آداب سفر کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 124 · 33 hadiths · Page 1 of 2

3809Mishkaat-al-Masabih

آداب سفر کا بیان

اس باب میں احادیث نقل ہوں گی جن سے سفر کے آداب اور طور طریقے معلوم ہوں گے، سفر خواہ جہاد کا ہو یا حج کا یا ان کے علاوہ اور کسی طرح کا۔ واضح رہے کہ سفر کے آداب بہت ہیں بعض تو اس طرح کے ہیں کہ ان کا تعلق سفر سے شروع کرنے سے پہلے سے ہے اور بعض آداب اس نوعیت کے ہیں کہ ان کا لحاظ سفر کے دوران ہونا چاہئے اور بعض آداب ایسے ہیں جو سفر سے واپس آنے پر ملحوظ رہنے چاہئیں، ان میں سے کچھ کے بارے میں اس باب میں منقول احادیث اور ان کی تشریح ات سے معلوم ہوگا لیکن اس کی سب سے عمدہ تفصیل احیاء العلوم میں مذکور ہے۔

3810Mishkaat-al-Masabih

جہاد کے لئے جمعرات کے دن نکلنا آنحضرت ﷺ کے نزدیک پسندیدہ تھا

عن كعب بن مالك : أن النبي صلى الله عليه و سلم خرج يوم الخميس في غزوة تبوك وكان يحب أن يخرج يوم الخميس . رواه البخاري

حضرت کعب ابن مالک راوی ہیں کہ نبی کریم غزوہ تبوک کے لئے جمعرات کے دن روانہ ہوئے اور آنحضرت ﷺ اس کو پسند فرماتے تھے کہ جہاد کے سفر کی ابتداء جمعرات کے دن سے کریں۔ ( بخاری) تشریح تبوک ایک جگہ کا نام ہے جو مدینہ اور دمشق کے درمیانی راستہ پر خیبر اور العلاء کے خط پر واقع ہے، یہ پہلے شام کے علاقہ میں تھا حجاز کی حدود میں ہے۔ مدینہ سے اس کا فاصلہ ٤٦٥ میل ہے، اس وقت یہ جگہ مدینہ سے ایک مہینہ کی مسافت کے بقدر تھی، آنحضرت ﷺ ٩ ھ میں اس جگہ پر فوج لے کر گئے تھے اسی کو غزوہ تبوک کہا جاتا ہے، یہ آنحضرت ﷺ کا آخری غزوہ تھا۔ ابوداؤد نے حضرت کعب ابن مالک کی جو روایت نقل کی ہے اس میں یوں ہے کہ ایسا کم ہوتا تھا کہ آنحضرت ﷺ جہاد کے لئے اپنے سفر کی ابتداء جمعرات کے دن سے نہ کرتے ہوں۔ آنحضرت ﷺ جہاد کے سفر میں جمعرات ہی کے دن روانہ ہونا کیوں پسند کرتے تھے؟ اس میں کئی احتمال ہیں ایک تو یہ کہ چونکہ بندوں کے نیک اعمال جمعرات ہی کے دن سے اللہ تعالیٰ تک اٹھائے جاتے ہیں اس لئے آنحضرت ﷺ یہ چاہا کرتے تھے کہ جہاد کا عمل آج ہی اللہ تعالیٰ تک اٹھایا جائے کہ وہ افضل اعمال ہے اور دوسرے یہ کہ خمیس لشکر کو بھی کہتے ہیں ( اور جمعرات کا دن بھی یوم الخمیس کہلاتا ہے) لہٰذا آپ جمعرات کے دن سفر جہاد کی ابتداء کر کے یہ فال نیک لیتے تھے کہ جس لشکر کے مقابلہ پر جا رہے ہیں اس پر فتح حاصل ہوگی۔ بہر کیف اس سلسلے میں سنت نبوی ﷺ کے مطابق جو چیز ہے وہ یہی ہے کہ جب جہاد کے لئے سفر اختیار کیا جائے تو جمعرات کے دن روانگی عمل میں لائی جائے لیکن اصل مدار استخارہ اور تفویض اور توکل پر ہے۔ یہ واضح رہے کہ سلف ( صحابہ) سے یہ قطعًا منقول نہیں ہے کہ وہ سفر کی ابتداء کرنے کے سلسلے میں نجوم کا اتباع کرتے ہوں اور روانگی سفر کے لئے وہی ساعت اختیار کرتے ہوں جو حوتش کا حساب ظاہر کرتا ہو! حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بارے میں منقول ہے کہ ایک دن ان کے پاس بیٹھے ہوئے ایک شخص سے کہا کہ تم سفر میں فلاں روز جانا، فلاں روز روانہ نہ ہونا، یہ سن کر حضرت علی نے اس شخص سے فرمایا کہ اگر اس وقت میرے ہاتھ میں تلوار ہوتی تو میں ( اتنی غلط اور خلاف اسلام بات کہنے پر) تمہاری گردن اڑا دیتا، ہم حضرت ابوالقاسم محمد ﷺ کی خدمت میں (برابر) حاضر رہا کرتے تھے، ہم نے تو کبھی بھی آپ کی مجلس میں یہ ذکر ہوتے نہیں سنا کہ فلاں روز سفر کرنا چاہئے اور فلاں روز سفر نہ کرنا چاہئے۔ اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے قمر در عقرب اور محاق کے سلسلے میں جو کچھ روایت کیا جاتا ہے وہ پایہ صحت کو پہنچا ہوا نہیں ہے۔

3811Mishkaat-al-Masabih

تنہا سفر کرنے کی ممانعت

وعن عبد الله بن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لو يعلم الناس ما في الوحدة ما أعلم ما سار راكب بليل وحده . رواه البخاري

اور حضرت عبداللہ ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اگر لوگ اس چیز کو جو تنہا سفر کرنے سے پیش آتی ہے اتنا جان لیں جتنا میں جانتا ہوں تو کوئی سوار رات میں کبھی سفر ( کرنے کی ہمت) نہ کرے۔ ( بخاری) تشریح اس چیز سے دینی اور دنیاوی نقصانات مراد ہیں۔ چناچہ دینی نقصان تو یہ ہے کہ تنہائی کی وجہ سے نماز کی جماعت میسر نہیں ہوتی اور دنیوی نقصان یہ ہے کہ کوئی غم خوار و مددگار نہیں ہوتا کہ اگر کوئی ضرورت یا کوئی حادثہ پیش آئے تو اس سے مدد مل سکے۔ سوار اور رات کی قید اس لئے لگائی گئی ہے کہ سوار کو پیادہ کی بہ نسبت زیادہ خطرہ رہتا ہے اور خصوصًا رات میں۔

3812Mishkaat-al-Masabih

جس قافلہ میں کتا اور گھنٹال ہوتا ہے اس کے ساتھ رحمت کے رشتے نہیں ہوتے

وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تصحب الملائكة رفقة فيها كلب ولا جرس . رواه مسلم

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اس قافلہ کے ساتھ فرشتے نہیں ہوتے جس میں کتا اور گھنٹال ہو۔ ( مسلم) تشریح فرشتے سے کتبہ یعنی اعمال لکھنے والے فرشتے اور حفظ یعنی حفاظت کرنے والے مراد نہیں ہیں بلکہ رحمت کے فرشتے مراد ہیں۔ کتے سے مراد وہ کتا ہے جو پاسبانی کے لئے نہ ہو، لہٰذا پاسبانی اور مویشیوں کی حفاظت کے لئے کتا رکھنا مباح ہے۔ جرس ( گھنٹال) ان گھنٹیوں اور گھنگرو وں کو کہتے ہیں جو جانوروں کے گلے میں باندھی جاتی ہے۔ اس ( جرس) کے ممنوع ہونے کا سبب یہ ہے کہ وہ ناقوس کی مشابہت رکھتا ہے یا اس لئے ممنوع ہے کہ یا ان کے لٹکانے والی چیزوں میں سے ہے جن کی آواز کی ناپسندیدگی و کر اہت کی وجہ سے ان کا لٹکانا ممنوع ہے۔ چناچہ اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے جو آگے آرہی ہے اور جس میں جرس کو مزامیر الشیطان کہا گیا ہے۔ نیز شرح السنۃ میں یہ روایت مذکور ہے کہ ایک دن حضرت عائشہ ؓ کے پاس ایک لڑکی آئی جس کے پاؤں میں جھانجھیں یا گھنگرو تھے، حضرت عائشہ نے کہا کہ میرے پاس سے وہ چیز ہٹاؤ جو ملائکہ کو دور کرنے والی ہے نیز منقول ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ہر جرس کے ساتھ شیطان ہوتا ہے۔

3813Mishkaat-al-Masabih

گھنگرو اور گھنٹیاں شیطانی باجہ ہیں۔

وعنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : الجرس مزامير الشيطان . رواه مسلم

اور حضرت ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جرس ( یعنی گھنگرو اور گھنٹی) مزامیر شیطان ( یعنی شیطانی باجہ) ہے۔ (مسلم) تشریح مزامیر دراصل مزمار کی جمع ہے اور مزمار بانسری کو کہتے ہیں جو بجائی جاتی ہے، نیز زمر اور تزمیر بانسری کے ساتھ گانے کو کہتے ہیں۔ مزامیر بلفظ جمع اس لئے فرمایا گیا ہے کہ اس کی آواز میں اس طرح کا تسلسل ہوتا ہے کہ وہ منقطع نہیں ہوتی گویا اس آواز کی ہر لے اور ہر سلسلہ ایک مزمار ہے۔ نیز جرس کو مزامیر شیطان اس وجہ سے فرمایا گیا ہے کہ وہ انسان کو ذکر واستغراق اور مشغولیت عبادت سے باز رکھتا ہے۔

3814Mishkaat-al-Masabih

اونٹ کے گلے میں تانت کا پٹا باندھنے کی ممانعت

وعن أبي بشير الأنصاري : أنه كان مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في بعض أسفاره فأرسل رسول الله صلى الله عليه و سلم رسولا : لا تبقين في رقبة بغير قلادة من وتر أو قلادة إلا قطعت

اور حضرت ابوبشیر انصاری سے روایت ہے کہ وہ کسی سفر میں رسول کریم ﷺ کے ہمراہ تھے، تو ( وہ بیان کرتے ہیں کہ اس سفر کے موقع پر) رسول کریم ﷺ نے ایک شخص کو قافلہ کے اندر اس حکم کا اعلان کرنے کے لئے بھیجا کہ کسی اونٹ کی گردن میں کمان کی تانت کے قلادے ( پٹے) کو باقی نہ رکھا جائے۔ فرمایا کہ قلادے کو باقی نہ رکھا جائے بلکہ کاٹ ڈالا جائے۔ ( بخاری ومسلم) تشریح یا یہ فرمایا کہ یہ دراصل راوی کا شک ہے کہ آنحضرت ﷺ نے (قلادۃ من وتر) یعنی کمان کی تانت کا قلادہ فرمایا تھا یا صرف قلادہ فرمایا تھا۔ قلادے کاٹ دینے کا حکم اس لئے فرمایا کہ لوگ اس میں گھنگرو اور گھنٹیاں باندھ دیتے تھے اور یہ چیز مزامیر الشیطان ہے جیسا کہ پچھلی حدیث میں گزرا، یا اس لئے منع فرمایا کہ بعض کمزور عقیدہ لوگ کمان کی تانت میں منکے ( مالے کے دانے) وغیرہ باندھ کر اور اس کا قلادہ ( پٹا) بنا کر جانوروں کے گلے میں ڈال دیا کرتے تھے اور یہ گمان رکھتے تھے کہ اس کے ذریعہ جانور آفات وغیرہ سے محفوظ رہیں گے، لہٰذا آنحضرت ﷺ نے اس چیز سے منع فرمایا کیونکہ ایسا کوئی بھی ذریعہ اللہ تعالیٰ کے حکم و فیصلہ اور تقدیر کے لکھے کو ٹال نہیں سکتا۔

3815Mishkaat-al-Masabih

جانوروں پر سفر کرینکے بارے میں چند ہدایات

وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا سافرتم في الخصب فأعطوا الإبل حقها من الأرض وإذا سافرتم في السنة فأسرعوا عليها السير وإذا عرستم بالليل فاجتنبوا الطريق فإنها طرق الدواب ومأوى الهوام بالليل . وفي رواية : إذا سافرتم في السنة فبادروا بها نقيها . رواه مسلم

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب تم ارزانی کے زمانے میں ( اونٹوں پر) سفر کرو تو ان اونٹوں کو ان کا زمین ( سے کھانے) کا حق دو ( یعنی گھاس کھانے کا موقع دو بایں طور کہ سفر کے دوران ان کو تھوڑی دیر کے بعد چرنے کے لئے چھوڑ دیا کرو تاکہ وہ پیٹ بھر کر چریں اور تیز چلیں) اور جب تم قحط سالی کے زمانے میں سفر کرو تو ان پر جلدی سفر کرو ( یعنی سفر کے دوران راستہ میں تاخیر نہ کرو تاکہ اونٹ پوری خوراک نہ ملنے کی وجہ سے ضعف ونقاہت میں مبتلا ہونے سے پہلے تمہیں منزل مقصود پر پہنچائیں) نیز جب تم کہیں رات میں پڑاؤ ڈالو تو راستے پر پڑاؤ نہ ڈالو کیونکہ ان پر چوپائے چلتے ہیں اور وہ موذی ( زہریلے) جانوروں ( جیسے سانپ وبچھو وغیرہ) کا مسکن اور ان کی گزر گاہیں ہیں) اور ایک روایت میں یوں ہے کہ جب تم قحط سالی کے زمانے ( اونٹوں پر) سفر کرو تو تیزی کے ساتھ سفر طے کرو جب کہ اونٹوں میں گودا ( یعنی بدن کی طاقت) موجود ہو۔ ( مسلم )

3816Mishkaat-al-Masabih

ضرورت مند رفیق کی خبر گیری کرو

وعن أبي سعيد الخدري قال : بينما نحن في سفر مع رسول الله صلى الله عليه و سلم إذ جاءه رجل على راحلة فجعل يضرب يمينا وشمالا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من كان معه فضل ظهر فليعد به على من لا ظهر له ومن كان له فضل زاد فليعد به على من لا زاد له قال : فذكر من أصناف المال حتى رأينا أنه لا حق لأحد منا في فضل . رواه مسلم

اور حضرت ابوسعید خدری کہتے ہیں کہ ایک موقع پر جب کہ ہم ایک سفر میں رسول کریم ﷺ کے ہمراہ تھے اچانک ایک شخص آنحضرت ﷺ کے پاس اونٹ پر آیا اور اونٹ کو دائیں بائیں پھیرنے موڑنے لگا، چناچہ یہ ( دیکھ کر) رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کے پاس ( اپنی ضرورت سے) زائد سواری ہو اس کو چاہئے کہ وہ سواری اس شخص کو دے دے جس کے پاس سورای نہیں ہے اور اس شخص کے پاس اپنی ضرورت سے زائد کھانے پینے کا سامان ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ کھانے پینے کا سامان اس شخص کو دے جس کے پاس کھانے پینے کا سامان نہیں ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد آنحضرت ﷺ نے مال اور چیزوں کی اقسام کو ذکر کیا ( یعنی آپ نے چیزوں کا نام لے کر فرمایا کہ جس کے پاس فلاں چیز اور فلاں چیز جیسے کپڑا وغیرہ اپنی حاجت سے زائد ہو تو اس کو اس شخص پر خرچ کیا جانا چاہئے جس کے پاس وہ چیز نہ ہو) یہاں تک کہ ( آپ کی ترغیب و نصیحت سے) ہمیں احساس ہوگیا کہ ہم میں سے کسی کا اپنی اس چیز پر کوئی حق نہیں ہے جو اس کے پاس اس کی ضرورت سے زائد ہے ( بلکہ اس چیز کا حقیقی مستحق وہ شخص ہے جو اس وقت اس چیز سے محروم ہے۔ ( مسلم) تشریح دائیں بائیں پھیرنے موڑنے لگا کا مطلب یہ تو یہ ہے کہ اس کا اونٹ اتنا تھک گیا تھا یا پوری خوراک نہ ملنے کی وجہ سے اتنا لاعز ہوگیا تھا کہ وہ شخص اس اونٹ کو کسی ایک جگہ پر کھڑا کردینے پر قادر نہیں ہو رہا تھا بلکہ کبھی اس کو دائیں موڑ دیتا تھا اور کبھی بائیں گھما دیتا تھا۔ یا مطلب ہے کہ وہ شخص اپنی آنکھوں کو چاروں طرف پھیرتا تھا اور ان کو دائیں بائیں گھما کر یہ دیکھتا تھا کہ کہیں سے اس کو وہ چیزیں مل جائیں جو اس کی ضرورت اور حاجتوں کو پورا کردیں۔ اس صورت میں حاصل یہ ہوگا کہ اس شخص کے پاس نہ تو سواری کے لئے کوئی مناسب انتظام تھا اور نہ اس کے ساتھ کھانے پینے اور اوڑھنے بچھونے کا کوئی سامان تھا، اس لئے آنحضرت ﷺ نے اس کی اس بےسروسامانی کی طرف لوگوں کو متوجہ کیا اور پھر ترغیب دلائی کہ وہ اس ضرورت مند اور درماندہ کی خبر گیری کریں۔

3817Mishkaat-al-Masabih

مقصد سفر پورا ہوجانے پر گھر لوٹنے میں تاخیر نہ کرو

وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : السفر قطعة من العذاب يمنع أحدكم نومه وطعامه وشرابه فإذا قضى نهمه من وجهه فليعجل إلى أهله

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ سفر عذاب کے ایک ٹکڑا ہے جو تمہیں نہ تو ( آرام و راحت سے) سونے دیتا ہے اور نہ ( ڈھنگ سے) کھانے پینے دیتا ہے، لہذا جب تم میں سے کوئی شخص ( کہیں سفر میں جائے اور) اپنے سفر کی غرض کو پورا کرے ( یعنی جس مقصد کے لئے سفر کیا ہے وہ مقصد پورا ہوجائے) تو اس کو چاہئے کہ اپنے گھر والوں کے پاس واپس آجانے میں جلدی کرے۔ (بخاری ومسلم ) تشریح سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے کا مطلب یہ ہے کہ سفر اپنی صورت کے اعتبار سے جہنم کے عذاب کے انواع میں سے ایک نوع ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے آیت (سارھقہ صعودا )۔ جیسے بھی جسمانی تکلیف اور روحانی اذیت کے اعتبار سے کسی شخص کے حق میں سفر، پریشانیوں اور صعوبتوں کا ذریعہ ہونے سے کم نہیں ہوتا۔ خصوصًا اس دور میں جب کہ آج کی طرح سفر کے تیز رفتار اور اطمینان بخش ذرائع نہیں تھے، لوگ سفر کے دوران کیسی کیسی مشقتیں برداشت کرتے تھے۔ اور کیسی کیسی مصیبتوں سے دو چار ہوتے تھے اس کا اندازہ بھی آج کے دور میں نہیں لگایا جاسکتا۔ حدیث میں سفر کی بطور خاص دو پریشانیوں کا جو ذکر کیا گیا ہے کہ سفر کے دوران نہ تو وقت پر اور طبیعت کے موافق کھانا پینا ملتا ہے اور نہ آرام وچین کی نیند نصیب ہوتی ہے وہ محض مثال کے طور پر ہے ورنہ سفر میں تو نہ معلوم کتنے ہی دینی اور دنیاوی امور فوت ہوتے ہیں جیسے جمعہ و جماعت کی نماز سے محرومی رہتی ہے، اہل بیت اور دیگر قرابت داروں کے حقوق بروقت ادا نہیں ہوتے اور گرمی سردی کی مشقت و تکلیف اور اسی طرح کی دوسری پریشانیاں برداشت کرنا پڑتی ہیں۔

3818Mishkaat-al-Masabih

مسافر کا اپنے گھر واپس آنے پر بچوں کے ذریعہ استقبال

وعن عبد الله بن جعفر قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا قدم من سفر تلقي بصبيان أهل بيته وإنه قدم من سفر فسبق بي إليه فحملني بين يديه ثم جيء بأحد ابني فاطمة فأردفه خلفه قال : فأدخلنا المدينة ثلاثة على دابة . رواه مسلموعن أنس : أنه أقبل هو وأبو طلحة مع رسول الله صلى الله عليه و سلم ومع النبي صلى الله عليه و سلم صفية مردفها على راحلته . رواه البخاري

اور حضرت عبداللہ ابن جعفر کہتے ہیں کہ جب رسول کریم ﷺ سفر سے تشریف لاتے تو آپ ﷺ کے اہل بیت کے بچوں کے ذریعہ آپ کا استقبال کیا جاتا ( یعنی آپ ﷺ کے اہل بیت اپنے بچوں کو آپ ﷺ کی خدمت میں لے جاتے) چناچہ ( ایک روز) آنحضرت ﷺ جب سفر سے واپس تشریف لائے ( اور مدینہ کے قریب پہنچے) تو مجھ کو آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا گیا، آپ ﷺ نے مجھے اٹھا لیا اور اپنے آگے سوار کرلیا پھر حضرت فاطمہ کے دونوں بیٹوں میں سے ایک بیٹے ( یعنی حضرت حسن یا حضرت حسین کو لایا گیا) تو آپ ﷺ نے ان کو اپنے پیچھے بٹھا لیا اور پھر ( اس طرح ہم تینوں ایک جانور پر ( سوار) مدینہ میں داخل ہوئے۔ ( مسلم) اور حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ وہ ( انس) اور حضرت طلحہ رسول کریم ﷺ کے ہمراہ ( خیبر کے سفر سے) واپس آئے تو اس موقع پر حضرت صفیہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھیں اور آپ ﷺ نے ان کو اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھا رکھا تھا۔ ( بخاری) تشریح یہ خیبر سے واپس ہونے کے وقت کا واقعہ ہے کہ حضرت صفیہ خیبر کے مال غنیمت میں سے تھیں اور پہلے حضرت دحیہ کلبی کے ہاتھ لگی تھیں جن سے آنحضرت ﷺ نے ان کو لے لیا اور پھر انہیں آزاد کر کے ان سے نکاح کرلیا اور سواری پر اپنے ساتھ بٹھا کر مدینہ لائے۔

3819Mishkaat-al-Masabih

سفر سے آنحضرت ﷺ کی واپسی کا وقت

وعنه قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم لا يطرق أهله ليلا وكان لا يدخل إلا غدوة أو عشية

اور حضرت انس کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ اپنے گھر والوں کے پاس ( سفر سے) رات کے وقت واپس نہیں آیا کرتے تھے بلکہ دن کے ابتدائی حصہ میں یعنی صبح کے وقت، یا آخری حصہ میں یعنی شام کے وقت (گھر میں) داخل ہوا کرتے تھے۔ ( بخاری، مسلم )

3820Mishkaat-al-Masabih

رات کے وقت سفر سے واپس نہ آنے کی ہدایت

وعن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا طال أحدكم الغيبة فلا يطرق أهله ليلا وعنه أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إذا دخلت ليلا فلا تدخل على أهلك حتى تستحد المغيبة وتمتشط الشعثة

اور حضرت جابر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کسی کی غیر حاضری کا عرصہ طویل ہوجائے ( یعنی اس کو سفر میں زیادہ دن لگ جائیں) تو وہ ( سفر سے واپسی کے وقت) اپنے ( گھر میں) رات کے وقت داخل نہ ہو۔ ( بخاری ومسلم) تشریح شرح السنۃ میں ایک یہ روایت منقول ہے کہ حضرت ابن عباس نے بیان کیا کہ آنحضرت ﷺ کی طرف سے اس ممانعت کے بعد ( کا واقعہ ہے کہ) دو آدمیوں نے ( آنحضرت ﷺ کے اس حکم پر عمل نہیں کیا اور) اپنے سفر سے واپسی پر گھر میں داخل ہونے کے لئے رات ہی کا وقت اختیار کیا تو ( جب وہ اپنے اپنے گھر میں داخل ہوئے تو وہاں) ان میں سے ہر ایک نے اپنی بیوں کے ساتھ غیر مردوں کو پایا۔ اور حضرت جابر کہتے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ اگر تم ( سفر سے واپسی پر اپنے شہر وآبادی میں) رات کے وقت پہنچو تو اپنے گھر میں داخل نہ ہو جب تک کہ بیوی زیر ناف بالوں کو صاف نہ کرلے اور وہ بیوی کہ جس کے بال پراگندہ ہوں کنگھی چوٹی نہ کرلے۔ (بخاری ومسلم ) تشریح ان احادیث کا مطلب یہ واضح کرنا ہے کہ سفر سے واپسی کے لئے رات کا وقت اختیار کرنا نا مناسب نہیں ہے بہتر یہ ہے کہ سفر سے واپسی کی ابتداء ایسے وقت کی جائے کہ اپنے گھر والوں کے پاس رات ہونے سے پہلے پہنچ جائے تاکہ رات کے وقت گھر پہنچنے کی وجہ سے گھر والے بےآرام نہ ہوں اور ان کی نیندوں میں خلل نہ پڑے اور اگر اپنے شہر اور اپنی آبادی میں پہنچتے رات ہوجائے تو ایسی صورت میں بہتر یہ ہے کہ گھر میں داخل ہونے کے لئے اس وقت تک صبر و انتظار کرے جب تک کہ اس کی بیوی کو اس کا آنا معلوم نہ ہوجائے اور وہ بناؤ سنگار کے ذریعہ اپنے آپ کو آراستہ اور جنسی اختلاط کے لئے تیار نہ کرلے تاکہ شوہر جب اس کے پاس پہنچ جائے تو سفر کی تکان اور جدائی کی پزمردگی، جسمانی انبساط ونشاط میں تبدیل ہوجائے۔ نووی کہتے ہیں کہ یہ چیزیں ( یعنی رات کے وقت سفر سے واپسی اور کچھ دیر انتظار وصبر کئے بغیر گھر میں داخل ہوجانا) اس شخص کے حق میں مکروہ ہیں جو لمبے سفر سے واپس آ رہا ہو، ہاں جو شخص کسی چھوٹے سفر سے واپس آ رہا ہو یا اس کے گھر والوں کو رات کے وقت اس کے پونچنے کی اطلاع سے ہو تو اس کے لئے اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ جیسا کہ اوپر کی ایک حدیث ( نمبر ١٢) سے واضح ہوا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص کسی بڑے لشکر یا بڑے قافلہ میں ہو اور اس لشکر و قافلہ کی واپسی کی خبر مشہور ہوچکی ہو اور اس کی بیوی کو بھی اس کے آنے کا علم ہو ( کہ وہ لشکر و قافلہ کے ساتھ فلاں رات میں آئے گا) تو اس کے لئے بھی رات کے وقت آنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، اس لئے کہ اصل مقصد تو بیوی کا اس کے آنے سے پہلے تیار ومستعد رہنا ہے سو وہ اس صورت حال میں حاصل ہے۔ لیکن ملا علی قاری کہتے ہیں کہ اس صورت میں بھی گھر پہنچ کر پہلے دروازہ کھٹکھٹانا اور جواب کا انتظار کرنا ضروری ہوگا۔

3821Mishkaat-al-Masabih

سفر سے واپس آنے پر دعوت کرنے مسنون ہے

وعنه أن النبي صلى الله عليه و سلم لما قدم المدينة نحر جزورا أو بقرة . رواه البخاري

اور حضرت جابر کہتے ہیں کہ نبی ﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے اونٹ یا گائے ذبح کیں (بخاری و مسلم) تشریح اس حدیث سے یہ ثابت ہوا کہ سفر سے واپس آنے کے بعد ضیافت کرنا اور لوگوں کو اپنے یہاں کھانے وغیرہ پر مدعو کرنا مسنون ہے۔

3822Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت کا سفر سے واپس آنے کا وقت

وعن كعب بن مالك قال : كان النبي صلى الله عليه و سلم لا يقدم من سفر إلا نهارا في الضحى فإذا قدم بدأ بالمسجد فصلى فيه ركعتين ثم جلس فيه للناس

اور حضرت کعب ابن مالک کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ چاشت کے وقت کے علاوہ اور کسی وقت سفر سے واپس نہیں آیا کرتے تھے، چناچہ جب آپ ( سفر سے) واپس آتے تو پہلے مسجد میں تشریف لے جاتے اور وہاں بیٹھنے سے پہلے تحیۃ المسجد یا چاشت کی) دو رکعت نماز پڑھتے اور پھر لوگوں سے ملاقات کرنے کے لئے وہاں بیٹھتے۔ ( بخاری ومسلم) تشریح چاشت کے وقت الخ یہ اکثر کے اعتبار سے کہا گیا ہے یعنی چونکہ آپ اکثر وبیشتر چاشت ہی کے وقت واپس تشریف لاتے تھے اس لئے یہ بیان کیا گیا ہے کہ آپ ﷺ چاشت کے وقت کے علاوہ اور وقت واپس نہیں آتے تھے، ورنہ یہ حدیث پہلے گزر چکی ہے کہ آپ ﷺ دن کے ابتدائی حصہ یعنی صبح اور آخری حصہ شام کے وقت ہی سفر سے آیا کرتے تھے، اس سے معلوم ہوا کہ آپ ﷺ صرف صبح ہی کے وقت واپس نہیں آیا کرتے تھے بلکہ شام کے وقت بھی واپس آ جایا کرتے تھے۔

3823Mishkaat-al-Masabih

سفر واپس آنے پر پہلے مسجد میں جانے کا حکم

وعن جابر قال : كنت مع النبي صلى الله عليه و سلم في سفر فلما قدمنا المدينة قال لي : ادخل المسجد فصل فيه ركعتين . رواه البخاري

اور حضرت جابر کہتے ہیں کہ میں ( ایک) سفر میں نبی کریم ﷺ کے ہمراہ تھا، چناچہ جب ہم مدینہ واپس آئے تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ مسجد میں جاؤ اور وہاں دو رکعت نماز پڑھو۔ ( بخاری) تشریح مذکورہ بالا دونوں حدیثوں کے پیش نظر مسافر کا سفر سے واپس آنے پر پہلے مسجد میں جانا آنحضرت ﷺ سے فعلًا بھی ثابت ہوا اور قولًا بھی نیز مذکورہ بالا حکم میں نہ صرف شعائر اللہ کی تعظیم کی طرف اشارہ ہے بلکہ اس طرف بھی اشارہ ہے کہ مسجد گویا اللہ کے گھروں میں سے ایک گھر ہے اور مسجد میں جانے والا گویا اللہ سبحانہ سے ملاقات کرنے والا ہے لہٰذا جو شخص سفر سے واپس آئے اس کے حق میں اس سے بہتر اور کیا بات ہوسکتی ہے۔ کہ وہ سب سے پہلے اللہ کے گھر میں جائے اور اللہ سے ملاقات کرے جس نے اس کو سفر کی آفات سے محفوظ رکھ کر بعافیت اس کے اہل عیال کے درمیان واپس پہنچایا۔

3824Mishkaat-al-Masabih

امت کے حق میں صبح کے وقت کے لئے آنحضرت کی دعاء برکت

عن صخر بن وداعة الغامدي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اللهم بارك لأمتي في بكورها وكان إذا بعث سرية أو جيشا بعثهم من أول النهار وكان صخر تاجرا فكان يبعث تجارته أول النهار فأثرى وكثر ماله . رواه الترمذي وأبو داود والدارمي

حضرت صخر بن وداعہ الغامدی کہتے ہیں کہ ( ایک دن) رسول کریم ﷺ نے یہ فرمایا ( یعنی یوں دعا فرمائی اے اللہ! میری امت کے لئے دن کے ابتدائی حصہ میں برکت عطا فرما، یعنی اگر میری امت کے لوگ دن کے ابتدائی حصہ ( صبح) میں طلب علم میں مشغول ہوں یا اپنے ذریعہ معاش میں منہمک اور یا سفر وغیرہ کریں تو اس میں انہیں برکت حاصل ہو۔ چناچہ آنحضرت ﷺ جب کوئی چھوٹا بڑا لشکر روانہ فرماتے تو اس کو دن کے ابتدائی حصہ میں روانہ فرماتے۔ اور صخرہ جو ایک تاجر ( سوداگر) تھے ( اس دعا کی برکت حاصل کرنے کے پیش نظر) اپنا تجارتی مال دن کے ابتدائی حصہ ہی میں روانہ کرتے تھے، چناچہ وہ مال دار ہوئے اور ان کے مال میں بہت اضافہ ہوا۔ ( ترمذی، ابوداؤد، دارمی )

3825Mishkaat-al-Masabih

رات کے وقت سفر کرنے کا حکم

وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : عليكم بالدلجة فإن الأرض تطوى بالليل . رواه أبو داود

اور حضرت انس کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تم رات کے وقت چلنا اپنے لئے ضروری سمجھو کیونکہ رات کے وقت زمین لپیٹ دی جاتی ہے۔ ( ابوداؤد) تشریح مطلب یہ ہے کہ جب تم کسی سفر کے لئے گھر سے نکلو تو محض دن کے وقت چلنے پر قناعت نہ کرو بلکہ تھوڑا سا رات کے وقت بھی چلا کرو کیونکہ رات میں سفر آسانی کے ساتھ طے ہوتا ہے اور اس خیال سے مسافر کی ہمت سفر پر کوئی بار نہیں ہوتا کہ ابھی میں نے بہت تھوڑا فاصلہ کیا ہے جب کہ حقیقت میں وہ کافی فاصلہ طے کرچکا ہوتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اول تو رات کے وقت چلنے کے علاوہ اور کوئی شغل نہیں ہوتا دوسرے فاصلے کی علامات و نشانات پر نظر نہیں پڑتی اور یہ چیزیں راستہ چلنے والے کی نظر میں سفر کو بھاری کردیتی ہے چناچہ اسی مفہوم کو زمین کے لپیٹ دیئے جانے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس سے یہ واضح ہو کہ یہاں یہ مراد نہیں ہے کہ دن کے وقت بالکل چلو ہی مت، چناچہ دوسری احادیث میں یہ حکم بیان فرمایا گیا ہے کہ اپنا سفر دن کے ابتدائی حصہ اور آخری حصہ میں طے ( کرنے کی کوشش) کرو اور کچھ حصہ رات کے وقت بھی چلو۔

3826Mishkaat-al-Masabih

سفر میں کم سے کم تین آمیوں کا ساتھ ہونا چاہئے

وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : الراكب شيطان والراكبان شيطانان والثلاثة ركب . رواه مالك والترمذي وأبو داود والنسائي

اور حضرت عمرو ابن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ ایک سوار ایک شیطان ہے، دو سوار دو شیطان ہیں اور تین سوار، سوار ہیں۔ ( مالک، ترمذی، ابوداؤد، نسائی) تشریح تین سوار سوار ہیں کا مطلب یہ ہے کہ تین سوار اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کو سوار کہا جائے کیونکہ وہ شیطان کی فریب کاریوں سے محفوظ رہتے ہیں۔ گویا اس طرح ایک یا دو سوار کو سفر کرنے سے منع کیا گیا ہے اور یہ واضح کیا گیا ہے کہ سفر میں کم سے کم تین ساتھیوں کا ہونا ضروری ہے اس لئے کہ تنہا سفر کرنے میں ایک نقصان تو یہ ہے کہ جماعت فوت ہوجاتی ہے اور دوسرے یہ کہ اگر اس کو کوئی ضرورت وحادثہ پیش آجائے تو اس کا کوئی مددگار نہیں ہوتا اور وہ ہر معاملے میں درماندہ رہتا ہے، اسی طرح اگر محض دو ساتھی سفر کریں تو اس صورت میں اگر خدانخواستہ یہ بات پیش آجائے کہ ایک ساتھی بیمار ہوجائے یا مرجائے تو دوسرا ساتھی سخت مضطر اور پریشان ہوگا اور یہ چیز شیطان کی خوشی کا باعث ہے یا یہ مراد ہے کہ اگر کوئی شخص تنہا سفر کرے یا سفر کے دو ہی ساتھی ہوں تو شیطان کو بڑی آسانی کے ساتھ یہ موقع ملتا ہے کہ وہ ان کو گمراہ کرے اور برائی میں مبتلا کرے، اسی بات کو زیادہ سے زیادہ اہمیت کے ساتھ بیان کرنے کے لئے ایک سوار یا دو سوار کو شیطان فرما دیا گیا ہے۔ بہر حال حدیث کا حاصل یہ ہے کہ سفر میں کم سے کم تین آدمی ہونے چاہئیں تاکہ اول تو وہ جماعت سے نماز ادا کریں اور دوسرے یہ کہ اگر ایک شخص کو دوران سفر کسی ضرورت سے کہیں جانا پڑے تو دو باقی رہیں اور آپس میں ایک دوسرے کی دلبستگی و اطمینان کا ذریعہ بنیں اور اگر اس شخص کے آنے میں تاخیر ہوجائے تو ان دونوں میں سے ایک اس کی خبر لینے اور تاخیر کا سبب جاننے کے لئے چلا جائے اور دوسرا سامان وغیرہ کی دیکھ بھال کرتا رہے۔

3827Mishkaat-al-Masabih

سفر میں ایک سے زائد لوگ ہونے کی صورت میں کسی ایک رفیق سفر کو امیر بنا لیا جائے

وعن أبي سعيد الخدري أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إذا كان ثلاثة في سفر فليؤمروا أحدهم . رواه أبو داود

اور ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ اگر ( مثلا سفر میں) تین شخص ہوں تو ان میں سے کسی ایک کو امیر بنا لینا چاہئے۔ ( ابوداؤد ) تشریح تین شخص سے مراد جماعت ہے کہ جس کا ادنیٰ درجہ تین ہے، ویسے یہ حکم اس صورت کے متعلق بھی ہے جب کہ دو آدمی بھی ساتھ سفر کر رہے ہوں، یہاں تین کے ذکر پر اکتفا اس لئے کیا گیا ہے کہ پہلے ایک حدیث میں بیان فرمایا جا چکا ہے کہ دو سوار شیطان ہوتے ہیں۔ بہرحال حدیث کا حاصل یہ ہے کہ اگر کسی سفر میں ایک سے زائد لوگ ہوں تو اس صورت میں ان میں سے ایک شخص کو اپنا امیر و سردار مقرر کرلیا جائے جو سب سے افضل ہو اور کسی کو امیر و سردار بنا لینے کا حکم اس لئے دیا گیا ہے کہ اگر دوران سفر کسی معاملہ میں آپس میں کوئی نزاعی صورت پیدا ہوجائے تو اس امیر و سردار کی طرف رجوع کرلیا جائے اور وہ جو فیصلہ کرے اس کو تسلیم کر کے اپنے نزاع کو ختم کردیا جائے۔ امیر و سردار کے لئے یہ ضروری ہوگا کہ وہ اپنے تمام رفقاء سفر کے حق میں خیر خواہ، مہربان اور غمگسار ہو اور اپنی سرداری کو اپنے لئے محض وجہ افتخار سمجھ کر کسی بڑائی میں مبتلا نہ ہو بلکہ حقیقی معنی میں اپنے آپ کو اس کا خادم سمجھے جیسا کہ فرمایا گیا ہے۔ حدیث (سید القوم فی السفر خادمہم) یعنی کسی جماعت کا سردار اصل میں اپنی جماعت کا خدمت گزار ہوتا ہے۔

3828Mishkaat-al-Masabih

بہترین رفقاء سفر

وعن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : خير الصحابة أربعة وخير السرايا أربعمائة وخير الجيوش أربعة آلاف ولن يغلب اثنا عشر ألفا من قلة . رواه الترمذي وأبو داود والدارمي وقال الترمذي : هذا حديث غريب

اور حضرت ابن عباس نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا (مثلًا کسی سفر کے) بہترین لشکر وہ ہے جس میں چار سو (مجاہد ہوں ) اور بڑے لشکروں میں بہترین لشکر وہ ہے جس میں بارہ ہزار (مجاہد) ہوں اور بارہ ہزار (مجاہد) کم ہونے کی وجہ سے کبھی مغلوب نہیں ہوتے (ترمذی، ابوداؤد، دارمی) نیز ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔ تشریح چار رفقاء اور ساتھیوں کو بہترین اس اعتبار سے فرمایا گیا ہے کہ فرض کیجئے اگر ان چاروں میں سے کوئی ایک بیمار ہوجائے اور وہ اپنی زندگی سے مایوس ہو کر اپنے ان تین ساتھیوں میں سے کسی ایک ساتھی کو کوئی وصیت کرے تو باقی دو ساتھی اس کی وصیت کے گواہ ہوجائیں۔ ویسے علماء نے لکھا ہے پانچ ساتھی، چار ساتھیوں سے بہتر ہوتے ہیں بلکہ پانچ سے بھی جتنے زیادہ ہوں گے اتنے ہی بہتر ہوں گے اور یہاں حدیث میں چار کا ذکر کر کے گویا ادنیٰ درجہ بیان کیا گیا ہے۔ مغلوب نہیں ہوتے کا مطلب یہ ہے کہ بارہ ہزار مجاہدین کے لشکر کی طاقت ایک بڑی طاقت ہوتی ہے اتنے زیادہ مجاہدین دشمن کے مقابلے پر بھی مغلوب نہیں ہوں گے اور اگر مغلوب بھی ہوں گے تو تعداد کی کمی کی وجہ سے تو ہوں گے نہیں کیونکہ بارہ ہزار کا عدد کمی کی حد سے نکل گیا ہے البتہ کسی اور سبب سے مغلوب ہوں گے۔ جیسے اپنی تعداد و طاقت پر بیجا اتراہٹ اور غرور وتکبر وغیرہ۔