Mishkaat-al-Masabih

All 6,333 hadiths in order · Page 62 of 317

1221Mishkaat-al-Masabih

دین آسان چیز ہے اسے اپنے عمل سے سخت اور ہیبت ناک نہ بناؤ

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِنَّ الدِّےْنَ ےُسْرٌ وَّلَنْ ےُّشَآدَّ الدِّےْنَ اَحَدٌ اِلَّا غَلَبَہُ فَسَدِّدُوْا وَقَارِبُوْا وَاَبْشِرُوْا وَاسْتَعِےْنُوا بِالْغَدْوَۃِ وَالرَّوْحَۃِ وَشَئٍ مِّنَ الْدُّلْجَۃِ۔(صحیح البخاری)

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا بیشک دین آسان ہے لیکن جو آدمی دین میں سختی کرتا ہے دین اس پر غالب آجاتا ہے لہٰذا (دینی) امور میں میانہ روی اور اپنی طاقت کے مطابق عمل اختیار کرو اور جنت و سلامتی نیز اللہ رب العزت کے انعامات و اکرامات کے ساتھ خوش رہو (کیونکہ اللہ رب لعزت تو تھوڑے ہی سے عمل پر) اگر وہ مداومت اور خلوص نیت کے ساتھ ہو تو بہت زیادہ ثواب دیتا ہے اور صبح کے وقت شام کے وقت نیز کچھ رات کے آخری حصے میں بھی اللہ رب العزت سے مدد مانگو۔ (صحیح البخاری ) تشریح اس حدیث میں صفائی کے ساتھ اعلان کیا جا رہا ہے کہ دین بہت آسان ہے انسانی مزاج و فطرت کے عین مطابق ہے اور انسان کی ذہنی، فکری، عملی قوتیں بڑے سکون کے ساتھ اس کی ہمنوا بن سکتی ہے۔ ہاں اس کا تو کوئی علاج نہیں کہ کوئی آدمی اپنی طرف سے بےجا پابندیاں عائد کر کے اعمال کی زیادتی کرے اور دین شریعت میں اپنی طرف سے باتیں بڑھا کر خود ہی اپنے اوپر مشکلات و تنگیوں کو مسلط کرے۔ چنانچہ یہاں صراحت کے ساتھ حکم دیا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چونکہ دین کے احکام بہت آسان مقرر کئے ہیں اس لئے رہبانیت کے طور پر ان احکام کو اپنے لئے سخت وہیبت ناک نہ بناؤ۔ دین اس پر غالب آجاتا ہے کا مطلب یہ ہے کہ جو آدمی اپنے نفس پر غیر واجب باتیں واجب کرلیتا ہے اور مشکل طریقوں سے عبادت کی مشغولیت اختیار کرلینا ہے تو دین اس پر غالب آجاتا ہے یعنی وہ بعد میں دین کے حق کی ادائیگی سے عاجز ہوجاتا ہے اس طرح وہ مغلوب اور دین غالب ہوجاتا ہے۔ قَارِبُوْا کا مطلب یہ ہے کہ سہولت اور آسانیوں کے ساتھ دینی امور کے قریب ہوجاؤ اور اپنے اوپر بےجا پابندیوں کو عائد کر کے اور سختی و مشکلات میں اپنے آپ کو مبتلا کر کے دین سے بعد اختیار نہ کرو۔ علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ قَارِبُوْا دراصل سَدِّدُوْا (یعنی میانہ روی اختیار کرو) کی تاکید ہے لہٰذا جو معنی سَدِّدُوْا کے ہیں وہی معنی قَارِبُوْا کے ہیں بعض حضرات نے اس کے معنی یہ لکھے ہیں کہ اللہ جل شانہم کا قرب ڈھونڈو۔ بہر حال حدیث کا اصل یہ ہے کہ بہت زیادہ عبادت نہ کرو کہ ہر وقت اپنے آپ کو عبادت کی محنت و مشقت ہی میں مبتلا رکھو بلکہ ان تین اوقات میں عبادت کرلینے ہی کو غنیمت جانو یعنی دن کے ابتدائی حصے میں، دن کے آخری حصے میں اور رات کے آخری حصے میں، یہ تہجد کی نماز کی طرف اشارہ ہے۔

1222Mishkaat-al-Masabih

رات کے بقیہ اور ادوو ظائف کودن میں پڑھ لینا چاہیے

وَعَنْ عُمَرَ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ نَّامَ عَنْ حِزْبِہٖ اَوْ عَنْ شَئٍ مِنْہُ فَقَرَأَہُ فِےْمَا بَےْنَ صَلٰوۃِ الْفَجْرِ وَصَلٰوۃِ الظُّہْرِ کُتِبَ لَہُ کَاَنَّمَا قَرَاَۃُ مِنَ اللَّےْلِ۔(صحیح مسلم)

اور حضرت عمر ؓ راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا (جو آدمی رات کو پورا وظیفہ پڑھے بغیر سو رہا یا وظیفہ کا کچھ حصہ پڑھنے سے رہ گیا اور پھر اس نے اس کو نماز فجر اور نماز ظہر کے درمیان پڑھ لیا تو اس کے لئے یہی لکھا جائے گا کہ گویا اس نے رات ہی کو پڑھا۔ (صحیح مسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ کسی آدمی نے کلام اللہ، نماز اوراد و اذکار کی قسم سے کچھ وظیفہ مقرر کر رکھا ہے جسے وہ رات کو پڑھتا ہے مگر کسی دن وہ سوگیا اور اس کا پورا وظیفہ یا اس وظیفے کا کچھ حصہ رات کو پڑھنے سے رہ گیا اور اس نے نماز فجر اور نماز ظہر کے درمیان یعنی زوال سے پہلے پڑھ لیا تو اس کے لئے رات ہی میں پڑھنے کا ثواب لکھا جاتا ہے۔ اسی طرح دن کے وظیفہ کا حکم ہے کہ اگر دن کو وظیفہ پڑھنے سے رہ گیا اور پھر اس رات کو پڑھ لیا تو اس کے لئے دن میں ہی پڑھنے کا ثواب لکھا جاتا ہے رات دن آپس میں ایک دوسرے کے خلیفے ہیں۔ حدیث میں صرف رات کے وظیفے ہی کے بارے میں اس لئے ذکر کیا گیا ہے کہ اکثر و بیشتر رات ہی کا وظیفہ رہ جاتا ہے یعنی نیند کے غلبے کی وجہ سے نماز تہجد اورادو اذکار فوت ہوجاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اس حدیث کو اس باب میں ذکر کیا گیا ہے۔

1223Mishkaat-al-Masabih

معذوری کی حالت میں بیٹھ کر اور لیٹ کر نماز پڑھنے کا حکم

وَعَنْ عِمْرانَ بْنِ حُصَیْنٍ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم صَلِّ قَائِمًا فَاِن لَّمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا فَاِن لَّمْ تَسْتَطِعْ فَعَلٰی جَنْبٍ (صحیح البخاری)

اور حضرت عمران بن حصیبن راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا نماز کھڑے ہو کر پڑھو اور اگر (کسی عذر کی وجہ سے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے پر) قادر نہ ہو سکو تو بیٹھ کر پڑھو اور اگر بیٹھ کر نماز پڑھنے پر بھی) قادر نہ ہو سکو تو (پھر) کروٹ پر پڑھو۔ (صحیح البخاری ) تشریح اگر کوئی آدمی کسی عذر شدید مثلاً سخت بیماری وغیرہ کی وجہ سے کھڑے ہو کر نماز نہ پڑھ سکتا ہو تو بیٹھ کر اپنی نماز ادا کرے اور اگر عذر اتنا شدید ہو کہ بیٹھ کر بھی قدرت سے باہر ہو تو پھر آخری مرحلہ یہ ہے کہ (لیٹے لیٹے) کروٹ سے بقبلہ ہو کر پڑھ لے پھر اس میں بھی اتنی آسانی کہ اگر کوئی آدمی قبلے کی طرف منہ نہ کرسکے یا یہ کہ کوئی آدمی ایسا پاس موجود نہ ہو جو معذور کا منہ قبلے کی طرف کرسکے تو جس طرف بھی منہ ہو ادھر ہی کی طرف پڑھ لے، ایسے موقع پر کسی بھی سمت منہ کر کے نماز پڑھ لینا جائز ہے۔ حنفیہ فرماتے ہیں کہ لیٹ کر نماز پڑھنے کے سلسلے میں افضل یہ ہے کہ رو بقبلہ ہو کر چت لیٹے کندھے کے نیچے تکیہ رکھ کر سر کو اونچا کرے اور اشاروں سے نماز پڑھے۔ چناچہ دارقطنی نے ایک حدیث نقل کی ہے کہ اس سے چت لیٹ کر ہی نماز پڑھنے کا اثبات ہوتا ہے یہاں جو حدیث ذکر کی گئی ہے اس کے بارے میں حنفیہ کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ حکم بطور خاص حضرت عمران کے لئے فرمایا تھا کیونکہ وہ بواسیر کے مرض میں مبتلا تھے اور چت نہیں لیٹ سکتے تھے لہٰذا یہ حدیث دوسروں کے لئے حجت نہیں ہوسکتی۔ آخر میں اتنی بات اور جان لیجئے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ حکم فرض نماز کے لئے ارشاد فرمایا ہے اس لئے نفل نمازوں میں یہ بطریق اولی جائز ہوگا۔

1224Mishkaat-al-Masabih

بغیر عذر بیٹھ کر نفل نماز پڑھنے والے کو آدھا ثواب ملتا ہے

وَعَنْہُ اَنَّہُ سَاَلَ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلمعَنْ صَلٰوۃِ الرَّجُلِ قَاعِدًا قَالَ اِنْ صَلّٰی قَآئِمًا فَھُوَ اَفْضَلُ وَمَنْ صَلّٰی قَاعِدًا فَلَہُ نِصْفُ اَجْرِ الْقَآئِمِ وَمَنْ صَلّٰی نَآئِمًا فَلَہُ نِصْفُ اَجْرِ الْقَاعِدِ۔ (صحیح البخاری)

اور حضرت عمران بن حصین ؓ کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا جو (کھڑے ہونے کی طاقت رکھنے کے) باوجود نفل نماز بیٹھ کر پڑھتا ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بہتر تو وہی ہے جو کھڑے ہو کر نماز پڑھے لیکن جو آدمی (نفل) نماز (بغیر عذر) کے بیٹھ کر پڑھے گا تو اسے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے والے کی بہ نسبت نصف ثواب ملے گا۔ (صحیح البخاری ) تشریح یہ حدیث نفل نماز پر محمول ہے کیونکہ فرض نماز بغیر عذر کے بیٹھ کر پڑھنا درست نہیں ہے ہاں اگر کوئی عذر ہو تو قیام ساقط ہوجاتا ہے اور معذور بیٹھ کر فرض نماز بھی پڑھ سکتا ہے۔ بہر حال حدیث کا مطلب یہ ہے کہ نفل نماز بغیر عذر کے بیٹھ کر پڑھنے والے کو نماز کا پورا ثواب نہیں ملتا بلکہ جتنا ثواب کھڑے ہو کر نماز پڑھنے والے کو ملتا ہے اس کا نصف ثواب اسے ملتا ہے ہاں اگر کوئی عذر ہو کہ کھڑے ہونے پر قادر نہ ہو تو پھر بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کو کھڑے ہو کر نماز پڑھنے والے کی بہ نسبت آدھا ثواب نہیں ملے گا بلکہ اسے بھی پورا ثواب ملے گا۔ بغیر عذر لیٹ کر نفل نماز پڑھنی جائز ہے یا نہیں حضرت علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ جو آدمی کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر نفل نماز پڑھ سکتا ہے اور اسے قیام و قعود کی قدرت نہیں ہے تو آیا اس آدمی کے لئے نفل نماز لیٹ کر پڑھنا جائز ہے یا نہیں چناچہ بعض علماء تو کہتے ہیں کہ بغیر عذر کے لیٹ کر نفل نماز جائز نہیں۔ مگر علماء کی ایک جماعت کی رائے یہ ہے کہ بغیر عذر لیٹ کر نفل نماز پڑھنا جائز ہے۔ نیز اس جماعت کا یہ قول بھی ہے کہ بغیر عذر لیٹ کر نفل نماز پڑھنے والے کو بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کی بہ نسبت آدھا ثواب ملتا ہے جیسا کہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے چناچہ حسن بصری (رح) کا قول بھی یہی ہے اور حدیث سے ثابت ہونے کی وجہ سے یہی قول صحیح تر اور اولی ہے۔ مگر حضرت امام اعظم ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ جائز نہیں ہے اور اس حدیث کے بارے میں ان کی طرف سے کہا گیا ہے کہ یہ حدیث فرض نماز کے بارے میں ہے کہ اگر کوئی آدمی اس درجے بیمار ہو کہ مرض کی زیادتی اور شدت کے باوجود کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر نماز پڑھنا اس کے لئے ممکن ہو تو اسے لیٹ کر نماز پڑھنے کی صورت میں بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کی بہ نسبت آدھا ثواب ملے گا۔

1225Mishkaat-al-Masabih

نیند آتے تک باوضوذ کر اللہ میں مشغولیت

وَعَنْ اَبِی اُمَامَۃَ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم یَقُوْلُ مَنْ اٰوٰی اِلٰی فِرَاشِہِ طَاھِرًا وَّ ذَکَرَ اﷲَ حَتّٰی یُدْرِکَہُ النُّعَاسُ لَمْ یَتَقَلَّبْ سَاعَۃً مِّنَ اللَّیْلِ یُسْأَلُ اﷲَ فِیْھَا خَیْرًا مِّنْ خَیْرِ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ اِلَّا اَعْطَاہُ اِیَّاہُ ذَکَرَ النَّوَوِیُّ فِی کِتَابِ الْاَذْکَارِ بِرِوَایَۃِ بْنِ السُّنِّیِّ۔

حضرت ابوامامہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے سرور کونین ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو آدمی (وضو یا تیمم کے ذریعے نجاستوں سے یا یہ کہ گناہوں سے) پاک ہو کر اپنے بستر پر لیٹے اور نیند آنے تک (زبان سے یا دل سے) ذکر اللہ میں مشغول رہے تو وہ رات کو جب بھی اس حال میں کروٹ بدلے کہ اللہ جل شانہ سے دنیا اور آخرت کی کسی بھلائی کا سوال کرے تو اللہ تعالیٰ اسے وہ بھلائی ضرور دیتا ہے، (یہ حدیث علامہ نووی (رح) نے کتاب الاذکار میں ابن السنی کی روایت سے نقل کی ہے۔

1226Mishkaat-al-Masabih

وہ دو خوش نصیب جن سے اللہ تعالیٰ بہت خوش ہوتا ہے

وَعَنْ عَبْدِاﷲِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَجِبَ رَبُّنَا مِنْ رَجُلَیْنِ رَجُلٌ ثَارَ عَنْ وِطَائِہٖ وَلِحَافِہٖ مِنْ بَیْنِ حِبِّہٖ وَاَھْلِہٖ اِلَی صلَاَ تِہٖ فَیَقُوْلُ اﷲُ لِمَلاَ ئکَتِہٖ اُنْظُرُوْ اِلَی عَبْدِی ثَاَرَ عَنْ فِرَاشِہِ وَوِطَائِہٖ مِنْ بَیْنِ حِبِّہٖ وَاَھْلِہٖ وَاِلٰی صَلٰوتِہٖ رَغْبَۃً فِیْمَا عِنْدِی وَشَفَقًا مِمَّا عِنْدِی وَرَجُلٌ غَزَافِی سَبِیْلِ اﷲِ فَانْھَزَمَ مَعَ اَصْحَابِہٖ فَعَلِمَ مَا عَلَیْہِ فِی الْاِنْھِزَامِ وَمَالَہُ فِی الرُّجُوْعِ فَرَجَعَ حَتّٰی ھُرَیْقَ دَمُہ، فَیَقُوْلُ اﷲُ لِمَلاَئِکَتِہٖ اُنْظُرُوْاِلَی عَبْدِی رَجَعَ رَغْبَۃً فِیْمَا عِنْدِی وَشَفَقًا مِمَّا عِنْدِی حَتَّی ہُرِیْقَ دَمْہُ۔ (رواہ فی شرح السنۃ)

اور حضرت عبدا اللہ بن مسعود راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا ہمارا رب دو آدمیوں سے بہت خوش ہوتا ہے ایک تو وہ آدمی جو رات کو اپنے نرم بستر و لحاف سے اور اپنی محبوبہ اور بیوی کے پاس سے (تہجد) کی نماز کے لئے اٹھتا ہے چناچہ اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے کہتا ہے میرے بندے کی طرف دیکھو جو میرے پاس کی چیزوں (یعنی جنت اور ثواب) کے شوق سے اور میرے پاس کی چیزوں (یعنی دوزخ اور عذاب) کے ڈر کی وجہ سے اپنے فرش و نرم بستر اور اپنی محبوبہ اور بیوی کو چھوڑ کر اپنی نماز پڑھنے کے لئے اٹھا۔ اور دوسرا وہ آدمی جس نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور (بغیر کسی شدید عذر کے) اپنے ساتھیوں سمیت میدان چھوڑ کر بھاگ نکلا، مگر جب اسے بلا عذر میدان جہاد سے بھاگ نکلنے کی سزا اور پھر جنگ میں واپس آجانے کا ثواب یاد آیا تو (میدان کار زار میں) واپس آگیا اور (اللہ کے دشمنوں سے) اس قدر لڑا کہ جام شہادت نوش کیا، چناچہ اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے کہ میرے بندے کی طرف (بنظر تعجب) دیکھو جو میرے پاس کی چیزوں (یعنی جنت وثواب) کے شوق میں اور میرے پاس کی چیزوں (یعنی دوزخ و عذاب) کے خوف سے (میدان جنگ میں) لوٹ آیا اور اللہ کے راستہ میں یہاں تک لڑا کہ اپنی جان بھی دیدی۔ (شرح السنۃ) تشریح مطلب یہ ہے کہ رات کے پر سکون ماحول اور آرام میں کسی آدمی کے لئے نرم بستر، آرام دہ لحاف اور محبوب بیوی کا قرب ہی سب سے زیادہ پسندیدہ اور پیاری چیزیں ہوتی ہیں مگر اس کے باجود وہ آدمی اپنے رب کی عبادت اور اس کی جزاء و انعام کے شوق میں ان سب چیزوں کو چھوڑ دیتا ہے اور پروردگار کے حضور اپنی بندگی و عبودیت کا نذرانہ پیش کرنے لگتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ دنیا کی تمام پسندیدہ چیزیں دنیا میں تو قلب و دماغ کے سکون اور انسانی عیش و مسرت کا سامان بن سکتی ہیں مگر نہ تو یہ قبر میں نفع پہنچائیں گی اور نہ حشر میں کامیابی و سرخروئی کی ضامن ہوں گی۔ قبر اور حشر میں تو صرف پروردگار کی اطاعت اور اس کی عبادت ہی کام آئے گی اور وہی سعادت و کامیابی کی منزل سے ہم کنار کریں گی۔ اس حدیث میں اس طرف اشارہ ہے کہ اللہ جل شانہ کے واسطے عبادت کرنا اور اس پر ثواب کی امید رکھنا اخلاص اور کمال کے منافی نہیں ہے اگرچہ یہ اکمل درجے کے منافی ہے کیونکہ عبادت کے سلسلے میں اکمل درجہ یہی ہے کہ عبادت محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور اس کی رضا کے لئے کی جائے اور اس سے کوئی غرض مثلاً ثواب کا حصول یا عذاب کا خوف وابستہ نہ ہو لیکن ہاں کوئی آدمی اگر عبادت محض ثواب کے واسطے یا عذاب کے خوف سے کرتا ہے تو اسے یہ نہ جان لینا چاہیے کہ اس کی یہ عبادت، عبادت نہیں صرف تضییع اوقات ہے۔

1227Mishkaat-al-Masabih

وہ دو خوش نصیب جن سے اللہ تعالیٰ بہت خوش ہوتا ہے

عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ص قَالَ حُدِّثْتُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ صَلٰوۃُ الرَّجُلِ قَاعِدًا نِصْفُ الصَّلٰوۃِ قَالَ فَاَتَےْتُہُ فَوَجَدتُّہُ ےُصَلِّیْ جَالِسًا فَوَضَعْتُ ےَدِیْ عَلٰی رَاْسِہٖ فَقَالَ مَالَکَ ےَا عَبْدَاللّٰہِ بْنَ عَمْرٍو ص قُلْتُ حُدِّثْتُ ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِ نََّکَ قُلْتَ صَلٰوۃُ الرَّجُلِ قَاعِدًا عَلٰی نِصْفِ الصَّلٰوۃِ وَاَنْتَ تُصَلِّیْ قَاعِدًا قَالَ اَجَلْ وَلٰکِنِّیْ لَسْتُ کَاَحَدٍ مِّنْکُمْ۔(صحیح مسلم)

حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ فرماتے ہیں کہ مجھ سے یہ حدیث بیان کی گئی کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا (بغیر عذر) بیٹھ کر (نفل) نماز پڑھنے والے کی نماز (کھڑے ہو کر نماز پڑھنے والے کے مقابلے میں آدھی ہوتی ہے حضرت عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں (ایک دن) رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا (اتفاق سے) رسول اللہ ﷺ اس وقت بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے (جب نماز سے فارغ ہوئے تو) میں نے آپ ﷺ کے سر مبارک پر اپنا ہاتھ رکھا، آپ ﷺ نے فرمایا کہ عبداللہ بن عمرو! کیا بات ہے؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے تو یہ بتایا گیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ہے کہ بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کی نماز آدھی ہوتی ہے اور اب آپ ﷺ ہی بیٹھ کر نماز پڑھ رہے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں ایسا ہی ہے (یعنی تم نے جو کچھ سنا ہے) صحیح ہے لیکن میں تم جیسا تو نہیں ہوں۔ (صحیح مسلم) تشریح اہل عرب کی عادت ہے کہ جب کوئی آدمی کسی سے کوئی تعجب کی بات دیکھتا ہے تو اس کے سر پر ہاتھ رکھ دیتا ہے اور ان کے نزدیک ایسا کرنا کوئی خلاف ادب نہیں ہے بلکہ یہ کمال محبت اور انتہائی بےتکلفی کے سبب سے ہوتا ہے چونکہ حضرت عبداللہ بن عمرو کو رسول اللہ ﷺ سے انتہا درجے کی محبت اور بےتکلفی تھی اس لئے جب آپ ﷺ نے نماز پڑھ لی تو انہوں نے بھی ازراہ تعجب اپنا ہاتھ آپ ﷺ کے سر مبارک پر رکھا اور انہیں تعجب اس بات پر ہوا کہ رسول اللہ ﷺ تو افضل بات پر عمل کیا کرتے تھے پھر آپ ﷺ نے بیٹھ کر نماز کیوں پڑھی۔ رسول اللہ ﷺ کے جواب کا حاصل یہ تھا کہ نہ تو دوسروں پر مجھے اور نہ مجھ پر دوسروں کو قیاس کرو کیونکہ یہ تو صرف میری خصوصیت ہے کہ بیٹھ کر بھی نماز پڑھتا ہوں تو میری نماز ناقص نہیں ہوتی ہے، میں چاہے جس طرح بھی نماز پڑھوں میری نماز پوری ادا ہوتی ہے۔

1228Mishkaat-al-Masabih

نماز میں راحت و سکون ہے۔

وَعَنْ سَالِمِ بْنِ اَبِیِ الْجَعْدِ قَالَ قَالَ رَجُلٌ مِّنْ خُزَاعَۃَ لَیْتَنِی صَلَّیْتُ فَاسْتَرَحْتُ فَکَاَنَّھُمْ عَابُوْا ذٰلِکَ عَلَیْہِ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَقُوْلُ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ یَا بِلاَ لُ اَرِحْنَا بِھَا۔ (رواہ ابوداؤد)

اور حضرت سالم بن ابی الجعد فرماتے ہیں کہ (ایک دن) قبیلہء خزاعہ کا ایک آدمی کہنے لگا کہ کاش میں نماز پڑھتا اور راحت پاتا جب لوگوں نے اس کے اس کہنے کو برا سمھا تو اس نے کہا کہ میں نے سرور کونین ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ آپ ﷺ نے (حضرت بلال ؓ سے) فرمایا کہ بلال! نماز کے لئے تکبیر کہو تاکہ ہم اس کے ذریعے راحت حاصل کریں۔ (ابوداؤد) تشریح نماز کی تاثیر انسانی راحت و اطمینان اور قلبی سکون ہے جو آدمی خلوص قلب کے ساتھ نماز پڑھتا ہے اسے ایک عجیب قسم کی راحت ملتی ہے اور اس کے دل و دماغ میں سکون و اطمینان کے خزانے بھر جاتے ہیں چناچہ قبیلہء خزاعہ کے مذکورہ آدمی کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ میں چاہتا ہوں کہ نماز پڑھوں اور پھر اپنے پروردگار کی عبادت، اس کی مناجات اور حمد اور اس کے کلام پاک کے پڑھنے کی لذت سے راحت و سکون حاصل کروں۔ لوگوں نے اس کے کہنے کو جو برا سمجھا تو ایک وجہ تھی وہ یہ کہ اس کے قول کے دو معنی محتمل تھے اول تو یہ کہ نماز کے ذریعے راحت پاؤں دوسرے یہ کہ نماز سے راحت پاؤں یعنی نماز پڑھ کر آرام سے بیٹھ جاؤں۔ اس کی مراد تو اول معنی تھے لیکن لوگوں نے دوسرے معنی مراد لئے جو انہیں پسند نہیں تھے اس لئے اس نے لوگوں کی غلط فہمی کو دور کرنے کے لئے اور مراد کو واضح کرنے کے لئے رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد جو آپ ﷺ نے حضرت بلال سے فرمایا تھا نقل کیا کہ اے بلال تکبیر (اقامت) کہو تاکہ ہم اس کے ذریعے راحت حاصل کریں کیونکہ آپ ﷺ کے لئے تو بس اللہ کی عبادت ہی میں راحت تھی اور نماز میں مشغول رہنا ہی آپ ﷺ کے لئے آرام و سکون کا سب سے بڑا ذریعہ تھا۔ نماز ہی کے اندر اپنے پروردگار کی بڑائی اور اپنے خالق کی مناجات و حمد بیان کی جاتی ہے کہ ایک کامل و اکمل بندے کا اپنے پروردگار کی مناجات میں مشغول رہنا ہی اس کے لئے سب سے بڑی راحت ہے اسی لئے آپ ﷺ نے فرمایا ہے کہ قُرَّۃُ عَیْنِی فِی الصَّلٰوۃ مجھے تو نماز (ہی) میں راحت ملتی ہے۔

1229Mishkaat-al-Masabih

نماز وتر کا بیان

وتر ( لفظ وتر میں واؤ کو زیر اور زبر دونوں کے ساتھ پڑھ سکتے ہیں مگر زیر کے ساتھ پڑھنا زیادہ مشہور ہے۔ ( ہر اس نماز کو کہہ سکتے ہیں جس میں طاق رکعتیں ہوں مگر فقہا کے ہاں وتر اسی خاص نماز کو کہتے ہیں جس کا وقت عشاء کی نماز کے بعد ہے جو عام طور پر عشاء کے فورا بعد ہی پڑھی جاتی ہے اور اس باب میں اسی نماز وتر کا بیان ہوگا۔ نماز وتر واجب ہے یا سنت نماز وتر کے سلسلہ میں ائمہ کے ہاں دو چیزوں میں اختلاف پایا جاتا ہے پہلی چیز تو یہ کہ آیا نماز وتر واجب ہے یا سنت؟ چناچہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ وتر کی نماز واجب ہے حضرت امام شافعی اور حضرت قاضی ابویوسف فرماتے ہیں کہ سنت ہے۔ نماز وتر کی ایک رکعت ہے یا تین رکعتیں علماء کے نزدیک دوسرا اختلاف یہ ہے کہ نماز وتر کی ایک رکعت ہے یا تین؟ حنفیہ کے ہاں وتر کی تین رکعتیں ہیں جب کہ اکثر ائمہ کا مسلک یہ ہے کہ نماز وتر صرف ایک ہی رکعت ہے تاہم ان حضرات کے نزدیک بھی وتر کے لئے صرف ایک رکعت پڑھنا مکروہ ہے بلکہ ان حضرات کا کہنا ہے کہ پہلے دو رکعت پڑھ کر سلام پھیرا جائے اس کے بعد ایک وتر پڑھی جائے۔ نماز وتر کا طریقہ وتر کی نماز مغرب کی نماز کی طرح (حنفیہ کے مسلک کے مطابق) تین رکعت پڑھی جاتی ہے، اس کے پڑھنے کا وہی طریقہ ہے جو فرض نمازوں کا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ محض دو رکعتوں میں سورت فاتحہ کے بعد دوسری سورت ملائی جاتی ہے جب کہ وتر کی نماز میں تینوں رکعتوں میں دوسری سورت پڑھنے کا حکم ہے اور تیسری رکعت میں دوسری سورت کے بعد دونوں ہاتھ تکبیر کے ساتھ کانوں تک اٹھا کر (جس طرح کہ تکبیر تحریمہ کے وقت اٹھاتے ہیں) پھر باندھے جائیں اور بآواز آہستہ دعا قنوت پڑھی جائے، دعا قنوت یہ ہے۔ اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْتَعِیْنُکَ وَنَسْتَھْدِیْکَ وَنَسْتَغْفِرُکَ وَنَتُوْبُ اِلَیْکَ وَنُؤْمِنُ بِکَ وَنُثْنِی عَلَیْکَ الْخَیْرَوَ نَشْکُرُکَ وَلَا نَکْفُرُکَ وَنَخْلَعُ وَنَتْرُکُ مَنْ یَّفْجُرُکَ اَللّٰھُمَّ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَلَکَ نُصَلِّی وَنَسْجُدُ وَاِلَیْکَ نَسْعَی وَنَحْفِدُ وَنَرْجُوْا رَحْمَتَکَ وَنَخْشَی عَذَابَکَ اِنَّ عَذَابَکَ بِالْکُفَّارِ مُلْحِقْ۔ اے اللہ! تجھی سے مدد مانگتے ہیں تجھی سے ہدایت کے طالب ہیں، تجھی سے اپنے گناہوں کی معافی چاہتے ہیں ہم تیرے ہی سامنے توبہ کرتے ہیں، تیرے ہی اوپر ایمان لاتے ہیں تیری ہی اچھی تعریفیں بیان کرتے ہیں، ہم تیرا ہی شکر ادا کرتے ہیں نا شکری نہیں کرتے اور جو آدمی تیری نا شکری نافرمانی کرے ہم اس کو چھوڑتے ہیں۔ اے پروردگار! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں تیری ہی نماز پڑھتے ہیں تجھی کو سجدہ کرتے ہیں، تیری ہی طرف دوڑتے آتے ہیں، تیری ہی عبادت میں جلد مستغرق ہوجاتے ہیں، تیری رحمت کے امیدوار ہیں ہم تیرے ہی عذاب سے ڈرتے ہیں بیشک تیرا عذاب کافروں پر نازل ہونے ولا ہے۔ اگر اس کے بعد یہ دعا بھی پڑھ لی جائے تو بہتر ہے۔ اَللّٰھُمَّ اھْدِنِیْ فِیْمَنْ ھَدَیْتَ وَعَا ِفنِیْ فِیْ مَنْ عَافَیْتَ وَتَوَلَّنِیْ فِیْمَنْ تَوَلَیْتَ وَبَارِکْ لِیْ فِیْمَا اَعْطَیْتَ وَقِنِیْ شَرَّ مَا قَضَیْتَ فَاِنَّکَ تَقْضِیْ وَلَا یُقْضٰی عَلَیْکَ اِنَّہ لا یُذِلُّ مَنْ وَّالَیْتَ وَلَا یَعِزُّمَنْ عَادَیْتَ تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَیْتَ۔ اے اللہ! ان لوگوں کے ساتھ مجھ کو ہدایت دے جنہیں تو نے ہدایت بخشی، مجھے ان لوگوں کے ساتھ مصیبتوں اور آفتوں سے بچا جنہیں تو نے بچایا ہے، ان لوگوں کے ساتھ مجھ سے محبت کر جن سے تو نے محبت کی اور جو کچھ تو نے مجھے دیا ہے اس میں برکت عطا فرما اور مجھے ان برائیوں سے بچا جو مقدر ہوں بیشک تو حاکم ہے محکوم نہیں اور جس سے تو محبت کرے وہ ذلیل نہیں ہوسکتا اور جس سے تجھ کو عداوت ہو وہ عزت نہیں پاسکتا، اے اللہ تیری ذات بزرگ و برتر ہے۔ اگر کسی کو دعاء قنوت یاد نہ ہو تو وہ بجائے دعا قنوت کے یہ پڑھ لے۔ رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃَ وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔ اے ہمارے پروردگار! ہمیں دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی آرام دے اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا۔ اور اگر کوئی اس کے پڑھنے پر بھی قادر نہ ہو تو پھر اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ یا یَا رَبِّ تین مرتبہ کہہ لے۔

1230Mishkaat-al-Masabih

نماز وتر کی رکعتوں کا مسئلہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم صَلٰوۃُ اللَّےْلِ مَثْنٰی مَثْنٰی فَاِذَا خَشِیَ اَحَدُکُمُ الصُّبْحَ صَلّٰی رَکْعَۃً وَّاحِدَۃً تُوْتِرُلَہ، مَا قَدْ صَلّٰی۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا رات کی نماز دو دو رکعت ہے اور جب کسی کو صبح ہونے کا اندیشہ ہونے لگے تو ایک رکعت پڑھ لے، یہ (ایک رکعت) پہلی پڑھی ہوئی نماز کو طاق کر دے گی۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم) تشریح حدیث کے پہلے جزو کا مطلب یہ ہے کہ رات کو پڑھی جانے والی نفل نمازیں دو دو رکعت کر کے پڑھی جائیں چناچہ حضرت امام شافعی، حضرت امام ابویوسف اور حضرت امام محمد نے اس حدیث کے پیش نظر کہا ہے کہ افضل یہی ہے کہ رات میں نفل نمازیں اس طرح پڑھی جائیں کہ ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرا جائے یعنی دو دو رکعت کر کے پڑھی جائیں۔ حدیث کے دوسرے جزء کا مطلب یہ ہے کہ رات کو نماز میں مشغول رہنے والا آدمی جب یہ دیکھے کہ رات ختم ہو رہی ہے اور صبح نمودار ہونے والی ہے تو وہ ان نمازوں کے بعد ایک رکعت پڑھ لے تاکہ یہ ایک رکعت پہلی پڑھی ہوئی نمازوں کو طاق کر دے، اس طرح یہ حدیث امام شافعی کی دلیل ہے کیونکہ ان کے نزدیک وتر کی ایک ہی رکعت ہے۔ امام طحاوی حنفی نے صلی رکعۃ واحدۃ الخ کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ ایک رکعت اس طرح پڑھے کہ اس سے پہلے دور رکعتیں پڑھ لے تاکہ یہ رکعت شفع یعنی اس ایک رکعت سے پہلے پڑھی گئی دونوں رکعتوں کو طاق کر دے۔ گویا ایک رکعت علیحدہ نہ پڑھی جائے بلکہ دو رکعتوں کے ساتھ ملا کر پڑھی جائے۔ علامہ ابن ہمام فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے تو یہ کہیں ثابت ہی نہیں ہوتا کہ وتر کی ایک رکعت علیحدہ تکبیر تحریمہ کے ساتھ پڑھی جائے لہٰذا اس کے ذریعے وتر کی ایک رکعت ہونے پر استدلال کرنا درست نہیں ہے۔ پھر وتر کی تین ہی رکعتیں ہونے کے سلسلہ میں حنفیہ کی ایک بڑی دلیل یہ بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صلوۃ بتیرا یعنی تنہا ایک رکعت نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ جہاں تک صحابہ اور سلف کے عمل کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں وثوق کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ اکثر فقہا صحابہ اور سلف کا معمول وتر کی تین رکعتیں ہی پڑھنا تھا۔ چناچہ حضرت عمر فاروق کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے ان کو تو اس سلسلے میں بہت زیادہ اہتمام تھا۔ انہوں نے ایک مرتبہ حضرت سعید بن مسیب کو وتر ایک رکعت پڑھتے ہوئے دیکھا تو فرمایا کہ کیسی ناقص نماز پڑھتے ہو؟ دو رکعت اور پڑھو ورنہ تمہیں سزادوں گا۔ (نہایہ) جامع ترمذی نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے وتر کی تین رکعتیں نقل کی ہیں اور اسی کو عمران بن حصین، حضرت عائشہ، عبداللہ ابن عباس اور ابوایوب کی طرف منسوب کیا ہے اور آخر میں انہوں نے صراحت کردی ہے کہ صحابہ اور تابعین کی ایک جماعت اسی طرف ہے۔ حضرت عمر فاروق اور حضرت عبداللہ ابن مسعود کے بارے میں موطا امام محمد میں مذکور ہے کہ ان کے نزدیک بھی وتر کی تین ہی رکعتیں ہیں۔ حضرت امام حسن بصری فرماتے ہیں کہ سلف کا اسی پر معمول تھا۔ (ہدایہ) تین رکعت کی وتر صحابہ میں مشہور تھی، ایک رکعت کی وتر تو عام طور پر لوگ جانتے بھی نہ تھے چناچہ حضرت معاویہ کو عبداللہ ابن عباس کے مولیٰ نے ایک رکعت وتر پڑھتے ہوئے دیکھا تو ان کو بہت تعجب ہوا انہوں نے حضرت عباس کی خدمت میں حاضر ہو کر اس کو بڑے اہتمام کے ساتھ بیان کیا۔ حضرت عبداللہ ابن عباس نے ان کی وحشت و حیرت یہ کہہ کر ختم کردی کہ معاویہ فقیہ ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کی صحبت سے مشرف ہوچکے ہیں ان پر اعتراض نہ کرو (صحیح البخاری ) بہر حال ان تمام باتوں کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ وتر کی تین ہی رکعتیں ہیں جن احادیث سے وتر کی ایک رکعت ثابت ہوتی ہے وہ سب قابل تاویل ہیں جو انشاء اللہ حسب موقع بیان کی جائیں گی۔ یا یہ کہ ان میں رسول اللہ ﷺ کی پہلی حالتوں کا ذکر ہے آخر فعل آپ ﷺ کا بھی تین ہی رکعت پر تھا جو صحابہ میں مشہور ہوا اور ظاہر ہے کہ امت کے لئے آپ کا وہی فعل حجت اور دلیل بن سکتا ہے جس پر آپ ﷺ نے آخر میں عمل اختیار فرمایا ہو۔

1231Mishkaat-al-Masabih

نماز وتر کی رکعتوں کا مسئلہ

وَعَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اَلْوِتْرُ رَکْعَۃٌ مِّنْ اٰخِرِ اللَّےْلِ۔(صحیح مسلم)

اور حضرت عمر ؓ راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا آخر رات کو وتر (پڑھنا افضل ہے اور اس کی ایک رکعت ہے )۔ صحیح مسلم تشریح الوتر رکعۃ کا مطلب یہ ہے کہ پہلے پڑھی گئی دو رکعتوں کے ساتھ ملی ہوئی وتر کی ایک رکعت ہے گویا کہ اس کا مفہوم یہ ہوا کہ وتر سے ہٹ کر تاویل کا راستہ اختیار کرتے ہوئے یہ معنی اس لئے بیان کئے گئے ہیں تاکہ ان حدیث میں جن سے وتر کے لئے تین رکعتیں پڑھنا ثابت ہے اور ان احادیث میں جن سے وتر کی ایک رکعت کا اثبات ہوتا ہے تطبیق پیدا ہوجائے اور احادیث کے حقیقی معنی و مفہوم میں کوئی تعارض پیدا نہ ہو۔ وتر کے پڑھنے کا مختار اور افضل وقت آخری رات ہے جب کہ تہجد وغیرہ کی نماز پڑھ لی جائے لیکن عام طور سے چونکہ لوگ رات کو تہجد کی نماز کے لئے نہیں اٹھتے اس لئے عشاء کی نماز کے فورًا بعد ہی وتر بھی پڑھ لئے جاتے ہیں۔ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے لکھا ہے کہ یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ وتر ایک ہی رکعت ہے۔ جن احادیث سے وتر کی تین رکعتیں پڑھنا ثابت ہے وہ آگے ذکر کر جائیں گی۔

1232Mishkaat-al-Masabih

ایک تشہد کے ساتھ پانچ رکعت پڑھنے کا مسئلہ

وَعَنْ عَا ئِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قاَلَتْ کَا نَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےُصَلِّیْ مِنَ الَّےْلِ ثَلٰثَ عَشَرَۃَ رَکْعَۃً ےُّوْتِرُ مِنْ ذَالِکَ بِخَمْسٍ لاَّ ےَجْلِسُ فِیْ شَیْءٍ اِلَّا فِیْ اٰخِرِھَا۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ سرور کونین ﷺ رات کو (تہجد کے وقت) تیرہ رکعت پڑھتے تھے جن میں سے پانچ رکعتوں میں وتر پڑھتے اور ان میں سوائے آخری رکعت کے کسی میں بھی (تشہد کے لئے) نہیں بیٹھتے تھے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم) تشریح رات کو رسول اللہ ﷺ کی نماز کئی طریقوں سے ذکر کی گئی ہے ان میں سے ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ پہلے آپ ﷺ آٹھ رکعتیں چار سلام کے ساتھ یعنی دو دو رکعت کر کے پڑھتے تھے اور پھر آخر میں پانچ رکعتیں ایک تشہد اور ایک سلام کے ساتھ اس طرح پڑھتے تھے کہ اسی میں وتر کی نیت بھی کرلیتے تھے یعنی وتر کی نماز بھی انہیں پانچ رکعتوں میں شامل ہوتی تھی اور ان پانچ رکعتوں میں سے کسی ایک رکعت میں بھی نہ تو تشہد کے لئے بیٹھتے تھے اور نہ سلام پھیرتے تھے بلکہ آخری رکعت میں تشہد کے لئے بیٹھتے اور سلام پھیرتے۔ لہٰذا یہ حدیث صریح طور پر اس بات کی دلیل ہے کہ پانچ رکعتیں اس طرح ملا کر پڑھنا کہ ان میں سے کسی ایک رکعت میں بھی تشہد کے لئے نہ بیٹھا جائے بلکہ صرف آخری یعنی پانچویں رکعت کے بعد قعدہ کیا جائے جائز ہے لیکن فقہا کے ہاں یہ مسئلہ مختلف فیہ ہے چناچہ جن حضرات کے ہاں یہ جائز نہیں ہے وہ عدم جلوس کی تاویل عدم سلام سے کرتے ہیں یعنی ان کے نزدیک لا یجلس فی شی الا فی اخرھا کا مطلب یہ بیان کیا جاتا ہے کہ آپ ﷺ پانچ رکعتوں میں سے صرف آخری رکعت کے بعد سلام پھیر تے تھے درمیان میں کسی بھی رکعت کے بعد سلام نہیں پھیرتے تھے چناچہ بعض روایتوں میں مذکور بھی ہے کہ لم یسلم الا فی آخرین بعض حضرات نے یہ تاویل بھی کی ہے کہ ان پانچ رکعتوں میں سوائے آخری رکعت کے کسی میں بھی جلوس دراز نہیں کرتے تھے یعنی طویل قعدہ نہیں کرتے تھے صرف آخری رکعت میں آپ ﷺ کا قعدہ طویل ہوتا تھا۔ بہر حال چار سے زیادہ رکعتوں کو ملا کر ایک سلام کے ساتھ پڑھنا متفقہ طور پر تمام علماء کے ہاں جائز ہے لیکن حنفیہ کے ہاں اتنا فرق ہے کہ ان کے نزدیک آٹھ رکعت تک ملا کر ایک سلام کے ساتھ پڑھنا تو بلا کراہت جائز ہے مگر آٹھ رکعتوں کے بعد کراہت کے ساتھ جائز ہے۔

1233Mishkaat-al-Masabih

رسول اللہ ﷺ کی نماز تہجد و نماز و تر

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ ھِشَامٍ ص قَالَ انْطَلَقْتُ اِلٰی عَآئِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا فَقُلْتُ ےَا اُمَّ الْمُؤْمِنِےْنَ اَنْبِئِےْنِیْ عَنْ خُلُقِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَتْ اَلَسْتَ تَقْرَءُ الْقُرْآنَ قُلْتُ بَلیٰ قَالَتْ فَاِنَّ خُلُقَ نَبِیِّ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم کَانَ الْقُرْآنُ قُلْتُ ےَا اُمَّ الْمُؤْمِنِےْنَ اَنْبِئِےْنِیْ عَنْ وِّتْرِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَتْ کُنَّا نُعِدُّ لَہُ سِوَاکَہُ وَطَھُوْرَہُ فَےَبْعَثُہُ اللّٰہُ مَا شَآءَ اَنْ ےَّبْعَثَہُ مِنَ اللَّےْلِ فَےَتَسَوَّکُ وَےَتَوَضَّأُوَےُصَلِّیْ تِسْعَ رَکَعَاتٍ لَّا ےَجْلِسُ فِےْھَا اِلَّا فِی الثَّامِنَۃِ فَےَذْکُرُاللّٰہَ وَےَحْمَدُہُ وَےَدْعُوْہُ ثُمَّ ےَنْھَضُ وَلَا ےُسَلِّمُ فَےُصَلِّیْ التَّاسِعَۃَ ثُمَّ ےَقْعُدُ فَےَذْکُرُاللّٰہَ وَےَحْمَدُہُ وَےَدْعُوْہُ ثُمَّ ےُسَلِّمُ تَسْلِےْمًا ےُّسْمِعُنَا ثُمَّ ےُصَلِّیْ رَکْعَتَےْنِ بَعْدَ مَا ےُسَلِّمُ وَھُوَ قَاعِدٌ فَتِلْکَ اِحْدٰی عَشَرَۃً رَکْعَۃً ےَا بُنَیَّ فَلَمَّا اَسَنَّّ صلی اللہ علیہ وسلم وَاَخَذَ اللَّحْمَ اَوْتَرَ بِسَبْعٍ وَّصَنَعَ فِی الرَّکْعَتَےْنِ مِثْلَ صَنِےْعِہٖ فِی الْاُوْلٰی فَتِلْکَ تِسْعٌ ےَا بُنَیَّ وَکَانَ نَبِیُّ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا صَلّٰی صَلٰوۃً اَحَبَّ اَنْ ےُّدَاوِمَ عَلَےْھَا وَکَانَ اِذَا غَلَبَہُ نَوْمٌ اَوْ وَجَعٌ عَنْ قِےَامِ اللَّےْلِ صَلّٰی مِنَ النَّھَارِثِنْتَیْ عَشْرَۃَ رَکْعَۃً وَّلَا اَعْلَمُ نَبِیَّ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم قَرَءَ الْقُرْاٰنَ کُلَّہُ فِیْ لَےْلَۃٍ وَّلَا صَلّٰی لَےْلَۃً اِلَی الصُّبْحِ وَلَا صَامَ شَھْرًا کَامِلًا غَےْرَ رَمَضَانَ۔(صحیح مسلم)

اور حضرت سعد بن ہشام فرماتے ہیں کہ میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ ام المومنین! مجھے سرور کونین ﷺ کے خلق کے بارے میں بتلائیے؟ حضرت عائشہ نے فرمایا کیا تم نے قرآن کریم نہیں پڑھا َ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! پڑھا ہے! فرمایا رسول اللہ ﷺ کا خلق قرآن ہی تھا (یعنی قرآن کریم میں جتنے بھی اخلاق کریمہ اور صفات حمیدہ مذکور ہیں رسول اللہ ﷺ نے ان سب کو اپنی ذات میں سمو لیا تھا۔ گویا ً رسول اللہ ﷺ کی اخلاقی زندگی قرآن حکیم کا عملی نمونہ تھی پھر میں نے عرض کی ام المؤمنین! اچھا رسول اللہ ﷺ کے وتر کے بارے میں مجھے بتائیے کہ (آپ ﷺ وتر کس وقت اور کس طرح نیز کتنی رکعت پڑھا کرتے تھے) حضرت عائشہ نے فرمایا میں (پہلے ہی سے) رسول اللہ ﷺ کی مسواک اور وضو کے لئے پانی کا انتظام کئے رہی تھی اور جب اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو رات کو اٹھانا چاہتا تھا اٹھاتا، چناچہ (آپ بیدار ہو کر پہلے) مسواک کرتے، پھر وضو کرتے اور نو رکعت نماز پڑھتے اور سوائے آٹھویں رکعت کے اور کسی رکعت میں نہ بیٹھتے، جب آٹھویں رکعت پڑھ لیتے تو (تشہد میں) بیٹھتے اور اللہ کا ذکر کرتے، اس کی تعریف بیان کرتے اور دعا مانگتے (یعنی التحیات پڑھتے کہ اس میں اللہ کا ذکر، حمد اور دعا سب ہی کچھ ہے پھر سلام پھیرے بغیر نویں رکعت پڑھے کھڑے ہوجاتے، پھر نویں رکعتی پوری کر کے تشہد میں بیٹھتے اور اللہ کا ذکر کرتے، اس کی تعریف بیان کرتے اور اس سے دعا مانگتے یعنی التحیات پڑھ کر جو دعا پڑھی جاتی ہے) وہ دعا پڑھتے پھر ہمیں سناتے ہوئے بآواز بلند سلام پھیرتے، پھر سلام پھیرنے کے بعد بیٹھ کردو رکعت پڑھتے اور اے میرے بچے، یہ کل گیارہ رکعتیں ہوگئیں اور جب آپ کی عمر زیادہ ہوگئی اور بڑھاپے کی وجہ سے بدن پر گوشت چڑھ گیا تو سات رکعتیں مع وتر کے پڑھنے لگے اور دو رکعت پہلے ہی کی طرح (یعنی بیٹھ کر) پڑھتے رہے۔ اے میرے بچے یہ کل نو رکعتیں ہوئیں اور رسول اللہ ﷺ جب کوئی نماز پڑھتے تو اس بات کو پسند کرتے کہ اسے ہمیشہ پڑھا جائے اور جب کسی دن آپ ﷺ کو نیند زیادہ آجاتی یا کوئی اور تکلیف پیش آجاتی جس کی وجہ سے آپ ﷺ کے لئے رات کو کھڑے ہونا ممکن نہ ہوتا تو آپ ﷺ دن کے پہلے حصے میں (یعنی زوال سے پہلے) بارہ رکعت پڑھ لیتے اور میں نہیں جانتی کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی ایک رات میں پورا قرآن مجید پڑھایا صبح تک (یعنی شروع رات سے آخر رات تک، نماز پڑھی ہو اور نہ آپ ﷺ نے کبھی سوائے رمضان کے پورے مہینے روزے رکھے۔ (صحیح مسلم) تشریح جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ رسول اللہ ﷺ مداومت عمل کو بہت زیادہ پسند فرماتے تھے۔ چناچہ آپ ﷺ کی عادت شریفہ یہ تھی کہ جب کوئی نفل نماز پڑھتے یا اسی طرح کوئی بھی نفل عبادت کرتے تو اس پر دوام اختیار فرماتے۔ ہاں اگر کوئی عذر پیش آجاتا یا بیان جواز کا اظہار مقصود ہوتا تو کبھی ترک بھی فرما دیتے تھے۔ یہاں تو حضرت عائشہ فرما رہی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رمضان کے علاوہ کسی بھی مہینہ میں پورے مہینے روزے نہیں رکھتے تھے جب کہ ان کی ایک دوسری روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ شعبان میں پورے مہینے کے روزے رکھتے تھے۔ لہٰذا حضرت عائشہ کی ان دونوں روایتوں کے ظاہری تعارض کو خود انہیں کی ایک تیسری روایت نے ختم کردیا ہے جس میں انہوں نے تصریح کردی ہے کہ رسول اللہ ﷺ شعبان (میں پورے مہینے کے نہیں بلکہ) اس کے اکثر دنوں میں روزے رکھتے تھے۔ وتر کے بعد دو رکعت نفل پڑھنے کا مسئلہ وتر کے بعد دو رکعت نفل پڑھنے کا اثبات نہ صرف یہ کہ اسی روایت سے ہوتا ہے بلکہ اور بھی بہت سے روایتیں وارد ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ وتر پڑھنے کے بعد دو رکعت نفل نماز پڑھی جاسکتی ہے لیکن ابھی اس کے بعد ہی ایک روایت آرہی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں کہ اجعلو اخر صلاتکم باللیل وتر اپنی رات کی نماز میں آخری نماز وتر کو رکھو لہٰذا بظاہر ان تمام روایتوں میں بڑا سخت تعارض نظر آتا ہے یہی وجہ ہے کہ اس تعارض کو رفع کرنے کے لئے علماء کو بڑی محنت کرنا پڑی ہے۔ حضرت امام احمد نے درمیانی راہ نکالنے کی کوشش کی ہے چناچہ وہ فرماتے ہیں کہ وتر کے بعد دو رکعت نماز نہ تو میں خود پڑھتا ہوں اور نہ کسی دوسرے کو پڑھنے سے منع کرتا ہوں۔ جمہور علماء کا کہنا ہے کہ چونکہ وتر کے بعد دو رکعت نفل کا پڑھنا بہر حال حدیث صحیح سے ثابت ہے اس لئے اس سے بالکل صرف نظر بھی نہیں کیا جاسکتا لہٰذا یہ حضرات دونوں رکعتوں کے پڑھنے کے قائل ہیں جہاں تک احادیث کے باہم تعارض کو رفع کرنے کا سوال ہے تو ان حضرات کی جانب سے ان حادیث میں دو طرح کی تطبیق پیدا کی گئی ہے۔ ایک تو یہ کہ اجعلو اخر صلاتکم باللیل وترا میں صلوٰۃ سے مراد ان دو رکعتوں کے علاوہ دوسرے نوافل ہیں اس طرح اس حدیث کا مطلب یہ ہوگا کہ رات کو وتر پڑھ لینے کے بعد ان دونوں رکعتوں کے علاوہ دوسرے نوافل نہ پڑھو۔ دوسری تطبیق جمہور علماء کی طرف سے یہ بیان کی جاتی ہے کہ اس سلسلے میں بہتر طریقہ یہ ہے کہ کبھی تو وتر کے بعد دو رکعتیں پڑھ لی جائیں اور کبھی نہ پڑھی جائیں تاکہ دونوں احادیث پر عمل ہوتا رہے۔ گویا یوں کہنا چاہیے کہ حدیث اجعلوا اخر صلو تک الخ استحباب پر محمول ہے نہ کہ وجوب پر یعنی اس میں جو حکم دیا گیا ہے وہ استحباب کے طور پر ہے وجوب کے طور پر نہیں ہے۔ اس کے بعد یہ بات بھی اختلافی ہے کہ آیا رسول اللہ ﷺ وتر کے بعد دو رکعت اس صورت میں پڑھتے تھے جب کہ آپ ﷺ وتر رات کے ابتدائی حصے میں ہی یعنی عشاء کے بعد ادا کرتے تھے یا اس شکل میں پڑھتے تھے جب کہ آپ ﷺ وتر آخر رات کو تہجد کے بعد ادا کرتے تھے؟ چناچہ اس سلسلے میں ابوامامہ سے جو حدیث منقول ہے وہ تو مطلق ہے اس میں صرف اتنا ہی مذکور ہے کہ رسول اللہ ﷺ وتر کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے تھے۔ یہ کچھ ذکر نہیں ہے کہ جو حدیث منقول ہے وہ تو مطلق ہے اس میں صرف اتنا ہی مذکور ہے کہ رسول اللہ ﷺ وتر کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے تھے۔ یہ کچھ ذکر نہیں ہے کہ اول شب میں پڑھتے تھے یا آخر شب میں مگر ثوبان سے جو حدیث منقول ہے وہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ آپ ﷺ کا وتر کے بعد پڑھنا اس صورت میں تھا جبکہ آپ ﷺ اول شب میں وتر ادا کرتے تھے۔ یہ دونوں حدیثیں اسی باب کے آخر میں آرہی ہیں صحیح البخاری و صحیح مسلم اور موطا کی روایات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ یہ قیام لیل کی صورت میں تھا یعنی آپ ﷺ رات کو تہجد کی نماز پڑھتے تو وتر کے بعد رکعت بھی پڑھا کرتے تھے اور یہی صحیح بھی ہے۔ بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ دونوں رکعتیں وتر کے ملحق ہیں اور وتر کی سنتوں کے قائم مقام ہیں۔ یعنی جس طرح فرض نماز کی سنتیں ہوتی ہیں کہ وہ فرض نماز سے پہلے یا بعد میں پڑھی جاتی ہیں اسی طرح یہ دونوں رکعتیں وتر کی سنتوں کے قائم مقام ہیں جو وتر کے بعد پڑھی جاتی ہیں۔

1234Mishkaat-al-Masabih

وتر رات کی آخری نماز ہونی چاہیے

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَص عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ اجْعَلُوْا اٰخِرَ صَلٰوتِکُمْ بِاللَّےْلِ وِتْرًا۔(صحیح مسلم)

اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا اپنی رات کی نماز میں آخری نماز وتر کو قرار دو۔ (صحیح مسلم) تشریح اس حدیث کے بارے میں اوپر تفصیل کے ساتھ بیان کیا جا چکا ہے مگر اس موقع پر بھی ایک مرتبہ پھر جان لیجئے کہ اس حدیث میں جو حکم دیا جا رہا ہے وہ وجوب کے طور پر نہیں ہے بلکہ استحباب کے طور پر ہے۔

1235Mishkaat-al-Masabih

وتر رات کی آخری نماز ہونی چاہیے

وَعَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ بَادِرُوْاالصُّبْحَ بِالْوِتْرِ۔(صحیح مسلم)

اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا صبح (آثار نمایاں ہونے پر) وتر میں جلدی کرو۔ (صحیح مسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ صبح ہونے سے پہلے پہلے وتر پڑھ لیا کرو حنفیہ کے نزدیک یہ حکم وجوب کے لئے ہے اگر رات کو وتر کی نماز رہ جائے تو دن کو اس کی قضا دینا واجب ہے۔

1236Mishkaat-al-Masabih

وتر کے اوقات

وَعَنْ جَابِرٍص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلممَنْ خَافَ اَنْ لاَّ ےَقُوْمَ مِنْ اٰخِرِ اللَّےْلِ فَلْےُوْتِرْ اَوَّلَہُ وَمَنْ طَمَعَ اَنْ ےَّقُوْمَ اٰخِرَہُ فَلْےُوْتِرْ اٰخِرَ اللَّےْلِ فَاِنَّ صَلٰوۃَ اٰخِرِ اللَّےْلِ مَشْھُوْدَۃٌ وَذَالِکَ اَفْضَلُ۔(مسلم

اور حضرت جابر ؓ راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا جس آدمی کو اس بات کا خوف ہو کہ آخر رات کو وتر پڑھنے کے لئے نہ اٹھ سکوں گا تو اسے چاہیے کہ وہ شروع رات ہی میں (یعنی عشاء کے فورا بعد) وتر پڑھ لے اور جس آدمی کو آخر رات میں اٹھنے کی امید ہو تو وہ آخر رات ہی میں وتر پڑھے کیونکہ آخر رات کی نماز مشہودہ ہے (یعنی) اس وقت رحمت کے فرشتوں اور انوارو برکات کا نزول ہوتا ہے اور یہ (یعنی آخررات میں و تر پڑھنا) افضل ہے۔ (صحیح مسلم) تشریح آخر رات کی فضیلت و برکات کے بارے میں آپ گزشہ صفحات میں پڑھ چکے ہیں کہ رات کے اس حصے میں جو بھی عبادت کی جائے گی وہ ثواب وسعادت کے اعتبار سے بہت زیادہ افضل ہوگی۔ اسی لئے آخر رات میں وتر کی نماز پڑھنا افضل ہے کیونکہ نہ صرف یہ کہ اس افضل وقت میں وتر کی ادائیگی ہوتی ہے بلکہ اس وقت رحمت کے فرشتوں اور حق تعالیٰ کے انواروبرکات کے نزول کی وجہ سے ثواب بھی بہت زیادہ ملتا ہے۔

1237Mishkaat-al-Masabih

وتر کے اوقات

وَعَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَاقَالَتْ مِنْ کُلِّ اللَّےْلِ اَوْتَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مِنْ اَوَّلِ اللَّےْلِ وَاَوْسَطِہٖ وَاٰخِرِہٖ وَانْتَھٰی وِتْرُہُ اِلَی السَّحَرِ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے رات کے ہر حصے میں وتر کی نماز پڑھی ہے۔ یعنی ابتدائی رات میں بھی اور عشاء کی نماز کے فورا بعد رات کے درمیانی حصے میں بھی اور آخر رات میں بھی مگر آخر عمر میں آپ ﷺ نے وتر کے لئے سحر کا وقت یعنی رات کا چھٹا حصہ مقرر کرلیا تھا۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم )

1238Mishkaat-al-Masabih

رسول اللہ ﷺ کی طرف سے حضرت ابوہریرہ کو تین باتوں کی وصیت

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ص قَالَ اَوْصَانِیْ خَلِےْلِیْ بِثَلٰثٍ صِےَامِ ثَلٰثَۃِ اَےَّامٍ مِّنْ کُلِّ شَھْرٍ وَرَکْعَتَیِ الْضُّحٰی وَاَنْ اُوْتِرَ قَبْلَ اَنْ اَنَامَ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میرے دوست یعنی سرور کونین ﷺ نے مجھے تین باتوں کی وصیت فرمائی تھی ایک تو ہر مہینہ میں تین روزے رکھنے کی دوسری دو رکعت ضحی کی نماز پڑھنے کی اور تیسری یہ کہ سونے سے پہلے وتر پڑھ لوں۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم ) تشریح ہر مہینے کے تین روزے کے تعین میں مختلف اقوال ہیں چناچہ بعض علماء نے کہا ہے کہ مہینے کے تین روزوں سے ایام بیض یعنی ہر مہینے کی تیرھویں، چودھویں اور پندرھویں تاریخ کے روزے مراد ہیں۔ بعض حضرات کی جانب سے کہا جاتا ہے کہ ایک روزہ ابتدائی مہینے میں ایک روزہ درمیان میں اور ایک روزہ آخر مہینہ میں رکھا جائے۔ بعض علماء کا کہنا ہے کہ یہ مطلق ہے یعنی اختیار ہے کہ پورے مہینے میں جب چاہے تین روزے رکھے لے۔ ضحی کی دو رکعتوں سے نماز اشراق یا نماز چاشت مراد ہے جو آفتاب بلند ہونے کے بعد پڑھی جاتی ہے ان نمازوں کا ادنیٰ درجہ دو رکعت ہے مگر اشراق کی نماز کا اکثر درجہ چھ رکعت اور چاشت کی نماز کا بارہ رکعت ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کو اول شب میں وتر پڑھ لینے کے لئے اس وجہ سے فرمایا کہ وہ رات کے ابتدائی حصے میں رسول اللہ ﷺ کی احادیث کو یاد کرنے اور ان کی تکرار میں مشغول رہتے تھے جس کا سلسلہ رات گئے تک جاری رہتا تھا اس وجہ سے ان کے لئے آخر رات میں اٹھنا بہت مشکل تھا چناچہ اسی مشغولیت علم کی وجہ سے انہیں اشراق یا چاشت کی بھی دو ہی رکعتیں پڑھنے کے لئے فرمایا۔ لہٰذا اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ علم دین کے حصول اور اس کی ترویج و اشاعت میں رہنا نفل عبادت کی مشغولیت سے بہتر ہے۔

1239Mishkaat-al-Masabih

رسول اللہ ﷺ رات کے شروع بھی وتر پڑھتے تھے

عَنْ غُضَیْفِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَۃَ اَرَاَیْتِ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلمکَانَ یَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَۃِ فِیْ اَوَّلَ اللَّیْلِ اَمْ فِیْ اٰخِرِہٖ قَالَتْ رَبَّمَا اغْتَسَلَ فِیْ اَوَّلِ اللَّیْلِ وَرَبُّمَا اغْتَسَلَ فِیْ اٰخِرِہٖ قُلْتُ اَﷲُ اَکْبَرُ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ جَعَلَ فِی الْاَمْرِ سعَۃً قُلْتُ کَانَ یُوْ تِرَ فِیْ اَوَّلِ اللَّیْلِ اَمْ فِیْ اٰخِرِہٖ قَالَتْ رُبَّمَا اَوْ تَرَ فِیْ اَوَّلِ اللَّیْلِ وَرُبَّمَا اَوْتَرَ فِیْ اٰخِرِہٖ قُلْتُ اَﷲُ اَکْبَرُ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ جَعَلَ فِی الْاَمْرِ سِعَۃً قُلْتُ کَانَ یَجْھَرُ باِلْقِرَا ءَ ۃِ اَمْ یَخْفِتُ قَالَتْ رُبَّمَا جَھَرَ بِہٖ وَرُبَّمَا خَفَّتْ قُلْتُ اَﷲُ اَکْبَرُ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ جَعَلَ فِی الْاَمْرِ سِعَۃً رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ وَرَوَی ابْنُ مَاجَۃَ الْفَصْلَ الْاَخِیْرَ۔

حضرت غضیف ابن حارث فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے پوچھا کہ سرور کونین ﷺ غسل جنابت شروع رات میں کرتے تھے یا آخر رات میں؟ یعنی آپ ﷺ جماع سے فارغ ہوتے ہی نہا لیتے تھے یا اس وقت تو سور ہتے اور جب تہجد کی نماز کے لئے اٹھتے تو نہاتے حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ کبھی آپ ﷺ (جماع سے فارغ ہوتے ہی) شروع رات ہی میں نہا لیتے تھے اور کبھی آخر میں غسل فرماتے میں نے کہا اللہ بہت بڑا ہے تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے زیبا ہیں جس نے دینی امور میں آسانی عطا فرمائی اور پھر پوچھا کہ آپ ﷺ وتر کی نماز شروع رات میں (عشاء کے فورا بعد ہی) پڑھ لیتے تھے یا آخر شب میں پڑھتے تھے؟ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کبھی تو شروع رات ہی میں پڑھ لیتے تھے اور کبھی آخر رات میں پڑھتے تھے میں نے کہا اللہ بہت بڑا ہے تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے زیبا ہیں جس نے دینی امور میں آسانی عطا فرمائی اور پھر پوچھا آپ ﷺ تہجد کی نماز میں یا مطلقاً کسی بھی نماز میں قرأت بآواز بلند فرماتے تھے یا آہستہ آواز سے؟ انہوں نے فرمایا کبھی تو بآواز بلند قرأت فرماتے تھے اور کبھی آہستہ آواز سے میں نے کہا بڑا اللہ بہت بڑا ہے تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے زیبا ہیں جس نے دینی امور میں آسانی عطا فرمائی ابوداؤد، ابن ماجہ نے اس روایت کا صرف آخری فقرہ (جس میں قرأت کا ذکر ہے) نقل کیا ہے۔

1240Mishkaat-al-Masabih

نماز تہجد ووتر کی رکعتوں کی تعداد

وَعَنْ عَبْدِاﷲِ بْنِ اَبِیْ قَیْسٍ قَالَ سَئَلْتُ عَائِشَۃَ بِکُمْ کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یُوْتِرُ قَالَتْ کَانَ یُوْتِرُ بِاَرْبَعٍ وَّثلَاَثٍ وَسِتٍّ وَّثلَاَثٍ وَّثَمَانٍ وَّثَلَاثٍ وَّعَشْرٍ وَّثَلَاثٍ وَلَمْ یَکُنْ یُوْ تِرُ بِاَنْقَصَ مِنْ سَبْعٍ وَلَا بِاَکْثَرَ مِنْ ثلَاَثَ عَشْرَۃَ۔ (رواہ ابوداؤد)

اور حضرت عبداللہ بن ابی قیس ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے پوچھا سرور کونین ﷺ کتنی رکعتوں کے ساتھ وتر پڑھتے تھے۔ حضرت عائشہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کبھی چار اور تین (یعنی سات) کبھی چھ اور تین (یعنی نو) رکعتوں کے ساتھ، کبھی آٹھ اور تین (یعنی گیارہ) رکعتوں کے ساتھ اور کبھی دس اور تین (یعنی تیرہ) رکعتوں کے ساتھ وتر پڑھتے تھے اور آپ ﷺ سات سے کم اور تیرہ سے زیادہ رکعتوں کے ساتھ کبھی وتر نہیں پڑھتے تھے۔ (ابوداؤد) تشریح چار اور تین رکعتوں کے ساتھ کا مطلب یہ ہے کہ چار رکعتیں تو تہجد کی ہوتی تھیں اور تین رکعتیں وتر کی، اس طرح مجموعی طور پر سات رکعتیں ہوگئی۔ گویا پہلی چار رکعتوں کو بھی مجازا وتر ہی میں شمار کیا اسی طرح چھ رکعتیں تہجد کی اور تین وتر کی ان کی مجموعی تعداد نو رکعتیں ہوئی، آٹھ رکعتیں تہجد کی اور تین رکعتیں وتر کی ان کی مجموعی تعداد گیارہ رکعت ہوئی اور دس نماز تہجد کی اور تین رکعتیں وتر کی، ان کی مجموعی تعداد تیرہ رکعتیں ہوئی۔ بہر حال یہ حدیث صراحت کے ساتھ دلالت کرتی ہے کہ وتر کی ایک رکعت نہیں بلکہ تین رکعتیں ہیں۔ حدیث کے آخری الفاظ کا مطلب یہ نہیں کہ آپ ﷺ نے کبھی بھی وتر کی نماز سات سے کم اور تیرہ سے زیادہ رکعت کے ساتھ نہیں پڑھی بلکہ مطلب یہ ہے کہ اکثر آپ ﷺ سات رکعتیں سے کم کے ساتھ وتر نہیں پڑھتے، چناچہ آپ ﷺ سے پانچ رکعتیں بھی ثابت ہیں۔ اسی طرح اکثر آپ ﷺ تیرہ رکعتوں سے زیادہ کے ساتھ وتر نہیں پڑھتے تھے چناچہ پندرہ رکعتیں بھی آپ ﷺ سے پڑھنی ثابت ہیں۔