ بِا عَضَبِ الْقَرَنِ وَالْاُذُن (رواہ ابن ماجۃ)

اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ، راوی ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے منع فرمایا ہے کہ ہم ایسے جانور کی قربانی کردیں جس کے سینگ ٹوٹے ہوئے اور کان کٹے ہوئے ہوں۔ (سنن ابن ماجہ) تشریح حنفی مسلک میں ایسے جانور کی قربانی جائز و درست ہے جس کے پیدائش ہی سے سینگ نہ ہوں یا ٹوٹے ہوئے ہوں یا ان کا خول اتر گیا ہے لہٰذا یہ حدیث نہی تنزیہی پر محمول کی جائے گی۔ البتہ ایسے جانور کی قربانی درست نہیں ہوگی جس کے سینگ بالکل جڑ سے ٹوٹ گئے ہوں۔

1439Mishkaat-al-Masabih

عیب دار جانور کی قربانی نہ کرنی چاہیے

وَعَنِ البْرَاءِ بْنِ عَازِبٍ اَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم سُئِلَ مَاذَا یُتَّقَی مِنَ الضَّحَایَا فَاَشَارَ بِیَدِہٖ فَقَالَ اَرْبَعًا اَلْعَرْجَاءُ الْبَیِّنُ ظَلْعُھَا وَالْعَوْرَاءُ الْبَیِّنُ عَوْرُھَا وَالْمَرِیْضَۃُ الْبَیِّنُ مَرْضُھَا وَالْعَجْفَاءُ الَّتِی لَا تَنْقِیْ۔(رواہ موطا امام مالک و احمد بن حنبل والترمذی وابوداؤو السنن نسائی و ابن ماجۃ والدارمی)

اور حضرت براء ابن عازب راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ سے پوچھا گیا کہ کیسے جانور کی قربانی لائق نہیں؟ تو آپ ﷺ نے ہاتھ کی انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ چار طرح کے جانور قربانی کی قابل نہیں ہیں۔ (١) لنگڑا۔ جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو یعنی جو چل نہ سکے۔ (٢) کا نا جس کا کانا پن ظاہر ہو یعنی آنکھ سے بالکل دکھائی نہ دیتا ہو یا تہائی یا تہائی سے زیادہ روشنی جاتی رہی ہو۔ (٣) بیمار۔ جس کی بیماری ظاہر ہو یعنی جو بیماری کی وجہ سے گھاس نہ کھا سکے۔ (٤) ایسا دبلا کہ جس کی ہڈیوں میں گودانہ ہو۔ (مالک، احمد بن حنبل، جامع ترمذی، سنن ابوداؤد، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ، دارمی)

1440Mishkaat-al-Masabih

فربہ جانور کی قربانی بہتر ہے

وَعَنْ اَبِی سَعِیْدٍ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یُضَحِّیَ بِکَبَشٍ اَقْرَنَ فَحِیْلِ یُنْظُرُ فِی سَوَادٍ وَّیَاکُلُ فِی سَوَادٍ وَّیَمْشِیْ فِی سَوَادٍ۔ (رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجۃ)

اور حضرت ابوسعید فرماتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ ایسے سینگ دار فربہ دنبہ کی قربانی کرتے تھے جو سیاہی میں دیکھتا تھا یعنی اس کی آنکھوں کے گرد سیاہی تھی، سیاہی میں کھاتا تھا اس کا منہ سیاہ تھا اور سیاہی میں چلتا تھا یعنی اس کے پاؤں بھی سیاہ تھے۔ (جامع ترمذی، سنن ابوداؤد، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ) تشریح علماء لکھتے ہیں کہ ایسے جانور کی قربانی کرنا جو بہت فربہ اور موٹاہو مستحب ہے۔ چناچہ ایک فربہ بکری کی قربانی دو دبلی بکریوں کی قربانی سے افضل ہے۔ ایسے ہی زیادہ گوشت والی بکری کی قربانی کم گوشت والی بکری کی قربانی سے افضل ہے بشر طی کہ گوشت خراب نہ ہو یعنی زیادہ گوشت والی بکری کا گوشت خراب ہو تو پھر اس کی قربانی افضل نہیں ہے۔

1441Mishkaat-al-Masabih

جذع کی قربانی

وَعَنْ مُجَا شِعٍ مِنْ بَنِی سُلَیْمٍ اَنَّ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم کَانَ یَقُوْلُ اِنَّ الْجَذْعَ یُوَفِّی مِمَّا یُوَفِّی مِنْہُ الثَّنِیَّ۔ (رواہ ابوداؤد و السنن نسائی و ابن ماجۃ)

قبیلہ بنی سیلم کے (ایک فرد) حضرت مجاشع راوی ہیں کہ رسول اکرم ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ جذع (یعنی وہ دنبہ یا بھیڑ جس کی عمر چھ مہینے سے زیادہ ہو) کافی ہے اس بچے سے کہ کفایت کرے اس کو ثنی۔ (ابوداؤد، سنن نسائی، ابن ماجہ) تشریح مطلب یہ ہے کہ جس طرح کہ اس بکری کی قربانی جائز ہے جو ایک سال سے زیادہ کی ہو اسی طرح جزع کی قربانی بھی جائز ہے۔ ثنی بھی ایک اصلاحی لفظ ہے جو قربانی کے جانور کی عمر کے سلسلہ میں استعمال کیا جاتا ہے۔ چناچہ بکری میں ثنی وہ بکری کہلاتی ہے جو ایک سال پورا کر کے دوسرے سال میں داخل ہوچکی ہو۔ بیل اور گائے میں ثنی وہ ہے جو دو سال کر کے تیسرے سال میں ہو، اونٹ میں ثنی وہ ہے جو پانچ سال پورے کرنے کے بعد چھٹے سال میں داخل ہوچکا ہو۔

1442Mishkaat-al-Masabih

جذع کی قربانی

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَقُوْلُ نِعْمَۃُ الْاَضْحِیَّۃُ الْجَذَعُ مِنَ الضَّأْنِ۔ (رواہ الترمذی )

اور حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ دنبہ کی جزع (یعنی چھ ماہ کے بچہ) کی قربانی بہتر ہے۔ (جامع ترمذی ) تشریح دنبہ کے جزع کی قربانی کی تعریف سے دراصل لوگوں کو یہ بتایا ہے کہ دنبہ کے چھ مہینہ کے بچہ کی قربانی جائز ہے بخلاف بکری کے جزع کی کہ اس کی قربانی درست نہیں۔

1443Mishkaat-al-Masabih

قربانی میں شرکت

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم فِی سَفَرٍ فَحَضَرَ الْاَضْحٰی فَا شْتَرَکْنَا فِی الْبَقَرَۃِ سَبْعَۃً وَّفِی الْبَعِیْرِ عَشْرَۃً رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَ النِّسَائِیُّ وَ ابْنُ مَاجَۃَ وَقَالَ التِّرْمِذِیُّ ھٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ غَرِیْبٌ۔

اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ہم (ایک) سفر میں رسول اکرم ﷺ کے ساتھ تھے کہ عید قربان آگئی، چناچہ گائے (کی قربانی) میں ہم سات آدمی اور اونٹ (کی قربانی) میں دس آدمی شریک ہوئے ( جامع ترمذی، سنن نسائی، ابن ماجہ) امام جامع ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن غریب ہے تشریح اسحق ابن راہو یہ (رح) نے اس حدیث پر عمل کیا ہے چناچہ وہ فرماتے ہیں کہ قربانی کے لئے ایک اونٹ میں دس آدمیوں کو شریک ہوجانا چاہیے بلکہ تمام علماء کے نزدیک یہ اس حدیث کے ذریعہ منسوخ قرار دے دی گئی ہے جس میں یہ صراحت ہے کہ جس طرح گائے کی قربانی سات آدمیوں سے درست ہے اسی طرح اونٹ کی قربانی بھی سات آدمیوں کی طرف سے کی جاسکتی ہے۔

1444Mishkaat-al-Masabih

قربانی کی فضیلت

وَعَنْ عَآئِشَۃَ قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم مَا عَمَلَ ابْنُ اٰدَمَ مِنْ عَمَلٍ یَوْمً النَّحْرِاَحَبَّ اِلَی اﷲِ مِنْ اِھْرَاقِ الدَّمِ وَاِنَّہ، لِیَاتِی یُوْمَ الْقِیَامَۃِ بِقُرُوْنِھَا وَاَشْعَارِ ھَا وَاَظْلَا فِھَا وَاِنَّ الدَّمَ لَیَقَعُ مِنَ اﷲِ بِمَکَانٍ قَبْلَ اَنْ یَّقَعَ بِالْاَرْضِ فَطَیِّبُوْا بِھَا نَفْسًا۔ (رواہ الترمذی و ابن ماجۃ)

اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ ابن آدم کا نحر (یعنی قربانی کے دن) ایسا کوئی عمل نہیں جو اللہ کے نزدیک خون بہانے (یعنی قربانی کرنے) سے زیادہ محبوب ہو اور (قربانی کا) وہ ذبح کیا ہوا جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں اور بالوں اور کھروں کے ساتھ آئے گا اور قربانی کا خون قبل اس کے کہ زمین پر گرے (یعنی ذبح کرنے کے ارادہ کے وقت ہی) الٰہی میں قبول ہوجاتا ہے۔ لہٰذا تم اس کی وجہ سے (یعنی قربانی کر کے) اپنے نفس کو خوش کرو۔ (جامع ترمذی، ابن ماجہ) تشریح زین العرب فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ بقر عید کے دن سب سے افضل عبادت قربانی کے جانور کا خون بہانا ہے اور قربانی کا جانور قیامت کے روز اسی طرح آئے گا جس طرح کے دنیا میں قربانی سے پہلے بغیر کسی عیب کے تھا تاکہ وہ قربانی کرنے والے کے ہر ہر عضو کی طرف سے نعم البدل اور پل صراط پر اس کی سواری ہو۔ حدیث کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ جب تم نے یہ جان لیا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری قربانی قبول کرتا ہے اور اس کے بدلہ میں تمہیں بہت زیادہ ثواب سے نوازتا ہے تو قربانی کرنے کی وجہ سے تمہارے اندر کسی قسم کی کوئی تنگی یا کراہت پیدا نہیں ہونی چاہیے۔ بلکہ اس عظیم خوشخبری کی وجہ سے تمہارے نفس کو مطمن اور تمہارے دل کو خوش ہونا چاہیے۔

1445Mishkaat-al-Masabih

عشرہ ذی الحجہ کی عبادتوں کی فضیلت

وَعَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ اَیَّامٍ اَحَبُّ اِلَی اﷲِ اَنْ یُّتَعَبَّدَ لَہ، فِیْھَا مِنْ عَشْرِ ذِی الْحَجَّۃِ یَعْدِلُ صِیَامُ کُلِّ یَوْمٍ مِّنْھَا بِصِیَامِ سَنَۃٍوَقِیَامِ کُلِّ لَیْلَۃٍ مِّنْھَا بِقِیَامِ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ َو ابْنُ مَاجَۃَ وَقَالَ التِّرْمِذِیُّ اَسْنَادَہ، ضَعَیْفٌ۔

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا ایسا کوئی دن نہیں ہے کہ جس میں عبادت کرنا عشرہ ذی الحجہ سے زیادہ افضل ہو اس میں سے ہر دن کے روزے ایک سال کے روزوں کے برابر قرار دئیے جاتے ہیں اور اس میں ہر رات کی عبادت شب قدر کی عبادت کے برابر قرار دی جاتی ہے (جامع ترمذی، ابن ماجہ) امام جامع ترمذی فرماتے ہیں کہ اس کی اسناد ضعیف ہیں۔ تشریح طلب یہ ہے کہ خدا کے نزدیک ان دنوں میں عبادت کرنا دوسرے دنوں میں عبادت کرنے سے زیادہ محبوب ہے خصوصاً قربانی کرنا دوسرے اعمال سے زیادہ افضل اور محبوب ہے۔ اور عشرہ ذی الحجہ کی فضیلت کے سلسلہ میں پوری وضاحت پہلی فصل میں گذر چکی ہے۔

1446Mishkaat-al-Masabih

بقر عید کی نماز سے پہلے قربانی درست نہیں

عَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِص قَالَ شَھِدْتُّ الْاَضْحٰی ےَوْمَ النَّحْرِ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَلَمْ ےَعْدُ اَنْ صَلّٰی وَفَرَغَ مِنْ صَلٰوتِہٖ وَسَلَّمَ فَاِذَا ھُوَ ےَرٰی لَحْمَ اَضَاحِیْ قَدْ ذُبِحَتْ قَبْلَ اَنْ ےَّفْرُغَ مِنْ صَلٰوتِہٖ فَقَالَ مَنْ کَانَ ذَبَحَ قَبْلَ اَنْ ےُصَلِّیَ اَوْنُصَلِّیَ فَلْےَذْبَحْ مَکَانَھَا اُخْرٰی وَفِیْ رِوَاےَۃٍ قَالَ صَلَّی النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم ےَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ خَطَبَ ثُمَّ ذَبَحَ وَقَالَ مَنْ کَانَ ذَبَحَ قَبْلَ اَنْ ےُّصَلِّیَ فَلْےَذْبَحْ اُخْرٰی مَکَانَھَا وَمَنْ لَّمْ ےَذْبَحْ فَلْےَذْبَحْ بِاسْمِ اللّٰہِ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

حضرت جندب ابن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں (ایک مرتبہ) عید قرباں میں جو نحر یعنی قربانی کا دن ہے رسول کریم ﷺ کے ہمراہ (عیدگاہ) حاضر ہوا، ابھی آپ ﷺ نے نماز اور خطبہ شروع نہیں فرمایا تھا) کہ کیا دیکھتے ہیں کہ قربانی کا گوشت رکھا ہے اور نماز پڑھنے سے پہلے ہی قربانی ہوگئی ہے، آپ نے فرمایا کہ جس نے قبل اس کے کہ نماز پڑھے، یا یہ فرمایا کہ قبل اس کے کہ ہم نماز پڑھیں (قربانی کا جانور) ذبح کردیا ہے اسے چاہیے کہ وہ اس کے بدلہ میں دوسرا جانور) ذبح کرے ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت جندب ؓ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے بقر عید کے روز نماز اور خطبہ ارشاد فرمایا پھر (قربانی کا جانور) ذبح کیا اور فرمایا کہ جو آدمی قبل اس کے کہ نماز پڑھے، یا فرمایا کہ قبل اس کے کہ ہم نماز پڑھیں ذبح کیا تو اسے چاہیے کہ (نماز کے بعد قربانی کا جانور) اللہ کے نماز کے ساتھ ذبح کردے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)

1447Mishkaat-al-Masabih

ایام قربانی

وَعَنْ نَافِعٍ اَنَّ ابْنَ عُمَرَ قَالَ اَلْاَضْحٰی یَوْمَانِ بَعْدَ یَوْمُ الْاَضْحٰی رَوَاہُ مَالِکٌ وَقَالَ بَلَغَنِیْ عَنْ عَلِیِّ بْنِ اَبِی طَالِبٍ مِثْلَہ،۔

اور حضرت نافع راوی ہیں کہ حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ نے فرمایا بقر عید کے دن کے بعد قربانی کے دو دن ہیں۔ امام مالک نے یہ روایت نقل کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ مجھے حضرت علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ، سے بھی اس قسم کی روایت پہنچی ہے۔ تشریح حضرت امام ابوحنیفہ، حضرت امام مالک اور حضرت امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم تینوں ائمہ کا عمل اسی حدیث پر ہے۔ یہ حضرات فرماتے ہیں کہ قربانی کا آخری وقت ذی الحجہ کی بارہویں تاریخ کے غروب آفتاب تک رہتا ہے۔ حضرت امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ آخری وقت تیرہویں تاریخ تک رہتا ہے۔ یہ حدیث تینوں ائمہ کی مستدل اور حضرت امام شافعی (رح) پر حجت ہے۔