گھوڑ دوڑ میں |" جلب |" اور |" جنب |" کی ممانعت
وعن عمران بن حصين قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا جلب ولا جنب . زاد يحيى في حديثه : في الرهان . رواه أبو داود والنسائي ورواه الترمذي مع زيادة في باب الغضب
اور حضرت عمران ابن حصین کہتے ہیں کہ نہ جلب ( جائز) ہے اور نہ جنب اور ( ایک راوی) یحییٰ نے اپنی روایت میں لفظ فی الرہان بھی نقل کیا ہے ( یعنی ان کی روایت میں یہ ہے کہ رہان یعنی گھوڑوں کی شرط ومسابقت میں نہ جلب جائز ہے اور نہ جنب) اس روایت کو ابوداؤد و نسائی نے نقل کیا ہے۔ نیز ترمذی نے بھی اس روایت کو کچھ زائد الفاظ ومعانی کے ساتھ باب الغضب میں نقل کیا۔
تشریح
جلب اور جنب یہ ہے کہ زکوٰۃ وصول کرنے والا زکوٰۃ دینے والوں کی قیام گاہوں سے کہیں دور ٹھہرے اور ان کو یہ حکم دے کہ وہ اپنی زکوٰۃ کا مال جیسے مویشی لے کر یہاں آجائیں۔ اور جنب یہ ہے کہ زکوٰۃ دینے والے اپنے زکوٰۃ دینے والے اپنے زکوٰۃ کے مال جیسے مویشیوں کو لے کر اپنی قیامگاہوں سے کہیں دور چلے جائیں اور زکوٰۃ وصول کرنے والے کو اس مشقت میں مبتلا کریں کہ وہ ان کے پاس پہنچ کر زکوٰۃ وصول کرے۔ لہٰذا یہ دونوں ہی ممنوع و مکروہ ہیں۔ گھوڑ دوڑ میں جلب یہ ہے کہ گھوڑ دوڑ میں شریک ہونے والا کوئی سوار کسی دوسرے شخص کو اس مقصد سے اپنے گھوڑے کے پیچھے لگا لے کہ وہ اس کے گھوڑے کو ڈانٹتا اور جھڑکتا رہے تاکہ وہ آگے بڑھ جائے۔ اور جنب یہ ہے کہ اپنے گھوڑے کے پہلو بہ پہلو ایک دوسرا گھوڑا رکھے تاکہ جب سواری کا گھوڑا تھک جائے تو اس گھوڑے پر سوار ہوجائے، یہ دونوں باتیں بھی ممنوع ہیں۔
وعن أبي قتادة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : خير الخيل الأدهم الأقرح الأرثم ثم الأقرح المحجل طلق اليمين فإن لم يكن أدهم فكميت على هذه الشية . رواه الترمذي والدارمي (2/381) 3878 - [ 18 ] ( ضعيف ) وعن أبي وهب الجشمي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : عليكم بكل كميت أغر محجل أو أشقر أغر محجل أو أدهم أغر محجل . رواه أبو داود والنسائي (2/381) 3879 - [ 19 ] ( حسن ) وعن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يمن الخيل في الشقر . رواه الترمذي وأبو داود
اور حضرت ابوقتادہ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا بہترین گھوڑا سیاہ گھوڑا ہے جس کی پیشانی پر تھوڑی سی سفیدی ہو اور ناک کی جانب سفیدی ہو پھر وہ گھوڑا بہتر ہے جس کی پیشانی پر تھوڑی سی سفیدی ہو اور ہاتھ پاؤں سفید ہوں لیکن دایاں ہاتھ سفید نہ ہو اور اگر سیاہ گھوڑا نہ ہو پھر اسی قسم کا کمیت ( بھی بہتر گھوڑا ہے۔ (ترمذی، دارمی)
تشریح
کمیت اس گھوڑے کو کہتے ہیں جس کی دم اور ایال سیاہ ہوں اور باقی بدن سرخ ہو اور اسی قسم کا مطلب یہ ہے کہ جو علامتیں سیاہ گھوڑے کی بیان کی گئی ہیں یعنی پیشانی پر سفیدی وغیرہ۔ وہی کمیت میں بھی ہوں تو یہ گھوڑا بھی ایک بہترین گھوڑا ہے۔ اور حضرت ابو وہب جشمی کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تمہارے لئے سفید پیشانی اور سفید ہاتھ پاؤں والا کمیت گھوڑا ضروری ہے ( یعنی اگر تم گھوڑا رکھو تو اس طرح کا گھوڑا ہونا چاہئے جس کی پیشانی بھی سفید ہو اور ہاتھ پاؤں بھی سفید ہوں یا سیاہ سفید پیشانی ہو اور سفید پاؤں ہوں۔ ( ابوداؤد، نسائی) تشریح اشفر سرخ رنگ کے گھوڑے کو کہتے ہیں۔ کمیت اور اشفر میں فرق یہ ہے کہ کمیت کی دم اور ایال سیاہ ہوتی ہے اور اشفر کی سرخ۔ اور حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ گھوڑوں کی برکت سرخ رنگ کے گھوڑوں میں ہوتی ہے۔ (ترمذی، ابوداؤد)
گھوڑوں کی پیشانی کے بال اور ان کی ایال ودم نہ کاٹو
وعن عتبة بن عبد السلمي أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : لا تقصوا نواصي الخيل ولا معارفها ولا أذنابها فإن أذنابها مذابها ومعارفها دفاءها ونواصيها معقود فيها الخير . رواه أبو داود
اور حضرت عتبہ ابن عبد السلمی سے روایت ہے انہوں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ گھوڑوں کی پیشانی کے بال، ان کی ایال اور ان کی دموں کو نہ کاٹو کیونکہ ان کی دمیں، ان کے مور چھل ہیں ( کہ جن کو وہ ہلا ہلا کر مکھیوں اور کیڑوں کو اڑاتے ہیں) اور ان کی ایالیں ان کو گرمی پہنچانے کی چیز ہیں، تو ان کی پیشانی کے بالوں میں بھلائی بندھی ہوئی ہے۔ (ابو داؤد )
گھوڑوں کے بارے میں چند ہدایات
وعن أبي وهب الجشمي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ارتبطوا الخيل وامسحوا بنواصيها وأعجازها أو قال : كفالها وقلدوها ولا تقلدوها الأوتار . رواه أبو داود والنسائي
اور حضرت وہب جشمی کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ گھوڑوں کو باندھ کر رکھو، ان کی پیشانیوں اور ان کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا کرو۔ یا ( اعجازھا کی جگہ) اکمالھا فرمایا ( اور دونوں لفظوں کے ایک ہی معنی ہیں ( یعنی پیٹھ) ان کی گردن میں کنڈا ( پٹا) باندھو لیکن ان کی گردن میں کمان کی تانت نہ باندھو۔ ( ابوداؤد، و نسائی)
تشریح
باندھ رکھو یہ گھوڑوں کو جہاد کے لئے فربہ اور چاق وچوبند رکھنے سے کنایہ ہے! یعنی اس کے ذریعہ گویا یہ حکم دیا گیا ہے کہ گھوڑوں کی اچھی طرح دیکھ بھال رکھو اور ان کو خوب کھلاؤ پلاؤ تاکہ وہ موٹے تازے رہیں اور جہاد میں اچھی طرح کام آئیں۔ ہاتھ پھیرنے کا مقصد یہ ہے کہ ان کو گرد و غبار سے صاف ستھرا رکھا جائے اور ان کی فربہی معلوم ہوتی رہے نیز اس کے ذریعہ گھوڑوں کو انس و راحت بھی حاصل ہوتی ہے۔ زمانہ جاہلیت میں اہل عرب کا معمول تھا کہ وہ اپنے گھوڑوں کی گردنوں میں کمان کے تانت باندھ دیا کرتے تھے ان کا عقیدہ تھا کہ اس کی وجہ سے گھوڑے نظر بد سے محفوظ رہتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے تاکہ یہ واضح ہوجائے کہ یہ چیز تقدیر کو بدل نہیں سکتی۔ یا اس لئے منع فرمایا کہ تانت باندھنے سے ان کا گلا نہ گھٹے۔
اہل بیت رسول ﷺ کو تین مخصوص احکام
وعن ابن عباس قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم عبدا مأمورا ما اختصنا دون الناس بشيء إلا بثلاث : أمرنا أن نسبغ الوضوء وأن لا نأكل الصدقة وأن لا ننزي حمارا على فرس . رواه الترمذي والنسائي
اور حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ ایک مامور پر بندے تھے آپ ﷺ نے ہم کو ( یعنی اپنے اہل بیت کو) دوسرے لوگوں سے الگ کر کے تین باتوں کے علاوں اور کسی بات کا مخصوص طور پر حکم نہیں دیا اور وہ ( تین باتیں جن کا خاص طور پر اہل بیت کو حکم دیا) یہ ہیں کہ ١ ہم وضو کو پورا کریں ٢ ہم صدقہ کا مال نہ کھائیں ٣ ہم گھوڑیوں پر گدھے نہ چھوڑیں۔ ( ترمذی و نسائی)
تشریح
رسول کریم ﷺ ایک مامور بندے تھے کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کو اللہ کی طرف سے جس بات کا حکم ہوتا تھا وہی کرتے تھے اپنی طرف سے نہ کوئی قانون بناتے تھے اور نہ اپنی خواہش نفس کے تحت کوئی حکم دیتے تھے یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ کسی بھی طبقہ و جماعت یا کسی بھی شخص و خاندان کے لئے خواہ وہ آپ کے نزدیک کتنا ہی محبوب کیوں نہ ہو الگ سے کسی چیز کا حکم دے کر اس کو دوسرے لوگوں پر ترجیح نہیں دیتے تھے، یہاں تک کہ اہل بیت جو اخص واقرب تھے ان کے لئے بھی احکام میں کسی امتیاز وخصوصیت کو روا نہیں رکھتے تھے جیسا کہ حضرت ابن عباس نے وضاحت کی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ہم اہل بیت کو بھی کسی چیز کا مخصوص طور پر حکم نہیں دیا ہاں تین چیزیں ایسی ہیں جن کے بارے میں اہل بیت کو بھی خصوصی حکم دیا گیا۔ گھوڑیوں ( سے خچر پیدا کرنے کے لئے) پر گدھے چھوڑنے سے اس لئے منع فرمایا کہ اول تو اس سے نسل کو قطع کرنا لازم آتا ہے دوسرے یہ ایک اچھی چیز کے بدلے ایک گھٹیا چیز چاہنا ہے کیونکہ گھوڑے کے مقابلہ میں خچر ایک ادنیٰ جانور ہے جو نہ گھوڑے کی طرح کار آمد ہوتا ہے اور نہ جہاد وغیرہ کے کام آتا ہے، لہٰذا ایسا کرنا مکروہ ہے۔ اس موقع پر ایک سوال اٹھتا ہے کہ صدقے کا مال کھانے کا مسئلہ تو بالکل صاف ہے کہ اس سے صرف اہل بیت کو منع کیا گیا ہے باقی اس امت اس کے حکم میں داخل نہیں ہے لیکن باقی دو حکم ( یعنی وضور کو پورا کرنا اور گھوڑیوں پر گدھے نہ چھوڑنا) تو ایسے ہیں جن میں پوری امت داخل ہے کہ سارے ہی مسلمانوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وضو کو پورا کرو ( یعنی اچھی طرح) کریں اور اپنی گھوڑیوں پر گدھے نہ چھوڑیں پھر ان دونوں چیزوں کو صرف اہل بیت کے ساتھ مخصوص کرنا کیا معنی رکھتا ہے؟ جواب یہ ہے کہ اس سے مراد ان دونوں چیزوں کو اہل بیت پر واجب و لازم کرنا ہے، یا یہ کہ ان احکام کو اہل بیت کے حق میں زیادہ سے زیادہ اہمیت اور تاکید کے ساتھ نافذ کرنا مقصد ہے۔ یہ حدیث اپنے مفہوم کے اعتبار سے شیعوں کے اس نظریہ کی واضح تردید کرتی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اپنے اہل بیت کو کچھ ایسے مخصوص علوم سے نوازا تھا جن میں باقی امت کا کوئی حصہ نہیں تھا! اسی طرح وہ حدیث بھی شیعوں کے اس نظریہ کی تردید میں ایک مضبوط دلیل ہے۔ جو پیچھے گزر چکی ہے۔ اور جس میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بارے میں منقول ہے۔ (ہل عندکم شیئی لیس فی القرآن فقال والذی لفق الحبۃ وبرأ النسمۃ ما عندنا الا ما فی القرآن الا فہما یعطی الرجل فی کتابہ وما فی الصحیفۃ۔ الحدیث۔ ( جب حضرت علی ؓ سے یہ پوچھا گیا کہ) کیا آپ کے پاس ایسا کوئی علم ہے جو قرآن میں موجود نہیں ہے تو انہوں نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس نے دانہ کو چیرا اور جان کو پیدا کیا قرآن میں جو علوم ہیں ان کے علاوہ ہمارے پاس اور کچھ نہیں ہے ہاں مجھے بیشک کتاب اللہ کا وہ فہم ملا جو کسی انسان کو عطا ہوتا ہے ( اور میرے پاس کچھ) وہ چیزیں ( مسائل) ہیں جو اس صحیفہ میں لکھے ہوئے ہیں۔ آخر حدیث تک۔
گھوڑی پر گدھا چھوڑنے کی ممانعت
وعن علي رضي الله عنه قال : أهديت رسول الله صلى الله عليه و سلم بغلة فركبها فقال علي : لو حملنا الحمير على الخيل فكانت لنا مثل هذه ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إنما يفعل ذلك الذين لا يعلمون . رواه أبو داود والنسائي
اور حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ ( ایک موقع پر) رسول کریم ﷺ کی خدمت میں ایک خچر بطور ہدیہ پیش کیا گیا تو آپ ﷺ اس پر سوار ہوئے، حضرت علی نے عرض کیا کہ اگر ہم گھوڑیوں پر گدھے چھوڑیں تو ہمیں (بھی) ایسے خچر مل جائیں؟ رسول کریم ﷺ نے یہ ( سن کر) فرمایا کہ یہ کام وہ لوگ کرتے ہیں جو ناواقف ہوتے ہیں۔ ( ابوداؤد، نسائی)
تشریح
آنحضرت ﷺ کے ارشاد کا مطلب یہ تھا کہ یہ غیر دانشمندانہ کام تو وہی لوگ کرسکتے ہیں جو یہ نہیں جانتے کہ اس ( گھوڑیوں پر گدھے چھوڑنے) سے بہتر گھوڑی پر گھوڑا ہی چھوڑنا ہے کیونکہ جو فوائد گھوڑی سے اس کی نسل پیدا ہونے کی صورت میں حاصل ہوتے ہیں وہ اس کے پیٹ سے خچر پیدا ہونے سے حاصل نہیں ہوسکتے ہیں۔ یا یہ مراد ہے کہ یہ کام وہی نادان کرسکتے ہیں جو شریعت کے احکام سے واقف نہیں ہیں اور ان کو اس چیز کا راستہ نظر نہیں آتا جو ان کے حق میں اولیٰ اور بہتر ہے۔ اس حدیث میں گویا گھوڑی پر گدھا چھوڑنے کی ممانعت مذکور ہے اور یہ ممانعت نہی کراہت کے طور پر ہے۔
تلوار کو تھوڑی بہت چاندی سے مزین کرنا جائز ہے
وعن أنس قال : كانت قبيعة سيف رسول الله صلى الله عليه و سلم من فضة . رواه الترمذي وأبو داود والنسائي والدارمي (2/382) 3885 - [ 25 ] ( لم تتم دراسته ) وعن هود بن عبد الله بن سعد عن جده مزيدة قال : دخل رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم الفتح وعلى سيفه ذهب وفضة . رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريب
اور حضرت انس کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کی تلوار کے قبضے کی ٹوپی چاندی کی تھی۔ ( ترمذی، ابوداؤد، نسائی، دارمی)
تشریح
شرح السنۃ میں لکھا ہے کہ یہ حدیث اس پر دلالت کرتی ہے کہ تلوار کو تھوڑی بہت چاندی کے ساتھ مزین و آراستہ کرنا جائز ہے۔ یہی حکم پیٹی کا بھی ہے۔ البتہ ان میں سے کسی میں بھی سونے کے استعمال کی اجازت نہیں ہے۔ اور حضرت ہود ابن عبداللہ بن سعد اپنے دادا سے کہ جن کا نام مزیدہ تھا نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ فتح کے دن ( مکہ میں) داخل ہوئے تو اس وقت آپ کے پاس جو تلوار تھی اس پر سونے اور چاندی کا کام تھا۔ امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے کہا یہ حدیث غریب۔ تشریح اس حدیث کی بنیاد پر ہتھیار و اسلحہ جات میں سونے کے استعمال کو جائز قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ اس حدیث کی سند مضبوط نہیں ہے۔
جنگ میں حفاظت کے زیادہ سے زیادہ سامان استعمال کرنا توکل کے منافی نہیں ہے
وعن السائب بن يزيد : أن النبي صلى الله عليه و سلم كان عليه يوم أحد درعان قد ظاهر بينهما . رواه أبو داود وابن ماجه
اور حضرت سائب ابن یزید سے روایت ہے کہ غزوہ احد کے دن نبی کریم ﷺ ( کے جسم مبارک) پر دو زرہیں تھیں آپ ﷺ نے ایک دوسرے پر پہن رکھا تھا۔ ( ابوداؤد، ابن ماجہ)
تشریح
اس حدیث میں اس طرف اشارہ ہے کہ جنگ کے کار آمد زیادہ سے زیادہ سامان فراہم کرنا اور میدان جنگ میں اپنی حفاظت کے لئے حتی الوسعت زیادہ سے زیادہ چیزوں کو اختیار کرنا جائز ہے۔ اور یہ توکل کے منافی نہیں ہے۔
وعن ابن عباس قال : كانت راية نبي الله صلى الله عليه و سلم سوداء ولواؤه أبيض . رواه الترمذي وابن ماجه (2/383) 3888 - [ 28 ] ( لم تتم دراسته ) وعن موسى بن عبيدة مولى محمد بن القاسم قال : بعثني محمد بن القاسم إلى البراء بن عازب يسأله عن راية رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : كانت سوداء مربعة من نمرة . رواه أحمد والترمذي وأبو داود (2/383) 3889 - [ 29 ] ( لم تتم دراسته ) وعن جابر : أن النبي صلى الله عليه و سلم دخل مكة ولواؤه أبيض . رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه
اور حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کا بڑا جھنڈا سیاہ رنگ کا تھا اور چھوٹا سفید رنگ کا۔ ( ترمذی، ابن ماجہ) اور حضرت موسیٰ ابن عبیدہ جو حضرت محمد ابن قاسم ( تابعی) کے آزاد کردہ غلام تھے کہتے ہیں کہ ( ایک دن) حضرت محمد ابن قاسم نے مجھے حضرت براء ابن عازب ( صحبی) کے پاس بھیجا تاکہ یہ دریافت ہو سکے کہ رسول کریم ﷺ کا جھنڈا کیسا تھا۔ چناچہ حضرت براء نے فرمایا کہ ( آنحضرت ﷺ کا) جھنڈا سیاہ رنگ کا تھا ( اس کا کپڑا چوکور اور نمرہ کی طرح تھا۔ ( احمد، ترمذی، ابوداؤد)
تشریح
چونکہ جھنڈے کے کپڑے کو نمرہ کی طرح بیان کیا گیا ہے اس لئے سیاہ رنگ کا تھا سے مراد یہ ہے کہ اس کا اکثر حصہ سیاہ رنگ کا تھا جس کی وجہ سے وہ دور سے سیاہ ہی معلوم ہوتا تھا نہ کہ خالص سیاہ رنگ کا تھا۔ نمرہ اس کملی یا چادر کو کہتے ہیں جس میں سیاہ اور سفید دھاریاں اور خط ہوں۔ ویسے لغت میں نمر مشہور درندہ چیتے کو کہتے ہیں اسی لئے ایسے کپڑے کو چیتے سے تشبیہ دی ہے کہ اسی کھال پر سیاہ وسفیددھاریاں ہوتی ہیں۔ اور حضرت جابر کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ( فتح مکہ کے دن) مکہ میں داخل ہوئے تو اس وقت آپ ﷺ کے ساتھ سفید جھنڈا تھا۔ (ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ )
آنحضرت ﷺ کی نظر میں گھوڑوں کی قدر وقیمت
عن أنس قال : لم يكن شيء أحب إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم بعد النساء من الخيل . رواه النسائي
حضرت انس کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کی نظر میں عورتوں کے بعد ( جہاد کے مقاصد کے لئے) گھوڑوں سے زیادہ محبوب و پسندیدہ اور کوئی چیز نہیں ہوتی تھی۔ ( نسائی )
جنگ میں حقیقی طاقت حق تعالیٰ کی مدد ونصرت سے حاصل ہوتی ہے
وعن علي قال : كانت بيد رسول الله صلى الله عليه و سلم قوس عربية فرأى رجلا بيده قوس فارسية قال : ما هذه ؟ ألقها وعليكم بهذه وأشباهها ورماح القنا فإنها يؤيد الله لكم بها في الدين ويمكن لكم في البلاد . رواه ابن ماجه
اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کہتے ہیں ( کسی میدان میں یا ویسے ہی کسی موقع پر) رسول کریم ﷺ کے ہاتھ میں عربی کمان تھی، جب آپ ﷺ نے ایک شخص ( صحابی) کے ہاتھ میں فارسی ( ایرانی کمان دیکھی تو فرمایا کہ یہ کیا ہے؟ اس کو پھینک دو، تمہیں ایسی ( یعنی عربی) کمان رکھنی چاہئے۔ اور اسی طرح ( یعنی اس وضع کی) رکھنی چاہئے۔ نیز تمہیں کامل نیزے رکھنے چاہئیں، یقینا ان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ دین ( کو سر بلند رکھنے) میں تمہاری مدد کرے گا اور ( دشمنوں کے) شہروں میں تمہیں جما دے گا۔ ( ابن ماجہ)
تشریح
گویا ان صحابی نے جب یہ دیکھا ہوگا کہ فارسی ( ایرانی) کمان زیادہ مضبوط اور زیادہ سخت ہوتی ہے تو انہوں نے اس کمان کو عربی کمان پر ترجیح دی، نیز پھر انہوں نے یہ گمان کیا ہوگا کہ ایسی کمان جنگ میں بہت کار آمد ہوتی ہے اور دشمنوں کے شہروں کو فتح کرنے کا مضبوط ذریعہ ہے، چناچہ آنحضرت ﷺ نے ان پر واضح کیا کہ تمہارا جو خیال ہے وہ صحیح نہیں ہے بلکہ آلات حرب خواہ کسی قسم کے ہوں اور دیکھنے میں کتنے ہی مضبوط و عمدہ ہوں حقیقت میں میدان جنگ کی کامیابی کا ان پر انحصار نہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کی مرضی پر موقوف ہے کہ وہ جس کو چاہتا ہے اپنے دین کی سر بلندی کی جدوجہد میں مدد ونصرت دے کر کامیاب وکامران کرتا ہے۔ حقیقی مدد ونصرت اسی کی طرف سے اور اسی کی قوت وقدرت کے ساتھ ہوتی ہے، نہ تمہاری قوت و طاقت سے دین کی سر بلندی میں نصرت حاصل ہوتی ہے اور نہ محض تمہارے سازوسامان اور آلات حرب کی مضبوطی و عمدگی سے دشمنوں کے مقابلے پر مدد ملتی ہے۔