Mishkaat-al-Masabihمشکوٰۃ المصابیح
All 6,294 hadiths in order · Page 303 of 315
حضرت عمر ؓ کے مناقب کا بیان
وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «ثُمَّ أَخَذَهَا ابْنُ الْخَطَّابِ مِنْ يَدِ أَبِي بَكْرٍ فَاسْتَحَالَتْ فِي يَدِهِ غَرْبًا فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا يَفْرِي فَرْيَهُ حَتَّى رَوِيَ النَّاسُ وَضَرَبُوا بعَطَنٍ» . مُتَّفق عَلَيْهِ
ابن عمر ؓ سے مروی روایت میں ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ پھر ابوبکر کے ہاتھ سے ابن خطاب نے اسے لے لیا تو وہ ان کے ہاتھ میں بڑا ہو گیا ، میں نے ایسا سردار نہیں دیکھا جو ان کی طرح کام کرتا ہو ، حتیٰ کہ لوگ سیراب ہو گئے اور انہوں نے اونٹوں کو بھی حوض سے سیراب کیا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
حضرت عمر ؓ کے مناقب کا بیان
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ جَعَلَ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ نے حق کو عمر ؓ کی زبان اور ان کے دل پر جاری فرما دیا ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
حضرت عمر ؓ کے مناقب کا بیان
وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ الْحَقَّ عَلَى لِسَان عمر يَقُول بِهِ»
اور ابوداؤد کی روایت میں جو کہ ابوذر ؓ سے مروی ہے ، فرمایا :’’ اللہ نے حق کو عمر کی زبان پر رکھ دیا ہے جس کے ذریعے وہ بولتے ہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
حضرت عمر ؓ کے مناقب کا بیان
وَعَنْ عَلِيٍّ\nرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَا كُنَّا نُبْعِدُ أَنَّ السَّكِينَةَ تَنْطِقُ عَلَى لِسَانِ عمر. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي «دَلَائِل النُّبُوَّة»\n
علی ؓ نے فرمایا : ہم اس بات کو بعید نہیں سمجھتے کہ تسکین بخشنے والا کلام عمر ؓ کی زبان پر جاری ہوتا ہے ۔ صحیح ، رواہ البیھقی فی دلائل النبوۃ ۔
حضرت عمر ؓ کے مناقب کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِأَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ أَوْ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ» فَأَصْبَحَ عُمَرُ فَغَدَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمَ ثُمَّ صَلَّى فِي الْمَسْجِدِ ظَاهرا. رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ
ابن عباس ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے دعا فرمائی : اے اللہ ! اسلام کو ابوجہل بن ہشام یا عمر بن خطاب کے ذریعے غلبہ عطا فرما ۔‘‘ صبح ہوئی تو عمر پہلے پہر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اور اسلام قبول کیا ، پھر آپ نے مسجد میں علانیہ نماز ادا فرمائی ۔ ضعیف ، رواہ احمد و الترمذی ۔
حضرت عمر ؓ کے مناقب کا بیان
وَعَنْ\nجَابِرٍ قَالَ: قَالَ عُمَرُ لِأَبِي بَكْرٍ: يَا خَيْرَ النَّاسِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَمَا إِنَّكَ إِنْ قُلْتَ ذَلِكَ فَلَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ عَلَى رَجُلٍ خَيْرٍ مِنْ عُمَرَ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ\n
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، عمر ؓ نے ابوبکر ؓ سے فرمایا : اے وہ انسان جو رسول اللہ ﷺ کے بعد سب سے بہتر شخصیت ہے ! ابوبکر ؓ نے فرمایا : سن لو ! اگر آپ نے یہ بات کی ہے تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے :’’ عمر سے بہتر شخص کوئی نہیں جس پر سورج طلوع ہوا ہو ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
حضرت عمر ؓ کے مناقب کا بیان
وَعَنْ\nعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لوكان بَعْدِي نَبِيٌّ لَكَانَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ\n
عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتے ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
حضرت عمر ؓ کے مناقب کا بیان
وَعَن بُرَيْدَة قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ فَلَمَّا انْصَرَفَ جَاءَتْ جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ. فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كنتُ نذرت إِن ردك الله سالما أَنْ أَضْرِبَ بَيْنَ يَدَيْكَ بِالدُّفِّ وَأَتَغَنَّى. فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ كُنْتِ نَذَرْتِ فَاضْرِبِي وَإِلَّا فَلَا» فَجَعَلَتْ تَضْرِبُ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ وَهِيَ تَضْرِبُ ثُمَّ دَخَلَ عَلِيٌّ وَهِيَ تَضْرِبُ ثُمَّ دَخَلَ عُثْمَانُ وَهِيَ تَضْرِبُ ثُمَّ دَخَلَ عُمَرُ فَأَلْقَتِ الدُّفَّ تَحْتَ اسْتِهَا ثُمَّ قَعَدَتْ عَلَيْهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الشَّيْطَانَ لَيَخَافُ مِنْكَ يَا عُمَرُ إِنِّي كُنْتُ جَالِسًا وَهِيَ تَضْرِبُ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ وَهِيَ تَضْرِبُ ثُمَّ دَخَلَ عَلِيٌّ وَهِيَ تَضْرِبُ ثُمَّ دَخَلَ عُثْمَانُ وَهِيَ تَضْرِبُ فَلَمَّا دَخَلْتَ أَنْتَ يَا عُمَرُ أَلْقَتِ الدُّفَّ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيب
بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کسی غزوہ کے لیے تشریف لے گئے ، جب آپ واپس ہوئے تو ایک سیاہ فام عورت آپ کے پاس آئی تو اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ آپ کو صحیح سلامت واپس لے آیا تو میں آپ کے سامنے دف بجاؤں گی اور غزل پڑھوں گی ، رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا :’’ اگر تو نے نذر مانی تھی تو پھر دف بجا لے اور اگر نذر نہیں مانی تو پھر نہیں ۔‘‘ وہ بجانے لگی تو ابوبکر ؓ تشریف لائے ، وہ (ان کے آنے پر) بجاتی رہی ، پھر علی ؓ تشریف لائے اور وہ بجاتی رہی ، پھر عثمان ؓ تشریف لائے تو وہ بجاتی رہی ، پھر عمر ؓ تشریف لائے تو اس نے دف اپنے سرین کے نیچے رکھ لی اور اس پر بیٹھ گئی ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ عمر ! شیطان تم سے ڈرتا ہے ، میں بیٹھا ہوا تھا اور وہ دف بجاتی رہی ، ابوبکر آئے تو وہ بجاتی رہی ، پھر علی آئے تو وہ بجاتی رہی ، پھر عثمان آئے تو وہ بجاتی رہی ، عمر جب تم آئے تو اس نے دف پھینک دی ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
حضرت عمر ؓ کے مناقب کا بیان
وَعَنْ\nعَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فَسَمِعْنَا لَغَطًا وَصَوْتَ صِبْيَانٍ. فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا حَبَشِيَّةٌ تَزْفِنُ وَالصِّبْيَانُ حَوْلَهَا فَقَالَ: «يَا عَائِشَةُ تَعَالَيْ فَانْظُرِي» فَجِئْتُ فَوَضَعْتُ لَحْيَيَّ عَلَى مَنْكِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَيْهَا مَا بَيْنَ الْمَنْكِبِ إِلَى رَأْسِهِ. فَقَالَ لِي: «أَمَا شَبِعْتِ؟ أَمَا شَبِعْتِ؟» فَجَعَلْتُ أَقُولُ: لَا لِأَنْظُرَ مَنْزِلَتِي عِنْدَهُ إِذ طلع عمر قَالَت فَارْفض النَّاس عَنْهَا. قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لأنظر إِلَى شَيَاطِينِ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ قَدْ فَرُّوا مِنْ عُمَرَ» قَالَتْ: فَرَجَعْتُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيب\n
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ تشریف فرما تھے کہ ہم نے شور اور بچوں کی آواز سنی ، رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے تو دیکھا کہ ایک حبشی خاتون رقص کر رہی تھی اور بچے اس کے اردگرد (تماشا دیکھ رہے) تھے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ عائشہ ! آؤ اور دیکھو ۔‘‘ میں آئی تو میں نے اپنے جبڑے (چہرہ) رسول اللہ ﷺ کے کندھے پر رکھ دیئے اور میں آپ کے کندھے اور سر کے درمیان سے اسے دیکھنے لگی ، آپ ﷺ نے مجھے فرمایا :’’ کیا تم سیر نہیں ہوئی ، کیا تم سیر نہیں ہوئی ؟‘‘ میں کہنے لگی نہیں ، تا کہ میں آپ کے ہاں اپنی قدر و منزلت کا اندازہ لگا سکوں ، اچانک عمر ؓ تشریف لے آئے تو سارے لوگ اس (حبشیہ) کے پاس سے تتر بتر ہو گئے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں نے شیاطین جن و انس کو دیکھا کہ وہ عمر کی وجہ سے بھاگ رہے ہیں ۔‘‘ عائشہ ؓ نے فرمایا : میں واپس آ گئی ۔ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
حضرت عمر ؓ کے مناقب کا بیان
عَن أنس وَابْن عمر أَن عمر قَالَ: وَافَقْتُ رَبِّي فِي ثَلَاثٍ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوِ اتَّخَذْنَا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى؟ فَنَزَلَتْ [وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى] . وَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ يَدْخُلُ عَلَى نِسَائِكَ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ فَلَوْ أَمَرْتَهُنَّ يَحْتَجِبْنَ؟ فَنَزَلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ وَاجْتَمَعَ نِسَاءُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَيْرَةِ فَقُلْتُ [عَسَى رَبُّهُ إِنْ طلَّقكنَّ أَن يُبدلهُ أَزْوَاجًا خيرا منكنَّ] فَنزلت كَذَلِك
انس اور ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ عمر ؓ نے فرمایا : میں نے تین امور میں اپنے رب سے موافقت کی ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! اگر ہم مقام ابراہیم کو جائے نماز بنا لیں ؟ اللہ نے یہ آیت نازل فرما دی :’’ مقام ابراہیم کو جائے نماز بناؤ ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! آپ کی ازواج مطہرات کے پاس نیک و فاسق قسم کے لوگ آتے ہیں ، اگر آپ انہیں پردہ کرنے کا حکم فرما دیں ، تب اللہ نے آیت حجاب نازل فرمائی ، اور (ایک موقع پر) نبی ﷺ کی ازواج مطہرات قصہ غیرت (شہد پینے والے واقعہ) پر اکٹھی ہو گئیں ، تو میں نے کہا :’’ قریب ہے کہ اس کا رب ، اگر وہ تمہیں طلاق دے دیں ، تم سے بہتر بیویاں انہیں عطا فرما دے ۔‘‘ اسی طرح آیت نازل ہو گئی ۔ رواہ البخاری ۔
حضرت عمر ؓ کے مناقب کا بیان
وَفِي رِوَايَةٍ لِابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ عُمَرُ: وَافَقْتُ رَبِّي فِي ثَلَاثٍ: فِي مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ وَفِي الْحِجَابِ وَفِي أُسَارَى بَدْرٍ. مُتَّفق عَلَيْهِ
اور ابن عمر ؓ کی روایت میں ہے ، انہوں نے کہا ، عمر ؓ نے فرمایا : میں نے تین امور میں ، اپنے رب سے موافقت کی ، مقام ابراہیم کے متعلق ، پردے اور بدر کے قیدیوں کے بارے میں ۔ متفق علیہ ۔
حضرت عمر ؓ کے مناقب کا بیان
وَعَن\nابْن مَسْعُود قَالَ: فُضِّلَ النَّاسَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِأَرْبَعٍ: بِذِكْرِ الْأُسَارَى يَوْمَ بَدْرٍ أَمَرَ بِقَتْلِهِمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى [لَوْلَا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُم عَذَاب عَظِيم] وَبِذِكْرِهِ الْحِجَابَ أَمَرَ نِسَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحْتَجِبْنَ فَقَالَتْ لَهُ زَيْنَبُ: وَإِنَّكَ عَلَيْنَا يَا ابْنَ الْخَطَّابِ وَالْوَحْيُ يَنْزِلُ فِي بُيُوتِنَا؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى [وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعا فَاسْأَلُوهُنَّ من وَرَاء حجاب] وَبِدَعْوَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ أَيِّدِ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ» وَبِرَأْيِهِ فِي أَبِي بَكْرٍ كَانَ أول نَاس بَايعه. رَوَاهُ أَحْمد\n
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، عمر بن خطاب ؓ کو چار چیزوں کی وجہ سے دیگر لوگوں پر فضیلت عطا کی گئی ، انہوں نے بدر کے قیدیوں کو قتل کرنے کا مشورہ دیا تھا ، اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :’’ اگر اللہ کی کتاب میں یہ حکم پہلے سے موجود نہ ہوتا تو تم نے جو (فدیہ) لیا اس پر تمہیں بڑا عذاب پہنچتا ۔‘‘ اور ان کا حجاب کے متعلق فرمانا ، انہوں نے نبی ﷺ کی ازواج مطہرات سے فرمایا کہ وہ پردہ کیا کریں ، تو زینب ؓ نے انہیں فرمایا : ابن خطاب ! کیا آپ ہمیں حکم دیتے ہیں جبکہ وحی تو ہمارے گھروں میں اترتی ہے ، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :’’ اور جب تم ان سے کوئی چیز طلب کرو تو ان سے پردے کے پیچھے سے طلب کرو ۔‘‘ اور ان کے متعلق نبی ﷺ کی دعا :’’ اے اللہ ! عمر کے ذریعے اسلام کو تقویت فرما ۔‘‘ اور ابوبکر ؓ کے (خلیفہ ہونے کے) متعلق سب سے پہلی انہیں کی رائے تھی اور انہوں نے ہی سب سے پہلے اُن کی بیعت کی ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔
حضرت عمر ؓ کے مناقب کا بیان
وَعَنْ\nأَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ذَاكَ الرَّجُلُ أَرْفَعُ أُمَّتِي دَرَجَةً فِي الْجَنَّةِ» . قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: وَاللَّهِ مَا كُنَّا نُرَى ذَلِكَ الرَّجُلَ إِلَّا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ. رَوَاهُ ابْن مَاجَه\n
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ آدمی میری امت میں سے جنت میں ایک درجہ بلند مقام پر فائز ہو گا ۔‘‘ ابوسعید ؓ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! ہمارے خیال میں وہ آدمی عمر بن خطاب ؓ ہی ہیں حتیٰ کہ وہ وفات پا گئے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔
حضرت عمر ؓ کے مناقب کا بیان
وَعَن\nأسلم قَالَ: سَأَلَنِي ابْنُ عُمَرَ بَعْضَ شَأْنِهِ - يَعْنِي عُمَرَ - فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا قَطُّ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حِينِ قُبِضَ كَانَ أَجَدَّ وَأَجْوَدَ حَتَّى انْتهى من عمر. رَوَاهُ البُخَارِيّ\n
اسلم (عمر ؓ کے آزاد کردہ غلام) بیان کرتے ہیں ، ابن عمر ؓ نے مجھ سے عمر ؓ کے بعض حالات کے متعلق دریافت کیا تو میں نے انہیں بتایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد کسی شخص کو اتنی زیادہ جدوجہد اور سخاوت کرنے والا نہیں دیکھا حتیٰ کہ یہ فضائل عمر ؓ پر ختم ہو گئے ۔ رواہ البخاری ۔
حضرت عمر ؓ کے مناقب کا بیان
وَعَن\nالمِسور بن مَخْرَمةَ قَالَ: لَمَّا طُعِنَ عُمَرُ جَعَلَ يَأْلَمُ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ وَكَأَنَّهُ يُجَزِّعُهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَلَا كُلُّ ذَلِكَ لَقَدْ صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَحْسَنْتَ صُحْبَتَهُ ثُمَّ فَارَقَكَ وَهُوَ عَنْكَ رَاضٍ ثُمَّ صَحِبْتَ أَبَا بَكْرٍ فَأَحْسَنْتَ صُحْبَتَهُ ثُمَّ فَارَقَكَ وَهُوَ عَنْكَ رَاضٍ ثُمَّ صَحِبْتَ الْمُسْلِمِينَ فَأَحْسَنْتَ صُحْبَتَهُمْ وَلَئِنْ فَارَقْتَهُمْ لَتُفَارِقَنَّهُمْ وَهُمْ عَنْكَ رَاضُونَ. قَالَ: أَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ صُحْبَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم وَرضَاهُ فَإِنَّمَا ذَاك مَنٌّ مِنَ اللَّهِ مَنَّ بِهِ عَلَيَّ وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ صُحْبَةِ أَبِي بَكْرٍ وَرِضَاهُ فَإِنَّمَا ذَلِك من من الله جلّ ذكره مَنَّ بِهِ عَلَيَّ. وَأَمَّا مَا تَرَى مِنْ جزعي فَهُوَ من أَجلك وَأجل أَصْحَابِكَ وَاللَّهِ لَوْ أَنَّ لِي طِلَاعَ الْأَرْضِ ذَهَبا لافتديت بِهِ من عَذَاب الله عز وَجل قبل أَن أرَاهُ. رَوَاهُ البُخَارِيّ\n
مسور بن مخرمہ ؓ بیان کرتے ہیں ، جب عمر ؓ زخمی کر دیے گئے تو وہ تکلیف محسوس کرنے لگے ، اس پر ابن عباس ؓ نے انہیں تسلی دیتے ہوئے عرض کیا : امیر المومنین ! آپ اتنی تکلیف کا کیوں اظہار کر رہے ہیں ؟ آپ نے رسول اللہ ﷺ کی صحبت اختیار کی اور اسے اچھے انداز میں نبھایا ، پھر وہ آپ سے جدا ہوئے تو وہ آپ پر راضی تھے ، پھر آپ ابوبکر ؓ کی صحبت میں رہے ، اور ان کے ساتھ بھی خوب رہے ، پھر وہ آپ سے جدا ہوئے تو وہ بھی آپ پر راضی تھے ، پھر آپ مسلمانوں کی صحبت میں رہے ، اور آپ ان کے ساتھ بھی خوب اچھی طرح رہے ، اور اگر آپ ان سے جدا ہوئے تو آپ ان سے بھی اس حال میں جدا ہوں گے کہ وہ آپ سے راضی ہوں گے ، انہوں نے فرمایا : تم نے جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اور آپ کے راضی ہونے کا ذکر کیا ہے تو وہ اللہ کی طرف سے ایک احسان ہے جو اس نے مجھ پر کیا ہے ، اور تم نے جو ابوبکر ؓ کے ساتھ اور ان کے راضی ہونے کا ذکر کیا ہے تو وہ بھی اللہ کی طرف سے ایک احسان ہے جو اس نے مجھ پر کیا ہے ، اور رہی میری گھبراہٹ اور پریشانی جو تم دیکھ رہے ہو تو وہ آپ اور آپ کے ساتھیوں کے بارے میں فکر مند ہونے کی وجہ سے ہے ، اللہ کی قسم ! اگر میرے پاس زمین بھر سونا ہوتا تو میں اللہ کے عذاب کو دیکھنے سے پہلے اس کا فدیہ دے کر اس سے نجات حاصل کرتا ۔ رواہ البخاری ۔
حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ کے مناقب کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: بَينا رجل يَسُوق بقرة إِذْ أعيي فَرَكِبَهَا فَقَالَتْ: إِنَّا لَمْ نُخْلَقْ لِهَذَا إِنَّمَا خُلِقْنَا لِحِرَاثَةِ الْأَرْضِ. فَقَالَ النَّاسُ: سُبْحَانَ اللَّهِ بَقَرَةٌ تَكَلَّمُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَإِنِّي أومن بِهَذَا أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ» . وَمَا هُمَا ثَمَّ وَقَالَ: بَيْنَمَا رَجُلٌ فِي غَنَمٍ لَهُ إِذْ عدا الذِّئْب فَذهب عَلَى شَاةٍ مِنْهَا فَأَخَذَهَا فَأَدْرَكَهَا صَاحِبُهَا فَاسْتَنْقَذَهَا فَقَالَ لَهُ الذِّئْبُ: فَمَنْ لَهَا يَوْمَ السَّبْعِ يَوْمَ لَا رَاعِيَ لَهَا غَيْرِي؟ فَقَالَ النَّاسُ: سُبْحَانَ الله ذِئْب يتَكَلَّم؟ . قَالَ: أُومِنُ بِهِ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَمَا هما ثمَّ. مُتَّفق عَلَيْهِ
ابوہریرہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس اثنا میں کہ ایک آدمی گائے ہانک رہا تھا ، جب وہ تھک جاتا تو وہ اس پر سوار ہو جاتا ، اس نے کہا : ہمیں اس لیے نہیں پیدا کیا گیا ، ہمیں تو کھیت جوتنے کے لیے پیدا کیا گیا ہے ، لوگوں نے کہا : سبحان اللہ : گائے کلام کرتی ہے ۔‘‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں اس پر ایمان رکھتا ہوں ابوبکر اور عمر ؓ بھی اس پر ایمان رکھتے ہیں ۔‘‘ اور وہ دونوں اس وقت وہاں موجود نہیں تھے ، اور فرمایا :’’ ایک آدمی بکریاں چرا رہا تھا کہ بھیڑیے نے ایک بکری پر حملہ کیا اور اسے پکڑ لیا ، اس کے مالک نے اسے جا لیا اور اسے چھڑا لیا ، بھیڑیے نے اسے کہا : جس دن درندے ہی درندے رہ جائیں گے اور اس دن میرے سوا بکریوں کو چرانے والا کون ہو گا ؟ لوگوں نے کہا : سبحان اللہ ! بھیڑیا کلام کرتا ہے ۔‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں اس پر ایمان رکھتا ہوں اور ابوبکر و عمر ؓ اس پر ایمان رکھتے ہیں ۔‘‘ اور وہ دونوں اس وقت وہاں موجود نہیں تھے ۔ متفق علیہ ۔
حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ کے مناقب کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: إِنِّي لَوَاقِفٌ فِي قَوْمٍ فَدَعَوُا اللَّهَ لِعُمَرَ وَقَدْ وُضِعَ عَلَى سَرِيرِهِ إِذَا رَجُلٌ مِنْ خَلَفِي قد وضع مِرْفَقُهُ عَلَى مَنْكِبِي يَقُولُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَجْعَلَكَ اللَّهُ مَعَ صَاحِبَيْكَ لِأَنِّي كَثِيرًا مَا كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «كُنْتُ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَفَعَلْتُ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَانْطَلَقْتُ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَدَخَلْتُ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَخَرَجْتُ وَأَبُو بكر وَعمر» . فَالْتَفَتُّ فَإِذَا هُوَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ. مُتَّفق عَلَيْهِ
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں ان لوگوں میں کھڑا تھا جو عمر ؓ کے لیے دعائیں کر رہے تھے ، اور ان کا جنازہ ان کی چار پائی پر رکھا ہوا تھا ، کہ اچانک ایک آدمی نے میرے پیچھے سے اپنی کہنی میرے کندھوں پر رکھ دی ، اور وہ کہہ رہے تھے : اللہ آپ ؓ پر رحم فرمائے ، مجھے امید ہے کہ اللہ آپ کو آپ کے دونوں ساتھیوں کے ساتھ (دفن) کرائے گا ۔ کیونکہ میں اکثر رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کرتا تھا :’’ میں ، ابوبکر اور عمر تھے ، میں ، ابوبکر اور عمر نے کلام کیا ، میں ، ابوبکر اور عمر گئے ، میں ، ابوبکر اور عمر داخل ہوئے ، میں ، ابوبکر اور عمر باہر نکلے ۔‘‘ میں نے جو مڑ کر دیکھا تو وہ علی بن ابی طالب ؓ تھے ۔ متفق علیہ ۔
حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ کے مناقب کا بیان
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِن أهل الْجنَّة ليراءون أهلَ عِلِّيِّينَ كَمَا تَرَوْنَ الْكَوْكَبَ الدُّرِّيَّ فِي أُفُقِ السَّمَاءِ وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ مِنْهُمْ وَأَنْعَمَا» . رَوَاهُ فِي «شَرْحِ السُّنَّةِ» وَرَوَى نَحْوَهُ أَبُو دَاوُد وَالتِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه
ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جنت والے مقام علیین والوں کو اس طرح دیکھیں گے جس طرح تم آسمان کے افق میں چمک دار ستارے کو دیکھتے ہو ، اور ابوبکر و عمر انہی میں سے ہیں ، اور وہ کیا خوب ہیں ۔‘‘ شرح السنہ ، ابوداؤد ، ترمذی اور ابن ماجہ نے اسی طرح روایت کیا ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ و ابوداؤد و الترمذی و ابن ماجہ ۔
حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ کے مناقب کا بیان
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ إِلَّا النَّبِيين وَالْمُرْسلِينَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ابوبکر اور عمر ؓ اہل جنت کے اولین و آخرین کے عمر رسیدہ لوگوں کے سردار ہوں گے البتہ انبیا ؑ اور رسول اس سے مستثنیٰ ہوں گے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔
حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ کے مناقب کا بیان
وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنهُ
امام ابن ماجہ ؒ نے اسے علی ؓ سے روایت کیا ہے ۔ حسن ، رواہ ابن ماجہ ۔