وَعَنْ اَبِیْ اَیُّوْبَ وَ جَابِرِ وَاَنَسِ اَنَّ ہٰذِہِ الْاٰیَۃَ لَمَّا نَزَلَتْ فِیْہِ رِّجَالُ یُحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَھَّرُوْ اوَاﷲُ یُحِبُّ الْمُطَّھِّرِیْنَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلمیَا مَعْشَرَ الْاَنْصَارِ اِنَّ اﷲَ قَدْ اَثْنٰی عَلَیْکُمْ فِی الطُّھُوْرُ کُمْ قَالُوْا نَتَوَضَّأُ لِلصَّلٰوۃِ وَنَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَۃِ وَنَسْتَنْجِیْ بِالْمَآءِ قَالَ فَھُوَذَاکَ فَعَلَیْکُمُوْہُ۔ (رواہ ابن ماجۃ، التوبہ ١٠٨)
حضرت ابوایوب، جابر، حضرت انس رضوان اللہ علیہم راوی ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی آیت (فِيْهِ رِجَالٌ يُّحِبُّوْنَ اَنْ يَّتَطَهَّرُوْا وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِيْنَ ) 9۔ التوبہ 108) یعنی مسجد قبا میں ایسے مرد (انصاری) ہیں جو اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ خوب پاکی حاصل کریں اور اللہ خوب پاکی حاصل کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے تو سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا اے انصار کی جماعت! اللہ تعالیٰ نے پاکی کے معاملہ میں تمہاری تعریف کی ہے تمہاری پاکی کیا ہے؟ اور انہوں نے عرض کیا ہم نماز کے لئے وضو کرتے ہیں جنابت (ناپاکی) سے غسل کرتے ہیں (جیسا کہ دوسرے مسلمان کرتے ہیں) اور (ڈھیلے کے بعد) پانی سے استنجاء کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا ہاں! وہ یہی ہے، لہٰذا اسے لازم پکڑو۔ (ابن ماجہ)
تشریح
انصاری کی عادت تھی کہ وہ پیشاب و پاخانہ کے بعد ڈھیلوں سے صفائی کے بعد پانی سے بھی استنجاء کرتے تھے، اس بنا پر ان کی فضیلت اس آیت میں بیان کی گئی ہے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی اور انصار کی اس فضیلت کا اظہار ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا کہ آخر وہ کونسی پاکیزگی ہے جسے حاصل کرنے کے بعد تم اس سعادت کے حقدار ہوئے ہو، جب انہوں نے پاکیزگی کی تفصیل بتائی تو آپ ﷺ نے ان کی تصدیق کردی کہ یہی وہ چیزیں ہیں جن کی سبب سے اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں تمہاری تعریف کی ہے اور پھر بعد میں اس طرف اشارہ کردیا کہ بھلائی اور بہتری اسی میں ہے کہ اس سعادت کو ہمیشہ باقی رکھو یعنی جس طرح تم لوگ پاکی حاصل کرتے ہو اسی طرح ہمیشہ حاصل کرتے رہو۔
وَعَنْ سَلْمَان قَالَ قَالَ بَعْضُ الْمُشْرِکِےْنَ وَھُوَ ےَسْتَھْزِئُ اِنِّی لَاَرٰی صَاحِبَکُمْ ےُعَلِّمُکُمْ حَتّٰی الْخَرَاۃَ قُلْتُ اَجَلْ اَمَرَنَا اَنْ لَّا نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃَ وَلَا نَسْتَنْجِیَ بِأَےْمَانِنَا وَلَا نَکْتَفِیْ بِدُوْنِ ثَلٰثَۃِ اَحْجَارٍ لَےْسَ فِےْھَا رَجِےْعٌ وَلَا عَظْمٌ۔ (رواہ صحیح مسلم )
اور حضرت سلمان ؓ فرماتے ہیں کہ مشرکوں میں سے ایک آدمی نے بطور استہزاء یہ کہا کہ میں تمہارے سردار (یعنی رسول اللہ ﷺ کو دیکھتا ہوں تو وہ تمہیں ہر چیز سکھاتے ہیں یہاں تک کہ پاخانہ بیٹھنے کی صورت بھی؟ میں نے کہا! ہاں آپ ﷺ نے ہمیں حکم فرمایا ہے کہ (استنجے کے وقت) ہم قبلہ کی طرف رخ کر کے نہ بیٹھیں اپنے دائیں ہاتھوں سے استنجاء پاک نہ کریں، تین پتھروں سے کم میں استنجاء نہ کریں اور ان پتھروں میں نجاست (یعنی پاخانہ، لید گوبر) اور نہ ہڈی ہو۔ (مسلم مسند احمد بن حنبل الفاظ مسند احمد بن حنبل کے ہیں)
تشریح
اگر مذہب کی بنیاد پر حقیقت کا تجزیہ کیا جائے تو یہ بات معلوم ہوگی کہ مذہب اور دین دراصل نام ہے ایک مکمل ضابطہ حیات کا اور ایک دستور کامل ہے نظام زندگی کا جس میں انسانوں کے لئے دین اور دنیا دونوں جگہ کے لئے مکمل رہبری، کامل راہنمائی اور ہمہ گیر ہدایات ہوں۔ اگر چند مخصوص اعتقادات پر چند مخصوص عبادات اور چند اعمال کا نام، مذہب اور دین، رکھ دیا جائے تو وہ کامل و مکمل مذہب وہ دین ہی نہیں بلکہ انسانی دماغ کے اختراعات اور نظریات کا مجموعہ ہے۔ اسلام دوسرے تمام مذاہب میں اگر اپنی کوئی امتیازی شان رکھتا ہے اگر دوسرے دینوں پر کوئی تفوق و برتری رکھتا ہے اور اگر دوسری شریعتوں میں اکملیت کا کوئی درجہ رکھتا ہے تو وہ اسلام کی شان ہمہ گیریت اور اس کی شان جامعیت ہے مسلمانوں کو چھوڑئیے وہ تو اسلام کی پیروی کرنے والے ہیں ہیں، دنیا کے وہ دانشور اور عقلاء بھی اسلام کے اعتقادات و احکامات کے پابند و متبع نہیں ہیں، آج اس بات پر متفق ہیں کہ دنیا کے تمام مذاہب میں اور دنیا کی تمام شریعتوں میں صرف اسلام ہی ایک ایسا مذہب اور دین ہے جو انسانوں کے لئے ایک مکمل ضابطہ حیات ایک نظام زندگی اور کائنات کے ہر شعبہ پر حاوی ایک مجموعہ ہدایات ہے جو انسانی زندگی کے ہر چھوٹے و بڑے مسئلہ کی رہبری کرتا ہے۔ چنانچہ اسلام اگر ایک طرف اعتقادات و نظریات کی انتہائی بلندی تک جن و انس کی راہنمائی کرتا ہے، عبادت و احکامات کے بلند وبالا نظام کا تفوق بخشتا ہے، تو دوسری طرف زندگی کی ان چھوٹی راہوں کی بھی معرفت عطا کرتا ہے جو دنیا والوں کی نظر میں حقیر ہیں، جن کی طرف دوسرے مذاہب آنکھ بھی نہیں اٹھاتے۔ دیکھئے ایک بےبصیرت اور عقل و دانائی کا دشمن مشرک مسلمانوں کا یہی تو مزاق اڑا رہا ہے کہ شارع اسلام کی شان و شوکت کا بھی کوئی تقاضا ہے کہ وہ ہر چیز کو سکھاتے پھریں، یہاں تک کہ وہ پیشاب و پاخانہ تک کے مسائل اور ان کے طور طریقے بتاتے ہیں حضرت سلمان فارسی ؓ، اسی کا جواب دے رہے ہیں کہ اے بیخبر ادر، نادان انسان! یہ ہنسنے کی بات نہیں ہے، استہزاء کا مقام نہیں ہے، تجھے کیا معلوم کہ ہمارے سردار ہم پر کتنے شفیق ہیں ہم پر کتنے مہربان ہیں؟ امت پر انتہائی شفقت و محبت ہی کی یہ وجہ ہے کہ وہ زندگی کے ہر مرحلہ پر ہماری راہنمائی فرماتے ہیں۔ اگر ایک طرف ﷺ توحید و رسالت کے عقائد اور نماز روزہ، زکوٰۃ اور حج جیسے دینی اصول کے احکام و مسائل ہمیں بتاتے ہیں تو دوسری طرف پیشاب و پاخانہ جیسی چھوٹی چھوٹی چیزوں کے آداب بھی بتائے ہیں اور ہدایات اور راہنمائی کا یہی تو وہ مقام ہے جو آپ ﷺ کی ذات کی ہمہ گیری کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے حکم دیا کہ پیشاب و پاخانہ کے وقت ہم قبلہ کی طرف پشت و رخ کر کے نہ بیٹھیں کہ اس سے قبلہ کے احترام پر حرف آتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا ہے کہ دائیں ہاتھ سے استنجاء نہ کیا جائے یہ چیز پاکیزگی و نظافت کے منافی ہے کہ جس ہاتھ سے کھانا کھایا جائے اسی ہاتھ سے گندگی و غلاظت کی صفائی کی جائے۔ آپ ﷺ نے اسے بہتر قرار دیا ہے کہ تین ڈھیلوں یا پتھروں سے کم میں استنجاء نہ کیا جائے کہ صفائی و پاکیزگی کا تقاضا یہی ہے اور آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ استنجاء کے ڈھیلوں میں لید و گوبر اور دوسری نجاست نہ ہو کہ اس سے بجائے پاکیزگی حاصل ہونے کے اور زیادہ غلاظت و گندگی لگے گی اور ہڈی سے استنجاء نہ کیا جائے کیونکہ ہڈی جنات کی خوراک ہے۔
وَعَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ حَسَنَۃَ قَالَ خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم وَفِیْ یَدِہِ الدَّرَقَۃُ فَوَضَعَھَا ثُمَّ جَلَسَ فَبَالَ اِلَیْھَا فَقَالَ بَعْضُھُمْ اُنْظُرُوْ اِلَیْہِ یَبُوْلُ کُنَّا تَبُوْلُ الْمَرْأَۃُ فَسَمِعَہُ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ وَیْحَکَ اَمَاعَلِمْتَ مَا اَصَابَ صَاحِبَ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ کَانُوْا اِذَا اَصَابَھُمُ الْبَوْلُ قَرَضُوْہُ بِالْمَقَارِیْضِ فَنَھَا ھُمْ فَعُذِّبَ فِیْ قَبْرِہٖ۔ (رواہ ابوداؤ د وابن ماجۃ ورواہ السنن نسائی عن ابی موسی)
اور حضرت عبدالرحمن ابن حسنہ ؓ فرماتے ہیں کہ (ایک دن) سرکار دو عالم ﷺ (گھر سے) نکل کر ہمارے پاس تشریف لائے (اس وقت) آپ ﷺ کے ہاتھ میں ڈھال تھی، اسے آپ ﷺ نے (اپنے سامنے زمین پر) رکھ دیا پھر اس کے سامنے بیٹھ کر پیشاب کیا (یہ دیکھ کر) ایک مشرک نے کہا ان کی طرف دیکھو اس طرح پیشاب کرتے ہیں جسے عورت پیشاب کرتی ہے یہ بات رسول اللہ ﷺ نے سن لی اور فرمایا تجھ پر افسوس ہے کیا تو اس چیز کو نہیں جانتا جو بنی اسرائیل کے ساتھی کو پہنچی (یعنی عذاب) بنی اسرائیل (جب پیشاب کرتے اور ان) کے (جسم یا کپڑے کو پیشاب لگ جاتا تو اس کو قینچی سے کاٹ ڈالتے تھے چناچہ (بنی اسرائیل میں اس ایک) آدمی نے (اس حکم کو ماننے سے) لوگوں کو روکا، لہٰذا اسے قبر کے عذاب میں مبتلا کیا گیا۔ (ابو داؤد، ابن ماجہ اور سنن نسائی اس حدیث کو عبدالرحمن ؓ اور انہوں نے ابوموسیٰ سے روایت کیا ہے)
تشریح
بنی اسرائیل کی شریعت میں تھا کہ اگر کسی آدمی کے بدن میں نجاست لگ جاتی تو اتنے حصہ کے گوشت کو چھیل ڈالتے تھے اور اگر کپڑے پر لگ گئی تو اس جگہ سے کپڑا کاٹ ڈالتے تھے مگر ان میں سے ایک آدمی نے اپنی شریعت کے اس حکم کو ماننے سے انکار کردیا اور وہ دوسروں کو بھی ایسا کرنے سے روکا کرتا تھا لہٰذا اس بنا پر اسے عذاب قبر میں مبتلا کیا گیا۔ اسی طرف رسول اللہ ﷺ نے اشارہ فرمایا کہ بنی اسرائیل کی شریعت کا وہ قاعدہ اگرچہ شرعی اعتبار سے پسندیدہ تھا مگر چونکہ اس میں مال اور جان کا ضرر ہوتا تھا اس لئے خلاف عقل و دانائی تھا مگر اس کے باوجود شریعت کے اس حکم کو نہ ماننے اور دوسرے لوگوں کو اس سے روکنے پر جب اس آدمی پر عذاب قبر نازل کیا گیا تو شرم و حیاء نہ کرنا بطریق اولیٰ عذاب کا سبب ہے کیونکہ پیشاب کے وقت پردہ کرنا اور شرم کرنا نہ صرف یہ کہ از راہ شریعت پسندیدہ اور بہتر چیز ہے بلکہ عقل و دانائی کے اعتبار سے بھی اولیٰ و افضل ہے۔
وَعَنْ مَرْوَانَ الْاَصْفَرِ قَالَ رَاَیْتُ بْنَ عُمَرَ اَنَاخَ رَاحِلَتَہُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃِ ثُمَّ جَلَسَ یَبُوْلُ اِلَیْھَا فَقُلْتُ یَا اَبَا عَبْدِالرَّحْمٰنِ اَلَیْسَ قَدْنُھِیَ عَنْ ھٰذَا قَالَ بَلْ اِنَّمَا نُھِیَ عَنْ ذٰلِکَ فِی الْفَضَآءِ فَاِذَا کَانَ بَیْنَکَ وَبَیْنَ الْقِبْلَۃِ شَیْی ءٌ یَسْتُرُکَ فَلَا بَأْسَ۔ (رواہ ابوداؤد)
اور حضرت مروان اصفر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے (ایک مرتبہ) حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ کو دیکھا کہ انہوں نے اپنا اونٹ قبلہ کی طرف بیٹھایا پھر خود بیٹھے اور اونٹ کی طرف پیشاب کیا میں نے (یہ دیکھ کر) عرض کیا ابوعبدالرحمن! (یہ حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ کی کنیت ہے) کیا اس طرح قبلہ کی طرف منہ کر کے پیشاب کرنے سے منع فرمایا گیا انہوں نے فرمایا ہاں جنگل میں اس سے منع فرمایا گیا ہے لیکن جب تمہارے اور قبلہ کے درمیان کوئی چیز حائل ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ (ابوداؤد)
تشریح
اس مسئلہ میں حضرت عبداللہ بن عمر فاروق ؓ کا یہ قول دلیل نہیں بن سکتا کیونکہ یہ رسول اللہ ﷺ کے اس فعل سے دلیل پکڑتے تھے جسے اس باب کی پہلی حدیث میں ذکر کیا جا چکا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو قبلہ کی طرف پشت کر کے پاخانہ کرتے ہو دیکھا تھا اور یہ اسی موقع پر بتایا جا چکا ہے کہ اس فعل میں کئی احتمالات پیدا ہوتے ہیں لہٰذا فعل محتمل کو دلیل کے طور پر پیش کرنا صحیح نہیں ہے۔ اور پھر اس کی بھی وضاحت کی جا چکی ہے۔ کہ رسول اللہ ﷺ کی اکثر احادیث سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ پیشاب و پاخانہ کے وقت قبلہ کی طرف منہ یا پشت نہ کرنے کا حکم عام ہے اس میں جنگل کی تخصیص نہیں ہے اسی لئے امام اعظم (رح) کا یہی مسلک ہے کہ اس حکم میں جنگل و آبادی سب برابر ہیں قبلہ کی طرف منہ و پشت کرنا ہر جگہ ممنوع ہے خواہ جنگل کا کھلا میدان ہو یا آبادی میں گھرے ہوئے مکانات۔
وَعَنْ اَنَسِ قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا خَرَجَ مِنَ الْخَلاءِ قَالَ الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی اَذْھَبَ عَنِیّ الْاَذٰی وَعَافَنِی یعنی تمام تعریفیں خداہی کو زیبا ہیں جس نے مجھے سے تکلیف دہ چیز (یعنی پاخانہ) کو دور کیا اور مجھے عافیت بخشی۔&&(ابن ماجہ)
اور حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ سرکار دوعالم ﷺ جب بیت الخلاء سے نکلتے تو یہ دعا پڑھتے الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی اَذْھَبَ عَنِیّ الْاَذٰی وَعَافَانِی یعنی تمام تعریفیں خدا ہی کو زیبا ہیں جس نے مجھ سے تکلیف دہ چیز (یعنی پاخانہ) کو دور کیا اور مجھے عافیت بخشی۔ (ابن ماجہ)
تشریح
یوں تو اگر کوئی انسان یہ چاہے کہ وہ اللہ کی نعمت کو دائرہ شمار میں لے آئے جو اس پر اللہ کی جانب سے ہیں تو یہ مشکل ہیں نہیں بلکہ ناممکن ہے، پیدائش سے لے کر موت تک انسان کی ساری زندگی اور اس کی حیات کا ایک ایک لمحہ اللہ رحیم و کریم کی بیشمار نعمتوں ہی کا مرہون منت ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ کوئی انسان اللہ کی ان بیشمار اور لا محدود نعمتوں کا شکر بھی بجا طور پر ادا نہیں کرسکتا۔ اب آپ پیشاب و پاخانہ ہی کو لے لیجئے بظاہر تو کتنی معمولی سے چیز ہے اور کتنی غیر اہم ضرورت مگر ذرا کسی حکیم و ڈاکٹر سے اس کی حقیقت تو معلوم کر کے دیکھ لیجئے، ایک طبی ماہر آپ کو بتائے گا کہ ان معمولی چیزوں پر انسان کی زندگی کا کتنا دار و مدار ہے اور انسان کی موت وحیات سے اس کا کتنا گہرا تعلق ہے؟ اگر کسی آدمی کا کچھ عرصہ کے لئے پیشاب بند ہوجائے، یا کسی کا پاخانہ رک جائے تو اس کی زندگی کے لالے پڑھ جاتے ہیں اور خدانخواستہ اگر اس عرصہ میں غیر معمولی امتداد پیدا ہوجائے تو پھر اس کی زندگی موت کی آغوش میں سوتی نظر آتی ہے۔ تو کیا؟ یہ اللہ کا ایک عظیم انعام اور اس کا بہت بڑا فضل و کرم نہیں ہے کہ وہ اس تکلیف دہ چیز کو انسان کے جسم سے تھوڑے تھوڑے عرصہ کے بعد کتنی آسانی سے خارج کرتا رہتا ہے، تو یہ کیسے ممکن تھا کہ اللہ کے رسول ﷺ کی وہ زبان جو اس کی چھوٹی چھوٹی نعمتوں پر ہر وقت ادائے شکر وسپاس میں مشغول رہتی تھی اس کی عظیم الشان نعمت پر شکر سے قاصر رہتی۔ چنانچہ یہ حدیث یہی بتارہی ہے کہ آپ ﷺ جب بھی بیت الخلاء سے باہر نکلتے، اللہ کا شکر ادا کرتے کہ اے الٰہ العلمین! دنیا کی تمام تعریفیں تیرے ہی لئے زیبا ہیں، تمام حمد و ثناہ کا تو ہی مستحق ہے اور کیوں نہ ہو؟ جب کے تیری ذات اپنے بندوں کے لئے سراسر لطف و کرم اور رحمت و شفقت ہے۔۔۔ جس کا ایک ادنیٰ سا اظہار یہ بھی ہے کہ تو نے اس وقت محض اپنے فضل و کرم سے ایک تکلیف دہ چیز کو میرے جسم سے خارج کیا اور اس طرح مجھے سکون وا طمینان عطا فرمایا اور عافیت بخشی۔ بعض احادیث میں آپ ﷺ سے یہ دعا بھی منقول ہے جسے آپ ﷺ بیت الخلا سے باہر آنے کے بعد پڑھا کرتے تھے۔ اَلحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی اَذْھَبَ عَنِّی مَایُؤْ ذِیْنِی وَاَبْقَی عَلَیَّ مَایَنْفَعُنِی تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے زیبا ہیں جس نے مجھ سے تکلیف دہ چیز کو دور کیا اور وہ چیز باقی رکھی جو میرے لے فائدہ منہ ہے۔ غذا ہضم ہونے پر دو حصوں میں تقسیم ہوجاتی ہے، ایک بڑا حصہ وہ ہوتا ہے جو فضلہ بن جاتا ہے، دوسرا حصہ جو غذا کا اصل جوہر ہوتا ہے وہ خون وغیرہ میں تبدیل ہوجاتا ہے اس پر زندگی کی بقامنحصر ہوتی ہے، چناچہ اس دعا میں غذا کی انہی دونوں حصوں کی جانب اشارہ فرمایا گیا ہے۔ اگر ان دونوں نعمتوں کا کوئی آدمی خیال کرے تو اسے احساس ہو کہ یہ کتنی اہمیت کی حامل ہیں لیکن افسوس کہ آج ایسے کتنے ہی بےحس و لاپرواہ انسان ملیں گے جن کے دماغ و شعور میں ان کا تصور بھی نہیں ہوگا۔
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ لَمَّا قَدِمَ وَفْدُ الْجِنِّ عَلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالُوْا یَا رَسُوْلَ اﷲ اِنْہَ اُمَّتَکَ اَنْ یَسْتَنْجُوْا بِعَظْمٍ اَوْرَوْثَۃٍ اَوْحِمَمَۃٍ فَاِنَّ اﷲَ جَعَلَ لَنَا فِیْھَا رِزْقًافَنَھَانَا رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلمعَنْ ذٰلِکَ۔(رواہ ابوداؤد)
اور حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ جب جنات کی جماعت سرکار دوعالم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو اس نے آپ ﷺ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ ﷺ اپنی امت کو منع فرما دیجئے کہ وہ گوبر، ہڈی اور کوئلہ سے استنجاء نہ کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں میں ہمارا رزق پیدا کیا ہے چناچہ آنحضرت ﷺ نے ہمیں ان (چیزوں کے استعمال) سے منع فرمایا۔ (ابوداؤد)
تشریح
ہڈی جنات کی خوارک ہے جس سے وہ غذا حاصل کرتے ہیں، اسی طرح لید ان کے جانوروں کی خوارک ہے نیز کوئلے سے بھی چونکہ جنات فائدہ اٹھاتے ہیں مثلاً کوئلہ سے کھانا وغیرہ پکاتے ہیں یا اس سے روشنی کرتے ہیں اس لئے اس کو بھی رزق میں شمار کیا گیا ہے۔
یوں تو مسواک کرنا متفقہ طور پر تمام علماء کرام کے نزدیک سنت ہے مگر حنفیہ کے نزدیک خاص طور پر وضو کے لئے امام شافعی (رح) کے نزدیک وضو و نماز کے وقت مسواک کرنا مسنون ہے، نیز نماز فجر اور نماز ظہر سے پہلے بھی مسواک کرنے کی بہت تاکید کی گئی ہے، مسواک کرنے میں بڑی خیر و برکت اور بہت فضیلت ہے چناچہ علماء لکھتے ہیں کہ مسواک کرنے کی فضیلت میں چالیس احادیث وارد ہوئی ہیں، پھر نہ صرف یہ کہ مسواک کرنا ثواب کا باعث ہے بلکہ اس سے جسمانی طور پر بہت سے فائدے حاصل ہوتے ہیں چناچہ مسواک کرنے سے منہ پاک و صاف رہتا ہے، منہ کے اندر بدبو پیدا نہیں ہوتی، دانت سفید و چمک دار ہوتے ہیں، مسوڑھوں میں قوت پیدا ہوتی ہے اور دانت مضبوط ہوجاتے ہیں۔ ویسے تو ہر حال میں مسواک کرنا مستحب اور بہتر ہے مگر بعض حالتوں میں اس کی اہمیت بڑھ جاتی ہے مثلاً وضو کرنے کے وقت، قرآن شریف پڑھنے کے لئے، دانتوں پر زردی اور میل چڑھ جانے کے وقت اور سونے، چپ رہنے، بھوک لگنے یا بدبو دار چیز کھانے کے سبب منہ کا مزہ بگڑ جانے کی حالت میں مسواک زیادہ مستحب اور اولیٰ ہے۔ مسواک کرنے کے کچھ آداب و طریقے ہیں چناچہ علماء لکھتے ہیں کہ کسی مجلس و مجمع میں اس طرح مسواک کرنا کہ منہ سے رال ٹپکتی ہو مکروہ ہے خصوصاً علماء اور بزرگوں کے قریب اس طرح مسواک کرنا مناسب نہیں ہے۔ مسواک کڑوے درخت مثلاً نیم وغیرہ کی ہونی چاہئے، پیلو کے درخت کی مسواک زیادہ بہتر ہے چناچہ احادیث میں بھی پیلو کی مسواک کا ذکر آیا ہے نیز حضرت امام نووی (رح) فرماتے ہیں کہ مستحب یہ ہے کہ پیلو کی مسواک کی جائے مسواک کا سرا چھنگلیا کی طرف ہونا چاہئے اور مسواک کی لمبائی ایک بالشت کے برابر ہونی چاہئے، مسواک دانتوں کی چوڑائی پر کرنی چاہئے لمبائی پر مسواک نہ کی جائے کیونکہ اس طرح مسواک کرنے سے مسوڑھے چھل جاتے ہیں۔ مسواک کرنے کے وقت کے بارے میں اکثر علماء کی رائے یہ ہے کہ جب وضو شروع کیا جائے تو کلی کے وقت مسواک کرنی چاہئے مگر بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ وضو کرنے سے پہلے ہی مسواک کر لینی چاہئے، نیز مسواک کرنے میں مستحب ہے کہ مسواک دائیں طرف سے شروع کی جائے۔ اگر کسی آدمی کے پاس مسواک نہ ہو یا دانت ٹوٹے ہوئے ہوں تو ایسی حالت میں انگلی سے دانت یا مسوڑھوں کو صاف کرنا چاہئے یا اسی طرح مسواک کو نرم کرنے کے لئے اگر کوئی پتھر نہ ملے اور ایسی شکل میں مسواک کرنا ممکن نہ ہو تو دانت کو ایسی چیزوں سے صاف کرلیا جائے جو منہ کی بد مزگی کو دور کردیں جیسے موٹا کپڑا اور منجن وغیرہ یا صرف انگلی ہی سے صاف کرلے۔
وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم لَوْ لَا اَنْ اَشُقَّ عَلٰی اُمَّتِیْ لَاَمَرْتُھُمْ بِتَاخِےْرِ الْعِشَآءِ وَباِلسِّوَاکِ عِنْدَ کُلِّ صَلٰوۃٍ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر میں اپنی امت پر اس بات کو مشکل نہ جانتا تو مسلمانوں کو یہ حکم دیتا کہ وہ عشاء کی نماز دیر سے پڑھیں اور ہر نماز کے لئے مسواک کریں۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم )
تشریح
عشاء کی نماز کو تاخیر سے پڑھنا اور ہر نماز کے وقت مسواک کرنا مستحب اور بڑی فضیلت کی بات ہے اسی طرف یہ حدیث اشارہ کر رہی ہے چناچہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر مجھے اس بات کا خوف نہ ہوتا کہ میری امت دشواری میں مبتلا ہوجائے گی تو میں یہ فرض قرار دیتا کہ تمام مسلمان عشاء کی نماز تاخیر سے پڑھا کریں اب تاخیر کی حد کیا ہے؟ اس بارے میں حضرت امام شافعی (رح) کے علاوہ جمہور کی رائے یہ ہے کہ تہائی یا آدھی رات تک عشاء کی نماز پڑھنا مستحب ہے۔ دوسری بات آپ ﷺ مسواک کے بارے میں فرما رہے ہیں کہ اگر اس معاملہ میں بھی تنگی و مشکلات کا خوف نہ ہوتا تو اس بات کا علان کردیتا کہ ہر نماز کے وقت یعنی ہر نماز کے وضو کے وقت مسواک کرنا فرض ہے۔ لیکن آپ ﷺ چونکہ امت کے حق میں سراپا رحمت و شفقت ہیں اس لئے آپ نے ان چیزوں کو فرض کا درجہ نہیں دیا کہ فرض ہونے کی شکل میں مسلمان تنگی اور تساہلی کی بناء پر ان فرائض پر عمل نہیں کرسکیں گے نتیجے کے طور پر گناہ گارہوں گے، لہٰذا ان کو صرف مستحب ہی قرار دیا کہ اگر کوئی آدمی ان پر عمل نہ کرے اس سے کوئی مواخذہ نہ ہوگا اور کوئی اللہ کا بندہ اس پر عمل پیرا ہوجائے تو یہ اس کے حق میں سرا سر سعادت و نیک بختی کی بات ہوگی۔
وَعَنْ شُرَےْحٍ بْنِ ھَانِئٍصقَالَ سَاَلْتُ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا بِاَیِّ شَےْئٍ کَانَ ےَبْدَأُ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَادَخَلَ بَےْتَہُ قَالَتْ بِالسِّوَاکِ (صحیح مسلم)
اور حضرت شریح ابن ہانی راوی ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ ؓ سے پوچھا کہ سرکار دو عالم ﷺ جب اپنے گھر میں تشریف لاتے تو پہلے کیا کرتے؟ انہوں نے فرمایا کہ سب سے پہلے آپ ﷺ مسواک کرتے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
آپ ﷺ کی عادت مبارکہ تھی کہ جب آپ ﷺ اپنے گھر میں تشریف لاتے تو سب سے پہلے مسواک کرتے اور یہ آپ و کے مزاج اقدس کی انتہائی نظافت کی دلیل تھی کہ اگر مجلس مبارک میں خاموش بیٹھنے یا لوگوں سے گفتگو کرنے کی وجہ سے منہ کے اندر کچھ تغیر آگیا ہو تو وہ دور ہوجائے۔ اگر آپ ﷺ کے اس فعل مبارک کی حقیقت پر نظر ڈالی جائے تو یہاں بھی تعلیم امت کا مقصد سامنے آئے گا لوگوں کو چاہئے کہ وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ انتہائی پاکیزگی و صفائی کے ساتھ رہا کریں یہاں تک کے آپ میں گفتگو و کلام کرنے اور ملنے جلنے کے لئے مسواک کرلیا کریں تاکہ کوئی آدمی منہ کی بدمزگی یا بو کے تغیر کی وجہ سے تکلیف محسوس نہ کرے۔ مسواک کی فضیلت کا اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے منقول ہے کہ مسواک کرنے کے ستر فائدے ہیں جن میں سب سے ادنیٰ اور کم درجہ فائدہ یہ ہے کہ مسواک کرنے والا آدمی موت کے وقت کلمہ شہادت کو یاد رکھے گا جس کی بناء پر اس کا خاتمہ یقینا خیر پر ہوگا۔ ٹھیک اسی طرح جیسے کہ افیون کھانے کے ستر نقصان ہیں جن میں سب سے ادنیٰ اور کم تر نقصان یہ ہے کہ افیون کھانے والا آدمی موت کے وقت کلمہ شہادت بھول جائے گا، العیاذ با اللہ حضرت علامہ ابن حجر (رح) فرماتے ہیں کہ ہر آدمی کے لئے یہ تاکید ہے کہ وہ جب گھر میں داخل ہو تو اسے چاہئے کہ وہ سب سے پہلے مسواک کرے کیونکہ اس سے منہ میں بہت زیادہ خوشبو پیدا ہوجاتی ہے جس سے گھر والوں کے ساتھ حسن سلوک میں اضافہ ہوتا ہے۔
وَعَنْ حُذَےْفَۃَص قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا قَامَ لِلتَّھَجُّدِ مِنَ اللَّےْلِ ےَشُوْصُ فَاہُ بِالسِّوَاکِ ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت حذیفہ ؓ فرماتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ جب رات تہجد کی نماز کے لئے اٹھتے تو اپنا منہ مسواک سے ملتے اور دھوتے تھے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم )
عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَاقَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلمعَشْرٌمِّنَ الْفِطْرَۃِ:قَصُّ الشَّارِبِ، وَاِعْفَاءُ اللِّحْیَۃِ،وَالسِّوَاکُ، وَاسْتِنْشَا قُ الْمَائِ،وَقَصُّ الْاَظْفَارِ، وَغَسْلُ الْبَرَاجِمِ،وَنَتْفُ الْاِبِطِ، وَحَلْقُ الْعَانَۃِ،وَانْتِقَاصُ الْمَائِ-یَعْنِیْ الْاِسْتِنْجَائَ۔ قَالَ الرَّاوِیُّ وَنَسِیْتُ الْعَاشِرَۃَ اِلَّا اَنْ تَکُوْنَ الْمَضْمَضَۃُ۔ (رَوَاہُ مُسْلِمٌ۔)وفی رواتۃ الختان بدل اعفاء اللحیۃ لم اجد ھذہ الروایۃ فی الصحیحین ولا فی کتاب الحمیدی ولکن زکر ھا صاحب الجامع وکذا الخطابی فی معالم السنن عن ابی داود۔ (روایۃ عمار بن یاسر)
اور حضرت عائشہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا دس چیزیں فطرت میں سے ہیں (یعنی دین کی باتیں) (١) لبوں کے بال کٹوانا (٢) داڑھی کا بڑھانا (٣) مسواک کرنا (٤) ناک میں پانی دینا (٥) ناخن کٹوانا (٦) جوڑوں کی جگہ کو دھونا (٧) بغل کے بال صاف کرنا (٨) زیر ناف بالوں کو مونڈنا (٩) پانی کا کم کرنا یعنی استنجاء کرنا راوی یعنی مصعب یا زکریا کا بیان ہے کہ دسویں چیز کو میں بھول گیا، ممکن ہے کہ وہ کلی کرنا ہو۔ (صحیح مسلم) اور ایک روایت میں (دوسری چیز) داڑھی بڑھانے کے بجائے ختنہ کرانا ہے اور (صاحب مشکوۃ فرماتے ہیں کہ مجھے یہ روایت نہ صحیحین یعنی صحیح البخاری و صحیح مسلم میں ملی ہے اور نہ کتاب حمیدی میں (جو صحیحین کی جامع ہے، البتہ اس روایت کو صاحب جامع الاصول نے (اپنی کتاب میں) ذکر کیا ہے، اسی طرح خطابی نے معالم السنن میں ابوداؤد کے حوالہ سے حضرت عمر ابن یاسر ؓ کی روایت کے ساتھ نقل کیا ہے۔
تشریح
اس حدیث میں جن دس چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے یہ تمام چیزیں پچھلے تمام انبیاء (علیہم السلام) کی شریعت میں سنت تھیں اور رسول اللہ ﷺ کی لائی ہوئی شریعت یعنی دین اسلام میں بھی سنت ہیں چناچہ اکثر علماء کرام کے نزدیک فطرت کے یہی معنی ہیں، دوسری شروحات میں اس کے علاوہ علماء کے دوسرے اقوال بھی منقول ہیں لیکن طوالت کی بناء پر یہاں سب کو ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ پہلی چیز لبوں کے بال یعنی مونچھوں کا کٹوانا ہے، اس سلسلہ میں مختار مسلک یہی ہے مونچھیں کتروائی جائیں اور اس طرح کتروائی جائیں کہ اوپر کے ہونٹ کا کنارہ معلوم ہونے لگے۔ امام اعظم (رح) کی ایک روایت یہ ہے کہ مونچھیں بھوؤں کی برابر رکھنی چاہئیں۔ البتہ غازیوں اور مجاہدوں کو زیادہ مونچھیں بھی رکھنی جائز ہے کیوں کہ زیادہ مونچھیں دشمن کی نظر میں دہشت کا باعث ہوتی ہیں اور اس سے ان پر رعب چھا جاتا ہے، مونچھوں کا زیادہ کٹوانا کہ ان کا نشان بھی باقی نہ رہے یا بالکل منڈوانا مکروہ ہے بلکہ بعض علماء کے نزدیک حرام ہے مگر بعض علماء نے اسے سنت بھی کہا ہے۔ دوسری چیز داڑھی کا بڑھانا ہے، اس کے بارے میں علماء کا فیصلہ ہے کہ داڑھی کی لمبائی ایک مٹھی کے برابر ہونا ضروری ہے اس سے کم نہ ہونا چاہئے اگر مٹھی سے زیادہ بھی ہو جائز ہے بشر طی کہ حد اعتدال سے نہ بڑھ جائے۔ داڑھی کو منڈوانا یا پست کرنا حرام ہے کیونکہ یہ اکثر مشرکین مثلاً انگریز و ہندو کی وضع ہے، اسی طرح منڈی ہوئی یا پست داڑھی ان لوگوں کی وضع ہے جنہیں دین سے کوئی حصہ نصیب نہیں ہے کہ جن کا شمار گروہ قلندری رمد مشرب میں ہوتا ہے۔ داڑھی کے بال ایک مٹھی کے برابر چھوڑنا واجب ہے اسے سنت اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس کا ثبوت سنت سے ہے جیسے نماز عید کو سنت فرماتے ہیں حالانکہ عید واجب ہے۔ اگر لمبائی یا چوڑائی میں کچھ بال آگے بڑھ کر بےترتیب ہوجائیں تو ان کو کتروا کر برابر کرنا جائز ہے، لیکن بہتر یہ ہے کہ انہیں بھی نہ کتروایا جائے، اگر کسی عورت کی داڑھی نکل آئے تو اسے صاف کر ڈالنا مستحب ہے۔ تیسری چیز مسواک کرنا ہے، اس کے متعلق پہلے ہی بتایا جا چکا ہے کہ مسواک کرنا بالاتفاق علماء کرام کے نزدیک سنت ہے، بلکہ امام ابوداؤد (رح) نے تو اسے واجب کہا ہے، حضرت شاہ اسحق صاحب (رح) نے اس سے بھی بڑھ کر یہ بات کہی ہے کہ اگر کوئی آدمی مسواک کو قصدا چھوڑ دے تو اس کی نماز باطل ہوگی، چوتھی چیز ناک میں پانی دینا ہے، اس کا مسئلہ یہ ہے کہ وضو کے لئے ناک میں پانی دنیا مستحب ہے اور غسل کے لئے ناک میں پانی دینا فرض ہے یہی حکم کلی کا بھی ہے کہ وضو میں کلی کرنا سنت ہے اور غسل میں فرض ہے۔ پانچویں چیز ناخن کا کٹوانا ہے، ناخن کسی طرح بھی کٹوائے جائیں اصل سنت ادا ہوجائے گی لیکن اولٰی اور بہتر یہ ہے کہ ناخن کٹوانے کے وقت یہ طریقہ اختیار کیا جائے کہ سب سے پہلے دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی کے ناخن کٹوائے جائیں اس کے بعد بیچ کی انگلی کے اس کے بعد اس کے پاس کی انگلی کے پھر چھنگلیا کے پھر بعد میں انگوٹھے کے ناخن کٹوائے جائیں، اس کے بعد بائیں ہاتھ کی انگلیوں کے ناخن اس طرح کٹوائے جائیں کہ سب سے پہلے چھنگلیا کے اس کے بعد اس کے پاس کی انگلی اس کے بعد بیچ کی انگلی اس کے بعد شہادت کی انگلی اور پھر بعد میں انگوٹھے کے ناخن کٹوائے جائیں۔ بعض علماء کرام نے یہ طریقہ بھی لکھا ہے کہ سب سے پہلے دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی سے ناخن کٹوانا شروع کرے اور چھنگلیا پر پہنچ کر روک دے پھر بائیں ہاتھ کی چھنگلیا سے شروع کرے اور اس کے انگوٹھے تک پہنچ کر دائیں ہاتھ کے انگوٹھے پر ختم کر دے۔ اسی طرح پیر کے ناخن اس طرح کٹوانا چاہئے کہ پہلے دائیں پیر کی چھنگلیا سے کٹوانا شروع کرے اور آخر میں بائیں بیر کی چھنگلیا پر لے جا کر ختم کرے بعض علماء کرام نے لکھا ہے کہ جمعہ کے روز ناخن کتروانا مستحب ہے، کچھ حضرات نے ناخن کٹوا کر ان کو زمین میں دفن کردینے کو بھی مستحب لکھا ہے، اگر ناخن پھینک دیئے جائیں تو کوئی مضائقہ نہیں ہے لیکن ان کو پاخانہ میں یا غسل کی جگہ میں پھینکنا مکروہ ہے۔ چھٹی چیز براجم یعنی جوڑوں کی جگہ کو دھونا ہے، براجم فرماتے ہیں انگلیوں کی گانٹھوں (جوڑوں) کو اور اس کی اوپر کی کھال کو جو چنٹ دار ہوتی ہے اس میں اکثر میل جمع ہوتا ہے۔ خصوصاً جو لوگ ہاتھ سے کام کاج زیادہ کرتے ہیں ان کی انگلیاں سخت ہوجاتی ہیں اور ان میں میل جم جاتا ہے، لہٰذا ان کو دھونے کی تاکید فرمائی جا رہی ہے، اسی طرح بدن کے وہ اعضاء جن میں میل جم جانے کا گمان ہو جیسے کان، بغل، ناف ان کو بھی دھونے کا یہی حکم ہے۔ ساتویں چیز بغل کے بالوں کو صاف کرنا ہے، اس سلسلہ میں نتف استعمال فرمایا گیا ہے، نتف بال اکھاڑنے کو فرماتے ہیں، چناچہ اس سے معلوم ہوا کہ بغل کے بالوں کو منڈوانا سنت نہیں ہے بلکہ ان کو ہاتھ سے اکھاڑنا سنت ہے مگر بعض علماء نے کہا ہے کہ بغل کے بالوں کو ہاتھ سے اکھاڑنا اس آدمی کے لئے افضل ہے جو اس کی تکلیف کو برداشت کرسکتا ہو، ویسے بغل کے بالوں کا منڈوانا یا نورے سے صاف کرنا بھی جائز ہے۔ آٹھویں چیز زیر ناف بالوں کو مونڈنا ہے، یہ بھی سنت ہے، زیر ناف بال، اگر منڈانے کی بجائے اکھاڑے جائیں، یا نور سے صاف کئے جائیں تو بھی ان کے حکم میں شامل ہوں گے مگر قینچی سے کاٹنے میں سنت ادا نہیں ہوتی۔ مقعد (پاخانہ کے مقام) کے گرد جو بال ہوتے ہیں ان کو بھی صاف کرنا مستحب ہوتا ہے۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے زیر ناف بالوں نورے ( نورہ ایک خاص مرکب چیز کو فرماتے ہیں جو ہڑتال اور چونے سے ملا کر بنائی جاتی تھی جس سے بال اڑجاتے ہیں)۔ سے صاف کیا کرتے تھے وا اللہ اعلم۔ عورتوں کو زیر ناف بال اکھاڑنا اولیٰ ہے کیونکہ اس سے خاوند کو رغبت زیادہ ہوتی ہے، نیز عورت کے اندر چونکہ خواہشات نفسانی اور شہوت ننانوے حصہ ہوتی ہے اور مرد میں صرف ایک حصہ ہوتی ہے اور یہ طے ہے کہ زیر ناف بال اکھاڑنے سے شہوت کم ہوتی ہے اور مونڈنے سے قوی ہوتی ہے، لہٰذا عورت کے مناسب حال یہی ہے کہ وہ بال اکھاڑے اور مرد کے مناسب حال یہ ہے کہ وہ مونڈے۔ زیر ناف بال مونڈنے، بغل کے بال اکھاڑنے، مونچھیں کتروانے اور ناخن کٹوانے کی مدت زیادہ سے زیادہ چالیس دن ہونی چاہئے، چالیس دن کے اندر اندر ان کو صاف کرلینا چاہئے اس سے زیادہ مدت تک انہیں چھوڑے رکھنا مکروہ ہے۔ نویں چیز پانی کا کم کرنا یعنی پاکی کے ساتھ استنجاء کرنا ہے۔ انتقاص الماء کے دو مطلب ہیں ایک تو یہی جو راوی نے بیان کئے ہیں یعنی پانی کے ساتھ استنجاء کرنا چونکہ استنجاء کرنے میں پانی خرچ ہوتا ہے اور کم ہوجاتا ہے اس لئے اس انتقاص الماء (پانی کا کم کرنا) سے تعبیر کیا گیا ہے، دوسرے معنی یہ کہ پانی کے استعمال یعنی استنجاء کرنے کی بناء پر پیشاب کو کم کرنا، مطلب یہ ہے کہ پانی سے استنجاء کرنے کی وجہ سے پیشاب کے قطرے رک جاتے ہیں اس طرح پیشاب میں کمی ہوجاتی ہے۔ ایک دوسری روایت میں انتقاص کی جگہ لفظ انتقاض آیا ہے اس کے معنی ہیں ستر کے اوپر پانی چھڑکنا جیسا کہ پہلی حدیثوں میں گزر چکا ہے، بہر حال یہ دونوں چیزیں بھی سنت ہیں۔ ختنہ چونکہ شعائر اسلام میں سے ہے اس لئے اگر کسی شہر کے تمام لوگ ختنہ ترک کردیں تو امام وقت کو ان کے ساتھ جنگ کرنی چاہئے تاآنکہ وہ لوگ اس اسلامی شعائر کو اختیار کرلیں جیسے آذان کے بارے میں حکم ہے۔ ختنہ کرنے کی عمر اور وقت کے تعین میں علماء کے یہاں اختلاف ہے، بعض علماء کے نزدیک پیدائش کے ساتویں دن ختنہ کردینا چاہئے جیسے عقیقہ ساتویں دن ہوتا ہے۔ بعض حضرات کے نزدیک سال اور بعض کے نزدیک نو سال کی مدت ہے، بعض علماء فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی قید نہیں ہے، جب چاہے ختنہ کردیا جائے، گویا بالغ ہونے سے پہلے پہلے جب بھی وقت اور موقع ہو ختنہ کرایا جاسکتا ہے، امام اعظم کے نزدیک اس صورت میں بلوغ سے پہلے کی شرط بطور خاص ہے کیونکہ ختنہ کرنا سنت ہے اور بالغ ہونے کے بعد ستر چھپانا واجب ہے اس لئے اگر کوئی آدمی بالغ ہونے کے بعد ختنہ کرائے گا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس نے ایک سنت کو ادا کرنے کے لئے واجب کو ترک کردیا حالانکہ سنت کی ادائیگی کے لئے واجب کو ترک کردینا جائز نہیں۔
عَنْ عَآئِشَۃَ قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ السِّوَاکُ مُطْھَرَۃٌ لِّلْفَمِ مَرْضَاۃُ لِّلْرَّبِّ رَوَاہُ الشَّافِعِیُّ وَ اَحْمَدُ وَالدَّارِمِیُّ وَالنِّسَائِیُّ وَرَوَی الْبُخَارِیُّ فِی صَحِیْحِہٖ بِلَا اِسْنَادٍ۔
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا مسواک کرنا، منہ کی پاکی کا سبب ہے اور پروردگار کی خوشنودی کا باعث ہے شافعی، مسند احمد بن حنبل، دارمی، سنن نسائی) اور امام بخاری (رح) نے اس حدیث کو اپنی صحیح (جامع صحیح البخاری) میں بغیر سند کے نقل کیا ہے۔
وَعَنْ اَبِی اَیُّوْبَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ اَرْبَعُ مِّنْ سُنَنِ الْمُرْسَلِیْنَ الْحَیَاءُ وَیُرْوَی الْخِتَانُ وَالتَّعَطُّرُوَالسِّوَاکُ وَالنِّکَاحُ۔ (رواہ الجامع ترمذی)
حضرت ابوایوب ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا چار چیزیں رسولوں کے طریقہ میں سے ہیں (١) حیاء کرنا ( ایک روایت میں) ختنہ کرنا مروی ہے (یعنی اس روایت میں تو الحیاء کا لفظ ہے اور بعض روایت میں اس کے بجائے الختان کا لفظ آیا ہے۔ (٢) خوشبو لگانا (٣) مسواک کرنا (٤) نکاح کرنا۔ (جامع ترمذی )
تشریح
رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد فرمانا کہ چار چیزیں رسولوں کے طریقہ میں سے ہیں کہ اکثر کے اعتبار سے ہے کیونکہ بعض انبیاء کرام (علیہم السلام) ایسے بھی تھے جن کے یہاں ان میں سے کچھ چیزیں نہیں پائی جاتی تھیں مثلاً حضرت یحییٰ (علیہ السلام) نے نکاح نہیں کیا تھا۔ بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت آدم، حضرت شیث، حضرت نوح، حضرت ہود، حضرت صالح، حضرت لوط، حضرت شعیب، حضرت یوسف، حضرت موسیٰ، حضرت سلیمان، حضر زکریا، حضرت عیسیٰ علیم السلام اور حضرت حنظلہ بن صفوان (علیہ السلام) جو اصحاب الرس کے نبی تھے اور سرکار دو عالم ﷺ مختون ہی اس دنیا میں تشریف لائے تھے، یعنی انبیاء و رسول ختنہ کئے ہوئے پیدا ہوئے تھے۔ سرکار دو عالم ﷺ کے بارے میں بعض علماء کرام کا قول ہے کہ پیدا ہونے کے بعد آپ ﷺ کا ختنہ ہوا ہے، رسول اللہ ﷺ چونکہ نظافت ولطافت کے انتہائی بلند مقام پر تھے اس لئے آپ ﷺ کو خوشبو زیادہ مرغوب تھی، چناچہ منقول ہے کہ آپ خوشبو کے لئے مشک استعمال فرماتے تھے۔ شریعت محمدی ﷺ میں نکاح کی بہت زیادہ اہمیت ہے، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے نکاح کو اپنی سنت قرار دیتے ہوئے اس بات کا اعلان فرما دیا ہے کہ جو آدمی میری اس سنت سے اعراض کرے گا یعنی نکاح نہیں کرے گا تو وہ میری امت میں سے نہیں ہے۔ حضرت علامہ ابن حجر (رح) فرماتے ہیں کہ میں نے نکاح کے فضائل و مناقب میں منقول جو احادیث جمع کی ہیں ان کی تعداد ایک سو سے زیادہ ہے۔
وَعَنْ عَآئِشَۃَ قَالَتْ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم لَا یَرْقُدُ مِنْ لَیْلِ وَلَانَھَارِ فَیَسْتَیْقِظُ اِلَّا یَتَسَوَّکُ قَبْلَ اَنْ یَتَوَضَّأَ۔ (رواہ مسند احمد بن حنبل وابوداؤد)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ جب رات اور دن میں سو کر اٹھتے تو وضو کرنے سے پہلے مسواک کرتے۔ (مسند احمد بن حنبل، سنن ابوداؤد)
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ دن میں بھی قیلولہ کے وقت آرام فرماتے تھے، چناچہ دن میں تھوڑا بہت سو لینا اور قیلولہ کے وقت آرام کرنا سنت ہے کیونکہ اس کی وجہ سے رات میں اللہ کی عبادت کے لئے اٹھنے میں آسانی ہوتی ہے جیسے کہ سحری کھا لینے سے روزہ آسان ہوجاتا ہے۔ نیز اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سو کر اٹھنے کے بعد مسواک کرنا سنت موکدہ ہے کیونکہ سونے کی وجہ سے منہ میں تغیر پیدا ہوجاتا ہے اور بو میں فرق آجاتا ہے اس لئے مسواک کرنے سے منہ صاف ہوجاتا ہے۔ اب اس میں احتمال ہے کہ آپ ﷺ پھر وضو کے لئے دوبارہ مسواک کرتے تھے یا نہیں؟ ہوسکتا ہے کہ اسی مسواک پر اکتفا فرماتے ہوں اور وضو کے وقت دوبارہ مسواک کرتے ہوں اور یہ بھی ممکن ہے کہ وضو کے ارادہ کے وقت یا وضو میں کلی کرتے وقت دوبارہ مسواک کرتے ہوں۔ وا اللہ اعلم۔
وَعَنْھَا قَالَتْ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم یَسْتَاکُ فَیُعْطِیْنِیْ السِّوَاکَ لِاَغْسِلَہ، فَاَبْدَاُ بِہٖ فَاَسْتَاکُ ثُمَّ اَغْسِلُہ، وَاَدْفَعُہ،۔ (رواہ ابوداؤد)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ مسواک کرتے اور پھر مجھے دے دیتے تاکہ میں اسے دھو ڈالوں چناچہ میں (آپ سے مسواک لے کر) پہلے اس سے خود مسواک کرتی پھر دھوتی اور رسول اللہ ﷺ کو دے دیتی۔ (سنن ابوداؤد)
تشریح
یہ حدیث اس بات کے لئے دلیل ہے کہ مسواک کرنے کے بعد اس کو دھونا مستحب ہے، حضرت ابن ہمام (رح) فرماتے ہیں کہ مستحب یہ ہے کہ تین مرتبہ مسواک کی جائے اور ہر مرتبہ اسے پانی سے دھو لیا جائے تاکہ اس کا میل کچل دور ہوتا رہے اور یہ کہ مسواک نرم ہونی چاہئے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ آپ ﷺ سے مسواک لے کر دھونے سے پہلے اپنے منہ میں اس لئے پھیرتی تھیں کہ سرکار دو عالم ﷺ کی لعاب مبارک کی برکت حاصل ہو، پھر اسے دھو کر آپ ﷺ کو دے دیتی تھیں تاکہ مسواک پوری طرح نہ کی ہو تو اسے مکمل کرلیں۔ یہ حدیث اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ کسی دوسرے کی مسواک اس کی رضا مندی سے استعمال کرلینا مکروہ نہیں ہے، نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ صالحین اور بزرگوں کے لعاب وغیرہ سے برکت حاصل کرنا اچھی بات ہے۔
وَ عَنْ ابْنِ عُمَرْص اَنَّ النَّبِِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ اُرَانِیْ فِی الْمَنَامِ اَتَسَوَّکُ بِسِوَاکٍ،فَجَاءَ نِیْ رَجُلَانِ اَحَدُھُمَا اَکْبَرُ مِنَ الْاٰخَرِ فَنَاوَلْتُ السِّوَاکَ الْاَصْغَرَ مِنْھُمَا فَقِیْلَ لِیْ کَبِّرْ فَدَفَعْتُہُ اِلَی الْاَکْبَرِ مِنْھُمَا۔(مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ)
حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ (ایک دن) سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا میں نے اپنے آپ کو خواب میں دیکھا کہ میں مسواک کر رہا ہوں (اس اثناء میں) دو آدمی میرے پاس آئے، ان میں سے ایک آدمی دوسرے سے بڑا تھا، میں نے ان میں سے چھوٹے کو مسواک دینے کا ارادہ کیا مگر مجھ سے کہا گیا کہ بڑے کو مسواک دو، چناچہ میں نے ان میں سے بڑے کو مسواک دی۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم )
تشریح
اس حدیث سے مسواک کی بزرگی اور فضیلت کا اظہار ہو رہا ہے اس لئے کہ اسے بڑے کو دینے کا حکم کیا جانا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ ایک افضل اور بہترین چیز ہے جب ہی تو بڑے کو جو چھوٹے سے افضل و اعلیٰ تھا، دئیے جانے کا حکم کیا گیا۔ اس حدیث نے اس طرف بھی اشارہ کردیا کہ کھانا وغیرہ دینے، خوشبو لگانے یا ایسی ہی دوسری چیزوں میں ابتداء بڑے سے ہی کرنی چاہئے۔
وَعَنْ اَبِی اُمَامَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ مَا جَا ءَ نِیْ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ اسَّلَامُ قَطُّ اِلَّا اَمَرَنِیْ بِالسِّوَاکِ لَقَدْ خَشِیْتُ اَنْ اُخْفِیَ مُقَدَّمَ فِیَّ۔ (رواہ مسند احمد بن حنبل)
حضرت ابی امامہ ؓ فرماتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جبرائیل (علیہ السلام) جب بھی میرے پاس آتے مجھے مسواک کرنے کا حکم دیتے (یہاں تک کہ) یہ مجھے خوف ہوا کہ (کہیں مسواک کی زیادتی سے) میں اپنے منہ کے اگلے حصہ کو چھیل نہ ڈالوں۔ (مسند احمد بن حنبل)
تشریح
مسواک کی اہمیت اور اس کی فضیلت کا اندازہ اس سے لگائیے کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) جب بھی رسول اللہ ﷺ کے پاس تشریف لاتے آپ ﷺ کو مسواک کرنے کا حکم دیتے اور رسول اللہ ﷺ اس حکم کی بنا پر کثرت سے مسواک کرتے، چناچہ آپ ﷺ یہی فرما رہے ہیں کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے بار بار حکم اور اس شدت سے تاکید کی بناء پر مسواک اتنی کثرت سے استعمال کرتا ہوں کہ مجھے یہ ڈر ہے کہ مسواک کی زیادتی سے کہیں میرا منہ نہ چھیل جائے۔
وَعَنْ اَنَسٍ قَالَ قَالَِ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلملَقَدْ اَکْثَرْتُ عَلَیْکُمْ فِیْ السِّوَاکِ۔(رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ)
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا میں نے تم سے مسواک کے متعلق بہت کچھ بیان کیا ہے۔ (صحیح البخاری )
تشریح
اس ارشاد کا مقصد مسواک کی فضیلت و اہمیت کو بتانا ہے اور اس پر تاکید فرمانی ہے کہ مسواک زیادہ سے زیادہ کرنی چاہئے اس لئے کہ کسی چیز کو بار بار بیان کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ چیز بڑی اہمیت و فضیلت کی حامل ہے۔
وَعَنْ عَآئِشَۃَ قَالَتْ کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَسْتَنُّ وَعِنْدَہ، رَجُلَانِ اَحَدُھُمَا اَکْبَرُ مِنَ الْاٰخَرِ فَاَوْحِیَ اِلَیْہِ فِی فَضْلِ السِّوَاکِ اَنْ کَبِّرْاَعْطِاالسِّوَاکَ اَکَبْرَھُمَا۔ (رواہ ابوداؤد)
اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ مسواک کر رہے تھے اور آپ ﷺ کے پاس دو آدمی تھے جن میں ایک دوسرے سے بڑا تھا چناچہ مسواک کی فضیلت میں آپ ﷺ کی طرف یہ وحی نازل فرمائی گئی کہ بڑے کو مقدم رکھو اور ان دونوں میں سے بڑے کو مسواک دو۔ (ابوداؤد)
وَعَنْھَا قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ تَفَضَّلُ الصَّلَاۃُ الَّتِیْ یُسْتَأْکُ لَھَا عَلَی الصَّلَاۃِ الَّتِیْ لَایُسْتَاکُ لَھَا سَبْعِیْنَ ضِعْفًا۔ (رواہ البیہقی شعب الایمان)
اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ نماز جس کے لئے مسواک کی گئی (یعنی وضو کے وقت) اس نماز پر جس کے لئے مسواک نہیں کی گئی ستر درجے کی فضیلت رکھتی ہے۔ (بیہقی)
تشریح
اس حدیث سے بھی مسواک کی فضیلت کا اظہار ہو رہا ہے کہ مسواک کی وجہ سے نماز کے مراتب و درجات کی کمی پیشی ہوتی ہے، چناچہ فرمایا جا رہا ہے کہ اگر کسی آدمی نے ایک نماز تو اس طرح پڑھی کہ اس نے اس نماز کے لئے وضو کے وقت مسواک اور ایک نماز اس طرح پڑھی کہ اس کے لئے وضو کے وقت مسواک نہیں کی تو پہلے نماز جس کے لئے مسواک کی گئی ہے اس نماز کے مقابلہ میں جس کے لئے مسواک نہیں کی گئی فضیلت اور ثواب کی زیادتی ستر درجہ زیادہ ہوگی گویا دوسری نماز کے مقابلہ میں پہلی نماز کا ثواب ستر گناہ زیادہ ملے گیا۔