نماز جنازہ میں امام کے کھڑے ہونے کی جگہ کا مسئلہ
وعن نافع أبي غالب قال : صليت مع أنس بن مالك على جنازة رجل فقام حيال رأسه ثم جاؤوا بجنازة امرأة من قريش فقالوا : يا أبا حمزة صل عليها فقام حيال وسط السرير فقال له العلاء بن زياد : هكذا رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم قام على الجنازة مقامك منها ؟ ومن الرجل مقامك منه ؟ قال : نعم . رواه الترمذي وابن ماجه وفي رواية أبي داود نحوه مع زيادة وفيه : فقام عند عجيزة المرأة
حضرت نافعی (رح) جن کی کنیت ابوغالب ہے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک ؓ کے ساتھ ایک جنازہ (یعنی حضرت عبداللہ بن عمر کے جنازہ) کی نماز پڑھی، حضرت انس (جو امام تھے) جنازہ کے سر کے سامنے کھڑے ہوئے اور نماز پڑھائی پھر لوگ قریش کی ایک عورت کا جنازہ لے کر آئے اور کہا اے ابوحمزہ! (یہ انس کی کنیت ہے) اس جنازہ کی نماز پڑھا دیجئے چناچہ حضرت انس تخت ( کہ جس پر جنازہ تھا) کے درمیانی حصہ کے سامنے کھڑے ہوئے (اور نماز پڑھائی یہ دیکھ کر) علاء بن زیاد نے کہا کہ کیا آپ نے رسول کریم ﷺ کو (نماز جنازہ میں) اسی طرح کھڑے ہوتے دیکھا ہے جیسا کہ آپ اس عورت کے جنازہ کے درمیان اور مرد کے جنازہ کے سر کے سامنے کھڑے ہوئے تھے؟ یعنی کیا آنحضرت ﷺ بھی نماز جنازہ پڑھاتے وقت عورت کے جنازہ پر اس کے درمیانی حصہ کے سامنے اور مرد کے جنازہ پر اس کے سر کے سامنے کھڑے ہوتے تھے؟ حضرت انس نے فرمایا ہاں! ابوداؤد نے بھی اس روایت کو کچھ زیادتی کے ساتھ نقل کیا ہے اور ان کی روایت میں فقام حیال وسط السریر کے بجائے فقام عند عجیزۃ المرأۃ (عورت کے جنازہ پر اس کے کو لھے کے قریب کھڑے ہوئے) کے الفاظ منقول ہیں۔ (ترمذی وابن ماجہ)
تشریح
اس مسئلہ میں کہ نماز جنازہ میں امام جنازہ کے پاس کہاں کھڑا ہو؟ جو اختلاف ہے اور ائمہ دین کے جو مسلک ہیں اس کو پوری تفصیل اور وضاحت کے ساتھ گزشتہ صفحات میں پہلی فصل کی ایک حدیث کی تشریح کے ضمن میں بیان کی جا چکا ہے۔
جنازہ کو دیکھ کر کھڑے ہونے کا مسئلہ
عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال : كان ابن حنيف وقيس ابن سعد قاعدين بالقادسية فمر عليهما بجنازة فقاما فقيل لهما : إنها من أهل الأرض أي من أهل الذمة فقالا : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم مرت به جنازة فقام فقيل له : إنها جنازة يهودي . فقال : أليست نفسا ؟
حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں کہ (ایک دن) حضرت سہل ابن حنیف اور حضرت قیس بن سعد ؓ قادسیہ میں (ایک جگہ) بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے سامنے سے ایک جنازہ گزرا جسے دیکھ کر یہ دونوں صحابی کھڑے ہوگئے ان سے کہا گیا کہ یہ جنازہ اہل زمین یعنی ذمی کا ہے؟ دونوں صحابہ نے فرمایا کہ (اسی طرح ایک دن) رسول کریم ﷺ کے سامنے سے ایک جنازہ گزرا، آپ (اسے دیکھ کر) کھڑے ہوگئے، آپ سے عرض کیا گیا کہ یہ تو ایک یہودی کا جنازہ ہے آپ ﷺ نے فرمایا کہ (تو کیا ہوا) کیا یہ جاندار نہیں ہے؟ (بخاری ومسلم)
تشریح
قادسیہ ایک جگہ کا نام ہے جو کوفہ سے پندرہ کوس کے فاصلہ پر واقع ہے۔ روایت میں ذمیوں کو اہل زمین سے تعبیر کیا گیا ہے یا تو ان کے کم رتبہ ہونے کی وجہ سے یا یہ کہ مسلمانوں نے انہیں زمین کی کاشت پر مقرر کر رکھا تھا اور ان سے خراج لیتے تھے اس لئے انہیں اہل زمین کہا گیا۔ آنحضرت ﷺ کے ارشاد گرامی کیا یہ جاندار نہیں ہے؟ کا مطلب یہ ہے کہ کیا یہ کسی انسان کا جنازہ نہیں ہے جسے دیکھ کر عبرت نہ حاصل کی جائے؟ حاصل یہ کہ جنازہ کو دیکھ کر خوف محسوس ہوتا ہے اور عبرت حاصل ہوتی ہے خواہ مسلم کا ہو یا غیر مسلم کا اس لئے میں اس جنازہ کو دیکھ کر اٹھ کھڑا ہوگیا۔ گزشتہ صفحات میں یہ بھی بتایا جا چکا ہے کہ جنازہ کو دیکھ کر کھڑے ہونا حضرت علی ؓ کی روایت سے منسوخ ہوچکا ہے لہٰذا ہوسکتا ہے کہ ان دونوں صحابہ کو اس منسوخی کا علم نہ ہوا ہو اس لئے یہ حضرات جنازہ کو دیکھ کر کھڑے ہوگئے ہوں گے۔
آنحضرت ﷺ کا معمول اور اس کی منسوخی
وعن عبادة بن الصامت قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا تبع جنازة لم يقعد حتى توضع في اللحد فعرض له حبر من اليهود فقال له : إنا هكذا نضع يا محمد قال : فجلس رسول الله صلى الله عليه و سلم وقال : خالفوهم . رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه وقال الترمذي : هذا حديث غريب وبشر بن رافع الراوي ليس بالقوي
حضرت عبادہ بن صامت ؓ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ جب جنازے کے ہمراہ چلتے تو اس وقت تک نہیں بیٹھتے تھے کہ جب تک میت کو قبر میں نہیں رکھ دیا جاتا تھا (ایک مرتبہ) ایک یہودی عالم آپ کے سامنے پیش ہوا اور اس نے عرض کیا کہ اے محمد ﷺ ہم بھی ایسا ہی کرتے ہیں (کہ جب تک مردہ قبر میں نہیں رکھ دیا جاتا کھڑے رہتے ہیں) حضرت عبادہ کہتے ہیں کہ (اس کے بعد) آنحضرت ﷺ (دفن کرنے تک کھڑے نہیں رہتے تھے بلکہ) بیٹھ جایا کرتے تھے، نیز آپ نے یہ فرمایا کہ تم یہودیوں کی مخالفت کرو۔ (ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ) امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث غریب ہے اور بشر بن رافع جو اس روایت کا ایک راوی ہے قوی نہیں ہے۔
جنازہ دیکھ کر کھڑا نہ ہونا چاہئے
وعن علي قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم أمرنا بالقيام في الجنازة ثم جلس بعد ذلك وأمرنا بالجلوس . رواه أحمد
حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ (پہلے تو) ہمیں جنازہ دیکھ کر کھڑے ہوجانے کے لئے فرمایا کرتے تھے پھر (بعد میں) آپ بیٹھے رہتے تھے اور ہمیں بھی بیٹھے رہنے کے لئے فرماتے تھے۔ (احمد)
تشریح
اس حدیث کے ظاہر مفہوم سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ پہلے تو جنازہ دیکھ کر کھڑے ہوجانے کا حکم تھا مگر بعد میں یہ حکم منسوخ قرار دے دیا گیا لہٰذا اب اس کے بعد مسئلہ یہی ہے کہ جو لوگ جنازہ کے ساتھ نہ ہوں بلکہ کہیں بیٹھے ہوئے ہوں انہیں جنازہ دیکھ کر کھڑا نہ ہونا چاہئے۔
جنازہ دیکھ کر کھڑا نہ ہونا چاہئے
وعن محمد بن سيرين قال : إن جنازة مرت بالحسن بن علي وابن عباس فقام الحسن ولم يقم ابن عباس فقال الحسن : أليس قد قام رسول الله صلى الله عليه و سلم لجنازة يهودي ؟ قال : نعم ثم جلس . رواه النسائي
حضرت محمد بن سیرین (رح) فرماتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) حضرت حسن بن علی اور حضرت ابن عباس کے سامنے سے ایک جنازہ گزرا تو حضرت حسن (اسے دیکھ کر) کھڑے ہوگئے مگر حضرت ابن عباس کھڑے نہیں ہوئے حضرت حسن نے (حضرت ابن عباس کا یہ عمل دیکھ کر) ان سے فرمایا کہ کیا رسول کریم ﷺ ایک یہودی کے جنازے کو دیکھ کر کھڑے نہیں ہوگئے تھے؟ حضرت ابن عباس نے جواب دیا کہ ہاں! (بےشک آپ کھڑے ہوئے تھے) مگر بعد میں آپ (جنازہ دیکھ کر) بیٹھے رہتے تھے۔ (نسائی)
تشریح
حضرت ابن عباس ؓ کے جواب کا مطلب یہ ہے کہ پہلے تو بیشک آپ ﷺ کا یہی معمول تھا کہ جنازہ دیکھ کر کھڑے ہوجایا کرتے تھے مگر بعد میں آپ کا یہ معمول ہوگیا تھا کہ جنازہ دیکھ کر آپ کھڑے نہیں ہوتے تھے بلکہ بیٹھے رہتے تھے لہٰذا جنازہ دیکھ کر کھڑے ہوجانے کا حکم منسوخ ہوگیا۔ حضرت حسن کے عمل کے بارے میں علماء لکھتے ہیں کہ ہوسکتا ہے کہ حضرت حسن ؓ کو اس حکم کے منسوخ ہوجانے کا علم نہیں ہوگا اس لئے وہ نہ صرف یہ کہ جنازہ دیکھ کر کھڑے ہوگئے بلکہ انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ کے کھڑے نہ ہونے پر اعتراض بھی کیا۔ آنحضرت ﷺ یہودی کا جنازہ دیکھ کر کیوں کھڑے ہوئے؟
آنحضرت ﷺ یہودی کا جنازہ دیکھ کر کیوں کھڑے ہوئے؟
وعن جعفر بن محمد عن أبيه أن الحسن بن علي كان جالسا فمر عليه بجنازة فقام الناس حتى جاوزت الجنازة فقال الحسن : إنما مر بجنازة يهودي وكان رسول الله صلى الله عليه و سلم على طريقها جالسا وكره أن تعلوا رأسه جنازة يهودي فقام . رواه النسائي
حضرت جعفر بن محمد (رح) (یعنی حضرت جعفر صادق) اپنے والد مکرم (حضرت محمد باقر (رح) ) سے یہ روایت کرتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) حضرت علی ؓ (ایک جگہ) بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے سامنے سے جنازہ لے جایا گیا، وہ لوگ (جنہیں اس مسئلہ کی منسوخی کا علم نہیں ہوا تھا جنازہ دیکھ کر) کھڑے ہوئے تھے اور اس وقت تک کھڑے رہے جب تک کہ جنازہ گزر نہیں گیا، حضرت حسن نے ان سے فرمایا کہ اصل بات یہ ہے کہ جب ایک یہودی کا جنازہ لے جایا جا رہا تھا تو اس وقت رسول کریم ﷺ راستہ پر بیٹھے ہوئے تھے آپ ﷺ نے اسے پسند نہیں کیا کہ یہودی کا جنازہ آپ ﷺ کے سر مبارک سے اونچا ہوا لہٰذا آپ کھڑے ہوگئے۔ (نسائی)
تشریح
حضرت حسن کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ یہودی کے جنازہ کو دیکھ کر جو کھڑے ہوئے تھے تو اس کی وجہ میت کا احترام نہیں تھا بلکہ اصل حقیقت تو یہ تھی کہ آپ ﷺ نے یہ بات پسند نہیں کی کہ ایک یہودی کا جنازہ آپ کے سر مبارک سے اونچا ہو گویا حضرت حسن ؓ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعہ ان لوگوں پر اعتراض کیا جو جنازہ دیکھ کر کھڑے ہوئے تھے۔ ابھی اس سے پہلے جو حدیث گزری ہے اس سے تو معلوم ہوا کہ حضرت حسن نہ صرف یہ کہ جنازہ دیکھ کر کھڑے ہوگئے بلکہ انہوں نے حضرت ابن عباس پر اس لئے اعتراض کیا کہ وہ جنازہ دیکھ کر کھڑے نہیں ہوئے تھے اور یہاں اس حدیث میں یہ بیان کیا جا رہا ہے کہ جو لوگ جنازہ دیکھ کر کھڑے ہوگئے حضرت حسن نے ان پر اعتراض کیا۔ لہٰذا اس اختلاف کے بارے میں محدثین رحمہم اللہ لکھتے ہیں کہ یہ واقعہ جو یہاں بیان کیا جا رہا ہے اس واقعہ کے بعد کا ہے جو اس سے پہلی حدیث میں بیان کیا گیا ہے پہلے چونکہ حضرت حسن کو منسوخی کا علم نہیں ہوا تھا اس لئے انہوں نے حضرت عباس پر اعتراض کیا۔ مگر جب بعد میں تحقیق و جستجو کے بعد یہ ثابت ہوگیا کہ آنحضرت ﷺ مذکورہ بالا وجہ سے یہودی کا جنازہ دیکھ کر کھڑے ہوگئے تھے اور یہ کہ جنازہ دیکھ کر کھڑے ہوجانے کا حکم اب منسوخ ہوگیا ہے تو انہوں نے اس موقع پر اعتراض کیا جو جنازہ دیکھ کر کھڑے ہوگئے تھے۔ بہر حال جنازہ دیکھ کر کھڑے ہوجانے کی اور بھی کئی وجوہ ہیں۔ مثلاً یہ کہ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ آپ ڈر اور عبرت کی وجہ سے جنازہ دیکھ کر کھڑے ہوجاتے تھے کبھی ملائکہ کی تعظیم پیش نظر کھڑے ہوجاتے تھے جو جنازہ کے ساتھ ہوتے تھے کبھی آپ اس لئے بھی کھڑے ہوجاتے تھے کہ آپ جنازہ کو اپنے سر مبارک سے بلند ہونا پسند نہیں فرماتے تھے۔ شیخ عبدا الحق محدث دہلوی (رح) نے لکھا ہے کہ یہ حدیث منقطع ہے کیونکہ حضرت امام باقر حضرت حسن کے زمانے میں نہیں تھے۔
آنحضرت ﷺ یہودی کا جنازہ دیکھ کر کیوں کھڑے ہوئے؟
وعن أبي موسى أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إذا مرت بك جنازة يهودي أو نصراني أو مسلم فقوموا لها فلستم لها تقومون إنما تقومون لمن معها من الملائكة . رواه أحمد
حضرت ابوموسیٰ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب تمہارے سامنے کسی یہودی یا نصرانی یا مسلمان کا جنازہ گزرے تو اسے دیکھ کر کھڑے ہوجاؤ اور تم جنازہ (کے ادب و احترام) کے لئے نہیں کھڑے ہوتے بلکہ ان فرشتوں (کی تعظیم) کے لئے کھڑے ہوتے جو جنازہ کے ساتھ ہوتے ہیں۔
تشریح
جیسا کہ ابھی اوپر بیان کیا گیا ہے جنازہ دیکھ کر کھڑے ہونے کے وجوہ مختلف ہیں انہیں میں سے ایک وجہ یہاں بیان کی جا رہی ہے نیز یہ کہ کھڑے ہوجانے کا یہ حکم پہلے تھا اب منسوخ ہوگیا ہے اسے بھی گزشتہ احادیث کی تشریح میں بیان کیا جا چکا ہے۔
نماز جنازہ میں تین صفیں ہونی چاہئیں
وعن مالك بن هبيرة قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ما من مسلم يموت فيصلي عليه ثلاثة صفوف من المسلمين إلا أوجب . فكان مالك إذا استقل أهل الجنازة جزأهم ثلاثة صفوف لهذا الحديث . رواه أبو داود وفي رواية الترمذي : قال كان مالك بن هبيرة إذا صلى الجنازة فتقال الناس عليها جزأهم ثلاثة أجزاء ثم قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من صلى عليه ثلاثة صفوف أوجب . وروى ابن ماجه نحوه
حضرت مالک بن ہبیرہ ؓ راوی ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب کوئی مسلمان مرتا ہے اور اس پر مسلمانوں کی تین صفوں پر مشتمل جماعت نماز پڑھتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت اور مغفرت واجب کردیتا ہے، چناچہ حضرت مالک (نماز جنازہ میں) تھوڑے آدمی (بھی) دیکھتے تو اس حدیث کے بموجب انہیں تین صفوں میں تقسیم کردیتے تھے۔ ( ابوداؤد) ترمذی کی روایت میں ہے کہ حضرت مالک بن ہبیرہ جب نماز جنازہ پڑھتے (یعنی نماز جنازہ پڑھنے کا ارادہ کرتے) اور لوگوں کی تعداد کم دیکھتے تو ان کو تین حصوں (یعنی تین صفوں) میں تقسیم کردیتے تھے اور پھر فرماتے تھے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کی نماز جنازہ تین صفیں پڑھتیں اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت کو واجب کردیتا ہے۔ ابن ماجہ نے بھی اس قسم کی روایت نقل کی ہے۔
تشریح
اسلامی عقائد کا یہ ایک واضح مسئلہ ہے کہ ہر شخص کو یہ اعتقاد رکھنا ضروری ہے کہ اللہ جل شانہ پر کوئی چیز واجب نہیں ہے یعنی اس کی بزرگی و برتر ذات کسی چیز کے کرنے پر مجبور نہیں ہے لیکن یہاں حدیث میں چونکہ فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ جنت کو واجب کرتا ہے اس لئے علماء حدیث کا یہ مطلب بیان کرتے ہیں کہ جس شخص کی نماز جنازہ میں مسلمانوں کی تین صفیں شریک ہوں اس بشارت کی بموجب اللہ تعالیٰ اپنے اوپر یہ واجب کرلیتا ہے کہ اسے جنت میں داخل کرے گویا یہاں حدیث میں جس وجوب کا ذکر کیا جا رہا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کے وعدہ کی مناسبت سے ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ نے ایسے شخص کو جنت میں داخل کرنے کا وعدہ کیا ہے اور ظاہر ہے کہ حق تعالیٰ جو وعدہ کرے وہ ایفاء نہ ہو یہ ناممکن ہے اس لئے ایفاء عہد اور اپنے فضل و کرم کے اظہار کے طور پر حق تعالیٰ کسی مجبور یا دباؤ کے تحت نہیں بلکہ از خود اپنے اوپر یہ واجب کرلیتا ہے کہ ایسے شخص کو جنت میں داخل کرے چناچہ اسے اصطلاحاً وجوب لغیرہ کہا جاتا ہے جو اس عقیدہ کے منافی نہیں ہے ہاں وجوب لذاتہ حق تعالیٰ کی ذات کے لئے ممتنع ہے جس کے بارے میں مذکورہ بالا اسلامی عقیدہ بیان کیا گیا ہے کرمانی (رح) نے لکھا ہے کہ نماز جنازہ میں سب صفوں سے زیادہ افضل سب سے پیچھے والی صف ہوتی ہے بخلاف دوسری نمازوں کے کہ ان میں سب سے آگے والی صف سب سے زیادہ افضل ہوتی ہے۔ نیز علماء یہ مسئلہ لکھتے ہیں کہ نماز جنازہ کے بعد میت کے لئے دعا نہ کی جائے (جیسا کہ دوسری نمازوں میں سلام پھیرنے کے بعد دعا مانگی جاتی ہے) کیونکہ اس سے نماز جنازہ میں اضافہ کا اشتباہ ہوتا ہے۔
نماز جنازہ میں آنحضرت ﷺ کی دعا
وعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم في الصلاة على الجنازة : اللهم أنت ربها وأنت خلقتها وأنت هديتها إلى الإسلام وأنت قبضت روحها وأنت أعلم بسرها وعلانيتها جئنا شفعاء فاغفر له . رواه أبو داود
حضرت ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ کے بارے میں یہ روایت کرتے تھے کہ آپ جنازہ میں یہ دعا فرمایا کرتے تھے۔ دعا (اللہم انت ربہا وانت خلقتہا وانت ہدیتہا الی الاسلام وانت قبضت روھہا وانت اعلم بسرہا وعلانیتہا جئنا شفعاء فاغفرلہ)۔ اے الٰہی تو اس کا پروردگار ہے تو نے ہی اسے پیدا کیا ہے اور تو نے ہی اس کو اسلام کی ہدایت عطا فرمائی اور (اب) تو نے ہی اس کی روح قبض کی ہے (اے رب العالمین) تو اس کے باطن کو بھی سب سے زیادہ جاننے والا ہے اور اس کے ظاہر کو بھی (اے اللہ) ہم اس بندہ کی شفاعت کے لئے حاضر ہوئے ہیں تو اسے بخش دے۔ ( ابوداؤد )
ایک بچہ کے جنازہ پر حضرت ابوہریرہ (رض) کی دعا
وعن سعيد بن المسيب قال : صليت وراء أبي هريرة على صبي لم يعمل خطيئة قط فسمعته يقول : اللهم أعذه من عذاب القبر . رواه مالك
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) میں نے حضرت ابوہریرہ ؓ کے پیچھے ایک ایسے لڑکے کی نماز جنازہ پڑھی جس سے کبھی بھی کوئی گناہ سرزد نہیں ہوا تھا، چناچہ میں نے حضرت ابوہریرہ ؓ کو (نماز میں) یہ دعا مانگتے سنا کہ اے اللہ! اس بچہ کو عذاب قبر سے پناہ دے۔ (مالک)
تشریح
علامہ ابن حجر (رح) فرماتے ہیں کہ روایت کے الفاظ لم یعمل خطیئۃ قط یعنی کبھی بھی کوئی گناہ سرزد نہیں ہوا تھا) لفظ صبی (یعنی بچہ) کی صفت کاشفہ ہے کیونکہ غیر بالغ سے گناہ کا سرزد ہونا متصور نہیں ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی دعا اے اللہ اس بچہ کو عذاب قبر سے پناہ دے۔ میں عذاب قبر سے عقوبت (یعنی سزا) اور قبر کا سوال و جواب مراد نہیں بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ اے اللہ! اس بچہ کو قبر میں حسرت و غم، قبر کی وحشت اور ضغط قبر (یعنی قبر کے بھینچے) کے رنج و خوف سے محفوظ و مامون رکھ اور ظاہر ہے کہ ضغط قبر میں ہر شخص مبتلا ہوگا خواہ بالغ ہو یا نابالغ۔ قبر میں بچوں سے سوال و جواب ہوگا یا نہیں؟ اس بارے میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں کہ جس طرح قبر میں بالغ لوگوں سے سوال و جواب ہوگا اسی طرح نابالغ بچوں سے بھی سوال و جواب ہوگا یا نہیں؟ چناچہ کچھ حضرات کا قول تو یہ ہے کہ بچوں سے بھی سوال و جواب ہوگا جب کہ دوسرے حضرات کا قول یہ ہے کہ بچے اس سے مستثنیٰ ہوں گے ان سے کوئی سوال و جواب نہیں ہوگا اور یہی قول صحیح ہے کیونکہ غیر مکلف کا عذاب میں مبتلا ہونا اصول شریعت کے خلاف ہے۔
ایک بچہ کے جنازہ پر حضرت ابوہریرہ (رض) کی دعا
وعن البخاري تعليقا قال : يقرأ الحسن على الطفل فاتحة الكتاب ويقول : اللهم اجعله لنا سلفا وفرطا وذخرا وأجرا
حضرت امام بخاری (رح) نے بطریق تعلیق (یعنی صحیح بخاری کے ترجمۃ الباب میں بغیر سند کے اس حدیث کو) نقل کیا ہے کہ حضرت حسن بصری (رح) بچہ کی نماز جنازہ میں تکبیر اولیٰ کے بعد سبحانک اللہم الخ کی بجائے سورت فاتحہ پڑھا کرتے تھے اور (تیسری تکبیر کے بعد) یہ دعا فرمایا کرتے تھے کہ اللہم اجعلہ لنا سلفا وفرطا وذخرا واجرا اے اللہ اس بچے کو (قیامت کے دن) ہمارا پیشوا، پیش رو اور ہمارے لئے ذخیرہ ثواب بنا۔
تشریح
سلف اس مال کو کہتے ہیں کہ جسے آگے (منزل پر) بھیج دیا جائے تاکہ اسے بھیجنے والا (منزل پر پہنچ کر) اس سے فائدہ حاصل کرے۔ اسی طرح فرط لشکر کا وہ شخص کہلاتا ہے جو لشکر سے آگے پہنچ کر لشکر کے لئے سامان خوردو نوش وغیرہ کا انتظام کرتا ہے۔ یہاں دعا میں ان دونوں سے مراد یہ ہے کہ یہ بچہ قیامت کے روز ہماری بہتری و بھلائی اور ہماری منفعت کا باعث بنے بایں طور کہ پروردگار سے ہماری شفاعت کرے ذخرہ اس مال کو کہتے ہیں جو ذخیرہ کے طور پر رکھا جائے تاکہ حاجت و ضرورت کے وقت کام آئے۔
نا تمام بچہ کی نماز نہ پڑھی جائے
وعن جابر أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : الطفل لا يصلى عليه ولا يرث ولا يورث حتى يستهل . رواه الترمذي وابن ماجه إلا أنه لم يذكر : ولا يورث
حضرت جابر ؓ راوی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا (ناتمام) بچہ کی نہ تو نماز پڑھی جائے اور نہ اسے کسی کا وارث قرار دیا جائے اور نہ ہی اس کا کوئی وارث ہو بشرطیکہ پیٹ سے باہر آتے وقت اس کی آواز نہ نکلے (یعنی اس وقت اس میں زندگی کے آثار نہ پائے جائیں جس کی تفصیل پیچھے گزر چکی ہے) اس روایت کو ترمذی (رح) اور ابن ماجہ نے نقل کیا ہے مگر ابن ماجہ نے اپنی روایت میں لایورث نقل نہیں کیا ہے۔
نماز جنازہ میں بھی امام اوپر اور مقتدی نیچے نہ کھڑے ہوں
وعن أبي مسعود الأنصاري قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يقوم الإمام فوق شيء والناس خلفه يعني أسفل منه . رواه الدراقطني وأبو داود
حضرت ابومسعود انصاری ؓ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ امام (تنہا) کسی چیز کے اوپر کھڑا ہو اور مقتدی اس کے پیچھے (اس سے نیچے) کھڑے ہوں۔ (دارقطنی)
تشریح
نماز جنازہ میں امام کے لئے یہ ممنوع ہے کہ وہ تو کسی اونچی جگہ کھڑا ہو اور سب مقتدی اس سے نیچے ہوں لہٰذا اس سے معلوم ہوا کہ یہ بات بطریق اولیٰ ممنوع ہوگی کہ صرف امام تو نیچے کھڑا ہو اور مقتدی اوپر کھڑے ہوں۔ یہ مسئلہ سب نمازوں کا ہے نماز جنازہ ہی کی کوئی تخصیص نہیں ہے۔ چناچہ حدیث کے الفاظ بھی مخصوص نہیں ہیں لیکن مصنف مشکوۃ نے اس حدیث کو نماز جنازہ پر محمول کر کے اس باب میں نقل کیا ہے۔ اس سے واضح ہے کہ یہ حدیث اس باب میں بھی وارد ہوئی ہے اور وجہ اس کی یہ ہے کہ لوگ نماز جناز میں یہ طریقہ اختیار کئے ہوں گے لہٰذا اس سے منع کیا ہے۔
عن عامر بن سعد بن أبي وقاص أن سعد بن أبي وقاص قال في مرضه الذي هلك فيه : ألحدوا لي لحدا وانصبوا علي اللبن نصبا كما صنع برسول الله صلى الله عليه و سلم . رواه مسلم
حضرت عامر بن سعد بن ابی وقاص روایت کرتے ہیں کہ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ نے اپنی اس بیماری میں کہ جس میں ان کی وفات ہوئی فرمایا کہ مجھے دفن کرنے کے لئے لحد بنانا اور مجھ پر کچی اینٹیں کھڑی کرنا جیسا کہ رسول کریم ﷺ کے لئے کیا گیا تھا۔ (مسلم)
تشریح
لحد قبر میں قبلہ کی طرف بنائے گئے اس گھڑے کو کہتے ہیں جس میں مردہ رکھا جاتا ہے جس قبر میں ایسا گڑھا بنایا جاتا ہے اسے بغلی قبر کہتے ہیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بغلی قبر بنانا مستحب ہے۔ حضرت ابن ہمام فرماتے ہیں کہ ہمارے نزدیک قبر میں لحد بنانا سنت ہے بشرطیکہ کوئی مجبوری نہ ہو یعنی اگر زمین نرم ہو اور لحد بنانے سے قبر کے بیٹھ جانے کا اندیشہ ہو تو پھر قبر میں لحد نہ بنائی جائے بلکہ صندوق قبر بنائی جائے۔ حضرت سعد ؓ کے ارشاد مجھ پر کچی اینٹیں کھڑی کرنا کا مطلب یہ ہے میری لحد کو کچی اینٹوں سے بند کرنا۔ علماء لکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی قبر مبارک کی لحد کو نو اینٹوں سے بند کیا گیا تھا۔
قبر میں کپڑا بچھانے کا مسئلہ
وعن ابن عباس قال : جعل في قبر رسول الله صلى الله عليه و سلم قطيفة حمراء . رواه مسلم
حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کی قبر میں ایک سرخ لوئی (چادر) ڈالی گئی تھی۔ (مسلم)
تشریح
آنحضرت ﷺ کے ایک خادم تھے جن کا نام شعران تھا انہوں نے صحابہ کرام کی مرضی اور ان کی اجازت کے بغیر از خود اس چادر کو آنحضرت ﷺ کی قبر میں رکھ دیا تھا اور اس کی وجہ یہ بیان کی کہ میں اسے قطعی ناپسند کرتا ہوں کہ جس چادر مبارک کو سرکار دو عالم ﷺ خود استعمال کرچکے ہوں اسے آپ کے بعد کوئی دوسرا شخص استعمال کرے۔ بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ قبر میں یہ چادر رکھنا آنحضرت ﷺ کے خصائص میں سے تھا (اب کسی دوسرے کے لئے اجازت نہیں کہ اس کی قبر میں چادر وغیرہ بچھائی جائے یا رکھی جائے) بعض حضرات نے لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی قبر میں چادر رکھنے کے بارے میں صحابہ ؓ نے کسی اچھی رائے کا اظہار نہیں کیا۔ چناچہ حضرت علی اور حضرت عباس کے بارے میں منقول ہے کہ ان دونوں نے شعران سے اس بات پر سخت معاوضہ کیا کہ انہوں نے وہ چادر قبر مبارک میں کیوں رکھی؟ نیز علامہ ابن عبدالبر (رح) نے تو کتاب استیعاب میں یہ لکھا ہے کہ وہ لوئی (جو شعران نے آپ ﷺ کی قبر مبارک میں ڈالی تھی) مٹی ڈالنے سے پہلے قبر مبارک سے نکال لی گئی تھی۔ بہر حال علماء نے قبر میں مردہ کے نیچے کپڑا بچھانے کو مکروہ قرار دیا ہے کیونکہ اس میں مال کا اسراف اور اس کا ضائع کرنا ہے۔
اونٹ کے کوہان کی مانند قبر بنانا افضل ہے
وعن سفيان التمار : أنه رأى قبر النبي صلى الله عليه و سلم مسنما . رواه البخاري
حضرت سفیان تمار سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کی قبر کو دیکھا جو اونٹ کے کوہان کی طرح تھی۔ (بخاری)
تشریح
حضرت امام مالک، حضرت امام احمد اور حضرت امام اعظم ابوحنیفہ نے نہ صرف یہ کہ اس حدیث کو بلکہ اس کے علاوہ اور بھی صحیح احادیث کو اپنے اس مسلک کا مستدل قرار دیا ہے کہ قبر کو اونٹ کے کوہان کی طرح اٹھی ہوئی بنانا مسطح بنانے سے افضل ہے جب کہ حضرت امام شافعی کے نزدیک قبر مسطح بنانا افضل ہے۔
قبر کو اونچا کرنے کی ممانعت
وعن أبي الهياج الأسدي قال : قال لي علي : ألا أبعثك على ما بعثني عليه رسول الله صلى الله عليه و سلم : أن لا تدع تمثالا إلا طمسته ولا قبرا مشرفا إلا سويته . رواه مسلم
اور حضرت ابوالہیاج اسدی (تابعی) کہتے ہیں کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے مجھ سے فرمایا کہ کیا میں تمہیں اس کام پر معمور نہ کروں جس کام پر مجھے رسول اللہ ﷺ نے معمور کیا تھا؟ اور وہ کام یہ ہے کہ تم جو بھی تصویر دیکھو اسے چھوڑو نہیں بلکہ اسے مٹادو اور جس قبر کو بلند دیکھو اسے برابر کردو۔ (مسلم)
تشریح
علماء نے لکھا ہے کہ اپنے پاس تصویر کا رکھنا حرام ہے اور اسے مٹا دینا واجب ہے نیز اس کے سامنے بیٹھنا جائز نہیں ہے، جس قبر کو بلند دیکھو اسے برابر کردو۔ کا مطلب یہ ہے کہ قبر اگر زیادہ اونچی اور بلند بنائی گئی ہو تو اسے اتنی نیچی کردو کہ زمین کی سطح سے قریب ہوجائے صرف اس کا نشان باقی رہے جس کی مقدار ایک بالشت ہے کیونکہ مسنون یہی ہے چناچہ کتاب ازہار میں علماء کا یہ قول لکھا ہوا ہے کہ قبر کو بقدر ایک بالشت کے بلند کرنا مستحب ہے اور ور اس سے زیادہ مکروہ ہے نیز ایک بالشت سے زیادہ قبر کو ڈھا دینا (یعنی صرف ایک بالشت کی بقدر باقی رہنے دینا مستحب ہے)
قبر پر گچ کرنے، عمارت بنانے اور اس کے اوپر بیٹھنے کی ممانعت
وعن جابر قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يجصص القبر وأن يبنى عليه وأن يقعد عليه . رواه مسلم
حضرت جابر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے قبر پر گچ کرنے اور اس پر عمارت بنانے نیز قبر کے اوپر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔ (مسلم)
تشریح
کتاب اظہار میں لکھا ہے کہ قبروں پر گچ کرنے کی ممانعت کراہت کے طور پر ہے یعنی قبروں پر گچ کرنا مکروہ ہے پھر ممانعت کا یہ حکم دونوں صورتوں کے لئے ہے یعنی خواہ قبر کی چٹائی گچ سے کی جائے خواہ قبروں پر گچ کیا جائے دونوں ہی مکروہ ہیں قبر کے اوپر کوئی عمارت مثلاً گنبد یا قبہ وغیرہ بنانا درست نہیں ہے بلکہ اگر کسی قبر پر کوئی عمارت بنی ہوئی ہو تو اسے ڈھا دینا واجب ہے اگر وہ مسجد ہی کیوں نہ ہو۔ علامہ تور پشتی (رح) فرماتے ہیں کہ قبروں پر بناء یعنی عمارت بنانا دونوں چیزوں کو محتمل ہے خواہ قبر پر پتھر و اینٹ وغیرہ سے کوئی عمارت بنائی جائے خواہ قبر کے اوپر کوئی خیمہ وغیرہ کھڑا کیا جائے دونوں ہی صورتیں ممنوع ہیں کیونکہ ان چیزوں سے کوئی فائدہ نہیں ہے علامہ تور پشتی نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اس ممانعت کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ یہ فعل جاہلیت ہے یعنی کفار میت اوپر دس دن تک سایہ رکھتے تھے اس لئے مشابہت سے بچانا بھی مقصود ہے۔ قبر کے اوپر بیٹھنے سے اس لئے منع فرمایا گیا ہے کہ یہ مومن کے اکرام و شرف کے منافی ہے بایں طور کہ قبر کے اوپر چڑھ کر بیٹھنے سے صاحب قبر کی تحقیر اور بےوقعتی لازم آتی ہے۔ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ قبر کے اوپر بیٹھنے سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص اظہار رنج و غم کے لئے قبر کے پاس مسلسل بیٹھا رہے جیسے کے بعض لوگ فقر اور دنیا سے کنارہ کشی اختیار کر کے اپنے کسی محسن و متعلق ہی کی قبر کو اپنا مسکن بنا لیتے ہیں لہٰذا اس سے منع فرمایا گیا ہے۔
قبروں کے بارے میں چند احکام
وعن أبي مرثد الغنوي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تجلسوا على القبور ولا تصلوا إليها . رواه مسلم
حضرت ابومرثد غنوی کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا نہ قبروں کے اوپر بیٹھو اور نہ قبروں کی طرف نماز پڑھو (مسلم)
تشریح
محقق ابن ہمام فرماتے ہیں کہ قبروں پر بیٹھنا اور ان کو روندنا مکروہ ہے لہٰذا بعض لوگوں کا یہ طریقہ ہے کہ وہ اپنے قبرستان میں اپنے کسی عزیز و متعلق کی قبر تک پہنچنے کے لئے درمیان کی قبروں کو بلاتکلف روندتے ہوئے چلتے ہیں یہ انتہائی غلط بات ہے۔ ہاں ضرورت و حاجت کے وقت مثلاً قبر کھودنے کے لئے یا میت کو دفن کرنے کے لئے قبروں پر پاؤں رکھ کر چلنا جائز ہے۔ قبرستان میں ننگے پاؤں چلنا مستحب ہے قبر کے نزدیک یا قبر کو تکیہ بنا کر سونا مکروہ ہے قبروں کے پاس استنجا کرنا تو انتہائی کراہت کی بات ہے، قبرستان آنے جانے کے بارے میں ہر وہ چیز مکروہ جو معہود یعنی سنت سے ثابت نہیں اس بارے میں صرف قبروں پر جانا اور وہاں کھڑے کھڑے دعا مانگنا سنت سے ثابت ہے جیسا کہ آنحضرت ﷺ کے بارے میں منقول ہے کہ آپ ﷺ جب جنت البقیع تشریف لے جاتے تو وہاں یہ فرماتے دعا (السلام علیکم دار قوم مومنین وانا انشاء اللہ بکم لاحقون واسأل اللہ لی ولکم العافیہ)۔ یعنی اے مومنین کے گھر تجھ پر سلامتی ہو، اے مومنو! انشاء اللہ ہم تم سے ملنے والے ہیں، میں اللہ تعالیٰ سے اپنے لئے اور تمہارے لئے امن و عافیت مانگتا ہوں۔ (ملا علی قاری) کے ان الفاظ سے اگر یہ اشکال پیدا ہوا کہ یہاں تو یہ ثابت ہوا کہ زیارت قبور کے سلسلے میں صرف قبروں پر جانا اور وہاں دعا مانگنا سنت سے ثابت ہے جیسا کہ خود ملا علی قاری نے ابھی اس باب کی تیسری فصل کی ایک حدیث کو جو حضرت ابن عمر ؓ سے منقول ہے کی تشریح کے ضمن میں وہ احادیث نقل کی ہیں تو اس کا جواب یہ ہوگا کہ قرآن کریم کی تلاوت دعا میں شامل ہے اس لئے کہ تلاوت قرآن کریم بھی حکما دعا ہی ہے لہٰذا وہ مکروہ نہیں ہے۔ حدیث کے آخری الفاط ولاتصلوا الیہا (اور نہ قبروں کی طرف نماز پڑھو) کی روشنی میں علماء لکھتے ہیں کہ اگر کوئی شخص قبر یا صاحب قبر کی تعظیم کی خاطر قبر کی طرف نماز پڑھتا ہے تو یہ صریح کفر ہے اگر قبر یا صاحب قبر کی تعظیم پیش نظر نہ ہو تو تب بھی قبر کی طرف نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے یہی حکم جنازہ کا بھی ہے جب کہ وہ نمازی کے سامنے رکھا ہوا ہو بلکہ اس میں تو اور بھی زیادہ کراہت ہے حاصل یہ کہ نمازی کے سامنے قبر یا جنازہ نہ ہونا چاہئے۔
قبر کے اوپر بیٹھنے کی تہدید
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لأن يجلس أحدكم على جمرة فتحرق ثيابه فتخلص إلى جلده خير له من أن يجلس على قبر . رواه مسلم
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اگر تم میں سے کوئی شخص انگارے پر بیٹھ جائے اور وہ انگارہ اس کا کپڑا جلا کر اس کے جسم تک پہنچ جائے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ قبر کے اوپر بیٹھے۔ (مسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص آگ کے اوپر بیٹھ جائے اور وہ آگ اس شخص کے کپڑوں کو جلا کر اس کے جسم تک پہنچ جائے اور جسم کے حصوں کو جلا ڈالے تو یہ تکلیف و مصیب قبر کے اوپر بیٹھنے سے سہل و آسان ہے یعنی قبر کے اوپر بیٹھنے کا ضرر و نقصان اس کے ضرر و نقصان سے کہیں زیادہ ہے۔