پاکی کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 4 · 226 hadiths · Page 6 of 12

367Mishkaat-al-Masabih

مسواک کرنے بیان

وَعَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدِ الْجُھَنِی قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَقُوْلُ لَوْ لَا اَنْ اَشُقَّ عَلٰیۤ اُمَّتِی لَاَ مَرْتُھُمْ بِالسِّوَاکِ عِنْدَ کُلِّ صِلَاۃٍ وَلَاخَّرْتُ صَلَاتَہ الْعِشَاءِ اِلَی ثُلُثِ الَّیْلِ قَالَ فَکَانَ زَیْدُ بْنُ خَالِدِ یَّشْھَدُ الصَّلٰوٰتِ فِی الْمَسْجِدِ وَسِوَاکُہُ عَلَی اُذِنِہٖ مَوْضِعَ الْقَلَمَ مِنْ اُذُنِ الْکَاتِبِ لَا یَقُوْمُ اِلَی الصَّلٰوۃِ اِلَّا اسْتَنَّ ثُمَّ رَدَّہُ اِلَی مَوْضِعِہٖ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَاَبُوْدَاؤدَ اِلَّا اَنَّہ، لَمْ یَذْکُرْ وَ لَاَخَّرْتُ صَلَاۃَ الْعِشَاءِ اِلٰی ثُلُثِ اللَّیْلِ وَ قَالَ الِّتْرمِذِیُّ ھٰذَا حَدِیْثُ حَسْنٌ صَحِیْحٌ۔(رواہ ابوداؤد الجامع ترمذی)

حضرت ابوسلمہ ؓ ( حضرت ابوسلمہ تابعی ہیں، بعمر ٧٢ سال ٩٤ ھ میں آپ کا انتقال ہوا ہے)۔ حضرت زید ابن خالد الجہنی ؓ ( حضرت زید ابن خالد جن ہی ؓ مشہور صحابی ہیں کنیت ابوعبدالرحمن بعمر ٨٥ سال بعہد عبدالملک ٧٨ ھ میں اور بعض کے خیال کے مطابق حضرت معاویہ ؓ کے آخری زمانہ میں آپ کا انتقال ہوا ہے)۔ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے سرکار دو عالم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر میں اپنی امت کے لئے اسے مشکل نہ جانتا تو میں ان کو ہر نماز کے لئے مسواک کرنے کا حکم دیتا (یعنی یہ اعلان کرتا کہ ہر نماز کے وقت مسواک کرنا واجب ہے اور عشاء کی نماز میں تہائی رات یا تاخیر کرنا۔ راوی کا بیان ہے کہ (اس کے بعد) زید ابن خالد ؓ نماز کے لئے مسجد میں آتے تو مسواک ان کے کان پر رکھی ہوتی جس طرح کاتب کے کان میں قلم رکھا رہتا ہے، جب وہ نماز کیلئے کھڑے ہوتے فوراً مسواک کرلیتے اور پھر کان پر رکھ لیتے (سنن ابوداؤد، جامع ترمذی) ابوداؤد نے لَاَخَّرْتُ صَلٰوَۃَ الْعِشَآءِ اِلٰی ثُلُثِ اللَّیْلِ کے الفاظ ذکر نہیں کئے ہیں اور امام ترمذی (رح) نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (سنن ابوداؤد، جامع ترمذی )

368Mishkaat-al-Masabih

وضو کی سنتوں کا بیان

یہاں وضو کی سنتوں سے مراد رسول اللہ ﷺ کے وہ افعال و اقوال ہیں جو آپ ﷺ سے وضو کے بارے میں منقول ہیں خواہ ان کا تعلق وضو کے فرائض سے ہو یا سنت یا آداب وضو سے۔

369Mishkaat-al-Masabih

وضو کی سنتوں کا بیان

عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم إِذَا سْتَےْقَظَ أَحَدُکُمْ مِنْ نَّوْمِہٖ فَلَا ےَغْمِسْ ےَدَہُ فِی الْاِنَآءِ حَتّٰی ےَغْسِلَھَا ثَلٰثًا فَاِنَّہُ لَا ےَدْرِیْ اَےْنَ بَاتَتْ ےَدُہُ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی آدمی سو کر اٹھے تو (اسے چاہئے کہ) اپنے ہاتھ کو پانی کے برتن میں نہ ڈالے جب تک اسے (پہنچوں تک) تین بار دھو نہ لے، اس لئے کہ اسے نہیں معلوم کہ رات بھر اس کا ہاتھ کہاں رہا۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم) تشریح اس حدیث سے ثابت ہوا کہ وضو سے پہلے ہاتھوں کو دھونا سنت ہے، جہاں تک سو کر اٹھنے کے بعد کی قید کا سوال ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ عرب میں پانی کی قلت ہوتی ہے، خاص طور پر زمانۂ نبوت میں تو پانی بہت ہی کم مقدار میں دستیاب ہوتا تھا، اس لئے اکثر و بیشتر لوگ پانی سے استنجاء نہیں کرتے تھے پہلے ڈھیلوں سے یا پتھروں سے صاف کرلیا کرتے تھے اور یہ ظاہر ہے کہ گرم ہوا کی بنا پر سوتے میں استنجاء کے مقام پر پسینہ آجاتا ہے، اس صورت میں یہ احتمال ہوتا ہے کہ رات میں سوتے وقت ہاتھ استنجاء کے مقام پر پہنچ جائے جس سے ہاتھ گندے ہوجائیں جیسا کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ سونے والے کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس کا ہاتھ رات کو سوتے وقت کہاں رہا اس لئے آپ ﷺ نے حکم دیا کہ جب کوئی آدمی سو کر اٹھے تو چاہئے کہ وہ پہلے اپنے ہاتھوں کو پانی کے برتن میں نہ ڈال دے بلکہ ہاتھ تین مرتبہ دھو ڈالے تاکہ وہ پاک و صاف ہوجائیں اس کے بعد برتن سے پانی لے کر وضو کرلے۔ بہر حال یہاں نیند کی قید تو اس لئے ہے کہ اس میں ہاتھوں کو نجاست لگنے کا احتمال ہے ورنہ ہر ایک وضو کرنے والے کو پہلے تین مرتبہ ہاتھ دھونا چاہئے اس لئے کہ علماء لکھتے ہیں کہ اس طرح ہاتھ دھونا اس آدمی کے لئے بھی سنت ہے جو سو کر نہ اٹھا ہو کیونکہ ہاتھ دھونے کا سبب یعنی ہاتھ کو نجاست و میل لگنے کا احتمال جاگنے کی حالت میں بھی موجود ہے۔ ہاتھ دھونے کا یہ حکم فرض اور واجب نہیں ہے بلکہ مسنون کے درجہ میں ہے کہ آپ ﷺ نے اس کا حکم احتیاط کے طور پر دیا ہے اگر کوئی آدمی ہاتھ نہ دھوئے تو بھی وہ پاک ہے کہ اگر بغیر دھوئے ہاتھ پانی میں ڈال دے تو اس سے پانی ناپاک و نجس نہیں ہوتا کیونکہ سوتے میں ہاتھ کا ناپاک ہونا یقینی نہیں ہے بلکہ احتمال کے درجہ کی چیز ہے مگر حضرت امام احمد بن حنبل (رح) فرماتے ہیں کہ سو کر اٹھنے کے بعد ہاتھ کا دھونا واجب ہے، اگر کوئی آدمی سو کر اٹھا اور اس نے بغیر دھوئے ہاتھ پانی میں ڈال دیا تو پانی ناپاک ہوجائے گا۔

370Mishkaat-al-Masabih

وضو کی سنتوں کا بیان

وَعَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ اِذَا اسْتَیْقَظَ اَحَدُکُمْ مِنْ مَّنَامِہٖ فَتَوَضَّأَ فَلْیَسْتَنْثِرْ ثَلَاثًا فَاِنَّ الشَّیْطَانَ یَبِیْتُ عَلَی خَیْشُوْمِہٖ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی سو کر اٹھے اور وضو کا ارادہ کرے تو تین مرتبہ (ناک میں پانی دے کر) ناک کو جھاڑے اس لئے کہ اس کی ناک کے بانسے پر شیطان رات گزارتا ہے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم) تشریح انسان کی ناک کے بانسے پر شیطان کا رہنا اور اس پر رات گزارنے کی حقیقت کیا ہے؟ اس کی حقیقت و کیفیت کا علم تو اللہ اور اس کے رسول ہی کو ہے اس کے رموز و اسرار کی معرفت سے ہماری عقلیں قاصر ہیں۔ لہٰذا ایسے امور کے معاملہ میں جن کی خبر شارع نے دی ہے۔ بہتر اور اولیٰ طریقہ یہی ہے کہ صرف ان کی صداقت کو تسلیم کرتے ہوئے ان پر ایمان لایا جائے اور ان کی حقیقت و کیفیت کے بیان کرنے میں سکوت اختیار کیا جائے۔ بعض حضرات نے اس کی بڑی دلچسپ تاویل بھی کی ہے، مثلاً یہ قاعدہ ہے کہ جب انسان سو جاتا ہے تو بخارات، رینٹھ اور گرد و غبار ناک میں جمع ہوجاتے ہیں جو دماغ کا قریبی حصہ ہے اس کی بنا پر دماغ جو حو اس و شعور کی جگہ ہے مکدر ہوجاتا ہے اور یہ چیز تلاوت قرآن کے آداب کو کماحقہ، ادا کرنے اور اس کے معنی و مطلب کے سمجھنے میں مانع ہوتی ہے، نیز یہ عبادات کی ادائیگی میں سستی اور کسل کا باعث بھی ہے اور ظاہر ہے کہ یہ تمام چیزیں شیطان کی منشاء کے عین مطابق اور اس کی خوشی کا باعث ہیں، اس لئے اس مشابہت سے کہا گیا ہے کہ سونے والے کی ناک کے بانسہ کے اوپر رات بھر شیطان بیٹھا رہتا ہے۔ بہر حال یہ احتمالات ہیں، ان پر بھی کوئی یقینی حکم نہیں لگایا جاسکتا اس لئے بہتر اور اولیٰ طریقہ وہی ہے جو پہلے ذکر کیا گیا ہے۔

371Mishkaat-al-Masabih

وضو کی سنتوں کا بیان

وَقِیْلَ لْعَبْدِ اﷲِ بْنِ زَیْدِ بْنِ عَاصِمٍ کَیْفَ کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَتَوَضَّأُ فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَاَفْرَغَ عَلَی یَدَیْہِ فَغَسَلَ یَدَیْہِ مَرَّتَیْنِ مَرَّتَیْنَ ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ وَجْھَہ، ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلً یَدَیْہِ مَرَّتَیْنِ اِلَی الْمِرْفَقَیْنِ ثُمَّ مَسَحَ رَّأسَہُ بِیَدِہٖ فَاَقْبَلَ بِھِمَا وَاَدْبَرَ بَدَأ بِمُقَدَّمِ رَأسِہِ ثُمَّ ذَھَبَ بِھِمَا اِلَی قَفَاہُ ثُمَّ رَدَّھُمَا حَتّٰی رَجَعَ اِلَی الْمَکَانِ الَّذِیْ بَدَأَ مِنْہُ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَیْہِ رَوَاہُ مَالِکٌ وَالنِّسَائِیُّ وَالِاَبِی دَاؤدَ نَھْوَہُ ذَکَرَہ، صَاحِبُ الْجَامِعِ وَفِی الْمُتَّفَقَ عَلَیْہِ قَیْلَ لِعَبْدِ اﷲِ بْنِ زَیْدِ بْنِ عَاصِمٍ تَوَضَّا لَنَا وُضُوْءَ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم فَدَعَا بِاِنَآءٍ فَاَ کْفَأَ مِنْہُ عَلٰی یَدَ ْیہٖ فَغَسَلَھُمَا ثَلَاثًا ثُمَّ اَدْخَلَ یَدَہُ فَاسْتَخْرَجَھَا فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مِنْ کَفٍ وَاحِدَۃٍ فَفَعْلَ ذٰلِکَ ثَلَاثًا ثُمَّ اَدْخَلَ یَدَہ، فَاسْتَخْرَجَھَا فَغَسَلَ وَجْھَہُ ثَلَاثًا ثُمَّ اَدْخَلَ یَدَہُ فَاسْتَخْرَجَھَا فَغَسَلَ یَدَیْہِ اِلَی الْمِرْفَقَیْنِ مَرَّتَیْنِ مَرَّتَیْنِ ثُمَّ اَدْخَلَ یَدَہُ فَاسْتَخْرَجَھَا فَمَسَحَ بِرَأسِہٖ فَاَقْبَلَ بِیَدِیْہٖ وَاَدْبَرَثُمَّ غَسَلَ رِجْلَیْہٖ اِلَی الْکَعْبَیْنِ ثُمَّ قَالَ ھٰکَذَا کَانَ وُضُوْءُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم وَفِیْ رَوَاےَۃٍ فَاَقْبَلَ بِھِمَا وَاَدْبَرَ بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأَسِہٖ ثُمَّ ذَھَبَ بِھِمَا اِلٰی قَفَاہُ ثُمَّ رَدَّھُمَا حَتّٰی رَجََعَ اِلَی الْمَکَانِ الَّذِیْ بَدَأَ مِنْہُ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَےْہِ وَفِیْ رَوَاےَۃٍفَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلٰثًا بِثَلٰثِ غُرُفَاتٍ مِّنْ مَّآءٍ وَّفِیْ اُخْرٰی فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مِنْ کَفَّۃٍ وَّاحِدَۃٍ فَفَعَلَ ذٰلِکَ ثَلٰثًا وَفِیْ رِوَاےَۃٍ لِّلْبُخَارِیِّ فَمَسَحَ رَأْسَہُ فَاَقْبَلَ بِھِمَا وَاَدْبَرَ مَرَّۃً وَّاحِدَۃً ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَےْہِ اِلَی الْکَعْبَےْنِ وَفِیْ اُخْرٰی لَہٌ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلٰثَ مَرَّاتٍ مِّنْ غُرْفَۃٍ وَّاحِدَۃٍ۔

اور حضرت عبداللہ بن زید بن عاصم ؓ (اسم گرامی عبداللہ بن زید بن عاصم ہے ابن ام عمارہ کے نام سے مشہور ہیں، ابومحمد کنیت ہے، آپ بزمانہ یزید ٦٤ ھ میں شہید ہوئے۔ ؓ۔ سے پوچھا گیا کہ سر کا ردو عالم کس طرح وضو فرمایا کرتے تھے (یہ سن کر) حضرت عبداللہ بن زید ؓ نے وضو کا پانی منگوایا (جب پانی آگیا تو) انہوں نے دونوں ہاتھوں پر (پانی) ڈالا اور انہیں پہنچوں تک) دو دو مرتبہ دھویا پھر کلی کی اور پانی ڈال کر ناک کو جھاڑا تین مرتبہ پھر اپنا منہ تین مرتبہ دھویا، پھر اپنے دونوں ہاتھ کہنیوں تک لائے یعنی انہوں نے اپنے سر کی اگلی جانب سے شروع کیا اور دونوں ہاتھوں کو گدی تک لے گئے پھر ان کو (پھیر کر) اسی جگہ واپس لائے جہاں سے شروع کیا تھا اور پھر دونوں پاؤں کو دھویا۔ (مالک، سنن نسائی، ابوداؤد) اور صحیح البخاری و صحیح مسلم میں یہ روایت اس طرح ہے کہ حضرت عبداللہ بن زید بن عاصم ؓ سے کہا گیا ہے کہ جس طرح رسول اللہ ﷺ وضو کرتے تھے اسی طرح آپ ﷺ ہمارے سامنے وضو کریں چناچہ عبداللہ بن زید ؓ نے (پانی کا) برتن منگوایا (جب پانی کا برتن آگیا تو) انہوں نے اسے جھکایا اور اس سے اپنے دونوں ہاتھوں پر پانی ڈال کر انہیں تین مرتبہ دھویا پھر ہاتھ برتن میں داخل کیا اور اس سے پانی نکالا پھر (اسی) ایک چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی دیا اس طرح انہوں نے تین مرتبہ کیا، پھر انہوں نے اپنا ہاتھ برتن میں ڈال کر پانی نکالا اور تین مرتبہ منہ دھویا، پھر انہوں نے اپنا ہاتھ برتن میں ڈال کر نکالا اور سر کا مسح (اس طرح) کیا کہ اپنے دونوں ہاتھ آگے سے پیچھے کی طرف لے گئے اور پھر پیچھے سے آگے کی طرف لائے اور پھر اپنے دونوں پاؤں کو ٹخنوں تک دھویا، پھر فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کا یہی وضو تھا اور صحیح البخاری و صحیح مسلم کی ایک روایت میں اس طرح ہے کہ (مسح کے لئے) اپنے ہاتھوں کو آگے سے پیچھے کی طرف لے گئے اور پھر پیچھے سے آگے کی طرف لائے یعنی اپنے سر کے اگلے حصہ سے (مسح) شروع کیا اور (ہاتھوں کو) گدی کی طرف لے گئے پھر گدی کی طرف سے وہیں لے آئے جہاں سے (مسح) شروع کیا تھا اور پھر اپنے پاؤں کو دھویا صحیحین کی ایک دوسری روایت میں یہ ہے کہ کلی کی ناک میں پانی دیا اور ناک تین مرتبہ جھاڑی تین چلوؤں سے ایک اور روایت کے الفاظ اس طرح ہیں کہ پس کلی کی اور ایک ہی چلو سے ناک میں پانی ڈالا۔ اس طرح تین مرتبہ کیا۔ صحیح البخاری کی روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ پس سر کا مسح کیا (اس طرح کہ) اپنے دونوں ہاتھوں کو آگے سے پیچھے کی طرف لے گئے اور آگے سے پیچھے کی طرف لے آئے اور یہ ایک مرتبہ کیا پھر دونوں پاؤں کو ٹخنوں تک دھویا بخاری ہی کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں بس کلی کی اور ناک جھاڑی تین مرتبہ صرف ایک چلو سے۔ تشریح اس حدیث کے پہلے جزء سے یہ معلوم ہوا کہ حضرت عبداللہ بن زید بن عاصم ؓ نے ہاتھوں کو دو مرتبہ دھویا حالانکہ رسول اللہ ﷺ کے بارے میں دوسری روایتوں سے یہ پتہ چلتا ہے کہ آپ ہاتھ تین مرتبہ دھوتے تھے، اس سلسلہ میں علماء کرام یہ تاویل کرتے ہیں کہ سنت تو تین ہی مرتبہ دھونا ہے مگر چونکہ دو مرتبہ بھی دھو لینا جائز ہے اس لئے حضرت عبدا اللہ بن زید ؓ نے بیان جواز کے لئے اپنے ہاتھوں کو پہنچوں تک دو مرتبہ دھویا۔ تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ دو مرتبہ دھونا جائز ہے۔ اس سلسلہ میں مرتین کا لفظ دو مرتبہ آیا ہے، حالانکہ ایک ہی مرتبہ لانا کافی تھا، اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر لفظ مرتین صرف ایک ہی مرتبہ ذکر کیا جاتا تو اس سے یہ وہم پیدا ہوسکتا تھا کہ دونوں ہاتھ متفرق طور پر دو مرتبہ دھوئے ہوں گے، یعنی ایک مرتبہ ایک ہاتھ دھویا اور ایک مرتبہ ایک دھویا، لہٰذا اس وہم سے بچانے کے لئے مرتین کو دو مرتبہ ذکر کیا تاکہ یہ بات صاف ہوجائے کہ دونوں ہاتھ ملا کردو مرتبہ دھوئے۔ سر کے مسح کا مستحب طریقہ یہ ہے کہ دونوں ہاتھوں کی تین انگلیاں سر کے آگے کی جانب رکھی جائیں اور دونوں ہاتھوں کے انگوٹھوں کو اور شہادت کی انگلیوں کو نیز ہتھیلیوں کو سر سے جدا رکھا جائے اس طرح چھ انگلیوں کو گدی کی طرف لے کر جائیں پھر، دو ہتھیلیاں سر کے پچھلے حصہ پر رکھ کر آگے کی طرف لائی جائیں اور پھر دونوں کانوں کے اوپر کے حصہ پر دونوں انگوٹھوں سے اور کانوں کے دونوں سوراخوں میں شہادت کی انگلیوں سے مسح کیا جائے۔ وفی المقفق علیہ کے بعد جو روایتیں نقل کی گئی ہیں وہ صاحب مصابیح کی نقل کردہ نہیں ہیں بلکہ صاحب مشکوٰۃ نے ان کا اضافہ کیا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ ما قبل کی روایت باوجودیکہ صحیح البخاری و صحیح مسلم میں منقول نہیں ہے مگر صاحب مصابیح نے انہیں صحاح یعنی فصل اوّل میں نقل کیا ہے اس لئے مصنف مشکوٰۃ ان روایتوں کو جو صحیح البخاری و صحیح مسلم میں منقول ہیں آگے اضافہ کردیا ہے تاکہ ترتیب صحیح رہے۔ صحیح البخاری کی آخری روایت جس کے الفاظ یہ ہیں۔ پس کلی کی اور ناک جھاڑی تین مرتبہ ایک چلو سے کا یہ مطلب نہیں کہ ایک ہی چلو سے ناک میں تین مرتبہ پانی دے کر اسے جھاڑے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تین دفعہ میں ہر مرتبہ ایک ایک چلو سے ناک میں پانی دے کے اسے جھاڑا یعنی تین مرتبہ کے لئے تین چلو بھی استعمال کئے۔ اس سلسلہ میں اتنی بات جان لینی چاہئے کہ کلی کرنے اور ناک میں پانی دینے کے بارے میں مختلف احادیث منقول ہیں، چناچہ بعض احادیث میں کلی کرنا اور پھر تین چلو سے ناک میں پانی دینا اور بعض روایات میں ایک ہی چلو سے فصل و وصل کے ساتھ منقول ہے یعنی تین چلو سے کلی کرنا اور پھر تین چلو سے ناک میں پانی دینا بھی حدیث سے ثابت ہے اور یہ دونوں ایک ہی چلو سے بھی ثابت ہے، اس طرح اس کی کئی صورتیں ہیں، چناچہ حضرت امام شافعی (رح) کا مسلک قول صحیح کے مطابق یہ ہے کہ دونوں تین چلو میں کئے جائیں اس طرح کے پہلے ایک چلو پانی لیا جائے اور اس میں تھوڑے پانی سے کلی کرلی جائے اور بقیہ پانی ناک میں ڈالے پھر دوسرا چلو اور تیسرا چلو لے کر اسی طرح کیا جائے۔ حضرت امام اعظم (رح) کا مذہب یہ ہے کہ ہر ایک تین تین چلو سے کئے جائیں یعنی کلی کے لئے تین چلو استعمال کئے جائیں اور پھر ناک میں پانی دینے کے لئے بھی تین ہی چلو الگ سے استعمال کئے جائیں۔ امام اعظم علیہ الرحمۃ نے اس طریقہ کو اس لئے ترجیح دی ہے کہ قیاس کے مطابق ہے اس لئے کہ منہ اور ناک دونوں علیحدہ علیحدہ عضو ہیں لہٰذا جس طرح دیگر اعضاء وضو کو جمع نہیں کیا جاتا اسی طرح ان دونوں عضو کو بھی جمع نہیں کیا جائے گا اور اصل فقہ کا یہ قاعدہ ہے کہ جو حدیث قیاس کے موافق ہوا سے ترجیح دی جائے۔ جہاں تک شوافع و حنفیہ کے مذہب میں تطبیق کا تعلق ہے اس سلسلہ میں شمنی نے فتاوی ظہریہ سے یہ قول نقل کیا ہے کہ امام اعظم علیہ الرحمۃ کے یہاں وصل بھی جائز ہے یعنی امام شافعی علیہ الرحمۃ کا جو مسلک ہے وہ امام اعظم (رح) کے نزدیک بھی صحیح ہے، اسی طرح امام شافعی (رح) کے یہاں فصل بھی جائز ہے، یعنی جو مسلک امام اعظم کا ہے وہ امام شافعی کے یہاں بھی صحیح اور جائز ہے۔ نیز امام ترمذی (رح) حضرت امام شافعی (رح) کا یہ قول نقل کرتے ہیں کہ کلی کرنے اور ناک میں پانی دینے کو ایک ہی چلو کے ساتھ جمع کرنا جائز ہے لیکن میں اسے زیادہ پسند کرتا ہوں کہ ان دونوں کے لئے علیحدہ علیحدہ چلو استعمال کئے جائیں، اس قول سے صراحت کے ساتھ یہ بات ثابت ہوگئی کہ حنفیہ اور شوافع کے مسلک میں کوئی خاص اختلاف نہیں ہے۔

372Mishkaat-al-Masabih

وضو کی سنتوں کا بیان

وعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍص قَالَ تَوَضَّاَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَرَّۃً مَرَّۃً لَّمْ ےَزِدْ عَلٰی ھٰذَا۔ (صحیح البخاری)

اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ایک ایک مرتبہ وضو کیا (یعنی تمام اعضاء وضو کو صرف ایک ایک مرتبہ دھویا اور اس پر زیادہ نہیں کیا۔ (صحیح البخاری )

373Mishkaat-al-Masabih

وضو کی سنتوں کا بیان

وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ زَےْدٍص اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلمتَوَضَّأَ مَرَّتَےْنِ مَرَّتَےْنِ۔ (صحیح البخاری)

اور حضرت عبداللہ بن زید ؓ (اسم گرامی عبداللہ بن زید بن عبدربہ ہے اور کنیت ابومحمد ہے آپ انصاری ہیں اور آپ صحابی ہیں۔ ٣٢ ھ میں بعمر ٦٤ سال آپ کی وفات ہوئی)۔ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے دو، مرتبہ وضو کیا (یعنی اعضاء وضو کو دو دو بار دھویا)۔ (صحیح البخاری )

374Mishkaat-al-Masabih

وضو کی سنتوں کا بیان

وَعَنْ عُثْمَانَ اَنَّہُ تَوَضَّأَ بِالْمَقَاعِدِ فَقَالَ اَلَا اُرِےْکُمْ وُضُوْءَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَتَوَضَّأَ ثَلٰثًا ثَلٰثًا۔(صحیح مسلم)

اور حضرت عثمان ؓ کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے مقام مقاعد میں وضو کیا اور کہا کہ کیا تمہیں رسول اللہ ﷺ کا وضو نہ دکھلاؤں؟ چناچہ انہوں نے تین تین مرتبہ وضو کیا (یعنی انہوں نے اعضاء وضو کو تین تین بار دھو کر بتایا کہ رسول اللہ ﷺ اس طرح وضو فرماتے تھے۔ (صحیح مسلم) تشریح ان احادیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ اعضاء وضو کو کبھی ایک ایک مرتبہ دھوتے تھے کبھی دو دو مرتبہ دھوتے تھے اور کبھی تین تین مرتبہ دھوتے تھے اور یہ بات بھی ثابت ہے کہ آپ اکثر تین تین مرتبہ ہی دھوتے تھے۔ ان میں تطبیق اس طرح ہوگی کے آپ ﷺ کا اعضاء وضو کو کبھی کبھی ایک ایک مرتبہ دھونا بیان جواز کے لئے تھا یعنی اس سے یہ بتانا مقصود تھا کہ ایک ایک مرتبہ دھونا جائز ہے اور اس طرح وضو ہوجاتا ہے کیونکہ یہ ادنیٰ درجہ ہے اور فرض بھی ایک ایک مرتبہ ہی دھونا ہے، اسی طرح دو دو مرتبہ بھی بیان جواز کے لئے دھوتے تھے کہ اس طرح بھی وضو ہوجاتا ہے اور اکثر و بیشتر تین تین مرتبہ اس لئے دھوتے ہیں کہ یہ طہارت کا انتہائی درجہ ہے، لہٰذا عضاء وضو کو تین تین مرتبہ دھونا سنت ہے اور اس پر زیادتی کرنا منع ہے، بعض احادیث میں بعض اعضاء کو تین تین مرتبہ بعض اعضاء کو دو دو مرتبہ اور بعض اعضاء کو ایک ایک مرتبہ بھی دھونا ثابت ہے چناچہ یہ سب طریقے بھی بیان جواز کے لئے ہیں۔ بعض علماء کے نزدیک اعضاء وضو کو ایک ایک مرتبہ دھونا گناہ ہے کیونکہ اس طرح سنت مشہورہ ترک ہوتی ہے مگر یہ صحیح نہیں ہے اس لئے کہ جب خود احادیث سے ایک ایک مرتبہ دھونا ثابت ہے اسے گناہ کہنا مناسب نہیں ہے۔ آخر حدیث کے یہ الفاظ کہ تین تین مرتبہ وضو کیا یعنی اعضاء وضو کو تین بار دھویا۔ اس سے بظاہر تو یہ مفہوم ہوتا ہے کہ سر کا مسح بھی تین مرتبہ کیا ہوگا لیکن جن روایتوں میں اعضاء وضو کے دھونے کی تفصیل اور وضاحت کی گئی ہے جیسے کہ صحیحین کی روایتیں گزری ہیں وہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ سر کا مسح ایک ہی مرتبہ ہے۔

375Mishkaat-al-Masabih

وضو کی سنتوں کا بیان

وَ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرٍوص قَالَ رَجَعْنَامَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مِنْ مَّکَّۃَ اِلَی الْمَدِےْنَۃِ حَتّٰی اِذَا کُنَّا بِمَآءٍ بِالطَّرِےْقِ تَعَجَّلَ قَوْمٌ عِنْدَالْعَصْرِ فَتَوَضَّؤُا وَھُمْ عُجَّالٌ فَانْتَھَےْنَا اِلَےْھِمْ وَاَعْقَابُھُمْ تَلُوْحُ لَمْ ےَمَسَّھَا الْمَآءُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم وَےْلٌ لِّلاَعْقَابِ مِنَ النَّارِ اَسْبِغُوا الْوُضُوْءَ ۔(صحیح مسلم)

اور حضرت عبداللہ بن عمر فاروق ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ کے ہمراہ مکہ سے مدینہ کو واپس لوٹے یہاں تک کہ جس وقت ہم پانی پر پہنچے جو راستہ میں تھا تو کچھ لوگوں نے نماز عصر کے لئے وضو کرنے میں جلدی کی اور وہ لوگ بہت جلدی کرنے والے تھے، چناچہ جب ہم ان لوگوں کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ ان کی ایڑیاں چمک رہی تھیں (یعنی خشک رہ گئی تھیں کیونکہ) ان تک پانی نہیں پہنچا تھا (ان خشک ایڑیوں کو دیکھ کر) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ویل (خرابی) ہے ایڑیوں کے لئے آگ سے! وضو کو پورا کرو۔ (صحیح مسلم) تشریح آنحضرت ﷺ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت کے ہمراہ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کے لئے واپس لوٹ رہے تھے درمیان سفر عصر کی نماز کا وقت ہوگیا، راستہ میں ایک جگہ پانی کے قریب یہ قافلہ رک گیا، کچھ لوگ یہ سوچ کر کہ نماز عصر کا وقت ہو رہا ہے، وضو کرنے کے لئے پانی کی طرف لپکے چناچہ وہ لوگ تیز چل کر اس جماعت سے جس میں خود رسول اللہ ﷺ اور حضرت عبداللہ بن عمر ؓ وغیرہ تھے آگے نکل گئے اور پانی پر پہلے پہنچ کر وقت کی تنگی کے سبب جلدی جلدی وضو کرلیا، جب رسول اللہ ﷺ ان کے قریب پہنچے تو دیکھا کہ جلدی کی وجہ سے ان کی پیر پوری طرح دھلے نہیں ہیں جس کی وجہ سے ایڑیاں خشک رہ گئی، اسی بناء پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ ایڑیوں کے لئے ویل (خرابی ہے) آگ سے۔ بعض علماء نے ویل کے معنی شدت عذاب لکھے ہیں۔ کچھ علماء کی تحقیق ہے کہ ویل دوزخ میں پیپ اور لہو کے ایک پہاڑ کا نام ہے۔ بعض محققین لکھتے ہیں کہ ویل ایک ایسا کلمہ ہے جسے رنج رسیدہ آدمی بولتا ہے اور اصل میں اس کے معنی ہلاکت اور عذاب کے ہیں۔ بہر حال ان تمام معانی کو مد نظر رکھتے ہوئے مناسب اور صحیح یہ ہے کہ اس لفظ کا محل اصل ہی کو قرار دیا جائے۔ یعنی ایڑیوں کے لئے عظیم ہلاکت اور درد ناک عذاب ہے خاص طور پر ایڑیوں ہی کے لئے یہ وعید اس لئے ہے کہ وضو میں دھوئی نہیں گئی تھیں جس کی بناء پر وہ خشک رہ گئی تھیں۔ گو! بعض علماء نے یہ بھی لکھا ہے کہ یہاں ایڑیوں سے مراد ایڑیوں والے ہیں یعنی یہ وعید ان لوگوں کے لئے جن کی ایڑیاں وضو میں خشک رہ گئی تھیں۔ آخر میں آپ ﷺ نے حکم فرمایا کہ وضو کو پورا کرو یعنی وضو کے جو فرائض و سنن اور مستحبات و آداب ہیں ان سب کو پورا کرو اور سب کی ادائیگی کا خیال رکھو چناچہ دوسری حدیث میں وارد ہے کہ (اعضاء وضو کا کوئی حصہ) اگر ایک ناخن کے برابر بھی خشک رہ جائے گا تو وہ وضو درست نہیں ہوگا۔ یہ حدیث اس بات کے لئے دلیل ہے کہ وضو میں پاؤں کا دھونا فرض ہے کیونکہ اگر پاؤں دھونا فرض نہ ہوتا تو ایڑیوں کے خشک رہ جانے کی وجہ سے اتنی بڑی وعید نہ فرمائی جاتی، چناچہ ہر دور کے تمام علماء اور فقہاء کا یہی عقیدہ اور مسلک رہا ہے کہ وضو میں پیروں کا دھونا فرض ہے مسح کافی نہیں ہے، اس مسئلہ میں کسی بھی ایسے عالم کا اختلاف جو لائق اعتبار اور قابل استناد ہو ثابت نہیں ہے، نیز صحابہ کرام جو رسول اللہ ﷺ کے وضو کی کیفیت و تفصیل بیان کرتے ہیں جیسے حضرت علی، حضرت عثمان غنی اور حضرت عبداللہ بن زید ؓ جنہیں حا کی یعنی رسول اللہ ﷺ کے وضو کو بیان کرنے والا کہا جاتا ہے یہاں اسی طرح حضرت جابر حضرت ابوہریرہ اور حضرت عبداللہ بن عمر فاروق ؓ اور ان کے علاوہ دیگر صحابہ کرام سب کے سب اس بات پر متفق ہیں کہ رسول اللہ ﷺ وضو میں اگر موزہ پہنے ہوئے نہیں ہوتے تو پیر مبارک دھویا ہی کرتے تھے۔ پھر ایسی بیشمار احادیث جو مرتبہ تو اتر کو پہنچی ہوئی ہیں منقول ہیں جن سے وضو میں پیروں کا دھونا ہی ثابت ہے اور اس کے ترک کرنے پر وعید بیشمار احادیث میں مذکور ہے۔ حضرت عبدا اللہ بن عمر ؓ اور ان کے علاوہ دیگر صحابہ کرام سب کے سب اس بات پر متفق ہیں کہ رسول اللہ ﷺ وضو میں اگر موزہ پہنے ہوئے نہیں ہوتے تو پیر مبارک دھویا ہی کرتے تھے۔ پھر ایسی بیشمار احادیث جو مرتبہ تواتر کو پہنچی ہوئی ہیں منقول ہیں جن سے وضو میں پیروں کا دھونا ہی ثابت ہے اور اس کے ترک کرنے پر وعید بیشمار احادیث میں مذکور ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پاؤں پر مسح کیا کرتے تھے، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ (پیروں کو دھو کر) وضو کو پورا کرنے کا حکم فرمایا اور اس کے ترک پر و عید فرمائی چناچہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے مسح چھوڑ دیا اور وہ منسوخ ہوگیا۔ امام طحاوی (رح) علیہ، حضرت عبدالملک بن سلیمان کا قول نقل کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء خراسانی (رح) سے جو جلیل القدر تابعی ہیں، پوچھا کہ کیا آپ کو کوئی ایک روایت بھی ایسی ملی ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہو کہ رسول اللہ ﷺ کا کوئی بھی صحابی اپنے پیروں پر مسح کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ اللہ کی قسم! نہیں۔ بہر حال اس سلسلہ میں خلاصہ کلام یہ ہے کہ وضو میں پیر کے بارے میں جو حکم قرآن مجید میں مذکور ہے وہ محمل اور مشتبہ ہے، چناچہ رسول اللہ ﷺ کی سنت نے خواہ وہ قولی ہو یا فعلی جو حد شہرت و تواتر کو پہنچتی ہے اس کی تشریح اور وضاحت کردی ہے کہ قرآن پاک میں اس حکم سے اللہ کی مراد یہ ہے کہ وضو میں پاؤں کو دھونا چاہئے لہٰذا پاؤں کو دھونا ہی فرض ہے۔ جہاں تک شیعہ فرقہ کے مسلک و معمول کا تعلق ہے کہ وہ لوگ وضو میں پیر پر مسح کرتے ہیں، اس بارے میں اس کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ وہ انتہائی گمراہی میں مبتلا ہیں اور رسول اللہ ﷺ کی اتنی زیادہ تفصیل و تشریح اور اتنے کھلے ہوئے حکم کے باوجود ان کا پیروں کا نہ دھونا انتہائی غلط اور غیر شری فعل ہے۔ وا اللہ اعلم۔

376Mishkaat-al-Masabih

وضو کی سنتوں کا بیان

وَعَنِ الْمُغَیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَص قَالَ اِنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم تَوَضَّاءَ فَمَسَحَ بِنَاصِیَتِہٖ وَعَلَی الْعَمَامَۃِ وَعَلَی الْخُفَّیْنِ۔(رواہ صحیح مسلم)

اور حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ (حضرت مغیرہ شعبہ کے لڑکے ہیں آپ کی کنیت ابوعبدا اللہ اور ابوعیسیٰ ہے آپ نے بعمر ستر سال ٥٠ ھ ہجری میں انتقال فرمایا)۔ فرماتے ہیں کے سرکار دو عالم ﷺ نے وضو کیا۔ چناچہ آپ ﷺ نے اپنی پیشانی کے بالوں اور پگڑی پر اور موزوں پر مسح کیا۔ (صحیح مسلم) تشریح سر کے مسح کی مقدار میں علماء کرام کے یہاں اختلاف ہے چناچہ حضرت امام مالک (رح) کے نزدیک پورے سر کا مسح فرض ہے، حضرت امام شافعی (رح) کے نزدیک سر کے کچھ حصہ کا مسح کافی ہے خواہ وہ تین بال ہی کیوں نہ ہوں، حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک چوتھائی سرکار مسح فرض ہے، حضرت امام اعظم (رح) کی دلیل یہی حدیث ناصیہ (ناصیہ سر کے آگے کی جانب حصہ کو فرماتے ہیں) اسی بنا پر حنفیہ فرماتے ہیں کہ اس کے علاوہ دو ہی شکلیں ہوسکتی ہیں، اوّل تو یہ کہ امام مالک (رح) کے مسلک کے مطابق مسح پورے سر کا فرض ہے، مگر یہ ظاہر ہے کہ پورے سر کا مسح اگر فرض ہوتا پھر رسول اللہ ﷺ مسح ناصیہ پر ہی اکتفا نہ فرماتے، بلکہ ادائے فرض کے لئے پورے ہی سر کا مسح فرماتے ہیں، لہٰذا معلوم ہوا کہ پورے سر کا مسح تو فرض نہیں، دوسری شکل یہ ہے کہ چوتھائی سر سے بھی کم پر مسح فرض ہو جیسا کہ امام شافعی (رح) کا مذہب ہے، اس سلسلہ میں بھی یہی بات ہے کہ اگر چوتھائی سر سے کم بھی مسح فرض ہوتا تو رسول اللہ ﷺ بیان جواز کے لئے اسے بھی اختیار فرماتے مگر یہ ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے چوتھائی سر سے کم پر کبھی مسح نہیں کیا ہے، لہٰذ اس سے بھی یہ بات ثابت ہوگئی کہ مسح چوتھائی سر کا ہی فرض ہے۔ پگڑی پر مسح کرنے کے معنی شارحین نے یہ لکھے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے چوتھائی سرکا مسح جو فرض ہے کرلیا تو تکمیل وضو اور ادائے سنت کے لئے (کہ تمام سر کا مسح کرنا سنت ہے) بجائے اس کے سر کے بقیہ حصہ پر مسح فرماتے، سر کے اوپر بندھی ہوئی پگڑی پر مسح کرلیا۔ بعض حضرات نے یہ لکھا ہے احتمال ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پگڑی طہارت کے بعد پہنی ہو اور پگڑی نے پورے سر کو ڈھانک لیا ہو جیسا کہ موزہ پر مسح کرنے کا مسئلہ ہے۔

377Mishkaat-al-Masabih

وضو کی سنتوں کا بیان

وعَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم ےُحِبُّ التَّےَمُّنَ مَا اسْتَطَاعَ فِیْ شَأْنِہٖ کُلِّہٖ فِیْ طُھُوْرِہٖ وَتَرَجُّلِہٖ وَتَنَعُّلِہٖ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ حتی الامکان اپنے تمام کاموں کو سیدھے ہاتھ سے شروع کرنا محبوب رکھتے تھے اور (مثلاً ) اپنی طہارت میں، اپنا جوتا پہننے میں۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم ) تشریح اس حدیث میں اچھے کاموں کو داہنے ہاتھ سے شروع کرنے کی اہمیت معلوم ہوتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے بارے میں اسے پسند فرماتے اور عزیز رکھتے تھے کہ جہاں تک اپنا بس چلے تمام کام داہنے ہاتھ سے انجام دیئے جائیں چناچہ لفظ ما استطاع (حتی الامکان) سے اسی محافظت اور تاکید کی طرف اشارہ ہے۔ طہارت دائیں طرف سے شروع کرنے کی یہ شکل تھی کہ وضو میں دایاں ہاتھ اور دایاں پیر پہلے دھوتے تھے اور بایاں ہاتھ و بایاں پیر بعد میں دھوتے تھے، اسی طرح نہانے کے وقت دائیں جانب پہلے دھوتے اور بائیں جانب بعد میں دھوتے تھے۔ بہر حال اس حدیث میں تین چیزیں ذکر کی گئی ہیں، جو مثال کے طور ہیں ورنہ تو ہر وہ چیز جو از قبیل بزرگی ہوتی تھی اسے آپ ﷺ دائیں ہاتھ سے شروع کرتے تھے، جیسے کپڑے پہننا، ازار زیب تن کرنا، موزہ پہننا، مسجد میں داخل ہونا، مسواک کرنا، بیت الخلاء سے باہر آنا ( یعنی بیت الخلاء سے پہلے دایاں پیر باہر نکالتے تھے، سرمہ لگانا، ناخن کتروانا، بغل کے بال صاف کرنا، لب کے بال کتروانا، سرمنڈوانا، زیر ناف بال صاف کرنا، مصافحہ کرنا، کھانا پینا اور کسی چیز کا لینا دینا وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح جو چیز از قبیل بزرگی نہیں ہیں ان کو بائیں طرف سے شروع کرنا مستحب ہے، مثلاً بیت الخلاء (یعنی بیت الخلاء میں پہلے بایاں پیر رکھنا، بازار میں جانا، مسجد سے نکلنا، ناک سنکنا، تھوکنا، استنجاء کرنا اور کپڑے اور جوتے اتارنا یا ایسے ہی دوسرے کام، ان کاموں کو بائیں طرف سے شروع کرنے میں ایک لطیف اور پر حقیقت نکتہ بھی ہے یہ کہ ایسی چیزوں کی ابتداء بائیں طرف سے کرنے کی وجہ دائیں طرف کی تکریم و احترام کا مظاہرہ ہوتا ہے مثلا ًجب کوئی آدمی مسجد سے نکلتے وقت پہلے بایاں قدم باہر نکالے گا تو دائیں قدم کی تکریم ہوئی بایں طور کہ دایاں قدم محترم جگہ میں باقی رہا۔ اسی پر دوسری چیزوں کو بھی قیاس کیا جاسکتا ہے، یہی وجہ کہ انسان کے ہمراہ جو دو فرشتے ہوتے ہیں ان میں سے دائیں ہاتھ کا فرشتہ دائیں طرف کی فضیلت و احترام کی بناء پر بائیں ہاتھ کے فرشتے پر شرف و فضیلت رکھتا ہے، نیز اسی نقطہ کے پیش نظر کہا جاتا ہے کہ دائیں طرف کا ہمسایہ بائیں طرف کے ہمسایہ پر مقدم ہے۔

378Mishkaat-al-Masabih

وضو کی سنتوں کا بیان

وَعَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ اِذَا لَبِسْتُمْ وَاِذَا تَوَ ضَأْتُمْ فَابْدَاوُابِاَیَا مِنِکُمْ۔ (رواہ مسند احمد بن حنبل و ابوداؤد)

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم لباس وغیرہ) پہنو یا وضو کرو تو اپنے دائیں طرف سے شروع کرو۔ (مسند احمد بن حنبل، ابوداؤد)

379Mishkaat-al-Masabih

وضو کی سنتوں کا بیان

وَعَنْ سَعَیْدِ بْنِ زَیْدٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ لَا وُضُوْءَ لِمَنْ لَمْ یَذْکُرِسْمَ اﷲِ عَلَیْہِ۔ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَابْنُ مَاجَۃَ وَرَوَاہُ اَحْمَدُ وَاَبُوْدَؤدَ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ وَادَّارِمِیُّ عَنْ اَبِی سَعِیْدِ الْخُدْرِیِّ عَنْ اَبِیْہِ وَزَادَ فِیْ اَوَّلِہٖ لَا صَلَاۃَ لِمَ لَّاوُضُوْءَ لَہُ)

اور حضرت سعید بن زید ؓ ( اسم گرامی سعید بن زید اور کنیت ابوالاعور ہے آپ قریشی عدوی ہیں اور آپ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں آپ کا انتقال ٥٠ ھ یا ٥١ ھ میں بعمر ٧٠ سال بمقام عتیق ہوا)۔ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا جس آدمی نے (وضو کے وقت) اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیا اس کا وضو نہیں ہوا۔ (جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ) اور مسند احمد بن حنبل و ابوداؤد نے اس حدیث کو حضرت ابوہریرہ ؓ سے اور دارمی نے ابوسعید خدری ؓ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا ہے، نیز ان لوگوں نے اپنی روایت کے شروع میں یہ الفاظ زائد ذکر کئے کہ اس آدمی کی نماز نہیں ہوتی جس نے وضو نہیں کیا ) تشریح اس حدیث سے وضو کے ابتداء میں بسم اللہ کہنے کی فضیلت و اہمیت کا اظہار ہو رہا ہے، حدیث کے الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ جس آدمی نے ابتداء وضو میں اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیا یعنی بسم اللہ نہیں کہی تو اس کا وضو درجہ تکمیل کو نہ پہنچا جس کی بنا پر اسے ثواب نہیں ملا۔ ویسے اس مسئلہ کی تحقیق یہ ہے کہ حضرت امام احمد بن حنبل (رح) تعلایٰ علیہ کے نزدیک ابتداء وضو میں بسم اللہ کہنا واجب ہے، مگر جمہور علماء کے کرام کے نزدیک سنت یا مستحب ہے۔ ابتداء وضو میں علماء سلف سے یہ الفاظ منقول ہیں سُبْحَانَ ا الْعَظِیْم وَبِحَمْدِہ بعض علماء نے کہا ہے کہ اَعُوْذُ بِا پڑھنے کے بعد بِسْمِ ا الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم پڑھنا افضل ہے اور مشہور یہ الفاظ ہیں۔ بِسْمِ ا وَالحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی دِیْنِ الْاِسْلَامِ۔ روایت کے آخر میں ایک لفظی غلطی ہے، جو ہوسکتا ہے کہ کاتب وغیرہ سے سہو ہو یعنی آخر میں یہ الفاظ ذکر کئے گئے ہیں والدارمی عن ابی سعید الخدری عن ابیہ غلط ہے بلکہ صحیح ابی سعید الخدری عن النبی ﷺ یعنی درامی نے اس حدیث کو حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت کیا ہے اور ابی سعید نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے۔

380Mishkaat-al-Masabih

وضو کی سنتوں کا بیان

وَعَنْ لَقِیْطِ بْنِ صَبِرَۃَ قَالَ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اﷲِ اَخْبِرْنِی عَنِ الْوُضُوءِ قَالَ اَسْبِغِ الْوُضُوءَ وَخَلِّلْ بَیْنَ الْاَصَابِعِ وَ بَالِغْ فِی الْاِسْتِنْشَاقِ اِلَّا اَنْ تَکُوْنَ صَائِمًا۔ (رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ وَ التِّرْمَذِیُّ وَالنِّسَائِیُ وَرَوَی ابْنُ مَاجَۃَ وَالدَّارِمِیُّ اِلَی قَوْلِہٖ بَیْنَ الْاَصَابِعِ)۔

اور حضرت لقیط بن صبرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے وضو کے بارے میں آگاہ فرمائیے آپ ﷺ نے فرمایا تم وضو کو پورا کرو، انگلیوں میں خلال کرو اور اگر تمہارا روزہ نہ ہو تو ناک میں اچھی طرح پانی پہنچاؤ۔ (سنن ابوداؤد، دارمی، سنن نسائی سنن ابن ماجہ اور دارمی نے اس حدیث کو بین الا صابع تک روایت کیا ہے) تشریح سوال کا مقصد یہ تھا کہ آپ ﷺ مجھے کمال وضو کا طریقہ بتا دیجئے تاکہ اسے اختیار کر کے ثواب کا مستحق ہو سکوں اس کا جواب آپ ﷺ نے یہ دیا کہ وضو کو پورا کرو، یعنی وضو کے جو فرائض اور سنن و مستجات ہیں انہیں پورا کرو۔ وضو میں انگلیوں کے درمیان خلال کرنا حضرت امام اعظم اور امام شافعی رحمہما اللہ تعالیٰ علیہ کے نزدیک سنت ہے مگر یہ حکم اس شکل میں ہے جبکہ انگلیاں خلقی اعتبار سے ایک دوسرے سے جدا اور کشادہ ہوں لیکن آپس میں اگر اس طرح ملی ہوں کہ آسانی اور بےتکلفی سے پانی ان کے درمیان نہ پہنچا ہو تو پھر انگلیوں کے درمیان خلال کرنا واجب ہوگا۔ حنفیہ کے یہاں انگلیوں کے درمیان خلال کا طریقہ یہ ہے کہ دائیں ہاتھ کی ہتھیلی بائیں ہاتھ کی پشت پر رکھ کر دائیں ہاتھ کی انگلیاں بائیں ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر خلال کیا جائے۔ یہی طریقہ اولیٰ ہے۔ پاؤں کی انگلیوں کا خلال بائیں ہاتھ کی چھنگلیا سے کرنا چاہئے اس طرح کہ اسے دائیں پاؤں کی چھنگلیا کے نیچے داخل کر کے خلال کرنا شروع کیا جائے، یہاں تک کہ بائیں پاؤں کی چھنگلیا پر ختم کیا جائے۔ ناک میں پانی دینے کی حدیہ ہے کہ پانی ناک کے نرم حصہ تک پہنچایا جائے اور اس میں مبالغہ جو حدیث کا منشا ہے یہ ہے کہ پانی اس سے بھی آگے گزر جائے، مگر جیسا کہ خود حدیث نے وضاحت کردی ہے کہ یہ مبالغہ یعنی ناک کے نرم حصہ سے بھی آگے پانی پہنچانا اس وقت ہے جب کہ وضو کرنے والا روزہ دار نہ ہو، اگر وضو کرنے والا روزہ دار ہو تو پھر اس کے لئے یہ مبالغہ مکروہ ہے۔ اس موقع پر یہ بھی سمجھ لیجئے کہ کلی کرنا اور ناک میں پانی دینا حضرت امام اعظم (رح) کے نزدیک وضو میں سنت ہے اور غسل میں فرض مگر امام شافعی (رح) کے نزدیک غسل اور وضو میں یہ دونوں چیزیں سنت ہیں۔

381Mishkaat-al-Masabih

وضو کی سنتوں کا بیان

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ اِذَا تَوَضَّأْتَ فَخَلِّلْ اَصَابعَ یَدَیْکَ وَرِجْلَیْکَ۔ (رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَروَی ابْنُ مَاجَۃَ نَحْوَہُ وَقَالَ التِّرْمِذِیُّ ھٰذَا حَدِیْثٌ غَرِیْبٌ)

اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم نے ارشاد فرمایا جب تم وضو کرو تو اپنے ہاتھوں کی انگلیوں اور اپنے پیروں کی انگلیوں کے درمیان خلال کرو۔ (جامع ترمذی اور سنن ابن ماجہ نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے اور جامع ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے)۔ تشریح ہاتھ کی انگلیوں کے درمیاں خلال تو ہاتھوں کو دھونے کے بعد کرنا چاہئے اور پاؤں کی انگلیوں کے درمیان خلال پاؤں کو دھونے کے بعد کرنا چاہئے، یہی طریقہ افضل اور اولیٰ ہے۔

382Mishkaat-al-Masabih

وضو کی سنتوں کا بیان

وَعَنِ الْمَسْتَوْرِ دِبْنِ شَدَادٍ قَالَ رَاَیْتُ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا تَوَضَّأَ یَدْلُکُ اَصَابِعَ رِجْلَیْہِ بِخِنْصَرِہٖ۔ (رواہ الترمذوابوداؤد وابن ماجۃ)

اور حضرت مستور بن شداد ؓ راوی ہیں کہ میں نے سرکار دو عالم ﷺ کو دیکھا جب آپ ﷺ وضو فرماتے تو اپنے پاؤں کی انگلیوں کو (بائیں ہاتھ کی) چھنگلیا، سے ملتے (یعنی پاؤں کی انگلیوں کے درمیان بائیں ہاتھ کی چھنگلیا سے خلال فرماتے۔ (جامع ترمذی، سنن ابوداؤد، ابن ماجۃ) تشریح لفظ یدلک کا مطلب یہ ہے کہ آپ (بائیں ہاتھ کی چھنگلیا سے پاؤں کی انگلیوں کے درمیان) خلال کرتے تھے۔ چناچہ اس کی تصدیق اس روایت سے ہوتی ہے جسے امام احمد بن حنبل (رح) نے روایت کیا ہے جس میں لفظ (یعنی خلال کرتے تھے) صراحت کے ساتھ آیا ہے اس شکل میں یہ اس بات کی دلیل ہے کہ بائیں ہاتھ کی چھنگلیا سے پاؤں کی انگلیوں کے درمیان خلال کرنا مستحب ہے یا یدلک کے معنی یہ ہوں گے کہ آپ ﷺ (اپنے دائیں ہاتھ کی چھنگلیا پاؤں کی انگلیوں پر) پھیرتے تھے، اس صورت میں یہ اس بات کی دلیل ہوگی کہ تمام اعضاء کا ملنا مستحب ہے۔

383Mishkaat-al-Masabih

وضو کی سنتوں کا بیان

وَعَنْ اَنَسٍ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا تَوَضَّأَ اَخَذَ کَفًا مِنْ مَّآءِ فَاَدْخَلَہ، تَحْتَ حَنَکِہٖ فَخَلَّلَ بِہٖ لِحْیَتَہ، وَقَالَ ھٰکَذَا اَمَرَنِی رَبِّیْ۔ (رواہ ابوداؤد)

اور حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ جب وضو فرماتے تو ایک چلو پانی لیتے، پھر اسے اپنی ٹھوڈی کے نیچے پہنچاتے اور اس سے اپنی داڑھی میں خلال کرتے اور پھر فرماتے کے میرے پروردگار نے (وحی خفی کے ذریعہ) اسی طرح سے حکم فرمایا)۔ (ابوداؤد) تشریح وضو میں داڑھی کا اس طرح خلال کرنا مستحب ہے، یہ خلال منہ دھونے کے بعد کرنا چاہئے، اس کا طریقہ یہ ہے کہ انگلیاں داڑھی کے نیچے سے داخل کر کے اوپر کی طرف کا باہر نکالی جائیں۔

384Mishkaat-al-Masabih

وضو کی سنتوں کا بیان

وَعَنْ عُثْمَانَ اَلنَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم کَانَ یَخَلِّلُ لِحْیَتَہُ۔ (رواہ الجامع ترمذی ، الدارمی)

حضرت عثمان ؓ فرماتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ (وضو کرتے وقت) اپنی داڑھی میں خلال کرتے تھے۔ (جامع ترمذی، دارمی)

385Mishkaat-al-Masabih

وضو کی سنتوں کا بیان

وَعَنْ اَبِیْ حَیَّۃَ قَالَ رَأَیْتُ عَلِیًا تَوَضَّأَ فَغَسَلَ کَفَیْہِ حَتَّی اَنْقَا ھُمَا ثُمَّ مَضْمَضَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا وَغَسَا وَجْھَہُ ثَلَاثًا وَذِرَاعَیْہِ ثَلاثًا وَمَسَحَ بِرَأْسِہٖ مَرَّۃً ثُمَّ غَسَلَ قَدَمَیْہِ اِلَی الْکَعْبَیْنِ ثُمَّ قَامَ فَأَخَذَ فَضْلَ طَھُوْرِہٖ فَشَرِبَہُ وَھُوَ قَائِمٌ ثُمَّ قَالَ اَحْبَبْتُ اَنْ اُرِیَکُمْ کَیْفَ کَانَ طُھُوْرُ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم(رواہ الجامع ترمذی والسنن نسائی )

حضرت ابوحیہ ؓ (اسم گرامی عمرو بن نصر انماری الہمدانی اور کنیت ابوعیسیٰ سے مشہور ہیں تابعی ہیں)۔ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی کرم اللہ وجہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، چناچہ انہوں نے اپنے ہاتھوں کو دھویا یہاں تک کہ انہیں پاک کیا، پھر تین مرتبہ ناک میں پانی دیا، تین مرتبہ اپنا منہ دھویا، تین مرتبہ دونوں ہاتھ کہنیوں تک دھوئے، ایک مرتبہ اپنے سر کا مسح کیا اور اپنے دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھوئے، پھر کھڑے ہوئے اور وضو کے بچے ہوئے پانی کو کھڑے کھڑے پی لیا اور پھر فرمایا کہ میں نے یہ پسند کیا کہ تمہیں دکھاؤں کہ رسول اللہ ﷺ کا وضو کس طرح تھا۔ (جامع ترمذی، سنن نسائی) تشریح وضو کے بچے ہوئے پانی میں چونکہ برکت آجاتی ہے اس لئے حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے وضو کے بقیہ پانی کو پی لیا، چناچہ حصول برکت کے لئے وضو کے بقیہ پانی کو پی لینا چاہئے، یہ پانی کھڑے ہو کر پینا بھی جائز ہے۔

386Mishkaat-al-Masabih

وضو کی سنتوں کا بیان

وَعَنْ عَبْدِ خَیْرٍ قَالَ نَحْنُ جُلُوْسٌ نَنْظُرُ اِلَی عَلِیٍّ حِیْنَ تَوَضَّأَ فَاَدْخَلَ یَدَہ، الْیُمْنٰی فَمَلَا فَمَہ، فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَنَثَر بِیَدِہٖ الْیُسْرَی فُعَلَ ھٰذَا اثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ مَنْ سَرَّہُ اَنْ یَنْظُرَ اِلَی طُّھُوْرِ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم فَھَذَا طُھُوْرُہُ۔ (رواہ دارمی)

اور حضرت عبدخیر (رح) (اسم گرامی عبد خیر یزید اور کنیت ابوعمارہ ہمدانی ہے، آپ تابعی ہیں کوفہ میں سکونت پزیر تھے)۔ فرماتے ہیں کہ ہم بیٹھے ہوئے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھ رہے تھے چناچہ انہوں نے برتن میں داہنے ہاتھ سے پانی لیا اور منہ بھر کر کلی کی اور ناک میں پانی دیا اور بائیں ہاتھ سے ناک سین کی اسی طرح تین مرتبہ کیا پھر فرمایا جس کے لئے یہ بات خوش کن ہو کہ وہ سرکار دوعالم ﷺ کے وضو کو دیکھے تو وہ دیکھے کہ آنحضرت ﷺ کا وضو یہ ہے (یعنی اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وضو فرماتے تھے۔ دارمی) تشریح یہاں راوی کا مقصد یہ تھا کہ کلی کرنے اور ناک میں پانی دینے کی کیفیت بیان کرے اس لئے انہوں نے صرف اسی قدر بیان کیا، باقی وضو چونکہ معلوم تھا اس لئے اسے بیان نہیں کیا۔