وَعَنْ عَبْدِاﷲِ بْنِ زَیْدٍ قَالَ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مِنْ کَفٍ وَّاحِدٍ فَعَلَ ذٰلِکَ ثَلَاثَا۔(رواہ ابوداؤد، الجامع ترمذی)
اور حضرت عبدا اللہ بن زید ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے سرکار دو عالم ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے ایک ہی چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی دیا اور تین مرتبہ اسی طرح کیا۔ (سنن ابوداؤد، جامع ترمذی )
تشریح
حدیث کے آخر جملہ میں دو احتمال ہیں یعنی اس کے معنی یا تو یہ ہیں کہ آپ نے ایک ہی چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی دیا اور اس طرح تین مرتبہ کیا یا یہ کہ تین چلو سے تین مرتبہ کلی کی اور پھر تین چلو سے تین مرتبہ ناک میں پانی دیا۔ دوسرے معنی زیادہ مناسب اور اکثر روایات کے مطابق ہیں۔ ان کے علاوہ ایک تیسرا احتمال اور بھی ہوسکتا ہے وہ یہ کہ آپ ﷺ نے ایک ہی چلو سے تین مرتبہ کلی کی اور ناک میں پانی بھی دیا، دوسرا چلو نہیں لیا۔ یہی تمام احتمالات اس سے پہلے گزرنے والی حدیث میں بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم مَسَحَ بِرَأْسِہِ وَاُذُنَیْہٖ بَاطِنَھُمَا بِالسَّبَابَتَیْنِ وَظَاھِرَ ھُمَا بِاِبْھَا مَیْہٖ۔ (رواہ السنن نسائی)
اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے اپنے سر اور دونوں کانوں کا مسح کیا اور کانوں کے اندر کا مسح اپنی شہادت کی انگلیوں سے اور اوپر کا انگوٹھوں سے کیا۔ (سنن نسائی )
وَعَنِ الرُّبَیْعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ اَنَّھَارَاتٍ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم یَتَوَضَّأُ قَالَتْ فَمَسَحَ رَأْسَہُ مَا اَقْبَلَ مِنْہُ وَمَا اَدْبَرَ وَصُدْغَیْہِ وَاُذْنَیْہِ مَرَّۃً وَاحِدَۃً وَفِی رِوَایَۃٍ اَنَّہُ تَوَضَّأَ فَاَدْخَلَ اِصْبَعَیْہِ فِی جُحْرَیْ اُذُنَیْہِ۔ (رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ وَرَوَیَ التِّرَمَذِیُّ الرِّوَایَۃُ الْاُوْلَی وَاَحْمَدُ وَ ابْنَ مَاجَۃَ الثَّانِیَۃَ)
اور حضرت ربیع بنت معوذ ؓ ( اسم گرامی ربیع ہے معوذ کی لڑکی ہیں، آپ جلیل القدر صحابیہ ہیں اور انصاریہ ہیں آپ بیعت رضوان میں شامل تھیں)۔ سے مروی ہے کہ انہوں نے سرکار دو عالم ﷺ کو وضو کرتے دیکھا چناچہ فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ نے اپنے سر کے اگلے حصہ پر، پچھلے حصہ پر، کنپٹیوں پر اور کانوں پر ایک مرتبہ مسح کیا اور ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے وضو کیا چناچہ (مسح کے لئے) اپنی دونوں انگلیوں کو اپنے دونوں کانوں کے سوراخوں میں داخل کیا۔ (ابوداؤد) جامع ترمذی نے پہلی حدیث کو اور سنن ابن ماجہ نے دوسری حدیث کو روایت کیا ہے)۔
تشریح
لفظ صدغیہ اور اذنیہ لفظ راسہ پر عطف ہیں اسے عطف خاص علی العام فرماتے ہیں یعنی سر کے پانی کے ساتھ مسح کیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب آپ ﷺ نے ہاتھ پر پانی لے کر سر کا مسح کیا تو اسی پانی سے کنپٹیوں اور کانوں پر بھی مسح کرلیا اور ان دونوں کے مسح کے لئے علیحدہ سے پانی نہیں لیا، چناچہ حضرت امام اعظم (رح) کا مسلک یہی ہے۔ صدغ کان اور آنکھ کے درمیانی حصہ کو فرماتے ہیں اردو میں کنپٹی کہا جاتا ہے، نیز جو بال اس جگہ پر لٹکے رہتے ہیں اسے بھی صدغ فرماتے ہیں۔ ( قاموس) اور (امام مالک (رح) نے کہا ہے کہ صدغ ان بالوں کو فرماتے ہیں جو سر کے دونوں طرف کان اور ناصیہ (پیشانی کے بال) کے درمیان ہوتے ہیں، یہی معنی حنفی مسلک کے مطابق اور مناسب ہیں۔ شرح السنتہ میں منقول ہے کہ علماء کے یہاں مسئلہ میں اختلاف ہے کہ تین مرتبہ مسح کرنا سنت ہے یا نہیں؟ چناچہ اکثر علماء یہ فرماتے ہیں کہ مسح ایک ہی مرتبہ کرنا چاہئے، یہی مسلک حضرت امام اعظم، امام احمد، امام مالک رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم کا ہے۔ امام شافعی (رح) کے مذہب میں یہ مشہور ہے کہ تین مرتبہ مسح اس طرح کرنا کہ ہر مرتبہ نیا پانی لیا جائے سنت ہے، چناچہ اکثر علماء کا یہی خیال ہے مگر خود امام شافعی (رح) تین مرتبہ مسح کرنے کو مستحب فرماتے ہیں، امام ابوداؤد فرماتے ہیں کہ اس سلسلہ میں حضرت عثمان غنی سے جو احادیث مروی ہیں وہ سب صحیح ہیں وہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ مسح ایک ہی مرتبہ کرنا چاہئے۔ شمنی فرماتے ہیں کہ ہر دفعہ نئے پانی کے ساتھ تین مرتبہ کرنا بدعت ہے مگر ہدایہ میں لکھا ہے کہ ایک ہی پانی سے تین مرتبہ مسح کرنا مشروع ہے اور یہ امام اعظم (رح) سے بھی منقول ہے۔ وا اللہ اعلم۔
وَعَنْ عَبْدُ اللّٰہِ بْنِ زَیْدٍ اَنَّہ، رَایءَ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم تَوَضَّأَ وَاَنَّہ، مَسَحَ رَأْسَہ، بِمَاءٍ غَیْرَ فَضْلِ یَدَیْہِ۔ (رواہ صحیح مسلم)
اور حضرت عبداللہ بن زید ؓ سے مروی ہے کہ سرکار دو عالم ﷺ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، چناچہ آپ ﷺ نے اپنے سرکا مسح اس پانی سے کیا جو ہاتھوں کا بچا ہوا نہ تھا (یعنی نیا پانی لے کر مسح کیا)۔ (جامع ترمذی اور مسلم نے اس روایت کو زیادتی کے ساتھ نقل کیا ہے۔ جس میں دیگر اعضاء وضو کے دھونے کا بھی ذکر ہے)۔
تشریح
فقہ حنفی کی کتابوں میں لکھا ہے کہ مثلاً ایک آدمی نے وضو کے وقت ہاتھ دھویا اور ہاتھ دھونے کے بعد جو تری اس کے ہاتھوں میں باقی رہ گئی تھی تو اس سے سر کا مسح کرلیا تو مسح ہوجائے اور اگر کسی عضو پر مسح کرنے کے بعد اس کے ہاتھوں میں تری رہ گئی تو اس سے سر کا مسح کیا تو یہ درست نہیں ہوگا۔ اس سلسلہ میں حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ کی ایک حدیث بھی نقل کی جاتی ہے، نیز اس مذکورہ حدیث کو بھی ابن لہیعہ کی روایت سے نقل کیا گیا ہے جس میں بماء غبر فضل یدیہ یعنی لفظ غبرنا کے ساتھ غبر ہے جس کے معنی یہ ہوجاتے ہیں کہ اس پانی کے ساتھ مسح کیا جو ہاتھ دھونے کے بعد ہاتھ میں باقی رہ گیا تھا، یعنی مسح کے لئے از سر نو پانی نہیں لیا بلکہ پورے ہاتھ دھونے کے بعد جو تری ہاتھوں میں رہ گئی تھی اس سے مسح کرلیا۔ اس طرح حدیث کے معنی بالکل برعکس ہوگئے کیونکہ اس حدیث کے الفاظ سے جو یہاں نقل کی گئی ہے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے سر کا مسح ہاتھوں کے بچے ہوئے پانی سے نہیں کیا بلکہ نیا پانی لے کر کیا لیکن مذکورہ بالا شکل میں صرف ایک نقطہ کے تغیر سے معنی بالکل برعکس ہوگئے۔ مگر جہاں تک سوال کی تحقیق کا ہے تو بات یہی ہے کہ حدیث یہ صحیح ہے جو یہاں نقل کی گئی ہے، لہٰذا۔ اولیٰ یہ ہوا اگر مسح کے لئے نیا پانی لیا جائے اور یہ بھی جائز ہو کہ ہاتھ کے باقی بچے ہوئے پانی سے مسح کیا جاسکتا ہے۔
وَعَنْ اَبِی اُمَامَۃَ ذَکَرَ وُضُوْءَ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ وَکَانَ یَمْسَحُ الْمَاقَیْنِ وَقَالَ الْاُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ رَوَاہُ ابْنُ مَاجَۃَ وَاَبُوْدَاؤدَ وَالتِّرْمِذِیُّ وَذَکَرَا قَالَ حَمَّادٌ لَا اَدْرِیْ اَلْاُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ مِنْ قَوْلِ اَبِیْ اُمَامَۃَ اَمْ مِّنْ قَوْلِ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم۔
اور حضرت ابوامامہ ؓ نے سرکار دو عالم ﷺ کے وضو کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آپ ﷺ آنکھ کے کونوں کو بھی ملا کرتے تھے اور کہا کہ دونوں کان بھی سر میں داخل ہیں (ابی داؤد، جامع ترمذی) اور امام ابوداؤد و امام ترمذی رحمہما اللہ تعالیٰ علیہ نے ذکر کیا ہے کہ حماد (رح) نے کہا میں یہ نہیں جانتا کہ الاذنان من الراس (یعنی دونوں کان سر میں داخل ہیں) ابوامامہ (رح) کا اپنا قول ہے یا رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے۔
تشریح
ماق ناک کی طرف کے گوشہ چشم کو فرماتے ہیں (قاموس) اور جوہری (رح) نے لکھا ہے کہ ماق دونوں طرف کے گوشہ چشم کو فرماتے ہیں، لہٰذا اولیٰ یہی ہے کہ دونوں طرف کے گوشہ چشم (کونوں) کو منہ دھوتے وقت ملنا مستحب ہے تاکہ آنکھ کے اندر کا میل کچیل جو گوشۂ چشم میں جمع ہوجاتا ہے ملنے سے نکل جائے اور آنکھیں صاف ہوجائیں۔ روایت کے اس جز الا ذنان من الراس (دونوں کان سر میں داخل ہیں) سے دو حکم ثابت ہوتے ہیں ایک تو یہ کہ کانوں کا مسح بھی سر کے مسح کے ساتھ کرنا چاہئے، دوسرے یہ کہ سر کے مسح کے لئے جو پانی لیا ہے اس پانی سے کانوں کا مسح بھی کرلیا جائے کانوں کے مسح کے لئے الگ سے پانی لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ چنانچہ پہلے حکم پر تو چاروں ائمہ متفق ہیں، دوسرے حکم میں کچھ اختلاف ہے، حضرت امام اعظم ابوحنیفہ، حضرت امام مالک اور حضرت امام احمد رحمہم اللہ تعالیٰ علیہ تینوں کا مسلک یہ ہے کہ کانوں کا مسح سر کے مسح کے بچے ہوئے پانی سے ہی کرلینا چاہئے، اس کے لئے الگ سے پانی لینے کی ضرورت نہیں ہے، اس مسلک کی تائید بھی کثیر احادیث سے ہوتی ہے۔ امام شافعی (رح) کا مسلک یہ ہے کہ کانوں کا مسح نئے پانی سے کرنا چاہئے یعنی سر کے مسح کے بچے ہوئے پانی سے کانوں کا مسح کرنا کافی نہ ہوگا، چناچہ ایک حدیث میں بھی اس سلسلہ میں منقول ہے جو امام شافعی (رح) کے مسلک کی تائید کرتی ہے۔ بہرحال یہ ہوسکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اکثر و بیشتر سر اور کانوں کا مسح ایک ہی پانی سے کرتے ہوں گے، مگر ایسی شکل میں جب کہ ہاتھ میں تری باقی نہ رہتی ہوگی کبھی کبھی کانوں کے مسح کے لئے لیتے ہوں گے۔ وا اللہ اعلم۔
وَعَنْ عَمْرِوابْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ قَالَ جَآءَ اَعْرَابِیٌ اِلَی النَّبِیِّ صَلّٰی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَسْأَلُہ، عَنِ الْوُضُوْءِ فَاَرَاہُ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ ھَکَذَا الْوُضُوْءُ فَمَنْ زَادَ عَلَی ھَذَا فَقَدْ اَسَاءَ وَ تَعَدَّی وَظَلَمَ۔ (رواہ السنن نسائی وابن ماجۃ وروی ابوداؤد و معناہ)
اور حضرت عمرو بن شعیب ؓ نے اپنے والد سے انہوں نے اپنے دادا سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا کہ ایک دیہاتی رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ سے وضو کی کیفیت پوچھی چناچہ آپ ﷺ نے اسے اعضاء وضو کو تین مرتبہ دھو کر دکھلایا اور فرمایا کہ (کامل) وضو اس طرح ہے لہٰذا جس نے اس پر زیادہ کیا (یعنی تین مرتبہ سے زیادہ دھویا) اس نے برا کیا، تعدی کی اور ظلم کیا۔ (سنن نسائی و سنن ابن ماجہ اور ابوداؤد نے بھی اسی مطلب کی حدیث روایت کی ہے)۔
تشریح
آپ ﷺ نے سائل کے جواب میں اعضاء وضو کو تین تین مرتبہ دھو کر دکھایا اور اسے بتادیا کہ اگر تم کامل وضو چاہتے ہو اور اس پر ثواب کے متمنی ہو تو پھر وضو اسی طرح کرو۔ اس پر زیادتی کرنا یعنی اعضاء وضو کو تین مرتبہ سے زیادہ دھونا وضو کرنے والے کے حق میں کوئی مفید بات نہیں ہوگی بلکہ نقصان دہ ہوگئی چناچہ آپ ﷺ نے ایسے آدمی کے بارے میں تین الفاظ، استعمال فرمائے ہیں۔ (١) برا کیا۔ اس لئے کہ اس نے سنت کو ترک کیا۔ (٢) تعدی کی۔ یعنی زیادتی کر کے حدود سنت سے تجاوز کیا۔ (٣) ظلم کیا۔ یعنی رسول اللہ ﷺ کے طریقہ اور سنت کے خلاف عمل کر کے اپنے نفس پر ظلم کیا۔
وَعَنْ عَبْدِاﷲِ بْنِ المُغَفَّلِ اَنَّہ، سَمِعَ ابْنَہُ یَقُوْلُ اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَسْأَلُکَ الْقَصْرَ الْاَبْیَضَ عَنْ یَمِیْنِ الْجَنَّۃِ قَالَ اَیْ بُنَیَّ سَلِ اﷲَ الْجَنَّۃَ وَتَعَوَّذْ بِہٖ مِنَ النَّارِ فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَقُوْلُ اِنَّہُ سَیَکُوْنُ فِی ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ قَوْمٌ یَّعْتَدُوْنَ فِی الطُّھُوْرِ وَالدُّعَآئِ۔ (رواہ مسند احمد بن حنبل وابوداؤد ابن ماجۃ)
اور حضرت عبداللہ بن مغفل ؓ کہ بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا۔ اے اللہ میں تجھ سے جنت کی دائیں طرف سفید محل مانگتا ہوں تو انہوں نے کہا اے میرے بیٹے! تم اللہ سے جنت مانگو اور (دوزخ کی) آگ سے پناہ چاہو۔ میں نے سرکار دو عالم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب اس امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو طہارت اور دعا میں غلو کریں گے۔ (مسند احمد بن حنبل، ابن ماجۃ، سنن ابوداؤد)
تشریح
صاحبزادہ کو عبداللہ بن مغفل ؓ کی تنبیہ کا مقصد یہ تھے کہ تم جس طرح اور جن قیود کے ساتھ دعا مانگ رہے ہو یہ غلط اور شان عبودیت کے خلاف ہے کیونکہ اس میں ایک طرف اگر تحکم کا پہلو ہے تو دوسری طرف بہشت میں ایک مخصوص صفت کی طلب یا کسی مخصوص جگہ کا تعین ایک لا یعنی اور نامناسب چیز ہے۔ ہاں۔ دعا کا طریقہ یہ ہے کہ تم اللہ سے صرف بہشت مانگو اور دوزخ کی آگ سے پناہ چاہو۔ اب آگے اللہ کا کام ہوگا کہ وہ جنت میں اپنے فضل و کرم سے تمہیں مراتب و درجات کی جس بلندی پر چاہے گا پہنچائے گا۔ حد سے تجاوز اور غیر مطلوب زیادتی ہر چیز میں ناپسندیدہ اور غیر مناسب ہو، خواہ وہ چیز شریعت کا مطلوب ہی کیوں نہ ہو، چناچہ اس حدیث میں اس طرف اشارہ کیا جا رہا ہے اور لسان نبوت سے پیشگوئی کی جا رہی ہے کہ اس امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو اللہ کے رسول کے بتائے ہوئے راستہ سے الگ ہو کر اور حدود شریعت سے تجاوز کر کے طہارت اور دعاء میں زیادتی کریں گے۔ طہارت میں زیادتی یہ ہے کہ دعا اس انداز اور اس طریقہ سے مانگی جائے جس سے بےادبی کا اظہار ہوتا ہو اور وہ شان عبودیت کے خلاف ہو، یا دعا میں غیر ضروری و نا مناسب قیود لگائی جائیں یا ایسی چیزوں کے بارے میں سوال کیا جائے جو انسانی اعتبار سے احاطہ امکان سے خارج یا عادۃ محال ہوں۔
وَعَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبِ عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ اِنَّ لِلْوُضُوْءِ شَیْطَانًا یُقَالَ لَہ، اَلْوَلَھَانُ فَاتَّقُوْا وَسْوَاسَ الْمَآءِ رَوَاہُ التِّرْمَذِیُّ وَابْنُ مَاجَۃَ وَقَالَ التِّرْمِذِیُّ ھٰذَا حَدِیْثٌ غَرِیْبٌ وَلَیْسَ اِسْنَادُہ، بِالْقَوِیِّ عِنْدَ اَھْلِ الْحَدِیْثِ لِاَنَّا لَا نَعْلَمُ اَحَدًا اَسْنَدَہ، غَیْرَ خَارِجَۃَ وَھُوَلَیْسَ بِالْقَوِیِّ عِنْدَاَصْحَابِنَا۔
اور حضرت ابی بن کعب ؓ سرکار دو عالم ﷺ سے روایت فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا وضو کا ایک شیطان ہے جسے ولہان کہا جاتا ہے لہٰذا پانی کے وسوسہ سے بچو (جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ) اور امام ترمذی (رح) نے فرمایا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے اور محدثین کے نزدیک اس کی سند قوی نہیں ہے اس لئے کہ ہمیں نہیں معلوم کہ خارجہ (ایک عالم) کے علاوہ کسی نے اس کی سند بیان کی ہو اور وہ (خارجہ) ہمارے محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہیں۔
تشریح
ولھان کے معنی ہیں عقل کا جاتے رہنا اور متحیر ہونا۔ یہ نام اس شیطان کا اس لئے ہے کہ وہ لوگوں کے دلوں میں وسوسے پیدا کر کے انہیں متحیّر اور بےعقل کردیتا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وضو کرنے والا اس چکر میں پھنس کر وہم میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ وہ جب وضو کرتا ہے تو یہ وسوسے اس کے دل میں پیدا ہوتے رہتے ہیں کہ نامعلوم فلاں عضو پر ٹھیک سے پانی پہنچا ہے یا نہیں؟ فلاں عضو کو ایک مرتبہ دھویا ہے یا دو مرتبہ؟ چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ پانی کے وسوسہ سے بچو یعنی وضو کے وقت پانی استعمال کرنے میں جب اس قسم کے وسوسے اور وہم پیدا ہوں تو انہیں قائم نہ رہنے دو بلکہ انہیں اپنے دل سے باہر نکال پھینکو تاکہ حدود سنت سے تجاوز نہ کرسکو، کیونکہ اس شیطان کا مقصد تو یہی ہوتا ہے کہ وضو کرنے والا ان وسوسوں اور اوہام میں مبتلاء ہو کر اعضاء وضو کو تین مرتبہ سے بھی زیادہ دھو ڈالے یا ضرورت سے زیادہ پانی خرچ کرے جس کی بنا پر وہ مسنون طریقہ سے ہٹ جائے۔
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ رَاَئْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلماِذَا تَوَجَّاَ مَسَحَ وَجْھَہُ بِطَرَفِ ثَوْبِہٖ۔ (رواہ الجامع ترمذی)
اور حضرت معاذ بن جبل ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے سرکار دو عالم ﷺ کو دیکھا جب آپ ﷺ وضو فرماتے ہیں تو اپنے کپڑے کے کونے سے اپنا منہ پونچھتے۔ (جامع ترمذی )
تشریح
جب آپ وضو سے فارغ ہوجاتے تو پانی خشک کرنے کے لئے اپنے کپڑے یعنی چادر وغیرہ کے کونے سے اپنا منہ پونچھ لیتے تھے۔ زیلعی نے شرح کنز میں لکھا ہے کہ وضو کے بعد رومال سے (پانی) خشک کرلینا جائز ہے چناچہ جیسا کہ حضرت عثمان، حضرت انس اور حسن ابی علی ؓ کے بارے میں بھی یہی منقول ہے اور اس کے بعد آنے والی حدیث بھی اس کے جواز پر دلالت کرتی ہے۔ صاحب منیہ نے وضو کے بعد اعضاء وضو کو پونچھنا مستحب لکھا ہے۔ حنفی مسلک کی بعض کتابوں میں لکھا ہے کہ وضو کے بعد پانی خشک کرنے کے لئے اعضاء وضو کو (کسی کپڑے یا رومال اور تولیہ وغیرہ سے) پوچھنا اگر ازراہ تکبر و غرور ہو تو مکروہ ہے اور غرور وتکبر کی بنا پر نہ ہو تو پھر مکروہ نہیں ہے۔ حضرت امام شافعی (رح) کے مذہب میں نہ تو وضو کرنے والے کے لئے اور نہ غسل کرنے والے کے لئے کپڑے سے پانی خشک کرنا سنت ہے۔ ان کی دلیل وہ حدیث ہے جس میں منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب وضو فرما چکے تو ام لمومنین حضرت میمونہ ؓ ایک رومال لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں تاکہ آپ ﷺ اس سے بھیگے ہوئے اعضاء پونچھ لیں مگر آپ ﷺ نے اسے واپس کردیا اور اعضاء وضو پر لگے ہوئے پانی کو ہاتھ سے کے ذریعہ ٹپکانے لگے۔ اس کا جواب علماء حنفیہ کی طرف سے یہ دیا جاتا ہے کہ آپ ﷺ نے اعضاء وضو کو رومال سے پونچھنے سے اس لئے انکار نہیں کیا تھا کہ یہ چیز مناسب نہیں تھی بلکہ ہوسکتا ہے کہ کسی خاص عذر کی بنا پر آپ ﷺ نے رومال واپس فرما دیا ہو۔
وَعَنْ عَآئِشَۃَ قَالَتْ کَانَتْ لِرَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلمخِرْقَۃٌ یُنَشِّفُ بِھَا اَعْضَاءَ ہُ بَعْدَ الْوُضُوْءِ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَقَالَ ھٰذَا حَدِیْثٌ لَیْسَ بِالْقَائِمِ وَاَبُوْ مُعَاذِالرَّاوِیُّ ضَعِیْفٌ عِنْدَاَھْلِ الْحَدِیْثِ۔
اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ کے پاس ایک کپڑا تھا جس سے وضو کے بعد اپنے بھیگے ہوئے اعضائے وضو پونچھا کرتے تھے (جامع ترمذی) اور امام ترمذی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ حدیث قوی نہیں ہے اور اس کے ایک راوی، ابومعاذ محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں
تشریح
نہ یہ کہ حضرت امام ترمذی (رح) نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے بلکہ یہ بھی کہا ہے کہ وضو کے بعد بھیگے ہوئے اعضاء کو کپڑے سے پونچھے کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے کوئی صحیح حدیث منقول نہیں ہے بلکہ آپ ﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ایک حمایت اور تابعین نے وضو کے بعد اعضاء کو پونچھ لینے کی اجازت دی ہے اور ان کی یہ اجازت بھی رسول اللہ ﷺ کے کسی قول و فعل سے مستنبط نہیں ہے بلکہ یہ خود ان لوگوں کی اپنی رائے ہے، چناچہ سید جمال الدین شافعی (رح) نے اس مضمون کو نقل کیا ہے۔ اس کا جواب علماء حنفیہ یہ دیتے ہیں کہ آپ لوگوں کا یہ کہنا کہ یہ جواز ان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین وغیرہ کی ذاتی رائے ہے غلط ہے، بلکہ اس کے برعکس آپ کا یہ قول خود آپ کے ذہن کی پیداوار ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ کیونکہ صحابہ کرام مثلاً حضرت عثمان، حضرت انس اور حضرت حسن بن علی رضوان اللہ علیہم کی جلالت شان اور اتباع نبوی ﷺ کے جذبہ صادق کے پیش نظر اس کا وہم بھی نہیں کیا جاسکتا کہ دینی معاملات میں کوئی چیز ان کے اپنے ذہن کی پیدا کردہ ہوسکتی ہے لہٰذا ان کا فعل اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس حدیث کی اصل ضرور ہے۔ اس کے علاوہ اس کلیہ کو بھی ذہن میں رکھ لینا چاہئے کہ حدیث پر عمل کرنا خواہ وہ حدیث ضعیف ہی کیوں نہ ہو زیادہ اولیٰ اور بہتر ہے بنسبت اس کے کہ کسی رائے پر عمل کیا جائے، خواہ وہ کتنی ہی مضبوط اور قوی کیوں نہ ہو۔
وَعَنْ ثَابِتِ ابْنِ اَبِی صَفِیَّۃَ قَالَ قُلْتُ لِاَبِیْ جَعْفَرٍ ھُوَ مُحَمَّدُ الْبَاقِرُ حَدَّثَکَ جَابِرٌ اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم تَوَ ضَّاَ مَرَّۃً وَمَرَّتَیْنِ مَرَّتَیْنِ وَثَلَاثًا ثَلَاثًا قَالَ نَعَمْ۔(ارواہ الجامع ترمذی و ابن ماجۃ)
اور حضرت ثابت بن ابی صفیہ (رح) ( حضرت ثابت بن ابی صفیہ تابعی ہیں، آپ کی کنیت ابوحمزہ تھی۔ ١٤٨ ھ میں انتقال ہوا ہے)۔ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت جعفر صادق (رح) کے والد سے جن کا نام محمد باقر حضرت امام محمد باقر حضرت امام زین العابدین رحمہم اللہ تعالیٰ علیہ کے صاحبزادے ہیں ٥٦ ھ میں آپ کی ولادت ہوئی تھی، آپ کا انتقال ١١٧ ھ یا ١١٨ ھ بمقام مدینہ منورہ ہوا اور جنت البقیع میں دفن ہیں) ہے کہا کہ آپ سے جابر ؓ نے یہ حدیث بیان کی ہے کہ سرکار دو عالم ﷺ نے (کبھی) ایک ایک مرتبہ (کبھی) دو دو مرتبہ اور (کبھی) تین تین مرتبہ وضو کیا انہوں نے فرمایا ہاں۔ (جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ)
تشریح
محدثین کی عادت ہے کہ جب شاگرد اپنے شیخ (استاد) سے کوئی حدیث سنتا ہے تو وہ پوچھتا ہے کہ حدثک فلان عن فلان (اس طرح شاگرد اپنی سند کے سلسلہ کو رسول اللہ ﷺ تک پہنچاتا ہے اور استاد خاموشی سے اس سلسلہ سند کو سنتا رہتا ہے) یعنی کیا آپ سے یہ حدیث فلاں نے اور فلاں سے فلاں نے (یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ سے فلاں نے) سنی ہے اس کے جواب میں شٰخ کہتا ہے کہ نعم! (یعنی ہاں) گویا روایت حدیث کا یہ ایک طریقہ ہے اور یہ ایسا ہی ہے جیسے کہ استاد اپنے شاگرد کے سامنے جب کہتا ہے کہ حد ثنی فلاں الخ (یعنی مجھ سے یہ حدیث بیان کی فلاں نے اور فلاں سے فلاں نے یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ سے فلاں نے سنی ہے) تو شاگرد بیٹھا سنتا رہتا ہے۔ بہر حال۔ اسی طرح سے حضرت عثمان بن ابی صفیہ (رح) نے اپنے استاد حضرت امام محمد باقر (رح) سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا کہ حدثک جابر الخ یعنی کیا یہ حدیث آپ سے حضرت جابر ؓ نے بیان کی ہے۔ اس کے جواب میں محمد باقر ؓ نے اقرار کیا کہ ہاں مجھ سے جابر ؓ نے یہ حدیث بیان کی ہے۔
وَعَنْ عَبْدِاﷲِ بْنِ زَیْدٍ قَالَ اِنَّ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ مَرَّتَیْنِ مَرَّتَیْنِ وَقَالَ نُوْرٌ عَلٰی نُوْرٍ۔
اور حضرت عبداللہ بن زید ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے دو، دو مرتبہ وضو فرمایا (یعنی اعضاء وضو کو دو، دو بار دھویا) اور پھر فرمایا کہ یہ نور کے اوپر نور ہے۔
تشریح
اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک مرتبہ اعضاء وضو کو دھویا تو اس سے فرض اداء ہوا اور ایک نور ہوا، پھر اس کے بعد جب دوسری مرتبہ دھویا تو سنت اداء ہوئی اور چونکہ یہ بھی نور ہے اس لئے نور کے اوپر نور ہوا۔
وَعَنْ عُثْمَانَ رَضِیَ اﷲُ عَنْہُ قَالَ اِنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا وَقَالَ ھٰذَا وُضُوْئِی وَوُضُوْءُ الْاَنْبِیَاءِ قَبْلِی وَوُضُوْءُ اِبْرَاھِیْمَ رَوَاھُمَا رَزِیْنٌ وَالنَّوَوِیُّ ضَعَّفَ الثَّانِیَ فِی شَرْحِ مُسْلِمٍ۔
اور حضرت عثمان غنی ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے تین تین مرتبہ وضو کیا اور پھر فرمایا کہ یہ میرا اور مجھ سے پہلے کے انبیاء (علیہم السلام) کا وضو ہے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا وضو ہے (یہ دونوں حدیثیں رزین نے روایت کی ہیں اور امام نووی (رح) نے شرح مسلم میں دوسری حدیث کو ضعیف کہا۔
تشریح
رسول اللہ ﷺ نے تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) کا ذکر کرنے کے بعد پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا جو ذکر کیا ہے اسے تخصیص بعد تعمیم فرماتے ہیں یعنی انبیاء (علیہم السلام) کا عمومی طور پر ذکر کرنے کے بعد پھر بطور خاص حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اسم گرامی کا ذکر کیا، اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) طہارت اور نظافت کا بہت زیادہ خیال رکھا کرتے تھے۔
وَعَنْ اَنَسٍ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَتَوضَّأَ لِکُلِّ صِلَاۃٍ وَکَانَ اَحَدُنَا یَکْفِیْہِ الْوُضُوْءُ مَالَمْ یُحْدِثْ۔ (رواہ الدارمی)
اور حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ ہر (فرض) نماز کے لئے وضو فرمایا کرتے تھے اور ہم کو ایک وضو اس وقت تک کافی ہوتا تھا جب تک کہ وضو نہ ٹوٹتا تھا۔ ( دارمی)
تشریح
رسول اللہ ﷺ کے لئے ہر نماز کے لئے تازہ وضو کرنا پہلے واجب تھا مگر بعد میں وجوب کا یہ حکم منسوخ ہوگیا، جب کہ اس کے بعد آنے والی حدیث سے معلوم ہوتا ہے، کچھ علماء فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اولیٰ اور عزیمت سمجھ کر ہر نماز کے لئے تازہ وضو فرماتے تھے۔
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ قَالَ قُلْتُ لِعُبَیْدِ اﷲِ بْنِ عُمَرَ رَاَیْتُ وُضُوْءَ عَبْدِاﷲِ ابْنِ عُمَرَ لِکُلِّ صَلَاۃٍ طَاھِرًا کَانَ اَوْغَیْرَ طَاھِرٍ عَمَّنْ اَخَذَہُ فَقَالَ حَدَّثْہُ اَسْمَآءُ بِنْتُ زَیْدِ بْنِ الْخَطَّابِ اَنَّ عَبْدَاﷲِ بْنَ حَنْظَلَۃَ بْنِ اَبِی عَامِرِ الْغُسَیْلِ حَدَّثَھَا اَنَّ رَسُّولَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلمکَانَ اُمِرَ بِالْوُضُوْءِ لِکُلِّ صَلَاۃٍ طَاھِرًا کَانَ اَوْغَیْرَ طَاھِرِ فَلَمَّا شَقَّ ذٰلِکَ عَلَی رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اُمِرَ بِالسِّوَاکِ عِنْدَ کُلِّ صَلَاۃٍ وَوُضِعَ عَنْہُ الْوُضُوْءُ اِلَّا مِنْ حَدَثٍ قَالَ فَکَانَ عَبْدُاﷲِ یَرَی اَنَّ بِہٖ قُوَّۃً عَلَی ذٰلِکَ فَفَعَلَہ، حَتّٰی مَاتَ۔(راوہ مسند احمد بن حنبل)
اور حضرت محمد بن یحییٰ بن حبان (رح) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر فاروق ؓ کے صاحبزادے حضرت عبیداللہ ؓ سے کہا کہ مجھے یہ بتائیے کہ کیا حضرت عبداللہ ابن عمر فاروق ؓ ہر نماز کے لئے وضو کرتے تھے خواہ وہ باوضو ہوں یا بےوضو اور انہوں نے یہ عمل کس سے حاصل کیا تھا؟ حضرت عبیداللہ نے کہا کہ حضرت عبداللہ بن عمر فاروق ؓ سے حضرت اسماء بنت زید بن خطاب ؓ نے یہ حدیث بیان کی کہ حضرت عبداللہ بن حنظلہ ابی عامر الغسیل ؓ نے ان سے یہ حدیث بیان کی کہ سرکار دو عالم ﷺ کو ہر نماز کا وضو کرنے کے لئے حکم دیا گیا تھا خواہ آپ ﷺ باوضو ہوں یا بےوضو جب آپ کے لئے یہ مشکل ہوا تو ہر نماز کے وقت مسواک کا حکم دیا گیا اور وضو کو موقوف کیا گیا (یعنی ہر نماز کے لئے تازہ وضو کرنا واجب نہ رہا، جب تک وضو ٹوٹ نہ جائے حضرت عبداللہ (رح) فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر فاروق ؓ کا یہ خیال تھا کہ مجھ میں ہر نماز کے لئے تازہ وضو کرنے کی قوت ہے۔ چناچہ انہوں نے اسی پر موت کے وقت تک عمل کیا۔ (مسند احمد بن حنبل)
تشریح
لفظ غسیل کے معنی ہیں نہلایا گیا یہ حضرت حنظلہ ؓ کی صفت ہے، حضرت حنظلہ ؓ کو غسیل اس لئے کہا جاتا ہے کہ انتقال کے بعد انہیں فرشتوں نے غسل دیا تھا۔ چناچہ حضرت عروہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے حنظلہ ؓ کی اہلیہ محترمہ سے پوچھا کہ ان کا کیا حال تھا؟ (یعنی جب وہ گھر سے نکلے تو کیا کام کر رہے تھے) انہوں نے جواب دیا کہ وہ حالت ناپاکی میں تھے اور (نہانے کے وقت) اپنے سر کا ایک ہی حصہ دھوپائے تھے کہ اتنے میں انہوں نے صدا سنی (کہ جہاد کے لئے بلایا جا رہا ہے، چناچہ وہ اسی حالت میں گھر سے باہر نکل کھڑے ہوئے اور (غزوہ احد میں) جام شہادت نوش فرمایا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے دیکھا کہ فرشتے انہیں نہلا رہے تھے۔ (طیبی) بہر حال طیبی (رح) فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں اس طرف اشارہ ہے کہ مسواک بہت زیادہ فضیلت اور بزرگی رکھتی ہے کہ جب ہی تو اسے واجب وضو کا قائم مقام قرار دیا گیا۔ حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ ہر نماز کے لئے تازہ وضو اس لئے کرتے تھے کہ انہوں نے یہ اجتہاد کیا کہ اگرچہ اس کا وجوب منسوخ ہوگیا ہے مگر اس آدمی کے لئے جو اس پر عمل کی طاقت وقوت رکھتا ہے اس کی فضیلت باقی ہے اس لئے انہوں نے جب یہ دیکھا کہ میرے اندر اتنی قوت و ہمت ہے کہ میں اس عمل کو بخوبی پورا کرسکتا ہوں تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ اس فضیلت وسعادت سے محروم رہوں۔ چناچہ انہوں نے اسے اپنا معمول بنا لیا کہ ہر نماز کے لئے تازہ وضو فرماتے اور جب تک موت کی آغوش نے انہیں اپنے اندر چھپانہ لیا وہ اس معمول پر قائم و دائم رہے۔
وَعَنْ عَبْدِاﷲِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِسَعْدٍ وَھُوَ یَتَوَضَّأُ فَقَالَ مَاھٰذَا السَّرَفُ یَا سَعْدُ قَالَ اَفِی الْوُضُوْءِ سَرَفٌ قَالَ نَعَمْ وَ اِنْ کُنْتَ عَلَی نَھْرٍ جَارٍ۔ (رواہ مسند احمد بن حنبل و ابن ماجۃ)
اور حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ راوی ہیں کہ (ایک مرتبہ) سرکار دو عالم ﷺ کا گزر حضرت سعد ؓ پر ہوا جب کہ وہ وضو کر رہے تھے (اور وضو میں اسراف بھی کر رہے تھے) آپ ﷺ نے (یہ دیکھ کر) فرمایا اے سعد! یہ کیا اسراف (زیادتی ہے)؟ حضرت سعد ؓ نے عرض کیا کہ کیا وضو میں بھی اسراف ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں! اگرچہ تم نہر جاری ہی پر (کیوں نہ وضو کر رہے) ہو۔ (مسند احمد بن حنبل، ابن ماجہ)
تشریح
یہ حدیث اس بات پر تنبیہ کر رہی ہے کہ وضو و غسل میں پانی ضرورت سے زیادہ خرچ نہیں کرنا چاہئے کیونکہ اسراف ہے اور اسراف شریعت کی نگاہ میں کوئی محبوب چیز نہیں ہے چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے جب حضرت سعد ؓ کو دیکھا کہ وضو میں پانی زیادہ خرچ کر رہے ہیں تو آپ ﷺ نے انہیں تنبیہ فرمائی اس پر حضرت سعد ؓ کو بڑا تعجب ہوا کہ پانی کوئی نایاب اور کم یاب چیز تو ہے نہیں پھر اس میں اسراف کے کیا معنی؟ اسی بنا پر انہوں نے سوال بھی کیا کہ کیا وضو میں بھی اسراف ہوسکتا ہے؟ اس کے جواب میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسراف تو اسے بہی کہیں گے کہ تم نہر جاری پر بیٹھ کر وضو کرو اور پانی زیادہ خرچ کرو جب کہ نہر یا دریا وغیرہ سے کتنا بھی پانی خرچ کردیا جائے اس میں کوئی کمی واقعی نہیں ہوسکتی۔ اس جملہ کی تشریح علماء کرام یہ کرتے ہیں کہ نہر جاری پر اسراف اس لئے ہوتا ہے کہ جب کوئی آدمی حدود شریعت سے تجاوز کر کے ضرورت شرعی سے زیادہ پانی خرچ کرتا ہے تو اس میں عمر اور وقت یوں ہی ضائع ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ یہ اسراف ہے۔ علامہ طیبی نے اس کے معنی یہ بیان کئے ہیں کہ اس سے اس بات میں مبالغہ منظور ہے کہ جس چیز میں اسراف متصور نہیں ہے جب اس میں بھی اسراف ہوسکتا ہے تو پھر ان چیزوں کا کیا حال ہوگا جس میں اسراف واقعۃً ہوتا ہے لہٰذا معلوم ہوا کہ وضو اور غسل وغیرہ میں ضرورت شرعی سے زیادہ پانی خرچ کرنا اسراف میں شامل ہے اور یہ چیز مناسب نہیں ہے۔
وَعَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ وَابْنِ مَسْعُوْدٍ وَ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ مَنْ تَوَضَّأَ وَذَکَرَ اسْمَ اﷲِ فَاِنَّہُ یُطَھِّرُ جَسَدَہ، کُلَّہُ وَمَنْ تَوَضَأَ وَلَمْ یَذْکُرِ اسْمَ اﷲِ لَمْ یُطَھِّرْاِلَّا مَوْضِعَ الْوُضُوْئِ۔
اور حضرت ابوہریرہ حضرت عبداللہ ابن مسعود اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ سرکار دو عالم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جس آدمی نے وضو کیا اور اللہ تعالیٰ کا نام لیا (یعنی پوری بسم اللہ پڑھ کر وضو شروع کیا) تو اس نے اپنا تمام بدن (گناہوں سے) پاک کیا اور جس نے وضو کیا اور اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیا تو اس نے صرف اعضاء وضو کو پاک کیا۔
تشریح
اس حدیث میں وضو کے شروع میں بسم اللہ کہنے کی فضیلت کا اظہار ہو رہا ہے کہ جو آدمی بسم اللہ کہہ کر وضو شروع کرتا ہے اس کا تمام بدن گناہ صغیرہ کی غلاظتوں سے پاک ہوجاتا ہے اور جس آدمی نے بغیر بسم اللہ کہے ہوئے وضو کیا تو اس کے اسی اعضاء سے گناہ صغیرہ دور ہوتے ہیں جنہیں وضو میں دھویا گیا ہے۔ نیز اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ وضو میں بسم اللہ کہنا سنت یا مستحب ہے واجب نہیں ہے۔
وَعَنْ اَبِی رَافِعٍ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا تَوَضَّأَ وُضُوْءَ الصَّلَاۃِ حَرَّکَ خَاتَمَہ، فِی اِصْبَعِہٖ رَوَاھُمَا الدَّارَقُطْنِیُّ وَرَوَی ابْنُ مَاجَۃَ الْخِیْرَ۔
اور حضرت ابورافع ؓ بیان کرتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ جب نماز کے لئے وضو فرماتے تو اپنی انگلی کی انگوٹھی کو بھی گھما پھیرا لیتے۔ (ان دونوں حدیثوں کو دار قطنی نے روایت کیا ہے اور سنن ابن ماجہ نے صرف دوسری حدیث نقل کی ہے)۔
تشریح
اس کا مسئلہ یہ ہے کہ انگوٹھی ڈھیلی ہو اور اس بات کا گمان ہو کہ وضو کے وقت پانی انگوٹھی کے نیچے انگلی تک پہنچ جاتا ہے تو اس صورت میں انگوٹھی کو ہلا لینا سنت ہوگا، ہاں اگر انگوٹھی تنگ ہو اور یہ یقین ہو کہ انگوٹھی کو ہلائے بغیر اس کے نیچے پانی نہیں پہنچے گا تو پھر انگوٹھی کو ہلا لینا واجب ہوگا تاکہ پانی اس کے نیچے انگلی تک پہنچ جائے۔
عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلماِذَا جَلَسَ اَحَدُکُمْ بَےْنَ شُعَبِھَا الْاَرْبَعِ ثُمَّ جَھَدَھَا فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ وَاِنْ لَّمْ ےُنْزِلْ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی آدمی عورت کی چار شاخوں کے درمیان بیٹھے پھر کوشش کرے (یعنی جماع کرے) تو اس پر غسل واجب ہوگیا، اگرچہ منی نہ نکلے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
عورت کی چار شاخوں سے مراد اس کے دونوں ہاتھ اور دونوں پیر ہیں، یا اس سے مراد عورت کے دونوں پیر اور فرج (شرم گاہ) طرفین ہیں۔ یہ جملہ عورت کے پاس جماع کے لئے جانے اور صحبت کرنے کی بلیغ تعبیر ہے، چونکہ رسول اللہ ﷺ شرم و حیاء کے انتہائی بلند مقام پر تھے، اس لئے آپ ﷺ نے صورت مسئلہ کی وضاحت کے لئے الفاظ کے کنایا کا سہارا لیا ہے کھلے طور پر آپ ﷺ نے اس کی تشریح نہیں فرمائی ہے۔ بہر حال حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی عورت کے پاس جماع کے لئے گیا اور اس نے جماع کیا تو محض حشفہ داخل کرنے سے اس پر غسل واجب ہوجائے گا، خواہ انزال ہو یا نہ ہو۔ خلفائے راشدین اور اکثر صحابہ نیز چاروں اماموں کا یہی مسلک ہے۔
عَنْ اَبِیْ سَعِےْدٍص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِنَّمَا الْمَآءُ مِنَ الْمَآءِ )رَوَاہُ مُسْلِمٌٌ )قال الیشخ الامام محی السنۃ رحمہ اﷲ ھذا منسوخ وقال ابن عباس انما الماء من الماء فی الاحتلام رواہ الجامع ترمذی ولم اجدہ فی الصحیحین۔
اور حضرت ابوسعید ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا پانی پانی سے ہے (یعنی منی نکلنے غسل واجب ہوجاتا ہے) (صحیح مسلم) اور امام محی السنہ (رح) فرماتے ہیں کہ یہ حکم منسوخ ہے اور عبداللہ ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے کہ پانی پانی سے ہے کا حکم احتلام کے لئے ہے۔ (جامع ترمذی) اور مجھے یہ روایت صحیح البخاری و صحیح مسلم میں نہیں ملی ہے۔
تشریح
اس ارشاد کے اسلوب پر بھی غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے ایک طرف تو احکام شریعت کی تعلیم کی ذمہ داری ہے اور دوسری طرف آپ ﷺ شرم و حیاء کے انتہائی بلند وبالا مقام پر فائز ہیں اس لئے آپ ﷺ ایسا اسلوب اختیار فرماتے ہیں کہ مسئلہ کی وضاحت بھی ہوجائے اور شرم و حیاء کا دامن بھی ہاتھ سے نہ چھوٹے، چناچہ آپ ﷺ نے ایسے الفاظ استعمال فرمائے ہیں جو کنا یۃ مسئلہ کی وضاحت کر رہے ہیں۔ بہر حال اس حدیث سے تو معلوم ہوتا ہے کہ جب تک انزال نہ ہو یعنی منی نہ نکلے غسل واجب نہیں ہوتا مگر ابھی اس سے پہلے جو حدیث گزری ہے اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ غسل محض دخول حشفہ سے واجب ہوجائے خواہ انزال ہو یا نہ ہو، اس طرح ان دونوں حدیثوں میں تعارض پیدا ہوگیا ہے۔ چنانچہ اسی تعارض کو دفع کرنے کے لئے حضرت امام محی السنۃ (رح) کا یہ قول مصنف مشکوۃ نقل فرما رہے ہیں کہ یہ حکم منسوخ ہے۔ یعنی یہ حضرت ابی بن کعب ؓ کی اس روایت سے منسوخ قرار دیا گیا ہے جس میں منقول ہے کہ یہ آسانی ابتداء اسلام میں تھی (کہ جب تک انزال نہ ہو غسل واجب نہیں ہوتا تھا) پھر بعد میں اس حکم کو منسوخ قرار دیا گیا۔ حضرت امام ترمذی (رح) نے بھی فرمایا ہے کہ اسی طرح بہت سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے یہ اقوال منقول ہیں کہ یہ حکم ابتدائے اسلام میں تھا پھر بعد میں اسے منسوخ قرار دے کر یہ حکم نافذ کیا گیا کہ جب مرد کا ذکر عرت کی شرم گاہ میں داخل ہو اور ختنین مل جائیں تو غسل واجب ہوجائے گا خواہ انزال ہو یا نہ ہو۔ لیکن حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ اس حدیث ایک دوسری توجیہہ بیان فرما رہے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ یہ حکم احتلام کے بارے میں ہے۔ یعنی رسول اللہ ﷺ کے اس کا ارشاد کا مقصد یہ ہے کہ محض خواب دیکھنے سے غسل واجب نہیں ہوتا بلکہ سو کر اٹھنے کے بعد اگر کپڑے وغیرہ پر منی کی تری دیکھی جائے تو غسل واجب ہوجائے گا۔ گویا حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کی اس توجیہ کے پیش نظر اس حدیث کو منسوخ ماننے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ لیکن تحقیقی بات یہ ہے کہ حدیث مطلق ہے یعنی اس حکم کا تعلق احتلام سے بھی تھا اور غیر احتلام سے بھی، مگر یہ حکم ابتدائے اسلام میں تھا پھر منسوخ ہوگیا۔