وَعَنْ عَآئِشَۃَ قَالَ کَانَتْ یَدُ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ الْیُمْنَی لِطُھُوْرِہٖ وَطَعَامِہٖ وَ کَانَتْ یَدُہُ الْیُسْرٰی لِخَلَائِہٖ وَمَا کَانَ مِنْ اَذًی۔(رواہ ابوداؤد)
اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ کا داہنا دست مبارک وضو کرنے اور کھانے کے لئے تھا اور بایاں ہاتھ استنجاء اور ہر مکروہ کام کے استعمال کے لئے تھا۔ (ابوداؤد)
تشریح
آپ ﷺ دائیں ہاتھ سے وضو کرتے تھے اور اس سے کھانا بھی کھاتے نیز جتنے اچھے کام ہیں سب دائیں ہاتھ سے انجام دیتے تھے مثلاً یہ، صدقہ و خیرات کرنا یا دوسری چیزیں لینا دینا وغیرہ وغیرہ اور بائیں ہاتھ کو استنجاء کرنے یا ایسی چیزوں کی انجام دہی میں استعمال فرماتے جو مکروہ ہوتیں یعنی ایسی چیزیں جو طبعاً مکروہ ہوں، جیسے ناک سنکنی یا ایسے ہی دوسری چیزیں جنہیں نفس مکروہ سمجھتا ہو۔ اس حدیث سے ظاہری طور پر یہ مفہوم ہوتا ہے کہ وضو وغیرہ کے وقت آپ ﷺ ناک میں پانی دائیں ہاتھ سے دیتے ہوں گے اور ناک بائیں ہاتھ سے صاف کرتے ہوں گے، مگر۔ افسوس کہ جس طرح آج کے دور میں عقل و دین سے بیگانہ لوگوں نے دوسری اسلامی چیزوں کو ترک کردیا اور دینی آداب کو فیشن پرستی کے بھینٹ چڑھا دیا ہے اسی طرح اس معاملہ میں بھی اکثر لوگ بالکل برعکس عمل اختیار کئے ہوئے ہیں مثلاً آج کل یہ بہت بڑا مرض عام طور پر لوگوں میں سرایت کرچکا ہے کہ کتاب تو لوگ بائیں ہاتھ میں رکھتے ہیں اور اپنے جوتے دائیں ہاتھ میں اٹھاتے ہیں اب اس کے علاوہ اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ یا تو ایسے لوگ آداب شریعت سے قطعاً ناواقف ہوتے ہیں یا پھر نفس کی گمراہی میں پھنس کر غفلت اختیار کئے ہوئے ہیں۔
وَعَنْھَا قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ اِذَا ذَھَبَ اَحَدُکُمْ اِلَی الْغَائِطِ فَلْیَذْھَبْ مَعَہ، بِثَلَاثَۃِ اَحْجَارِ یَسْتَطِیْبُ بِھِنَّ فَاِنَّھَا تُجْزِی عَنْہ،۔ (رواہ ابوداؤدوالسنن نسائی و الدارمی)
حضرت عائشہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی آدمی پاخانہ کے لئے جائے تو اسے چاہئے کہ وہ اپنے ساتھ تین پتھر (یا ڈھیلے) لے جائے جو کافی ہوں گے (یعنی پانی کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔ (مسند احمد بن حنبل، ابوداؤد، سنن نسائی، دارمی)
تشریح
اصل مقصد تو نجاست سے پاکی حاصل کرنا ہے اور جب تین ڈھیلے سے استنجاء کرے گا اور نجاست صاف کرے گا تو پانی سے استنجاء کی حاجت نہیں رہے گی کیونکہ اصل طہارت اس سے حاصل ہوجائے گی جس سے نماز پڑھنی بھی جائز ہوجائے گی، البتہ ڈھیلے سے استنجاء کرنے کے بعد پانی سے بھی اسنتجاء کرلے تو یہ اچھی بات ہوگئی کیونکہ پانی سے استنجاء کرنا مستحب ہے۔
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ لَا تَسْتَنْجُوْا بِالرُّوْثِ وَلَا بِالْعِظَامِ فَاِنَّہ، زَادُ اِخْوَانِکُمْ مِنَ الْجِنِّ۔ (رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَ النِّسَائِیُّ اِلَّا أَنَّہ، لَمْ یَذْکُرْزَادَاِخْوَانِکُمْ مِنَ الْجِنِّ۔
اور حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا تم لوگ لید اور ہڈی سے استنجاء نہ کرو کیونکہ (ہڈی) تمہارے بھائی جنات کی غذا ہے۔ (جامع ترمذی سنن نسائی مگر سنن نسائی نے زاد اخو انکم من الجن کے الفاظ ذکر نہیں کئے ہیں)
تشریح
جس طرح شریعت محمدی کے مخاطب انسان ہیں اسی طرح جنات بھی ہیں اس لئے رسول اللہ ﷺ جس طرح انسانوں کی دنیوی اور دینی رہبری فرماتے ہیں اسی طرح جنات کی دینی و دنیوی امور کی بھی رعایت فرماتے ہیں چناچہ اس حدیث کے ذریعہ انسانوں کو آگاہ کیا جا رہا ہے کہ لید اور ہڈی سے استنجاء نہ کیا جائے کیونکہ ہڈی تو جنات کی غذا ہے اور لید ان کے جانوروں کی خوراک ہے۔
وَعَنْ رَوَ یْفِعِ بِنْ ثَابِتِ قَالَ قَالَ لِی رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ یَا رَوَیْفَعُ لَعَلَ الْحَیَاۃَ سَتَطُوْلُ بِکَ بَعْدِی فَاَخْبِرِ النَّاسِ اَنَّ مَنْ عَقَدَلِحْیَتَہ، اَوْ تَقَلَّدَ وَتَرًا اَوِ اسْتَنْجٰی بِرَ جِیْعِ دَآبَّۃِ اَوْ عَظْمِ فَاِنَّ مُحَمَّدًا مِنْہُ بَرِیْیئٌ۔ (رواہ ابوداؤد)
اور حضرت رویفع بن ثابت (رویفع بن ثابت بن سکن بن عدی بن حارثہ بنی مالک نجار سے ہیں ان کا شمار اہل مصر میں ہے)۔ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا اے رویفع! شاید میرے بعد تمہاری زندگی دراز ہو، لہٰذا تم لوگوں کو خبردار کرنا کہ جس آدمی نے اپنی ڈاڑھی میں گرہ لگائی یا (گلے میں) تانت کا ہار ڈالا یا جانور کی نجاست (لید اور گوبر وغیرہ) اور ہڈی سے استنجاء کیا تو محمد ﷺ اس سے بیزار ہیں۔ (ابوداؤد)
تشریح
رسول اللہ ﷺ کا حضرت رویفع کو اس انداز سے مخاطب کرنے کا یہ معنی ہیں کہ شاید میرے انتقال کی بعد تمہاری زندگی دراز ہو اور تم دوسرے لوگوں کو گناہ کرتے اور رسوم جاہلیت میں انہیں مبتلا دیکھو تو ان باتوں سے انہیں خبردار کردینا ڈاڑھی میں گرہ لگانے کے کئی معنی ہیں، چناچہ اکثر علماء یہ لکھتے ہیں کہ ڈاڑھی میں گرہ لگانا یہ ہے کہ کوئی آدمی تدابیر اور تکلّف اختیار کر کے مثلاً گرہ وغیرہ لگا کر ڈاڑھی کے بالوں کو گھنگر یا لے بنائے چناچہ ایسا کرنے سے منع کیا گیا ہے، اس سے سنت کی مخالفت لازم آتی ہے اس لئے کے ڈاڑھی کے بالوں کو سیدھا چھوڑنا سنت ہے۔ بعض علماء کرام نے اس کے معنی یہ لکھے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں لوگوں کو یہ عادت تھی کہ جنگ کے وقت اپنی ڈاڑھی کے بالوں میں گرہ دے لیتے تھے چناچہ اس سے منع فرمایا گیا ہے کیونکہ اس سے عورتوں کے ساتھ مشابہت ہوتی ہے۔ کچھ علماء کرام نے اس کے معنی یہ لکھے ہیں کہ اہل عجم کی بھی عادت تھی کہ وہ اپنی ڈاڑھی میں گرہ لگا لیتے تھے اس لئے اس سے منع فرمایا کیونکہ اس سے خلقت الہٰی میں تغیر لازم آتا ہے۔ (واللہ اعلم) لفظ وتر کے بھی کئی معنی ہیں، یا تو اس کے معنی دورے کے ہیں جس میں زمانہ جاہلیت کے لوگ دفع نظر اور آفات نظر سے محافظت کی خاطر تعویز اور گنڈے وغیرہ باندھ کر بچوں اور گھوڑوں کے گلوں میں ڈال دیتے تھے، اس منع فرمایا گیا ہے، بعض علماء نے لکھا ہے کہ اس سے ڈورے مراد ہیں جن میں کفار گھنٹی اور گھنگر و بادندہ کر لٹکاتے تھے یا اس سے کمان کے وہ چلے مراد ہیں جو گھوڑے کے گلے میں ڈالے جاتے ہیں تاکہ نظر نہ لگے، بہر حال، ان تمام رسموں سے آپ ﷺ نے منع فرمایا ہے کیونکہ اس سے کافروں کی مشابہت ہوتی ہے اور رسول اللہ ﷺ کافروں کی مشابہت سے بیزار ہوتے ہیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب کفار کی ایسی چھوٹی چھوٹی رسمیں اختیار کرنا گناہ کبیرہ میں شامل نہیں ہیں رسول اللہ ﷺ کی بیزاری و ناراضگی کا سبب ہے، تو کفر کی وہ بڑی بڑی رسمیں جن میں بدقسمتی سے آج مسلمان مبتلا ہیں اور جن کا شمار بھی کبیرہ گناہوں میں ہوتا ہے ان سے سرکار دو عالم ﷺ کو کتنی زیادہ نفرت ہوگی اور ان رسموں کے کرنے والوں کا اللہ کے یہاں کیا انجام ہوگا؟
وَعَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ مَنِ اکْتَحَلَ فَلْیُوْتِرْ مَنْ فَعَلَ فَقَدْ اَحْسَنَ وَمَنْ لَّا ک فَلَا حَرَجَ وَمَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْیُوْتِرْ مَنْ فَعَلَ فَقَدْاَحْسَنَ وَمَنْ لَّا فَلَا حَرَجَ وَمَنْ اَکَلَ فَمَا تَخَلَّلَ فَلْیَلْفَظْ وَمَالَا ک بِلِسَانِہٖ فَلْیَبْتَلِعْ مَنْ فَعَلَ فَقَدْ اَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ وَمَنْ اَتَی الْغَائِطَ فَلْیَسْتَتِرْ فَاِنْ لَّمْ یَجِدْ اِلَّا اَنْ یَجْمَعَ کَثِیْبًا مِنْ رَمَلِ فَلْیَسْتَدْبِرْہ، فَاِنَّ الشَّیْطَانَ یَلْعَبُ بِمَقَاعِدِ بَنِی اٰدَمَ مَنْ فَعَلَ فَقَدْ اَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ۔(رواہ ابوداؤدوابن ماجۃ والدارمی)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو آدمی سرمہ لگائے تو اسے چاہئے کہ طاق سلائیاں لگائے جس نے ایسا کیا (یعنی طاق سلائیاں لگائیں) اچھا کیا اور جس نے ایسا نہ کیا تو کچھ گناہ نہیں! اور جو آدمی استنجاء کرے تو اسے چاہئے کہ طاق ڈھیلے استعمال کرے ( یعنی تین پانچ یا سات) جس نے ایسا کیا اچھا کیا اور جس نے ایسا نہ کیا کچھا گناہ نہیں! اور جو آدمی کچھ کھائے جو چیز خلال میں نکلے تو اسے چاہئے کہ پھینک دے اور جو چیز زبان سے نکلے تو اسے چاہئے کہ نگل لے، جس نے ایسا کیا اچھا کیا اور جس نے ایسا نہ کیا کچھ گناہ نہیں اور جو آدمی پاخانہ کے لئے جائے تو اسے چاہئے کہ پردہ کرے، اگر کوئی چیز پردہ کی نہ ملے تو (کم از کم) ریت کو جمع کر کے اس کا تودہ اپنے پیچھے کرلے اس لئے کہ شیطان بنی آدم (انسان) کے پاخانہ کے مقام پر کھیلتا ہے جس نے ایسا کیا اچھا کیا اور جس نے ایسا نہ کیا کوئی گناہ نہیں۔ (ابوداؤد، ابن ماجہ، دارمی)
تشریح
طاق سلائیوں سے سرمہ لگانے کا مطلب یہ ہے کہ تین سلائی ایک آنکھ میں لگائے، زیادہ بہتر یہی ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے بارے میں بھی ایسا ہی معمول منقول ہے کہ آپ ﷺ کے پاس ایک سرمہ دانی تھی اس میں سے آپ سرمہ اس طرح لگاتے تھے کہ تین سلائی ایک آنکھ میں لگاتے اور تین سلائی دوسری آنکھ میں لگاتے۔ بعضوں نے یہ طریقہ بتایا ہے کہ تین سلائیاں دائیں آنکھ میں لگائے اور دو سلائیاں بائیں آنکھ میں لگائے، نیز کچھ حضرات نے کہا ہے کہ پہلے دوسلائیاں دائیں آنکھ میں لگائے اور دو سلائیاں بائیں آنکھ میں لگائے اور اس کے بعد پھر ایک سلائی دائیں آنکھ میں لگائے تاکہ ابتدا بھی دائیں آنکھ سے ہو اور اختتام بھی دائیں ہی آنکھ پر ہو، جو آدمی طاق سلائی لگائے گا اس کے لئے بہتر اور اچھا ہوگا اور جو آدمی طاق سلائی نہ لگائے گا اس میں کوئی حرج اور گناہ بھی نہیں ہے کیونکہ طاق سلائی لگانا مستحب ہے۔ آپ ﷺ نے طاق ڈھیلوں سے استنجاء کرنے کے بارے میں جو یہ فرمایا ہے کہ جس نے ایسا کیا اچھا کیا اور جس نہ ایسا نہ کیا تو کوئی گناہ نہیں، اس سے حنفیہ کے مسلک کی تائید ہوتی ہے کہ تین یا طاق ڈھیلے لینے واجب نہیں ہیں اس سے کم اور زیادہ بھی لئے جاسکتے ہیں البتہ طاق ڈھیلے لینا مستحب ہے، کھانا کھانے کے بعد خلال سے نکالی ہوئی چیز کو منہ سے پھینک دینے کو بہتر قرار دیا جا رہا ہے اور زبان سے نکالی ہوئی چیز کو نگل لینے کے لئے کہا جا رہا ہے اس لئے کہ تنکے سے خلال کرنے میں اکثر خون بھی نکل آتا ہے اس لئے احتیاطاً اس کو بھینک دینا ہی بہتر ہے زبان سے چونکہ خون نکلنے کا احتمال نہیں ہوتا اس لئے اس کو نگل لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ مگر اتنی بات سمجھ لینی چاہئے کہ اس سلسلہ میں آپ ﷺ نے یہ جو فرمایا کہ جس نے ایسا نہ کیا کوئی گناہ نہیں تو یہ حکم اسی صورت میں ہوگا جب کہ خون نکلنے کا یقین نہ ہو بلکہ احتمال ہو اگر خون نکلنے کا یقین ہو تو پھر خلال میں ہر طرح کی نکلی ہوئی چیز کا نگلنا حرام ہوا، اس کا پھینک دینا واجب ہوگا۔ آخر حدیث میں فرمایا ہے کہ جب کوئی آدمی پاخانہ کے لئے جائے تو پاخانہ کے وقت اسے پردہ کر کے بیٹھنا چاہئے یعنی ایسی جگہ بیٹھے جہاں لوگ نہ دیکھ سکیں اگر پردہ کے لئے کچھ نہ پائے بایں طور کے نہ تو ایسی جگہ ہے جو گھری ہوئی اور لوگوں کی نظروں سے محفوظ ہو اور نہ اپنے پاس ایسا کوئی کپڑا یا یا کوئی دوسری چیز ہے جس سے پردہ کیا جاسکے تو اس وقت یہ کرنا چاہئے کہ ریت کا تودہ جمع کرلے اور اس کی طرف پیٹھ کر کے بیٹھ جائے اس طرح کسی نہ کسی حد تک پردہ ہوجائے گا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو آدمی پاخانہ کے وقت پردہ کا لحاظ نہیں کرتا تو شیطان اس کے پاخانہ کے مقام سے کھیلتا ہے کھیلنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے اور انہیں اس بات پر آمادہ کرتا ہے کہ وہ اس آدمی کے ستر کو دیکھیں جو بےپردہ بیٹھا ہوا پاخانہ کر رہا ہے، نیز یہ کہ اگر پردہ نہ کیا جائے تو اس کا بھی خطرہ رہتا ہے کہ جب ہوا چلے تو اس کی وجہ سے ناپاک چھینٹیں اڑ کر بدن اور کپڑے پر پڑیں گی اس لئے پاخانہ کے وقت پردہ کا ہونا نہایت ضروری ہے۔ اس کے بارے میں یہ فرمایا گیا ہے کہ اگر کوئی پردہ کا لحاظ کرے تو یہ اچھا ہے اور اگر نہ کرے تو کوئی گناہ کی بات بھی نہیں ہے مگر احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ پردہ کا خیال رکھا جائے بلکہ اگر اس بات کا یقین ہو کہ پردہ نہ کیا گیا تو لوگ دیکھیں گے تو ایسی شکل میں پردہ کرنا لازم اور ضروری ہے، اگر پردہ نہ کرے تو گناہ گار ہوگا۔ اگر بحالت مجبوری کوئی آدمی بغیر پردہ کے پاخانہ کے لئے بیٹھ جائے تو پھر اس کی ستر کی طرف قصدا دیکھنے والوں کو گناہ ہوگا، مجبوری سے مراد یہ ہے کہ کوئی ایسا موقع آپڑے جب کہ پردہ کا کوئی انتظام ممکن نہ ہو اور اس کو شدید حاجت ہو تو اس صورت میں اسے مجبوری ہے۔ ریت کے تودہ کو پشت کی طرف کرنے کو اس لئے فرمایا گیا ہے کہ آگے کے ستر کو تو دامن وغیرہ سے بھی چھپایا جاسکتا ہے بخلاف پیچھے کے ستر کے کہ اس کو چھپانا ذرا مشکل ہوتا ہے۔
وَعَنْ عَبْدِاﷲِ بْنِ مُغَفَّلِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ لَا یَبُوْلَنَّ اَحَدُ کُمْ فِی مُسْتَحَمِّہٖ ثُمَّ یَغْتَسِلُ فِیْہِ اَوْیَتَوَضَّأُ فِیْہِ فَاِنََّ عَامَۃَ الْوَسْوَاسِ مِنْہُ رَوَاہُ اَبُوْدُاؤدَ وَالتِّرْمِذِیُّ وَالنِّسَائِیُّ اِلَّا اَنَّھُمَا لَمْ یَذْکُرَا ثُمَّ یَغْتَسِلُ فِیْہَ اَوْیَتَوَضَّأُ فِیْہٖ۔
اور حضرت عبداللہ بن مغفل ؓ (حضرت عبداللہ بن مغفل کی کنیت ابوسعید ہے پہلے مدینہ میں سکونت اختیار فرمائی پھر آپ بصرہ چلے گئے آپ کو حضرت عمر فاروق ؓ نے بصرہ میں مسائل دین کی تعلیم دینے کے لئے بھیجا تھا آپ کی وفات بمقام بصرہ ٥٩ ھ میں ہوئی)۔ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا کوئی آدمی اپنے غسل خانے میں پیشاب نہ کرے جس میں پھر وہ نہائے یا وضو کرے (یعنی یہ عقل سے بعید ہے کہ نہانے کی جگہ پیشاب کرے اور پھر وہیں نہائے یا وضو کرے) اس لئے کہ اس سے اکثر وساوس پیدا ہوتے ہیں (ابوداؤد، جامع ترمذی، سنن نسائی) جامع ترمذی اور سنن نسائی نے ثم یغتسل فیہ او یتوضا فیہ کہ الفاظ ذکر نہیں کئے ہیں۔
تشریح
غسل خانہ میں پیشاب کرنے سے وساوس اس لئے پیدا ہوتے ہیں کہ جب وہاں پیشاب کیا جاتا ہے تو وہ جگہ ناپاک ہوجاتی ہے اور پھر وضو یا غسل کے وقت جب اس پر پانی پڑتا ہے تو دل میں وسو سے پیدا ہوتے ہیں کہ کہیں چھینٹیں تو نہیں پڑ رہے ہیں اور پھر یہ شبہ رفتہ رفتہ دل میں جم جاتا ہے جس سے ایک مستقل خلجان واقع ہوجاتا ہے۔ ہاں اگر غسل خانہ کی زمین ایسی ہو کہ اس پر سے چھینٹیں اچھل کر اوپر نہ پڑتی ہوں مثلاً وہاں کی زمین ریتلی ہو اس کا فرش اور اس میں نالی ایسی ہو کہ پیشاب کا ایک قطرہ بھی وہاں نہ رکتا ہو سب نکل جاتا ہو تو پھر وہاں پیشاب کرنا مکروہ نہیں ہے۔ اتنی بات سمجھ لینی چاہئے کہ یہاں غسل خانہ میں پیشاب کرنے کو جو منع کیا گیا ہے تو نہی تنزیہی ہے نہی تحر یمی نہیں ہے۔
وَعَنْ عَبْدِاﷲِ بْنِ سَرْجِسِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ لَا یَبُوْلَنَّ اَحَدُکُمْ فِی جُحُرِ۔ (رواہ ابوداؤد و السنن نسائی )
اور حضرت عبداللہ بن سرجس ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی آدمی کسی سوراخ میں پیشاب نہ کرے۔ ( ابوداؤد، سنن نسائی )
تشریح
سوراخ میں پیشاب کرنے سے اس لئے روکا جا رہا ہے کہ اکثر و بیشتر سوراخ کیڑے مکوڑوں اور سانپ بچھو کا مسکن ہوتے ہیں چناچہ ہوسکتا ہے کہ پیشاب کرتے وقت اس میں سے سانپ یا بچھو یا تکلیف دینے والا کوئی دوسرا کیڑا نکل کر ایذاء پہنچائے یا اگر اس سوراخ کے اندر کوئی ضعیف اور بےضرر جانور ہو تو پھر پیشاب کی وجہ سے اسے تکلیف پہنچے گی۔ بعض علماء کرام نے لکھا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ سوراخوں میں جنات رہتے ہیں چناچہ ایک صحابی سعد بن عبادہ خزرجی ؓ کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے زمین حوران کے ایک سوراخ میں پیشاب کردیا تھا تو ان کو جنات نے مار ڈالا اور اس میں یہ شعر پڑھتے تھے۔ نَحْنُ قَتَلْنَا سَیِّدَ الْخَزْرَجَ سَعْدَ بْنَ عُبَادَۃَ وَرَمِیْنَاہُ بِسَھْمَیْنِ فَلَمْ نَخُطُّ فَؤَادَہُ ہم نے قبیلہ خزرج کے سردار سعد بن عبادہ کو قتل کیا ہم نے اس کی طرف دو تیر مارے اور اس کے دل کو نشانہ بنانے میں خطا نہیں کی اور بعض علماء کرام لکھتے ہیں کہ اگر کوئی سوراخ خاص طور پر پیشاب ہی کے لئے ہو تو اس میں پیشاب کرنا مکروہ نہیں ہے۔
وَعَنْ مُعَاذِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ اتَّقُوالْمَلَاِ عِنَ الثَّـلَاثَہَ الْبَرَازَ فِی الْمَوَارِدِوَ قَارِعَۃَ الطَّرِیْقِ وِالظِلِّ۔ (رواہ ابوداؤد و ابن ماجۃ)
اور حضرت معاذ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا تم تین چیزوں سے بچو جو لعنت کا سبب ہیں (١) گھاٹوں پر استنجاء (یعنی پیشاب پاخانہ) کرنے سے (٢) راستہ کے درمیان اور (٣) سایہ میں پیشاب و پاخانہ کرنے سے۔ (ابوداؤد و ابن ماجہ)
تشریح
یہ تین افعال ایسے ہیں جو لعنت کا سبب ہیں یعنی جب کوئی آدمی کسی راستہ پر، یا گھات پر، یا سایہ کی جگہ پر پاخانہ کرتا ہے تو جو لوگ اس راستہ سے گزرتے ہیں یا گھاٹ کو استعمال کرتے ہیں، یا سایہ دار جگہ پر آتے ہیں وہ اس آدمی پر لعنت بھیجتے ہیں یا اس کا مطلب یہ ہے کہ چونکہ یہ آدمی ان افعال بد کی بنا پر لوگوں کی ان منفعت اور آرام کو جوان جگہوں سے مختص ہیں فاسد کرتا ہے، لہٰذا یہ ظالم ہوا اور ظالم آدمی ملعون ہوتا ہے۔ موارد ان مکانوں کو فرماتے ہیں جہاں لوگ جمع ہوتے ہیں اور وہاں بیٹھ کر آپس میں بات چیت کرتے ہیں، بعض علماء کرام نے کہا ہے کہ موارد جمع مورد گھاٹ کو کہتے ہیں جیسا کہ ترجمہ سے ظاہر ہے۔ سایہ، عام ہے خواہ درخت کا سایہ ہو یا کسی اور چیز کا جہاں لوگ سوتے اور بیٹھتے ہوں، نیز اپنے جانوروں کو باندھتے ہیں۔
وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ لَا یَخْرُجُ الرَّجُلَانِ یَضْرِبَانِ الْغَائِطَ کَا شِفَیْنِ عَنْ عَوْرَتِھِمَا یَتَحَدَّثَانِ فَاِنَّ اﷲَ یَمْقُتُ عَلَی ذٰلِکَ۔(رواہ مسند احمد بن حنبل و ابوداؤد و ابن ماجۃ)
اور حضرت ابوسعید خدری ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا ( ایک ساتھ) دو آدمی پاخانہ کے لئے (اس طرح) نہ جائیں کہ دونوں اپنی شرم گاہ کھولے ہوئے ہوں اور باتیں کرتے ہوئے ہوں کیونکہ اس سے اللہ تعالیٰ غصب ناک ہوجاتا ہے۔ (مسند احمد بن حنبل ابوداؤد و ابن ماجہ)
تشریح
مردوں اور عورتوں کے لئے یہ حرام ہے کہ وہ پاخانہ کے لئے اس طرح بیٹھیں کہ ایک دوسرے کی شرم گاہیں دیکھیں اسی طرح ایسی حالت میں آپس میں باتیں کرنا بھی مکروہ ہے یہ دونوں چیزیں غضب الٰہی کا سبب اور اس کے عتاب کا باعث ہیں۔ اس موقع پر اس تکلیف دہ صورت حال کی وضاحت ضروری ہے کہ آج کل عورتوں میں خصوصیت سے ایسی بد احتیاتیاں پائی جاتی ہیں عموماً ایسا ہوتا ہے کہ عورتیں آپس میں ایک دوسری کے سامنے ستر کھولنے کو قطعا معیوب نہیں سمجھتیں خصوصاً غسل اور پاخانہ کے وقت اس قسم کی شرمناک حرکتیں عام طور پر کرتی ہیں، ایسی عورتوں کو چاہئے کہ وہ اس حدیث کو غور سے پڑھیں اور پھر سمجھیں کہ وہ ایسی ناشائستہ اور شرم و حیاء کے منافی چیزوں کے ارتکاب سے اللہ کا غضب مول رہی ہیں اور اس کے عتاب کا باعث ہو رہی ہیں۔ شرح السنۃ میں لکھا ہے کہ پاخانہ کرتے وقت اور جماع (ہم بستری) کے وقت زبان سے ذکر اللہ نہ کیا جائے بلکہ دم کے ساتھ کیا جائے۔
وَعَنْ زَیْدِ ابْنِ اَرْقَمَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ اِنَّ ھٰذِہٖ الْحُشُوْشَ مُخْتَضِرَ ۃٌ فَاِذَا اَتَی اَحَدُ کُمُ الْخَلاءَ فَلْیَقُلْ اَعُوْذُ بِاﷲِ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ۔ (رواہ ابوداؤد و ابن ماجۃ)
اور حضرت زید بن ارقم ؓ ( آپ انصاری ہیں اور کنیت ابوعمرو ہے آپ نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ سترہ غزوات میں شرکت کی ہے آپ کوفہ میں رہتے تھے اور وہیں ٦٨ ھ انتقال ہوا)۔ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا پاخانے شیاطین اور جنات کے حاضر ہونے کی جگہ ہیں، اس لئے جب تم میں سے کوئی بیت الخلا جائے تو اسے چاہئے کہ یہ دعا پڑھے اعوذ با اللہ من الخبث و الخبائث یعنی میں ناپاک جنوں اور جنیوں سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ (ابوداؤد، ابن ماجہ)
تشریح
جنات اور شیاطین پاخانہ میں آتے ہیں اور اس بات کے منتظر رہتے ہیں کہ جو آدمی پاخانہ میں آئے اس کو ایذاء پہنچائیں اور تکلیف دیں کیونکہ پاخانہ جانے والا آدمی وہاں ستر کھول کر بیٹھا ہے اور ذکر اللہ کر نہیں سکتا اس لئے یہ بتایا جا رہا ہے کہ جو آدمی پاخانہ جاتے وقت یہ دعا پڑھ لے گا وہ جنات اور شیاطین کی ایذاء و تکلیف سے محفوظ رہے گا۔ اس باب میں جو حدیث نمر ٣ گزری ہے اس میں اس دعا کے الفاظ اس طرح ہیں۔ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْخُبْثِ وَالْخَبَائِثِ چونکہ دونوں میں کوئی خاص فرق نہیں ہے اس لئے اختیار ہے کہ چاہے وہ دعا پڑھی جائے لیکن بہتر اور اولیٰ یہ ہے کہ کبھی وہ دعا پڑھ لے اور کبھی یہ پڑھ لے یا دونوں کو ساتھ ساتھ پڑھے۔
وَعَنْ عَلِیِّ رَضِیَ اﷲُ عَنْہ، قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ سَتْرُ مَابَیْنَ اَعْیُنِ الْجِنِّ وَعَوْرَاتِ بَنِی اٰدَمَ اِذَا دَخَلَ اَحَدُھُمُ الْخَلاءَ اَنْ یَّقُوْلَ بِسْمِ اﷲِ۔ (رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَقَالَ ھٰذَا حَدِیْثٌ غَرِیْبٌ وَاِسْنَادُہ، لَیْسَ بِقَوِیِّ)
اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب کوئی آدمی پاخانہ میں داخل ہو تو جن (شیطان) کی آنکھوں اور انسان کی شرم گاہ کے درمیان کا پردہ یہ ہے کہ بسم اللہ کہے۔ (اس حدیث کو جامع ترمذی نے روایت کیا اور کہا ہے) کہ یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند قوی نہیں ہے)
تشریح
ارشاد کا مطلب ہے کہ جب انسان بیت الخلاء میں جاتا ہے، تو چونکہ وہاں ستر کھول کر بیٹھتا ہے اس لئے شیاطین اس کی شرم گاہ دیکھتے ہیں، لہٰذا جب کوئی آدمی پاخانہ جائے تو اسے چاہئے کہ بسم اللہ کہہ کر بیت الخلاء جائے کیونکہ اس سے شیاطین ستر نہیں دیکھ سکتے علامہ ابن حجر (رح) نے لکھا ہے کہ اس سلسلہ میں سنت یہ ہے کہ جب کوئی آدمی بیت الخلاء جائے تو پہلے بسم اللہ اور پھر اس کے بعد وہ دعا پڑھے جو اس سے پہلے حدیث میں گزر چکی ہے، لیکن ان دونوں یعنی بسم اللہ اور مذکورہ دعاؤں میں سے کسی ایک کو بھی پڑھ لیا جائے تو سنت ادا ہوجائے گی مگر افضل یہی ہے کہ دونوں پڑھی جائیں یہ حدیث اگرچہ ضعیف ہے، لیکن فضائل اعمال میں ضعیف حدیث پر بھی عمل کرنا جائز ہے۔
وَعَنْ عَآئِشَۃَ قَالَتْ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا خَرَجَ مِنَ الْخَلَاءِ قَالَ غُفْرَانَکَ۔ (رواہ جامع ترمذی و ابن ماجۃ والدارمی)
اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ جب پاخانہ سے باہر تشریف لاتے تو فرماتے غفر انک یعنی اے اللہ! میں تیری بخشش کا خواست گار ہوں۔ (جامع ترمذی، ابن ماجہ، دارمی)
تشریح
علماء نے اس وقت بخشش چاہنے کی دو وجہیں لکھی ہیں، اول تو یہ کہ چونکہ سرکار دو عالم ﷺ زبان سے ذکر اللہ کسی بھی حالت میں نہیں چھوڑتے تھے سوائے اس کے کہ کسی شدید حاجت اور مجبوری مثلاً پیشاب پاخانہ وغیرہ کے وقت ترک فرما دیتے تھے اس کی وجہ سے آپ اللہ سے بخشش کے خواستگار ہوتے تھے۔ دوسرے یہ کہ جب انسان کوئی غذا کھاتا ہے، تو وہ غذا معدہ میں پہنچ کردو حصوں میں تقسیم ہوجاتی ہے ایک حصہ تو خون بن کر قوت و طاقت پیدا کرتا ہے اور دوسرا حصہ فضلہ ہو کر پاخانہ کی شکل میں نکل جاتا ہے، اگر قدرت کے اس نظام کو دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ بندوں پر اللہ کا بہت بڑا انعام اور اس کی بہت بڑی نعمت ہے جس کا شکر بندے سے کماحقہ، ادا نہیں ہوسکتا اس لئے رسول اللہ ﷺ بخشش چاہتے تھے کہ اے اللہ! مجھ سے تیری اس عظیم نعمت کا شکر ادا نہیں ہوا اس لئے تو مجھے اس کوتاہی پر بخش دے۔ بعض مشائخ نے لکھا ہے کہ ایسے موقع پر یہ ذکر کرنا مناسب ہے کہ اپنی احتیاج اور اس بات کا خیال کیا جائے کہ انسان کی ذات کی حیثیت ہی کیا ہے جس میں نجاست ہی نجاست بھری ہوئی ہے اور اس کے مقابلہ میں رب قدوس کی ذات پاک اور اس کے تقدس کا تصور کرے، افضل یہ ہے کہ لفظ غفرانک کے بعد یہ دعا پڑھ لی جائے الحمد اللہ الذی اذھب عنی الاذی وعافنی۔
وَعَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا اَتَی الْخَلاءَ اَتَیْتُہ، بِمَاءِ فِی تَوْرِ اَوْرَکْوَۃِ فَاسْتَنْجٰی ثُمَّ مَسَحَ یَدَہ، عَلَی الْاَرْضِ ثُمَّ أَتَیْنَہ، بِانَآءِ اَخَرَ فَتَوَضَّأَ۔(رواہ ابوداؤ وروی الدرامی و السنن نسائی معناہ)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ جب پاخانہ جاتے تو آپ کے لئے پیالہ یا چمڑے کی چھاگل میں پانی لاتا، رسول اللہ ﷺ اس سے استنجاء کرتے پھر ہاتھ کو زمین پر رگڑتے پھر اس کے بعد میں (پانی کا) دوسرا برتن لاتا اور آپ ﷺ وضو فرماتے۔ (دارمی، سنن نسائی )
تشریح
تور عرب میں پیتل یا پتھر کا ایک چھوٹا سا برتن پیالہ کی طرح ہوتا ہے، اس میں کھانا کھاتے ہیں اور بوقت ضرورت اس میں پانی بھر کر اس سے وضو بھی کرلیتے ہیں رکوۃ چمڑے کی چھاگل کو فرماتے ہیں جو پانی رکھنے کے کام آتا ہے۔ استنجاء سے فراغت کے بعد آپ ﷺ زمین پر ہاتھ رگڑ کر اس لئے دھوتے تاکہ ہاتھ سے بدبو نکل جائے اور ہاتھ خوب پاک و صاف ہو چناچہ پاخانہ سے آکر اس طرح سے ہاتھ دھونا سنت ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ وضو کے لئے دوسرے برتن میں پانی اس لئے نہیں لاتے تھے کہ استنجے کے بقیہ پانی یا اس برتن سے وضو درست نہیں تھا بلکہ اس برتن میں چونکہ پانی صرف استنجے کی ضرورت کی مطابق ہی رہتا ہوگا اس لئے وضو کے لئے دوسرے برتن میں پانی لانے کی ضرورت ہوتی تھی، اس حدیث میں بعض علماء کرام نے یہ اخذ کیا ہے کہ اگر استنجے اور وضو کے پانی کے لئے الگ الگ برتن ہوں تو یہ مستحب ہے۔
وَعَنِ الْحَکَمِ بْنِ سُفْیَانَ قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا بَالَ تَوَضَّأَ وَنَضَحَ فَرْجَہ،۔ (رواہ ابوداؤد و السنن نسائی )
اور حضرت حکم ابن سفیان ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ جب پیشاب کر چکتے تو وضو فرماتے اور اپنی شرم گاہ پر چھینٹا دیتے!۔ (ابوداؤد، سنن نسائی )
تشریح
پیشاب کرنے کے بعد جب آپ وضو فرماتے تو دفع وساوس کے لئے تھوڑا سا پانی لے کر ستر کی جگہ ازار پر چھڑک لیتے تھے تاکہ پیشاب کے قطرہ کا وہم باقی نہ رہے۔ ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس وساوس و خطرات سے پاک و صاف تھی اس لئے کہا جائے گا کہ آپ ﷺ کا یہ طرز عمل امت کی تعلیم کے لئے تھا کہ پیشاب کرنے کہ بعد جب وضو کیا جائے تو تھوڑا سا پانی ستر کی جگہ کپڑے کے اوپر چھڑک لیا جائے، اس لئے کہ اگر پانی نہ چھڑکا جائے اور ستر کی جگہ کپڑے کے اوپر تری کا احساس ہو تو اس سے پیشاب کے قطروں کا وہم ہوگا اور پانی چھڑک لیا جائے تو اس کے بعد اگر تری کا حساس ہوگا بھی تو یہی سمجھا جائے گا کہ اسی چھڑ کے ہوئے پانی کی تری ہے چناچہ اس سے وسوسہ کی راہ بند ہوجائے گی اور مقصد یہی ہے کہ وساوس و خطرات کی راہ روک دی جائے تاکہ اطمینان قلب کے ساتھ عبادت میں مصروف رہا جاسکے۔ ابن مالک (رح) فرماتے ہیں کہ وضو کے بعد شرم گاہ کے اوپر پانی چھڑکنے کی ایک وجہ تو یہ دفع وساوس ہوسکتی ہے مگر ایک دوسری وجہ یہ بھی تھی کہ اس سے پیشاب وغیرہ کے قطرے رک جائیں باہر نہ آئیں۔
وَعَنْ اُمَیْمَۃَ بِنْتِ رُقَیْقَۃَ قَالَتْ کَانَ لِلنَبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَدْحٌ مِنْ عِیْدَانِ تَحْتَ سَرِیْرَۃِ یَّبُوْلُ فِیْہٖ بِاللَّیْلِ۔ (رواہ ابوداؤد و السنن نسائی )
اور حضرت امیمہ بنت رقیقہ ( امیمہ بنت رقیقہ حضرت خدیجہ ؓ کی ہمشیرہ کی صاحبزادی ہیں) فرماتی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ کے پاس لکڑی کا ایک پیالہ تھا جو آپ ﷺ کی چارپائی کے نیچے رکھا رہتا تھا آپ ﷺ رات کو اس میں پیشاب کرلیا کرتے تھے۔ (ابوداؤد، سنن نسائی )
تشریح
چونکہ رات میں سردی وغیرہ کی بناء پر اٹھنا تکلیف دہ اور پریشانی کا سبب ہوتا ہے اس لئے آپ ﷺ نے پیالہ اس کام کے لئے مخصوص کرلیا تھا، چناچہ جب آپ ﷺ کو رات میں پیشاب کی حاجت ہوتی تھی تو اس پیالہ میں پیشاب کرلیا کرتے تھے۔ اور اگر حقیقت پر نظر ڈالی جائے تو یہاں بھی تعلیم امت ہی مقصد سامنے آئے گا کہ آپ ﷺ نے اپنے طرز عمل سے امت کے لئے یہ آسانی پیدا کردی ہے کہ جب رات میں پیشاب کی حاجت ہو اور سردی وغیرہ کی تکلیف کی بناء پر باہر نکلنا دشوار ہو تو کسی برتن وغیرہ میں پیشاب کرلیا جائے اور صبح اٹھ کر اسے پھینک دیا جائے تاکہ ایک طرف تو تکلیف اور پریشانی میں مبتلاء ہونے سے بچا جائے اور دوسری طرف رات میں بیت الخلاء جانے سے بچ جائیں جو شیاطین کا مسکن ہے اور شیاطین دن کے مقابلہ میں رات کو زیادہ ضرر اور تکلیف پہنچانے کا سبب ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ امت کے لئے یہ تعلیم سرکار دو عالم ﷺ کی اسی جذبہ رحمت و شفقت کی مرہون منت ہے جو اعمال و افعال میں ہر مرحلہ پر آسانی و سہولت کی صورت میں نظر آتی ہے۔ منقول ہے کہ ایک صحابی نا دانستہ طور پر آپ ﷺ کا پیشاب اسی پیالہ میں سے پی گئے تھے جس کا اثر یہ ہوا کہ جب تک وہ زندہ رہے ان کے بدن سے خوشبو آتی رہی اور نہ صرف ان کے بدن سے بلکہ کئی نسلوں تک ان کی اولاد کے بدن میں بھی وہی خوشبو باقی رہی۔
وَعَنْ عُمَرَ قَالَ رَاَنِی النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم وَاَنَا اَبُوْلُ قَائِمًا فَقَالَ یَا عُمَرُ لَا تَبُلْ قَائِمًا فَمَا بُلْتُ قَائِمًا رَوَاہُ الْتِرْمِذِیُّ وَابْنُ مَاجَۃَ قَالَ الشَّیْخُ الْاِمَامُ مُحِیُّ السُّنَّۃِ رَحِمْہُ اﷲُ قَدْ صَحَّ عَنْ حُذَیْفَۃَ ص قَالَ اَتَی النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم سَبَاطَۃَ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا ( مُتَّفَقٌ عَلَیْہٖ )، قِیْلَ کَانَ ذٰلِکَ لِعُذْرِ۔
اور حضرت عمر فاروق ؓ فرماتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے (ایک روز) مجھے کھڑے ہو کر پیشاب کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا کہ عمر! کھڑے ہو کر پیشاب نہ کیا کرو چناچہ اس کے بعد میں نے کبھی کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کیا (ابن ماجہ، جامع ترمذی) امام محی السنۃ فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ ؓ سے منقول ہے کہ سرکار دو عالم ﷺ ایک قوم کی کوڑی پر گئے اور وہاں کھڑے ہو کر پیشاب کیا (صحیح البخاری و صحیح مسلم) کہا جاتا ہے کہ آپ ﷺ کا یہ فعل (کھڑے ہو کر پیشاب کرنا، کسی عذر کی بناء پر تھا۔
تشریح
متفقہ طور پر تمام علماء کرام کے نزدیک کھڑے ہو کر پیشاب کرنا مکروہ ہے، البتہ اس میں اختلاف ہے کہ مکروہ تحریمی ہے یا مکروہ تنزیہی چناچہ بعض علماء کرام فرماتے ہیں کہ مکروہ تحریمی ہے اور بعض کے نزدیک مکروہ تنزیہی ہے۔ جہاں تک حضرت عمر فاروق ؓ کے فعل کا تعلق ہے اس کے بارے میں علماء کرام لکھتے ہیں کہ چونکہ ایام جاہلیت میں کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کا طریقہ رائج تھا اور ان کو وہی عادت پڑی ہوئی تھی اس لئے انہوں نے کھڑے ہو کر پیشاب کرلیا، یا ہوسکتا ہے کہ کسی عذر کی بنا پر انہوں نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا ہو۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ کے متعلق بھی حضرت حذیفہ ؓ کی روایت ہے کہ آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا ہے اس سلسلہ میں بھی یہی کہا جاتا ہے کہ آپ ﷺ نے بھی کسی عذر کی بنا پر ایسا کیا ہوگا اور علماء کرام نے وہ اعذار بھی لکھے ہیں چناچہ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ چونکہ وہاں نجاست کی وجہ سے آپ نے بیٹھنے کی جگہ نہیں پائی اس لئے کھڑے ہو کر پیشاب کرلیا۔ بعض علماء کرام فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کے پیر مبارک میں درد تھا اور بعض حضرات کی تحقیق کے مطابق پیٹھ میں درد تھا، اس کی بناء پر آپ ﷺ بیٹھ نہیں سکتے تھے اس لئے کھڑے ہو کر پیشاب کرلیا۔
عَنْ عَآئِشَۃَ قَالَتْ مَنْ حَدَّثَکُمْ اَنَّ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم کَانَ یَبُوْلُ قَائِمًا فَلَا تُصَدِّقُوْہ، مَا کَانَ یَبُوْلُ اِلَّا قَاعِدًا۔(رواہ مسند احمد بن حنبل و الجامع ترمذی و السنن نسائی )
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ جو آدمی یہ حدیث بیان کرے کہ سرکار دو عالم ﷺ کھڑے ہو کر پیشاب کرتے تھے تو اسے سچ نہ مانو آپ ﷺ نے تو ہمیشہ بیٹھ کر پیشاب کیا۔
تشریح
امام محی السنۃ (رح) نے حضرت حذیفہ ؓ کی جو روایت نقل فرمائی ہے اس سے تو بصراحت یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا ہے لیکن حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی یہ حدیث اس بات کی بالکل نفی کر رہی ہے، اب ان دونوں حدیثوں میں تطبیق اس طرح ہوگی کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ اپنے علم کے مطابق خبر دے رہی ہیں یعنی انہوں نے چونکہ رسول اللہ ﷺ کو کھڑے ہو کر پیشاب کرتے ہوئے کبھی گھر میں نہیں دیکھا تھا اس لئے انہوں نے اس بات کی سرے سے نفی کردی اور حضرت حذیفہ ؓ نے جو واقعہ بیان کیا ہے وہ باہر سے متعلق ہے اور وہ بھی عذر کی بناء پر نادر ہے اور ظاہر کہ نادر شی معدوم کی مانند ہے نیز عذر کی بنا پر اسے مستثنی بھی قرار دیا جاسکتا ہے لہٰذا ان دونوں حدیثوں میں کوئی تعارض باقی نہیں رہا۔
وَعَنْ زَیْدِ بْنِ حَارِثَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم اَنَّ جِبْرِیْلَ اَتَاہ، فِی اَوَّلِ مَا اَوْحِیَ اِلَیْہٖ فَعَلَّمَہُ الْوُضُوءَ وَالصَّلٰوۃَ فَلَمَّا فَرَغَ مِنَ الْوُضُوْءِ اَخَذً غُرَفَۃً مِنَ الْمَآءِ فَنَضَحَ بِھَا فَرْجَہ،۔ (رواہ مسند احمد بن حنبل والدارقطنی)
اور حضرت زید بن حارثہ ؓ ( اسم گرامی زید بن حارثہ، کنیت ابواسامہ ہے عظیم صحابی ہیں جنہیں رسول اللہ ﷺ کا متبنیٰ بننے کا شرف حاصل ہوا ہے غزوہ موتہ کے موقع پر سر زمین شام میں آٹھ ہجری کو آپ نے شہادت پائی شہادت کے وقت آپ کی عمر ٥٥ سال کی تھی)۔ سرکار دو عالم سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت جبرائیل (جب) سے پہلی وحی کے موقع پر آپ کے پاس تشریف لائے تو آپ کو وضو کرنا سکھایا، پھر نماز پڑھنی سکھائی چناچہ جب وہ وضو سے فارغ ہوئے تو ایک چلو پانی لیا اور اس کو اپنی شرم گاہ پر چھڑک لیا۔ (مسند احمد بن حنبل، دارقطنی)
تشریح
حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آپ ﷺ کے پاس آدمی کی شکل میں آئے اور انہوں نے آپ ﷺ کے سامنے وضو کیا اور نماز پڑھی تاکہ یہ دیکھ کر آپ ﷺ بھی سیکھ جائیں اسی طرح انہوں نے اللہ کی جانب سے ان دونوں چیزوں کی تعلیم آپ ﷺ کو دی پھر اس کے ساتھ ساتھ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے وضو کے بعد شرم گاہ پر یا ستر کی جگہ کپڑے کے اوپر وضو کے بعد پانی چھڑک کر بھی آپ کو دیکھایا تاکہ دفع وساوس کے لئے یہ طریقہ اختیار کیا جائے۔
وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ جَآءَ جِبْرِیْلُ فَقَالَ یَا مُحَمَّدُ اِذَا تَوَضَّاتَ فَانْتَضِحْ رَوَاہُ الْتِرْمِذِّیُ وَقَالَ ھٰذَا حَدِیْثٌ غَرِیْبٌ وَسَمِعْتُ مُحَمَّدًا یَعْنِی الْبُخَارِیَّ یَقُوْلُ الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ الْھَاشِمِی التُرَّاوَیِّی مُنْکَرُ الْحَدَیْثِ۔
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دوعالم ﷺ نے ارشاد فرمایا میرے پاس حضرت جبرائیل آئے اور کہا اے محمد ﷺ جب آپ ﷺ وضو کریں تو تھوڑا سا پانی (شرم گاہ پر دفع وساوس کے لئے چھڑک لیا کیجئے (جامع ترمذی) اور امام ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث منکر ہے اور میں نے محمد (یعنی عبداللہ بن اسماعیل صحیح البخاری) کو یہ کہتے سنا ہے کہ اس حدیث کے ایک راوی حسن بن علی ہاشمی منکر الحدیث ہیں۔
وَعَنْ عَآئِشَۃَ قَالَتْ بَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَامَ عُمَرَ خَلْفَہ، بِکُوْزِ مِنْ مَّآءِ فَقَالَ مَاھٰذَا یَا عُمَرُ قَالَ مَائٌنَتَوَضَّأُ بِہٖ قَالَ مَا اُمِرْتُ کُلَّمَا بُلْتُ اَنْ اَتَوَضَّأَ وَلَوْ فَعَلْتُ لَکَانَتْ سُنَّۃً۔(رواہ ابوداؤد و ابن ماجۃ)
اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ (ایک مرتبہ) سرکار دو عالم ﷺ نے پیشاب کیا، حضرت عمر فاروق ؓ پانی کا لوٹا لے کر آپ ﷺ کے پیچھے کھڑے ہوئے، رسول اللہ ﷺ نے پوچھا عمر یہ کیا ہے؟ حضرت عمر فاروق ؓ نے عرض کیا آپ ﷺ کے وضو کے لئے پانی ہے۔ آپ نے فرمایا مجھے یہ حکم نہیں دیا گیا ہے کہ جب میں پیشاب کروں تو وضو بھی کروں، اگر میں ایسا کروں تو یہ (میرا فعل سنت ہوجاتا)۔ (ابوداؤد، ابن ماجہ)
تشریح
آپ ﷺ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ مجھے بطریق وجوب اور فرض کے یہ حکم نہیں دیا گیا ہے کہ جب بھی پیشاب کروں تو اس کے بعد وضو بھی کروں اور اگر میں اپنی طرف سے یہ فعل اختیار کرلیتا ہوں تو پھر ہر مرتبہ پیشاب کے بعد وضو کرنا سنت موکدہ ہوجائے گا، بہر حال یہاں سنت سے مراد سنت موکدہ ہی ہے، کیونکہ ویسے تو پانی سے استنجاء کرنا اور ہر وقت باوضو رہنا تمام علماء کے نزدیک متفقہ طور پر مستحب ہے۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ ادنیٰ چیزوں کو اپنی امت کی آسانی او سہولت کی خاطر کبھی ترک فرما دیتے تاکہ وہ چیزیں امت کے لئے کہیں ضروری نہ ہوجائیں۔