Mishkaat-al-Masabihمشکوٰۃ المصابیح

All 6,294 hadiths in order · Page 295 of 315

5881Mishkaat-al-Masabihصحیح

معجزوں کا بیان

وَفِي\nرِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ قَالَ أَنَسٌ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى الْغُبَارِ سَاطِعًا فِي زُقَاقِ بَنِيَ غَنْمٍ موكبَ جِبْرِيل عَلَيْهِ السَّلَامُ حِينَ سَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بني قُرَيْظَة\n

صحیح بخاری کی روایت میں ہے ، انس ؓ نے بیان کیا ، گویا میں بنو غنم کی گلیوں میں اٹھتی ہوئی غبار دیکھ رہا ہوں جو جبریل ؑ کے ساتھیوں کی وجہ سے اڑ رہی تھی ، یہ اس وقت ہوا جب رسول اللہ ﷺ بنو قریظہ کی طرف چلے تھے ۔ متفق علیہ ۔

5882Mishkaat-al-Masabihصحیح

معجزوں کا بیان

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ عَطِشَ النَّاسُ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ يَدَيْهِ رِكْوَةٌ فَتَوَضَّأَ مِنْهَا ثُمَّ أَقْبَلَ النَّاسُ نَحْوَهُ قَالُوا: لَيْسَ عَنْدَنَا مَاءٌ نَتَوَضَّأُ بِهِ وَنَشْرَبُ إِلَّا مَا فِي رِكْوَتِكَ فَوضَعَ النبيُّ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم يَدَه فِي الرِّكْوَةِ فَجَعَلَ الْمَاءُ يَفُورُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ كَأَمْثَالِ الْعُيُونِ قَالَ فَشَرِبْنَا وَتَوَضَّأْنَا قِيلَ لِجَابِرٍ كَمْ كُنْتُمْ قَالَ لَوْ كُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ لَكَفَانَا كُنَّا خَمْسَ عَشْرَةَ مِائَةً. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

جابر ؓ بیان کرتے ہیں حدیبیہ کے موقع پر صحابہ کرام ؓ کو پیاس لگی ، جبکہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے پانی کا ایک برتن تھا ، آپ نے اس سے وضو کیا ، پھر لوگ آپ کی طرف متوجہ ہوئے ، اور عرض کیا ، ہمارے پاس پانی نہیں جس سے ہم وضو کر سکیں اور پی سکیں ، فقط وہی ہے جو آپ کی چھاگل میں ہے ، نبی ﷺ نے اپنا دست مبارک چھاگل میں رکھا ، اور آپ کی انگلیوں سے چشموں کی طرح پانی بہنے لگا ، راوی بیان کرتے ہیں ، ہم نے پانی پیا اور وضو کیا ، جابر سے دریافت کیا گیا ، اس وقت تمہاری تعداد کتنی تھی ؟ انہوں نے فرمایا : اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تب بھی وہ پانی ہمیں کافی ہوتا ، البتہ ہم اس وقت پندرہ سو تھے ۔ متفق علیہ ۔

5883Mishkaat-al-Masabihصحیح

معجزوں کا بیان

وَعَن\nالْبَراء بن عَازِب قا ل: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ وَالْحُدَيْبِيَةُ بِئْرٌ فَنَزَحْنَاهَا فَلَمْ نَتْرُكْ فِيهَا قَطْرَةً فَبَلَغَ النبيَّ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم فأتاهافجلس عَلَى شَفِيرِهَا ثُمَّ دَعَا بِإِنَاءٍ مِنْ مَاءٍ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ مَضْمَضَ وَدَعَا ثُمَّ صَبَّهُ فِيهَا ثُمَّ قَالَ: دَعُوهَا سَاعَةً فَأَرْوَوْا أَنْفُسَهُمْ وَرِكَابَهُمْ حَتَّى ارتحلوا. رَوَاهُ البُخَارِيّ\n

براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں ، حدیبیہ کے روز ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چودہ سو کی تعداد میں تھے ، حدیبیہ ایک کنواں تھا ، ہم نے اس سے سارا پانی نکال لیا تھا اور اس میں ایک قطرہ تک نہیں چھوڑا تھا ، نبی ﷺ تک یہ بات پہنچی تو آپ وہاں تشریف لائے اور اس کے کنارے پر بیٹھ گئے ، پھر آپ نے پانی کا ایک برتن منگایا ، وضو فرمایا ، پھر کلی کی ، دعا کی ، پھر اس کو اس (کنویں) میں انڈیل دیا ، پھر فرمایا :’’ کچھ دیر اسے رہنے دو ۔‘‘ چنانچہ (اس کے بعد) انہوں نے خود پیا ، اپنے جانوروں کو پلایا اور کوچ کرنے تک یہ (پینے ، پلانے کا) سلسلہ جاری رہا ۔ رواہ البخاری ۔

5884Mishkaat-al-Masabihصحیح

معجزوں کا بیان

وَعَن عَوْف عَن أبي رَجَاء عَن عمر بن حُصَيْن قا ل: كُنَّا فِي سَفَرٍ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم فَاشْتَكَى إِلَيْهِ النَّاسُ مِنَ الْعَطَشِ فَنَزَلَ فَدَعَا فُلَانًا كَانَ يُسَمِّيهِ أَبُو رَجَاءٍ وَنَسِيَهُ عَوْفٌ وَدَعَا عَلِيًّا فَقَالَ: «اذْهَبَا فَابْتَغِيَا الْمَاءَ» . فَانْطَلَقَا فتلقيا امْرَأَة بَين مزادتين أَو سطحتين من مَاء فجاءا بهاإلى النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم فاستنزلوهاعن بَعِيرِهَا وَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِنَاءٍ فَفَرَّغَ فِيهِ مِنْ أَفْوَاهِ الْمَزَادَتَيْنِ وَنُودِيَ فِي النَّاسِ: اسْقُوا فَاسْتَقَوْا قَالَ: فَشَرِبْنَا عِطَاشًا أَرْبَعِينَ رَجُلًا حَتَّى رَوِينَا فَمَلَأْنَا كُلَّ قِرْبَةٍ مَعَنَا وَإِدَاوَةٍ وَايْمُ اللَّهِ لَقَدْ أَقْلَعَ عَنْهَا وإنَّهُ ليُخيّل إِلينا أنّها أشدُّ ملئةً مِنْهَا حِين ابْتَدَأَ. مُتَّفق عَلَيْهِ

عوف ؒ ابورجاء سے اور وہ عمران بن حصین ؓ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا : ہم ایک سفر میں نبی ﷺ کے ساتھ تھے ، لوگوں نے آپ سے پیاس کی شکایت کی ، آپ سواری سے نیچے اترے ، اور آپ نے فلاں شخص کو آواز دی ، ابورجاء نے اس شخص کا نام لیا تھا لیکن عوف اس کا نام بھول گئے ، اور آپ نے علی ؓ کو بھی بلایا اور فرمایا :’’ دونوں جاؤ اور پانی تلاش کرو ، وہ دونوں گئے اور پانی کی تلاش شروع کی ، وہ چلتے گئے حتیٰ کہ وہ ایک عورت سے ملے جو پانی کے دو مشکیزے اپنے اونٹ پر لٹکائے ہوئے اور خود ان کے درمیان بیٹھی جا رہی تھی ، وہ دونوں اسے نبی ﷺ کی خدمت میں لے آئے ، انہوں نے اس کو اس کے اونٹ سے نیچے اتار لیا اور نبی ﷺ نے ایک برتن منگایا اور دونوں مشکیزوں کے منہ اس برتن میں کھول دیے ، اور تمام لوگوں میں اعلان کرا دیا گیا کہ خود بھی پیو اور جانوروں کو بھی پلاؤ ، راوی بیان کرتے ہیں ، ہم چالیس پیاسے آدمیوں نے خوب سیر ہو کر پانی پیا اور ہم نے اپنے تمام مشکیزے اور برتن بھی بھر لیے ، اللہ کی قسم ! جب ان سے پانی لینا بند کر دیا تو ہمیں ایسے محسوس ہو رہا تھا کہ اب ان میں پانی پہلے سے بھی زیادہ ہے ۔ متفق علیہ ۔

5885Mishkaat-al-Masabihصحیح

معجزوں کا بیان

وَعَنْ\nجَابِرٍ قَالَ: سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى نَزَلْنَا وَادِيًا أَفْيَحَ فَذَهَبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْضِي حَاجَتَهُ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا يَسْتَتِرُ بِهِ وَإِذَا شَجَرَتَيْنِ بِشَاطِئِ الْوَادِي فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى إِحْدَاهُمَا فَأَخَذَ بِغُصْنٍ مِنْ أَغْصَانِهَا فَقَالَ انْقَادِي عَلَيَّ بِإِذْنِ اللَّهِ فَانْقَادَتْ مَعَهُ كَالْبَعِيرِ الْمَخْشُوشِ الَّذِي يُصَانِعُ قَائِدَهُ حَتَّى أَتَى الشَّجَرَةَ الْأُخْرَى فَأَخَذَ بِغُصْنٍ مِنْ أَغْصَانِهَا فَقَالَ انْقَادِي عَلَيَّ بِإِذْنِ اللَّهِ فَانْقَادَتْ مَعَهُ كَذَلِكَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْمَنْصَفِ مِمَّا بَيْنَهُمَا قَالَ الْتَئِمَا عَلَيَّ بِإِذْنِ اللَّهِ فَالْتَأَمَتَا فَجَلَسْتُ أُحَدِّثُ نَفْسِي فَحَانَتْ مِنِّي لفتة فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقْبِلًا وَإِذَا الشَّجَرَتَيْنِ قَدِ افْتَرَقَتَا فَقَامَتْ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا عَلَى سَاقٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ\n

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تھے حتیٰ کہ ہم نے ایک وسیع وادی میں پڑاؤ کیا تو رسول اللہ ﷺ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے ، آپ نے اوٹ کے لیے کوئی چیز نہ دیکھی البتہ وادی کے کنارے پر دو درخت دیکھے ، رسول اللہ ﷺ ان میں سے ایک کی طرف چل دیے ، اور اس کی ایک شاخ پکڑ کر فرمایا :’’ اللہ کے حکم سے مجھ پر پردہ کر ۔‘‘ چنانچہ اس نے نکیل دیئے ہوئے اونٹ کی طرح جھک کر آپ کے اوپر پردہ کیا ، جس طرح وہ اپنے قائد کی اطاعت کرتا ہے ، پھر آپ ﷺ دوسرے درخت کے پاس گئے اور اس کی ایک شاخ کو پکڑ کر فرمایا :’’ اللہ کے حکم سے مجھ پر پردہ کر ۔‘‘ وہ بھی اسی طرح آپ پر جھک گیا ، حتیٰ کہ جب وہ دونوں نصف فاصلے پر پہنچ گئے تو فرمایا :’’ اللہ کے حکم سے مجھ پر سایہ کر دو ۔‘‘ چنانچہ وہ دونوں قریب ہو گئے (حتیٰ کہ آپ قضائے حاجت سے فارغ ہو گئے) میں بیٹھا اپنے دل میں سوچ رہا تھا کہ اتنے میں اچانک رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے ، اور میں نے دونوں درختوں کو دیکھا کہ وہ الگ الگ ہو گئے ، اور ہر ایک اپنے تنے پر کھڑا ہو گیا ۔ رواہ مسلم ۔

5886Mishkaat-al-Masabihصحیح

معجزوں کا بیان

عَن\nيَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ: رَأَيْتُ أَثَرَ ضَرْبَةٍ فِي سَاقِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ فَقُلْتُ يَا أَبَا مُسلم مَا هَذِه الضَّربةُ؟ فَقَالَ: هَذِه ضَرْبَةٌ أَصَابَتْنِي يَوْمَ خَيْبَرَ فَقَالَ النَّاسُ أُصِيبَ سَلَمَةُ فَأَتَيْتُ الْنَبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَفَثَ فِيهِ ثَلَاثَ نَفَثَاتٍ فَمَا اشْتَكَيْتُهَا حَتَّى السَّاعَة. رَوَاهُ البُخَارِيّ\n

یزید بن ابی عبید ؒ بیان کرتے ہیں ، میں نے سلمہ بن اکوع ؓ کی پنڈلی پر چوٹ کا نشان دیکھا تو میں نے کہا : ابومسلم ! یہ چوٹ کیسی ہے ؟ انہوں نے فرمایا : یہ چوٹ مجھے غزوۂ خیبر کے موقع پر لگی تھی ، لوگوں نے تو کہہ دیا تھا : سلمہ ؓ شہید ہو گئے ، میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے وہاں تین بار دم کیا اور پھر آج تک مجھے اس کی کوئی شکایت نہیں ہوئی ۔ رواہ البخاری ۔

5887Mishkaat-al-Masabihصحیح

معجزوں کا بیان

وَعَنْ\nأَنَسٍ قَالَ نَعَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدًا وَجَعْفَرًا وَابْنَ رَوَاحَةَ لِلنَّاسِ قَبْلَ أَن يَأْتِيهِ خَبَرُهُمْ فَقَالَ أَخْذَ الرَّايَةَ زِيدٌ فَأُصِيبَ ثُمَّ أَخَذَ جَعْفَرٌ فَأُصِيبَ ثُمَّ أَخَذَ ابْنُ رَوَاحَةَ فَأُصِيبَ وَعَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ حَتَّى أَخَذَ الرَّايَةَ سَيْفٌ من سيوف الله حَتَّى فتح الله عَلَيْهِم. رَوَاهُ البُخَارِيّ\n

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے زید ، جعفر اور ابن رواحہ ؓ کی خبر شہادت آنے سے پہلے ہی ان کی شہادت کے متعلق لوگوں کو بتا دیا تھا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ زید نے پرچم تھام لیا اور وہ شہید کر دیے گئے ، پھر جعفر نے تھام لیا وہ بھی شہید کر دیے گئے پھر ابن رواحہ نے تھام لیا تو وہ بھی شہید کر دیے گئے ۔‘‘ اس وقت آپ کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے ۔’’ حتیٰ کہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار یعنی خالد بن ولید نے پرچم تھام لیا اور اللہ نے انہیں فتح عطا فرمائی ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

5888Mishkaat-al-Masabihصحیح

معجزوں کا بیان

وَعَن\nعَبَّاسٍ قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَلَمَّا الْتَقَى الْمُسْلِمُونَ وَالْكُفَّارُ وَلَّى الْمُسْلِمُونَ مُدْبِرِينَ فَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْكُضُ بَغْلَتَهُ قِبَلَ الْكُفَّارِ وَأَنَا آخِذٌ بِلِجَامِ بَغْلَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكُفُّهَا إِرَادَةَ أَن لَا تسرع وَأَبُو سُفْيَان آخِذٌ بِرِكَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْ عَبَّاسُ نَادِ أَصْحَابَ السَّمُرَةِ فَقَالَ عَبَّاسٌ وَكَانَ رَجُلًا صَيِّتًا فَقُلْتُ بِأَعْلَى صَوْتِي أَيْنَ أَصْحَابُ السَّمُرَةِ فَقَالَ وَاللَّهِ لَكَأَنَّ عَطْفَتَهُمْ حِينَ سَمِعُوا صَوْتِي عَطْفَةُ الْبَقَرِ عَلَى أَوْلَادِهَا فَقَالُوا يَا لَبَّيْكَ يَا لَبَّيْكَ قَالَ فَاقْتَتَلُوا وَالْكُفَّارَ وَالدَّعْوَةُ فِي الْأَنْصَارِ يَقُولُونَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ قَالَ ثُمَّ قُصِرَتِ الدَّعْوَةُ عَلَى بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى بَغْلَتِهِ كَالْمُتَطَاوِلِ عَلَيْهَا إِلَى قِتَالِهِمْ فَقَالَ حِينَ حَمِيَ الْوَطِيسُ ثُمَّ أَخَذَ حَصَيَاتٍ فَرَمَى بِهِنَّ وُجُوهَ الْكُفَّارِ ثُمَّ قَالَ انْهَزَمُوا وَرَبِّ مُحَمَّدٍ فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَمَاهُمْ بِحَصَيَاتِهِ فَمَا زِلْتُ أَرَى حَدَّهُمْ كَلِيلًا وَأَمْرَهُمْ مُدبرا. رَوَاهُ مُسلم\n

عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، غزوۂ حنین کے موقع پر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا ، جب مسلمانوں اور کافروں کا آمنا سامنا ہوا تو کچھ مسلمان بھاگ کھڑے ہوئے جبکہ رسول اللہ ﷺ اپنے خچر کو کفار کی طرف بھگا رہے تھے اور میں رسول اللہ ﷺ کے خچر کی لگام تھامے ہوئے تھا ، میں اس (خچر) کو روک رہا تھا کہ وہ تیز نہ دوڑے جبکہ ابوسفیان بن حارث رسول اللہ ﷺ کی رکاب تھامے ہوئے تھے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ عباس ! درخت (کے نیچے بیعت رضوان کرنے) والوں کو آواز دو ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، عباس ؓ کی آواز بلند تھی ، وہ بیان کرتے ہیں ، میں نے اپنی بلند آواز سے کہا : درخت (کے نیچے بیت کرنے) والے کہاں ہیں ؟ وہ بیان کرتے ہیں ، اللہ کی قسم ! جب انہوں نے میری آواز سنی تو وہ اس طرح واپس آئے جس طرح گائے اپنی اولاد کے پاس آتی ہے ، انہوں نے عرض کیا ، ہم حاضر ہیں ! ہم حاضر ہیں ! راوی بیان کرتے ہیں ، انہوں نے کفار سے قتال کیا اس روز انصار کا نعرہ یا انصار تھا ، راوی بیان کرتے ہیں ، پھر یہ نعرہ بنو حارث بن خزرج تک محدود ہو کر رہ گیا ، رسول اللہ ﷺ نے اپنے خچر پر سے میدانِ جنگ کی طرف دیکھا تو فرمایا :’’ اب میدانِ جنگ گرم ہو گیا ہے ۔‘‘ پھر آپ نے کنکریاں پکڑیں اور انہیں کافروں کے چہروں پر پھینکا ، پھر فرمایا :’’ محمد کے رب کی قسم ! وہ شکست خوردہ ہیں ۔‘‘ اللہ کی قسم ! ان کی طرف کنکریاں پھینکنا ہی ان کی شکست کا باعث تھا ، میں ان کی حدت ، ان کی لڑائی اور ان کی تلواروں کو کمزور ہی دیکھتا رہا ، اور ان کے معاملے کو ذلیل ہی دیکھتا رہا ۔ رواہ مسلم ۔

5889Mishkaat-al-Masabihصحیح

معجزوں کا بیان

وَعَن\nأبي إِسْحَق قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِلْبَرَاءِ يَا أَبَا عُمَارَةَ فَرَرْتُمْ يَوْمَ حُنَيْنٍ قَالَ لَا وَاللَّهِ مَا وَلِيُّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنْ خَرَجَ شُبَّانُ أَصْحَابِهِ لَيْسَ عَلَيْهِمْ كَثِيرُ سِلَاحٍ فَلَقَوْا قَوْمًا رُمَاةً لَا يَكَادُ يَسْقُطُ لَهُمْ سَهْمٌ فَرَشَقُوهُمْ رَشْقًا مَا يَكَادُونَ يُخْطِئُونَ فَأَقْبَلُوا هُنَاكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَتِهِ الْبَيْضَاءِ وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ يَقُودُهُ فَنَزَلَ وَاسْتَنْصَرَ وَقَالَ أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبَ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ ثُمَّ صفهم. رَوَاهُ مُسلم. وللبخاري مَعْنَاهُ\n

ابو اسحاق بیان کرتے ہیں ، کسی آدمی نے براء ؓ سے کہا : ابو عمارہ ! غزوۂ حنین کے موقع پر تم لوگ بھاگ گئے تھے ؟ انہوں نے کہا : نہیں ، اللہ کی قسم ! رسول اللہ ﷺ نہیں پھرے تھے ، لیکن آپ کے صحابہ میں سے کچھ نوجوان ، جن کے پاس زیادہ اسلحہ نہیں تھا ، ان کا سامنا ایسے ماہر تیر اندازوں سے ہوا ، جن کا کوئی تیر خطا نہیں جاتا تھا ، انہوں نے ان پر تیر برسائے ، وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف آئے ۔ اس وقت رسول اللہ ﷺ اپنے سفید خچر پر سوار تھے ، اور ابوسفیان بن حارث آپ کے آگے تھے ، آپ خچر سے نیچے اترے اور اللہ سے مدد طلب کی ، اور آپ ﷺ اس وقت فرما رہے تھے :’’ میں نبی ہوں یہ جھوٹ نہیں ، میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں ۔‘‘ پھر آپ نے ان کی صف بندی فرمائی ۔ رواہ مسلم ۔

5890Mishkaat-al-Masabihصحیح

معجزوں کا بیان

وَفِي رِوَايَةٍ لَهُمَا قَالَ الْبَرَاءُ كُنَّا وَاللَّهِ إِذَا احْمَرَّ الْبَأْسُ نَتَّقِي بِهِ وَإِنَّ الشُّجَاعَ مِنَّا لَلَّذِي يُحَاذِيهِ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم

اور صحیح بخاری میں اسی کے ہم معنی ہے ۔ اور صحیحین کی روایت میں ہے ، براء ؓ بیان کرتے ہیں : اللہ کی قسم ! جب لڑائی شدت اختیار کر جاتی تو ہم آپ کے ذریعے بچاؤ کرتے تھے اور ہم میں سے سب سے زیادہ شجاع وہ تھا جو (میدانِ جنگ میں) نبی ﷺ کے برابر رہتا ۔ متفق علیہ ۔

5891Mishkaat-al-Masabihصحیح

معجزوں کا بیان

وَعَنْ\nسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُنَيْنًا فَوَلَّى صَحَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا غَشُوا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ عَنِ الْبَغْلَةِ ثُمَّ قَبَضَ قَبْضَةً مِنْ تُرَابٍ مِنَ الْأَرْضِ ثُمَّ اسْتَقْبَلَ بِهِ وُجُوهَهُمْ فَقَالَ شَاهَتِ الْوُجُوهُ فَمَا خَلَقَ اللَّهُ مِنْهُمْ إِنْسَانًا إِلَّا مَلَأَ عَيْنَيْهِ تُرَابًا بِتِلْكَ الْقَبْضَةِ فَوَلَّوْا مُدْبِرِينَ فَهَزَمَهُمْ الله عز وَجل وَقَسْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غنائمهم بَين الْمُسلمين رَوَاهُ مُسلم\n

سلمہ بن اکوع ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم غزوۂ حنین میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تھے ، رسول اللہ ﷺ کے چند صحابہ ؓ پیٹھ پھیر گئے ، جب وہ (کافر) رسول اللہ ﷺ پر حملہ آور ہوئے تو آپ خچر سے نیچے اترے اور زمین سے مٹی کی مٹھی بھری ، پھر اسے ان کے چہروں کی طرف پھینکتے ہوئے فرمایا :’’ (ان کے) چہرے جھلس جائیں ۔‘‘ اس مٹھی سے ان تمام انسانوں (کافروں) کی آنکھیں مٹی سے بھر گئیں اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے ، اللہ نے انہیں شکست سے دوچار کر دیا اور رسول اللہ ﷺ نے ان سے حاصل ہونے والا مال غنیمت مسلمانوں میں تقسیم فرمایا ۔ رواہ مسلم ۔

5892Mishkaat-al-Masabihصحیح

معجزوں کا بیان

وَعَن\nأبي هريرةَ قَالَ شَهِدْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُنَيْنًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ مِمَّنْ مَعَهُ يَدَّعِي الْإِسْلَامَ هَذَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَلَمَّا حَضَرَ الْقِتَالُ قَاتَلَ الرَّجُلُ مِنْ أَشَدِّ الْقِتَالِ وَكَثُرَتْ بِهِ الْجِرَاحُ فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ الله أَرأيتَ الَّذِي تحدثت أَنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ قَدْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مِنْ أَشَدِّ الْقِتَالِ فَكَثُرَتْ بِهِ الْجِرَاحُ فَقَالَ أَمَّا إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَكَادَ بَعْضُ النَّاسِ يَرْتَابُ فَبَيْنَمَا هُوَ عَلَى ذَلِكَ إِذْ وَجَدَ الرَّجُلُ أَلَمَ الْجِرَاحِ فَأَهْوَى بِيَدِهِ إِلَى كِنَانَتِهِ فَانْتَزَعَ سَهْمًا فَانْتَحَرَ بِهَا فَاشْتَدَّ رِجَالٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ صَدَّقَ اللَّهُ حَدِيثَكَ قَدِ انْتَحَرَ فُلَانٌ وَقَتَلَ نَفْسِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُ أَكْبَرُ أَشْهَدُ أَنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ يَا بِلَالُ قُمْ فَأَذِّنْ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مُؤْمِنٌ وَإِنَّ اللَّهَ لَيُؤَيِّدُ هَذَا الدينَ بِالرجلِ الْفَاجِر. رَوَاهُ البُخَارِيّ\n

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، غزوۂ حنین میں ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شریک تھے ، رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسے شخص کے بارے میں ، جو آپ کے ساتھ تھا اور مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتا تھا ، فرمایا :’’ یہ جہنمیوں میں سے ہے ۔‘‘ جب لڑائی شروع ہوئی تو وہ شخص بہت جرأت کے ساتھ لڑا اور بہت زیادہ زخمی ہو گیا ، ایک آدمی آیا اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے بتائیں کہ آپ نے جس شخص کے بارے میں فرمایا تھا کہ وہ جہنمیوں میں سے ہے اس نے تو اللہ کی راہ میں بہت جرأت کے ساتھ لڑائی لڑی ہے اور اس نے بہت زیادہ زخم کھائے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ سن لو ! وہ جہنمیوں میں سے ہے ۔‘‘ قریب تھا کہ بعض لوگ شک و شبہ کا شکار ہو جاتے ، وہ آدمی ابھی اسی کشمکش میں تھا کہ اس آدمی نے زخموں کی تکلیف محسوس کی اور اپنے ترکش کی طرف ہاتھ بڑھا کر ایک تیر نکالا اور اسے اپنے سینے میں پیوست کر لیا ، مسلمان یہ منظر دیکھ کر دوڑتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور عرض کیا اللہ کے رسول ! اللہ نے آپ کی بات سچ کر دکھائی ، فلاں شخص نے اپنے سینے میں تیر پیوست کر کے خودکشی کر لی ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ اکبر ! میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں ، بلال ! کھڑے ہو کر اعلان کر دو کہ جنت میں صرف مومن ہی جائیں گے ، بے شک اللہ اپنے دین کی مدد فاجر شخص سے بھی لے لیتا ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

5893Mishkaat-al-Masabihصحیح

معجزوں کا بیان

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سُحِرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِنَّهُ لَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ فَعَلَ الشَّيْءَ وَمَا فَعَلَهُ حَتَّى إِذا كَانَ ذَات يَوْم وَهُوَ عِنْدِي دَعَا اللَّهَ وَدَعَاهُ ثُمَّ قَالَ أَشَعَرْتِ يَا عَائِشَةُ أَنَّ اللَّهَ قَدْ أَفْتَانِي فِيمَا استفتيته جَاءَنِي رجلَانِ فَجَلَسَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِي وَالْآخَرُ عِنْدَ رِجْلِي ثُمَّ قَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ مَا وَجَعُ الرَّجُلِ قَالَ مَطْبُوبٌ قَالَ وَمَنْ طَبَّهُ قَالَ لَبِيدُ بْنُ الْأَعْصَمِ الْيَهُودِيُّ قَالَ فِي مَاذَا قَالَ فِي مُشْطٍ وَمُشَاطَةٍ وَجُفِّ طَلْعَةِ ذَكَرٍ قَالَ فَأَيْنَ هُوَ قَالَ فِي بِئْرِ ذَرْوَانَ فَذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ إِلَى الْبِئْرِ فَقَالَ هَذِهِ الْبِئْرُ الَّتِي أُريتها وَكَأن ماءَها نُقاعةُ الْحِنَّاء ولكأن نخلها رُءُوس الشَّيَاطِين فاستخرجه مُتَّفق عَلَيْهِ

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ پر جادو کر دیا گیا حتیٰ کہ آپ کو خیال گزرتا کہ آپ نے کوئی کام کر لیا ہے حالانکہ آپ نے اسے نہیں کیا ہوتا تھا ، حتیٰ کہ ایک روز آپ میرے ہاں تشریف فرما تھے ، آپ اللہ سے بار بار دعا کر رہے تھے ، پھر فرمایا :’’ عائشہ ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں نے جس چیز کے بارے میں اللہ سے سوال کیا تھا اس نے وہ چیز مجھے دے دی ہے : دو آدمی میرے پاس آئے ، ان میں سے ایک میرے سرہانے بیٹھ گیا اور دوسرا میرے پاؤں کے پاس پھر ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا : انہیں کیا تکلیف ہے ؟ اس نے کہا : ان پر جادو کیا گیا ہے ، اس نے پوچھا : ان پر کس نے جادو کیا ہے ؟ اس نے کہا : لبید بن الاعصم یہودی نے ، اس نے کہا : کس چیز میں ؟ اس نے کہا : کنگھے اور بالوں میں اور نر کھجور کے خوشے میں ہے ، اس نے پوچھا : وہ کہاں ہے ؟ اس نے کہا : ذروان کے کنویں میں ۔‘‘ چنانچہ نبی ﷺ اپنے چند صحابہ ؓ کے ساتھ اس کنویں پر تشریف لے گئے اور فرمایا :’’ یہ وہ کنواں ہے جو مجھے دکھایا گیا ہے ، اور اس کا پانی مہندی کے عرق جیسا ہے اور اس کے کھجور کے درخت شیاطین کے سروں جیسے ہیں ۔‘‘ پس آپ ﷺ نے اسے نکلوا دیا ۔ متفق علیہ ۔

5894Mishkaat-al-Masabihصحیح

معجزوں کا بیان

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقْسِمُ قَسْمًا أَتَاهُ ذُو الْخوَيْصِرَة وَهُوَ رجلٌ من بني تَمِيم فَقَالَ يَا رسولَ الله اعْدِلْ فَقَالَ وَيلك وَمن يَعْدِلُ إِذَا لَمْ أَعْدِلْ قَدْ خِبْتَ وَخَسِرْتَ إِن لم أكن أعدل فَقَالَ عمر لَهُ ائْذَنْ لي أضْرب عُنُقه فَقَالَ دَعْهُ فَإِنَّ لَهُ أَصْحَابًا يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ مَعَ صَلَاتِهِمْ وَصِيَامَهُ مَعَ صِيَامِهِمْ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ يُنْظَرُ إِلَى نَصْلِهِ إِلَى رُصَافِهِ إِلَى نَضِيِّهِ وَهُوَ قِدْحُهُ إِلَى قُذَذِهِ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ قَدْ سَبَقَ الْفَرْثَ وَالدَّمَ آيَتُهُمْ رَجُلٌ أَسْوَدُ إِحْدَى عَضُدَيْهِ مِثْلُ ثَدْيِ الْمَرْأَةِ أَوْ مِثْلُ الْبَضْعَةِ تَدَرْدَرُ وَيخرجُونَ على حِين فِرْقَةٍ مِنَ النَّاسِ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَشْهَدُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ قَاتَلَهُمْ وَأَنَا مَعَهُ فَأَمَرَ بذلك الرجل فالْتُمِسَ فَأُتِيَ بِهِ حَتَّى نَظَرْتُ إِلَيْهِ عَلَى نَعْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي نَعَتَهُ\nوَفِي رِوَايَةٍ: أَقْبَلَ رَجُلٌ غَائِرُ الْعَيْنَيْنِ نَاتِئُ الجبين كَثُّ اللِّحْيَةِ مُشْرِفُ الْوَجْنَتَيْنِ مَحْلُوقُ الرَّأْسِ فَقَالَ يَا مُحَمَّد اتَّقِ الله فَقَالَ: «فَمن يُطِيع اللَّهَ إِذَا عَصَيْتُهُ فَيَأْمَنُنِي اللَّهُ عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ وَلَا تَأْمَنُونِي» فَسَأَلَ رَجُلٌ قَتْلَهُ فَمَنَعَهُ فَلَمَّا وَلَّى قَالَ: «إِنَّ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَمْرُقُونَ من الإِسلام مروق السهْم من الرَّمية يقتلُون أَهْلَ الْإِسْلَامِ وَيَدَعُونَ أَهْلَ الْأَوْثَانِ لَئِنْ أَدْرَكْتُهُمْ لأقتلنهم قتل عَاد» . مُتَّفق عَلَيْهِ\n

ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے اور رسول اللہ ﷺ مال غنیمت تقسیم فرما رہے تھے ، اتنے میں بنو تمیم قبیلے سے ذوالخویصرہ نامی شخص آیا اور اس نے کہا : اللہ کے رسول ! انصاف کریں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تجھ پر افسوس ! اگر میں عدل نہیں کروں گا تو پھر اور کون عدل کرے گا ، اگر میں عدل نہ کروں تو میں بھی خائب و خاسر ہو جاؤں ۔‘‘ عمر ؓ نے عرض کیا ، مجھے اجازت فرمائیں کہ میں اس کی گردن مار دوں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے چھوڑ دو کہ اس کے کچھ ساتھی ہوں گے تم میں سے کوئی اپنی نماز کو ان کی نماز کے مقابلے میں ، اپنے روزے ان کے روزوں کے مقابلے میں معمولی سمجھے گا ، وہ قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا ، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے پار ہو جاتا ہے ، اس (تیر) کے پیکان ، اس کے پٹھے پر جو کہ پیکان پر لپیٹا جاتا ہے اور تیر کے اس حصے کو جو کہ پر اور پیکان کے درمیان ہوتا ہے کو دیکھا جائے تو اس پر کوئی نشان نظر نہیں آئے گا ، حالانکہ وہ (تیر) گوبر اور خون میں سے گزرتا ہے ، ان کی نشانی یہ ہے کہ ایک سیاہ فام شخص ہے اس کا ایک بازو عورت کے پستان کی طرح (اٹھا ہوا) ہو گا یا ہلتے ہوئے گوشت کے ٹکڑے کی طرح ہو گا ، اور وہ لوگوں کے بہترین گروہ کے خلاف بغاوت کریں گے ۔‘‘ ابوسعید ؓ نے فرمایا : میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے یہ حدیث رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ علی بن ابی طالب ؓ نے ان سے لڑائی لڑی ہے اور میں علی ؓ کے ساتھ تھا ، اس شخص کے متعلق حکم دیا گیا تو اسے تلاش کیا گیا اور اسے لایا گیا حتیٰ کہ میں نے اسے دیکھا تو اس کا پورا حلیہ بالکل اسی طرح تھا جس طرح نبی ﷺ نے اس کا حلیہ بیان کیا تھا ۔\n ایک دوسری روایت میں ہے ، ایک آدمی آیا ، اس کی آنکھیں دھنسی ہوئی تھیں ، پیشانی ابھری ہوئی تھی ، داڑھی گھنی تھی ، گالیں پھولی ہوئی تھیں ، سر منڈا ہوا تھا ، اس نے کہا ، محمد ! اللہ سے ڈر جائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر میں اللہ کی نافرمانی کروں گا تو پھر اور کون اس سے ڈرے گا ، اللہ نے زمین والوں پر مجھے امین بنا کر بھیجا ہے جبکہ تم مجھے امین نہیں سمجھتے ہو ۔‘‘ ایک آدمی نے اسے قتل کرنے کی درخواست کی تو آپ ﷺ نے اسے روک دیا ، جب وہ واپس گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس شخص کے نسب سے کچھ ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا ، وہ اسلام سے اس طرح خارج ہو جائیں گے جس طرح تیر شکار سے پار ہو جاتا ہے ، وہ اہل اسلام کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے ، اگر میں نے انہیں پا لیا تو میں انہیں قوم عاد کی طرح قتل کروں گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔\n

5895Mishkaat-al-Masabihصحیح

معجزوں کا بیان

وَعَنْ\nأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كُنْتُ أَدْعُو أُمِّي إِلَى الْإِسْلَامِ وَهِيَ مُشْرِكَةٌ فَدَعَوْتُهَا يَوْمًا فَأَسْمَعَتْنِي فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أكره فَأَتَيْتُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَهْدِيَ أُمَّ أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ اهْدِ أُمَّ أَبِي هُرَيْرَةَ» . فَخَرَجْتُ مُسْتَبْشِرًا بِدَعْوَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا صِرْتُ إِلَى الْبَابِ فَإِذَا هُوَ مُجَافٍ فَسَمِعَتْ أُمِّي خَشْفَ قَدَمَيَّ فَقَالَتْ مَكَانَكَ يَا أَبَا هُرَيْرَة وَسمعت خضخضة المَاء قَالَ فَاغْتَسَلَتْ فَلَبِسَتْ دِرْعَهَا وَعَجِلَتْ عَنْ خِمَارِهَا فَفَتَحَتِ الْبَابَ ثُمَّ قَالَتْ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي مِنَ الْفَرح فَحَمدَ الله وَأثْنى عَلَيْهِ وَقَالَ خيرا. رَوَاهُ مُسلم\n

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں اپنی مشرکہ والدہ کو اسلام کی دعوت پیش کرتا تھا ، ایک روز میں نے اسے دعوت پیش کی تو اس نے رسول اللہ ﷺ کی شان میں کچھ ایسے الفاظ کہے جو مجھے ناگوار گزرے ، میں روتا ہوا رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا ، اللہ کے رسول ! اللہ سے دعا فرمائیں کہ وہ ابوہریرہ کی والدہ کو ہدایت نصیب فرما دے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اے اللہ ! ابوہریرہ کی والدہ کو ہدایت عطا فرما ۔‘‘ میں نبی ﷺ کی دعا پر خوش ہوتا ہوا وہاں سے چلا ، جب میں دروازے پر پہنچا تو وہ بند تھا ، میری والدہ نے میرے قدموں کی آہٹ سن کر فرمایا : ابوہریرہ ! اپنی جگہ پر ٹھہر جاؤ ، میں نے پانی گرنے کی آواز سن لی تھی ، انہوں نے غسل کیا ، اپنی قمیص پہنی ، اور عجلت میں چادر بھی نہ لی اور دروازہ کھول کر فرمایا : ابوہریرہ ! میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اور میں گواہی دیتی ہوں کہ محمد (ﷺ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، میں خوشی کے آنسو بہاتا ہوا رسول اللہ ﷺ کے پاس واپس آیا ، آپ ﷺ نے اللہ کا شکر ادا کیا اور دعائے خیر فرمائی ۔ رواہ مسلم ۔

5896Mishkaat-al-Masabihصحیح

معجزوں کا بیان

وَعنهُ إِنَّكُمْ تَقُولُونَ أَكْثَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهُ الْمَوْعِدُ وَإِنَّ إِخْوَتِي مِنَ الْمُهَاجِرِينَ كَانَ يَشْغَلُهُمُ الصَّفِقُ بِالْأَسْوَاقِ وَإِنَّ إِخْوَتِي مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَ يَشْغَلُهُمْ عَمَلُ أَمْوَالِهِمْ وَكُنْتُ امْرَأً مِسْكِينًا أَلْزَمُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَلْءِ بَطْنِي وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا: «لَنْ يَبْسُطَ أَحَدٌ مِنْكُمْ ثَوْبَهُ حَتَّى أَقْضِيَ مَقَالَتِي هَذِهِ ثُمَّ يَجْمَعَهُ إِلَى صَدْرِهِ فَيَنْسَى مِنْ مَقَالَتِي شَيْئًا أَبَدًا» فَبَسَطْتُ نَمِرَةً لَيْسَ عَلَيَّ ثَوْبٌ غَيْرَهَا حَتَّى قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَالَتَهُ ثُمَّ جَمَعْتُهَا إِلَى صَدْرِي فَوَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ مَا نَسِيتُ مِنْ مقَالَته تِلْكَ إِلَى يومي هَذَا. مُتَّفق عَلَيْهِ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، تم لوگ کہتے ہو کہ ابوہریرہ ، نبی ﷺ سے بہت زیادہ احادیث بیان کرتا ہے ۔ اللہ کی قسم ! ایک دن اللہ کے پاس جانا ہے ، میرے مہاجر بھائی بازاروں میں خرید و فروخت میں مشغول رہا کرتے تھے اور میرے انصار بھائی اپنے اموال (کھیتوں اور باغات) میں مشغول رہا کرتے تھے ، میں ایک مسکین آدمی تھا ، میں اپنا پیٹ بھرنے کے بعد پھر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہتا ، ایک روز نبی ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں سے جو شخص میری اس گفتگو کے پورا ہونے تک کپڑا بچھائے رکھے گا ، پھر اسے اپنے سینے کے ساتھ لگا لے گا تو وہ میرے فرامین میں سے کچھ بھی نہیں بھولے گا ۔‘‘ میں نے دھاری دار چادر بچھا دی اس کے علاوہ میرے پاس کوئی اور کپڑا نہیں رہتا تھا ، نبی ﷺ نے جب اپنی گفتگو مکمل فرمائی ، تو میں نے چادر کو اپنے سینے کے ساتھ لگا لیا ، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ! میں اس روز سے آج تک آپ ﷺ کے فرامین سے کچھ نہیں بھولا ۔ متفق علیہ ۔

5897Mishkaat-al-Masabihصحیح

معجزوں کا بیان

وَعَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ؟» فَقُلْتُ: بَلَى وَكُنْتُ لَا أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَرَبَ يَدَهُ عَلَى صَدْرِي حَتَّى رَأَيْتُ أَثَرَ يَدِهِ فِي صَدْرِي وَقَالَ: «اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا» . قَالَ فَمَا وَقَعْتُ عَنْ فَرَسِي بَعْدُ فَانْطَلَقَ فِي مِائَةٍ وَخَمْسِينَ فَارِسًا مِنْ أحمس فحرقها بالنَّار وَكسرهَا. مُتَّفق عَلَيْهِ

جریر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا :’’ کیا تم مجھے ذوالخلصہ (بت) سے آرام نہیں پہنچاتے ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، کیوں نہیں ، ضرور ، لیکن میں گھوڑے کی سواری اچھی طرح نہیں کر پاتا تھا ، میں نے نبی ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر مارا حتیٰ کہ میں نے آپ کے ہاتھ کے اثرات اپنے سینے میں محسوس کئے ، اور آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اے اللہ ! اس کو (گھوڑے کی پشت پر) ثبات عطا فرما ، اسے ہدایت کی راہ دکھانے والا اور ہدایت یافتہ بنا ۔‘‘ وہ بیان کرتے ہیں ، اس کے بعد میں اپنے گھوڑے سے نہیں گرا ، وہ احمس قبیلے کے ڈیڑھ سو گھڑ سواروں کے ساتھ روانہ ہوئے اور اسے آگ کے ساتھ جلا دیا اور اسے توڑ دیا ۔ متفق علیہ ۔

5898Mishkaat-al-Masabihصحیح

معجزوں کا بیان

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: إِنَّ رَجُلًا كَانَ يَكْتُبُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَارْتَدَّ عَنِ الْإِسْلَامِ وَلَحِقَ بِالْمُشْرِكِينَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْأَرْضَ لَا تَقْبَلُهُ» . فَأَخْبَرَنِي أَبُو طَلْحَةَ أَنَّهُ أَتَى الْأَرْضَ الَّتِي مَاتَ فِيهَا فَوَجَدَهُ مَنْبُوذًا فَقَالَ: مَا شَأْنُ هَذَا؟ فَقَالُوا: دَفَنَّاهُ مِرَارًا فَلَمْ تَقْبَلْهُ الأَرْض. مُتَّفق عَلَيْهِ

انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے لیے (وحی) لکھا کرتا تھا ، وہ اسلام سے مرتد ہو کر مشرکین سے جا ملا تو نبی ﷺ نے فرمایا :’’ زمین اسے قبول نہیں کرے گی ۔‘‘ ابوطلحہ ؓ نے مجھے بتایا کہ وہ شخص جس جگہ فوت ہوا تھا وہ وہاں گئے تو انہوں نے اسے سطح زمین پر پڑا ہوا دیکھا تو پوچھا : اس کا کیا معاملہ ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ ہم نے اسے کئی مرتبہ دفن کیا مگر زمین (قبر) اسے قبول نہیں کرتی ۔ متفق علیہ ۔

5899Mishkaat-al-Masabihصحیح

معجزوں کا بیان

وَعَن أبي أَيُّوب قا ل: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ وَجَبَتِ الشَّمْسُ فَسَمِعَ صَوْتًا فَقَالَ: «يَهُودُ تُعَذَّبَ فِي قبورها» . مُتَّفق عَلَيْهِ

ابوایوب ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ باہر تشریف لائے اس وقت سورج غروب ہو چکا تھا ، آپ نے ایک آواز سنی تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہودیوں کو ان کی قبروں میں عذاب دیا جا رہا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

5900Mishkaat-al-Masabihصحیح

معجزوں کا بیان

وَعَن\nجَابر قا ل: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ فَلَمَّا كَانَ قُرْبَ الْمَدِينَةِ هَاجَتْ رِيحٌ تَكَادُ أَنْ تَدْفِنَ الرَّاكِبَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بُعِثَتْ هَذِهِ الرِّيحُ لِمَوْتِ مُنَافِقٍ» . فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ فَإِذَا عَظِيمٌ مِنَ الْمُنَافِقين قد مَاتَ. رَوَاهُ مُسلم\n

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ ایک سفر سے واپس تشریف لائے ، جب آ پ مدینہ کے قریب پہنچے تو ایسی تند ہوا چلی ، قریب تھا کہ وہ سوار کو چھپا دیتی ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ ہوا کسی منافق کی موت کے وقت چلائی گئی ہے ۔‘‘ آپ مدینہ پہنچے تو منافقوں کا ایک بڑا آدمی فوت ہو چکا تھا ۔ رواہ مسلم ۔