پاکی کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 4 · 226 hadiths · Page 11 of 12

467Mishkaat-al-Masabih

نجاستوں کے پاک کرنے کا بیان

وَعَنْہُ قَالَ تُصُدِّقَ عَلٰی مَوْلَاۃٍ لِّمَےْمُوْنَۃَ بِشَاۃٍ فَمَاتَتْ فَمَرَّ بِھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ ھَلَّا اَخَذْتُمْ اِھَابَھَا فَدَبَغْتُمُوْہُ فَانْتَفَعْتُمْ بِہٖ فَقَالُوْا اِنَّھَا مَےْتَۃٌ فَقَالَ اِنَّمَا حُرِّمَ اَکْلُہَا۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت میمونہ ؓ کی ایک آزاد کردہ باندی کو ایک بکری صدقہ میں دی گئی (اتفاق سے) وہ بکری مرگئی، رسول اللہ ﷺ کا اس پر گزر ہوا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم نے اس کا چمڑا اتار کیوں نہ لیا؟ اس چمڑے کو دباغت دے کر اس سے نفع اٹھا لیتے! لوگوں نے عرض کیا کہ یہ تو مردار ہے آپ ﷺ نے فرمایا؟ صرف اس کا کھانا حرام ہے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مردار (یعنی جانور بغیر ذبح کئے ہوئے مرجائے اور اس کا کھانا حرام ہو تو جو اجزاء ذبح کرنے کی صورت میں کھائے جاتے ہیں مثلاً گوشت وغیرہ وہ تو مرنے کے بعد حرام ہوجاتے ہیں لیکن ان کے علاوہ دوسری چیزوں مثلاً دباغت دئیے ہوئے چمڑے، دانت، بال اور سینگ وغیرہ سے فائدہ اٹھانا یعنی ان کی خریدو فروخت کرنا اور ان کو دوسری ضرورتوں میں استعمال کرنا جائز ہے۔

468Mishkaat-al-Masabih

نجاستوں کے پاک کرنے کا بیان

وَعَنْ سَوْدَۃَ زَوْجِ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَتْ مَاتَتْ لَنَا شَاۃٌ فَدَ بَغْنَا مُسْکَھَا ثُمَّ مَا زِلْنَا نُبِیْذُ فِیْہِ حَتّٰی صَارَ شَنًّا۔ (رواہ البخاری)

اور سرکار دو عالم ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت سودہ ؓ (ام المومنین حضرت سودا زمعہ کی بیٹی ہیں ابتداء اسلام سے مشرف تھی انتقال ٥٤ ھ مدینہ میں ہوا) فرماتی ہیں کہ ہماری ایک بکری مرگئی تھی ہم نے اس کی کھال اتار کر دباغت دے لی اور ہمیشہ اسی میں نبیذ (یعنی پانی اور کھجوروں کا شربت) بناتے رہے یہاں تک کہ وہ پرانی مشک ہوگئی۔ (صحیح البخاری )

469Mishkaat-al-Masabih

نجاستوں کے پاک کرنے کا بیان

عَنْ لُبَابَۃَ بِنْتِ الْحَارِثِ قَالَتْ کَانَ الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ فِیْ حِجْرِ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم فَبَالَ عَلٰی ثَوْبِہٖ فَقُلْتُ اِلْبَسْ ثَوْبًا وَاَعْطِنِیْ اِزَارَکَ حَتّٰی اَغْسِلَہ، فَقَالَ اِنَّمَا یُغْسَلُ مِنْ بَوْلِ الْاُنْثٰی وَیُنْضَحُ مِنْ بَوْلِ الذَّکَرِ رَ وَاہُ اَحْمَدُ وَ اَبُوْدَاؤدَ وَابْنُ مَاجَۃَ وَفِیْ رِوَایَۃٍ لِاَ بِیْ دَاؤدَ وَالنِّسَائِیْ عَنْ اَبِی السَّمْحِ قَالَ یُغْسَلُ مِنْ بَوْلِ الْجَارِیَۃِ وَیُرَ شُّ مِنْ بَوْلِ الْغُلَامِ۔

حضرت لبابہ بنت حارث ؓ ( آپ کا نام لبابہ ہے اور حارث کی بیٹی ہیں کنیت ام فضل ہے حضرت عباس بن عبدالمطلب ؓ کی بیوی اور ام المومنین حضرت میمونہ ؓ کی بہن ہیں) فرماتی ہیں کہ حضرت حسین ابن علی المرتضیٰ ؓ نے سرکار دو عالم ﷺ کی گود میں بیٹھ کر آپ ﷺ کے کپڑوں پر پیشاب کردیا میں نے عرض کیا کہ آپ ﷺ (دوسرا) کپڑا پہن کر یہ تہ بند مجھے دے دیجئے تاکہ میں اسے دھو ڈالوں آپ نے فرمایا لڑکی کا پیشاب دھویا جاتا ہے اور لڑکے کے پیشاب پر پانی کا چھینٹا دیا جاتا ہے (مسند احمد بن حنبل، سنن ابوداؤد، سنن ابن ماجہ) اور ابوداؤد و سنن نسائی کی ایک روایت میں ابوسمح سے یہ الفاظ منقول ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا کہ لڑکی کا پیشاب دھویا جاتا ہے اور لڑکے کے پیشاب پر پانی کا چھینٹا دیا جاتا ہے۔ تشریح حضرت امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ یہاں چھینٹا دینے سے مراد تڑ یڑا دینا یعنی پیشاب کی جگہ پر بغیر ملے اور نچوڑے ہوئے پانی کا بہا دینا ہے اور دھونے سے مراد مبالغے کے ساتھ دھونا ہے چناچہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی روایت ہے کہ ایک لڑکا رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لایا گیا اس نے آپ ﷺ کے کپڑوں پر پیشاب کردیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس پر پانی کا تڑیڑا دو لہٰذا اس سے معلوم ہوا کہ لڑکے کے پیشاب کو بھی دھونے کا حکم ہے فرق صرف اتنا ہے کہ لڑکے کے پیشاب پر صرف پانی کا تڑیڑا دینا ہی کافی ہے یعنی اس کو ملنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ لڑکوں کا پیشاب سوراخ کی تنگی کی بناء پر زیادہ نہیں پھیلتا اور لڑکیوں کا پیشاب سوراخ کی فراخی کی وجہ سے زیادہ پھیلتا ہے اس لئے لڑکیوں کے پیشاب کو خوب اچھی طرح دھونا چاہئے۔

470Mishkaat-al-Masabih

نجاستوں کے پاک کرنے کا بیان

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا وَطِئَ اَحَدُ کُمْ بِنَعْلِہِ الْاَ ذٰی فَاِنَّ التُّرَابَ لَہ، طَھُوْرٌ (رَوَاہُ اَبُوْدَاؤوَ لِا بْنِ مَاجَۃَ مَعْنَاہُ)

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی اپنے جوتوں کے ساتھ گندگی پر چلے تو مٹی اس کو پاک کرنے والی ہے (ابوداؤد اور ابن ماجہ نے بھی اسی کے ہم معنی روایت نقل کی ہے تشریح صورت مسئلہ یہ ہے کہ مثلا ایک آدمی جوتے پہنے ہوئے چل رہا ہے اتفاق سے کسی جگہ گندگی پڑی ہوئی تھی وہ اس کے جوتوں پر لگ گئی اب پھر وہ جب پاک اور صاف زمین پر چلے گا تو مٹی سے رگڑ کھانے کی وجہ سے اس کا جوتا پاک ہوجائے گا اس مسئلے میں علماء کا اختلاف ہے چناچہ حضرت امام ابوحنیفہ (رح) اور ان کے ایک شاگرد حضرت امام محمد (رح) کا قول یہ ہے کہ اس حدیث میں گندگی سے مراد جو جسم والی اور خشک ہو یعنی اگر کسی راہ چلتے کے جوتے یا موزے میں ایسی گندگی لگ جائے جو جسم والی ہو اور خشک ہو تو پاک زمین پر رگڑ دینے سے وہ جوتا یا موزہ پاک ہوجائے گا اور اگر گندگی خشک نہ ہو تو پھر رگڑ نے سے گندگی زائل نہیں ہوگی۔ حضرت امام ابوحنیفہ (رح) کے ایک دوسرے شاگرد رشید حضرت امام ابویوسف اور حضرت امام شافعی رحمہما اللہ تعالیٰ علیہما فرماتے ہیں کہ یہاں حدیث کی مراد عام ہے یعنی گندگی خواہ خشک ہو یا تر زمین پر رگڑنے سے پاک ہوجائے گی مگر حضرت امام شافعی (رح) کا یہ پہلا قول ہے ان کا جدید مسلک یہ ہے کہ اس گندگی کو ہر حال میں پانی سے دھونا چاہئے زمین پر رگڑنے سے پاک نہیں ہوگی۔ فقہ حنفی میں فتویٰ حضرت امام ابویوسف (رح) ہی کے قول پر ہے جو کہ جوتے یا موزے پر اگر تن دار نجاست لگ جائے خواہ وہ خشک ہو یا تر ہو تو زمین پر خوب اچھی طرح رگڑ دینے سے موزہ یا جوتا پاک ہوجائے گا۔ یہ سمجھ لیجئے کہ اس مسئلے میں علماء کرام کا یہ اختلاف تن دار نجاست جیسے گوبر وغیرہ ہی کے بارے میں ہے کیونکہ غیر تن دار نجاست مثلاً پیشاب و شراب کے بارے میں سب کا متفقہ طور پر یہ مسلک ہے کہ اسے دھونا ہی واجب ہے۔

471Mishkaat-al-Masabih

نجاستوں کے پاک کرنے کا بیان

وَعَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ قَالَتْ لَھَا اِمْرَ أَۃٌ اِنِّیْ اُطِیْلُ ذَیْلِیْ وَاَمْشِیْ فِی الْمَکَانِ الْقَدِرِ قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یُطَھِّرُہ، مَا بَعْدَہ،۔ (رَوَاہٌ مَالِکٌ وَ اَحْمَدُ وَ التِّرِمِذِیُّ وَ اَبُوْدَاؤدَ وَ الدَّارِمِیُّ وَقَالَا الْمَرْاَۃُ اُمُّ وَلَدٍلِا بْرَاھِیْمَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ)

اور حضرت ام سلمہ ؓ راوی ہیں کہ ان سے ایک عورت نے کہا کہ میرا دامن لمبا ہے اور میں ناپاک جگہ پر چلتی ہوں (یہ خیال ہے کہ دامن کو ناپاکی لگ جاتی ہے) حضرت ام سلمہ ؓ نے کہا کہ سرکار دو عالم ﷺ نے (اسی قسم کے ایک سوال کے جواب میں) فرمایا تھا کہ اس کو وہ چیز پاک کرتی ہے جو اس کے بعد ہے (یعنی پاک زمین یا مٹی)۔ (مسند احمد بن حنبل، مالک، جامع ترمذی، ابوداؤد اور درامی نے کہا ہے کہ (سوال کرنے والی) عورت ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف کی ام ولد تھی (جس کا نام حمیدہ تھا) تشریح سوال کرنے والی کا مطلب یہ تھا کہ میرا دامن بہت لمبا ہے جب میں چلتی ہوں تو وہ زمین پر لگتا ہوا چلتا ہے اور جب میں نا پاک جگہ سے گزرتی ہوں تو خیال ہوتا ہے کہ شاید دامن پر نجاست و گندگی لگ گئی ہوگی اس لئے اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ اس کے جواب میں حضرت ام سلمہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ کا ارشاد نقل فرمایا جس کا مطلب یہ ہے کہ کسی ناپاک جگہ سے گزرتے ہوئے جب دامن میں نجاست لگ جاتی ہے تو بعد میں پاک صاف جگہ چلنے سے وہ نجاست زمین پر لگ کر جھڑ جاتی ہے اور کپڑا پاک ہوجاتا ہے لیکن یہ بات ذہن میں رہنی چاہئے کہ یہ حکم خشک نجاست کے بارے میں ہے کہ اگر خشک نجاست کپڑے کو لگ جائے تو پھر پاک و صاف زمین پر چلنے سے وہ زمین پر لگ کر جھڑ جاتی ہے جس سے کپڑا پاک ہوجاتا ہے۔ اس حکم کو خشک نجاست کے بارے میں خاص کرنے کی وجہ یہ ہے کہ علماء کرام کا اس بات پر اجماع اور اتفاق ہے کہ اگر کپڑا ناپاک ہوجائے تو وہ بغیر دھوئے پاک نہیں ہوتا، بخلاف جوتے کے (تابعین کی ایک جماعت کا قول ہے کہ جوتا اگر نجاست کے لگ جانے سے ناپاک ہوجائے تو اس کو پاک و صاف زمین پر رگڑ کر پاک کیا جاسکتا ہے خواہ وہ نجاست تر ہی کیوں نہ ہو جیسا کہ ابھی اس سے پہلے حدیث کی تشریح میں حضرت امام شافعی اور حضرت امام ابویوسف رحمہما اللہ تعالیٰ علیہما کا مسلک بیان کیا جا چکا ہے (وا اللہ اعلم)

472Mishkaat-al-Masabih

نجاستوں کے پاک کرنے کا بیان

وَعَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ یْکَرَبَ قَالَ نَھٰی رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم عَنْ لُبْسِ جُلُوْدِ السَّبَاعِ وَالرُّ کُوْبِ عَلَیْھَا۔ (رواہ ابوداؤد و نسائی )

حضرت مقدام بن معد یکرب ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے درندوں کی کھالوں کے پہننے اور ان پر سوار ہونے سے منع فرمایا ہے۔ (ابوداؤد، سنن نسائی) تشریح اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ درندوں مثلا شیر اور چیتے وغیرہ کی کھال کا لباس بنا کر انہیں پہنا نہ جائے، اسی طرح ان پر سوار ہونے کا مطلب یہ ہے کہ درندوں کی کھال کو بچھا کر اس پر بیٹھنا یا گھوڑے کی زین پر ڈال کر اس پر سوار ہونا مناسب نہیں ہے اس طرح ان کے استعمال سے منع اس لئے فرمایا گیا ہے کہ متکبر لوگوں اور خالص دنیا داروں کی عادت ہے لہٰذا نیک لوگوں کو ان سے اجتناب کرنا چاہئے اس شکل میں کہا جائے گا کہ یہ نہی تنزیہی ہے لیکن جن حضرات کے ہاں مردار کے بال نجس ہوتے ہیں اور وہ دباغت سے بھی پاک نہیں ہوتے ان کے نزدیک یہ نہی تحریمی ہے۔

473Mishkaat-al-Masabih

نجاستوں کے پاک کرنے کا بیان

وَعَنْ اَبِی الْمَلِیْحِ بْنِ اُسَامَۃَ عَنْ اَبِیْہِ عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم نَھٰی عَنْ جُلُوْدِ السِّبَاعِ۔ (رَوَاہُ اَحْمَدُ وَ اَبُوْدَاؤدَ وَ النِّسَائِیُّ وَزَادَ التِّرْمِذِیُّ وَ الدَّارِمِیُّ اَنْ تُفْتَرَشَ)

اور حضرت ابوالملیح بن اسامہ (رح) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سرکار دو عام ﷺ نے درندوں کی کھال کو استعمال کرنے سے منع فرمایا (احمد، ابوداؤد و نسائی) اور امام ترمذی (رح) اور دارمی (رح) نے اس روایت میں یہ الفاظ زیادہ نقل کئے ہیں کہ آپ ﷺ اس سے بھی منع فرمایا ہے کہ درندوں کی کھالوں کا فرش بنایا جائے)

474Mishkaat-al-Masabih

نجاستوں کے پاک کرنے کا بیان

وَ عَنْ اَبِی الْمَلِیْحِ اَنَّہُ کَرِہَ لَمَنَ جُلُودِ السِّبَاعِ (ترمذی)

اور حضرت ابوالملیح کے بارے میں منقول ہے کہ وہ درندوں کی کھالوں کی قیمت کو (بھی) مکروہ سمجھتے تھے۔ (جامع ترمذی ) تشریح اس کا مطلب یہ ہے کہ درندوں کی کھال کو خریدنا اور بیچنا بھی مناسب نہیں ہے چناچہ ابن مالک (رح) کا یہی قول ہے اور یہ مسلک ابوالملیح (رح) کا بھی ہے فتاویٰ قاضی خان میں لکھا ہوا ہے کہ درندوں کے چمڑے کو دباغت دیئے جانے سے پہلے بیچنا باطل ہے مشکوٰۃ کے اصل نسخے میں لفظ راوہ کے بعد جگہ خالی تھی عبارت مذکورہ بعد میں بڑھائی گئی ہے۔

475Mishkaat-al-Masabih

نجاستوں کے پاک کرنے کا بیان

وَعَنْ عَبْدِاﷲِ بْنِ عُکَیْمٍ قَالَ اَتَانَا کِتَابُ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اَنْ لَّا تَنْتَفِعُوْا مِنَ الْمَیْتَۃِ بِاِ ھَابٍ وَلَا عَصَبٍ۔ (رواہ الترمذی وابوداؤد و النسائی و ابن ماجۃ)

اور حضرت عبداللہ بن عکیم ( حضرت عبداللہ بن عکیم جہنی نے رسول اللہ ﷺ کا زمانہ تو پایا ہے لیکن یہ تحقیق سے ثابت نہیں ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے شرف ملاقات حاصل کیا یا نہیں۔ ( راوی ہیں کہ ہمارے (قبیلے جہینہ کے پاس سرکار دو عالم ﷺ کا (جو) مکتوب گرامی آیا (اس میں یہ لکھا تھا) کہ تم مردار کے چمڑے اور اس کے پٹھے سے نفع نہ اٹھاؤ۔ ( جامع ترمذی، سنن ابوداؤد سنن نسائی، سنن ابن ماجہ) تشریح اس حکم کا تعلق اس چمڑے اور پٹھے سے ہے جو دباغت نہ دیا گیا ہے یعنی دباغت سے پہلے چمڑے اور پٹھے کو استعمال میں لانا جائز نہیں ہے بلکہ چمڑے اور پٹھے کو دباغت دینے کے بعد استعمال کرنا اور ان سے منفعت حاصل کرنا جائز ہے۔ اکثر احادیث سے یہی ثابت ہے اور اکثر علماء کا مسلک بھی یہی ہے۔

476Mishkaat-al-Masabih

نجاستوں کے پاک کرنے کا بیان

وَعَنْ عَآئِشَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اَمَرَ اَنْ یُسْتَمْتَعَ بِجُلُوْدِ الْمَیْتَۃِ اِذَا بُغَتْ۔ (رواہ مالک و ابوداؤد)

اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا کہ مردار کے چمڑے سے دباغت کے بعد فائدہ اٹھایا جائے۔ ( مالک، سنن ابوداؤد) تشریح اس سے پہلے اسی باب کی حدیث نمبر ٩ کے فائدے میں بتایا جا چکا ہے کہ دباغت کے بعد مردار کے چمڑے سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے یعنی اس کو استعمال میں لایا جاسکتا ہے اور اس کی خریدو فروخت بھی کی جاسکتی ہے البتہ اس مسئلے میں امام مالک (رح) کی دو روایتیں ہیں مگر ان کا ظاہری قول یہ ہے کہ مردار کا چمڑا دباغت کے بعد پاک ہو تو جاتا ہے لیکن اسے خشک چیز میں اور پانی میں رکھنے کے لئے استعمال کا جاسکتا ہے پانی کے علاوہ دوسری پتلی اور سیال چیزوں کے لئے اسے استعمال نہ کیا جائے۔

477Mishkaat-al-Masabih

نجاستوں کے پاک کرنے کا بیان

وَعَنْ مَیْمُوْنَہَ قَالَتْ مَرَّ عَلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم رِجَالٌ مِنْ قُرَیْشٍ یَجُرُّوْنَ شَاۃً لَّھُمْ مِثْلَ الْحِمَارِ فَقَالَ لَھُمْ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم لَوْ اَخَذْ تُمْ اِھَا بَھَا قَالُوْا اِنَّھَا مَیْتَۃٌ فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یُطِھِّرُھَا لْمَآءُ وَالْقُرَظُ۔ (رواہ احمد و ابوداؤد)

اور حضرت میمونہ ؓ راوی ہیں کہ قریش کے چند آدمی اپنی ایک مری ہوئی بکری کو گدھے کی طرح کھینچتے ہوئے سرکار دو عالم ﷺ کے پاس سے گزرے، آپ ﷺ نے (یہ دیکھ کر) ان سے فرمایا کہ اے کاش! تم اس کے چمڑے کو اتار لیتے! (تو یہ کام آجاتا) انہوں نے عرض کیا کہ یہ تو مردار ہے (یعنی ذبح کی ہوئی نہیں ہے) آپ ﷺ نے فرمایا اسے کیکر کے پتے اور پانی پاک کردیتے ہیں (یعنی ان دونوں چیزوں کے ذریعے دباغت سے چمڑا پاک ہوجاتا ہے۔ (مسند احمد بن حنبل، سنن ابوداؤد) تشریح دباغت دینے کے کئی طریقے ہیں لیکن کیکر کے پتوں اور پانی سے دباغت کے بعد چمڑا خوب اچھی طرح پاک ہوجاتا ہے اس لئے آپ ﷺ نے بطور خاص ان دو چیزوں کا ذکر فرمایا۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ چمڑے کی دباغت و طہارت ان ہی پر موقوف نہیں ہے بلکہ دوسرے طریقوں مثلاً دھوپ وغیرہ سے دباغت و طہارت ہوجاتی ہے۔ البتہ یہ کہا جائے گا کہ اس حدیث کے پیش نظر کیکر کے پتوں اور پانی سے چمڑے کو دباغت دینا مستحب ہے۔

478Mishkaat-al-Masabih

نجاستوں کے پاک کرنے کا بیان

وَعَنْ سَلَمَۃَ بْنِ الْمُحَبِّقِ قَالَ اِنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم جَآءَ فِیْ غَزْوَۃِ تَبُوْکَ عَلٰی اَھْلِ بَیْتٍ فَاِذَا قِرْبَۃٌ مُعَلَّقَۃٌ فَسَأَلَ الْمَآءَ فَقَالُوْ ا لَہ، یَا رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اِنَّھَا مَیْتَۃٌ فَقَالَ دِبَاغُھَا طُھُوْرُھَا۔ (رواہ احمد بن حنبل و ابوداؤد)

حضرت سلمہ بن محبق ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ تبوک کی جنگ کے موقعہ پر ایک آدمی کے گھر تشریف لائے تو اچانک آپ ﷺ کی نظر ایک لٹکی ہوئی مشک پر پڑی آپ ﷺ نے پانی مانگا تو لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! یہ تو ( دباغت دی ہوئی) مردار کی کھال) ہے آپ ﷺ نے فرمایا دباغت نے اسے پاک کردیا ہے۔ (مسند احمد بن حنبل، سنن ابوداؤد)

479Mishkaat-al-Masabih

نجاستوں کے پاک کرنے کا بیان

عَنِ امْرَأَۃٍ مِنْ بَنِیْ عَبْدِالْاَشْھَلِ قَالَتْ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اِنَّ لَنَا طَرِیْقًا اِلَی الْمَسْجِدِ مُنْتِنَۃً فَکَیْفَ نَفْعَلُ اِذَا مُطِرْنَا قَالَتْ فَقَالَ اَلَیْسَ بَعْدَھَا طَرِیْقٌ ؟ ھِیَ اَطْیَبُ مِنْھَا قُلْتُ بَلٰی قَالَ فَھٰذِہٖ بِھٰذِہٖ۔ (رواہ ابوداؤد)

بنو عبدالاشہل کی ایک عورت کا بیان ہے کہ میں نے سرکار دو عالم ﷺ سے عرض کیا کہ رسول اللہ! مسجد میں آنے کا ہمار جو راستہ ہے وہ گندہ ہے جب بارش ہوجائے تو ہم کیا کریں؟ وہ کہتی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا کیا اس راستے کے بعد کوئی پاک صاف راستہ نہیں آتا؟ میں نے عرض کیا جی ہاں آپ ﷺ نے فرمایا یہ پاک راستہ اس ناپاک راستہ کے بدلے میں ہے۔ (ابوداؤد) تشریح اسی باب کی حدیث نمبر ١٣ میں اس مسئلہ کی وضاحت کی جا چکی ہے، یہاں بھی اس ارشاد کا یہ مطلب ہے کہ گندے اور ناپاک راستہ سے جو گندگی لگتی ہے وہ پاک و صاف راستہ پر چلنے کے بعد زمین کی رگڑ سے صاف و پاک ہوجاتی ہے، نیز یہاں بھی یہ ملحوظ رہے کہ آپ ﷺ کے اس ارشاد کا تعلق تن دار نجاست سے ہے کہ اگر گوبر وغیرہ قسم کی کوئی نجاست جوتے اور موزوں پر لگ جائے تو وہ اس طریقے سے صاف ہوجاتی ہے کیونکہ اگر پیشاب وغیرہ قسم کی نجاست جوتے موزے کپڑے یا بدن کے کسی حصے پر لگے تو اس کو ہر حال میں دھو کر ہی پاک کیا جائے گا اسی طرح موزے اور جوتے کے علاوہ اگر کپڑے پر تن دار نجاست لگے گی تو بغیر دھوئے کپڑا پاک نہیں ہوگا۔

480Mishkaat-al-Masabih

نجاستوں کے پاک کرنے کا بیان

وَعَنْ عَبْدِاﷲِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ کُنَّا نُصَلِّی مَعَ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم وَلَا نَتَوَضَّأُ مِنَ الْمَوْطِئِ۔ (رواہ الترمذی)

اور حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ ہم سرکار دو عالم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے تھے اور زمین پر چلنے (کی وجہ سے وضو نہ کرتے تھے۔ ( جامع ترمذی ) تشریح مطلب یہ ہے کہ ہم نماز پڑھنے کے لئے اپنے اپنے مکان سے وضو کر کے چلتے تھے اور مسجد آتے ہوئے ننگے پاؤں چلنے کی وجہ سے پاؤں پر یا جوتے اور موزوں پر جو نجاست و گندگی لگ جایا کرتی تھی اسے دھویا کرتے تھے۔ اس ارشاد کے بارے میں بھی یہی کہا جائے گا کہ اس کا تعلق خشک نجاست سے ہے، کہ اگر خشک گندگی مثلاً سوکھا گوبر وغیرہ پیروں پر جوتے و موزے پر لگ جاتا تو اس کو دھونے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی کیونکہ صاف زمین پر چلنے کی وجہ سے وہ پاک ہوجایا کرتا تھا اس سے عبداللہ بن مسعود ؓ کی یہ مراد ہے کہ راستہ چلتے وقت جو گرد و غبار پاؤں کو لگ جایا کرتی تھی اسے دھوتے تھے۔ تر نجاست مثلاً ًپیشاب وغیرہ کے بارے میں یہ پہلے ہی بتایا جا چکا ہے کہ اگر اس قسم کی کوئی نجاست و گندگی پاؤں وغیرہ پر لگ جائے تو تمام علماء کے نزدیک یہ متفق علیہ مسلم مسئلہ ہے کہ اسے دھویا جائے۔

481Mishkaat-al-Masabih

نجاستوں کے پاک کرنے کا بیان

وَعَنِ ابْن عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھَاقَالَ کَانَتْ الْکِلَابُ تُقْبِلُ وَ تُدْبِرُ فِی الْمَسْجِدِ فِی زَمانِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَلَمْ یَکُوْنُوْا یَرْشُوْنَ شَیْأاً مِن ذٰلِکَ۔(صحیح البخاری)

اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ کے زمانہ میں مسجد میں کتے آتے تھے اور صحابہ کرام ؓ ان کے آنے جانے کی وجہ سے کچھ بھی نہ دھوتے تھے۔ (صحیح البخاری ) تشریح شروع زمانہ اسلام میں دروازے نہیں ہوتے تھے جس کی وجہ سے مسجد کے اندر کتوں کی آمدورفت رہتی تھی اور چونکہ ان کے پاؤں خشک ہوتے تھے اس لئے کسی چیز کو دھونے کی ضرورت نہ ہوتی تھی جب مسجد میں دروازے لگنے لگے تو اس کی احتیاط ہونے لگی۔

482Mishkaat-al-Masabih

نجاستوں کے پاک کرنے کا بیان

وَعَنِ الْبَرَآءِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لاَ بَاْسَ بِبُوْلِ مَا یَوْکَلُ لَحْمُہ، وَفِیْ رِوَایَۃِ جَابِرٍ قَالَ مَا اُکِلَ لَحْمُہ، فَلَا بَأْسَ بِبَوْلِہٖ۔( رواہ احمد بن حنبل والدارقطنی)

اور حضرت براء ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ فرماتے تھے کہ جس چیز کا گوشت کھایا جائے اس کے پیشاب میں کچھ حرج نہیں۔ اور حضرت جابر ؓ کی روایت اس طرح ہے کہ جس جانور کا گوشت کھا یا جائے اس کے پیشاب میں کچھ حرج نہیں ہے۔ (مسند احمد بن حنبل و دارقطنی) تشریح اس حدیث کے ظاہر الفاظ سے حضرت امام مالک، حضرت امام احمد، حضرت امام محمد رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم اور بعض شوافع حضرات نے یہ مسئلہ مستنبط کیا ہے کہ جن جانوروں کے گوشت کھائے جاتے ہیں ان کا پیشاب پاک ہے لیکن حضرت امام اعظم ابوحنیفہ، حضرت امام ابویوسف اور تمام علماء رحمہم اللہ تعالیٰ علیہ کے نزدیک وہ نجس ہے، یہ حضرات فرماتے ہیں کہ اس حدیث کے مقابلے میں ایک حدیث عام وارد ہے کہ الحدیث ( اِسْتَنْزِ ھُوْا مِنَ الْبَوْلِ فَاِنَّ عَامَّۃَ عَذَابِ الْقَبْرِمِنْہُ ) یعنی پیشاب سے پاکی حاصل کرو اس لئے کہ عذاب قبر اکثر اسی سے ہوتا ہے) لہٰذا اس حدیث کی عمومیت کے پیش نظر ناپاک و نجس ثابت ہوا اس لئے اس احتیاط کا تقاضہ یہ ہے کہ جن جانوروں کے گوشت کھائے جاتے ہیں ان کے پیشاب کو بھی ناپاک کہا جائے۔

483Mishkaat-al-Masabih

موزوں پر مسح کرنے کا بیان

موزوں پر مسح کرنے کا جواز سنت اور آثار مشہورہ سے ثابت ہے بلکہ حفاظ حدیث کی ایک جماعت نے اس کی تصریح کی ہے کہ موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں منقول حدیث متواتر ہے اور بعض محدثین نے اس حدیث کے راوی صحابہ کرام ؓ کی تعداد بھی نقل کی ہے چناچہ اسی سے زیادہ صحابہ صحابہ کرام ؓ اس حدیث کو روایت کرتے ہیں جن میں عشرہ مبشرہ بھی شامل ہیںَ علامہ ابن عبدالبر (رح) فرماتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ علمائے سلف میں سے کسی نے اس سے انکار کیا ہو اور حضرت حسن بصری (رح) فرماتے ہیں کہ میں نے ستر ٧٠ صحابہ کرام کو اس مسئلہ پر اعتقاد رکھتے ہوئے پایا ہے حضرت امام کرخی (رح) کا قول ہے کہ جو آدمی موزوں پر مسح کرنے کو قبول نہ کرے یعنی اسے جائز نہ سمجھے مجھے اس کے کافر ہوجانے کا خوف ہے کیونکہ اس کے جواز میں جو احادیث منقول ہیں وہ حد تو اتر کو پہنچی ہوئی ہیں۔ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کا ارشاد ہے کہ میں موزوں پر مسح کرنے کا قائل اس وقت تک نہیں ہوا جب تک کہ اس کے جواز پر مشتمل احادیث آفتاب کی روشنی کی طرح مجھے نہ پہنچ گئیں۔ ان اقوال اور ارشادات سے یہ بات واضح ہوگئی کہ موزوں پر مسح کرنا جائز ہے، اس کے جواز میں کوئی شبہ کوئی شک اور کوئی کلام نہیں ہے۔ اب اس کے بعد یہ سمجھ لیجئے کہ موزوں پر مسح کرنا رخصت شریعت اسلامی کے مسائل و جزئیات پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ اسلام نے اپنے ماننے والوں کے لئے کتنی آسانیاں اور سہولتیں پیدا کی ہیں یہ حقیقت ہے کہ اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کی یہ بےپناہ شفقت و محبت ہی ہے جس نے عالمگیر اور سب سے سچے مذہب کو انسان کی عین فطرت و مزاج بنادیا ہے قدم قدم پر ایسے مسائل سے واسطہ پڑتا رہتا ہے جس میں اسلام اور شارع اسلام نے امت کو بہت زیادہ آسانیاں دی ہیں جن کے بغیر یقینا مسلمان مشکلات اور تکالیف میں مبتلا ہوجاتے کیونکہ سخت موقعوں پر مثلاً سردی کے موسم میں وضو کرنے کے وقت سب سے زیادہ تکلیف پاؤں کو دھونے ہی میں ہوتی ہے لیکن شریعت نے اس سختی اور تکلیف کے پیش نظر موزوں پر مسح کو جائز قرار دے کر امت پر ایک عظیم احسان کیا ہے)۔ یعنی آسانی ہے اور پاؤں کو دھونا عزیمت یعنی اولیٰ ہے ہدایہ میں لکھا ہے کہ جو آدمی موزوں پر مسح کرنے پر اعتقاد نہ رکھے وہ بدعتی ہے لیکن جو آدمی اس مسئلہ پر اعتقاد رکھتا ہے مگر عزیمت یعنی اولیٰ ہونے پر عمل کرنے کی وجہ سے موزوں پر مسح نہیں کرتا تو اسے ثواب سے نوازا جاتا ہے۔ مواہب لدنیہ میں منقول ہے کہ علماء کرام کے ہاں اس بارے میں اختلاف ہے کہ آیا موزوں پر مسح کرنا افضل ہے یا اسے اتار کر پاؤں کو دھونا افضل ہے؟ چناچہ بعض حضرات کی رائے تو یہ ہے کہ موزوں پر مسح کرنا ہی افضل ہے کیونکہ اس سے اہل بدعت یعنی روافض و خوارج کا رد ہوتا ہے جو اس مسئلہ میں طعن وتشنیع کرتے ہیں، حضرت امام احمد (رح) کا مختار مسلک یہی ہے اور امام نووی (رح) نے کہا ہے کہ ہمارے علماء کرام یعنی حضرات شوافع کا مسلک یہ ہے کہ پاؤں کو دھونا افضل ہے کیونکہ اصل یہی ہے لیکن اس کے ساتھ شرط یہ ہے کہ موزوں پر مسح کرنے کو بالکل ترک نہ کیا جائے۔ صاحب سفر السعادۃ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو دونوں میں کوئی تکلف نہیں تھا، یعنی اگر آپ ﷺ موزہ پہنے ہوتے تھے تو پاؤں دھونے کے لئے انہیں اتارتے نہیں تھے اور اگر موزہ پہنے ہوئے نہیں ہوتے تھے تو مسح کرنے کے لئے انہیں پہنتے نہ تھے، اس بارے میں علماء کرام کے ہاں اختلاف ہے مگر بہتر اور صحیح طریقہ یہی ہے کہ ہر آدمی کو چاہئے کہ وہ اس مسئلہ میں سنت کے موافق ہی عمل کرے یعنی سرکار دو عالم ﷺ کا جو تعامل ذکر کیا گیا ہے اسی طرح تمام مسلمان بےتکلفی کے ساتھ اس پر عمل کریں۔

484Mishkaat-al-Masabih

موزوں پر مسح کرنے کا بیان

عَنْ شُرَےْحِ بْنِ ھَانِئٍص قَالَ سَاَلْتُ عَلِیَّ بْنَ اَبِیْ طَالِبٍ عَنِ الْمَسْحِ عَلَی الْخُفَّےْنِ فَقَالَ جَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ثَلٰثَۃَ اَےَّامٍ وَّلَےَالِےَھُنَّ لِلْمُسَافِرِ وَےَوْمًا وَلَےْلَۃً لِّلْمُقِےْمِ۔ (صحیح مسلم)

حضرت شریح بن ہانی ؓ راوی ہیں کہ میں نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ سرکار دو عالم ﷺ نے مسافر کے لئے تین دن اور تین راتیں اور مقیم کے لئے اک دن اور ایک رات کی مدت مقرر فرمائی ہے۔ (صحیح مسلم) تشریح مسافر کے لئے موزوں پر مسح کرنے کی مدت تین دن تین راتیں ہے یعنی وہ تین دن اور تین راتوں تک وضو کے وقت اپنے موزوں پر مسح کرسکتا ہے اور مقیم کے لئے مسح کی مدت ایک دن اور ایک رات ہے یعنی وہ ایک دن اور ایک رات تک وضو کے وقت اپنے موزوں پر مسح کرسکتا ہے اور مقیم کے لئے مسح کی مدت کی ابتداء جمہور علماء کے نزدیک اس وقت ہوگی جب کے وضو ٹوٹ جائے مثلاً ایک مقیم آدمی نے دوپہر کو وضو کرنے کے بعد موزہ پہنا اور شام کو اس کا وضو ٹوٹ گیا تو مسح کی مدت کی ابتداء شام ہی سے ہوگی یعنی وہ اگلے دن شام تک اپنے موزوں پر مسح کرسکتا ہے۔

485Mishkaat-al-Masabih

موزوں پر مسح کرنے کا بیان

وَعَنِ الْمُغِےْرَۃِ ص بْنِ شُعْبَۃَ اَنَّہُ غَزَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم غَزْوَۃَ تَبُوْکَ قَالَ الْمُغِےْرَۃُ فَتَبَرَّزَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم قِبَلَ الْغَائِطِ فَحَمَلْتُ مَعَہ، اِدَاوَۃً قَبْلَ الْفَجْرِ فَلَمَّا رَجَعَ اَخَذْتُ اُھْرِےْقُ عَلَی ےَدَےْہِ مِنَ الْاِدَاوَۃِ فَغَسَلَ ےَدَےْہِ وَوَجْھَہُ وَعَلَےْہِ جُبَّۃٌ مِّنْ صُوْفٍ ذَھَبَ ےَحْسُرُ عَنْ ذِرَاعَےْہِ فَضَاقَ کُمُّ الْجُبَّۃِ فَاَخْرَجَ ےَدَےْہِ مِنْ تَحْتِ الْجُبَّۃِ وَاَلْقَی الْجُبَّۃَ عَلٰی مَنْکِبَےْہِ وَغَسَلَ ذِرَاعَےْہِ ثُمَّ مَسَحَ بِنَاصِےَتِہٖ وَعَلَی الْعِمَامَۃِ ثُمَّ اَھْوَےْتُ لِاَنْزِعَ خُفَّےْہِ فَقَالَ دَعْھُمَا فَاِنِّی اَدْخَلْتُھُمَا طَاہِرَتَےْنِ فَمَسَحَ عَلَےْھِمَا ثُمَّ رَکِبَ وَرَکِبْتُ فَانْتَھَےْنَا اِلَی الْقَوْمِ وَقَدْ قَامُوْا اِلَی الصَّلٰوۃِ وَےُصَلِّیْ بِھِمْ عَبْدُالرَّحْمٰنِ بْنُ عَوْفٍ وَّقَدْ رَکَعَ بِھِمْ رَکْعَۃً فَلَمَّا اَحَسَّ بِاالنَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم ذَہَبَ ےَتَاَخَّرُ فَاَوْمٰی اِلَےْہِ فَاَدْرَکَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم اِحْدَی الرَّکْعَتَےْنِ مَعَہُ فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم وَقُمْتُ مَعَہُ فَرَکَعْنَا الرَّکْعَۃَ الَّتِیْ سَبَقَتْنَا ۔(صحیح مسلم)۔

اور حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ غزوہ تبوک میں شرکت کی چناچہ وہ فرماتے ہیں کہ (اسی دوران ایک روز) فجر سے پہلے سرکار دو عالم ﷺ پاخانے کے لئے باہر تشریف لے گئے ہیں میں پانی کا لوٹا لے کر آپ ﷺ کے ہمراہ ہو لیا جب آپ ﷺ (پاخانے سے) واپس تشریف لائے (اور وضو کرنے کے لئے بیٹھے) تو میں نے آپ ﷺ کے ہاتھوں پر پانی ڈالنا شروع کیا چناچہ آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ دھوئے اور منہ دھویا آپ ﷺ ایک اونی جبہ پہنے ہوئے تھے اس کی آستینیں چڑھانی چاہیں لیکن آستینیں تنگ تھیں (اس لئے چڑھ نہ سکیں) آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو جبے کے اندر سے نکال کر جبے کو کندھوں پر رکھا اور کہنیوں تک دھو کر چوتھائی سر کا اور پگڑی کا مسح کیا پھر (جب) میں نے آپ ﷺ کے موزے اتارنے کا ارادہ کیا تاکہ آپ ﷺ پاؤں دھولیں (تو) آپ ﷺ نے فرمایا کہ انہیں چھوڑ دو کیونکہ میں نے (پاؤں کی) پاکی کی حالت میں انہیں پہنا تھا (یعنی وضو کرنے کے بعد پہنا تھا) اور آپ ﷺ نے دونوں موزوں پر مسح کیا، پھر آپ ﷺ اور میں دونوں سوار ہو کر واپس لوگوں کے پاس آئے تو (فجر کی) نماز کے لئے جماعت کھڑی ہوگئی تھی اور حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ نماز پڑھا رہے تھے اور ایک رکعت پڑھا بھی چکے تھے جب انہیں رسول اللہ ﷺ کی تشریف آوری کا احساس ہوا تو وہ پیچھے ہٹنے لگے (تاکہ رسول اللہ ﷺ امامت کریں) مگر رسول اللہ ﷺ نے انہیں اشارہ کیا ( کہ اپنی جگہ کھڑے رہو اور نماز پڑھائے جاؤ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے ایک رکعت نماز ان کے ساتھ ہی پڑھی (یعنی آپ ﷺ نے دوسری رکعت حضرت عبدا لرحمن کی اقتداء میں ادا کی) جب انہوں نے سلام پھیرا تو آپ ﷺ کھڑے ہوگئے اور میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ کھڑا ہوگیا اور جو پہلی رکعت رہ گئی تھی ہم نے اسے پڑھ لیا۔ (صحیح مسلم) تشریح راوی نے رسول اللہ ﷺ کے وضو کا ذکر کیا ہے مگر کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کا ذکر نہیں کیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ یا تو راوی کے پیش نظر اختصار تھا اس لئے انہوں نے ان دونوں چیزوں کا ذکر کرنا ضروری نہیں سمجھایا یہ کہ راوی اس کا ذکر کرنے کو بھول گئے ہوں گے، یا پھر اس لئے ذکر نہیں کیا کہ یہ دونوں چیزیں بھی منہ کی حد میں آجاتی ہیں اس لئے صرف منہ دھونے کا ذکر کافی سمجھا۔ پگڑی پر مسح کرنے کے معنی یہ ہیں کہ آپ ﷺ نے چوتھائی سر پر مسح کرنے کے بعد تمام سر پر مسح کرنے کے بجائے پگڑی پر مسح کرلیا تاکہ تمام سر پر مسح کرنے کی سنت ادا ہوجائے اس کی وضاحت باب الوضو میں بھی کی جا چکی ہے (دیکھے باب سنن الوضو کی حدیث نمبر ٨) بہر حال اس حدیث سے پانچ چیزیں ثابت ہوتی ہیں (١) رسول اللہ ﷺ فجر سے پہلے قضائے حاجت کے لئے تشریف لے گئے اس سے یہ ثابت ہوا کہ عبادت مثلاً نماز وغیرہ کا وقت شروع ہونے سے پہلے اس عبادت کے لئے تیاری کرنا مستحب ہے۔ (٢) حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ نے وضو کے وقت آپ ﷺ کے اعضائے وضو پر پانی ڈالا اس سے معلوم ہوا کہ اگر دوسرا آدمی وضو کرائے تو جائز ہے۔ (٣) جب آپ ﷺ قضائے حاجت اور وضو سے فارغ ہو کر تشریف لائے تو حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے جب انہوں نے بتقاضائے ادب پیچھے ہٹنا چاہا تاکہ رسول اللہ امامت فرمائیں تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں روک دیا اور خود بھی آخری رکعت انہیں کی اقتداء میں پڑھی اس سے معلوم ہوا کہ ایک افضل آدمی نماز میں اگر اپنے سے کم درجہ آدمی کی اقتداء کرے تو یہ جائز ہے نیز یہ بھی ثابت ہوا کہ نماز کے لئے امام کا معصوم (بےگناہ) ہونا شرط نہیں ہے۔ اس سے اس فرقہ امامیہ کا رد ہوتا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ امام کا معصوم ہونا شرط ہے۔ (٤) حدیث کے آخری الفاظ سے یہ ثابت ہوا کہ جس آدمی کی کوئی رکعت امام کے ساتھ پڑھنے سے چھوٹ جائے تو اس کی ادائیگی کے لئے اسے اس وقت اٹھنا چاہئے جب کہ امام سلام پھیر لے چناچہ حضرت امام شافعی (رح) کے نزدیک تو چھوٹی ہوئی رکعت کو ادا کرنے کے لئے امام کے سلام پھیرنے سے پہلے اٹھنا جائز ہی نہیں اور علمائے حنفیہ کے نزدیک سلام پھیرنے سے پہلے اٹھنا مکر وہ تحریمی ہے۔ مگر اس صورت میں جب کہ یہ خوف ہو کہ اگر امام کے سلام کا انتظار کیا جائے گا تو نماز فاسد ہوجائے گی تو پہلے بھی اٹھنا جائز ہے مثلا فجر کی نماز میں امام ایک رکعت پہلے پڑھا چکا تھا ایک آدمی دوسری رکعت میں آکر شامل ہوا اب اسے ایک رکعت بعد میں ادا کرنی ہے مگر صورت حال یہ ہے کہ اگر وہ امام کے سلام پھیرنے کا انتظار کرتا ہے تو اسے خوف ہے کہ سورج طلوع ہوجائے گا جس کے نتیجہ میں نماز فاسد ہوجائے گی لہٰذا اس کے لئے جائز یہ ہوگا کہ وہ امام کے سلام پھیرنے سے پہلے اٹھ جائے اور نماز پوری کرلے اس مسئلہ کی وضاحت فقہ کی کتابوں میں خوب اچھی طرح کی گئی ہے اس کی تفصیل وہاں دیکھی جاسکتی ہے۔ (٥) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جماعت کے وقت اگر امام موجود نہ ہو اور اس کے آنے میں دیر ہو اور یہ معلوم نہ ہو کہ وہ کب آئے گا تو یہ مستحب ہے کہ امام کا انتظار نہ کیا جائے بلکہ کوئی دوسرا آدمی نماز پڑھانی شروع کر دے اور اگر امام کے آنے کا وقت معلوم ہو تو اس صورت میں اس کا انتظار کرنا مستحب ہے اور اگر امام کا مکان قریب مسجد ہو تو اسے جماعت کا وقت ہوجانے پر مطلع کرنا مستحب ہے۔

486Mishkaat-al-Masabih

موزوں پر مسح کرنے کا بیان

عَنْ اَبِیْ بَکْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم اَنَّہ، رَخَّصَ لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ وَلَیَا لِیُھُنَّ وَلِلْمُقِیْمِ یَوْمًا وَلَیْلَۃً اِذَا تَطَھَّرَ فَلَبِسَ خُفَّیْہِ اَنْ یَمْسَحَ عَلَیْھِمَا۔ (رَوَاہُ الْاَ ثْرَمُ فِیْ سُننِہٖ وَابْنُ خُزَیْمَۃَ وَالدَّارَ قُطْنِیُّ وَقَالَ الْخُطَّابِیُّ ھُوَ صَحِیْح الْاِ سْنَادِ ھٰکَذَا فِی الْمُنْتَقِیْ)

حضرت ابی بکرہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے موزوں پر مسح کرنے کی اجازت مسافر کو تین دن اور تین راتوں تک اور مقیم کو ایک دن اور ایک رات تک دی ہے جب کہ انہوں نے موزوں کو وضو کے بعد پہنا ہو۔ (ابن خزیمہ دارقطنی) اور خطابی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ حدیث اسناد کی رو سے صحیح ہے منتقیٰ میں (بھی جو ابن تیمیہ حنبلی کی کتاب ہے) اسی طرح منقول ہے)۔