Mishkaat-al-Masabihمشکوٰۃ المصابیح
All 6,294 hadiths in order · Page 231 of 315
وَعَن ابنِ عبَّاسٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَنْصَارِ: أَنَّهُمْ بَيْنَا جُلُوسٌ لَيْلَةً مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُمِيَ بِنَجْمٍ وَاسْتَنَارَ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا كُنْتُمْ تَقُولُونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا رُمِيَ بِمِثْلِ هَذَا؟» قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ كُنَّا نَقُولُ: وُلِدَ اللَّيْلَةَ رَجُلٌ عَظِيمٌ وَمَاتَ رَجُلٌ عَظِيمٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَإِنَّهَا لَا يُرْمَى بِهَا لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ وَلَكِنَّ رَبَّنَا تَبَارَكَ اسْمُهُ إِذَا قَضَى أَمر سَبَّحَ حَمَلَةُ الْعَرْشِ ثُمَّ سَبَّحَ أَهْلُ السَّمَاءِ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ حَتَّى يَبْلُغَ التَّسْبِيحُ أَهْلَ هَذِهِ السَّمَاء الدُّنْيَا ثمَّ قَالَ الَّذِي يَلُونَ حَمَلَةَ الْعَرْشِ لِحَمَلَةِ الْعَرْشِ: مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟ فَيُخْبِرُونَهُمْ مَا قَالَ: فَيَسْتَخْبِرُ بَعْضُ أَهْلِ السَّمَاوَاتِ بَعْضًا حَتَّى يَبْلُغَ هَذِهِ السَّمَاءَ الدُّنْيَا فَيَخْطَفُ الْجِنُّ السَّمْعَ فَيَقْذِفُونَ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ وَيُرْمَوْنَ فَمَا جاؤوا بِهِ عَلَى وَجْهِهِ فَهُوَ حَقٌّ وَلَكِنَّهُمْ يَقْرِفُونَ فِيهِ وَيزِيدُونَ . رَوَاهُ مُسلم
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ کے انصار صحابہ میں سے ایک صحابی نے مجھے بیان کیا کہ اس اثنا میں کہ ایک رات ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک ستارہ ٹوٹا اور روشن ہوا ۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا :’’ جب دورِ جاہلیت میں اس طرح ستارہ ٹوٹتا تھا تو تم کیا کہا کرتے تھے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں ، تاہم یہ کہا کرتے تھے اس رات کوئی عظیم آدمی پیدا ہوا ہے یا کوئی عظیم آدمی فوت ہوا ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ستارہ نہ کسی کی موت پر ٹوٹتا ہے اور نہ کسی کی حیات پر ، لیکن جب ہمارا رب ، بابرکت ہے نام اس کا ، کوئی فیصلہ فرماتا ہے تو حاملین عرش تسبیح بیان کرتے ہیں ، بعد ازاں ان سے قریب آسمان والے فرشتے سبحان اللہ کہتے ہیں یہاں تک کہ تسبیح کی یہ آواز آسمان دنیا کے فرشتوں تک پہنچ جاتی ہے ، پھر وہ فرشتے جو عرش کو اٹھانے والے فرشتوں کے قریب ہوتے ہیں وہ حاملینِ عرش سے کہتے ہیں ، تمہارے رب نے کیا کہا ہے ؟ تو وہ انہیں بتاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے کہا ہوتا ہے ، آسمان والے ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں ، حتی کہ خبر آسمان دنیا تک پہنچ جاتی ہے چنانچہ شیاطین اس بات کو اچک لیتے ہیں ، اور وہ اپنے ساتھیوں کو القا کر دیتے ہیں ، اور اسی دوران انہیں انگارے مارے جاتے ہیں ، جو خبر وہ اصل شکل میں القا کر دیتے ہیں وہ تو حق اور درست ہوتی ہے ، لیکن وہ اس میں اور ملا لیتے ہیں ، اور اضافہ کر لیتے ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
وَعَن قتادةَ قَالَ: خلقَ اللَّهُ تَعَالَى هَذِه النجومَ لثلاثٍ جَعَلَهَا زِينَةً لِلسَّمَاءِ وَرُجُومًا لِلشَّيَاطِينِ وَعَلَامَاتٍ يُهْتَدَى بهَا فَمن تأوَّلَ فِيهَا بِغَيْرِ ذَلِكَ أَخَطَأَ وَأَضَاعَ نَصِيبَهُ وَتَكَلَّفَ مَالا يَعْلَمُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ تَعْلِيقًا وَفِي رِوَايَةِ رَزِينٍ: «تكلّف مَالا يعنيه ومالا عِلْمَ لَهُ بِهِ وَمَا عَجَزَ عَنْ عِلْمِهِ الْأَنْبِيَاء وَالْمَلَائِكَة»
قتادہ ؒ بیان کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے یہ ستارے تین مقاصد کے لیے پیدا فرمائے ہیں ، انہیں آسمان کے لیے باعث زینت بنایا ، شیاطین کے لیے مار اور علامت و نشانات جن کے ذریعے رہنمائی حاصل کی جاتی ہے ۔ جس نے ان کے علاوہ کچھ اور بیان کیا اس نے غلطی کی ، اپنا حصہ (عمر) ضائع کیا اور ایسی چیز کا تکلف کیا جو وہ نہیں جانتا ۔ امام بخاری ؒ نے اسے معلق روایت کیا ہے ۔ اور رزین کی روایت میں ہے ، اور اس نے ایسی چیز کا تکلف کیا جو نہ تو اس کے متعلق ہے اور نہ اسے اس کا علم ہے اور جس کے علم سے انبیا ؑ اور فرشتے بھی عاجز ہیں ۔ رواہ البخاری و رزین ۔
وَعَن الربيعِ مِثْلُهُ وَزَادَ: وَاللَّهِ مَا جَعَلَ اللَّهُ فِي نَجْمٍ حَيَاةَ أَحَدٍ وَلَا رِزْقَهُ وَلَا مَوْتَهُ وَإِنَّمَا يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ وَيَتَعَلَّلُونَ بِالنُّجُومِ
ربیع سے بھی اسی طرح مروی ہے ، نیز انہوں نے یہ اضافہ نقل کیا ہے ، اللہ کی قسم ! اللہ نے کسی ستارے میں نہ تو کسی کی زندگی رکھی ہے اور نہ اس کا رزق رکھا ہے اور نہ اس کی موت رکھی ہے ، وہ تو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں اور ستاروں کا فقط بہانہ بناتے ہیں ۔ لم اجدہ ، رواہ رزین ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ اقْتَبَسَ بَابًا مِنْ عِلْمِ النُّجُومِ لِغَيْرِ مَا ذَكَرَ اللَّهُ فَقَدِ اقْتَبَسَ شُعْبَةً مِنَ السِّحْرِ الْمُنَجِّمُ كَاهِنٌ والكاهنُ ساحرٌ والساحرُ كافرٌ» . رَوَاهُ رزين
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے اللہ کے بیان کردہ فوائد کے علاوہ علم نجوم میں سے کوئی حصہ سیکھا تو اس نے جادو کا ایک حصہ حاصل کیا ، نجومی کاہن ہے ، اور کاہن جادوگر ہے ، اور جادوگر کافر ہے ۔‘‘ لم اجدہ ، رواہ رزین ۔
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ أَمْسَكَ اللَّهُ الْقَطْرَ عَنْ عِبَادِهِ خَمْسَ سِنِينَ ثُمَّ أَرْسَلَهُ لَأَصْبَحَتْ طَائِفَةٌ مِنَ النَّاسِ كَافِرِينَ يَقُولُونَ: سُقِينَا بِنَوْءِ الْمِجْدَحِ . رَوَاهُ النَّسَائِيّ
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر اللہ پانچ سال تک بارش روک لے ، پھر اسے برسا دے تو لوگوں میں ایک جماعت کافر ہو جائے گی ، وہ کہیں گے ، ہم پر مجدح ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَمْ يَبْقَ مِنَ النُّبُوَّةِ إِلَّا الْمُبَشِّرَاتُ» قَالُوا: وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ؟ قَالَ: «الرُّؤْيَا الصالحةُ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ نبوت میں صرف ’’ مبشرات ‘‘ باقی رہ گئے ہیں ۔‘‘ صحابہ ؓ نے عرض کیا : مبشرات سے کیا مراد ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اچھے خواب ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
وَزَادَ مَالِكٌ بِرِوَايَةِ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ: «يَرَاهَا الرجل الْمُسلم أَو ترى لَهُ»
امام مالک ؒ نے عطاء بن یسار کی روایت کے حوالے سے یہ اضافہ کیا ہے :’’ (وہ خواب) جسے مسلمان شخص دیکھتا ہے ، یا اس کی خاطر (کسی دوسرے شخص کو) دکھایا جاتا ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ مالک ۔
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ»
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اچھے خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم قَالَ: «من رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَمَثَّلُ فِي صُورَتِي»
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے مجھے خواب میں دیکھا تو اس نے مجھے ہی دیکھا کیونکہ شیطان میرا روپ نہیں دھار سکتا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ رَآنِي فَقَدْ رَأَى الْحَقَّ»
ابوقتادہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس نے مجھے دیکھا تو اس نے حق (حقیقت میں مجھے) دیکھا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: «من رَآنِي فِي الْمَنَام فيسراني فِي الْيَقَظَةِ وَلَا يَتَمَثَّلُ الشَّيْطَانُ بِي»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس نے مجھے خواب میں دیکھا تو وہ مجھے عنقریب حالت بیداری میں بھی دیکھے گا اور شیطان میری صورت اختیار نہیں کر سکتا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ مِنَ اللَّهِ وَالْحُلْمُ مِنَ الشَّيْطَانِ فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يُحِبُّ فَلَا يُحَدِّثُ بِهِ إِلَّا مَنْ يُحِبُّ وَإِذَا رَأَى مَا يَكْرَهُ فَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَلْيَتْفُلْ ثَلَاثًا وَلَا يُحَدِّثْ بِهَا أحدا فَإِنَّهَا لن تضره»
ابوقتادہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اچھے خواب اللہ کی طرف سے ہیں ، اور برے خواب شیطان کی طرف سے ہیں ، جب تم میں سے کوئی پسندیدہ چیز دیکھے تو وہ اس کا اظہار اسی سے کرے جسے وہ پسند کرتا ہے ، اور اگر کوئی ناپسندیدہ خواب دیکھے تو وہ اس کے شر سے اور شیطان کے شر سے اللہ کی پناہ طلب کرے اور تین بار (اپنی بائیں جانب) تھتکارے اور اس کے متعلق کسی سے بات نہ کرے ، اس طرح وہ اس کے لیے مضر نہیں ہو گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا رَأَى أَحَدُكُمُ الرُّؤْيَا يَكْرَهُهَا فَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثًا وَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ ثَلَاثًا وَلْيَتَحَوَّلْ عَنْ جَنْبِهِ الَّذِي كانَ عَلَيْهِ» . رَوَاهُ مُسلم
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی ایک ناپسندیدہ خواب دیکھے تو وہ اپنے بائیں طرف تین بار تھوکے اور تین بار شیطان سے اللہ کی پناہ طلب کرے اور وہ جس پہلو پر تھا اسے بدل لے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا اقْتَرَبَ الزَّمَانُ لَمْ يَكَدْ يَكْذِبُ رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ وَرُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ وَمَا كَانَ مِنَ النُّبُوَّةِ فَإِنَّهُ لَا يَكْذِبُ» . قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ: وَأَنَا أَقُولُ: الرُّؤْيَا ثَلَاثٌ: حَدِيثُ النَّفْسِ وَتَخْوِيفُ الشَّيْطَانِ وَبُشْرَى مِنَ اللَّهِ فَمَنْ رَأَى شَيْئًا يَكْرَهُهُ فَلَا يَقُصَّهُ عَلَى أَحَدٍ وَلْيَقُمْ فَلْيُصَلِّ قَالَ: وَكَانَ يُكْرَهُ الْغُلُّ فِي النَّوْمِ وَيُعْجِبُهُمُ الْقَيْدُ وَيُقَال: الْقَيْد ثبات فِي الدّين
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب (قیامت کا) زمانہ قریب آ جائے گا تو قریب نہیں کہ مومن کا خواب جھوٹا ہو گا ، مومن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے ، اور جو چیز نبوت سے ہو وہ جھوٹی نہیں ہوتی ۔‘‘ متفق علیہ ۔\nمحمد بن سرین بیان کرتے ہیں ، میں کہتا ہوں : خواب تین قسم کے ہیں : نفسیاتی خیال ، شیطان کا ڈرانا اور اللہ کی طرف سے بشارت ۔ لہذا جو شخص کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھے تو وہ اسے کسی سے بیان نہ کرے ، اور کھڑا ہو کر نماز پڑھے ۔ انہوں نے فرمایا : وہ خواب میں طوق دیکھنے کو ناپسند کرتے تھے اور پاؤں میں بیڑیاں انہیں پسند تھیں ، اور کہا جاتا ہے کہ بیڑیوں سے مراد دین پر ثابت قدمی ہے ۔\n
قَالَ البُخَارِيّ: رَوَاهُ قَتَادَة وَيُونُس وَهِشَام وَأَبُو هِلَالٍ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَقَالَ يُونُسُ: لَا أَحْسَبُهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقَيْدِ\nوَقَالَ مُسْلِمٌ: لَا أَدْرِي هُوَ فِي الْحَدِيثِ أَمْ قَالَهُ ابْنُ سِيرِينَ؟ وَفِي رِوَايَةٍ نَحْوُهُ وَأَدْرَجَ فِي الْحَدِيثِ قَوْلَهُ: «وَأَكْرَهُ الْغُلَّ. . .» إِلَى تَمام الْكَلَام\n
امام بخاری ؒ نے فرمایا : اسے قتادہ ، یونس ، ہشیم اور ابو ہلال نے ابن سرین کی سند سے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے ، اور یونس نے کہا : میں فی القید کے الفاظ کو نبی ﷺ کی حدیث سے شمار کرتا ہوں ۔ اور امام مسلم ؒ نے فرمایا : مجھے معلوم نہیں کہ وہ الفاظ آپ ﷺ کے ہیں یا ابن سرین کے ہیں اور اسی مثل ایک روایت میں ہے اور اس نے ’’ آپ ناپسند کرتے طوق .....‘‘ سے آخر حدیث تک کے الفاظ حدیث میں داخل کیے ہیں ۔ متفق علیہ ۔
وَعَن جَابر قَالَ: جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ رَأْسِي قُطِعَ قَالَ: فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: «إِذَا لَعِبَ الشَّيْطَانُ بِأَحَدِكُمْ فِي مَنَامِهِ فَلَا يُحَدِّثْ بِهِ النَّاس» . رَوَاهُ مُسلم
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا ، میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میرا سر کاٹ دیا گیا ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ مسکرا دیے اور فرمایا :’’ جب شیطان کسی سے اس کی نیند میں کھیلے تو وہ لوگوں کو نہ بتائے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَأَيْتُ ذَاتَ لَيْلَةٍ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ كَأَنَّا فِي دَارِ عُقْبَةَ بْنِ رَافِعٍ فَأُوتِينَا بِرُطَبٍ مِنْ رُطَبِ ابْنِ طَابٍ فَأَوَّلْتُ أَنَّ الرِّفْعَةَ لَنَا فِي الدُّنْيَا وَالْعَاقِبَةَ فِي الْآخِرَةِ وَأَنَّ دِينَنَا قَدْ طَابَ» . رَوَاهُ مُسلم
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں نے ایک رات خواب میں دیکھا کہ ہم عقبہ بن رافع کے گھر میں ہیں اور ہمارے پاس ابن طاب کی کھجوریں لائی گئیں ، میں نے یہ تاویل کی کہ دنیا میں ہمارے لیے رفعت ہے اور آخرت میں نیک عاقبت ہمارے لیے ہے ، اور ہمارا دین یقیناً کامل و احسن ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
وَعَنْ أَبِي مُوسَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أُهَاجِرُ مِنْ مَكَّةَ إِلَى أَرْضٍ بِهَا نَخْلٌ فَذَهَبَ وَهْلِي إِلَى أَنَّهَا الْيَمَامَةُ أَوْ هَجَرُ فَإِذَا هِيَ الْمَدِينَةُ يَثْرِبُ وَرَأَيْتُ فِي رُؤْيَايَ هَذِهِ: أَنِّي هَزَزْتُ سَيْفًا فَانْقَطَعَ صَدْرُهُ فَإِذَا هُوَ مَا أُصِيبَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ أُحُدٍ ثُمَّ هَزَزْتُهُ أُخْرَى فعادَ أحسنَ مَا كانَ فإِذا هوَ جَاءَ اللَّهُ بِهِ مِنَ الْفَتْحِ وَاجْتِمَاعِ الْمُؤْمِنِينَ
ابوموسی ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مکہ سے کھجوروں کی سرزمین کی طرف ہجرت کر رہا ہوں ، میرا خیال تھا کہ وہ یمامہ ہے یا ہجر ہے ، لیکن وہ (سر زمین) مدینہ ہے جس کا نام یثرب تھا ، اور میں نے اپنے اسی خواب میں دیکھا کہ میں نے اپنی تلوار ہلائی تو اس کا وسط ٹوٹ گیا ، اس سے مراد وہ ہے جو مومنوں کو غزوۂ احد میں تکلیف اٹھانا پڑی ، پھر میں نے دوبارہ اسے ہلایا تو وہ اپنی پہلی حالت سے بھی بہتر ہو گئی ، اس سے مراد وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے (مکہ کی) فتح عطا فرمائی اور مومنوں کو اکٹھا کر دیا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ بِخَزَائِنِ الْأَرْضِ فَوُضِعَ فِي كَفَّيَّ سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ فَكَبُرَا عَلَيَّ فَأُوحِيَ إِلَيَّ أَنِ انْفُخْهُمَا فَنَفَخْتُهُمَا فَذَهَبَا فَأَوَّلْتُهُمَا الْكَذَّابَيْنِ اللَّذَيْنِ أَنَا بَيْنَهُمَا صَاحِبَ صَنْعَاءَ وَصَاحِبَ الْيَمَامَةِ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ: «يُقَالُ لِأَحَدِهِمَا مُسَيْلِمَةُ صَاحِبُ الْيَمَامَةِ وَالْعَنْسِيُّ صَاحِبُ صَنْعَاءَ» لَمْ أَجِدْ هَذِهِ الرِّوَايَةَ فِي (الصَّحِيحَيْنِ)\nوَذكرهَا صَاحب الْجَامِع عَن التِّرْمِذِيّ\n
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اسی اثنا میں کہ میں سو رہا تھا کہ مجھ پر زمین کے خزانے پیش کیے گئے ، میرے ہاتھ میں سونے کے دو کنگن رکھ دیے گئے تو وہ مجھ پر گراں گزرے ، پھر میری طرف وحی کی گئی کہ میں انہیں پھونک ماروں ، میں نے پھونک ماری تو وہ دونوں جاتے رہے ، میں نے ان کی یہ تعبیر کی کہ اس سے مراد وہ دو جھوٹے شخص ہیں ، میں ان کے درمیان ہوں ، ایک (اسود عنسی) صنعاء سے اور ایک (مسیلمہ کذاب) یمامہ سے ۔‘‘\nاور ایک روایت میں ہے :’’ ان دونوں میں سے ایک مسیلمہ یمامہ کا رہنے والا اور عنسی صنعاء کا رہنے والا ۔‘‘ لیکن میں نے یہ روایت صحیحین میں نہیں پائی اور صاحب الجامع نے اسے ترمذی سے روایت کیا ہے ۔ متفق علیہ و الترمذی ۔\n
وَعَنْ أُمِّ الْعَلَاءِ الْأَنْصَارِيَّةِ قَالَتْ: رَأَيْتُ لِعُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ فِي النَّوْمِ عَيْنًا تَجْرِي فَقَصَصْتُهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «ذَلِكِ عَمَلُهُ يُجْرَى لَهُ» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
ام علاء انصاریہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے خواب میں عثمان بن مظعون ؓ کے لیے ایک بہتا چشمہ دیکھا ، میں نے اس کا تذکرہ رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ اس کا عمل ہے جو اس کے لیے جاری کیا گیا ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔