Mishkaat-al-Masabih

All 6,333 hadiths in order · Page 83 of 317

1641Mishkaat-al-Masabih

نماز جنازہ میں امام کہاں کھڑا ہو؟

وعن سمرة بن جندب قال : صليت وراء رسول الله صلى الله عليه و سلم على امرأة ماتت في نفاسها فقام وسطها

حضرت سمرہ بن جندب فرماتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کے پیچھے ایک عورت کے جنازہ کی نماز پڑھی جو حالت نفاس میں انتقال کرگئی تھی چناچہ آپ ﷺ نماز کے لئے جنازہ کے درمیان کھڑے ہوئے تھے۔ (بخاری ومسلم) تشریح حضرت امام شافعی کا مسلک تو یہ ہے کہ عورت کے جنازہ کی نماز میں امام میت کے کو لہوں کے سامنے کھڑا ہو اور مرد کے جنازہ کی نماز میں میت کے سر کے سامنے کھڑا ہو، چناچہ عورت کی نماز جنازہ کے بارے میں تو حضرت امام شافعی (رح) کے مسلک کی دلیل یہی حدیث ہے جب کہ مرد کی نماز جنازہ کے بارے میں وہ اپنا مسلک ایک دوسری حدیث سے ثابت کرتے ہیں۔ حضرت امام ابوحنیفہ (رح) کا مسلک یہ ہے کہ امام میت کے سینہ کے سامنے کھڑا ہو کر خواہ مرد کا ہو یا عورت کا جنازہ ہو۔ اس حدیث کے بارے میں حضرت ابن ہمام (رح) فرماتے ہیں کہ یہ حدیث میت کے سینہ کے سامنے کھڑے ہونے کی منافی نہیں کیونکہ انسانی جسم اعضاء کے اعتبار سے دراصل سینہ ہی وسط ہے بایں طور کہ سینہ کے اوپر سر اور ہاتھ ہیں اور سینہ کے نیچے پیٹ اور پاؤں ہیں اور ان سب کے درمیان سینہ ہے، نیز یہ احتمال ہے کہ آنحضرت ﷺ اس موقع پر سینہ کے سامنے کو لہوں کی طرف تھوڑا مائل کھڑے ہوں گے اور چونکہ یہ دونوں حصے یعنی سینہ اور کو لھے آپس میں بالکل قریب قریب ہیں اس لئے راوی نے یہ گمان کرلیا ہو کہ آپ کو لہوں کے سامنے کھڑے تھے۔ شمنی (رح) نے کہا ہے کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) اور حضرت امام ابویوسف کی روایت بھی یہ ہے کہ عورت کی جنازہ کی نماز میں امام میت کے کو لہوں کے سامنے کھڑا ہو۔ واللہ اعلم۔

1642Mishkaat-al-Masabih

تدفین کے بعد قبر پر نماز جنازہ

وعن ابن عباس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم مر بقبر دفن ليلا فقال : متى دفن هذا ؟ قالوا : البارحة . قال : أفلا آذنتموني ؟ قالوا : دفناه في ظلمة الليل فكرهنا أن نوقظك فقام فصففنا خلفه فصلى عليه

حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ (ایک مرتبہ) رسول کریم ﷺ کا ایک ایسی قبر پر گزر ہوا جس میں بوقت شب مردہ دفن کیا گیا تھا آپ نے پوچھا کہ یہ کب دفن کیا گیا ہے؟ صحابہ ؓ نے جواب دیا کہ آج ہی رات میں۔ آپ نے فرمایا کہ تم نے مجھے خبر کیوں نہیں دی؟ صحابہ نے عرض کیا کہ ہم نے اسے اندھیری رات میں دفن کیا تھا اس وقت آپ کو جگانا ہمیں اچھا نہیں معلوم ہوا۔ پھر آنحضرت ﷺ کھڑے ہوئے ہم نے آپ کے پیچھے صف باندھی چناچہ آپ ﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی۔ (بخاری ومسلم)

1643Mishkaat-al-Masabih

تدفین کے بعد قبر پر نماز جنازہ

وعن أبي هريرة أن امرأة سوداء كانت تقم المسجد أو شاب ففقدها رسول الله صلى الله عليه و سلم فسأل عنها أو عنه فقالوا : مات . قال : أفلا كنتم آذنتموني ؟ قال : فكأنهم صغروا أمرها أو أمره . فقال : دلوني على قبره فدلوه فصلى عليها . قال : إن هذه القبور مملوءة ظلمة على أهلها وإن الله ينورها لهم بصلاتي عليهم . ولفظه لمسلم

حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ ایک کالی عورت تھی جو مسجد (نبوی) میں جھاڑو دیا کرتی تھی یا راوی کہتے ہیں کہ ایک جوان مرد تھا جو جھاڑو دیا کرتا تھا، رسول کریم ﷺ نے ایک دن اسے غائب پایا تو اس عورت، یا مرد کے بارے میں دریافت فرمایا کہ وہ کہاں ہے؟ بتایا گیا کہ وہ مرگئی یا وہ مرگیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا مجھے کیوں نہیں بتایا گیا؟ تاکہ میں بھی اس کی نماز جنازہ پڑھتا، حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ لوگوں نے اس عورت یا اس مرد کی موت کوئی اہمیت نہیں دی (کہ جس کے لئے آنحضرت ﷺ کو تکلیف دی جاتی گویا آنحضرت ﷺ کی تعظیم مقصود تھی) آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اچھا مجھے اس کی قبر بتادو کہ کہاں ہے؟ آپ کو جب اس کی قبر بتائی گئی تو (آپ وہاں تشریف لے گئے اور) اس کی قبر پر نماز پڑھی اور پھر فرمایا کہ یہ قبریں اپنے مردوں کے لئے تاریکیوں سے بھری ہوئی ہوتی ہیں ان قبروں پر میرے نماز پڑھنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ انہیں روشن کردیتا ہے (اس روایت کو بخاری ومسلم نے نقل کیا ہے اور الفاظ مسلم کے ہیں۔ تشریح ایک کالی عورت تھی یا ایک جوان مرد تھا یہ درحقیقت راوی کا شک ہے کہ صحیح طریقہ سے یہ بات یاد نہیں رہی کہ حضرت ابوہریرہ ؓ نے یہ فرمایا تھا کہ ایک کالی عورت تھی جو مسجد میں جھاڑو دیا کرتی تھی یا یہ فرمایا کہ ایک جوان مرد تھا جو جھاڑو دیا کرتا تھا۔ تاریکیوں سے بھری ہوئی قبروں سے مراد صرف وہ قبریں ہیں جن پر آنحضرت ﷺ کا نماز پڑھنا ممکن تھا۔ اس مسئلہ میں کہ قبروں پر نماز جنازہ پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ علماء کا اختلاف ہے چناچہ جمہور علماء کا فیصلہ تو یہ ہے کہ قبر پر نماز جنازہ پڑھنا مشروع ہے خواہ پہلے اس کی نماز جنازہ ادا کی جا چکی ہو یا نہ ادا کی گئی ہو۔ ابراہیم نخعی، حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور حضرت امام رحمہم اللہ کا قول یہ ہے کہ اگر پہلے نماز جنازہ ادا کی جا چکی ہے تو اب قبر پر نماز درست نہیں اور اگر پہلے نماز جنازہ ادا نہ کی گئی ہو تو پھر جائز ہے لیکن حضرت امام ابوحنیفہ کی شرط یہ بھی ہے کہ اگر مردہ اپنی قبر میں پھٹ نہ گیا ہو تو نماز درست ہوگی ورنہ تو قبر میں مردہ کے پھٹ جانے کی صورت میں نماز درست نہیں ہوگی۔ قبر میں مردہ کے پھٹ جانے کا اندازہ بعض حضرات نے تین دن متعین کیا ہے یعنی اگر تدفین کو تین دن نہ گزرے ہوں تو سمجھا جائے گا کہ مردہ اپنی قبر میں ابھی پھٹا نہیں ہے اور اگر تدفین کو تین دن یا تین دن سے زائد کا عرصہ گزر گیا ہو تو سمجھ لینا چاہئے کہ مردہ اپنی قبر میں پھٹ گیا ہے۔

1644Mishkaat-al-Masabih

نماز جنازہ میں چالیس آدمیوں کے شریک ہونے کا ثواب

وعن كريب مولى ابن عباس عن عبد الله بن عباس أنه مات له ابن بقديد أو بعسفان فقال : يا كريب انظر ما اجتمع له من الناس . قال : فخرجت فإذا ناس قد اجتمعوا له فأخبرته فقال : تقول : هم أربعون ؟ قال : نعم . قال : أخرجوه فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ما من رجل مسلم يموت فيقوم على جنازته أربعون رجلا لا يشركون بالله شيئا إلا شفعهم الله فيه . رواه مسلم

حضرت عبداللہ بن عباس کے آزاد کردہ غلام حضرت کریب حضرت عبداللہ بن عباس کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ جب مقام قدید یا مقام عسفاء میں (کہ جو مکہ کے قریب جگہیں ہیں) ان کے صاحبزادے کا انتقال ہوا (اور جنازہ تیار ہوا) تو انہوں نے کہا کہ کریب! جا کر دیکھو کہ نماز جنازہ کے لئے کتنے آدمی جمع ہوگئے ہیں؟ حضرت کریب کہتے ہیں کہ میں (یہ دیکھنے کے لئے) نکلا تو میں نے یہ دیکھا کہ بہت کافی لوگ جمع ہوچکے ہیں میں نے واپس آ کر حضرت ابن عباس کو بتایا (کہ بہت کافی لوگ جمع ہوگئے ہیں) حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ تمہارے خیال میں ان لوگوں کی تعداد چالیس ہوگی؟ میں نے عرض کیا کہ ہاں! حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ تو پھر جنازہ (نماز کے لئے) باہر نکالو کیونکہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب کوئی مسلمان مرے اور اس کے جنازہ کی نماز ایسے چالیس آدمی پڑھیں جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتے ہوں تو اللہ تعالیٰ میت کے حق میں ان لوگوں کی شفاعت قبول کرتا ہے۔ (مسلم)

1645Mishkaat-al-Masabih

نماز جنازہ میں سو آدمیوں کے شریک ہونے کا ثواب

وعن عائشة رضي الله عنها عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ما من ميت تصلي عليه أمة من المسلمين يبلغون مائة كلهم يشفعون له : إلا شفعوا فيه . رواه مسلم

حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس میت کی نماز جنازہ مسلمانوں کی ایک ایسی جماعت پڑھے جس کی تعداد سو تک پہنچ جائے اور یہ جماعت میت کے لئے شفاعت کرے (یعنی دعاء مغفرت کرے) تو اس کی شفاعت قبول کی جاتی ہے (یعنی میت کی مغفرت ہوجاتی ہے۔ (مسلم) تشریح پہلی حدیث میں چالیس آدمیوں کے نماز جنازہ پڑھنے کا ثواب بیان کیا گیا ہے جب کہ دوسری حدیث میں سو آدمیوں کی جماعت کا ذکر فرمایا جا رہا ہے۔ چناچہ علماء اس اختلاف کی وجہ یہ لکھتے ہیں کہ پہلے سو آدمیوں کی شرکت کی فضیلت نازل ہوئی ہوگی پھر بعد میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے حال پر رحم فرماتے ہوئے یہ تعداد کم کر کے چالیس آدمیوں کی شرکت کی فضیلت بیان فرمائی نیز یہ بھی احتمال ہے کہ ان حدیثوں میں چالیس اور سو سے خاص طور پر یہی دونوں عدد نہ ہوں بلکہ ان سے کثرت جماعت مراد ہو۔

1646Mishkaat-al-Masabih

زبان خلق نقارہ خدا

وعن أنس قال : مروا بجنازة فأثنوا عليها خيرا . فقال النبي صلى الله عليه و سلم : وجبت ثم مروا بأخرى فأثنوا عليها شرا . فقال : وجبت فقال عمر : ما وجبت ؟ فقال : هذا أثنيتم عليه خيرا فوجبت له الجنة وهذا أثنيتم عليه شرا فوجبت له النار أنتم شهداء الله في الأرض . وفي رواية : المؤمنون شهداء الله في الأرض

حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ صحابہ ؓ کا ایک جنازہ پر گزر ہوا تو اس کی تعریف کرنے لگے، نبی کریم ﷺ نے صحابہ کی زبان میت کی تعریف سن کر فرمایا کہ واجب ہوگئی۔ اس طرح صحابہ کا ایک دوسرے جنازہ پر گزر ہوا تو اس کی برائی بیان کرنے لگے۔ نبی کریم ﷺ نے صحابہ کی زبان سے میت کی برائی سن کر فرمایا کہ واجب ہوگئی۔ حضرت عمر ؓ نے پوچھا کہ کیا چیز واجب ہوگئی؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کی تم نے تعریف بیان کی اس کے لئے جنت واجب ہوگئی اور اب جس شخص کی تم برائی بیان کر رہے ہو اس کے لئے دوزخ واجب ہوگئی اور (پھر فرمایا کہ) تم زمین پر اللہ تعالیٰ کے گواہ ہو۔ (بخاری و مسلم) ایک اور روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا مومن اللہ تعالیٰ کے گواہ ہیں۔ تشریح جنت واجب ہوگئی، کا مطلب یہ ہے کہ تم جس شخص کی تعریف بیان کر رہے ہو اگر اس کی وہ تعریف صحیح اور سچ ہے یا یہ کہ اس کی موت اسی خیر و بھلائی کی حالت میں ہوئی ہے جیسے تم بیان کر رہے ہو تو اس کے لئے جنت کی سعادت ثابت ہوگئی۔ اسی طرح دوزخ واجب ہوگئی۔ کا مطلب بھی یہی ہے کہ جس شخص کی تم برائی بیان کر رہے ہو۔ اگر اس کی وہ برائی صحیح اور واقعی ہے یا یہ کہ اس کی موت اسی برائی کی حالت میں ہوئی ہے جسے تم بیان کر رہے ہو تو اس کے لئے دوزخ کی سزا ثابت ہوگئی۔ مظہر کا قول ہے کہ یہ حکم عام طور پر ہر شخص کے لئے نہیں ہے کہ جس کسی بھی شخص کے بارے میں لوگ خیر و بھلائی کا ذکر کریں تو اس کے لئے جنت لازم ہی ہوجائے بلکہ جس شخص کے بارے میں لوگ اچھے اور نیک خیالات کا اظہار کریں اور اس کی تعریف بیان کریں تو اس لے لئے جنت کی امید کی جاسکتی ہے۔ اسی طرح جس شخص کے بارے میں لوگ برے خیالات کا اظہار کریں اور زبان خلق اس کی برائی میں مصروف ہو تو اس کے بارے میں یہ خوف ہوسکتا ہے کہ وہ دوزخ میں جائے اب رہی یہ بات کہ آنحضرت ﷺ نے پہلے شخص کے لئے جنت اور دوسرے شخص کے لئے دوزخ کو واجب کیوں کہا؟ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے پہلے شخص کے جنتی ہونے اور دوسرے شخص کے دوزخی ہونے کے فیصلہ سے مطلع کردیا تھا۔ زین عرف فرماتے ہیں کہ کسی شخص کا خیر و بھلائی اور شر و برائی کے ساتھ ذکر کرنا اس کے لئے جنت و دوزخ کو واجب نہیں کرتا بلکہ درحقیقت کسی شخص کے بارے میں زبان خلق کا بھلا یا برا تاثر صرف اس کے جنتی یا دوزخی ہونے کی علامت ہوتا ہے۔ پھر یہ کہ اس تعریف اور اس برائی کا اعتبار ہوگا جس کی نیک بخت لوگوں اور متقی و پرہیز گار بندوں کی زبانیں گواہی دیں کیونکہ اللہ کے نیک بخت و متقی بندوں کی زبان اس کے قلب سلیم کی ہمنوا ہوتی ہے لہٰذا وہ جس شخص کی تعریف کریں گے یا جس شخص کی برائی کریں گے اس میں کسی خارجی دباؤ یا نفس کے کسی غلط تقاضا کا قطعی دخل نہیں ہوگا بلکہ ان کے زبانی اثرات اور حقیقت کے صالح قلب کے صحیح فیصلہ کے غماز ہوں گے چناچہ کسی شخص کے بارے میں ان کے تعریف اس شخص کے جنتی ہونے کی علامت ہوگی اور کسی شخص کے بارے میں ان کی بیان کی ہوئی برائی اس شخص کے دوزخی ہونے کی علامت ہوگی۔ اس سے یہ بات ظاہر ہوگئی کہ اگر کوئی فاسق اور دنیا دار شخص نفس کے غلط تقاضا اور اپنے ذاتی اغراض و مقاصد کی خاطر کسی برے اور بدکار شخص کی تعریف بیان کرے اور اس کے بارے میں اچھے تاثرات کا اظہار کرے یا اسی طرح کسی نیک بخت اور مرد مومن کی برائی بیان کرے تو نہ اس کی تعریف کا اعتبار ہوگا اور نہ اس کی بیان کی ہوئی برائی کی کوئی حیثیت ہوگی بلکہ اس کے بارے میں یہ کہا جائے گا کہ یہ اپنے نفس کا غلام اور ضمیر فروش ہے جو محض ذاتی اغراض و مقاصد کی خاطر اس شخص کو تو اچھا کہہ رہا ہے جس کی برائی اور بدکاری عیاں تھی اور اس نیک بخت کو برا کہہ رہا ہے جس کی نیک بختی مثالی حیثیت رکھتی تھی۔ انتم شہداء اللہ تم (اللہ تعالیٰ کے گواہ ہو) آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد اکثر کے اعتبار سے ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جو شخص جیسا ہے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی زبان سے اسے ویسا ہی کہلواتا ہے یعنی اگر کوئی شخص نیک ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے بندوں کی زبان سے نیک ہی کہلواتا ہے۔ اور کوئی شخص بدکار ہوتا ہے تو اللہ اپنے بندوں کی زبان سے اس کی بدکاری ہی کی شہادت دلواتا ہے چناچہ بندہ کی یہ شہادت درحقیقت اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ وہ جس کے بارے میں جس تاثر کا اظہار کر رہے ہیں وہ واقعۃ ایسا ہی ہے۔

1647Mishkaat-al-Masabih

زبان خلق نقارہ اللہ سمجھو

وعن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أيما مسلم شهد له أربعة بخير أدخله الله الجنة قلنا : وثلاثة ؟ قال : وثلاثة . قلنا واثنان ؟ قال : واثنان ثم لم نسأله عن الواحد . رواه البخاري

حضرت عمر ؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جو مسلمان کہ گواہی دیں واسطے اس کے چار شخص کے ساتھ بھلائی کے داخل کرے گا اس کو اللہ تعالیٰ جنت میں۔ کہا ہم نے اگر تین شخص گواہی دیں؟ فرمایا! اگر تین بھی گواہی دیں تو بھی! کہا ہم نے اگر دو گواہی دیں؟ فرمایا! ور دو بھی! پھر نہ پوچھا ہم نے ان سے حال ایک کا۔ (بخاری)

1648Mishkaat-al-Masabih

جو مرچکے ہیں انہیں برا مت کہو

وعن عائشة رضي الله عنها قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تسبوا الأموات فإنهم قد أفضوا إلى ما قدموا رواه البخاري

حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے نہ برا کہو مردوں کو اس لئے کہ تحقیق وہ پہنچے ساتھ جزا اس چیز کے کہ آگے بھیجی۔ (بخاری)

1649Mishkaat-al-Masabih

شہداء احد کی تکفین وتدفین کا معاملہ

وعن جابر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يجمع بين الرجلين في قتلى أحد في ثوب واحد ثم يقول : أيهم أكثر أخذا للقرآن ؟ فإذا أشير له إلى أحدهما قدمه في اللحد وقال : أنا شهيد على هؤلاء يوم القيامة . وأمر بدفنهم بدمائهم ولم يصل عليهم ولم يغسلوا . رواه البخاري

حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ یہ رسول اللہ ﷺ تھے جمع کرتے دو شخصوں کو شہداء احد میں بیچ ایک کپڑے کے پھر فرماتے تھے کس کو ان میں سے زیادہ قرآن یاد ہے پس جب اشارہ کیا جاتا واسطے اس کے آپ ﷺ کی طرف ان میں سے آگے کرتے اس کو قبر میں اور فرماتے کہ میں گواہی دوں گا دن قیامت کے اور حکم فرمایا ساتھ دفن کرنے ان کے خون سمیت اور نماز پڑھی ان پر اور نہ غسل دئیے گئے۔ (بخاری)

1650Mishkaat-al-Masabih

تدفین کے بعد قبرستان سے سواری پر واپس آنے میں مضائقہ نہیں

وعن جابر بن سمرة قال : أتى النبي صلى الله عليه و سلم بفرس معرور فركبه حين انصرف من جنازة ابن الدحداح ونحن نمشي حوله . رواه مسلم

حضرت جابر بن سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ لایا گیا نبی ﷺ کے پاس گھوڑا بغیر زین کے پس سوار ہوئے اس پر اس وقت کے پھر جنازہ ابن دحداح کے سے اور ہم چلتے تھے گرد حضرت ﷺ کے۔ (مسلم)

1651Mishkaat-al-Masabih

جنازہ کے ساتھ چلنے کا طریقہ

وعن المغيرة بن شعبة أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : الراكب يسير خلف الجنازة والماشي يمشي خلفها وأمامها وعن يمينها وعن يسارها قريبا منها والسقط يصلى عليه ويدعى لوالديه بالمغفرة والرحمة . رواه أبو داود وفي رواية أحمد والترمذي والنسائي وابن ماجه قال : الراكب خلف الجنازة والماشي حيث شاء منها والطفل يصلى عليه وفي المصابيح عن المغيرة بن زياد

حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ سوار چلے پچھلے جنازہ کے اور پیادہ چلے پچھلے جنازہ کے اور آگے اس کے اور دائیں اور بائیں اس کے پاس اس کے اور کچھا بچا نماز پڑھی جائے اس پر اور دعا کی جائے واسطے ماں باپ اس کے ساتھ بخشش اور رحمت کے ( ابوداؤد) اور بیچ روایت احمد اور ترمذی اور نسائی اور ابن ماجہ کے یوں ہے کہ فرمایا سوار چلے پیچھے جنازے کے اور پیادہ جس طرف چاہے جنازے کے چلے اور لڑکا کہ مرجائے نماز جنازے کی پڑھی جائے اس پر اور مصابیح میں یہ روایت مغیرہ بن زیاد سے ہے۔

1652Mishkaat-al-Masabih

جنازہ کے آگے چلنے کا مسئلہ

وعن الزهري عن سالم عن أبيه قال : رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم وأبا بكر وعمر يمشون أمام الجنازة . رواه أحمد وأبو داود والترمذي والنسائي وابن ماجه وقال الترمذي وأهل الحديث كأنهم يرونه مرسلا

زہری (رح) سے روایت ہے کہ روایت کی سالم سے اس نے اپنے باپ سے کہا کہ عبداللہ نے دیکھا میں نے رسول اللہ ﷺ کو اور ابوبکر اور عمر کو چلتے تھے آگے جنازے کے (احمد، ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے اور کہا ترمذی نے اور اہل حدیث گویا جانتے ہیں اس حدیث کو مرسل۔

1653Mishkaat-al-Masabih

جنازہ کے پیچھے چلنا بہتر ہے

وعن عبد الله بن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الجنازة متبوعة ولا تتبع ليس معها من تقدمها . رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه وقال الترمذي وأبو ماجد الراوي رجل مجهول

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جنازہ متبوع ہے اور نہیں وہ تابع نہیں ہوتا ساتھ اس کے وہ شخص کہ آگے بڑھ گیا اس سے (ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ، کہا ترمذی نے ابوماجد راوی مجہول ہے۔

1654Mishkaat-al-Masabih

جنازہ کو کاندھا دینا میت کے حق کی ادائیگی ہے

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من تبع جنازة وحلمها ثلاث مرات : فقد قضى ما عليه من حقها . رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريب

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جو شخص ساتھ ہو وے جنازے کے اور اٹھائے اس کو پس تحقیق ادا کیا حق اس کا اس پر تھا۔ (ترمذی) اور کہا یہ حدیث غریب ہے تحقیق روایت کی شرح السنۃ میں کہ نبی ﷺ نے اٹھایا جنازہ سعد بن معاذ کا درمیان دو لکڑیوں کے۔

1655Mishkaat-al-Masabih

جنازہ کے ساتھ سواری پر چلنے والوں کو آنحضرت ﷺ کی تنبیہ

وعن ثوبان قال : خرجنا مع النبي صلى الله عليه و سلم في جنازة فرأى ناسا ركبانا فقال : ألا تستحيون ؟ إن ملائكة الله على أقدامهم وأنتم على ظهور الدواب . رواه الترمذي وابن ماجه وروى أبو داود نحوه وقال الترمذي : وقد روي عن ثوبان موقوفا

ثوبان ؓ سے روایت ہے کہ نکلے ہم ساتھ نبی ﷺ کے بیچ جنازے کے پس لوگوں کو سوار دیکھا فرمایا کیا نہیں جیا کرتے تم کہ تحقیق فرشتے اللہ کے اپنے قدموں پر ہیں اور تم اوپر پیٹھ جانوروں کے ہو (ترمذی، ابن ماجہ) اور روایت کی ابوداؤد نے مانند اس کی کہا ترمذی نے اور تحقیق روایت کی گئی یہ ثوبان سے موقوف۔

1656Mishkaat-al-Masabih

جنازہ پر سورت فاتحہ کی قرات

وعن ابن عباس : أن النبي صلى الله عليه و سلم قرأ على الجنازة بفاتحة الكتاب . رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه

حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے پڑھی جنازہ پر سورت فاتحہ، (ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ)

1657Mishkaat-al-Masabih

نماز جنازہ میں میت کے لئے خلوص دل سے دعا کرو

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا صليتم على الميت فأخلصوا له الدعاء . رواه أبو داود وابن ماجه

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جس وقت تم پڑھو نماز میت پر پس خالص کرو اس کے لئے دعا۔ ( ابوداؤد، ابن ماجہ)

1658Mishkaat-al-Masabih

نماز جنازہ کی دعا

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا صلى على الجنازة قال : اللهم اغفر لحينا وميتنا وشاهدنا وغائبنا وصغيرنا وكبيرنا وذكرنا وأنثانا . اللهم من أحييته منا فأحيه على الإسلام ومن توفيته منا فتوفه على الإيمان . اللهم لا تحرمنا أجره ولا تفتنا بعده . رواه أحمد وأبو داود والترمذي وابن ماجه

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ تھے رسول اللہ ﷺ جب پڑھتے نماز جنازہ فرماتے یا الٰہی بخشش کر واسطے ہمارے زندوں کے اور ہمارے مردوں کے اور حاضر ہمارے کے اور غائب ہمارے کے اور ہمارے چھوٹوں کے اور ہماری عورتوں کے یا الٰہی جس کو زندہ رکھے تو ہم میں سے پس زندہ رکھ اس کو اسلام پر اور جس کو مارے تو ہم میں سے پس مار اس کو ایمان پر۔ یا الٰہی نہ محروم رکھ ہم کو ثواب اس کے سے اور نہ فتنہ میں ڈال ہم کو پیچھے اس کے۔ (احمد، ابوداؤد، ترمذی، ابن ماجہ) اور روایت کی نسائی نے ابوابراہیم اشہلی سے کہ اس نے نقل کیا اپنے باپ سے اور تمام ہوئی روایت اس کی وانثانا تک اور بیچ روایت ابی داؤد کے پس زندہ رکھ اس کو ایمان پر اور وفات دے اس کو اسلام پر اور اس حدیث کے آخر میں یوں ہے کہ نہ گمراہ کر ہم کو اس کے پیچھے۔

1659Mishkaat-al-Masabih

ایک میت کے لئے آنحضرت ﷺ کی دعا

وعن واثلة بن الأسقع قال : صلى بنا رسول الله صلى الله عليه و سلم على رجل من المسلمين فسمعته يقول : اللهم إن فلان بن فلان في ذمتك وحبل جوارك فقه من فتنة القبر وعذاب النار وأنت أهل الوفاء والحق اللهم اغفر له وارحمه إنك أنت الغفور الرحيم . رواه أبو داود وابن ماجه

حضرت واثلہ بن اسقع ؓ سے روایت ہے کہ نماز پڑھائی ہم کو رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص پر مسلمانوں میں سے پس سنا میں نے آپ ﷺ کو فرماتے تھے یا الٰہی تحقیق فلاں بیٹا فلانے کا بیچ امان تیری کے ہے اور تیری پناہ کے ہے پس بچا اس کو فتنہ قبر سے اور آگ کے عذاب سے اور تو صاحب وفا کا ہے اور تو صاحب حق کا ہے یا الٰہی بخشش کر واسطے اس کے اور رحم کر اس پر تحقیق تو بخشنے والا مہربان ہے۔ ( ابوداؤد، ابن ماجہ) تشریح ملا علی قاری (رح) نے وحبل جو ارک میں لفظ حبل کے کئی معنی بیان کئے ہیں اور آخر میں لکھا ہے کہ اس جملہ کے سب سے بہتر معنی یہ ہیں کہ وہ قرآن کریم سے تعلق رکھنے والا اور اسے مضبوطی سے پکڑنے والا تھا۔ لہٰذا یہاں لفظ حبل سے قرآن مراد ہے جیسا کہ قرآن کریم کی اس آیت (کتاب اللہ کو مضبوطی سے پکڑو) میں حبل سے مراد قرآن کریم ہے اسی طرح لفظ جوار سے امان مراد ہے اور اس جملہ و حبل جو ارک میں اضافت بیانیہ ہے گویا اس جملہ کے وضاحتی معنی یہ ہوں گے کہ وہ شخص قرآن کریم کو مضبوطی سے پکڑنے والا تھا، ایسا قرآن کریم کہ جسے مضبوطی سے اختیار کرنا (یعنی اس پر پوری طرح عمل کرنا) امن و سلامتی ایمان و اسلام اور معرفت کا باعث اور ذریعہ ہے۔

1660Mishkaat-al-Masabih

مردوں کی برائیاں ذکر نہ کرو

وعن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اذكروا محاسن موتاكم وكفوا عن مساويهم . رواه أبو داود والترمذي

حضرت ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تم اپنے مرے ہوئے لوگوں کی نیکیاں ہی ذکر کرلیا کرو اور ان کی برائیوں کے ذکر سے بچتے رہو۔ ( ابوداؤد، ترمذی) تشریح مرے ہوئے لوگوں کے نیک اعمال اور ان کی بھلائیوں کو اس لئے یاد اور بیان کرنا چاہئے کہ نیک اور نیکی کے ذکر کے وقت اللہ تعالیٰ کی رحمت کا نزول ہوتا ہے۔ مردوں کی نیکیوں کو ذکر کرنے کا جو حکم دیا جا رہا ہے وہ استحباب کے طور پر ہے لیکن ان کی برائیوں کے ذکر سے بچنے کا جو حکم دیا جا رہا ہے وہ وجوب کے طور پر ہے یعنی ہر مسلمان پر واجب ہے کہ وہ اپنے مرے ہوئے بھائی کی برائیاں ذکر نہ کرے اور اس فعل سے بچتا رہے چناچہ حجۃ الاسلام نے لکھا ہے کہ مرے ہوئے لوگوں کی غیبت زندہ لوگوں کی غیبت سے کہیں زیادہ قابل نفریں ہے۔ کتاب ازہار میں علماء کا یہ قول لکھا ہوا ہے کہ میت کو نہلانے والا اگر میت میں کوئی اچھی علامت دیکھے مثلاً میت کا چہرہ روشن اور منور ہو یا میت میں سے خوشبو آتی ہو تو اسے لوگوں کے سامنے بیان کرنا مستحب ہے اور اگر کوئی بری علامات دیکھے مثلاً (نعوذباللہ) میت کا چہرہ یا بدن سیاہ ہوگیا ہو یا اس کی صورت مسخ ہوگئی ہو تو اسے لوگوں کے سامنے بیان کرنا حرام ہے۔