Mishkaat-al-Masabihمشکوٰۃ المصابیح

All 6,333 hadiths in order · Page 192 of 317

3821Mishkaat-al-Masabih

سفر سے واپس آنے پر دعوت کرنے مسنون ہے

وعنه أن النبي صلى الله عليه و سلم لما قدم المدينة نحر جزورا أو بقرة . رواه البخاري

اور حضرت جابر کہتے ہیں کہ نبی ﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے اونٹ یا گائے ذبح کیں (بخاری و مسلم) تشریح اس حدیث سے یہ ثابت ہوا کہ سفر سے واپس آنے کے بعد ضیافت کرنا اور لوگوں کو اپنے یہاں کھانے وغیرہ پر مدعو کرنا مسنون ہے۔

3822Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت کا سفر سے واپس آنے کا وقت

وعن كعب بن مالك قال : كان النبي صلى الله عليه و سلم لا يقدم من سفر إلا نهارا في الضحى فإذا قدم بدأ بالمسجد فصلى فيه ركعتين ثم جلس فيه للناس

اور حضرت کعب ابن مالک کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ چاشت کے وقت کے علاوہ اور کسی وقت سفر سے واپس نہیں آیا کرتے تھے، چناچہ جب آپ ( سفر سے) واپس آتے تو پہلے مسجد میں تشریف لے جاتے اور وہاں بیٹھنے سے پہلے تحیۃ المسجد یا چاشت کی) دو رکعت نماز پڑھتے اور پھر لوگوں سے ملاقات کرنے کے لئے وہاں بیٹھتے۔ ( بخاری ومسلم) تشریح چاشت کے وقت الخ یہ اکثر کے اعتبار سے کہا گیا ہے یعنی چونکہ آپ اکثر وبیشتر چاشت ہی کے وقت واپس تشریف لاتے تھے اس لئے یہ بیان کیا گیا ہے کہ آپ ﷺ چاشت کے وقت کے علاوہ اور وقت واپس نہیں آتے تھے، ورنہ یہ حدیث پہلے گزر چکی ہے کہ آپ ﷺ دن کے ابتدائی حصہ یعنی صبح اور آخری حصہ شام کے وقت ہی سفر سے آیا کرتے تھے، اس سے معلوم ہوا کہ آپ ﷺ صرف صبح ہی کے وقت واپس نہیں آیا کرتے تھے بلکہ شام کے وقت بھی واپس آ جایا کرتے تھے۔

3823Mishkaat-al-Masabih

سفر واپس آنے پر پہلے مسجد میں جانے کا حکم

وعن جابر قال : كنت مع النبي صلى الله عليه و سلم في سفر فلما قدمنا المدينة قال لي : ادخل المسجد فصل فيه ركعتين . رواه البخاري

اور حضرت جابر کہتے ہیں کہ میں ( ایک) سفر میں نبی کریم ﷺ کے ہمراہ تھا، چناچہ جب ہم مدینہ واپس آئے تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ مسجد میں جاؤ اور وہاں دو رکعت نماز پڑھو۔ ( بخاری) تشریح مذکورہ بالا دونوں حدیثوں کے پیش نظر مسافر کا سفر سے واپس آنے پر پہلے مسجد میں جانا آنحضرت ﷺ سے فعلًا بھی ثابت ہوا اور قولًا بھی نیز مذکورہ بالا حکم میں نہ صرف شعائر اللہ کی تعظیم کی طرف اشارہ ہے بلکہ اس طرف بھی اشارہ ہے کہ مسجد گویا اللہ کے گھروں میں سے ایک گھر ہے اور مسجد میں جانے والا گویا اللہ سبحانہ سے ملاقات کرنے والا ہے لہٰذا جو شخص سفر سے واپس آئے اس کے حق میں اس سے بہتر اور کیا بات ہوسکتی ہے۔ کہ وہ سب سے پہلے اللہ کے گھر میں جائے اور اللہ سے ملاقات کرے جس نے اس کو سفر کی آفات سے محفوظ رکھ کر بعافیت اس کے اہل عیال کے درمیان واپس پہنچایا۔

3824Mishkaat-al-Masabih

امت کے حق میں صبح کے وقت کے لئے آنحضرت کی دعاء برکت

عن صخر بن وداعة الغامدي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اللهم بارك لأمتي في بكورها وكان إذا بعث سرية أو جيشا بعثهم من أول النهار وكان صخر تاجرا فكان يبعث تجارته أول النهار فأثرى وكثر ماله . رواه الترمذي وأبو داود والدارمي

حضرت صخر بن وداعہ الغامدی کہتے ہیں کہ ( ایک دن) رسول کریم ﷺ نے یہ فرمایا ( یعنی یوں دعا فرمائی اے اللہ! میری امت کے لئے دن کے ابتدائی حصہ میں برکت عطا فرما، یعنی اگر میری امت کے لوگ دن کے ابتدائی حصہ ( صبح) میں طلب علم میں مشغول ہوں یا اپنے ذریعہ معاش میں منہمک اور یا سفر وغیرہ کریں تو اس میں انہیں برکت حاصل ہو۔ چناچہ آنحضرت ﷺ جب کوئی چھوٹا بڑا لشکر روانہ فرماتے تو اس کو دن کے ابتدائی حصہ میں روانہ فرماتے۔ اور صخرہ جو ایک تاجر ( سوداگر) تھے ( اس دعا کی برکت حاصل کرنے کے پیش نظر) اپنا تجارتی مال دن کے ابتدائی حصہ ہی میں روانہ کرتے تھے، چناچہ وہ مال دار ہوئے اور ان کے مال میں بہت اضافہ ہوا۔ ( ترمذی، ابوداؤد، دارمی )

3825Mishkaat-al-Masabih

رات کے وقت سفر کرنے کا حکم

وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : عليكم بالدلجة فإن الأرض تطوى بالليل . رواه أبو داود

اور حضرت انس کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تم رات کے وقت چلنا اپنے لئے ضروری سمجھو کیونکہ رات کے وقت زمین لپیٹ دی جاتی ہے۔ ( ابوداؤد) تشریح مطلب یہ ہے کہ جب تم کسی سفر کے لئے گھر سے نکلو تو محض دن کے وقت چلنے پر قناعت نہ کرو بلکہ تھوڑا سا رات کے وقت بھی چلا کرو کیونکہ رات میں سفر آسانی کے ساتھ طے ہوتا ہے اور اس خیال سے مسافر کی ہمت سفر پر کوئی بار نہیں ہوتا کہ ابھی میں نے بہت تھوڑا فاصلہ کیا ہے جب کہ حقیقت میں وہ کافی فاصلہ طے کرچکا ہوتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اول تو رات کے وقت چلنے کے علاوہ اور کوئی شغل نہیں ہوتا دوسرے فاصلے کی علامات و نشانات پر نظر نہیں پڑتی اور یہ چیزیں راستہ چلنے والے کی نظر میں سفر کو بھاری کردیتی ہے چناچہ اسی مفہوم کو زمین کے لپیٹ دیئے جانے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس سے یہ واضح ہو کہ یہاں یہ مراد نہیں ہے کہ دن کے وقت بالکل چلو ہی مت، چناچہ دوسری احادیث میں یہ حکم بیان فرمایا گیا ہے کہ اپنا سفر دن کے ابتدائی حصہ اور آخری حصہ میں طے ( کرنے کی کوشش) کرو اور کچھ حصہ رات کے وقت بھی چلو۔

3826Mishkaat-al-Masabih

سفر میں کم سے کم تین آمیوں کا ساتھ ہونا چاہئے

وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : الراكب شيطان والراكبان شيطانان والثلاثة ركب . رواه مالك والترمذي وأبو داود والنسائي

اور حضرت عمرو ابن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ ایک سوار ایک شیطان ہے، دو سوار دو شیطان ہیں اور تین سوار، سوار ہیں۔ ( مالک، ترمذی، ابوداؤد، نسائی) تشریح تین سوار سوار ہیں کا مطلب یہ ہے کہ تین سوار اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کو سوار کہا جائے کیونکہ وہ شیطان کی فریب کاریوں سے محفوظ رہتے ہیں۔ گویا اس طرح ایک یا دو سوار کو سفر کرنے سے منع کیا گیا ہے اور یہ واضح کیا گیا ہے کہ سفر میں کم سے کم تین ساتھیوں کا ہونا ضروری ہے اس لئے کہ تنہا سفر کرنے میں ایک نقصان تو یہ ہے کہ جماعت فوت ہوجاتی ہے اور دوسرے یہ کہ اگر اس کو کوئی ضرورت وحادثہ پیش آجائے تو اس کا کوئی مددگار نہیں ہوتا اور وہ ہر معاملے میں درماندہ رہتا ہے، اسی طرح اگر محض دو ساتھی سفر کریں تو اس صورت میں اگر خدانخواستہ یہ بات پیش آجائے کہ ایک ساتھی بیمار ہوجائے یا مرجائے تو دوسرا ساتھی سخت مضطر اور پریشان ہوگا اور یہ چیز شیطان کی خوشی کا باعث ہے یا یہ مراد ہے کہ اگر کوئی شخص تنہا سفر کرے یا سفر کے دو ہی ساتھی ہوں تو شیطان کو بڑی آسانی کے ساتھ یہ موقع ملتا ہے کہ وہ ان کو گمراہ کرے اور برائی میں مبتلا کرے، اسی بات کو زیادہ سے زیادہ اہمیت کے ساتھ بیان کرنے کے لئے ایک سوار یا دو سوار کو شیطان فرما دیا گیا ہے۔ بہر حال حدیث کا حاصل یہ ہے کہ سفر میں کم سے کم تین آدمی ہونے چاہئیں تاکہ اول تو وہ جماعت سے نماز ادا کریں اور دوسرے یہ کہ اگر ایک شخص کو دوران سفر کسی ضرورت سے کہیں جانا پڑے تو دو باقی رہیں اور آپس میں ایک دوسرے کی دلبستگی و اطمینان کا ذریعہ بنیں اور اگر اس شخص کے آنے میں تاخیر ہوجائے تو ان دونوں میں سے ایک اس کی خبر لینے اور تاخیر کا سبب جاننے کے لئے چلا جائے اور دوسرا سامان وغیرہ کی دیکھ بھال کرتا رہے۔

3827Mishkaat-al-Masabih

سفر میں ایک سے زائد لوگ ہونے کی صورت میں کسی ایک رفیق سفر کو امیر بنا لیا جائے

وعن أبي سعيد الخدري أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إذا كان ثلاثة في سفر فليؤمروا أحدهم . رواه أبو داود

اور ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ اگر ( مثلا سفر میں) تین شخص ہوں تو ان میں سے کسی ایک کو امیر بنا لینا چاہئے۔ ( ابوداؤد ) تشریح تین شخص سے مراد جماعت ہے کہ جس کا ادنیٰ درجہ تین ہے، ویسے یہ حکم اس صورت کے متعلق بھی ہے جب کہ دو آدمی بھی ساتھ سفر کر رہے ہوں، یہاں تین کے ذکر پر اکتفا اس لئے کیا گیا ہے کہ پہلے ایک حدیث میں بیان فرمایا جا چکا ہے کہ دو سوار شیطان ہوتے ہیں۔ بہرحال حدیث کا حاصل یہ ہے کہ اگر کسی سفر میں ایک سے زائد لوگ ہوں تو اس صورت میں ان میں سے ایک شخص کو اپنا امیر و سردار مقرر کرلیا جائے جو سب سے افضل ہو اور کسی کو امیر و سردار بنا لینے کا حکم اس لئے دیا گیا ہے کہ اگر دوران سفر کسی معاملہ میں آپس میں کوئی نزاعی صورت پیدا ہوجائے تو اس امیر و سردار کی طرف رجوع کرلیا جائے اور وہ جو فیصلہ کرے اس کو تسلیم کر کے اپنے نزاع کو ختم کردیا جائے۔ امیر و سردار کے لئے یہ ضروری ہوگا کہ وہ اپنے تمام رفقاء سفر کے حق میں خیر خواہ، مہربان اور غمگسار ہو اور اپنی سرداری کو اپنے لئے محض وجہ افتخار سمجھ کر کسی بڑائی میں مبتلا نہ ہو بلکہ حقیقی معنی میں اپنے آپ کو اس کا خادم سمجھے جیسا کہ فرمایا گیا ہے۔ حدیث (سید القوم فی السفر خادمہم) یعنی کسی جماعت کا سردار اصل میں اپنی جماعت کا خدمت گزار ہوتا ہے۔

3828Mishkaat-al-Masabih

بہترین رفقاء سفر

وعن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : خير الصحابة أربعة وخير السرايا أربعمائة وخير الجيوش أربعة آلاف ولن يغلب اثنا عشر ألفا من قلة . رواه الترمذي وأبو داود والدارمي وقال الترمذي : هذا حديث غريب

اور حضرت ابن عباس نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا (مثلًا کسی سفر کے) بہترین لشکر وہ ہے جس میں چار سو (مجاہد ہوں ) اور بڑے لشکروں میں بہترین لشکر وہ ہے جس میں بارہ ہزار (مجاہد) ہوں اور بارہ ہزار (مجاہد) کم ہونے کی وجہ سے کبھی مغلوب نہیں ہوتے (ترمذی، ابوداؤد، دارمی) نیز ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔ تشریح چار رفقاء اور ساتھیوں کو بہترین اس اعتبار سے فرمایا گیا ہے کہ فرض کیجئے اگر ان چاروں میں سے کوئی ایک بیمار ہوجائے اور وہ اپنی زندگی سے مایوس ہو کر اپنے ان تین ساتھیوں میں سے کسی ایک ساتھی کو کوئی وصیت کرے تو باقی دو ساتھی اس کی وصیت کے گواہ ہوجائیں۔ ویسے علماء نے لکھا ہے پانچ ساتھی، چار ساتھیوں سے بہتر ہوتے ہیں بلکہ پانچ سے بھی جتنے زیادہ ہوں گے اتنے ہی بہتر ہوں گے اور یہاں حدیث میں چار کا ذکر کر کے گویا ادنیٰ درجہ بیان کیا گیا ہے۔ مغلوب نہیں ہوتے کا مطلب یہ ہے کہ بارہ ہزار مجاہدین کے لشکر کی طاقت ایک بڑی طاقت ہوتی ہے اتنے زیادہ مجاہدین دشمن کے مقابلے پر بھی مغلوب نہیں ہوں گے اور اگر مغلوب بھی ہوں گے تو تعداد کی کمی کی وجہ سے تو ہوں گے نہیں کیونکہ بارہ ہزار کا عدد کمی کی حد سے نکل گیا ہے البتہ کسی اور سبب سے مغلوب ہوں گے۔ جیسے اپنی تعداد و طاقت پر بیجا اتراہٹ اور غرور وتکبر وغیرہ۔

3829Mishkaat-al-Masabih

اپنے رفقاء سفر کے ساتھ آنحضرت ﷺ کا معمول

وعن جابر قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يتخلف في المسير فيزجي الضعيف ويردف ويدعو لهم . رواه أبو داود

اور حضرت جابر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ (سفر کے دوران) چلتے وقت (تواضع و انکسار کی وجہ سے اور دوسروں کی مدد وخبر گیری کے پیش نظر قافلے سے) پیچھے رہا کرتے تھے چناچہ آپ ﷺ کمزور (کی سواری) کو ہانکا کرتے (تاکہ وہ ہمراہیوں کے ساتھ مل جائے) اور جو کمزور و ضعیف شخص سواری سے محروم ہونے کی وجہ سے پیدل چلتا ہو اس کو پیچھے سوار کرلیتے اور ان (قافلہ والوں) کے لئے دعا کرتے رہتے۔ (ابو داؤد)

3830Mishkaat-al-Masabih

منزل پر پہنچ کر تمام رفقاء سفر کو ایک جگہ ٹھہرنا چاہئے

وعن أبي ثعلبة الخشني قال : كان الناس إذا نزلوا منزلا تفرقوا في الشعاب والأودية فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن تفرقكم في هذه الشعاب والأودية إنما ذلكم من الشيطان . فلم ينزلوا بعد ذلك منزلا إلا انضم بعضهم إلى بعض حتى يقال : لو بسط عليهم ثوب لعمهم . رواه أبو داود

اور حضرت ثعلبہ خشنی کہتے ہیں کہ (پہلے عام طور پر ایسا ہوتا تھا کہ لوگ یعنی صحابہ) جب کسی منزل پر اترتے تو الگ الگ ہو کر پہاڑی دروں اور وادیوں میں پھیل جاتے تھے (یعنی کوئی کہیں اترتا اور کوئی کہیں) چناچہ رسول کریم ﷺ نے (اس طریقہ کو ختم کرنے کے لئے بایں طور پر فرمایا) کہ سمجھ لو تمہارا اس طرح ان دروں اور وادیوں میں الگ الگ ہو کر اترنا محض شیطان کی طرف سے ہے (یعنی یہ شیطان کے فریب کے سبب سے ہے کہ وہ تمہیں الگ الگ کردینا چاہتا ہے تاکہ دشمن تم پر قابو پالے اور تمہیں نقصان اور آزار پہنچائے اس ارشاد کے بعد لوگ جب بھی کسی منزل پر اترتے تو آپس میں اتنے پاس پاس ٹھہرتے کہ کہا جانے لگا کہ اگر ان سب پر ایک ہی کپڑا پھیلا دیا جائے تو وہ سب کو ڈھانک لے۔ (ابو داؤد )

3831Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کے کمال انکسار کا مظہر ایک واقعہ

وعن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال : كنا يوم بدر كل ثلاثة على بعير فكان أبو لبابة وعلي بن أبي طالب زميلي رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : فكانت إذا جاءت عقبة رسول الله صلى الله عليه و سلم قالا : نحن نمشي عنك قال : ما أنتما بأقوى مني وما أنا بأغنى عن الأجر منكما . رواه في شرح السنة

اور حضرت عبداللہ ابن مسعود کہتے ہیں کہ بدر کے دن (یعنی جنگ بدر میں موقع پر) ہماری یہ حالت تھی کہ ہم میں سے ہر تین آدمی ایک اونٹ پر سوار ہوتے تھے یعنی تین تین آدمیوں میں ایک اونٹ تھا کہ وہ تینوں باری باری ایک اونٹ پر سوار ہوتے تھے) اور ابولبابہ اور حضرت علی رسول کریم ﷺ کے اونٹ میں شریک سفر تھے! حضرت عبداللہ نے بیان کیا کہ صورت حال یہ تھی کہ جب (اس اونٹ پر) رسول کریم ﷺ کے اترنے کی باری آتی تو ابولبابہ اور حضرت علی عرض کرتے کہ آپ ﷺ کے بدلے ہم پیدل چلیں گے۔ (آپ ﷺ اونٹ ہی پر سوار رہیں) لیکن آنحضرت ﷺ فرماتے کہ نہ تو تم (اس دنیا کی مجھ سے زیادہ طاقت رکھتے ہو (کہ بس تم پیدل چلنے کی طاقت رکھتے ہو اور میں پیدل نہیں چل سکتا) اور نہ میں (آخرت کا) زیادہ ثواب حاصل کرنے میں تم سے بےپرواہ ہوں (یعنی میں آخرت کے اجر وثواب کا تم سے کم محتاج نہیں ہوں۔ (شرح السنۃ ) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ کمال انکسار و تواضح کے کس بلند مقام پر تھے اور یہ کہ آپ ﷺ اپنے رفقاء اور ساتھیوں کے حق میں کسی قدر مہربان اور خیرخواہ تھے کہ ان کی راحت کو کبھی ترجیح نہیں دیتے تھے نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر آنحضرت ﷺ اللہ کے نبی اور رسول ہونے کی حیثیت سے معصوم عن الخطا تھے اور اللہ کے محبوب بندے تھے مگر اس کے باوجود آپ ﷺ بارگاہ الوہیت میں اپنی عبدیت کے اقرار کے طور پر اللہ کی طرف سے اپنے احتیاج اور اس کے حضور میں اپنی مکمل بیچارگی کو ظاہر فرمایا کرتے تھے۔

3832Mishkaat-al-Masabih

سواری کے جانوروں کے بارے میں ایک حکم

وعن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لا تتخذوا ظهور دوابكم منابر فإن الله تعالى إنما سخرها لكم لتبلغكم إلى بلد لم تكونوا بالغيه إلا بشق الأنفس وجعل لكم الأرض فعليها فاقضوا حاجاتكم . رواه أبو داود

اور حضرت ابوہریرہ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جانوروں کی پشت کو منبر نہ بناؤ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جانوروں کو محض اس لئے تمہارے تابع کیا ہے کہ وہ تمہیں ان شہروں اور علاقوں میں پہنچا دیں جہاں تم (پیدل چلنے کے ذریعہ) جانی مشقت و محنت کے ساتھ ہی پہنچ سکتے تھے) یعنی جانوروں سے مقصود ان پر سواری کرنا اور ان کے ذریعہ اپنے مقصد کو حاصل کرنا ہے لہٰذا ان کو ایذاء پہنچانا روا نہیں ہے) اور اللہ تعالیٰ نے زمین کو تمہارے لئے (اسی غرض سے) پیدا کیا ہے لہٰذا تم اس پر کاموں اور اپنی حاجتوں کو پورا کرو۔ (ابو داؤد) تشریح جانوروں کی پشت کو منبر نہ بناؤ کا مطلب یہ ہے کہ باتیں کرنے کے لئے جانور کی پشت پر سوار ہو کے نہ کھڑے رہو بلکہ اگر کسی سے بات کرنی ہے تو اس کی پشت پر سے اتر کر اپنی حاجت پوری کرو اور پھر اس پر سوار ہو، لیکن یہ حکم اس صورت میں ہے جب کہ سواری کے علاوہ جانور کی اور کوئی حاجت یا اس کے ساتھ کوئی اور صحیح غرض متعلق نہ ہو، ہاں اگر اس جانور سے کوئی اور صحیح غرض متعلق ہو گو اس میں کوئی مضائقہ نہیں جیسا کہ کہ یہ ثابت ہوا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حجۃ الوداع میں عرفہ کے دن اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا تھا۔ حدیث کے آخری جزو کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو اس لئے پیدا کیا کہ تم اس پر اٹھو بیٹھو اور کھڑے ہو اور اس کے علاوہ اپنی ضرورتیں پوری کرو، لہٰذا اپنے کام زمین پر ہی کرو سواری کے جانور کی پشت پر سوائے سوار ہونے کے کہ وہ تمہیں منزل مقصود پر پہنچا دے اور کوئی کام نہ کرو۔

3833Mishkaat-al-Masabih

صحابہ کے نزدیک سواری کے جانوروں کی دیکھ بھال کی اہمیت

وعن أنس قال : كنا إذا نزلنا منزلا لا نسبح حتى نحل الرحال . رواه أبو داود

اور حضرت انس کہتے ہیں کہ جب ہم (دوران سفر یا سفر کے بعد) کسی منزل اترتے تو اس وقت تک نفل نہ پڑھتے تھے جب کہ جانوروں پر سے سامان نہ کھول لیا جاتا۔ (ابو داؤد) تشریح سبحہ اور تسبیح کا اطلاق اکثر نفل نماز پر ہوتا ہے لیکن بعض حضرات کہتے ہیں کہ یہاں نماز چاشت ہی مراد ہے کہ اس زمانے میں عام طور پر منزلوں پر اترنے کا وقت یہی چاشت کا وقت ہوتا ہے تھا۔ بہرحال حدیث کا مطلب یہ بتانا ہے کہ باوجودیکہ صحابہ نماز کا بہت زیادہ اہتمام و خیال رکھتے تھے لیکن وہ اپنے جانوروں کی دیکھ بھال کے اہتمام کو بھی پہلے ملحوظ رکھتے تھے۔

3834Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کی حق شناسی

وعن بريدة قال : بينما رسول الله صلى الله عليه و سلم يمشي إذا جاءه رجل معه حمار فقال : يا رسول الله اركب وتأخر الرجل فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا أنت أحق بصدر دابتك إلا أن تجعله لي . قال : جعلته لك فركب . رواه الترمذي وأبو داود

اور حضرت بریدہ کہتے کہ رسول کریم ﷺ (ایک سفر میں) پیدل راستہ طے کر رہے تھے کہ اس دوران اچانک ایک شخص اپنے گدھے کے ساتھ، یعنی اس پر سوار) آپ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! (میرے گدھے پر) سوار ہوجایئے۔ اور (یہ کہہ کر) وہ شخص گدھے کی پشت پر) پیچھے سرک گیا (تا کہ آنحضرت ﷺ آگے بیٹھ جائیں) لیکن آپ نے فرمایا کہ میں آگے نہیں بیٹھوں گا کیونکہ (اپنی سواری کے) جانور پر آگے بیٹھنے کے تم ہی مستحق ہوا الاّ یہ کہ تم مجھے اس کا حقدار بنادو (یعنی اگرچہ اس شخص کا پیچھے سرکنا اسی لئے تھا۔ کہ گویا اس نے آپ کو آگے بیٹھے رہنے کا حقدار بنادیا تھا مگر آنحضرت ﷺ نے کمال احتیاط کے پیش نظر اس پر واضح کیا کہ میں تمہاری سواری پر آگے اسی وقت بیٹھ سکتا ہوں جب کہ تم صریح الفاظ میں مجھ سے آگے بیٹھنے کے لئے کہو، اس شخص نے کہا کہ (میں صراحت کے ساتھ یہ کہتا ہوں کہ) آپ کو میں نے اس کا حقدار بنادیا۔ اس کے بعد آنحضرت ﷺ (اس کے آگے بیٹھ گئے۔ (ترمذی، ابوداؤد) تشریح اس حدیث سے جہاں آنحضرت ﷺ کا یہ احساس انصاف وحق شناسی ظاہر ہوا کہ آپ ﷺ نے اس وقت تک اس شخص کی سواری پر آگے بیٹھنے سے انکار کردیا جب تک کہ اس نے صراحت کے ساتھ اپنی سواری پر آگے بیٹھنے کے اپنے حق کو آپ کی طرف منتقل نہ کردیا وہیں آنحضرت ﷺ کا وصف تواضع و انکسار بھی پورے کمال کے ساتھ ثابت ہوا کہ آپ ﷺ نے اس شخص کے پیچھے بیٹھنے میں کوئی عار محسوس نہیں کیا اور اس پر راضی ہوئے۔

3835Mishkaat-al-Masabih

شیطانی اونٹ اور شیطانی گھر

وعن سعيد بن أبي هند عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : تكون إبل للشياطين وبيوت للشياطين . فأما إبل الشياطين فقد رأيتها : يخرج أحدكم بنجيبات معه قد أسمنها فلا يعلو بعيرا منها ويمر بأخيه قد انقطع به فلا يحمله وأما بيوت الشياطين فلم أرها كان سعيد يقول : لا أراها إلا هذه الأقفاص التي يستر الناس بالديباج . رواه أبو داود

اور حضرت سعید ابن ابوہند (تابعی) حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے یہ بیان کیا کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا (کچھ) اونٹ شیطانوں کے لئے ہوجاتے ہیں اور (کچھ) گھر شیطانوں کے لئے ہوجاتے ہیں۔ چناچہ جو اونٹ شیطانوں کے لئے ہوجاتے ہیں ان کو میں نے دیکھا ہے (جیسے) تم سے کوئی شخص عمدہ قسم کی اونٹنیوں کو لے کر نکلتا ہے جن کو اس نے خوب فربہ کیا لیکن ان میں سے کسی اونٹ پر سوار نہیں ہوتا ہے اور جب (کسی سفر میں) اپنے اس مسلمان بھائی کے ساتھ راستہ طے کرتا ہے جو (اپنی کمزوری اور سواری سے محرومی کی وجہ سے) چلتے چلتے تھک گیا ہے تو اس کو (بھی) اس اونٹ پر سوار نہیں کرتا۔ اور جو گھر شیطانوں کے لئے ہوجاتے ہیں ان کو میں نے نہیں دیکھا ہے۔ حدیث کے راوی حضرت سعید کہتے ہیں کہ میرا گمان یہ ہے کہ وہ گھر (جو شیطانوں کے لئے ہوجاتے ہیں) وہ پنجرے ہیں جن کو لوگ ریشمی کپڑوں (کے پردوں سے) ڈھانکتے ہیں۔ (ابو داؤد ) تشریح جو اونٹ شیطانوں کے ہوجاتے ہیں الخ کا حاصل یہ ہے کہ اونٹوں کا اصل مقصد تو یہ ہے کہ ان کو سواری اور بار برداری کے مصرف میں لایا جائے اور اللہ نے اس کو اسی لئے پیدا کیا ہے کہ ان کے ذریعہ اپنی بھی سفری ضروریات پوری کی جائیں اور دوسرے ضرورت مند مسلمانوں کو بھی ان سے نفع پہنچایا جائے، لیکن اگر کوئی شخص ان کو خوب موٹا تازہ کر کے محض اظہار تفاخر اور نام آوری کے لئے رکھتا ہے اور ان کو اپنے سفر میں اپنی یا اپنے کسی ضرورت مند مسلمان بھائی کے رفع احتیاج کے لئے نہیں بلکہ کو تل رکھتا ہے تو اس طرح اس نے اس اونٹ کو نہ تو اپنے مصرف میں لا کر اور نہ کسی تھکے ہوئے مسلمان بھائی کی راحت کا ذریعہ بنا کر گویا شیطان کی اطاعت کی اور شیطان کو خوش کیا اس لئے وہ اونٹ گویا شیطان کے لئے ہوگیا، اس سے معلوم ہوا کہ کو تل گھوڑا ممنوع ہے اور گویا وہ شیطانی گھوڑا ہوتا ہے۔ بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ حدیث کا جزء (فاما ابل الشیطین) (چنانچہ جو اونٹ شیطانوں کے لئے ہوتے ہیں الخ) دراصل حدیث کے راوی یعنی حضرت ابوہریرہ ؓ کے اپنے الفاظ ہیں اور رسول اللہ ﷺ کی اصل حدیث صرف ماقبل کی مجمل عبارت ہے یعنی حدیث (یکون ابل للشیاطین وبیوت للشیاطین) اور بعض حضرات نے یہ کہا ہے کہ (جیسا کہ ترجمہ سے ظاہر ہوا) اصل حدیث فلم ارھا (ان کو میں نے نہیں دیکھا ہے) تک ہے! اسی قول کو ملا علی قاری نے بھی پسند کیا ہے۔ شیطانی گھروں سے مراد یا تو عماریاں اور ہودج ہیں جن کو بعض لوگ ریشمی کپڑوں سے آراستہ پیراستہ رکھتے ہیں یا وہ گھر ہیں جن کو ریشمی کپڑوں کی دیوار گیریوں کے ساتھ مزین کیا گیا ہو، ظاہر ہے جہاں خود ان ہودجوں یا گھروں کی ممانعت مقصود نہیں ہے بلکہ ان کو ریشمی کپڑوں کے ساتھ سجانے اور مزین کرنے کے سبب سے ان کی برائی بیان کی گئی ہے جس میں نہ صرف مال کی بربادی اور اسراف ہی ہے بلکہ اظہار تفاخر اور ریا بھی ہے۔

3836Mishkaat-al-Masabih

کہیں پڑاؤ ڈالو تو وہاں نہ زیادہ جگہ گھیرو اور نہ راستہ روکو

وعن سهل بن معاذ عن أبيه قال : غزونا مع النبي صلى الله عليه و سلم فضيق الناس المنازل وقطعوا الطريق فبعث نبي الله صلى الله عليه و سلم مناديا ينادي في الناس : إن من ضيق منزلا أو قطع طريقا فلا جهاد له . رواه أبو داود

اور حضرت سہل ابن معاذ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ جب ہم رسول کریم ﷺ کے ہمراہ جہاد میں گئے (اور منزل پر قیام کیا) تو لوگوں نے (اس) منزل کی (ساری جگہوں) کو تنگ کردیا اور راستہ کو کاٹ دیا (یعنی بعض لوگوں نے بلاضرورت یا ضرورت سے زیادہ جگہوں پر قبضہ کرلیا جسکی وجہ سے دوسرے لوگوں کو جگہ کی تنگی ہوگئی اس طرح راستہ بھی تنگ ہوگیا جس سے آنے جانے والوں کو پریشانی ہونے لگی ( چناچہ یہ دیکھ کر نبی کریم ﷺ نے ایک منادی کرنے والے کو لوگوں کے درمیان بھیج کر یہ اعلان کرایا کہ جس شخص نے منزل کی ( جگہوں) کو تنگ کیا یا راستے کو کاٹا تو لوگوں کو ضرر و تکلیف پہنچانے کی وجہ سے) اس کو جہاد کا ثواب نہیں ملے گا۔ (ابو داؤد)

3837Mishkaat-al-Masabih

سفر سے واپسی کا بہترین وقت

وعن جابر رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن أحسن ما دخل الرجل أهله إذا قدم من سفر أول الليل . رواه أبو داود

اور حضرت جابر نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا سفر سے واپس آنے والے مرد کے لئے اپنے گھر والوں کے پاس پہنچنے کا بہترین وقت رات کا ابتدائی حصہ ہے۔ (ابو داؤد) تشریح یہ اس صورت میں ہے جب کہ قریب کا سفر ہو چناچہ پہلے جو یہ گذرا ہے کہ سفر سے واپسی میں رات کے وقت اپنے گھر نہ آنا چاہئے تو اس کا تعلق دور کے سفر سے ہے! اور نووی یہ کہتے ہیں کہ اگر دور کا بھی سفر ہو اور اس کے آنے کی اطلاع اس کی گھر والوں کو دن میں مل چکی ہو تو رات کے وقت آنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ بعض حضرات یہ فرماتے ہیں کہ گھر والوں کے پاس پہنچنے سے گھر والی کے پاس آنا یعنی جماع مراد ہے کیونکہ مسافر کا جنسی جذبہ بہت زیادہ بیدار ہوجاتا ہے لہٰذا جب وہ سفر سے واپس ہو کر رات کے ابتدائی حصہ ہی میں جماع سے فارغ ہوجائے گا تو پھر سکون و آرام کے ساتھ سوئے گا بھی اور بیوی کا حق بھی جلدی ادا ہوجائے گا۔

3838Mishkaat-al-Masabih

سفر کے دوران رات میں آنحضرت ﷺ کے آرام کرنے کی کیفیت

عن أبي قتادة قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا كان في سفر فعرس بليل اضطجع على يمينه وإذا عرس قبيل الصبح نصب ذراعه ووضع رأسه على كفه . رواه مسلم

اور حضرت ابوقتادہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ جب سفر میں ہوتے تو (کسی پڑاؤ پر) رات کے آخری حصہ میں (یعنی طلوع سحر سے) پہلے اترتے اور دائیں کروٹ پر لیٹے رہتے اور جب صبح سے کچھ پہلے اترتے تو اپنا (داہنا) ہاتھ کر کے اس کی ہتھیلی پر اپنا سر رکھ کر لیٹتے (یعنی کچھ دیر کے لئے اس انداز میں آرام فرماتے تاکہ نیند غالب نہ آجائے۔ (مسلم )

3839Mishkaat-al-Masabih

صبح کے وقت سفر شروع کرنے کی فضیلت

وعن ابن عباس قال : بعث النبي صلى الله عليه و سلم عبد الله بن رواحة في سرية فوافق ذلك يوم الجمعة فغدا أصحابه وقال : أتخلف وأصلي مع رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم ألحقهم فلما صلى مع رسول الله صلى الله عليه و سلم رآه فقال : ما منعك أن تغدو مع أصحابك ؟ فقال : أردت أن أصلي معك ثم ألحقهم فقال : لو أنفقت ما في الأرض جميعا ما أدركت فضل غدوتهم . رواه الترمذي

اور حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے عبداللہ بن رواحہ (جہاد) کے لئے ایک چھوٹے لشکر کے ساتھ روانہ کیا، اتفاق سے وہ جمعہ کا دن تھا جس ( میں آنحضرت ﷺ نے ان کو جہاد کے لئے جانے کا حکم دیا تھا) چناچہ ان کے ساتھی (یعنی لشکر کے لوگ) صبح کے وقت روانہ ہوئے لیکن عبداللہ نے (اپنے دل میں سوچا یا کسی ساتھی سے کہا کہ میں بعد میں روانہ ہوں گا میں (پہلے یہاں مدینہ میں) رسول کریم ﷺ کے ہمراہ جمعہ کی نماز پڑھوں گا پھر لشکر والوں سے جا ملوں گا۔ جب عبداللہ رسول کریم ﷺ کے ہمراہ جمعہ کے نماز پڑھ چکے اور آنحضرت ﷺ نے ان کو دیکھا (کہ وہ ابھی یہاں ہی موجود ہیں) تو فرمایا کہ تمہیں صبح کے وقت اپنے ساتھیوں کے ساتھ جانے سے کس چیز نے روکا؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے یہ چاہا (میں جمعہ کی نماز آپ کے ساتھ پڑھ لوں اور پھر اپنے ساتھیوں سے جا ملوں۔ آنحضرت ﷺ نے (یہ سن کر) فرمایا تم روئے زمین پر ساری چیزوں کو بھی خرچ کرو تو صبح کے وقت جانے والے اپنے ساتھیوں کے برابر ثواب حاصل نہیں کرسکو گے۔ (ترمذی)۔

3840Mishkaat-al-Masabih

چیتے کی کھال استعمال کرنا ممنوع ہے

وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تصحب الملائكة رفقة فيها جلد نمر . رواه أبو داود

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اس قافلے کے ساتھ رحمت کے فرشتے نہیں ہوتے جس میں چیتے کی کھال ہو۔ تشریح یعنی چیتے کی کھال پر سوار کو بیٹھنا یا اس کو استعمال کرنا ممنوع ہے کیونکہ اس سے تکبر کی شان پیدا ہوتی ہے۔ (ابو داؤد)