موزوں پر مسح کرنے کا بیان
وَعَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَاْ مُرُنَا اِذَا کُنَّا سَفْرً ا اَنْ لَّا نَنْزِعَ خِفَا فَنَا ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ وَلَیَا لِیَھُنَّ اِلَّا مِنْ جَنَابَۃٍ وَّلٰکِنْ مِنْ غَائِطٍ وَبَوْلٍ وَّنَوْمٍ۔ (رواہ الترمذی و النسائی )
اور حضرت صفوان بن عسال ؓ فرماتے ہیں کہ جب ہم سفر میں ہوتے تھے تو سرکار دو عالم ﷺ ہمیں حکم دیتے تھے کہ تین دن اور تین راتوں تک (وضو کرنے کے وقت پاؤں کو (دھونے کے لئے) موزے نہ اتارے جائیں، نہ پاخانے کی وجہ سے نہ پیشاب کی وجہ سے نہ سونے کی وجہ سے البتہ جنابت کی وجہ سے (یعنی غسل واجب ہونے کی صورت میں نہانے کے لئے اتارے جائیں۔ (جامع ترمذی، سنن نسائی)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ سو کر اٹھنے یا پیشاب و پاخانے کے بعد وضو کرنے کی صورت میں اس مدت تک جو مسافر یا مقیم کے لئے ہے پاؤں کو دھونے کے لئے موزوں کو اتارنا نہیں چاہئے بلکہ موزوں پر مسح کرلیا جائے اور جنابت کی حالت میں یعنی جب غسل واجب ہوجائے تو نہانے کے لئے موزے اتارنے ضروری ہیں کیونکہ اس حالت میں موزوں پر مسح درست نہیں ہے۔
موزوں پر مسح کرنے کا بیان
وَعَنِ الْمُغَیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ قَالَ وَضَّأْتُ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم فِیْ غَزْوَۃِ تَبُوْکَ فَمَسَحَ اَعْلَی الْخُفِّ وَاَسْفَلَہ،۔ (رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ وَ التِّرْمِذِیُّ وَ ابْنُ مَاجَۃَ وَقاَلَ التِّرمِذِیُّ ھٰذَا الْحَدِیْثُ مَعْلُوْلٌ وَ سَأَلْتُ اَبَازُرْعَۃَ وَمُحَمَّدً یَعْنِی الْبُخَارِیَّ عَنْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ فَقَالَ لَیْسَ بِصَحِیْحٍ وَکَذَا ضَعَّفَّہ، اَبُوْدَاؤدَ)
اور حضرت مغیرہ ابن شعبہ ؓ راوی ہیں کہ میں نے غزوہ تبوک میں سرکار دو عالم ﷺ کو وضو کرایا تھا اور آپ ﷺ نے موزوں کے نیچے اور اوپر مسح کرلیا۔ (سنن ابوداؤد، سنن ابن ماجہ) اور حضرت امام ترمذی (رح) نے فرمایا ہے کہ یہ حدیث معلول ہے، نیز میں نے اس حدیث کے بارے میں ابوزرعہ اور محمد یعنی محمد بن اسماعیل بخاری سے پوچھا تو دونوں نے کہا یہ حدیث صحیح نہیں ہے اسی طرح امام ابوداؤد (رح) نے بھی اس حدیث کو ضعیف کہا ہے)
تشریح
حضرت امام مالک اور حضرت امام شافعی رحمہما اللہ تعالیٰ علیہما کے نزدیک پشت قدم یعنی موزے کے اوپر مسح کرنا واجب ہے اور موزے کے نیچے یعنی تلوے پر مسح کرنا سنت ہے لیکن حضرت امام ابوحنیفہ اور حضرت امام احمد رحمہما اللہ تعالیٰ علیہما کا مسلک یہ ہے کہ مسح فقط پشت قدم یعنی موزے کے اوپر کیا جائے یہ دونوں حضرات فرماتے ہیں کہ یہ حدیث جس سے موزے کے دونوں طرف مسح کرنے کا اثبات ہو رہا ہے خود معیار صحت کو پہنچی ہوئی نہیں ہے کیونکہ علماء کرام نے اس کی صحت بارے کلام کیا ہے۔ نیز ایسی احادیث بہت زیادہ منقول ہیں جو اس حدیث کے بالکل برعکس ہیں اور جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسح فقط پشت پر کیا جائے لہٰذا عمل اس ہی حدیث پر کیا جائے گا۔ محدثین کی اصطلاح میں حدیث معلول اس حدیث کو کہتے ہیں جس میں ایسا سبب پوشیدہ ہو جو اس بات کا مقتضی ہو کہ اس حدیث کے مطابق عمل نہ کیا جائے۔ اس حدیث کے ضعیف ہونے کی دو وجوہات ہیں۔ اول تو یہ کہ حضرت مغیرہ ؓ تک اس حدیث کی سند کا پہنچنا ثابت نہیں ہے بلکہ اس کی سند بولاو تک جو مغیرہ کے مولیٰ اور کاتب تھے پہنچتی ہے، دوسری وجہ ہے کہ اس حدیث کو ثور ابن یزید نے رجاء ابن حیوۃ سے روایت کیا ہے اور رجاء ابن حیوۃ نے حضرت مغیرہ ؓ کے کاتب سے روایت کیا ہے حالانکہ رجاء سے ثور کا سماع ثابت نہیں ہے پھر ایک سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ مضمون جو (حدیث نمبر ٢) حضرت مغیرہ ؓ سے مختلف سندوں کے ساتھ منقول ہے اور جو معیار صحت کو پہنچی ہوئی ہے اس میں مطلقاً اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ آپ ﷺ نے موزوں پر مسح کیا تھا، اوپر نیچے مسح کرنے کی کوئی وضاحت منقول نہیں ہے پھر حضرت مغیرہ ؓ کی ایک اور روایت اس کے بعد آرہی ہے اس میں صراحت کے ساتھ یہ منقول ہے کہ آپ ﷺ نے موزوں کے اوپر مسح کیا۔ لہٰذا معلوم یہ ہوا کہ اس حدیث میں اضطراب ہے اور یہ وہ اسباب ہیں کہ جس کی وجہ سے اس حدیث کو ضعیف کہا جاتا ہے۔
موزوں پر مسح کرنے کا بیان
وَعَنْہُ اَنَّہ، قَالَ رَاَیْتُ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم یَمْسَحُ عَلَی الْخُفَّیْنِ عَلٰی ظَاھِرِ ھِمَا۔ (رواہ الترمذی و ابوداؤد)
اور حضرت مغیرہ ابن شعبہ ؓ راوی ہیں کہ میں نے سرکار دو عالم ﷺ کو موزوں کے اوپر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ (جامع ترمذی و سنن ابوداؤد)
تشریح
موزے پر مسح کا طریقہ یہ ہے کہ دائیں ہاتھ کی انگلیاں دائیں پاؤں کے پنجے پر بائیں ہاتھ کی انگلیاں بائیں کے پنجے پر رکھی جائیں پھر ان کو کھینچتے ہوئے ٹخنوں کے اوپر تک لایا جائے اس سلسلے میں اس کا خیال رہے کہ انگلیاں کشادہ رکھی جائیں آپس میں ملی ہوئی نہ ہوں۔ موزوں پر مسح کرنے کا مسنون طریقہ تو یہی ہے اور اگر کسی نے انگلی سے تین مرتبہ اس طرح مسح کیا کہ ہر مر تبہ تازہ پانی لیتا رہا اور ہر مرتبہ نئی جگہ پھیرتا رہا تو مسح جائز ہوگا ورنہ نہیں ان کے علاوہ بہت سے طریقے فقہ کی کتابوں میں لکھے ہوئی ہیں تفصیل وہاں دیکھی جاسکتی ہے۔
موزوں پر مسح کرنے کا بیان
وَعَنْہُ قَالَ تَوَضَّاَ اَلنَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم وَمَسَحَ عَلَی الْجَوْرَبَیْنِ وَالنَّعْلَیْنِ۔( احمد بن حنبل الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجۃ)
اور حضرت مغیرہ ابن شعبہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے وضو کیا اور نعلین کے ساتھ جو ربین پر مسح کیا۔ (مسند احمد بن حنبل و جامع ترمذی، سنن ابوداؤد، سنن ابن ماجہ)
تشریح
قاموس میں لکھا ہے کہ جو رب پاؤں کے لفافے کو کہتے ہیں جیسے ہمارے ہاں جراب یا موزہ کہلاتا ہے اس کی کئی قسمیں ہوتی ہیں اس کی تفصیل چلپی میں بڑی وضاحت سے مذکور ہے یہاں اس کے بعض احکام و مسائل لکھے جاتے ہیں۔ حنفی مسلک میں جو ربین یعنی موزوں پر مسح اس وقت درست ہوگا جب کہ وہ مجلد ہوں یعنی ان کے اوپر نیچے چمڑا لگا ہوا ہو، منعل ہوں یعنی فقط نیچے ہی چمڑا ہو اور مثخنین ہوں۔ ثخنین اس موزے کو کہتے ہیں جس کو پہن کر ایک فرسخ چلا جاسکے اور وہ بغیر باندھے ہوئے پنڈلی پر رکا رہے نیز اس کے اندر کا کوئی حصہ نہ دکھلائی دے اور نہ اس کے اندر پانی چھن سکتا ہو چلپی کی عبارت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اگر جو ربین منعلین بغیر ثخنین ہوں گے تو اس پر مسح جائز نہیں ہوگا لہٰذا منعلین پر مسح اسی وقت درست ہوگا جب کہ ثخنین بھی ہوں۔ چونکہ حضرت امام شافعی (رح) کے نزدیک جو رب پر مسح درست نہیں خواہ وہ منحل ہی کیوں نہ ہو اس لئے یہ حدیث حنفیہ کی جانب سے ان پر حجت ہے جس سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جو رب پر مسح فرمایا ہے نیز حضرت علی المرتضیٰ، حضرت عبداللہ ابن مسعود، حضرت انس ابن مالک اور حضرت عمر بن خطاب ؓ کے بارے میں بھی منقول ہے کہ ان حضرات نے اس پر مسح کیا ہے۔ آخر حدیث میں جو یہ فرمایا گیا ہے کہ آپ نے نعلین کے ساتھ جو ربین پر مسح کیا تو یہاں نعلین کے مفہوم کے تعین میں دو احتمال ہیں اول تو یہ کہ اس سے جوتے مراد ہیں آپ ﷺ نے جو ربین پر جوتوں کے ساتھ مسح کیا چونکہ عرب میں اس وقت ایسے جوتے استعمال ہوتے تھے جو بالکل چپل کی طرح ہوتے تھے اور ان پر اس طرح تسمہ لگا رہتا تھا کہ انہیں پہننے کے بعد پاؤں کے اوپر کا حصہ کھلا رہتا تھا جس کی وجہ سے موزوں پر مسح کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی تھی۔ یا پھر اس سے یہ مراد ہے کہ آپ ﷺ نے ان جو ربین پر مسح کیا جن کے نیچے چمڑا لگا ہوا تھا
موزوں پر مسح کرنے کا بیان
عَنِ الْمُغَیْرَۃِ قَالَ مَسَحَ رَسُوْلُ اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم عَلَی الْخُفَّیْنِ فَقُلْتُ یَا رَسُوْلَ اﷲِ نَسِیْتَ قَالَ بَلْ اَنْتَ نَسِیْتَ بِھٰذَا اَمَرْ نِیْ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ۔ (رواہ احمد بن حنبل و ابوداؤد)
حضرت مغیرہ ابن شعبہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے موزوں پر مسح کیا (یہ دیکھ کر) میں نے عرض کیا آپ ﷺ بھول گئے ہیں (یعنی موزے اتار کر پاؤں نہیں دھوئے) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نہیں! بلکہ تم بھول گئے) کہ میری طرف نسیان کی نسبت کر رہے ہو کیونکہ اللہ بزرگ و برتر نے مجھے اسی طرح حکم دیا ہے۔ (مسند احمد بن حنبل، سنن ابوداؤد)
موزوں پر مسح کرنے کا بیان
وَعَنْ عَلِیٍّ اَنَّہ، قَالَ لَوْ کَانَ الدِّیْنُ بِالرَّاْیِ لَکَانَ اَسْفَلُ الْخُفِّ اَوْلٰی بِالْمَسْحِ مِنْ اَعْلَاہُ وَقَدْ رَاَیْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَمْسَحُ عَلٰی ظَاھِرِ خُفَّیْہِ۔ (رواہ ابوداود وللدارمی معناہ)
اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ اگر دین (صرف) رائے اور عقل ہی پر موقوف ہوتا تو واقعی موزوں کے اوپر مسح کرنے سے نیچے مسح کرنا بہتر ہوتا اور میں نے خود سرکار دو عالم ﷺ کو موزوں کے اوپر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ (ابوداؤد و دارمی)
تشریح
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ ناپاکی اور گندگی چونکہ موزوں کے نیچے کی جانب لگ سکتی ہے اس لئے عقل یہی تقاضا کرتی ہے کہ جس طرف ناپاکی اور گندگی لگنے کا شبہ ہو اسی طرف پاکی اور ستھرائی کے لئے مسح بھی کرنا چاہئے مگر چونکہ شرع میں صراحتہ یہ آگیا ہے کہ مسح اوپر کی جانب کرنا چاہئے اس لئے اب عقل کو دخل دینے کی کوئی گنجائش نہیں رہی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ شریعت کے مسائل و احکام میں عقل کو دخل نہیں دینا چاہئے کیونکہ عقل کامل شریعت کے تابع ہوتی ہے اس لئے کہ اللہ کی حکمتوں اور اس کے مراد و مفہوم معلوم کرنے میں عقل مطلقاً عاجز ہوتی ہے لہٰذا عاقل کو چاہئے کہ وہ پہر نوع شریعت کا تابع و پابند بن کر رہے عقل کا تابع نہ بنے اس لئے کہ کفار اور اکثر فلاسفہ و حکماء اور اہل ہوا و ہوس اپنی عقلوں پر بھروسہ و پندار کرنے کے سبب اور عقلوں کے تابع ہونے ہی کی وجہ سے گمراہی و ضلالت کے غار میں گرے ہیں۔ چونکہ اس باب کی یہ آخری حدیث ہے اس لئے مناسب ہے کہ اس کے ضمن میں مسح سے متعلق چند مسائل ذکر کئے جائیں۔ (١) اگر موزہ کسی جگہ سے پاؤں کی تین چھوٹی انگلیوں کے برابر پھٹ جائے تو اس پر مسح درست نہیں ہوتا، اس طرح اگر ایک موزہ تھوڑا تھوڑا کر کے کئی جگہ سے اتنی مقدار میں پھٹ جائے کہ اگر ان سب کو جمع کیا جائے تو وہ تین اگلیوں کے برابر ہو تو اس پر بھی مسح درست نہیں ہوتا اور اگر دونوں موزے تھوڑے تھوڑے اتنی مقدار میں پھٹے ہوں کہ اگر انہیں جمع کیا جائے تو وہ تین انگلیوں کے برابر ہو تو اس کا اعتبار نہیں ہوگا بلکہ ان پر مسح درست ہوگا۔ (٢) جن چیزوں سے وضو ٹوٹتا ہے ان سے مسح بھی ٹوٹ جاتا ہے۔ (٣) حدث کے بعد موزہ اتارنے سے مسح ٹوٹ جاتا ہے۔ (٤) مسح کی مدت ختم ہوجانے کے بعد مسح ٹوٹ جاتا ہے بشرطیکہ سردی کی وجہ سے پاؤں کے ضائع ہونے کا خوف نہ ہو، یعنی اگر سردی کی شدت اور کسی بیماری کی وجہ سے یہ خوف ہو کہ موزہ اتارنے سے پاؤں ضائع ہوجائے گا تو مسح کی مدت ختم ہونے کے بعد مسح نہیں ٹوٹے گا جب تک خوف باقی رہے گا مسح بھی باقی رہے گا۔ (٥) اگر موزہ اتارنے یا مدت ختم ہونے کی وجہ سے مسح ٹوٹ جائے اور وضو باقی ہو تو ایسی شکل میں از سر نو وضو کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ صرف پاؤں دھو کر موزہ پہن لینا کافی ہوگا۔ (٦) اگر آدھے سے زیادہ پاؤں موزے سے باہر نکل آئے تو بھی مسح ٹوٹ جاتا ہے۔ (٧) اگر مقیم نے مسح کیا اور ایک رات اور ایک دن گزرنے سے پہلے مسافر ہوگیا وہ مسح کے لئے سفر کی مدت پوری کرے یعنی تین دن اور تین رات تک مسح کرتا رہے، اسی طرح اگر مسافر نے مسح کیا اور پھر وہ مقیم ہوگیا تو اسے چاہئے کہ ایک دن ایک رات کے بعد موزہ اتار دے کیونکہ اس کی مدت پوری ہوگئی ہے۔ (٨) اگر کوئی معذور مثلاً ظہر کے وقت وضو کر کے موزہ پہنے تو جس عذر کی وجہ سے وہ معذور ہے اس کے علاوہ کسی دوسری چیز سے اس کا وضو ٹوٹ جائے تو اس کے لئے مسح کی مدت میں موزوں پر مسح کرنا جائز ہوگا اور پھر مسح کی مدت ختم ہوجانے کے بعد مسح ٹوٹ جائے گا۔