Mishkaat-al-Masabihمشکوٰۃ المصابیح
All 6,294 hadiths in order · Page 248 of 315
حسن سلوک اور صلہ رحمی کرنے کا بیان
وَعَن أبي\nأُمامةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا حَقُّ الْوَالِدَيْنِ عَلَى وَلَدِهِمَا؟ قَالَ: «هُمَا جَنَّتُكَ ونارُكَ» . رَوَاهُ ابنُ مَاجَه\n
ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ کسی آدمی نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! والدین کا اپنی اولاد پر کیا حق ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ دونوں تمہاری جنت (کا سبب) ہیں اور تمہاری جہنم (کا سبب) ہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔
حسن سلوک اور صلہ رحمی کرنے کا بیان
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْعَبْدَ لَيَمُوتُ وَالِدَاهُ أَوْ أَحَدُهُمَا وَإِنَّهُ لَهُمَا لَعَاقٌّ فَلَا يَزَالُ يَدْعُو لَهُمَا وَيَسْتَغْفِرُ لَهُمَا حَتَّى يَكْتُبَهُ اللَّهُ بارا»
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ایک بندے کے والدین یا ان دونوں میں سے ایک فوت ہو جاتا ہے جبکہ وہ ان دونوں کا نافرمان ہوتا ہے ، اور وہ (ان کی موت کے بعد) ان کے لیے دعا کرتا رہتا ہے اور ان دونوں کے لیے مغفرت طلب کرتا رہتا ہے تو اللہ ایسے شخص کو حسن سلوک کرنے والا لکھ دیتا ہے ۔‘‘ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
حسن سلوک اور صلہ رحمی کرنے کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَصْبَحَ مُطِيعًا لِلَّهِ فِي وَالِدَيْهِ أَصْبَحَ لَهُ بَابَانِ مَفْتُوحَانِ مِنَ الْجَنَّةِ وَإِنْ كَانَ وَاحِدًا فَوَاحِدًا. وَمَنْ أَمْسَى عَاصِيًا لِلَّهِ فِي وَالِدَيْهِ أَصْبَحَ لَهُ بَابَانِ مَفْتُوحَانِ مِنَ النَّارِ وَإِنْ كَانَ وَاحِدًا فَوَاحِدًا» قَالَ رَجُلٌ: وَإِنْ ظَلَمَاهُ؟ قَالَ: «وَإِنْ ظلماهُ وإِن ظلماهُ وإِنْ ظلماهُ»
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص اپنے والدین (کے حق) کے متعلق اللہ کی اطاعت میں صبح کرتا ہے تو اس کے لیے جنت کے دروازے کھل جاتے ہیں اور اگر ایک ہو تو (دروازہ بھی) ایک ، اور جو شخص اپنے والدین (کے حق) کے متعلق اللہ کی نافرمانی میں صبح کرتا ہے تو اس کے لیے جہنم کے دروازے کھل جاتے ہیں ، اور اگر وہ ایک ہو تو (جہنم کا دروازہ بھی) ایک ۔‘‘ ایک آدمی نے عرض کیا ، اگرچہ وہ اس پر ظلم کریں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگرچہ وہ اس پر ظلم کریں ، اگرچہ وہ اس پر ظلم کریں اور اگرچہ وہ اس پر ظلم کریں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔\n
حسن سلوک اور صلہ رحمی کرنے کا بیان
وَعَنْهُ\nأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مامن وَلَدٍ بَارٍّ يَنْظُرُ إِلَى وَالِدَيْهِ نَظْرَةَ رَحْمَةٍ إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ نَظْرَةٍ حَجَّةً مَبْرُورَةً» . قَالُوا: وَإِنْ نَظَرَ كُلَّ يَوْمٍ مِائَةَ مرّة؟ قَالَ: «نعم الله أكبر وَأطيب»\n
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ نیک بچہ جب اپنے والدین کو نظر رحمت سے دیکھتا ہے تو اللہ اس کے ہر بار دیکھنے کے بدلے میں ، اس کے لیے حج مبرور کا ثواب لکھ دیتا ہے ۔‘‘ صحابہ ؓ نے عرض کیا : اگرچہ وہ ہر روز سو مرتبہ دیکھے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ، اللہ (تصور سے) بہت بڑا اور (ہر نقص سے) پاک تر ہے ۔‘‘ اسنادہ موضوع ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
حسن سلوک اور صلہ رحمی کرنے کا بیان
وَعَنْ أَبِي\nبَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كلُّ الذنوبِ يغفرُ اللَّهُ مِنْهَا مَا شاءَ إِلَّا عُقُوقَ الْوَالِدَيْنِ فَإِنَّهُ يُعَجَّلُ لِصَاحِبِهِ فِي الحياةِ قبلَ المماتِ»\n
ابوبکرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ والدین کی نافرمانی کے علاوہ اللہ جتنے چاہے گناہ معاف کر دیتا ہے ، کیونکہ وہ اس (گناہ) کے مرتکب کو مرنے سے پہلے زندگی ہی میں سزا دے دیتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
حسن سلوک اور صلہ رحمی کرنے کا بیان
وَعَن\nسعيدِ بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «حقُّ كبيرِ الإِخوَةِ على صَغِيرِهِمْ حَقُّ الْوَالِدِ عَلَى وَلَدِهِ» . رَوَى الْبَيْهَقِيُّ الأحاديثَ الخمسةَ فِي «شعب الْإِيمَان»\n
سعید بن عاص ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بڑے بھائی کا اپنے چھوٹے بھائیوں پر ایسے حق ہے جیسے والد کا اپنی اولاد پر حق ہے ۔‘‘ امام بیہقی نے پانچوں احادیث شعب الایمان میں روایت کی ہیں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
عَن جَرِيرِ بْنِ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَرْحَمُ اللَّهُ مَنْ لَا يَرْحَمُ النَّاسَ» . مُتَّفق عَلَيْهِ
جریر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ اس شخص پر رحم نہیں فرماتا جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
وَعَن عائشةَ قَالَتْ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَتُقَبِّلُونَ الصِّبْيَانَ؟ فَمَا نُقَبِّلُهُمْ. فَقَالَ النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: «أوَ أملكُ لَكَ أَنْ نَزَعَ اللَّهُ مِنْ قَلْبِكَ الرَّحْمَةَ» . مُتَّفق عَلَيْهِ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، ایک اعرابی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے پوچھا : کیا آپ بچوں کا بوسہ لیتے ہیں ؟ جبکہ ہم تو ان کا بوسہ نہیں لیتے ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ میں تمہارے متعلق اختیار نہیں رکھتا جبکہ اللہ نے تیرے دل سے رحمت نکال دی ہے ، (کہ میں اسے واپس لا سکوں) ۔‘‘ متفق علیہ ۔
مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
وَعَنْهَا قَالَتْ: جَاءَتْنِي امْرَأَةٌ وَمَعَهَا ابْنَتَانِ لَهَا تَسْأَلُنِي فَلَمْ تَجِدْ عِنْدِي غَيْرَ تَمْرَةٍ وَاحِدَةٍ فَأَعْطَيْتُهَا إِيَّاهَا فَقَسَمَتْهَا بَيْنَ ابْنَتَيْهَا وَلَمْ تَأْكُلْ مِنْهَا ثُمَّ قَامَتْ فَخَرَجَتْ. فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثْتُهُ فَقَالَ: «مَنِ ابْتُلِيَ مِنْ هَذِهِ الْبَنَاتِ بِشَيْءٍ فَأَحْسَنَ إِلَيْهِنَّ كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، ایک عورت میرے پاس آئی اور اس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں بھی تھیں ، اس نے مجھ سے سوال کیا ، میرے پاس صرف ایک کھجور ہی تھی ، میں نے وہی اسے دے دی ، اس نے اسے اپنی دونوں بیٹیوں کے درمیان تقسیم کر دیا ، اور خود نہ کھائی ، پھر وہ کھڑی ہوئی اور چلی گئی ۔ نبی ﷺ میرے پاس تشریف لائے تو میں نے آپ سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص کی ان بیٹیوں سے کسی طرح آزمائش کی گئی اور اس نے ان سے حسن سلوک کیا تو وہ اس کے لیے جہنم سے آڑ بن جائیں گی ۔‘‘ متفق علیہ ۔
مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ عَالَ جَارِيَتَيْنِ حَتَّى تَبْلُغَا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَا وَهُوَ هَكَذَا» وضمَّ أصابعَه. رَوَاهُ مُسلم
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے دو بچیوں کی پرورش کی حتی کہ وہ بالغ ہو گئیں تو وہ روز قیامت اس طرح آئے گا کہ میں اور وہ اس طرح ہوں گے ۔‘‘ اور آپ نے اپنی انگلیاں ملائیں ۔ رواہ مسلم ۔
مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «السَّاعِي عَلَى الْأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ كَالسَّاعِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ» وَأَحْسَبُهُ قَالَ: «كَالْقَائِمِ لَا يَفْتُرُ وَكَالصَّائِمِ لَا يفْطر» . مُتَّفق عَلَيْهِ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بیوہ اور مسکین کی ضرورتوں کا خیال رکھنے والا ، اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے ۔‘‘ اور میرا خیال ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ قیام کرنے (تہجد پڑھنے) والے کی طرح ہے جو سستی نہیں کرتا ، اور اس روزہ دار کی طرح ہے جو افطار نہیں کرتا (مسلسل روزے رکھتا ہے) ۔‘‘ متفق علیہ ۔
مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا وَكَافِلُ الْيَتِيمِ لَهُ وَلِغَيْرِهِ فِي الْجَنَّةِ هَكَذَا» وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى وفرَّجَ بَينهمَا شَيْئا. رَوَاهُ البُخَارِيّ
سہل بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا ، خواہ یتیم اس کا اپنا ہو یا کسی اور کا ، جنت میں اس طرح ہوں گے ۔‘‘ اور آپ ﷺ نے انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کے ساتھ اشارہ فرمایا اور پھر ان دونوں (انگلیوں) کے درمیان کچھ فرق کیا ۔ رواہ البخاری ۔
مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَرَى الْمُؤْمِنِينَ فِي تراحُمِهم وتوادِّهم وتعاطفِهم كمثلِ الجسدِ إِذا اشْتَكَى عضوا تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
نعمان بن بشیر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ آپ مؤمنوں کو باہم رحمت و مہربانی کرنے ، باہم محبت اور معاونت کرنے میں ، جسم کی مانند پائیں گے ، جب کوئی عضو تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے تو اس کی وجہ سے اس کا سارا جسم بیداری اور بخار میں مبتلا رہتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُؤْمِنُونَ كَرَجُلٍ وَاحِدٍ إِنِ اشْتَكَى عَيْنُهُ اشْتَكَى كُلُّهُ وَإِنِ اشْتَكَى رَأْسُهُ اشْتَكَى كُله» . رَوَاهُ مُسلم
نعمان بن بشیر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تمام مومن فردِ واحد کی طرح ہیں ، اگر اس کی آنکھ دکھتی ہے تو اس کا سارا جسم دکھتا ہے ، اور اگر اس کا سر تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے تو بھی اس کا سارا جسم تکلیف محسوس کرتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
وَعَنْ أَبِي مُوسَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا» ثُمَّ شَبكَ بَين أَصَابِعه. مُتَّفق عَلَيْهِ
ابوموسی ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مومن (دوسرے) مومن کے لیے عمارت کی مانند ہے ، جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے ۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالیں ۔ متفق علیہ ۔
مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا أَتَاهُ السَّائِلُ أَوْ صَاحِبُ الْحَاجَةِ قَالَ: «اشْفَعُوا فَلْتُؤْجَرُوا وَيَقْضِي اللَّهُ عَلَى لِسَان رَسُوله مَا شَاءَ» . مُتَّفق عَلَيْهِ
ابوموسی ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ جب سائل یا کوئی ضرورت مند شخص آپ کے پاس آتا تو آپ ﷺ فرماتے :’’ تم (مجھ سے) سفارش کرو تمہیں اجر ملے گا ، اور اللہ جو چاہے گا وہ اپنے رسول کی زبان پر جاری فرما دے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «انْصُرْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا» . فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْصُرُهُ مَظْلُومًا فَكَيْفَ أَنْصُرُهُ ظَالِمًا؟ قَالَ: «تَمنعهُ من الظُّلم فَذَاك نصرك إِيَّاه» . مُتَّفق عَلَيْهِ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اپنے (مسلمان) بھائی کی مدد کرو ، وہ ظالم ہو یا مظلوم ۔‘‘ کسی آدمی نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں مظلوم کی تو مدد کروں گا لیکن ظالم کی مدد کیسے کروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تمہارا اسے ظلم سے روکنا ، یہی تمہارا اس کی مدد کرنا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يُسْلِمُهُ وَمَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ كَانَ اللَّهُ فِي حَاجَتِهِ وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرُبَاتِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . مُتَّفق عَلَيْهِ
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ تو وہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے (ظالم کے) سپرد کرتا ہے اور جو شخص اپنے بھائی کی حاجت پوری کرنے میں لگا ہو تو اللہ اس کی حاجت پوری فرماتا ہے ، اور جو شخص کسی مسلمان کی کوئی پریشانی دور کرتا ہے تو اللہ اس سے قیامت کے روز کی پریشانیوں میں سے کوئی پریشانی دور فرما دے گا ، اور جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرتا ہے تو روزِ قیامت اللہ اس کی پردہ پوشی فرمائے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
وَعَنْ\nأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ وَلَا يَحْقِرُهُ التَّقْوَى هَهُنَا» . وَيُشِير إِلَى صَدره ثَلَاث مرار بِحَسْبِ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ: دَمُهُ ومالهُ وَعرضه . رَوَاهُ مُسلم\n
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے وہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے اور نہ ہی اسے حقیر خیال کرتا ہے ، تقویٰ یہاں ہے ۔‘‘ اور آپ نے اپنے سینے کی طرف تین مرتبہ اشارہ کیا ’’ کسی آدمی کے برا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر خیال کرے ، ہر مسلمان کا خون ، اس کا مال اور اس کی عزت دوسرے مسلمان پر حرام ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
وَعَنْ\nعِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَهْلُ الْجَنَّةِ ثَلَاثَةٌ: ذُو سُلْطَانٍ مُقْسِطٌ متصدِّقٌ موفق وَرجل رَحِيم رَفِيق الْقلب لكلَّ ذِي قربى وَمُسْلِمٍ وَعَفِيفٌ مُتَعَفِّفٌ ذُو عِيَالٍ. وَأَهْلُ النَّارِ خَمْسَةٌ: الضَّعِيفُ الَّذِي لَا زَبْرَ لَهُ الَّذِينَ هم فِيكُمْ تَبَعٌ لَا يَبْغُونَ أَهْلًا وَلَا مَالًا وَالْخَائِنُ الَّذِي لَا يَخْفَى لَهُ طَمَعٌ وَإِنْ دَقَّ إِلَّا خَانَهُ وَرَجُلٌ لَا يُصْبِحُ وَلَا يُمْسِي إِلَّا وَهُوَ يُخَادِعُكَ عَنْ أَهْلِكَ وَمَالِكَ وَذَكَرَ الْبُخْلَ أَوِ الْكَذِبَ وَالشِّنْظِيرُ الْفَحَّاشُ . رَوَاهُ مُسلم\n
عیاض بن حمار ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اہل جنت تین قسم کے ہیں : منصف ، خیرات کرنے والا اور نیکی کرنے کی توفیق سے نوازا گیا بادشاہ ، (دوسرا) ہر رشتے دار سے (خصوصاً) اور ہر مسلمان سے (عموماً) مہربانی اور نرم دلی کے جذبات رکھنے والا شخص اور (تیسرا) عیال دار جو کہ حرام چیزوں اور سوال کرنے سے اجتناب کرتا ہے ۔ جبکہ جہنمیوں کی پانچ اقسام ہیں : وہ ضعیف جس میں عقل نہیں (جس کے ذریعے وہ بری بات سے بچے) ، وہ لوگ جو تمہارے ماتحت ہیں ، جنہیں (حلال) اہل و عیال اور مال کی خواہش نہیں ، خائن شخص کہ اگر اس کے دل میں کسی معمولی سی چیز کا طمع پیدا ہو تو وہ اس کی خیانت کر لیتا ہے ، وہ آدمی جو صبح و شام (ہر موقع پر) تیرے اہل و عیال اور تیرے مال کے بارے میں تجھ سے دھوکہ کرتا ہے ۔‘‘ اور آپ نے بخیل یا جھوٹے کا ذکر کیا ۔‘‘ اور بداخلاق جو فحش گو ہو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔