جہاد کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 123 · 91 hadiths · Page 4 of 5

3778Mishkaat-al-Masabih

شہید کی تمنا

وعن عبد الرحمن بن أبي عميرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ما من نفس مسلمة يقبضها ربها تحب أن ترجع إليكم وأن لها الدنيا وما فيها غير الشهيد قال ابن عميرة : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لأن أقتل في سبيل الله أحب إلي من أن يكون لي أهل الوبر والمدر . رواه النسائي

اور حضرت عبدالرحمن بن ابی عمیرہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا شہید کے علاوہ اور ایسا کوئی مسلمان شخص نہیں ہے جو اپنے پروردگار کی طرف سے روح قبض کئے جانے کے بعد اس بات کو پسند کرے کہ وہ لوٹ کر تمہارے پاس آئے اور دنیا وما فیہا کی چیزوں کو حاصل کرے (یعنی شہید حق تعالیٰ کے ہاں پہنچنے کے بعد جب شہادت کے عظیم مرتبہ کی سعادتوں اور عظمتوں کو دیکھتا ہے تو پروردگار سے اس خواہش کا اظہار کرتا ہے کہ وہ لوٹ کر دوبارہ دنیا میں آئے اور اللہ کی راہ میں پھر مارا جائے) حضرت عبدالرحمن بن ابی عمیرہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ اللہ کی قسم! میرا اللہ کی راہ میں مارا جانا میرے نزدیک اس چیز سے زیادہ پسندیدہ ہے کہ خیمے والے اور حویلیوں والے میرے مملوک و محکوم ہوں۔ (نسائی) تشریح خیمے والے سے جنگل میں اقامت پذیر لوگ مراد ہیں کیونکہ وہ خیموں میں رہا کرتے ہیں اور حویلی والے سے شہر وگاؤں یعنی آبادی میں رہنے والے لوگ مراد ہیں ان دونوں کے مجموعے سے پوری دنیا بھر کے لوگ مراد ہیں؟ اس ارشاد کا حاصل یہ ہے کہ اگر مجھے پوری دنیا کا امیر حاکم بنادیا جائے اور پھر دنیا بھر کے لوگ میری محکومی و رعیت میں آجائیں تو میں اس کے مقابلہ پر اس چیز کو زیادہ پسند کروں گا کہ مجھے جہاد میں جانے کا موقع مل جائے اور میں اللہ کی راہ میں اپنی جان قربان کر دوں۔

3779Mishkaat-al-Masabih

ہرمؤمن پر شہید کا اطلاق

وعن حسناء بنت معاوية قالت : حدثنا عمي قال : قلت للنبي صلى الله عليه و سلم : من في الجنة ؟ قال : النبي في الجنة والشهيد في الجنة والمولود في الجنة والوئيد في الجنة . رواه أبو داود

اور حضرت حسناء بنت معاویہ (ابن سلیم) کہتی ہیں کہ مجھ سے میرے چچا حضرت اسلم ابن سلیم نے بیان کیا (کہ ایک دن) میں نے نبی کریم ﷺ سے دریافت کیا کہ جنت میں کون کون لوگ ہوں گے؟ تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جنت میں نبی ہوں گے شہید ہوں گے، جنت میں بچے ہوں گے اور جنت میں وہ ہوں گے جن کو جیتے جی گاڑ دیا گیا ہے۔ (ابو داؤد ) تشریح یہاں شہید سے مراد صرف وہ شخص نہیں ہے جو اللہ کی راہ میں مارا گیا ہو بلکہ مؤمن مراد ہے کہ خواہ وہ حقیقتًہ شہید ہو یا حکمًا شہید ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی اس آیت میں ایمان لانے والوں پر شہید کا اطلاق کیا ہے۔ (والذین امنوا باللہ ورسولہ اولئک ھم الصدیقون والشہداء عند ربہم۔ اور جو لوگ اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے پروردگار کے نزدیک صدیق اور شہداء ہیں اور جنت میں بچے ہوں گے یعنی بچہ خواہ مؤمن کا ہو یا کافر کا جنت میں داخل کیا جائے گا اسی طرح وہ کچا بچہ بھی جنت ہی میں داخل کیا جائے گا جو اسقاط حمل کی صورت میں ختم ہوگیا ہے۔ جن کو جیتے جی گاڑ دیا گیا ہے یعنی جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ اپنی زندہ لڑکیوں کو زمین میں گاڑ دیا کرتے تھے۔ بلکہ بعض لوگ معاشی تنگیوں اور دوسری پریشانیوں کے وقت اپنے زندہ لڑکوں کو بھی گاڑ دیتے تھے تو ایسے لڑکے اور لڑکیاں جنت میں داخل کی جائیں گی۔ حدیث میں بطور خاص صرف چار طرح کے لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے تو شاید اول الذکر دونوں کی تخصیص ان کے فضل وشرف کے اعتبار سے ہے اور آخر الذکر دونوں کی تخصیص اس سبب سے ہے کہ یہ کسی کسب وعمل کے بغیر جنت میں داخل ہونگے۔

3780Mishkaat-al-Masabih

جہاد میں مال وجان دونوں سے شرکت کرنے والوں کی فضیلت

وعن علي وأبي الدرداء وأبي هريرة وأبي أمامة وعبد الله بن عمر وعبد الله بن عمرو وجابر بن عبد الله وعمران بن حصين رضي الله عنهم أجمعين كلهم يحدث عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قال : من أرسل نفقة في سبيل الله وأقام في بيته فله بكل درهم سبعمائة درهم ومن غزا بنفسه في سبيل الله وأنفق في وجهه ذلك فله بكل درهم سبعمائة ألف درهم . ثم تلا هذه الآية : ( والله يضاعف لمن يشاء ) رواه ابن ماجه

اور حضرت علی، حضرت ابودرادء حضرت ابوہریرہ، حضرت ابوامامہ، حضرت عبداللہ ابن عمر، حضرت جابر ابن عبداللہ اور حضرت عمران ابن حصین ؓ یہ سب رسول کریم ﷺ سے یہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے اللہ کی راہ میں جہاد میں روپیہ پیسہ اور سامان و اسباب بھیجا اور خود اپنے گھر میں بیٹھا رہا یعنی جہاد میں خود شریک نہیں ہوا بلکہ روپے پیسے اور سامان سے جہاد میں مدد کی تو اس کو ہر درہم کے بدلے میں سات سو درہم کا ثواب ملے گا اور جس شخص نے بنفس خود جہاد بھی کیا اور جہاد میں روپیہ پیسہ اور مال بھی خرچ کیا یعنی لڑائی میں خود شریک بھی ہوا اور مالی مدد بھی پہنچائی تو اس کو ہر درہم کے بدلے سات لاکھ درہم کا ثواب ملے گا کیونکہ اس نے اپنے نفس کو بھی مشقت ودکھ میں مبتلا کیا اور اپنا مال بھی خرچ کیا پھر آنحضرت ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی ( وَاللّٰهُ يُضٰعِفُ لِمَنْ يَّشَا ءُ ) 2۔ البقرۃ 261) یعنی اللہ تعالیٰ جس کے چاہتا ہے اس کے ثواب میں اور اضافہ کرتا ہے۔ (ابن ماجہ) تشریح آیت تلاوت فرما کر گویا آپ ﷺ اس طرف اشارہ کیا کہ یہاں ثواب کی جو مقدار بیان کی گئی ہے وہ کوئی آخری حد نہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی مرضی پر موقوف ہے کہ وہ چاہے گا تو اس مقدار سے بھی زیادہ اور کہیں زیادہ ثواب عطا فرمائے گا۔

3781Mishkaat-al-Masabih

شہداء کی قسمیں

وعن فضالة بن عبيد قال : سمعت عمر بن الخطاب يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : الشهداء أربعة : رجل مؤمن جيد الإيمان لقي العدو فصدق الله حتى قتل فذلك الذي يرفع الناس إليه أعينهم يوم القيامة هكذا ورفع رأسه حتى سقطت قلنسوته فما أدري أقلنسوة عمر أراد أم قلنسوة النبي صلى الله عليه و سلم ؟ قال : ورجل مؤمن جيد الإيمان لقي العدو كأنما ضرب جلده بشوك طلح من الجبن أتاه سهم غرب فقتله فهو في الدرجة الثانية ورجل مؤمن خلط عملا صالحا وآخر سيئا لقي العدو فصدق الله حتى قتل فذلك في الدرجة الثالثة ورجل مؤمن أسرف على نفسه لقي العدو فصدق الله حتى قتل فذاك في الدرجة الرابعة . رواه الترمذي وقال : هذا حديث حسن غريب

اور حضرت فضالہ ابن عبید کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن خطاب سے سنا وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ شہید چار طرح کے ہوتے ہیں ایک تو وہ شخص جو کامل الایمان مسلمان تھا اور جب دشمن سے اس کی مڈبھیڑ ہوئی تو اس نے اللہ تعالیٰ کو سچ کر دیکھایا یہاں تک کے لڑتے لڑتے مارا گیا تو یہ وہ شخص ہے جس کی طرف قیامت کے دن لوگ اس طرح سر اٹھا اٹھا کر دیکھیں گے یہ کہہ کر انہوں نے اپنا سر اٹھایا یہاں تک کہ ان کی ٹوپی گر پڑی حدیث کے وہ راوی جنہوں نے اس روایت کو حضرت فضالہ سے نقل کیا ہے کہتے ہیں کہ مجھے نہیں معلوم کہ حضرت فضالہ کی مراد کس کی ٹوپی تھی یعنی انہوں نے واضح نہیں کیا کہ حضرت عمر نے حدیث بیان کرتے وقت آنحضرت ﷺ کی طرح سر اٹھا کر دکھلایا تو ان کی ٹوپی گری تھی یا انہوں نے روایت حدیث کے وقت یہ بتلایا نبی کریم ﷺ کی ٹوپی گری تھی بہرکیف حاصل یہ کہ قیامت کے دن یہ شخص اتنا عالی مرتبہ ہوگا کہ لوگ اس کی طرف اچک اچک کر دیکھیں گے پھر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اور دوسرا وہ شخص جو جیدالایمان مؤمن تھا اور جب دشمن سے اس کی مڈبھیڑ ہوئی تو وہ اپنی بزدلی کی وجہ سے ایسا نظر آنے لگا جیسے اس کے بدن میں خار دار درخت کے کانٹے ہوں (یعنی یہ اس شخص کے خوف کی وجہ سے تھر تھر کانپنے اور دہشت سے اس کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہوجانے کی کیفیت کو کنایۃً بیان کیا گیا ہے) اور پھر ایک تیر آ کر اس کو لگا جس کے چلانے والا نامعلوم تھا اور اس نے اس کو موت کی آغوش میں پہنچا دیا تو یہ شخص پہلے شخص کی بہ نسبت دوسرے درجہ کا ہے اور تیسرا شخص وہ مؤمن تھا جس نے کچھ اچھے اور کچھ برے اعمال کئے تھے اور جب دشمن سے اس کی مڈبھیڑ ہوئی تو اللہ تعالیٰ کو سچ کر دکھایا یہاں تک کہ لڑتے لڑتے مارا گیا تو یہ شخص تیسرے درجہ کا ہے اور چوتھا شخص وہ مسلمان ہے جس نے اپنی جان پر بہت اسراف کیا تھا (یعنی جس نے بہت زیادہ گناہ کئے تھے) اور جب دشمن سے اس کی مڈبھیڑ ہوئی تو اس نے اللہ کو سچ کر کے دکھایا یہاں تک کہ لڑتے لڑتے مارا گیا تو یہ شخص چوتھے درجے کا ہے۔ امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ تشریح اس نے اللہ تعالیٰ کو سچ کر دکھایا کے بارے میں واضح ہو کہ اگر لفظ صدق میں دال پر تشدید نہ ہو تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اس شخص نے اپنی شجاعت وبہادری کے ذریعہ اس چیز کو سچا کیا جس کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر عائد ہوئی تھی یعنی اللہ کی راہ میں ثابت قدم رہنا اور دشمن کو پیٹھ نہ دکھانا اور اگر دال پر تشدید ہو تو اس صورت میں معنی ہونگے کہ اس شخص نے اپنے عمل اور اپنی شجاعت وبہادری کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کو راست گو ثابت کیا اور اس کے قول کی تصدیق بایں طور کہ اس نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور اس راہ کی تمام مشقتوں، تکلیفوں اور مصائب کو برداشت کیا اور حق تعالیٰ کی طرف سے عطا ہونے والے اجر وثواب کا امیدوار ہوا۔ چناچہ حق تعالیٰ نے جو مجاہدین اسلام کی یہ تعریف بیان کی ہے کہ وہ اللہ کی راہ میں پیش آنے والی ہر مصیبت و تکلیف پر صبر کرتے ہیں اور اپنے پروردگار کی طرف سے اجر وثواب کے طلب گار ہوتے ہیں تو جب وہ شخص لڑا اور طلب ثواب کی خاطر صبر و استقامت کی راہ اختیار کی تو گویا اس نے اپنے اس عمل کے ذریعہ حق تعالیٰ کی بات کی تصدیق کی۔ حدیث میں شہداء کی جو قسمیں بیان کی ہیں اس کا حاصل یہ ہے کہ جس مسلمان نے اللہ کی راہ میں شہادت پائی ہے وہ یا تو متقی و پرہیزگار بھی تھا اور شجاع وبہادر بھی اور یہ پہلی قسم ہے یا وہ متقی و پرہیزگار تو تھا لیکن شجاع وبہادر نہیں تھا یہ دوسری قسم ہے اور یا وہ شجاع و بہادر تو تھا مگر متقی و پرہیزگار نہیں تھا پھر اس کی بھی دو قسمیں ہوں گی ایک یہ کہ یا تو وہ ایسا غیر متقی وغیر پرہیزگار تھا کہ اس کے اعمال محفوظ تھے۔ لیکن زندگی میں اس سے نیک عمل بھی صادر ہوئے تھے اور برے عمل بھی سرزد ہوئے تھے لیکن اس کے برے اعمال اتنے زیادہ نہیں تھے کہ اس کو فاسق ومسرف کہا گیا ہو۔ اور یہ حدیث میں بیان کی گئی تیسری قسم ہے اور یا وہ ایسا غیر پرہیزگار تھا کہ اس کی بدعملیاں اس زندگی میں غالب رہی تھیں یعنی اس نے اتنے زیاد برے اعمال کئے تھے کہ فاسق ومسرف مانا گیا تھا اور یہ چوتھی قسم ہے لہٰذا دوسری قسم کے علاوہ اور ساری قسموں میں اللہ کی راہ کی تصدیق حاصل ہوتی ہے نیز اس وضاحت سے یہ معلوم ہوا کہ اللہ کی تصدیق کرنے سے صبر اور طلب ثواب کے وعدے کی تصدیق مراد ہے کیونکہ وہ دوسری قسم میں بھی حاصل ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود اس دوسری قسم کے شہید کے بارے میں یہ نہیں فرمایا گیا کہ اس نے اللہ تعالیٰ کو سچ کر دکھایا۔

3782Mishkaat-al-Masabih

منافق اگر جہاد میں شہید بھی ہوجائے تو جنت کا حقدار نہیں ہوگا

وعن عتبة بن عبد السلمي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : القتلى ثلاثة : مؤمن جاهد نفسه وماله في سبيل الله فإذا لقي العدو قاتل حتى يقتل قال النبي صلى الله عليه و سلم فيه : فذلك الشهيد الممتحن في خيمة الله تحت عرشه لا يفضله النبيون إلا بدرجة النبوة ومؤمن خلط عملا صالحا وآخر سيئا جاهد بنفسه وماله في سبيل الله إذا لقي العدو قاتل حتى يقتل قال النبي صلى الله عليه و سلم فيه : ممصمصة محت ذنوبه وخطاياه إن السيف محاء للخطايا وأدخل من أي أبواب الجنة شاء ومنافق جاهد بنفسه وماله فإذا لقي العدو قاتل حتى يقتل فذاك في النار إن السيف لا يمحو النفاق . رواه الدارمي

اور حضرت عتبہ ابن عبدالسلمی کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو لوگ جہاد میں مارے جاتے ہیں وہ تین طرح کے ہوتے ہیں ایک تو وہ کامل مؤمن جس نے اللہ کی راہ میں اپنی جان اور اپنے مال کے ذریعہ جہاد کیا چناچہ جب دشمن سے اس کی مڈبھیڑ ہوئی (تو وہ پوری بہادری اور شجاعت) کے ساتھ لڑا یہاں تک کہ مارا گیا نبی کریم ﷺ نے اس شخص کے بارے میں فرمایا کہ یہ وہ شہید ہے جس کو جہاد کی مشقتوں اور مصائب پر صبر کرنے کی آزمائش میں مبتلا کیا گیا یہ شہید آخرت میں عرش الہٰی کے نیچے اللہ کے خیمے میں ہوگا یعنی اس کو حق تعالیٰ کا کمال قرب اور اس کے حضور میں درجہ خاص حاصل ہوگا اور انبیاء اس سے صرف درجہ نبوت میں زیادہ ہوں گے اور دوسرے شخص وہ مؤمن ہے جس کے اعمال ملے جلے ہوں کہ اس نے کچھ نیک عمل کئے ہوں اور کچھ برے عمل چناچہ اس نے اپنی جان اور اپنے مال کے ذریعہ اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور جب دشمن سے اس کی مڈبھیڑ ہوئی تو پوری بہادری اور شجاعت کے ساتھ لڑا یہاں تک کہ مارا گیا نبی کریم ﷺ نے اس شخص کے بارے میں فرمایا کہ شہادت یا خصلت، پاک کرنے والی ہے کہ اس کے گناہوں اور خطاؤں کو مٹاتی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ تلوار خطاؤں کو بہت زیادہ مٹانے والی ہے یہ وہ شہید ہے کہ جس دروازے سے جانا چاہے گا جنت میں داخل کیا جائے گا اور تیسرا شخص منافق ہے کہ ( اگرچہ) اس نے بھی اپنی جان اور اپنے مال کے ذریعہ جہاد کیا اور جب دشمن سے اس کی مڈبھیڑ ہوئی تو (خوب) لڑا یہاں تک کہ مارا گیا (لیکن) یہ شخص دوزخ میں جائے گا کیونکہ تلوار نفاق کو نہیں مٹاتی۔ (دارمی )

3783Mishkaat-al-Masabih

جہاد میں پاسبانی کی خدمت انجام دینا بد عملیوں کا کفارہ اور نجات ابدی کا ذریعہ ہے

وعن ابن عائذ قال : خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم في جنازة رجل فلما وضع قال عمر بن الخطاب رضي الله عنه : لا تصل عليه يا رسول الله فإنه رجل فاجر فالتفت رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى الناس فقال : هل رآه أحد منكم على عمل الإسلام ؟ فقال رجل : نعم يا رسول الله حرس ليلة في سبيل الله فصلى عليه رسول الله صلى الله عليه و سلم وحثا عليه التراب وقال : أصحابك يظنون أنك من أهل النار وأنا أشهد أنك من أهل الجنة وقال : يا عمر إنك لا تسأل عن أعمال الناس ولكن تسأل عن الفطرة . رواه البيهقي في شعب الإيمان

اور حضرت ابن عائذ کہتے ہیں کہ (ایک دن) رسول کریم ﷺ ایک شخص کے جنازے کے ساتھ چلے تاکہ اس کی نماز پڑھیں جب جنازہ رکھا گیا تو حضرت عمر ابن خطاب نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ اس جنازے کی نماز نہ پڑھئے کیونکہ یہ ایک فاسق شخص تھا (یہ سن کر) رسول کریم ﷺ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ کیا تم میں سے کسی شخص نے اس کو اسلام کا کوئی کام کرتے دیکھا ہے؟ (یعنی اگر تم میں سے کسی نے اس کو اپنی زندگی میں کوئی ایسا عمل کرتے ہوئے دیکھا ہے جو حقیقی اسلام پر دلالت کرے تو وہ ہمیں بتائے) ایک شخص نے عرض کیا ہاں، یا رسول اللہ! اس شخص نے ایک رات اللہ کی راہ یعنی جہاد میں پاسبانی کی خدمت انجام دی تھی۔ (یہ سن کر ) رسول کریم ﷺ نے اس کا جنازہ کی نماز پڑھی اور (تدفین کے وقت اس کی قبر پر ) مٹی ڈالی اور (گویا میت کو مخاطب کر کے) فرمایا کہ تیرے ساتھیوں کا تو یہ گمان ہے کہ تو دوزخی ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تو جنتی ہے اور پھر حضرت عمر سے فرمایا عمر! تم سے لوگوں کے اعمال کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا بلکہ تم سے دین اسلام کی بابت پوچھا جائے گا۔ (اس روایت کو بہیقی نے شعب الایمان میں نقل کیا ہے ) تشریح بلکہ تم سے دین اسلام کی بابت پوچھا جائے گا یعنی اس چیز کے بارے میں پوچھا جائے گا جو شعار دین اور علامات یقین میں سے ہونے کی وجہ سے اسلام پر دلالت کرے۔ اس ارشاد کا مقصد دراصل حضرت عمر کو اس جرات سے باز رکھنا تھا جو انہوں نے اس میت کے فسق کا تذکرہ کر کے کی تھی اور وہ ایک ناپسندیدہ چیز ہے چناچہ ان الفاظ کے ذریعہ گویا آنحضرت ﷺ نے یہ واضح کیا کہ کسی مسلمان کی محض ظاہر زندگی اور اس کے اعمال کو دیکھ کر اس کی اخروی حیثیت کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہئے بلکہ اس چیز کو معیار بنانا چاہئے جو اس کے دین واسلام پر کامل یقین و اعتقاد کی غمازی کرے اور یہ ثابت کرے کہ اس کے اصل ایمان میں کوئی کھوٹ اور اس کے بنیادی عقائد میں کوئی کجی نہیں ہے جہاں تک اعمال کا تعلق ہے تو اللہ کی ذات بڑی بےنیاز ہے اور وہ اپنے بندوں پر بہت زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ طیبی نے حدیث کے مذکورہ جملہ کی وضاحت یہ کی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت عمر کو یہ متنبہ کیا کہ عمر! تمہیں اس موقع پر میت کے برے اعمال اور اس کے ظاہری فسق کا ذکر نہیں کرنا چاہئے بلکہ تمہیں یہ چاہئے کہ تم اس کے نیک اعمال اور اس کی اچھی باتوں کو سامنے لاؤ جیسا کہ ایک جگہ یوں فرمایا گیا ہے کہ (اذکرو اموتاکم بالخیر)۔ تم اپنے مرے ہوئے لوگوں کا تذکرہ بھلائی کے ساتھ کرو۔ نیز حضرت عمر کو ان کے اس اقدام و جرات سے روکنا مقصود تھا جس کا انہوں نے اس موقع پر مظاہرہ کیا تھا۔ یعنی اس کے فسق کا ذکر و اظہار کیونکہ کسی انسان کی اخروی فلاح اور ابدی نجات کا دارومدار اصل میں فطرت یعنی اسلام اور اس کے عقائد پر ہے، جب کہ اس شخص نے ایک ایسا عمل بھی کیا تھا۔ جو اعمال اسلام میں سے ہے اور اس کے مسلمان ہونے کو ثابت کرنے کے لئے تنہا وہی عمل کافی ہے۔

3784Mishkaat-al-Masabih

جہاد کے لئے بقدر استطاعت، قوت طاقت فراہم کرنیکا حکم

عن عقبة بن عامر قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو على المنبر يقول : ( وأعدوا له ما استطعتم من قوة ) ألا إن القوة الرمي ألا إن القوة الرمي ألا إن القوة الرمي ) رواه مسلم

حضرت عقبہ ابن عامر کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اور تم کافروں سے جنگ کرنے کے لئے اپنی طاقت وقوت کی جو (بھی) چیز تیار و فراہم کرسکتے ہو کرو۔ یاد رکھو! تیر اندازی قوت ہے۔ (مسلم ) تشریح تیر اندازی قوت ہے کے ذریعہ اس طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ قرآن کریم میں یہ جو حکم دیا گیا ہے کہ آیت (وَاَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْ تَ طَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ ) 8۔ الانفال 60) یعنی تم کفار سے جنگ کرنے کے لئے اپنی طاقت وقوت کی جو بھی چیز تیار وفراہم کرسکتے ہو کرو، تو اس آیت میں قوت سے مراد تیر اندازی ہے۔ اور بیضاوی وغیرہ نے اس آیت کی تفسیر میں یہ کہا ہے کہ قوت سے مراد ہر وہ چیز جس کے ذریعہ انسان لڑائی میں طاقت وقوت حاصل کرسکتا ہے! اس صورت میں کہا جائے گا کہ آنحضرت ﷺ کا قوت سے تیر اندازی مراد لینا شاید اس بناء پر ہے کہ اس زمانہ میں اور چیزوں کی بہ نسبت یہ چیز یعنی تیر اندازی سب سے زیادہ طاقت وقوت کا ذریعہ بھی تھی اور سہل العمل بھی۔

3785Mishkaat-al-Masabih

دشمن جس چیز کو اپنی طاقت کا ذریعہ بنائے تم بھی اس میں مہارت حاصل کرو

وعنه قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ستفتح عليكم الروم ويكفيكم الله فلا يعجز أحدكم أن يلهو بأسهمه . رواه مسلم

اور حضرت عقبہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ عنقریب تمہارے لئے روم کو فتح کردیا جائے اور اللہ تعالیٰ تمہیں اہل روم کی شرانگیزیوں سے کفایت کرے لہٰذا خبردار! تم میں سے کوئی شخص اپنے تیروں کے ساتھ کھیلنے میں سستی نہ کرے۔ (مسلم) تشریح اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ اس زمانے میں روم والے عام طور پر تیر اندازی ہی کے ذریعہ جنگ کرتے ہیں اور چونکہ تمہیں ان کے ساتھ جنگ کرنی ہے اس لئے ضروری ہے کہ تم لوگ تیر اندازی کو اپنا مشغلہ بنا لو اور اس کی مشق کے ذریعہ اس کے گر اور کمالات سیکھتے رہو تاکہ تم ان سے جنگ کرنے پر قادر ہو سکو اور اللہ تمہیں ان سے مڈبھیڑ کے وقت اپنی مدد ونصرت کے ساتھ رکھے۔ یا آنحضرت ﷺ کی یہ مراد تھی کہ تیر اندازی کی مشق کو ترک نہ کرو بلکہ جنگ میں فتح کے بعد بھی اس کا مشغلہ جاری رکھو اور اس بات پر غرور اور اطمینان کر کے نہ بیٹھ جاؤ کہ اب تو روم فتح ہوگیا ہے اس مشغلہ کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہ گئی کیونکہ تیر اندازی کی ضرورت ہمیشہ اور ہر جنگ کے وقت پڑنے والی ہے۔ آنحضرت ﷺ نے یہ ہدایت پیش بندی کے طور پر دی تھی، چناچہ اس پر پوری طرح عمل کیا گیا اگرچہ اہل روم کے قتال کے موقع پر اس کی ضرورت پیش نہیں آئی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو روم پر بڑی آسانی کے ساتھ فتح عطا فرما دی تھی۔ تیر اندازی کی مشق کو لہو یعنی کھیل سے اس لئے تعبیر کیا گیا ہے کہ کسی بھی چیز کی مشق صورت کے اعتبار سے کھیل ہی کے درجے کی چیز ہوتی ہے دوسرے اس کے ذریعہ لوگوں کو تیر اندازی مشق کی ترغیب دلانا مقصود تھا کہ کسی چیز پر کھیل کا نام آجائے تو اس کی طرف جلدی مائل ہوجانا انسانی خصلت میں داخل ہے۔

3786Mishkaat-al-Masabih

تیر اندازی کی اہمیت

وعنه قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من علم الرمي ثم تركه فليس منا أو قد عصى . رواه مسلم

اور حضرت عقبہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس شخص نے تیراندازی سیکھی اور پھر اس کو چھوڑ دیا تو وہ ہم میں سے نہیں ہے یعنی ہمارے طریقہ پر چلنے والوں میں شامل نہیں ہے۔ یا پھر یہ کہ اس نے نافرمانی کی۔ (مسلم) تشریح وہ ہم میں سے نہیں ہے کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہم سے قریب نہیں ہے اور ایک ایسے شخص کی مانند ہے جس کا شمار ہمارے زمرے میں نہیں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایک تو یہ کہ تیر اندازی سیکھے ہی نہیں لیکن اس کو سیکھ کر پھر چھوڑ دینا نہ سیکھنے کی بہ نسبت کہیں زیادہ برا ہے کیونکہ جس شخص نے تیر اندازی نہیں سیکھی وہ تو گویا آپ ﷺ کے زمرے میں داخل ہی نہیں ہوا لیکن یہ تو وہ شخص ہے جو آپ ﷺ کے زمرے میں داخل ہو اور پھر نکل گیا گویا اس نے اس کام میں کوئی نقصان دیکھا یا اس کو کوئی برائی محسوس ہوئی اور یا اس نے ایسا استہزاء کے طور پر کیا اور ظاہر ہے کہ یہ سب چیزیں ایک بڑی نعمت کا کفران کرنے کا مرادف ہیں۔

3787Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کی طرف سے تیر اندازی کی عملی ترغیب

وعن سلمة بن الأكوع قال : خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم على قوم من أسلم يتناضلون بالسوق فقال : ارموا بني إسماعيل فإن أباكم كان راميا وأنا مع بني فلان لأحد الفريقين فأمسكوا بأيديهم فقال : ما لكم ؟ قالوا : وكيف نرمي وأنت مع بني فلان ؟ قال : ارموا وأنا معكم كلكم . رواه البخاري

اور حضرت سلمہ ابن اکوع کہتے ہیں کہ (ایک دن) رسول کریم ﷺ بنی اسلم کے ایک قبیلہ میں تشریف لائے اور وہ لوگ اس وقت بازار میں آپس میں تیراندازی (کی مشق) کررہے تھے۔ آنحضرت ﷺ نے ان کو اس حالت میں دیکھا تو بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ اے او لاد اسماعیل (یعنی اے عربو ) تیر اندازی کرو، کیونکہ تمہارے باپ (حضرت اسماعیل (علیہ السلام) تیر انداز تھے۔ اور میں (بھی) فلاں قبیلے کے ساتھ ہوں (یعنی اس وقت بنی اسلم کے جو دو فریق آپس میں تیر اندازی کی مشق کر رہے تھے آپ ﷺ نے ان میں ایک کا نام لے کر فرمایا کہ اس مشق میں اس فریق کی طرف ہوں) لیکن دوسرے فریق نے اپنے ہاتھ روک لئے (یعنی جب آنحضرت ﷺ ایک فریق کی طرف ہوگئے تو مقابل فریق نے تیر اندازی سے اپنے ہاتھ کھینچ لئے ) آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ تمہیں کیا ہوا؟ یعنی تم نے تیر پھینکنے کیوں بند کردیئے؟ انہوں نے کہا کہ ہم اس صورت میں کیسے تیر اندازی کرسکتے ہیں جب کہ آپ فلاں (فریق) کے ساتھ ہیں یعنی ہمیں یہ گوارا نہیں ہے کہ آپ ﷺ ہمیں چھوڑ کر دوسرے فریق کی طرف ہوجائیں آنحضرت ﷺ نے فرمایا (اچھا) تم تیر اندازی کرو میں تم سب کے ساتھ ہوں۔ (بخاری )

3788Mishkaat-al-Masabih

حضرت ابوطلحہ کی تیر اندازی

وعن أنس قال : كان أبو طلحة يتترس مع النبي صلى الله عليه و سلم بترس واحد وكان أبو طلحة حسن الرمي فكان إذا رمى تشرف النبي صلى الله عليه و سلم فينظر إلى موضع نبله . رواه البخاري

اور حضرت انس کہتے ہیں کہ ابوطلحہ (میدان جنگ میں) ایک ڈھال کے ذریعہ نبی کریم ﷺ کا بچاؤ کر رہے تھے ابوطلحہ ایک بہترین تیر انداز تھے (وہ دشمنوں پر بڑی مہارت اور چابک دستی کے ساتھ تیر اندازی بھی کر رہے تھے اور آنحضرت ﷺ کی حفاظت بھی) جب وہ تیر پھینکتے تو نبی کریم ﷺ جھانک کر دیکھتے کہ تیر کہاں پڑا ہے اور کس کو لگا ہے۔ (بخاری )

3789Mishkaat-al-Masabih

گھوڑوں کی فضیلت

وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( البركة في نواصي الخيل ) (2/378) 3867 - [ 7 ] ( صحيح ) وعن جرير بن عبد الله قال : رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم يلوي ناصية فرس بأصبعه ويقول : الخيل معقود بنواصيها الخير إلى يوم القيامة : الأجر والغنيمة . رواه مسلم (2/379) 3868 - [ 8 ] ( صحيح ) وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من احتبس فرسا في سبيل الله إيمانا وتصديقا بوعده فإن شبعه وريه وروثه وبوله في ميزانه يوم القيامة . رواه البخاري

اور حضرت انس کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا گھوڑوں کی پیشانیوں میں برکت ہے۔ ( بخاری ومسلم) تشریح پیشانی سے مراد ذات ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے گھوڑوں میں ایک خاص قسم کی برکت رکھی ہے کیونکہ گھوڑوں کے ذریعہ جہاد کیا جاتا ہے جس میں دنیا وآخرت کی خیر و بھلائی ہے۔ اور حضرت جریر ابن عبداللہ بجلی کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ ایک گھوڑے کی پیشانی کے بالوں کو اپنی انگلی سے بل دیتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے کہ گھوڑے (وہ جانور ہیں) جن کی پیشانیوں میں قیامت تک کے لئے خیروبھلائی بندھی ہوئی ہے کیونکہ گھوڑوں کے ذریعہ جہاد کے کرنے کی سعادت حاصل ہوتی ہے جس میں دنیا کا مال غنیمت حاصل ہوتا ہے۔ (مسلم )۔ اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص نے اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے اور اس کے وعدے کو سچ جاننے کی وجہ سے اللہ کی راہ میں (کام لینے کے لئے اپنے گھر) گھوڑا باندھا تو اس گھوڑے کی سیری وسیرابی (یعنی اس نے دنیا میں جو کچھ کھایا اور پیا ہے وہ) اور اس کی لید اور اس کا پیشاب قیامت کے دن اس شخص کے اعمال کی ترازو میں تولے جائیں گے۔ (بخاری) تشریح اللہ پر ایمان لانے اور اس کے وعدے کو سچ جاننے کی وجہ سے کا مطلب یہ ہے کہ اس نے جہاد میں جانے اور دشمنوں سے لڑائی کے لئے جو گھوڑا اپنے ہاں باندھا ہو اس میں اس کی نیت محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے حصول اور اس کے حکم کی فرمانبرداری کی ہو اور اللہ تعالیٰ نے مجاہدین کے لئے جس عظیم اجرت وثواب کا وعدہ کیا ہے اس کی طلب گاری کی خاطر ہو۔ سیری اور سیرابی سے مراد وہ چیزیں ہیں جن سے جانور کا پیٹ بھرتا ہے اور سیراب ہوتا ہے یعنی گھاس، دانہ، پانی وغیرہ لہٰذا یہ ساری چیزیں بھی ثواب ملنے کے اعتبار سے اس شخص کے نامہ اعمال میں لکھی جائیں گی کہ قیامت کے دن یہ چیزیں ثواب کی شکل میں اس کو حاصل ہوں گی اور اس کے میزان اعمال میں تولی جائیں گی۔

3790Mishkaat-al-Masabih

اشکل گھوڑانا پسندیدہ

وعنه قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يكره الشكال في الخيل والشكال : أن يكون الفرس في رجله اليمنى بياض وفي يده اليسرى أو في يده اليمنى ورجله اليسرى . رواه مسلم

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے کہ رسول کریم ﷺ گھوڑے میں شکال کو ناپسند کرتے تھے اور شکال یہ ہے کہ گھوڑے کے دائیں پاؤں اور بائیں ہاتھ پر سفیدی ہو یا دائیں ہاتھ اور بائیں پاؤں پر سفیدی ہو۔ (مسلم) تشریح راوی نے تو شکال کی وضاحت یہ کی ہے کہ گھوڑا جس کے ایک ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں پر سفیدی ہو لیکن صاحب قاموس اور دوسرے تمام اہل نعت کے نزدیک گھوڑے میں شکال کا مطلب یہ ہے کہ اس گھوڑے کے تین پاؤں تو سفید ہوں اور ایک پاؤں باقی تمام بدن کا ہم رنگ ہو یا اس کے برعکس ہو یعنی ایک پاؤں سفید ہو اور تین پاؤں بدن کے ہم رنگ ہوں۔ اصل میں شکل لغت میں اس رسی کو کہتے ہیں کہ جس پر چوپائے کے پیر باندھے جاتے ہیں۔ لہٰذا اس طرح کے گھوڑے کو اس کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے اور آنحضرت ﷺ ایسے گھوڑے کو از راہ تفاول کے ناپسند فرماتے تھے کہ وہ گھوڑا گویا بصورت شکول ہے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ آنحضرت ﷺ کو تجربہ سے یہ معلوم ہوا ہے کہ اس کا جنس کا گھوڑا اصیل نہیں ہوتا۔ بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ اگر اشکل گھوڑے کی پیشانی پر اتنی سفیدی ہو کہ جو ہاتھ کے انگوٹھے سے نہ چھپ سکے تو اس کا عیب دور ہوجاتا ہے اور پھر وہ ناپسندیدہ نہیں رہتا ہے۔

3791Mishkaat-al-Masabih

گھوڑ دوڑ کا ذکر

وعن عبد الله بن عمر : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم سابق بين الخيل التي أضمرت من الحفياء وأمدها ثنية الوداع وبينهما ستة أميال وسابق بين الخيل التي لم تضمر من الثنية إلى مسجد بني زريق وبينهما ميل

اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے ان دونوں گھوڑوں کے درمیان مسابقت گھوڑ دوڑ کرائی جو اضمار کئے گئے تھے اور یہ مسابقت حفیاء سے شروع ہوئی اور ثنیۃ الوداع پر ختم ہوئی اور ان دونوں مقامات ( یعنی حفیاء اور ثنیۃ الوداع) کے درمیان چھ میل کا فاصلہ تھا اور جن گھوڑوں کا اضمار نہیں کیا گیا تھا ان کے درمیان ثنیۃ الوداع سے مسجد نبی زریق تک مسابقت کرائی اور ان دونوں مقامات ( یعنی ثنیۃ الوداع اور مسجد نبی زریق) کا درمیانی فاصلہ ایک میل تھا (بخاری مسلم ) تشریح گھوڑوں کے درمیان مسابقت گویا گھوڑ دوڑ کے مفہوم کے مرادف ہے یعنی دو آدمی اپنے گھوڑوں کو اس لئے دوڑائیں کہ دیکھیں کہ کس کا گھوڑا آگے نکل جاتا ہے۔ اضمار اس کو کہتے ہیں کہ پہلے تو گھوڑے کو خوب گھاس دانہ کھلا پلا کر بہت قوی اور فربہ کیا جاتا ہے اس کے بعد اس کا گھاس دانہ بتدریج کم کیا جاتا ہے یہاں تک کہ اس کو اصلی خوراک پر لے آتے ہیں اور پھر اس کو ایک مکان پر بند کر کے اس پر گردنی ڈال دیتے ہیں اس کی وجہ سے وہ گرم ہوجاتا ہے اور پسینہ چھوڑتا ہے اور جب پسینہ خشک ہوجاتا ہے تو وہ گھوڑا سبک ہوجاتا ہے یعنی اس کا گوشت تو ہلکا ہوجاتا ہے لیکن دوڑنے میں قوی رہتا ہے۔ حفیاء ایک جگہ کا نام ہے۔ جو مدینہ سے چند میل کے فاصلہ پر واقع ہے، تثنیۃ الوداع ایک پہاڑ کا نام ہے اہل مدینہ اپنے مسافروں کو پہنچانے کے لئے اس پہاڑ تک جاتے تھے۔

3792Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کی ایک اونٹنی کا ذکر

وعن أنس قال : كانت ناقة لرسول الله صلى الله عليه و سلم تسمى العضباء وكانت لا تسبق فجاء أعرابي على قعود له فسبقها فاشتد ذلك على المسلمين فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن حقا على الله أن لا يرتفع شيء من الدنيا إلا وضعه . رواه البخاري

اور حضرت انس کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کے پاس ایک اونٹنی تھی جس کا نام عضباء تھا اور وہ کبھی پیچھے نہیں رہتی تھی ( یعنی اس کا جس اونٹ سے بھی دوڑ میں مقابلہ ہوتا اس کو پیچھے چھوڑ کر آگے نکل جاتی تھی) لیکن ( اک دن) ایک دیہاتی اپنے اونٹ پر آیا اور ( جب اس نے عضباء سے اپنا اونٹ دوڑایا تو) اس کا اونٹ آگے نکل گیا یہ بات مسلمانوں پر سخت گزری تو رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ حق تعالیٰ کا یہ ایک ثابت شدہ فیصلہ ہے کہ دنیا کی جو بھی چیز شر بلند ہوتی ہے اللہ اس کو پست کردیتا ہے۔ ( بخاری) تشریح اصل میں عضباء اس اونٹنی کو کہتے ہیں جس کے کان کٹے ہوئے یا چرے ہوئے ہوں۔ آنحضرت ﷺ کی اس اونٹنی کا کان گو کٹا ہوا یا چرا ہوا نہیں تھا مگر اس کا نام عضباء تھا البتہ خلقی طور پر اس کے کان چھوٹے تھے۔ آنحضرت ﷺ کی یہ وہی اونٹنی ہے جس کو قصواء بھی کہتے ہیں، لیکن یہ بھی احتمال ہے کہ یہ اونٹنی اور تھی اور عصواء ایک دوسری اونٹنی تھی۔ قعود اس جوان اونٹ کو کہتے ہیں جو نیا نیا سواری کے لائق ہوگیا ہو ایسا اونٹ دو برس سے چھ برس تک کی عمر کا ہوتا ہے جس اونٹ کی عمر چھ برس سے زائد ہو اس کو جمل کہتے ہیں۔

3793Mishkaat-al-Masabih

جہاد میں کام آنے والا ہتھیار اپنے بنانے والے کو بھی جنت میں لے جائے گا

عن عقبة بن عامر قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن الله تعالى يدخل بالسهم الواحد ثلاثة نفر الجنة : صانعه يحتسب في صنعته الخير والرامي به ومنبله فارموا واركبوا وأن ترموا أحب إلي من أن تركبوا كل شيء يلهو به الرجل باطل إلا رمية بقوسه وتأديبه فرسه وملاعبته امرأته فإنهن من الحق . رواه الترمذي وابن ماجه وزاد أبو داود والدارمي : ومن ترك الرمي بعد ما علمه رغبة عنه فإنه نعمة تركها . أو قال : كفرها

حضرت عقبہ ابن عامر کہتے ہیں میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ ( کفار پر چلائے جانے والے) ایک تیر کے بدلے میں تین آدمیوں کو جنت میں داخل کرتا ہے ایک تو اس تیر کے بنانے والے کو جب کہ وہ اپنے روزگار کے ساتھ ثواب کی بھی امید رکھے ( یعنی جب جب وہ تیر بنائے تو اپنے روزگار کے ساتھ نیت بھی رکھے کہ میں یہ تیر جہاد میں کام آنے کے لئے بنا رہا ہوں) ( دوسرے) جہاد میں تیر چلانے والے کو اور ( تیسرے) تیر دینے والے کو ( یعنی وہ شخص جو تیر کے بنانے والے کو جب کہ وہ اپنے روزگار کے ساتھ ثواب کی بھی امید رکھے ( یعنی جب وہ تیر بنائے تو اپنے روزگار کے ساتھ نیت بھی رکھے کہ میں یہ تیر جہاد میں کام آنے کے لئے بنا رہا ہوں) ( دوسرے) جہاد میں تیر چلانے ( والے اور ( تیسرے) تیر دینے والے کو ( یعنی وہ شخص جو تیر انداز کے ہاتھ میں اپنا یا اسی کا تیر دے اور خواہ پہلے ہی دے یا نشانے پر سے اٹھا کر دے) لہٰذا تم تیر اندازی کرو اور گھوڑوں پر سورای کرو یعنی تیر اندازی اور گھوڑ سواری کی مشق کرو اور تمہاری تیر اندازی میرے نزدیک سواری کرنے سے زیادہ پسندیدہ ہے اور یاد رکھو انسان جس چیز کو لہو ولعب ( یعنی محض کھیل اور تفریح) کے طور پر اختیار کرے وہ باطل اور ناروا ہے مگر اپنی کمان سے تیر اندازی کرنا اپنے گھوڑے کو سدھارنا اور اپنی بیوی کے ساتھ کھیل و تفریح کرنا یہ سب چیزیں حق ہیں۔ ترمذی ابن ماجہ ابوداؤد اور دارمی نے ( اپنی روایت میں) یہ الفاظ بھی نقل کئے ہیں کہ اور جو شخص تیر اندازی سیکھنے کے بعد اس کو بےنیازی اور بیزاری کے جذبہ سے چھوڑ دے تو وہ تیر اندازی ایک نعمت ہے جس کو اس نے چھوڑ دیا ہے یا یہ فرمایا کہ اس نے اس نعمت کا کفران کیا۔ تشریح یہ چیزیں حق ہیں ان چیزوں کے حکم میں ہر وہ چیز داخل ہے جو حق و بھلائی کی راہ میں معاون ہو خواہ وہ علم کے قبیل سے ہو یا عمل کے قبیل سے جب کہ وہ مقابلہ بازی کی قسم سے ہو جیسے پیدل چلنے اور دوڑنے، گھوڑ سواری اور اونٹوں کی دوڑ کا مقابلہ وغیرہ۔

3794Mishkaat-al-Masabih

تیر انداز کے ثواب کا ذکر

وعن أبي نجيح السلمي قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من بلغ بسهم في سبيل الله فهو له درجة في الجنة ومن رمى بسهم في سبيل الله فهو له عدل محرر ومن شاب شيبة في الإسلام كانت له نورا يوم القيامة . رواه البيهقي في شعب الإيمان . وروى أبو داود الفصل الأول والنسائي الأول والثاني والترمذي الثاني والثالث وفي روايتهما : من شاب شيبة في سبيل الله بدل في الإسلام

اور حضرت ابونجیح سلمی کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس شخص نے اللہ کی راہ ( یعنی جہاد) میں ایک تیر ( نشانے پر پہنچایا ( یعنی اس نے تیر چلا کر کافر کو مار ڈالا تو) اس کے لئے جنت میں ایک بڑا درجہ ہے اور جس شخص نے اللہ کی راہ میں ( یعنی جہاد) میں تیر پھینکا ( خواہ وہ کافر کو لگایا نہ لگا) تو وہ اس کے لئے ایک بردہ ( غلام یا لونڈی) آزاد کرنے کے برابر ہے اور جو شخص اسلام ( کی حالت میں بوڑھا ہوگیا اور مرگیا) تو وہ بڑھاپا قیامت کے دن اس کے لئے نور ہوگا۔ ( اس روایت کو بیہقی نے شعب الایمان میں نقل کیا ہے) ابوداؤد نے ( روایت کا صرف پہلا جزو یعنی (من بلغ بسہم فی سبیل اللہ فہو لہ درجۃ فی الجنۃ) نقل کیا ہے) نسائی نے پہلا اور دوسرا جزء ( کہ جن میں تیر اندازی کی فضیلت بیان کی گئی ہے) نقل کیا ہے اور ترمذی نے دوسرا اور تیسرا جزء نقل کیا ہے۔ نیز بیہقی اور ترمذی کی روایت میں فی الاسلام یعنی اسلام کی حالت میں کے بجائے فی سبیل اللہ اللہ کی راہ میں ہے۔ تشریح جو شخص اسلام کی حالت میں بوڑھا ہوگیا الخ سے واضح ہوا کہ کسی شخص کا ایمان واسلام کی حالت میں بوڑھا ہوجانا یا اس پر بڑھاپے کی علامات کا ظاہر ہوجانا گویا اس کی اخروی سعادت کی نشانی ہے کیونکہ زندگی آخری منزلوں تک اسلام و ایمان کی حالت پر قائم رہنا اللہ کا ایک بڑا فضل و کرم ہے۔ ایک بڑے بزرگ حضرت ابویزید کے بارے میں منقول ہے کہ ایک دن انہوں نے آئینہ میں اپنا چہرہ دیکھا تو وہاں ان کو بڑھاپے کی علامات نظر آئیں بےاختیار ان کے منہ سے یہ نکلا کہ (ظہر الشیب ولم یظہر العیب وما ادری ما فی الغیب) یعنی اللہ کا شکر ہے کہ مجھ پر بڑھاپا ظاہر ہوا ہے، کوئی عیب ظاہر نہیں ہوا اور پردہ غیب میں کیا چیز ہے مجھے کچھ معلوم نہیں۔ ایک بات یہ واضح رہے کہ کتاب کی عبارت میں روایت ھا کی ضمیر بظاہر نسائی اور ترمذی کی طرف لوٹنی چاہئے کیونکہ ماقبل کی عبارت میں یہی دونوں پاس پاس مذکور ہیں لیکن حقیقت میں یہ ( نسائی اور ترمذی کی طرف ضمیر لوٹانا) اس وجہ سے صحیح نہیں ہوگا کہ نسائی نے تیسرا جزو نقل ہی نہیں کیا، لہٰذا ضمیر بیہقی اور ترمذی کی طرف راجع ہوگی اور فی روایتھما کے یہی معنی ہوں گے۔ کہ بیہقی اور ترمذی کی روایت میں الخ البتہ اس صورت میں ایک اشکال یہ پیدا ہوسکتا ہے کہ جب اصل روایت میں فی الاسلام کے بجائے فی سبیل اللہ کے الفاظ ہیں؟۔ اس کا جواب یہ ہے کہ فی رویتھما اصل میں مفہوم کے اعتبار سے یوں ہے کہ وفی روایۃ للبیہقی و روایۃ الترمذی یعنی بیہقی کی ایک اور روایت میں اور ترمذی کی روایت میں ( فی الاسلام کے بجائے فی سبیل اللہ) اس طرح بات صاف ہوجائے گی کہ بیہقی کی ایک روایت میں جو یہاں متن میں نقل کی گئی ہے فی الاسلام ہے اور ایک دوسری روایت میں فی السلام کے بجائے فی سبیل اللہ ہے۔

3795Mishkaat-al-Masabih

جہاد کی چیزوں میں شرط کا مال لینا جائز ہے

وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا سبق إلا في نصل أو خف أو حافر . رواه الترمذي وأبو داود والنسائي

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا مسابقت کی شرط کا مال لینا صرف تین چیزوں ( یعنی) تیر چلانے، اونٹ دوڑانے اور گھوڑ دوڑ میں جائز ہے۔ ( ترمذی اور داؤد، نسائی) تشریح سبق شرط کی رقم کو کہتے ہیں، یعنی وہ مال جو آگے بڑھ جانے کی شرط جیتنے والے کو دیا جاتا ہے۔ اس حدیث سے بظاہر یہ واضح ہوتا ہے کہ ان تین چیزوں کے علاوہ اور کسی چیز میں مسابقت یعنی آگے بڑھ جانے کی بازی لگانا اور اس کا مال لینا جائز نہیں ہے، لیکن فقہاء نے ان تینوں کے حکم میں ان چیزوں کو بھی شامل کیا ہے جو جہاد کا سامان و ذریعہ ہیں جیسے گدھا اور خچر، گھوڑے کے حکم میں ہیں اور ہاتھی، اونٹ کے حکم میں ہے۔ بعض حضرات نے پیدل دوڑنے اور بعض نے پتھر پھینکنے کی مسابقت کو جواز کے حکم میں شامل کیا ہے کیونکہ یہ چیزیں تیر کے مفہوم میں داخل ہیں۔ جو چیزیں جہاد کے ذرائع میں شامل ہیں ان کی مسابقت میں شرط باندھنا اور بازی لگانا اور شرط کی رقم لینا دراصل جہاد کی ترغیب دینے کے پیش نظر ہوتا ہے اور اسی لئے اس کا جواز کا حکم بیان کیا گیا ہے۔ ہاں جو چیزیں جہاد کے اسباب و ذرائع میں سے نہیں ہیں ان میں مسابقت کی بازی لگانا اور شرط باندھنا چونکہ ایسے کسی صالح مقصد کے لئے نہیں ہوتا اس لئے نہ تو ان چیزوں میں مسابقت ہی جائز ہے اور نہ اس کی شرط کا مال لینا جائز ہے۔

3796Mishkaat-al-Masabih

بازی لگانے کا مسئلہ

واضح رہے کہ کسی چیز کی مسابقت اور ہار جیت کے مقابلہ میں رقم کی شرط باندھنا دارصل قمار یعنی جوئے کا مفہوم ہے، کیونکہ اس صورت میں ملکیت بھی مشتبہ رہتی ہے اور نفع و نقصان کے درمیان بھی شک رہتا ہے اور قمار کے یہی معنی ہیں ہاں اگر کسی مسابقت اور ہار جیت کے مقابلہ میں امیر وحاکم یا کسی اور تیسرے شخص کی طرف سے کسی رقم یا کسی مال کی شرط باندھی جائے مثلا وہ ( امیر وحاکم یا تیسرا شخص) یہ کہے کہ ان دونوں مقابل میں سے جو شخص آگے بڑھ جائے گا یا جو شخص جیت جائے گا میں اس کو اتنی رقم یا فلاں چیز دوں گا تو یہ جائز ہوگا، اسی طرح دونوں مقابل میں سے صرف کسی ایک کی جانب سے کی رقم یا مال کی شرط باندھی جائے مثلا ان میں سے کوئی ایک یوں کہے کہ اگر تم مجھ سے آگے بڑھ گئے یا میرے مقابلہ پر جیت گئے تو میں تمہیں اتنی رقم یا فلاں چیز دوں گا اور اگر میں آگے بڑھ گیا یا میں جیت گیا تو تمہیں کچھ نہ دینا ہوگا۔ تو اس کے جواز میں بھی کوئی شبہ نہیں۔ ناجائز تو اس صورت میں ہوگا جب کہ دونوں کی طرف سے بازی لگے۔ جیسے یوں کہا جائے کہ اگر میں آگے بڑھ گیا یا میں جیت گیا تو تمہیں اتنی رقم یا فلاں چیز دینی ہوگی اور اگر تم آگے بڑھ گئے یا جیت گئے تو میں اتنی رقم یا فلاں چیز دوں گا۔ کیونکہ حقیقت میں یہی قمار یعنی جوا ہے لیکن یہ صورت بھی اس طرح سے جائز ہوسکتی ہے۔ جب کہ دونوں کے درمیان محلل شامل ہوجائے۔ جیسا کہ اگلی حدیث میں بیان ہوگا۔

3797Mishkaat-al-Masabih

مسابقت میں محلل کے شامل ہونے کا مسئلہ

وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أدخل فرسا بين فرسين فإن كان يؤمن أن يسبق فلا خير فيه وإن كان لا يؤمن أن يسبق فلا بأس به . رواه في شرح السنة وفي رواية أبي داود : قال : من أدخل فرسا بين فرسين يعني وهو لا يأمن أن يسبق فليس بقمار ومن أدخل فرسا بين فرسين وقد أمن أن يسبق فهو قمار

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جو شخص دو گھوڑوں کے درمیان اپنا گھوڑا شامل کرے تو اگر وہ گھوڑا ایسا ہے کہ ( جس کے تیز رو ہونے کی وجہ سے) اس کے بارے میں یہ یقین ہے کہ وہ ( ان دونوں گھوڑوں سے) آگے نکل جائے گا تو اس میں بھلائی نہیں ہے اور اگر یہ یقین نہیں ہے کہ وہ آگے نکل جائے گا تو پھر اس میں مضائقہ نہیں۔ ( شرح السنۃ) اور ابوداؤد کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا) اگر کوئی شخص دو گھوڑوں کے درمیان اپنا گھوڑا شامل کرے یعنی جس کے بارے میں یہ یقین نہیں ہے کہ اگر وہ آگے نقل جائے گا تو یہ قمار ( جوا) نہیں ہے اور اگر کوئی شخص دو گھوڑوں کے درمیان اپنا ( ایسا) گھوڑا شامل کرے جس کے بارے میں یہ یقین ہے کہ وہ آگے نکل جائے گا تو یہ قمار ہے۔ تشریح جو شخص دو گھوڑوں کے درمیان اپنا گھوڑا شامل کرے۔ یہ تحلیل کی صورت ہے جو مسابقت ( یعنی گھوڑ دوڑ کے ہونے والے مقابلہ) میں بازی لگانے اور شرط باندھنے کو جائز کرتی ہے اور ایسے شخص کو ( کہ جو دو گھوڑوں کے درمیان ہونے والے مقابلہ میں اپنا گھوڑا شامل کرے محلل کہتے ہیں۔ اس صورت کی وضاحت یہ ہے کہ مثلا وہ شخص یعنی زید اور بکر نے مقابلے کے لئے اپنے اپنے گھوڑے دوڑائے اور دونوں نے ہار جیت کی شرط باندھی کہ جس کا گھوڑا آگے نکل جائے گا وہ پیچھے رہ جانے والے گھوڑے کے مالک سے اتنی رقم یا فلاں چیز لے لے گا۔ اس طرح انہوں نے ایک قمار ( جوئے) کا معاملہ کیا، اب ایک تیسرا شخص یعنی خالد آتا ہے اور وہ ان دونوں کی گھوڑوں کی دوڑ میں شرط کے ساتھ اپنا گھوڑا بھی شامل کردیتا ہے کہ اگر یہ تیسرا ( میرا) گھوڑا ان دونوں گھوڑوں سے آگے نکل گیا تو میں تم دونوں سے اتنی رقم یا فلاں چیز لے لوں گا اور پیچھے رہ گیا تو مجھے کچھ نہیں دینا ہوگا۔ یہی صورت تحلیل کی ہے اور اس تیسرے شخص یعنی خالد کو محلل ( حلال کرنے والا) کہیں گے۔ ایسے شخص کو محلل اس لئے کہتے ہیں کہ اس کی وجہ سے وہ معاملہ حلال و جائز ہوگیا جو پہلے جانبین کی طرف سے شرط وبازی لگانے کی وجہ سے ایک حرام معاملہ یعنی قمار تھا، چناچہ مذکورہ صورت میں اگر محلل کا گھوڑا آگے نکل جائے تو وہ ان دونوں سے متعینہ رقم یا مقررہ چیز لے لے اور اگر ان دونوں گے گھوڑے اس کے گھوڑے اس کے گھوڑے سے آگے نکل جائیں تو وہ ان کو کچھ نہ دے البتہ جو ان دونوں میں سے ایک کا گھوڑا آگے نکلے گا اس کو دوسرے سے متعینہ رقم یا مقررہ چیز لینا جائز ہوگا۔ واضح رہے کہ علماء نے لکھا ہے اور جیسا کہ اس حدیث سے بھی واضح ہوتا ہے کہ تحلیل کی صورت میں محلل کو چاہئے کہ وہ اس گھوڑ دوڑ میں ایسے گھوڑے کو شامل کرے جو دوڑنے میں ان دونوں کے گھوڑے کے برابر یا تقریبًا برابر ہو، چناچہ اگر محلل کا گھوڑا ان دونوں کے گھوڑے سے آگے اس طرح کا تیز رو ہو کہ وہ محلل جانتا ہے کہ ان دونوں کے گھوڑے میرے گھوڑے سے آگے نہیں نکل سکتے تو نہ صرف یہ کہ یہ جائز نہیں بلکہ اس کا اپنے گھوڑے کو اس گھوڑ دوڑ میں شامل کرنا اور نہ کرنا برابر ہوگا یعنی یہ صورت تحلیل کی نہیں ہوگی۔ ہاں اگر وہ یہ نہیں جانتا کہ میرا گھوڑا ان دونوں کے آگے نکل جائے گا اور نہ یہ جانتا ہے کہ میرا گھوڑا ان دونوں کے گھوڑے سے پیچھے رہ جائے گا تو یہ جائز ہے اور یہ صورت تحلیل کی مانی جائے گی۔ حاصل یہ کہ اگر محلل کا گھوڑا ایسا ہے کہ وہ آگے نکل جانے کا بھی احتمال رکھتا ہے اور پیچھے رہ جانے کا بھی احتمال رکھتا ہے تو جائز ہوگا ورنہ نہیں۔