Mishkaat-al-Masabihمشکوٰۃ المصابیح

All 6,294 hadiths in order · Page 282 of 315

5621Mishkaat-al-Masabihصحیح

جنت اور اہل جنت کے حال کا بیان

وَعَنْ\nأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يَنْعَمُ وَلَا يَبْأَسُ\nوَلَا تَبْلَى ثِيَابُهُ وَلَا يفْنى شبابُه» . رَوَاهُ مُسلم\n

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص جنت میں داخل ہو گا وہ خوشحال رہے گا ، بد حال نہیں ہو گا ، نہ تو اس کا لباس پرانا ہو گا اور نہ اس کی جوانی ختم ہو گی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

5622Mishkaat-al-Masabihصحیح

جنت اور اہل جنت کے حال کا بیان

ابوسعید اور ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ (جنت میں) ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا :’’ اب تم صحت مند ہی رہو گے کبھی بیمار نہیں ہو گے ، تم ہمیشہ زندہ رہو گے کبھی مرو گے نہیں ، ہمیشہ جوان رہو گے کبھی بوڑھے نہیں ہو گے ، اور تم ہمیشہ خوشحال رہو گے کبھی بدحال نہیں ہو گے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

5623Mishkaat-al-Masabihصحیح

جنت اور اہل جنت کے حال کا بیان

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ\nوَأَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يُنَادِي مُنَادٍ: إِنَّ لَكُمْ أَنْ تَصِحُّوا فَلَا تَسْقَمُوا أَبَدًا وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَحْيَوْا فَلَا تَمُوتُوا أَبَدًا وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَشِبُّوا فَلَا تَهْرَمُوا أَبَدًا وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَنْعَمُوا فَلَا تَبْأَسُوا أبدا رَوَاهُ مُسلم\n

ابوسعید اور ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ (جنت میں) ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا :’’ اب تم صحت مند ہی رہو گے کبھی بیمار نہیں ہو گے ، تم ہمیشہ زندہ رہو گے کبھی مرو گے نہیں ، ہمیشہ جوان رہو گے کبھی بوڑھے نہیں ہو گے ، اور تم ہمیشہ خوشحال رہو گے کبھی بدحال نہیں ہو گے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

5624Mishkaat-al-Masabihصحیح

جنت اور اہل جنت کے حال کا بیان

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يَتَرَاءَوْنَ أَهْلَ الْغُرَفِ مِنْ فَوْقِهِمْ كَمَا تَتَرَاءَوْنَ الْكَوْكَبَ الدُّرِّيَّ الْغَابِرَ فِي الْأُفُقِ مِنَ الْمَشْرِقِ أَو الْمَغْرِبِ لِتَفَاضُلِ مَا بَيْنَهُمْ» قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ تِلْكَ مَنَازِلُ الْأَنْبِيَاءِ لَا يَبْلُغُهَا غَيْرُهُمْ قَالَ: «بَلَى وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ رِجَالٌ آمَنُوا باللَّهِ وصدَّقوا الْمُرْسلين» . مُتَّفق عَلَيْهِ

ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جنت والے اپنے اوپر بالا خانوں کے مکینوں کو اس طرح دیکھیں گے جس طرح تم مشرق یا مغرب کے افق میں چمکتے ہوئے ڈوبتے ستارے کو دیکھتے ہو ، اور یہ تمہارے باہم مراتب میں فرق کی وجہ سے ہو گا ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ انبیا ؑ کی منزلیں ہوں گی ، جہاں ان کے علاوہ کوئی اور نہیں پہنچ سکے گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ نہیں ، بلکہ ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! وہ لوگ جو اللہ پر ایمان لائے اور انہوں نے رسولوں کی تصدیق کی ۔‘‘ متفق علیہ ۔

5625Mishkaat-al-Masabihصحیح

جنت اور اہل جنت کے حال کا بیان

وَعَن\nأبي هُرَيْرَة قا ل: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَدْخُلُ الْجَنَّةَ أَقْوَامٌ أَفْئِدَتُهُمْ مِثْلُ أَفْئِدَةِ الطَّيْرِ» . رَوَاهُ مُسلم\n

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جنت میں کچھ ایسے لوگ داخل ہوں گے جن کے دل (حسد و بغض وغیرہ سے پاک ہونے کے لحاظ سے) پرندوں کے دلوں کی طرح ہوں گے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

5626Mishkaat-al-Masabihصحیح

جنت اور اہل جنت کے حال کا بیان

وَعَن أبي سعيد قا ل: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ لِأَهْلِ الْجَنَّةِ يَا أهلَ الجنةِ فيقولونَ لَبَّيْكَ رَبَّنَا وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ فَيَقُولُ: هَلْ رَضِيتُمْ؟ فَيَقُولُونَ: وَمَا لَنَا لَا نَرْضَى يَا رَبِّ وَقَدْ أَعْطَيْتَنَا مَا لَمْ تُعْطِ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ؟ فَيَقُولُ أَلَا أُعْطِيكُمْ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ؟ فَيَقُولُونَ: يَا رَبِّ وَأَيُّ شَيْءٍ أَفْضَلُ مِنْ ذَلِكَ؟ فَيَقُولُ: أُحِلُّ عَلَيْكُمْ رِضْوَانِي فَلَا أَسْخَطُ عَلَيْكُمْ بَعْدَهُ أَبَدًا . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ اہل جنت سے فرمائے گا : جنت والو ! وہ عرض کریں گے : ہمارے رب ! ہم حاضر ہیں تیری سعادت حاصل کرنے کے لیے ، اور ہر قسم کی خیر و بھلائی تیرے ہاتھوں میں ہے ، وہ فرمائے گا : کیا تم خوش ہو ؟ وہ عرض کریں گے ، رب جی ! ہمارے راضی نہ ہونے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے جبکہ آپ نے ہمیں وہ کچھ عطا فرما دیا ہے جو آپ نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو عطا نہیں فرمایا ، وہ فرمائے گا : کیا میں تمہیں اس سے بھی بہتر چیز نہ دوں ؟ وہ عرض کریں گے : رب جی ! اس سے بہتر چیز کون سی ہے ؟ وہ فرمائے گا : میں تمہیں اپنی دائمی رضا مندی عطا کرتا ہوں اور میں اس کے بعد تم پر کبھی ناراض نہیں ہوں گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

5627Mishkaat-al-Masabihصحیح

جنت اور اہل جنت کے حال کا بیان

وَعَنْ\nأَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ أَدْنَى مَقْعَدِ أَحَدِكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ أَنْ يَقُولَ لَهُ: تَمَنَّ فَيَتَمَنَّى وَيَتَمَنَّى فَيَقُولُ لَهُ: هَلْ تَمَنَّيْتَ؟ فَيَقُولُ نَعَمْ فَيَقُولُ لَهُ: فَإِنَّ لَكَ مَا تَمَنَّيْتَ ومثلَه معَه . رَوَاهُ مُسلم\n

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جنت میں تم میں سب سے کم ملکیت والا شخص وہ ہو گا جسے اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تمنا کر ! وہ تمنا کرے گا ، اور تمنا کرے گا تو وہ اس سے پوچھے گا : کیا تو نے تمنا کر لی ؟ وہ کہے گا ، جی ہاں ، تو اسے کہا جائے گا : تمہارے لیے وہ ہے جو تو نے تمنا کی اور جو تو نے تمنا کی اتنا اس کے ساتھ اور بھی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

5628Mishkaat-al-Masabihصحیح

جنت اور اہل جنت کے حال کا بیان

وَعَنْهُ\nقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَيْحَانُ وَجَيْحَانُ وَالْفُرَاتُ وَالنِّيلُ كُلٌّ من أنهارِ الْجنَّة» . رَوَاهُ مُسلم\n

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سیحان ، جیحان ، فرات اور نیل سب جنت کی نہریں ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

5629Mishkaat-al-Masabihصحیح

جنت اور اہل جنت کے حال کا بیان

وَعَنْ\nعُتْبَةَ بْنِ غَزْوَانَ قَالَ: ذُكِرَ لَنَا أَنَّ الْحَجَرَ يُلْقَى مِنْ شَفَةِ جَهَنَّمَ فَيَهْوِي فِيهَا سَبْعِينَ خَرِيفًا لَا يُدْرِكُ لَهَا قَعْرًا وَاللَّهِ لَتُمْلَأَنَّ وَلَقَدْ ذُكِرَ لَنَا أَنَّ مَا بَيْنَ مِصْرَاعَيْنِ مِنْ مَصَارِيعِ الْجَنَّةِ مَسِيرَةُ أَرْبَعِينَ سَنَةً وَلَيَأْتِيَنَّ عَلَيْهَا يَوْمٌ وَهُوَ كَظِيظٌ مِنَ الزحام . رَوَاهُ مُسلم\n

عتبہ بن غزوان ؓ بیان کرتے ہیں ، ہمیں بتایا گیا کہ اگر جہنم کے کنارے سے پتھر گرایا جائے تو وہ ستر سال میں بھی اس کی تہ تک نہیں پہنچتا ، اللہ کی قسم ! اسے بھرا جائے گا ۔ ہمیں یہ بھی بتایا گیا کہ جنت کی چوکھٹ کا درمیانی فاصلہ چالیس سال کا ہے ۔ اور اس پر ایک دن ایسا بھی آئے گا کہ وہ ازدحام کی وجہ سے بھری ہو گی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

5630Mishkaat-al-Masabihضعیف

جنت اور اہل جنت کے حال کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مِمَّ خُلِقَ الْخَلْقُ؟ قَالَ: «مِنَ الْمَاءِ» . قُلْنَا: الْجَنَّةُ مَا بِنَاؤُهَا؟ قَالَ: «لَبِنَةٌ مِنْ ذَهَبٍ وَلَبِنَةٌ مِنْ فِضَّةٍ وَمِلَاطُهَا الْمِسْكُ الْأَذْفَرُ وَحَصْبَاؤُهَا اللُّؤْلُؤُ وَالْيَاقُوتُ وَتُرْبَتُهَا الزَّعْفَرَانُ مَنْ يَدْخُلُهَا يَنْعَمُ وَلَا يَبْأَسُ وَيَخْلُدُ وَلَا يَمُوتُ وَلَا يَبْلَى ثِيَابُهُمْ وَلَا يَفْنَى شَبَابُهُمْ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيّ والدارمي

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مخلوق کو کس چیز سے پیدا کیا گیا ؟ فرمایا :’’ پانی سے ۔‘‘ ہم نے عرض کیا : جنت کی تعمیر کیسے ہوئی ؟ فرمایا :’’ ایک اینٹ سونے کی اور ایک چاندی کی ، اس کا گارا تیز خوشبو والی کستوری کا ہے ، اس کی چپس ہیرے جواہرات اور یاقوت ہیں ، اس کی مٹی زعفران ہے ، جو اس میں داخل ہو گا وہ خوشحال رہے گا ، بدحال نہیں ہو گا ، وہاں ہمیشہ رہے گا ، فوت نہیں ہو گا ، اس کے کپڑے بوسیدہ ہوں گے نہ اس کی جوانی ختم ہو گی ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ احمد و الترمذی و الدارمی ۔

5631Mishkaat-al-Masabihصحیح

جنت اور اہل جنت کے حال کا بیان

وَعَنْهُ\nقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةٌ إِلَّا وساقُها من ذهب» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ\n

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جنت کے درختوں کے تنے سونے کے ہوں گے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

5632Mishkaat-al-Masabihصحیح

جنت اور اہل جنت کے حال کا بیان

وَعَنْهُ\nقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ فِي الْجَنَّةِ مِائَةَ دَرَجَةٍ مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ مِائَةُ عَامٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ\n

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جنت میں سو درجے ہیں ، ہر دو درجوں کے درمیان سو سال کی مسافت ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

5633Mishkaat-al-Masabihضعیف

جنت اور اہل جنت کے حال کا بیان

وَعَنْ\nأَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ فِي الْجَنَّةِ مِائَةَ دَرَجَةٍ لَوْ أَنَّ الْعَالَمِينَ اجْتَمَعُوا فِي إِحْدَاهُنَّ لَوَسِعَتْهُمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ\n

ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جنت میں سو درجے ہیں ، اگر تمام جہان والے ان میں سے کسی ایک میں جمع ہو جائیں تو وہ ان کے لیے کافی ہو ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

5634Mishkaat-al-Masabihصحیح

جنت اور اہل جنت کے حال کا بیان

وَعَنْهُ\nعَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى (وفُرُشٍ مرفوعةٍ)\nقَالَ: «ارْتِفَاعُهَا لَكَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ مَسِيرَةَ خَمْسِمِائَةِ سَنَةً» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ\n

ابوسعید ؓ ، نبی ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان : (وَ فُرُشٍ مَّرْفُوْعَۃٍ) ’’ اور بلند بسترے ‘‘ کے بارے میں روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ان (بچھونوں) کی بلندی اس طرح ہو گی جس طرح زمین و آسمان کے درمیان فاصلہ ہے ، اور وہ فاصلہ پانچ سو سال کی مسافت ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی ۔

5635Mishkaat-al-Masabihصحیح

جنت اور اہل جنت کے حال کا بیان

وَعَنْهُ\nقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَوَّلَ زُمْرَةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ضَوْءُ وُجُوهِهِمْ عَلَى مِثْلِ ضَوْءِ القمرِ ليلةَ البدْرِ وَالزُّمْرَةُ الثَّانِيَةُ عَلَى مِثْلِ أَحْسَنِ كَوْكَبٍ دُرِّيٍّ فِي السَّمَاءِ لِكُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ زَوْجَتَانِ عَلَى كُلِّ زَوْجَةٍ سَبْعُونَ حُلَّةً يُرَى مُخُّ سَاقِهَا من وَرَائِهَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ\n

ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ پہلا گروہ جو روزِ قیامت جنت میں جائے گا ان کے چہرے اس طرح روشن ہوں گے جس طرح چودھویں رات کا چاند روشن ہوتا ہے ، دوسرا گروہ آسمان میں سب سے زیادہ چمک دار ستارے کی طرح روشن ہو گا ، ان میں سے ہر آدمی کے لیے دو بیویاں ہوں گی ، ہر بیوی پر ستر جوڑے ہوں گے ، اس کی پنڈلی کا گودا ان کے اوپر سے نظر آئے گا ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

5636Mishkaat-al-Masabihضعیف

جنت اور اہل جنت کے حال کا بیان

وَعَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يُعْطَى الْمُؤْمِنُ فِي الْجَنَّةِ قُوَّةَ كَذَا وَكَذَا مِنَ الْجِمَاعِ» . قِيلَ: يَا رَسُولَ الله أَو يُطيق ذَلِكَ؟ قَالَ: «يُعْطَى قُوَّةَ مِائَةٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

انس ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مومن کو جنت میں جماع کی بہت زیادہ طاقت دی جائے گی ۔‘‘ عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! کیا وہ اس کی طاقت رکھے گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اسے سو (آدمیوں) کی طاقت دی جائے گی ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

5637Mishkaat-al-Masabihصحیح

جنت اور اہل جنت کے حال کا بیان

وَعَنْ\nسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْ أَنَّ مَا يُقِلُّ ظُفُرٌ مِمَّا فِي الْجَنَّةِ بَدَا لَتَزَخْرَفَتْ لَهُ مَا بَيْنَ خَوَافِقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَوْ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ اطَّلَعَ فَبَدَا أَسَاوِرُهُ لَطَمَسَ ضَوْؤُهُ ضَوْءَ الشَّمْسِ كَمَا تَطْمِسُ الشَّمْسُ ضَوْءَ النُّجُومِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ\n

سعد بن ابی وقاص ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر جنت کی نعمتوں میں سے ناخن برابر کوئی نعمت (دنیا میں) ظاہر ہو جائے تو اس کی وجہ سے زمین و آسمان کے کنارے مزین ہو جائیں ، اور اگر جنت والوں میں سے ایک آدمی (زمین پر) جھانک دے اور اس کے کنگن ظاہر ہو جائیں تو اس کی روشنی سورج کی روشنی کو اس طرح مٹا دے جس طرح سورج ستاروں کی روشنی مٹا دیتا ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی ۔

5638Mishkaat-al-Masabihصحیح

جنت اور اہل جنت کے حال کا بیان

وَعَنْ\nأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَهْلُ الْجَنَّةِ جُرْدٌ مُرْدٌ كَحْلَى لَا يَفْنَى شَبَابُهُمْ وَلَا تَبْلَى ثِيَابهمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ والدارمي\n

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جنت والوں کے جسم پر بال نہ ہوں گے اور نہ ان کی داڑھی ہو گی ، اور ان کی آنکھیں سرمگیں ہوں گی ، نہ تو ان کی جوانیاں ختم ہوں گی اور نہ ان کے کپڑے بوسیدہ ہوں گے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و الدارمی ۔

5639Mishkaat-al-Masabihضعیف

جنت اور اہل جنت کے حال کا بیان

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَدْخُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ جُرْدًا مُرْدًا مُكَحَّلِينَ أَبْنَاءَ ثَلَاثِينَ - أَوْ ثلاثٍ وَثَلَاثِينَ - سنة» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جنت والے جنت میں اس حال میں داخل ہوں گے کہ نہ تو ان کے جسم پر بال ہوں گے اور نہ ان کی داڑھی ہو گی ، ان کی آنکھیں سرمگیں ہوں گی اور ان کی عمر تیس یا تینتیس سال ہو گی ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

5640Mishkaat-al-Masabihصحیح

جنت اور اہل جنت کے حال کا بیان

وَعَن أَسمَاء\nبنت أبي بكر قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذُكِرَ لَهُ سِدْرَةُ الْمُنْتَهَى قَالَ: «يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّ الْفَنَنِ مِنْهَا مِائَةَ سَنَةٍ أَوْ يَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا مِائَةُ رَاكِبٍ - شَكَّ الرَّاوِي - فِيهَا فَرَاشُ الذَّهَبِ كَأَنَّ ثَمَرَهَا الْقِلَالُ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ\n

اسماء بنت ابی بکر ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ، آپ سے سدرۃ المنتہی کا ذکر کیا گیا تو فرمایا :’’ سوار اس کی شاخوں کے سائے میں سو سال چلتا رہے گا ۔‘‘ یا فرمایا :’’ اس کے سائے سے سو سوار سایہ حاصل کر سکیں گے ۔‘‘ اس میں راوی کو شک ہوا ہے ۔‘‘ اس پر پتنگے سونے کے ہوں گے ، اور اس کا پھل بڑے مٹکوں کی طرح ہو گا ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔