اپنے رفقاء سفر کے ساتھ آنحضرت ﷺ کا معمول
وعن جابر قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يتخلف في المسير فيزجي الضعيف ويردف ويدعو لهم . رواه أبو داود
اور حضرت جابر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ (سفر کے دوران) چلتے وقت (تواضع و انکسار کی وجہ سے اور دوسروں کی مدد وخبر گیری کے پیش نظر قافلے سے) پیچھے رہا کرتے تھے چناچہ آپ ﷺ کمزور (کی سواری) کو ہانکا کرتے (تاکہ وہ ہمراہیوں کے ساتھ مل جائے) اور جو کمزور و ضعیف شخص سواری سے محروم ہونے کی وجہ سے پیدل چلتا ہو اس کو پیچھے سوار کرلیتے اور ان (قافلہ والوں) کے لئے دعا کرتے رہتے۔ (ابو داؤد)
منزل پر پہنچ کر تمام رفقاء سفر کو ایک جگہ ٹھہرنا چاہئے
وعن أبي ثعلبة الخشني قال : كان الناس إذا نزلوا منزلا تفرقوا في الشعاب والأودية فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن تفرقكم في هذه الشعاب والأودية إنما ذلكم من الشيطان . فلم ينزلوا بعد ذلك منزلا إلا انضم بعضهم إلى بعض حتى يقال : لو بسط عليهم ثوب لعمهم . رواه أبو داود
اور حضرت ثعلبہ خشنی کہتے ہیں کہ (پہلے عام طور پر ایسا ہوتا تھا کہ لوگ یعنی صحابہ) جب کسی منزل پر اترتے تو الگ الگ ہو کر پہاڑی دروں اور وادیوں میں پھیل جاتے تھے (یعنی کوئی کہیں اترتا اور کوئی کہیں) چناچہ رسول کریم ﷺ نے (اس طریقہ کو ختم کرنے کے لئے بایں طور پر فرمایا) کہ سمجھ لو تمہارا اس طرح ان دروں اور وادیوں میں الگ الگ ہو کر اترنا محض شیطان کی طرف سے ہے (یعنی یہ شیطان کے فریب کے سبب سے ہے کہ وہ تمہیں الگ الگ کردینا چاہتا ہے تاکہ دشمن تم پر قابو پالے اور تمہیں نقصان اور آزار پہنچائے اس ارشاد کے بعد لوگ جب بھی کسی منزل پر اترتے تو آپس میں اتنے پاس پاس ٹھہرتے کہ کہا جانے لگا کہ اگر ان سب پر ایک ہی کپڑا پھیلا دیا جائے تو وہ سب کو ڈھانک لے۔ (ابو داؤد )
آنحضرت ﷺ کے کمال انکسار کا مظہر ایک واقعہ
وعن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال : كنا يوم بدر كل ثلاثة على بعير فكان أبو لبابة وعلي بن أبي طالب زميلي رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : فكانت إذا جاءت عقبة رسول الله صلى الله عليه و سلم قالا : نحن نمشي عنك قال : ما أنتما بأقوى مني وما أنا بأغنى عن الأجر منكما . رواه في شرح السنة
اور حضرت عبداللہ ابن مسعود کہتے ہیں کہ بدر کے دن (یعنی جنگ بدر میں موقع پر) ہماری یہ حالت تھی کہ ہم میں سے ہر تین آدمی ایک اونٹ پر سوار ہوتے تھے یعنی تین تین آدمیوں میں ایک اونٹ تھا کہ وہ تینوں باری باری ایک اونٹ پر سوار ہوتے تھے) اور ابولبابہ اور حضرت علی رسول کریم ﷺ کے اونٹ میں شریک سفر تھے! حضرت عبداللہ نے بیان کیا کہ صورت حال یہ تھی کہ جب (اس اونٹ پر) رسول کریم ﷺ کے اترنے کی باری آتی تو ابولبابہ اور حضرت علی عرض کرتے کہ آپ ﷺ کے بدلے ہم پیدل چلیں گے۔ (آپ ﷺ اونٹ ہی پر سوار رہیں) لیکن آنحضرت ﷺ فرماتے کہ نہ تو تم (اس دنیا کی مجھ سے زیادہ طاقت رکھتے ہو (کہ بس تم پیدل چلنے کی طاقت رکھتے ہو اور میں پیدل نہیں چل سکتا) اور نہ میں (آخرت کا) زیادہ ثواب حاصل کرنے میں تم سے بےپرواہ ہوں (یعنی میں آخرت کے اجر وثواب کا تم سے کم محتاج نہیں ہوں۔ (شرح السنۃ )
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ کمال انکسار و تواضح کے کس بلند مقام پر تھے اور یہ کہ آپ ﷺ اپنے رفقاء اور ساتھیوں کے حق میں کسی قدر مہربان اور خیرخواہ تھے کہ ان کی راحت کو کبھی ترجیح نہیں دیتے تھے نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر آنحضرت ﷺ اللہ کے نبی اور رسول ہونے کی حیثیت سے معصوم عن الخطا تھے اور اللہ کے محبوب بندے تھے مگر اس کے باوجود آپ ﷺ بارگاہ الوہیت میں اپنی عبدیت کے اقرار کے طور پر اللہ کی طرف سے اپنے احتیاج اور اس کے حضور میں اپنی مکمل بیچارگی کو ظاہر فرمایا کرتے تھے۔
سواری کے جانوروں کے بارے میں ایک حکم
وعن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لا تتخذوا ظهور دوابكم منابر فإن الله تعالى إنما سخرها لكم لتبلغكم إلى بلد لم تكونوا بالغيه إلا بشق الأنفس وجعل لكم الأرض فعليها فاقضوا حاجاتكم . رواه أبو داود
اور حضرت ابوہریرہ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جانوروں کی پشت کو منبر نہ بناؤ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جانوروں کو محض اس لئے تمہارے تابع کیا ہے کہ وہ تمہیں ان شہروں اور علاقوں میں پہنچا دیں جہاں تم (پیدل چلنے کے ذریعہ) جانی مشقت و محنت کے ساتھ ہی پہنچ سکتے تھے) یعنی جانوروں سے مقصود ان پر سواری کرنا اور ان کے ذریعہ اپنے مقصد کو حاصل کرنا ہے لہٰذا ان کو ایذاء پہنچانا روا نہیں ہے) اور اللہ تعالیٰ نے زمین کو تمہارے لئے (اسی غرض سے) پیدا کیا ہے لہٰذا تم اس پر کاموں اور اپنی حاجتوں کو پورا کرو۔ (ابو داؤد)
تشریح
جانوروں کی پشت کو منبر نہ بناؤ کا مطلب یہ ہے کہ باتیں کرنے کے لئے جانور کی پشت پر سوار ہو کے نہ کھڑے رہو بلکہ اگر کسی سے بات کرنی ہے تو اس کی پشت پر سے اتر کر اپنی حاجت پوری کرو اور پھر اس پر سوار ہو، لیکن یہ حکم اس صورت میں ہے جب کہ سواری کے علاوہ جانور کی اور کوئی حاجت یا اس کے ساتھ کوئی اور صحیح غرض متعلق نہ ہو، ہاں اگر اس جانور سے کوئی اور صحیح غرض متعلق ہو گو اس میں کوئی مضائقہ نہیں جیسا کہ کہ یہ ثابت ہوا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حجۃ الوداع میں عرفہ کے دن اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا تھا۔ حدیث کے آخری جزو کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو اس لئے پیدا کیا کہ تم اس پر اٹھو بیٹھو اور کھڑے ہو اور اس کے علاوہ اپنی ضرورتیں پوری کرو، لہٰذا اپنے کام زمین پر ہی کرو سواری کے جانور کی پشت پر سوائے سوار ہونے کے کہ وہ تمہیں منزل مقصود پر پہنچا دے اور کوئی کام نہ کرو۔
صحابہ کے نزدیک سواری کے جانوروں کی دیکھ بھال کی اہمیت
وعن أنس قال : كنا إذا نزلنا منزلا لا نسبح حتى نحل الرحال . رواه أبو داود
اور حضرت انس کہتے ہیں کہ جب ہم (دوران سفر یا سفر کے بعد) کسی منزل اترتے تو اس وقت تک نفل نہ پڑھتے تھے جب کہ جانوروں پر سے سامان نہ کھول لیا جاتا۔ (ابو داؤد)
تشریح
سبحہ اور تسبیح کا اطلاق اکثر نفل نماز پر ہوتا ہے لیکن بعض حضرات کہتے ہیں کہ یہاں نماز چاشت ہی مراد ہے کہ اس زمانے میں عام طور پر منزلوں پر اترنے کا وقت یہی چاشت کا وقت ہوتا ہے تھا۔ بہرحال حدیث کا مطلب یہ بتانا ہے کہ باوجودیکہ صحابہ نماز کا بہت زیادہ اہتمام و خیال رکھتے تھے لیکن وہ اپنے جانوروں کی دیکھ بھال کے اہتمام کو بھی پہلے ملحوظ رکھتے تھے۔
وعن بريدة قال : بينما رسول الله صلى الله عليه و سلم يمشي إذا جاءه رجل معه حمار فقال : يا رسول الله اركب وتأخر الرجل فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا أنت أحق بصدر دابتك إلا أن تجعله لي . قال : جعلته لك فركب . رواه الترمذي وأبو داود
اور حضرت بریدہ کہتے کہ رسول کریم ﷺ (ایک سفر میں) پیدل راستہ طے کر رہے تھے کہ اس دوران اچانک ایک شخص اپنے گدھے کے ساتھ، یعنی اس پر سوار) آپ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! (میرے گدھے پر) سوار ہوجایئے۔ اور (یہ کہہ کر) وہ شخص گدھے کی پشت پر) پیچھے سرک گیا (تا کہ آنحضرت ﷺ آگے بیٹھ جائیں) لیکن آپ نے فرمایا کہ میں آگے نہیں بیٹھوں گا کیونکہ (اپنی سواری کے) جانور پر آگے بیٹھنے کے تم ہی مستحق ہوا الاّ یہ کہ تم مجھے اس کا حقدار بنادو (یعنی اگرچہ اس شخص کا پیچھے سرکنا اسی لئے تھا۔ کہ گویا اس نے آپ کو آگے بیٹھے رہنے کا حقدار بنادیا تھا مگر آنحضرت ﷺ نے کمال احتیاط کے پیش نظر اس پر واضح کیا کہ میں تمہاری سواری پر آگے اسی وقت بیٹھ سکتا ہوں جب کہ تم صریح الفاظ میں مجھ سے آگے بیٹھنے کے لئے کہو، اس شخص نے کہا کہ (میں صراحت کے ساتھ یہ کہتا ہوں کہ) آپ کو میں نے اس کا حقدار بنادیا۔ اس کے بعد آنحضرت ﷺ (اس کے آگے بیٹھ گئے۔ (ترمذی، ابوداؤد)
تشریح
اس حدیث سے جہاں آنحضرت ﷺ کا یہ احساس انصاف وحق شناسی ظاہر ہوا کہ آپ ﷺ نے اس وقت تک اس شخص کی سواری پر آگے بیٹھنے سے انکار کردیا جب تک کہ اس نے صراحت کے ساتھ اپنی سواری پر آگے بیٹھنے کے اپنے حق کو آپ کی طرف منتقل نہ کردیا وہیں آنحضرت ﷺ کا وصف تواضع و انکسار بھی پورے کمال کے ساتھ ثابت ہوا کہ آپ ﷺ نے اس شخص کے پیچھے بیٹھنے میں کوئی عار محسوس نہیں کیا اور اس پر راضی ہوئے۔
شیطانی اونٹ اور شیطانی گھر
وعن سعيد بن أبي هند عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : تكون إبل للشياطين وبيوت للشياطين . فأما إبل الشياطين فقد رأيتها : يخرج أحدكم بنجيبات معه قد أسمنها فلا يعلو بعيرا منها ويمر بأخيه قد انقطع به فلا يحمله وأما بيوت الشياطين فلم أرها كان سعيد يقول : لا أراها إلا هذه الأقفاص التي يستر الناس بالديباج . رواه أبو داود
اور حضرت سعید ابن ابوہند (تابعی) حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے یہ بیان کیا کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا (کچھ) اونٹ شیطانوں کے لئے ہوجاتے ہیں اور (کچھ) گھر شیطانوں کے لئے ہوجاتے ہیں۔ چناچہ جو اونٹ شیطانوں کے لئے ہوجاتے ہیں ان کو میں نے دیکھا ہے (جیسے) تم سے کوئی شخص عمدہ قسم کی اونٹنیوں کو لے کر نکلتا ہے جن کو اس نے خوب فربہ کیا لیکن ان میں سے کسی اونٹ پر سوار نہیں ہوتا ہے اور جب (کسی سفر میں) اپنے اس مسلمان بھائی کے ساتھ راستہ طے کرتا ہے جو (اپنی کمزوری اور سواری سے محرومی کی وجہ سے) چلتے چلتے تھک گیا ہے تو اس کو (بھی) اس اونٹ پر سوار نہیں کرتا۔ اور جو گھر شیطانوں کے لئے ہوجاتے ہیں ان کو میں نے نہیں دیکھا ہے۔ حدیث کے راوی حضرت سعید کہتے ہیں کہ میرا گمان یہ ہے کہ وہ گھر (جو شیطانوں کے لئے ہوجاتے ہیں) وہ پنجرے ہیں جن کو لوگ ریشمی کپڑوں (کے پردوں سے) ڈھانکتے ہیں۔ (ابو داؤد )
تشریح
جو اونٹ شیطانوں کے ہوجاتے ہیں الخ کا حاصل یہ ہے کہ اونٹوں کا اصل مقصد تو یہ ہے کہ ان کو سواری اور بار برداری کے مصرف میں لایا جائے اور اللہ نے اس کو اسی لئے پیدا کیا ہے کہ ان کے ذریعہ اپنی بھی سفری ضروریات پوری کی جائیں اور دوسرے ضرورت مند مسلمانوں کو بھی ان سے نفع پہنچایا جائے، لیکن اگر کوئی شخص ان کو خوب موٹا تازہ کر کے محض اظہار تفاخر اور نام آوری کے لئے رکھتا ہے اور ان کو اپنے سفر میں اپنی یا اپنے کسی ضرورت مند مسلمان بھائی کے رفع احتیاج کے لئے نہیں بلکہ کو تل رکھتا ہے تو اس طرح اس نے اس اونٹ کو نہ تو اپنے مصرف میں لا کر اور نہ کسی تھکے ہوئے مسلمان بھائی کی راحت کا ذریعہ بنا کر گویا شیطان کی اطاعت کی اور شیطان کو خوش کیا اس لئے وہ اونٹ گویا شیطان کے لئے ہوگیا، اس سے معلوم ہوا کہ کو تل گھوڑا ممنوع ہے اور گویا وہ شیطانی گھوڑا ہوتا ہے۔ بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ حدیث کا جزء (فاما ابل الشیطین) (چنانچہ جو اونٹ شیطانوں کے لئے ہوتے ہیں الخ) دراصل حدیث کے راوی یعنی حضرت ابوہریرہ ؓ کے اپنے الفاظ ہیں اور رسول اللہ ﷺ کی اصل حدیث صرف ماقبل کی مجمل عبارت ہے یعنی حدیث (یکون ابل للشیاطین وبیوت للشیاطین) اور بعض حضرات نے یہ کہا ہے کہ (جیسا کہ ترجمہ سے ظاہر ہوا) اصل حدیث فلم ارھا (ان کو میں نے نہیں دیکھا ہے) تک ہے! اسی قول کو ملا علی قاری نے بھی پسند کیا ہے۔ شیطانی گھروں سے مراد یا تو عماریاں اور ہودج ہیں جن کو بعض لوگ ریشمی کپڑوں سے آراستہ پیراستہ رکھتے ہیں یا وہ گھر ہیں جن کو ریشمی کپڑوں کی دیوار گیریوں کے ساتھ مزین کیا گیا ہو، ظاہر ہے جہاں خود ان ہودجوں یا گھروں کی ممانعت مقصود نہیں ہے بلکہ ان کو ریشمی کپڑوں کے ساتھ سجانے اور مزین کرنے کے سبب سے ان کی برائی بیان کی گئی ہے جس میں نہ صرف مال کی بربادی اور اسراف ہی ہے بلکہ اظہار تفاخر اور ریا بھی ہے۔
کہیں پڑاؤ ڈالو تو وہاں نہ زیادہ جگہ گھیرو اور نہ راستہ روکو
وعن سهل بن معاذ عن أبيه قال : غزونا مع النبي صلى الله عليه و سلم فضيق الناس المنازل وقطعوا الطريق فبعث نبي الله صلى الله عليه و سلم مناديا ينادي في الناس : إن من ضيق منزلا أو قطع طريقا فلا جهاد له . رواه أبو داود
اور حضرت سہل ابن معاذ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ جب ہم رسول کریم ﷺ کے ہمراہ جہاد میں گئے (اور منزل پر قیام کیا) تو لوگوں نے (اس) منزل کی (ساری جگہوں) کو تنگ کردیا اور راستہ کو کاٹ دیا (یعنی بعض لوگوں نے بلاضرورت یا ضرورت سے زیادہ جگہوں پر قبضہ کرلیا جسکی وجہ سے دوسرے لوگوں کو جگہ کی تنگی ہوگئی اس طرح راستہ بھی تنگ ہوگیا جس سے آنے جانے والوں کو پریشانی ہونے لگی ( چناچہ یہ دیکھ کر نبی کریم ﷺ نے ایک منادی کرنے والے کو لوگوں کے درمیان بھیج کر یہ اعلان کرایا کہ جس شخص نے منزل کی ( جگہوں) کو تنگ کیا یا راستے کو کاٹا تو لوگوں کو ضرر و تکلیف پہنچانے کی وجہ سے) اس کو جہاد کا ثواب نہیں ملے گا۔ (ابو داؤد)
سفر سے واپسی کا بہترین وقت
وعن جابر رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن أحسن ما دخل الرجل أهله إذا قدم من سفر أول الليل . رواه أبو داود
اور حضرت جابر نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا سفر سے واپس آنے والے مرد کے لئے اپنے گھر والوں کے پاس پہنچنے کا بہترین وقت رات کا ابتدائی حصہ ہے۔ (ابو داؤد)
تشریح
یہ اس صورت میں ہے جب کہ قریب کا سفر ہو چناچہ پہلے جو یہ گذرا ہے کہ سفر سے واپسی میں رات کے وقت اپنے گھر نہ آنا چاہئے تو اس کا تعلق دور کے سفر سے ہے! اور نووی یہ کہتے ہیں کہ اگر دور کا بھی سفر ہو اور اس کے آنے کی اطلاع اس کی گھر والوں کو دن میں مل چکی ہو تو رات کے وقت آنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ بعض حضرات یہ فرماتے ہیں کہ گھر والوں کے پاس پہنچنے سے گھر والی کے پاس آنا یعنی جماع مراد ہے کیونکہ مسافر کا جنسی جذبہ بہت زیادہ بیدار ہوجاتا ہے لہٰذا جب وہ سفر سے واپس ہو کر رات کے ابتدائی حصہ ہی میں جماع سے فارغ ہوجائے گا تو پھر سکون و آرام کے ساتھ سوئے گا بھی اور بیوی کا حق بھی جلدی ادا ہوجائے گا۔
سفر کے دوران رات میں آنحضرت ﷺ کے آرام کرنے کی کیفیت
عن أبي قتادة قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا كان في سفر فعرس بليل اضطجع على يمينه وإذا عرس قبيل الصبح نصب ذراعه ووضع رأسه على كفه . رواه مسلم
اور حضرت ابوقتادہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ جب سفر میں ہوتے تو (کسی پڑاؤ پر) رات کے آخری حصہ میں (یعنی طلوع سحر سے) پہلے اترتے اور دائیں کروٹ پر لیٹے رہتے اور جب صبح سے کچھ پہلے اترتے تو اپنا (داہنا) ہاتھ کر کے اس کی ہتھیلی پر اپنا سر رکھ کر لیٹتے (یعنی کچھ دیر کے لئے اس انداز میں آرام فرماتے تاکہ نیند غالب نہ آجائے۔ (مسلم )
صبح کے وقت سفر شروع کرنے کی فضیلت
وعن ابن عباس قال : بعث النبي صلى الله عليه و سلم عبد الله بن رواحة في سرية فوافق ذلك يوم الجمعة فغدا أصحابه وقال : أتخلف وأصلي مع رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم ألحقهم فلما صلى مع رسول الله صلى الله عليه و سلم رآه فقال : ما منعك أن تغدو مع أصحابك ؟ فقال : أردت أن أصلي معك ثم ألحقهم فقال : لو أنفقت ما في الأرض جميعا ما أدركت فضل غدوتهم . رواه الترمذي
اور حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے عبداللہ بن رواحہ (جہاد) کے لئے ایک چھوٹے لشکر کے ساتھ روانہ کیا، اتفاق سے وہ جمعہ کا دن تھا جس ( میں آنحضرت ﷺ نے ان کو جہاد کے لئے جانے کا حکم دیا تھا) چناچہ ان کے ساتھی (یعنی لشکر کے لوگ) صبح کے وقت روانہ ہوئے لیکن عبداللہ نے (اپنے دل میں سوچا یا کسی ساتھی سے کہا کہ میں بعد میں روانہ ہوں گا میں (پہلے یہاں مدینہ میں) رسول کریم ﷺ کے ہمراہ جمعہ کی نماز پڑھوں گا پھر لشکر والوں سے جا ملوں گا۔ جب عبداللہ رسول کریم ﷺ کے ہمراہ جمعہ کے نماز پڑھ چکے اور آنحضرت ﷺ نے ان کو دیکھا (کہ وہ ابھی یہاں ہی موجود ہیں) تو فرمایا کہ تمہیں صبح کے وقت اپنے ساتھیوں کے ساتھ جانے سے کس چیز نے روکا؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے یہ چاہا (میں جمعہ کی نماز آپ کے ساتھ پڑھ لوں اور پھر اپنے ساتھیوں سے جا ملوں۔ آنحضرت ﷺ نے (یہ سن کر) فرمایا تم روئے زمین پر ساری چیزوں کو بھی خرچ کرو تو صبح کے وقت جانے والے اپنے ساتھیوں کے برابر ثواب حاصل نہیں کرسکو گے۔ (ترمذی)۔
چیتے کی کھال استعمال کرنا ممنوع ہے
وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تصحب الملائكة رفقة فيها جلد نمر . رواه أبو داود
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اس قافلے کے ساتھ رحمت کے فرشتے نہیں ہوتے جس میں چیتے کی کھال ہو۔
تشریح
یعنی چیتے کی کھال پر سوار کو بیٹھنا یا اس کو استعمال کرنا ممنوع ہے کیونکہ اس سے تکبر کی شان پیدا ہوتی ہے۔ (ابو داؤد)
امیر سفرکو رفقاء سفر کا خادم ہونا چاہئے
وعن سهل بن سعد رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : سيد القوم في السفر خادمهم فمن سبقهم بخدمة لم يسبقوه بعمل إلا الشهادة . رواه البيهقي في شعب الإيمان
اور حضرت سہل بن سعد کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا سفر میں جماعت (یعنی سفر کرنے والوں) کا امیر و سردار ان کا خادم ہے۔ لہذا جو شخص ان (سفر کرنے والوں کی) خدمت میں سبقت لے گیا اس کے مقابلہ میں کوئی شخص شہادت کے علاوہ اور کسی عمل کے ذریعہ سبقت نہیں لے جاسکتا۔ (بہیقی)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ امیر و حاکم کو چاہئے کہ وہ قوم کی خدمت کرے ان کے مصالح پر نظر رکھے ان کے ظاہری و باطنی حالات کی رعایت ملحوظ رکھے اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ مراد یہ ہے کہ جو بھی شخص اپنی قوم اور اپنی جماعت کی خدمت میں لگا رہے۔ تو حقیقت میں وہی شخص کثرت ثواب کی بنا پر اس قوم و جماعت کا سردار ہے اگرچہ دیکھنے میں وہ پوری قوم و جماعت میں کتنی ہی کمتر حیثیت کا کیوں نہ ہو کیونکہ خدمت میں قوم کے علاوہ اور کوئی عمل افضل نہیں الاّ یہ کہ کوئی شخص اللہ کی راہ میں لڑے اور شہادت کا درجہ پائے۔