Mishkaat-al-Masabihمشکوٰۃ المصابیح
All 6,294 hadiths in order · Page 235 of 315
مصافحہ اور معانقہ کا بیان
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم قَالَ: تَمَامُ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ أَنْ يَضَعَ أَحَدُكُمْ يَدَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ أَوْ عَلَى يَدِهِ فَيَسْأَلَهُ: كَيْفَ هُوَ؟ وَتَمَامُ تَحِيَّاتِكُمْ بَيْنَكُمُ الْمُصَافَحَةُ . رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ وَضَعفه
ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مریض کی عیادت اس طرح پوری ہوتی ہے کہ تم میں سے کوئی ایک اپنا ہاتھ اس کی پیشانی پر یا اس کے ہاتھ پر رکھ کر اس سے دریافت کرے :’’ کیا حال ہے ؟‘‘ اور تمہارا آپس میں پورا سلام دعا ، مصافحہ کرنا ہے ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، اور امام ترمذی ؒ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و الترمذی ۔
مصافحہ اور معانقہ کا بیان
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَدِمَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ الْمَدِينَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي فَأَتَاهُ فَقَرَعَ البابَ فقامَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُرْيَانًا يَجُرُّ ثَوْبَهُ وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُهُ عُرْيَانًا قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ فَاعْتَنَقَهُ وَقَبَّلَهُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، زید بن حارثہ ؓ مدینہ تشریف لائے تو اس وقت رسول اللہ ﷺ میرے گھر میں تشریف فرما تھے ۔ وہ آپ کے پاس آئے تو انہوں نے دروازہ کھٹکھٹایا ، رسول اللہ ﷺ (فرطِ محبت سے) اپنا کپڑا گھسیٹتے ہوئے ، قمیص پہنے بغیر ، اس کی طرف چلے ، اللہ کی قسم ! میں نے اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد آپ کو قمیص کے بغیر دیکھا ، آپ ﷺ نے اسے گلے لگایا اور اس کا بوسہ لیا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
مصافحہ اور معانقہ کا بیان
وَعَنْ أَيُّوبَ بْنِ بُشَيْرٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ عَنَزةَ أنَّه قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي ذَرٍّ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَافِحُكُمْ إِذَا لَقِيتُمُوهُ؟ قَالَ: مَا لَقِيتُهُ قَطُّ إِلَّا صَافَحَنِي وَبَعَثَ إِلَيَّ ذَاتَ يَوْمٍ وَلَمْ أَكُنْ فِي أَهْلِي فَلَمَّا جِئْتُ أُخْبِرْتُ فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ عَلَى سَرِيرٍ فَالْتَزَمَنِي فَكَانَتْ تِلْكَ أَجْوَدَ وَأَجْوَدَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ایوب بن بشیر ، عنزہ قبیلے کے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں کہ اس نے کہا : میں نے ابوذر ؓ سے کہا : کیا جب تم رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کرتے تھے تو وہ تم سے مصافحہ کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا : میں جب بھی آپ سے ملا ہوں ، آپ ﷺ نے مجھ سے مصافحہ کیا ہے ، آپ نے ایک روز مجھے طلب فرمایا لیکن میں گھر پر نہیں تھا ، جب میں آیا تو مجھے بتایا گیا ، میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ اس وقت چار پائی پر تشریف فرما تھے ، آپ ﷺ نے مجھے گلے لگایا ، یہ (گلے لگانا) بہت ہی بہتر تھا ، بہت ہی بہتر ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
مصافحہ اور معانقہ کا بیان
وَعَن عكرمةَ بن أبي جهلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ جِئْتُهُ: «مَرْحَبًا بِالرَّاكِبِ الْمُهَاجِرِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
عکرمہ بن ابی جہل ؓ بیان کرتے ہیں ، جس روز میں (بیعت اسلام کے لیے) رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مہاجر سوار کے لیے خوش آمدید ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
مصافحہ اور معانقہ کا بیان
وَعَن أُسَيدِ بن حُضَيرٍ - رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ - قَالَ: بَيْنَمَا هُوَ يُحَدِّثُ الْقَوْمَ - وَكَانَ فِيهِ مُزَاحٌ - بَيْنَا يُضْحِكُهُمْ فَطَعَنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَاصِرَتِهِ بِعُودٍ فَقَالَ: أَصْبِرْنِي. قَالَ: «أَصْطَبِرُ» . قَالَ: إِنَّ عَلَيْكَ قَمِيصًا وَلَيْسَ عَلَيَّ قَمِيصٌ فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَمِيصِهِ فَاحْتَضَنَهُ وَجَعَلَ يُقَبِّلُ كَشْحَهُ قَالَ: إِنَّمَا أَرَدْتُ هَذَا يَا رسولَ الله. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
اسید بن حضیر ؓ لا تعلق انصار کے ایک قبیلے سے تھا ، وہ بیان کرتے ہیں : ایک دن وہ لوگوں سے باتیں کر رہے تھے اور وہ مزاح طبیعت تھے اور وہ انہیں (اپنی باتوں کے ذریعے) ہنسا رہے تھے ، تو نبی ﷺ نے ایک لکڑی سے اس کے پہلو پر چوب لگائی ، انہوں نے کہا : مجھے بدلہ دیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں بدلہ دیتا ہوں ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : آپ پر تو قمیص ہے جبکہ مجھ پر قمیص نہیں ، نبی ﷺ نے قمیص اٹھائی تو میں آپ ﷺ سے چمٹ گیا اور آپ کے پہلو کو بوسہ دینے لگا ، اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں بس یہی چاہتا تھا ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
مصافحہ اور معانقہ کا بیان
وَعَنِ\nالشَّعْبِيِّ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلَقَّى جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَالْتَزَمَهُ وقبَّلَ مابين عَيْنَيْهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ» مُرْسَلًا\nوَفِي بَعْضِ نُسَخِ «الْمَصَابِيحِ» وَفِي «شرح السّنة» عَن البياضي مُتَّصِلا\n
شعبی ؒ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے جعفر بن ابی طالب ؓ کا استقبال کیا تو انہیں گلے لگایا اور ان کی آنکھوں کے درمیان (پیشانی پر) بوسہ دیا ۔ ابوداؤد ، بیہقی فی شعب الایمان مرسلا ۔ جبکہ مصابیح کے بعض نسخوں میں اور شرح السنہ میں البیاضی کی سند سے متصل ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و البیھقی فی شعب الایمان ۔
مصافحہ اور معانقہ کا بیان
وَعَنْ\nجَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فِي قِصَّةِ رُجُوعِهِ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ قَالَ: فَخَرَجْنَا حَتَّى أَتَيْنَا الْمَدِينَةَ فَتَلَقَّانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاعْتَنَقَنِي ثُمَّ قَالَ: مَا أَدْرِي: أَنَا بِفَتْحِ خَيْبَرَ أَفْرَحُ أَمْ بِقُدُومِ جَعْفَرٍ؟ «. وَوَافَقَ ذَلِكَ فَتْحَ خَيْبَرَ. رَوَاهُ فِي» شَرْحِ السّنة\n
جعفر بن ابی طالب ؓ سے سرزمین حبشہ سے واپسی کے واقعہ کے بارے میں مروی ہے ، انہوں نے فرمایا : جب ہم مدینہ پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نے میرا استقبال کیا اور مجھے گلے لگا لیا ، پھر فرمایا :’’ میں نہیں جانتا کہ مجھے فتح خیبر کی زیادہ خوشی ہے یا جعفر کی آمد کی ۔‘‘ اتفاق سے ان کی آمد فتح خیبر کے روز تھی ۔ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔
مصافحہ اور معانقہ کا بیان
وَعَن زارع\nوَكَانَ فِي وَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ قَالَ: لَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَجَعَلْنَا نَتَبَادَرُ مِنْ رَوَاحِلِنَا فَنُقَبِّلُ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرجله. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد\n
زارع ؓ فرماتے ہیں اور وہ وفد عبدالقیس میں شامل تھے : جب ہم مدینہ پہنچے تو ہم اپنی سواریوں سے جلدی جلدی اترے اور ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ اور پاؤں کو بوسہ دیا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
مصافحہ اور معانقہ کا بیان
وَعَنْ\nعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَشْبَهَ سَمْتًا وَهَدْيًا وَدَلًّا. وَفِي رِوَايَةٍ حَدِيثًا وَكَلَامًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فَاطِمَةَ كَانَتْ إِذَا دَخَلَتْ عَلَيْهِ قَامَ إِلَيْهَا فَأَخَذَ بِيَدِهَا فَقَبَّلَهَا وَأَجْلَسَهَا فِي مَجْلِسِهِ وَكَانَ إِذَا دَخَلَ عَلَيْهَا قَامَتْ إِلَيْهِ فَأَخَذَتْ بِيَدِهِ فَقَبَّلَتْهُ وَأَجْلَسَتْهُ فِي مجلسِها. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد\n
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کی ہیٔت ، سیرت و صورت ، ایک روایت میں ہے : بات چیت میں فاطمہ ؓ سے زیادہ کسی کو مشابہ نہیں پایا ، جب وہ آتیں تو آپ ﷺ ان کا استقبال کرتے ، آپ ان کا ہاتھ پکڑتے اور ان کا (پیشانی پر) بوسہ لیتے اور انہیں اپنی جگہ پر بٹھاتے ، اور جب آپ ﷺ ان کے پاس تشریف لے جاتے تو وہ بھی آپ کا استقبال کرتیں ، آپ کا ہاتھ پکڑتیں اور آپ کا بوسہ لیتیں اور آپ کو اپنی جگہ پر بٹھاتیں ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
مصافحہ اور معانقہ کا بیان
وَعَن البراءِ\nقَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أولَ مَا قدمَ المدينةَ فَإِذا عَائِشَة مُضْطَجِعَة قد أصابتها حُمَّى فَأَتَاهَا أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ: كَيْفَ أَنْتِ يَا بُنَيَّةُ؟ وَقَبَّلَ خَدَّهَا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ\n
براء ؓ بیان کرتے ہیں ، (کسی غزوہ سے واپسی پر) میں سب سے پہلے ابوبکر ؓ کے ساتھ مدینہ آیا تو ان کی بیٹی عائشہ ؓ لیٹی ہوئی تھیں اور وہ بخار میں مبتلا تھیں ، ابوبکر ؓ ان کے پاس آئے تو فرمایا : پیاری بیٹی ! تمہارا کیا حال ہے ؟ اور انہوں نے ان کے رخسار پر بوسہ دیا ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
مصافحہ اور معانقہ کا بیان
وَعَنْ عَائِشَةَ\nرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِصَبِيٍّ فَقَبَّلَهُ فَقَالَ: «أَمَا إِنَّهُمْ مَبْخَلَةٌ مَجْبَنَةٌ وَإِنَّهُمْ لَمِنْ ريحَان الله» . رَوَاهُ فِي «شرح السّنة»\n
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے پاس ایک بچہ لایا گیا تو آپ ﷺ نے اس کا بوسہ لیا اور فرمایا :’’ سن لو ! یہ (بچے) بخل اور بزدلی کا باعث ہوتے ہیں ، اور بے شک یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطیہ ہیں ۔‘‘ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔
مصافحہ اور معانقہ کا بیان
عَن يعلى\nقَالَ: إِنَّ حسنا وحُسيناً رَضِي الله عَنْهُم اسْتَبَقَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَمَّهُمَا إِلَيْهِ وَقَالَ: «إِنَّ الْوَلَدَ مَبْخَلَةٌ مجبنَةٌ» . رَوَاهُ أَحْمد\n
یعلی ؓ بیان کرتے ہیں کہ حسن اور حسین ؓ رسول اللہ ﷺ کی طرف تیزی سے دوڑتے آئے تو آپ ﷺ نے ان دونوں کو گلے لگا لیا ، اور فرمایا :’’ بے شک اولاد بخل اور بزدلی کا باعث ہوتی ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد ۔
مصافحہ اور معانقہ کا بیان
وَعَنْ عَطَاءٍ\nالْخُرَاسَانِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «تَصَافَحُوا يَذْهَبِ الْغِلُّ وَتَهَادَوْا تَحَابُّوا وَتَذْهَبِ الشَّحْنَاءُ» رَوَاهُ مَالِكٌ مُرْسَلًا\n
عطاء خراسانی ؒ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مصافحہ کیا کرو (اس سے) کینہ جاتا رہتا ہے ، ہدیے (تحائف) دیا کرو ، باہم محبت پیدا ہو گی اور دشمنی و رنجش جاتی رہے گی ۔‘‘ امام مالک نے اسے مرسل روایت کیا ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ مالک ۔
مصافحہ اور معانقہ کا بیان
وَعَنِ الْبَرَاءِ\nبْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَلَّى أَرْبَعًا قَبْلَ الْهَاجِرَةِ فَكَأَنَّمَا صَلَّاهُنَّ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَالْمُسْلِمَانِ إِذَا تَصَافَحَا لَمْ يَبْقَ بَيْنَهُمَا ذَنْبٌ إِلَّا سَقَطَ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ»\n
براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے نصف النہار سے پہلے چار رکعت (نماز چاشت) پڑھی گویا اس نے وہ رکعات شب قدر میں ادا کیں ، اور جب دو مسلمان مصافحہ کرتے ہیں ، تو ان کے سارے گناہ گر جاتے ہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
بطورِ تعظیم کھڑے ہونے کا بیان
عَن أبي سعيد الْخُدْرِيّ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ بَنُو قُرَيْظَةَ عَلَى حُكْمِ سَعْدٍ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ وَكَانَ قَرِيبًا مِنْهُ فَجَاءَ عَلَى حِمَارٍ فَلَمَّا دَنَا مِنَ الْمَسْجِدِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْأَنْصَارِ: «قُومُوا إِلَى سيِّدكم» . مُتَّفق عَلَيْهِ. وَمَضَى الْحَدِيثُ بِطُولِهِ فِي «بَابِ حِكَمِ الْإِسْرَاءِ»\n
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، جب بنو قریظہ ، سعد ؓ کا فیصلہ قبول کرنے پر راضی ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے کسی کو ان کی طرف بھیجا ، اور وہ آپ کے قریب ہی تھے ، چنانچہ وہ ایک گدھے پر سوار ہو کر آئے ، اور جب وہ مسجد کے قریب پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نے انصار سے فرمایا :’’ اپنے سردار کی طرف کھڑے ہو جاؤ ۔‘‘ متفق علیہ ۔\nاور یہ حدیث مکمل طور پر باب حکم الاسراء میں گزر چکی ہے ۔\n
بطورِ تعظیم کھڑے ہونے کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يُقِيمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ يَجْلِسُ فِيهِ وَلَكِنْ تَفَسَّحُوا وَتَوَسَّعُوا» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ کوئی آدمی کسی آدمی کو اس کی جگہ سے اٹھا کر وہاں مت بیٹھے ، بلکہ وسعت و کشادگی پیدا کرو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
بطورِ تعظیم کھڑے ہونے کا بیان
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ قَامَ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ» . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص اپنی جگہ سے اٹھے اور وہ پھر وہیں واپس آ جائے تو اس جگہ کا وہی زیادہ حق دار ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
بطورِ تعظیم کھڑے ہونے کا بیان
عَن أنس بن مَالك قَالَ: لَمْ يَكُنْ شَخْصٌ أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانُوا إِذَا رَأَوْهُ لَمْ يَقُومُوا لِمَا يَعْلَمُونَ مِنْ كَرَاهِيَتِهِ لِذَلِكَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، صحابہ کرام ؓ کو رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر کوئی شخص زیادہ محبوب نہیں تھا ، اس کے باوجود جب وہ آپ کو دیکھتے تو وہ کھڑے نہیں ہوتے تھے ، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ آپ ﷺ اسے ناپسند کرتے ہیں ۔ اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
بطورِ تعظیم کھڑے ہونے کا بیان
وَعَن مُعَاوِيَة قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَتَمَثَّلَ لَهُ الرِّجَالُ قِيَامًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد
معاویہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص کو یہ پسند ہو کہ لوگ اس کے سامنے کھڑے رہیں تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
بطورِ تعظیم کھڑے ہونے کا بیان
وَعَن أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئًا عَلَى عَصًا فَقُمْنَا فَقَالَ: «لَا تَقُومُوا كَمَا يَقُومُ الْأَعَاجِمُ يُعَظِّمُ بَعْضهَا بَعْضًا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ لاٹھی کا سہارا لے کر باہر تشریف لائے تو ہم آپ کی خاطر کھڑے ہو گئے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم ایسے نہ کھڑے ہوا کرو جیسے عجمی لوگ ایک دوسرے کی تعظیم میں کھڑے ہوتے ہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔