Mishkaat-al-Masabih

All 6,333 hadiths in order · Page 63 of 317

1241Mishkaat-al-Masabih

نماز وتر واجب ہے

وَعَنْ اَبِیْ اَیُّوْبَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَلْوِتْرُُ حَقٌّ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ فَمَنْ اَحَبَّ اَن یُّوْتِرَ بِخَمْسٍ فَلْیَفْعَلْ وَمَنْ اَحَبَّ اَن یُّوْتِرَ بِثَلَاثٍ فَلْیَفْعَلْ وَمَنْ اَحَبَّ اَن یُّوْتِرَ بِوَاحِدَۃٍ فَلْیَفْعَلْ۔ (رواہ ابوداؤد و النسائی و ابن ماجۃ)

اور حضرت ابوایوب ؓ راوی ہیں کہ سرو کونین ﷺ نے فرمایا وتر کی نماز ہر مسلمان پر حق یعنی لازم ہے لہٰذا جو آدمی وتر پانچ رکعتیں پڑھنا چاہے وہ پانچ رکعتیں پڑھ لے، جو آدمی تین رکعتیں پڑھنا چاہیے وہ تین رکعتیں پڑھ لے اور جو آدمی ایک ہی رکعت پڑھنا چاہے وہ ایک ہی رکعت پڑھ لے۔ (ابوداؤد، سنن نسائی، ابن ماجہ) تشریح حق کے معنی ہیں واجب اور ثابت، لہٰذا حضرت امام ابوحنیفہ تو حق کے معنی واجب مراد لیتے ہیں، اس لئے وہ فرماتے ہیں کہ وتر کی نماز واجب ہے، حضرت امام شافعی حق کے معنی ثابت مراد لیتے ہیں یعنی وتر کی نماز سنت سے ثابت ہے لہٰذا وہ فرماتے ہیں کہ وتر کی نماز سنت ہے چونکہ اس حدیث میں وتر کی رکعتوں کی تعداد پانچ بھی ثابت ہے اور تین اور ایک بھی، اس لئے حضرت سفیان ثوری اور دیگر ائمہ نے تو پانچ کے عدد کو اختیار کیا ہے۔ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ نے تین کے عدد کو قبول کیا ہے اور حضرت امام شافعی نے ایک کے عدد کو اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وتر کی ایک ہی رکعت ہے۔

1242Mishkaat-al-Masabih

وتر کی فضیلت

وَعَنْ عَلِیٍّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّ اﷲَ وِتْرُ یُّحِبُّ الْوِ تْرَ فَاَوْتِرُوْا یَا اَھْلَ الْقُرْاٰنِ۔ (رواہ الترمذی و ابوداوئد و النسائی )

اور حضرت امیر المومنین علی کرم اللہ وجہہ راوی ہیں کہ اللہ تعالیٰ وتر ہے، وتر کو دوست رکھا ہے لہٰذا اے اہل قرآن وتر پڑھو۔ (جامع ترمذی، سنن ابوداؤد، سنن نسائی) تشریح اللہ تعالیٰ وتر ہے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اپنی ذات وصفات میں یکتا ہے، تنہا ہے اس کا کوئی مثل نہیں ہے اسی طرح اپنے افعال میں بھی وہ یکتا ہے کہ کوئی اس کا مددگار اور شریک نہیں ہے۔ وتر کو دوست رکھتا ہے کا مطلب یہ ہے کہ وتر کی نماز پڑھنے والے کو بہت زیادہ ثواب سے نوازتا ہے اور اس کی اس نماز کو قبول فرماتا ہے۔ حدیث کا حاصل یہ ہے کہ اللہ جل شانہ، چونکہ اپنی ذات وصفات اور اپنے افعال میں یکتا و تنہا ہے کہ کوئی اس کا مثل، شریک اور مددگار نہیں اس لئے وہ طاق عدد کو پسند فرماتا ہے اور چونکہ وتر بھی طاق ہے اس لئے اس کو بھی پسند کرتا ہے اور اس کے پڑھنے والے کو بہت زیادہ ثواب کی سعادت سے نوازتا ہے۔

1243Mishkaat-al-Masabih

وتر کی فضیلت

وَعَنْ خَارِجَۃَ بْنِ حُذَافَۃَ قَالَ خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم وَقَالَ اِنَّ اﷲَ اَمَدَّکُمْ بِصَلَاۃٍ ھِیَ خَیْرٌ لَّکُمْ مِنْ حُمُرِ النَّعَمِ الْوِتْرُ جَعَلَہُ اﷲُ لَکُمْ فِیْمَا بَیْنَ صَلَاۃِ الْعِشَاءِ اِلٰی اَن یَّطْلُعَ الْفَجْرُ۔ (رواہ الترمذی و ابوداؤد)

اور حضرت خارجہ بن حذافہ ؓ فرماتے ہیں کہ (ایک دن) سرور کونین ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ اللہ جل شانہ نے ایک ایسی نماز سے تمہاری امداد کی ہے (یعنی نماز پنج گانہ سے ایک اور زیادہ نماز تمہیں دی ہے) جو تمہارے لئے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے اور وہ وتر کی نماز ہے اور تمہارے لئے یہ نماز عشاء کی نماز کے بعد سے فجر نکلنے تک کے درمیان مقرر کی گئی ہے۔ (یعنی اس وقت ان اوقات کے درمیان درمیان ہے جب چاہو پڑھو)۔ (جامع ترمذی، سنن ابوداؤد) تشریح چونکہ عرب میں اونٹ بہت قیمتی ہوتے ہیں اور عرب والوں کے لئے اموال میں یہ سب سے زیادہ عزیز ہوتے ہیں اس لئے رسول اللہ ﷺ نے رغبت دلانے کے لئے فرمایا کہ وتر کی نماز سرخ اونٹوں سے بھی بہتر ہے گویا مراد یہ ہے کہ وتر کی نماز دنیا کی تمام متاع سے زیادہ بہتر ہے۔ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وتر کی نماز واجب ہے اور اس کو عشاء کی نماز سے پہلے پڑھنا جائز نہیں ہے۔

1244Mishkaat-al-Masabih

وتر کی قضا کا حکم

وَعَنْ زَیْدِ بْنِ اَسْلَمَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ نَامَ عَنْ وِتْرِہٖ فَلْیُصَلِّ اِذَا اَصْبَحَ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ مُرْسَلًا۔

اور حضرت زید بن اسلم راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا جو آدمی وتر سے غافل ہو کر (یعنی وتر پڑھے بغیر) سو جائے تو اسے چاہیے کہ صبح ہو تو پڑھ لے اس روایت کو ترمذی نے بطریق ارسال نقل کیا ہے۔ تشریح اگر کسی ایسے آدمی کی وتر کی نماز رات کو پڑھنے سے رہ جائے جو صاحب ترتیب ہے تو صبح اٹھ کر اگر اس کے لئے ممکن ہو یعنی اتنا وقت ہو کہ وتر پڑھ سکے تو فجر کی فرض نماز سے پہلے وتر کی قضا پڑھ لے۔ اور اگر فجر کے فرض سے پہلے اس کا پڑھنا ممکن نہ ہو یعنی اتنا وقت نہ ہو تو پھر فجر کی فرض نماز پڑھنے کے بعد پڑھے۔ ہاں اگر ایسے آدمی کے وتر رہ گئے ہوں جو صاحب ترتیب نہیں ہے تو اسے اختیار ہے چاہے تو نماز فجر سے پہلے پڑھ لے اور چاہے نماز فرض کے بعد پڑھے۔

1245Mishkaat-al-Masabih

رسول اللہ ﷺ وتر میں کون کونسی سورتیں پڑھتے تھے

وَعَنْ عَبْدِالْعَزِیْزِ بْنِ جُرَیْجٍ قَالَ سَأَلْنَا عَآئِشَۃَ بِاَیِّ شَیْ ءٍ کَانَ یُوْتِرُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَتْ کَانَ یَقْرَأُ فِی الْاُوْلٰی بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلٰی وَفِی الثَّانِیَۃِ بِقُلْ ٰیاَ اَیُّھَا الْکَافِرُوْنَ وَفِی الثَّالِثَۃِ بِقُلْ ھُوَ اﷲُ اَحَدٌ وَالْمُعَوِّذَتِیْنِ۔ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَ اَبُوْدَاؤدَ وَرَوَاہُ النِّسَائِیُّ عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ ابْنِ اَبْزٰی وَرَوَاہ، اَحْمَدُ عَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ وَالدَّارِمِیُّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَلَمْ یَذْکُرَاوَالْمُعَوَّذَتَیْنِ۔

اور حضرت عبدالعزیز بن جریج فرماتے ہیں کہ ہم حضرت عائشہ ؓ پوچھا کہ سرور کونین ﷺ وتر میں کون کون سے سورتیں پڑھا کرتے تھے؟ حضرت عائشہ نے فرمایا کہ آپ ﷺ پہلی رکعت میں سَبَّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلٰی دوسری رکعت میں قُلْ ٰیاَ یُّھَا الْکٰفِرُوْنَ اور تیسری رکعت میں اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ پڑھا کرتے تھے (جامع ترمذی وسنن ابوداؤد) اور اس روایت کو امام نسائی نے حضرت عبدالرحمن بن ابزی سے، امام احمد نے حضرت ابی بن کعب ؓ سے اور امام دارمی نے حضرت عباس ؓ سے نقل کیا ہے مگر امام دارمی نے اپنی روایت میں لفظ معوذتین ذکر نہیں کیا یعنی انہوں نے محض یہ نقل کیا ہے کہ آپ ﷺ وتر کی تیسری رکعت میں صرف قل ھو اللہ پڑھتے تھے۔ تشریح محقق علامہ ابن ہمام فرماتے ہیں کہ حنفیہ نے آخری روایت یعنی درامی کی نقل کردہ روایت پر عمل کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ وتر کی تیسری رکعت میں قل ھو اللہ پڑھا کرتے تھے۔ چناچہ حنفی حضرات وتر کی تیسری رکعت میں صرف قل ہو اللہ ہی پڑھتے ہیں۔ حنفی حضرات کے پیش نظر صرف یہی روایت نہیں بلکہ حضرت عائشہ ہی کی ایک دوسری روایت بھی ان کے مسلک کی دلیل ہے جس میں منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ تیسری رکعت میں قل ہو اللہ ہی پڑھتے تھے۔ جہاں تک حضرت عائشہ کی اس روایت کا تعلق ہے جو یہاں نقل کی گئی ہے اور جس سے وتر کی تیسری رکعت میں قل ہو اللہ کے علاوہ معوذتین (یعنی قل اعوذ برب الفلق و قل اعوذ برب الناس) کا پڑھنا بھی ثابت ہوتا ہے کہ اس پر حنفیہ اس لئے عمل نہیں کرتے کہ اول تو اس روایت کی سند میں ضعف ہے، نیز یہ کہ اس میں جو طریقہ ذکر کیا گیا ہے وہ رسول اللہ ﷺ کی عادت کے خلاف معلوم ہوتا ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے بارے میں تو یہ صراحت سے ثابت ہوچکا ہے کہ آپ ﷺ بعد کی رکعت کو پہلی رکعتوں کی بنسبت مختصر کرتے تھے جب کہ اس روایت کے پیش نظر تیسری رکعت میں پہلی دونوں رکعتوں کی بنسبت کہیں زیادہ طویل ہوجاتی ہے ملا علی قاری نے اس سلسلے میں تفصیل کے ساتھ گفتگو کی ہے اور حنفیہ کی طرف سے اور بھی دلائل پیش کئے ہیں جسے اہل علم ان کی کتاب مرقاۃ میں دیکھ سکتے ہیں۔ یہ حدیث بصراحت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ وتر کی تینوں رکعتیں ایک ہی سلام سے پڑھتے تھے۔

1246Mishkaat-al-Masabih

وتر میں پڑھی جانے والی دعا

وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِیِّ قَالَ عَلَّمَنِی رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم کَلِمَاتٍ اَقُوْلُھُنَّ فِی قُنُوْتِ الْوِتْرِ اَللّٰھُمَّ اھْدِنِیْ فِیْمَنْ ھَدَیْتَ وَعَافِنِی فِیْمَنْ عَافَیْتَ وَتَوَلَّنِی فِیْمَنْ تَوَلَّیْتَ وَبَارِکْ لِی فِیْمَآ اَعْطَیْتَ وَقِنِی شَرَّ مَاقَضَّیْتَ فَاِنَّکَ تَقْضِی وَلَا یُقْضٰی عَلَیْکَ اِنَّہ، لَّا یُذِلُّ مَنْ وَّالَیْتَ تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَیْتَ۔ (رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجۃ والدارمی)

اور حضرت حسن بن علی المرتضیٰ فرماتے ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے مجھے کچھ کلمات سکھائے تاکہ میں انہیں وتر کی دعا قنوت میں پڑھا کروں اور وہ کلمات دیا یہ ہیں اَللّٰھُمَّ اھْدِنِیْ فِیْمَنْ ھَدَیْتَ وَعَافِنِی فِیْمَنْ عَافَیْتَ وَتَوَلَّنِی فِیْمَنْ تَوَلَّیْتَ وَبَارِکْ لِی فِیْمَآ اَعْطَیْتَ وَقِنِی شَرَّ مَاقَضَّیْتَ فَاِنَّکَ تَقْضِی وَلَا یُقْضٰی عَلَیْکَ اِنَّہ، لَّا یُذِلُّ مَنْ وَّالَیْتَ تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَیْتَ اے اللہ! مجھے ہدایت کر ان لوگوں کے ساتھ (یعنی انبیاء و اولیا کے ساتھ) جن کو تو نے ہدایت کی مجھے دنیا اور آخرت کی مصیبتوں اور آفتوں سے بچا اور لوگوں کے ساتھ جن کو تو نے بچایا اور مجھ سے محبت کر ان لوگوں کے ساتھ جن سے تو نے محبت کی اور جو کچھ تو نے مجھے عطا کیا ہے (یعنی عمر، مال، علم اور نیک اعمال) ان میں برکت عطا فرما اور مجھے ان برائیوں سے بچا جو مقدر ہوں، بیشک تو جو چاہتا ہے وہ حکم کرتا ہے اور تجھے کوئی حکم نہیں کرتا (یعنی تو حاکم مطلق ہے محکوم نہیں ہے اور جسے تو دوست رکھتا ہے وہ ذلیل نہیں ہوسکتا اے ہمارے رب تو بابرکت ہے (یعنی دارین پر تیرا خیر ہی خیر محیط ہے) اور تیری ذات بلندو برتر ہے۔ (جامع ترمذی، سنن ابوداؤد، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ، دارمی) تشریح حضرت حسن کے الفاظ اقولھن فی قنوت الوتر (تاکہ میں وتر کی دعا قنوت میں پڑھا کروں) سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ قنوت الوتر کو مطلقاً زکر کرنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ دعا تمام سال یعنی تمام دنوں میں پڑھنی مراد ہے جیسا کہ حنفیہ کا مسلک ہے مگر حضرت شوافع دعائے قنوت کو رمضان کے آخری نصف ایام میں وتر کے ساتھ مقید کرتے ہیں گویا کہ شافعی حضرات کے یہاں تو صرف رمضان کے نصف آخری ایام میں وتر کی نماز میں دعائے قنوت پڑھی جاتی ہے جب کہ حنفی حضرات تمام دنوں میں نماز وتر میں دعائے قنوت پڑھتے ہیں۔ اَللّٰھُمَّ اَھْدِنِی اے اللہ! مجھے ہدایت کر یعنی ہدایت کے راستے پر مجھے ثابت قدم رکھ۔ یا ہدایت کے اسباب و ذرائع زیادہ سے زیادہ مجھے عطا فرماتا کہ ان کو اختیار کر کے اعلیٰ مرتبے اور علیٰ درجے پر پہنچ سکوں۔ انہ لا یذل من والیت (جسے تو دوست رکھتا وہ ذلیل نہیں ہوسکتا کا مطلب یہ ہے کہ جسے تو نے اپنا دوست بنا لیا بایں طور کہ اسے نیک راستے پر چلنے اور صالح اعمال اختیار کرنے کی توفیق عطا فرما کر سعادت و خوشی بختی کے مرتبے پر فائز کیا وہ آخرت میں ذلیل و شرمسار نہیں ہوسکتا۔ پھر یہاں مطلقاً ذلت سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا مطیع و فرما نبردار بندہ جسے وہ محبوب رکھتا ہے، نہ آخرت میں نادم و شرمسار ہوسکتا ہے اور نہ ہی دنیا میں ذلت و رسوائی اس کے پاس پھٹک سکتی ہے۔ اگرچہ بظاہر دنیا کی نظروں میں وہ کسی بلاو مصیبت میں گرفتار ہو یا کوئی آدمی اسے ذلیل و خوار کرے مگر حقیقت میں وہ اللہ کے نزدیک با عظمت و با عزت ہی ہوتا ہے جیسا کہ دنیا کے لوگوں نے اللہ کے پیغمبر اور نبی حضرت زکریا (علیہ السلام) کو آرے سے چیرا اور حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کو ذبح کیا۔ لہٰذا ان جلیل القدر پیغمبروں کو ظلم و ستم کے اس اسٹیج سے اس لئے گزرنا نہیں پڑا کہ معاذ اللہ وہ اللہ کے محبوب اور دوست نہیں تھے بلکہ درحقیقت ان کو امتحان و آزمائش میں ڈالا گیا۔ غرضیکہ دنیا والوں کے ذلیل کرنے سے اللہ کے نیک و محبوب بندے ذلیل نہیں ہوتے اللہ کے نزدیک وہ عزت والے ہی ہوتے ہیں۔ بعض روایتوں میں اِنَّہ لَّا یُذِلُّ مَنْ وَّالَیْتَ کے بعد ولا یعزمن عادیت (اور جس سے تجھ کو عداوت ہو وہ عزت نہیں پاسکتا) کے الفاظ بھی منقول ہیں۔ اسی طرح بعض روایتوں میں وَتَعَالَیْتَ کے بعد نَسْتَغْفِرُکَ وَنَتُوْبُ الیک (اے اللہ ہم اپنے گناہوں کی معافی چاہتے ہیں اور تیرے ہی سامنے توبہ کرتے ہیں) اور بعض روایتوں میں اس کے بعد الفاظ مزید نقل کئے گئے ہیں۔ بہر حال حضرات شوافع کی دعا قنوت یہ ہے کہ وہ حضرات اسی دعا کو وتر اور فجر نماز میں پڑھتے ہیں حنفی حضرات کے ہاں وتر کی نماز میں جو دعائے قنوت پڑھی جاتی ہے وہ اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْتَعِیْنُکَ الخ ہے جو ہم شروع باب میں نقل کرچکے ہیں۔ بعض علماء کی رائے ہے کہ وتر کی نماز میں اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْتَعِیْنُک الخ اور اَللّٰھُمَّ اھْدِنِیْ الخ دونوں دعائیں پڑھنا افضل ہے جیسا کہ شروع باب میں ہم نے دونوں دعائیں نقل کی ہیں۔ دعائے قنوت کے سلسلہ میں ائمہ کے ہاں مختلف فیہ چیزیں محقق علامہ ابن ہمام علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ سلسلے میں ائمہ کے ہاں تین باتیں مختلف فیہ ہیں ایک تو یہ کہ دعائے قنوت رکوع سے پہلے پڑھی جائے یا بعد میں؟ دوسری بات یہ کہ دعاء قنوت و ترکی نماز میں تمام دنوں میں پڑھی جائے یا صرف رمضان کے آخری نصف حصے میں؟ تیسری چیز یہ کہ دعاء قنوت وتر کے علاوہ کسی اور نماز میں پڑھی جائے یا نہیں؟ چناچہ حضرت امام شافعی تو فرماتے ہیں کہ دعائے قنوت رکوع کے بعد پڑھی جائے مگر حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کی دلیل بہت زیادہ قوی ہے اس سلسلے میں اہل علم اور محققین حضرات مرقاۃ میں پوری تفصیل دیکھ سکتے ہیں جہاں تک دوسری اور تیسری مختلف باتوں کا تعلق ہے تو ہم انشاء اللہ ان دونوں مسئلوں کو آگے آنے والے باب باب القنوت میں تفصیل کے ساتھ بیان کریں گے۔

1247Mishkaat-al-Masabih

نماز وتر کے سلام کے بعد تسبیح

وَعَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا سَلَّمَ فِی الْوِتْرِ قَالَ سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ وَ النِّسَائِیُّ وَزَادَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ یُطِیْلُ وَفِی رِوَایَۃٍ لِلنِّسَائِیِّ عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ ابْنِ ابْزٰی عَنْ اَبِیْہٖ قَالَ کَانَ یَقُوْلُ اِذَا سَلَّمَ سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ ثَلاثَا وَّ یَرْفَعُ صَوْتَہ، بِالثَّالِثَۃِ۔

اور حضرت ابی بن کعب فرماتے ہیں کہ سرور کونین ﷺ جب وتر کی نماز میں سلام پھیرتے تو یہ کہتے سُبْحَانَ الْمَلَکُ الْقُدُّوْسِ (یعنی پاک ہے بادشاہ نہایت) ( ابوداؤد و سنن نسائی) نسائی نے یہ الفاظ بھی نقل کئے ہیں کہ آپ ﷺ یہ (تسبیح) تین مرتبہ کہتے تھے اور تیسری مرتبہ آواز بلند فرماتے تھے، نیز نسائی نے ایک روایت عبدالرحمن بن ابزی سے نقل کی ہے جس میں وہ (عبدالرحمن) اپنے والد مکرم سے نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ (رسول اللہ ﷺ جب سلام پھیر لیتے تو تین مرتبہ سُبْحَانَ الْمَلَکُ الْقُدُّوْسِ فرماتے ہیں اور تیسری مرتبہ بآواز بلند فرماتے ہیں۔ تشریح دار قطنی نے جو روایت نقل کی ہے اس میں رَبُّ الْمَلَائِکَۃُ وَالرُّوْحِ کے الفاظ بھی مذکور ہیں، گویا پوری تسبیح یوں ہے سُبْحَانَ الْمَلَکُ الْقُدُّوْسِ رَبُّ الْمَلَائِکَۃُ وَالرُّوْحِ۔

1248Mishkaat-al-Masabih

نماز وتر میں رسول اللہ ﷺ کی دعا

عَنْ عَلِیِّ قَالَ اِنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم کَانَ یَقُوْلُ فِی اٰخِرِ وِتْرِہٖ اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَعُوْذُ بِرَضَآئِکَ مِنْ سَخْطِکَ بِمُعَا فَاتِکَ مِنْ عُقُوْبِتِکَ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْکَ لَا اُحْصِی ثَنَائً عَلَیْکَ اَنْتَ کَمَا اَثْنَیْتَ عَلَی نَفْسِکَ۔(رواہ ابوداؤدو الترمذی والنسائی وابن ماجۃ)

اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ سرور کونین ﷺ اپنی نماز و تر کے آخر میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِرَضَائِکَ مِنْ سَخَطِکَ بِمُعَافَاتِکَ مِنْ عُقُوْبَتِکَ اَعُوْذُبِکَ مِنْکَ لَا اُحْصِیَ ثَنَاءُ عَلَیْکَ اَنْتَ کَمَا اثْنَیْتَ عَلٰی نَفْسِکَ اے اللہ میں پناہ چاہتا ہوں تیری رضا و خوشنودی کے ذریعے تیرے غضب سے اور تیری عافیت کے ذریعے تیرے عذاب سے اور میں پناہ مانگتا ہوں تیری ذات کے ذریعہ تیرے آثار صفات (یعنی غضب و غصہ سے (مجھ میں طاقت نہیں کہ تیری تعریف کرسکوں کیونکہ) تیری تعریف کا شمار نہیں تو ایسا ہی ہے جیسا کہ تو نے اپنی تعریف کی۔ (سنن ابوداؤد، جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ) تشریح رسول اللہ ﷺ یہ دعا وتر کی تیسری رکعت میں رکوع کے بعد پڑھا کرتے تھے چناچہ حضرت امام مالک (رح) نے اس کو اختیار کیا ہے بعض حضرات فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ یہ دعا سلام کے بعد پڑھتے تھے اور بعض کا قول ہے کہ سلام سے پہلے التحیات میں پڑھتے تھے اسی طرح بعض محققین کا کہنا ہے کہ آپ یہ دعا سجود میں پڑھا کرتے تھے۔ سنن نسائی نے ایک روایت اور نقل کی ہے جس میں صراحت کی گئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب اپنی نماز سے فارغ ہوجاتے اور بستر پر تشریف لاتے تو یہ دعا پڑھتے۔ وا اللہ اعلم مستقل طور پر کسی خاص دعاء قنوت کو مقرر کرلینے کا مسئلہ علامہ ابن ہمام فرماتے ہیں کہ علماء کی ایک جماعت سے منقول ہے کہ دعائے قنوت کے سلسلے میں تو قیف نہ کی جائے یعنی ایک ہی دعا کو پڑھنے کے لئے بطور خاص مقرر نہ کرلیا جائے کیونکہ کسی دعا کو مقرر کرلینے اور پھر اسی کو مستقل طو پر پڑھنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ دعا زبان پر بایں طور جاری ہوجاتی ہے کہ قلب زبان کی ہمنوائی سے محروم ہوتا ہے۔ یعنی اس دعا کے پڑھنے کے وقت عادت کے مطابق صرف زبان ہی کام کرتی ہے دل میں نہ تو دعا کے مقصود کی لگن ہوتی ہے اور نہ اس کی طرف رغبت کا احساس ہوتا ہے لہٰذا دعا کا جو مقصود اور مطلوب ہوتا ہے وہ حاصل نہیں ہوتا کیونکہ دعا تو وہی کام کرتی ہے جو قلب کی گہرائیوں سے نکلتی ہے اور جو احساس و شعور اور دلی رغبت زبان کی ہمنوا ہوتی ہے۔ لیکن بعض دوسرے علماء یہ بھی فرماتے ہیں کہ یہ حکم اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْتَعِیْنُک الخ کے علاوہ دوسری دعاؤں کے بارے میں ہے یعنی اسی دعا کو بطور خاص مستقل طور پر پڑھنے کے لئے مقرر کرلینا منع نہیں ہے البتہ اس کے علاوہ دوسری دعاؤں کو مستقل طور پر اختیار نہ کیا جائے بلکہ کبھی کوئی دعا پڑھ لی جائے اور کبھی کوئی کیونکہ صحابہ کرام نے اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْتَعِیْنُک الخ کے پڑھنے پر اتفاق کیا ہے اور یہی دعا مستقل طور پر پڑھتے تھے اگرچہ اس کے علاوہ دوسری دعائے قنوت بھی جائز ہے۔ اسی طرح محیط میں اَللّٰہُمَّ اھْدِنِیْ کو بھی متسثنیٰ قرار دیا گیا ہے یعنی اس دعا کی تو قیف بھی ممنوع نہیں ہے۔

1249Mishkaat-al-Masabih

حضرت معاویہ کا ایک رکعت وتر پڑھنا

وَ عِنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ص قِےْلَ لَہُ ھَلْ لَّکَ فِیْ اَمِےْرِ الْمُؤْمِنِےْنَ مُعَاوِےَۃَ مَا اَوْتَرَ اِلَّا بِوَاحِدَۃٍ قَالَ اَصَابَ اَنَّہُ فَقِےْہٌ وَفِی رِوَاےَۃٍ قَالَ ابْنُ اَبِیْ مُلَیْکَۃَ اَوْتَرَ مُعَاوِےَۃُ بَعْدَالْعِشَآءِ بِرَکْعَۃٍ وَّعِنْدَہُ مَوْلًی لِاّبْنِ عَبَّاسٍ فَاَتَی ابْنَ عَبَّاسٍ فَاَخْبَرَہُ فَقَالَ دَعْہُ فَاِنَّہُ قَدْ صَحِبَ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم(صحیح البخاری)

حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کے بارے میں منقول ہے کہ ان سے پوچھا گیا کہ آپ امیر المومنین حضرت معاویہ ؓ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو وتر کی ایک رکعت پڑھتے ہیں؟ حضرت عباس نے فرمایا وہ فقیہ ہیں (جو کچھ کرتے ہیں) اچھا کرتے ہیں ایک دوسری روایت میں حضرت ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ حضرت امیر معاویہ ؓ نے عشاء کی نماز کے بعد وتر کی ایک رکعت پڑھی، ان کے پاس ہی حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کے آزاد کردہ غلام بھی موجود تھے (جب انہوں نے یہ دیکھا تو) وہ حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہیں بتایا (کہ حضرت معاویہ نے وتر کی ایک رکعت پڑھی ہے) حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ ان کے بارے میں کچھ نہ کہو، انہیں رسول اللہ ﷺ کی صحبت کا شرف حاصل ہے ( ہوسکتا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کا کوئی ایسا عمل دیکھا ہو جو دوسرے نہ دیکھ سکے ہوں)۔ (صحیح البخاری ) تشریح بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت معاویہ ؓ نے وتر کی ایک ہی رکعت پڑھی ہوگی جس پر دیکھنے والوں کو تعجب ہوا ہو کہ جب دوسرے صحابہ کرام وتر کی تین رکعتیں پڑھتے ہیں تو یہ ایک ہی رکعت کیوں پڑھتے ہیں؟ اور پھر انہوں نے اس کا تذکرہ حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے کیا لیکن یہ بھی، احتمال ہوسکتا ہے کہ حضرت معاویہ ؓ نے پہلے پڑھی گئی دو رکعت سے ملی ہوئی وتر کی رکعت پڑھی ہو، اس صورت میں دیکھنے والوں نے اس لئے اعتراض کیا کہ حضرت معاویہ ؓ نے صرف وتر ہی پر اکتفا کیا ہوگا اور عشاء کی نماز یا تہجد کی نماز چھوڑ دی ہوگی۔

1250Mishkaat-al-Masabih

وتر پڑھنے کی تاکید

وَعَنْ بُرَیْدَۃَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَقُوْلُ الْوِتْرُ حَقٌّ فَمَنْ لَّمْ یُوْتِرْ فَلَیْسَ مِنَّا اَلْوِتْر حَقٌّ فَمَنْ لَّمْ یُوْتِرْ فَلَیْسَ مِنَّا اَلْوِتْرُ حَقٌّ فَمَنْ لَمْ یُوْتِرْ فَلَیْسَ مِنَّا۔ (رواہ ابوداؤد)

اور حضرت بریدہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے سرور کونین ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ وتر حق ( یعنی واجب ہے) لہٰذا جو آدمی وتر نہ پڑھے وہ ہم میں سے (یعنی ہمارے تابعداروں میں سے) نہیں ہے، وتر حق ہے لہٰذا جو آدمی وتر نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ (سنن ابوداؤد) تشریح وتر کی اہمیت اور اس کی حقیقت کو اس انداز سے بار بار بیان کرنا اور پھر اس کے نہ پڑھنے والے کے بارے میں یہ کہنا کہ جو آدمی وتر نہ پڑھے وہ ہمارے تابعداروں میں سے نہیں ہے اس بات پر صریح دلیل ہے کہ وتر کی نماز واجب ہے جیسا کہ حنفیہ کا مسلک ہے۔

1251Mishkaat-al-Masabih

وتر کی قضاء پڑھنی چاہیے

وَعَنْ اَبِی سَعَیْدٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ نَّامَ عَنِ الْوِتْرِ اَوْنَسِیَہ، فَلْیُصَلِّ اِذَا ذَکَرَ وَ اِذَا اسْتَیْقَظَ۔ (رواہ الترمذی و ابوداؤ و ابن ماجۃ)

اور حضرت ابوسعید ؓ راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا جو آدمی و تر پڑھے بغیر سو جائے یا اسے پڑھنا بھول جائے تو اسے چاہیے کہ جب بھی اسے یاد آئے یا نیند سے بیدار ہو تو (اس کی قضاء) پڑھ لے۔ (جامع ترمذی ِ ابوداؤد، سنن ابن ماجہ)

1252Mishkaat-al-Masabih

نماز وتر واجب ہے یا سنت

وَعَنْ مَّالِکِ بَلَغَہ، اَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْوِتْرِ اَوَاجِبٌ ھُوَ؟ فَقَالَ عَبْدُاﷲِ قَدْ اَوْتَرَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم وَاَوْتَرَ الْمُسْلِمُوْنَ فَجَعَلَ الْرَّجُلُ یُرَدِّدُ عَلَیْہِ وَعَبْدُاﷲِ یَقُوْلُ اَوْتَرَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم وَاَوْتَرَ الْمُسْلِمُوْنَ ۔ (رواہ فی الموطا)

اور حضرت امام مالک (رح) کے بارے میں منقول ہے کہ انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ ایک آدمی نے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے سوال کیا کہ وتر کی نماز واجب ہے (یا سنت ہے) حضرت عبداللہ ؓ نے (کوئی صریح جواب دینے کی بجائے) فرمایا کہ وتر کی نماز رسول اللہ ﷺ نے بھی پڑھی ہے اور دوسرے مسلمانوں نے بھی! وہ آدمی بار بار یہی سوال کرتا تھا اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ یہی کہے جاتے تھے کہ وتر کی نماز رسول اللہ ﷺ نے بھی پڑھی ہے اور دوسرے مسلمانوں نے بھی پڑھی ہے۔ موطا تشریح کسی سوال کے جواب دینے کا ایک بلیغ طریقہ یہ بھی ہوتا ہے کہ کسی خاص مصلحت کی بنا پر مدلول (اصل جواب) کا ذکر نہ کیا جائے اور صرف دلیل بیان کردی جائے، چناچہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے جب ایک آدمی نے وتر کی نماز کے وجوب یا سنت کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے مدلول کے بجائے صرف دلیل پر اکتفا کیا گو ان کا مطلب یہ تھا کہ وتر کی نماز واجب ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا مستقل طور پر بطریق مواظبت وتر کی نماز پڑھنا اور اہل اسلام کا اس پر متفق ہونا اس بات کی دلیل ہے۔ اب رہا یہ سوال کہ جب سائل حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ سے صریح جواب چاہنے کے لئے ان سے باربار سوال کرتا تھا تو انہوں نے صاف طریقہ سے یہ کیوں نہیں کہہ دیا کہ وتر کی نماز واجب ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے انداز بیان اور جواب کا یہ طریقہ احتیاط کے پیش نظر اختیار کیا کیونکہ انہوں نے اس سلسلہ میں رسول اللہ ﷺ سے کوئی صریح بات نہیں سنی تھی اس لئے انہوں نے بھی صریح جواب دینا مناسب نہیں سمجھا۔

1253Mishkaat-al-Masabih

نماز وتر کی قرأت

وَعَنْ عَلِیٍّ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُوْتِرُ بِثَلَاثٍ یُقْرَأُ فِیْھِنَّ بِتِسْعِ سُوَرٍ مِّنَ الْمُفَصَّلِ یَقْرَأُ فِیْ کُلِّ رَکْعَۃٍ بِثلَاَثٍ سُوَرٍ اٰخِرُھُنِّ قُلْ ھُوَاﷲُ اَحَدٌ۔ (رواہ الترمذی)

اور امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ سرور کونین ﷺ وتر کی تین رکعتیں پڑھا کرتے تھے جن میں آپ ﷺ مفصل کی نو سورتیں (اس طرح) پڑھا کرتے تھے (کہ) ہر رکعت میں تین تین سورتیں پڑھتے اور آخری سورت قل ہو اللہ ہوا کرتی تھی۔ (جامع ترمذی ) تشریح بعض روایتوں میں اس اجمال کی تفصیل اس طرح بیان کی گئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ پہلی رکعت اَلْھٰکُمُ التَّکَاثُرُ اِنَّا اَنْزَلْنٰہ ُ اور اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ پڑھتے، دوسری رکعت میں وَالْعَصْرِ۔ اِذَا جَآءَ نَصْرُ ا اور اِنَّا اَعْطَیْنٰکَ پڑھتے اور تیسری رکعت میں قل یا ایھا الکافرون۔ تبت یدا اور قل ھو اللہ پڑھتے تھے۔

1254Mishkaat-al-Masabih

حضرت عبداللہ ابن عمر کا واقعہ

وَعَنَ نَّافِعٍ قَالَ کُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ بِمَکَّۃَ وَالسَّمَآءُ مُغِیْمَۃٌ فَخَشِیَّ الصُّبْحَ فَاَوْتَرَ بِوَاحِدَۃٍ ثُمَّ انْکَشَفَ فَرَأَی اَنَّ عَلَیْہِ لَیْلًا فَشَفَعَ بِوَاحِدَۃٍ ثُمَّ صَلّٰی رَکْعَتَیْنِ فَلَمَّا خَشِیَ الصُّبْحَ اَوْتَرَ بِوَاحِدَۃٍ۔ (رواہ موطا امام مالک)

اور حضرت نافع (رح) فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ کے ہمراہ مکہ معظمہ میں تھا اور اس دن رات کو آسمان ابر آلود تھا، جب حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ کو صبح ہوجانے کا اندیشہ ہوا تو انہوں نے ایک رکعت وتر کی پڑھ لی، پھر ابر صاف ہوگیا اور انہوں دیکھا کہ ابھی رات کافی باقی ہے چناچہ انہوں نے ایک رکعت اور پڑھ کر (پہلی رکعت کے ساتھ ملا کر اسے) دوگانہ کردیا اور اس کے بعد دو دو رکعت (نفل کی) پڑھتے رہے، جب پھر صبح ہوجانے کا اندیشہ ہوا تو انہوں نے وتر کی ایک رکعت پڑھ لی۔ (مالک)

1255Mishkaat-al-Masabih

بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ایک اور طریقہ

وَعَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ کَانَ یُصَلِّی جَالِسًا فَیَقْرَأُ وَھُوَ جَالِسٌ فَاِذَا بَقِیَ مِن قِرَاءَ تِہٖ قَدْ رُمَا یَکُوْنُ ثَلَاثِیْنَ اَوْ اَرْبَعِیْنَ اٰیَۃً قَامَ وَقَرَأَ وَھُوَ قَائِمٌ ثُمَّ رَکَعَ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ یَفْعَلُ فِی الرَّکْعَۃِ الثَّانِیَۃِ مِثْلَ ذَالِکَ (صحیح مسلم)

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ سرور کونین ﷺ (آخر عمر کو دن یا رات میں اس طرح بھی) بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے (طویل قرأت کی وجہ سے) بیٹھے بیٹھے قرأت فرماتے اور جب تیس یا چالیس آیات باقی رہ جاتیں تو کھڑے ہوجاتے اور انہیں کھڑے کھڑے پڑھتے پھر رکوع کرتے اور سجدے میں جاتے اسی طرح دوسری رکعت میں بھی پڑھتے۔ (صحیح مسلم) تشریح اس طرح نماز پڑھنی بالا تفاق جائز ہے لیکن اس کا عکس جائز نہیں چناچہ اس کی تفصیل باب السنن میں بیان کی جا چکی ہے۔ بظاہر اس باب سے اس حدیث کا کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔ ہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس حدیث میں چونکہ شفع (دوگانہ) کا ذکر ہے جو وتر کا مقدمہ ہے اس لئے اسے اس باب میں نقل کیا گیا ہے۔

1256Mishkaat-al-Masabih

وتر کے بعد کی دو رکعتیں

وَعَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ اَنَّ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم کَانَ یُصَلِّی بَعْدَ الْوِتْرِ رَکْعَتَیْنِ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَزَادَا بْنُ مَاجَۃَ خَفَیْفَتَیْنِ وَھُوْ جَالِسٌ۔

اور ام المومنین حضرت ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں کہ سرور کونین ﷺ وتر کے بعد دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ (جامع ترمذی) ابن ماجہ نے اس روایت میں خَفِیْفَتَیْنِ وَھُوَ جَالِسٌ کے الفاظ بھی نقل کئے ہیں یعنی رسول اللہ ﷺ وتر کے بعد دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔

1257Mishkaat-al-Masabih

وتر کے بعد کی دو رکعتیں

وَعَنْ عَآئِشَۃَ قَالَتْ کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یُوْتِرُ بِوَاحِدَۃٌ ثُمَّ یَرْکَعُ رَکْعَتَیْنِ یَقْرَأُفِیْھِمَا وَھُوَ جَالِسٌ فَاِذَا اَرَادَ اَنْ یَّرْکَعَ قَامَ فَرَکَعَ۔ (رواہ ابن ماجۃ)

اور ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ سرور کونین ﷺ وتر کی ایک رکعت پڑھتے پھر دو رکعتیں (نفل کی) پڑھتے جن میں آپ ﷺ بیٹھتے بیٹھتے قرأت فرماتے اور جب رکوع کرنا چاہتے تو کھڑے ہوتے اور رکوع کرتے۔ (سنن ابن ماجہ) تشریح علامہ ابن حجر (رح) فرماتے ہیں کہ یہ حدیث پہلی حدیث کے منافی ہے کیونکہ کبھی تو آپ ﷺ وتر کے بعد کی دونوں رکعتیں کھڑے ہوئے بغیر مطلقاً بیٹھے بیٹھے پڑھتے اور کبھی اس طرح بیٹھ کر قرأت کے بعد جب رکوع میں جانے کا ارادہ کرتے تو کھڑے ہوجاتے اور رکوع کرتے۔

1258Mishkaat-al-Masabih

وتروں کے بعد دو رکعتوں کی فضیلت

وَعَنْ ثَوْبَانَ عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ اِنَّ ھٰذَا السَّھْرَ جُھْدٌ وَثِقْلٌ فَاِذَا اَوْتَرَ اَحَدُکُمْ فَلْیَرْکَعُ رَکْعَتَیْنِ فَاِنْ قَامَ مِنَ اللَّیْلِ وَاِلَّا کَانَتَا لَہ،۔ (رواہ الترمذی)

اور حضرت ثوبان ؓ راوی ہیں کہ سرکار کونین ﷺ نے فرمایا (تہجد کے لئے) رات کو بیدار ہونا مشکل اور گراں ہوتا ہے اس لئے جب تم میں سے کوئی آدمی (رات کے آخری حصے میں جاگنے) کا یقین نہ رکھتا ہو اور سونے سے پہلے یعنی عشاء کی نماز کے بعد وتر پڑھے تو اسے چاہیے کہ دو رکعتیں پڑھ لے، اگر وہ نماز تہجد کے لئے رات کو اٹھ گیا تو بہتر ہے اور اگر نہ اٹھ سکا تو پھر دو رکعتیں کافی ہوں گی (یعنی ان دونوں رکعتوں کے پڑھنے کی وجہ سے اسے نماز تہجد کا ثواب مل جائے گا۔ (جامع ترمذی و دارمی)

1259Mishkaat-al-Masabih

وتروں کے بعد کی دونوں رکعتوں کی قرأت

وَعَنْ اَبِی اُمَامَۃَ اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم کَانَ یُصَلِّیْھِمَا بَعْدَ الْوِتْرِ وَھُوَ جَالِسٌ یَقْرَأُ فِیْھِمَا اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ وَقُلْ یَا اَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ۔ (رواہ احمد بن حنبل)

اور حضرت ابوامامہ فرماتے ہیں کہ سرور کونین ﷺ وتر کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھا کرتے تھے اور ان میں اذا زلزلت الارض اور قل یا ایھا لکافرون پڑھتے تھے۔ (جامع ترمذی و دارمی)

1260Mishkaat-al-Masabih

قنوت کا بیان

لغوی طور پر قنوت کے کئی معنی ہیں۔ (١) طاعت کرنا (٢) نماز میں کھڑے ہونا (٣) اللہ تعالیٰ کے سامنے خاکساری کرنا، اسی طرح دعا کو بھی قنوت کہتے ہیں، اصطلاحا دعاء مخصوص کو کہتے ہیں جو یہاں مراد ہے، چناچہ شوافع کے یہاں دعاء قنوت اَللّٰھُمَّ اھْدِنٰی الخ ہے۔ حضرات حنفیہ کے نزدیک دعاء قنوت اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْتَعِیْنُکَ الخ ہے (دونوں دعائیں مکمل طور پر پچھلے باب میں نقل کی جا چکی ہیں) جسے حنفی علماء صحیح سند و طریق کے ساتھ طبرانی وغیرہ سے نقل کرتے ہیں۔ نیز محقق علامہ حضرت ابن ہمام (رح) نے ابوداؤد سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ (ایک روز) قبیلہ مضر کے لوگوں کے (ظلم و ستم اور ان کی دہشت و بربریت کے پیش نظر ان) کے لئے بد دعا فرما رہے تھے کہ حضرت جبرائیل تشریف لائے اور آپ ﷺ کو خاموش ہوجانے کا اشارہ کر کے فرمایا کہ یا محمد ﷺ ان اللہ لم یبعثک سبابا الا لعانا انما بعثک رحمۃ۔ اے محمد ﷺ آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے برا کہنے والا اور لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا بلکہ آپ ﷺ کو تو (دونوں جہان کے لئے) رحمت کا باعث بنا کر بھیجا گیا ہے۔ پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی (لَيْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ) 3۔ ال عمران 128) (یعنی اس چیز میں آپ ﷺ کا کوئی دخل نہیں ہے) بعد ازاں حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے رسول اللہ ﷺ کو یہ دعا اللھم انا نستعینک الخ سکھائی شیخ جلال الدین سیوطی نے بھی اپنی کتاب درمنثور میں اس دعا کو کچھ مختلف الفاظ کے ساتھ نقل کیا ہے۔