Mishkaat-al-Masabihمشکوٰۃ المصابیح

All 6,333 hadiths in order · Page 191 of 317

3801Mishkaat-al-Masabih

گھوڑوں کے بارے میں چند ہدایات

وعن أبي وهب الجشمي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ارتبطوا الخيل وامسحوا بنواصيها وأعجازها أو قال : كفالها وقلدوها ولا تقلدوها الأوتار . رواه أبو داود والنسائي

اور حضرت وہب جشمی کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ گھوڑوں کو باندھ کر رکھو، ان کی پیشانیوں اور ان کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا کرو۔ یا ( اعجازھا کی جگہ) اکمالھا فرمایا ( اور دونوں لفظوں کے ایک ہی معنی ہیں ( یعنی پیٹھ) ان کی گردن میں کنڈا ( پٹا) باندھو لیکن ان کی گردن میں کمان کی تانت نہ باندھو۔ ( ابوداؤد، و نسائی) تشریح باندھ رکھو یہ گھوڑوں کو جہاد کے لئے فربہ اور چاق وچوبند رکھنے سے کنایہ ہے! یعنی اس کے ذریعہ گویا یہ حکم دیا گیا ہے کہ گھوڑوں کی اچھی طرح دیکھ بھال رکھو اور ان کو خوب کھلاؤ پلاؤ تاکہ وہ موٹے تازے رہیں اور جہاد میں اچھی طرح کام آئیں۔ ہاتھ پھیرنے کا مقصد یہ ہے کہ ان کو گرد و غبار سے صاف ستھرا رکھا جائے اور ان کی فربہی معلوم ہوتی رہے نیز اس کے ذریعہ گھوڑوں کو انس و راحت بھی حاصل ہوتی ہے۔ زمانہ جاہلیت میں اہل عرب کا معمول تھا کہ وہ اپنے گھوڑوں کی گردنوں میں کمان کے تانت باندھ دیا کرتے تھے ان کا عقیدہ تھا کہ اس کی وجہ سے گھوڑے نظر بد سے محفوظ رہتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے تاکہ یہ واضح ہوجائے کہ یہ چیز تقدیر کو بدل نہیں سکتی۔ یا اس لئے منع فرمایا کہ تانت باندھنے سے ان کا گلا نہ گھٹے۔

3802Mishkaat-al-Masabih

اہل بیت رسول ﷺ کو تین مخصوص احکام

وعن ابن عباس قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم عبدا مأمورا ما اختصنا دون الناس بشيء إلا بثلاث : أمرنا أن نسبغ الوضوء وأن لا نأكل الصدقة وأن لا ننزي حمارا على فرس . رواه الترمذي والنسائي

اور حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ ایک مامور پر بندے تھے آپ ﷺ نے ہم کو ( یعنی اپنے اہل بیت کو) دوسرے لوگوں سے الگ کر کے تین باتوں کے علاوں اور کسی بات کا مخصوص طور پر حکم نہیں دیا اور وہ ( تین باتیں جن کا خاص طور پر اہل بیت کو حکم دیا) یہ ہیں کہ ١ ہم وضو کو پورا کریں ٢ ہم صدقہ کا مال نہ کھائیں ٣ ہم گھوڑیوں پر گدھے نہ چھوڑیں۔ ( ترمذی و نسائی) تشریح رسول کریم ﷺ ایک مامور بندے تھے کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کو اللہ کی طرف سے جس بات کا حکم ہوتا تھا وہی کرتے تھے اپنی طرف سے نہ کوئی قانون بناتے تھے اور نہ اپنی خواہش نفس کے تحت کوئی حکم دیتے تھے یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ کسی بھی طبقہ و جماعت یا کسی بھی شخص و خاندان کے لئے خواہ وہ آپ کے نزدیک کتنا ہی محبوب کیوں نہ ہو الگ سے کسی چیز کا حکم دے کر اس کو دوسرے لوگوں پر ترجیح نہیں دیتے تھے، یہاں تک کہ اہل بیت جو اخص واقرب تھے ان کے لئے بھی احکام میں کسی امتیاز وخصوصیت کو روا نہیں رکھتے تھے جیسا کہ حضرت ابن عباس نے وضاحت کی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ہم اہل بیت کو بھی کسی چیز کا مخصوص طور پر حکم نہیں دیا ہاں تین چیزیں ایسی ہیں جن کے بارے میں اہل بیت کو بھی خصوصی حکم دیا گیا۔ گھوڑیوں ( سے خچر پیدا کرنے کے لئے) پر گدھے چھوڑنے سے اس لئے منع فرمایا کہ اول تو اس سے نسل کو قطع کرنا لازم آتا ہے دوسرے یہ ایک اچھی چیز کے بدلے ایک گھٹیا چیز چاہنا ہے کیونکہ گھوڑے کے مقابلہ میں خچر ایک ادنیٰ جانور ہے جو نہ گھوڑے کی طرح کار آمد ہوتا ہے اور نہ جہاد وغیرہ کے کام آتا ہے، لہٰذا ایسا کرنا مکروہ ہے۔ اس موقع پر ایک سوال اٹھتا ہے کہ صدقے کا مال کھانے کا مسئلہ تو بالکل صاف ہے کہ اس سے صرف اہل بیت کو منع کیا گیا ہے باقی اس امت اس کے حکم میں داخل نہیں ہے لیکن باقی دو حکم ( یعنی وضور کو پورا کرنا اور گھوڑیوں پر گدھے نہ چھوڑنا) تو ایسے ہیں جن میں پوری امت داخل ہے کہ سارے ہی مسلمانوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وضو کو پورا کرو ( یعنی اچھی طرح) کریں اور اپنی گھوڑیوں پر گدھے نہ چھوڑیں پھر ان دونوں چیزوں کو صرف اہل بیت کے ساتھ مخصوص کرنا کیا معنی رکھتا ہے؟ جواب یہ ہے کہ اس سے مراد ان دونوں چیزوں کو اہل بیت پر واجب و لازم کرنا ہے، یا یہ کہ ان احکام کو اہل بیت کے حق میں زیادہ سے زیادہ اہمیت اور تاکید کے ساتھ نافذ کرنا مقصد ہے۔ یہ حدیث اپنے مفہوم کے اعتبار سے شیعوں کے اس نظریہ کی واضح تردید کرتی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اپنے اہل بیت کو کچھ ایسے مخصوص علوم سے نوازا تھا جن میں باقی امت کا کوئی حصہ نہیں تھا! اسی طرح وہ حدیث بھی شیعوں کے اس نظریہ کی تردید میں ایک مضبوط دلیل ہے۔ جو پیچھے گزر چکی ہے۔ اور جس میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بارے میں منقول ہے۔ (ہل عندکم شیئی لیس فی القرآن فقال والذی لفق الحبۃ وبرأ النسمۃ ما عندنا الا ما فی القرآن الا فہما یعطی الرجل فی کتابہ وما فی الصحیفۃ۔ الحدیث۔ ( جب حضرت علی ؓ سے یہ پوچھا گیا کہ) کیا آپ کے پاس ایسا کوئی علم ہے جو قرآن میں موجود نہیں ہے تو انہوں نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس نے دانہ کو چیرا اور جان کو پیدا کیا قرآن میں جو علوم ہیں ان کے علاوہ ہمارے پاس اور کچھ نہیں ہے ہاں مجھے بیشک کتاب اللہ کا وہ فہم ملا جو کسی انسان کو عطا ہوتا ہے ( اور میرے پاس کچھ) وہ چیزیں ( مسائل) ہیں جو اس صحیفہ میں لکھے ہوئے ہیں۔ آخر حدیث تک۔

3803Mishkaat-al-Masabih

گھوڑی پر گدھا چھوڑنے کی ممانعت

وعن علي رضي الله عنه قال : أهديت رسول الله صلى الله عليه و سلم بغلة فركبها فقال علي : لو حملنا الحمير على الخيل فكانت لنا مثل هذه ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إنما يفعل ذلك الذين لا يعلمون . رواه أبو داود والنسائي

اور حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ ( ایک موقع پر) رسول کریم ﷺ کی خدمت میں ایک خچر بطور ہدیہ پیش کیا گیا تو آپ ﷺ اس پر سوار ہوئے، حضرت علی نے عرض کیا کہ اگر ہم گھوڑیوں پر گدھے چھوڑیں تو ہمیں (بھی) ایسے خچر مل جائیں؟ رسول کریم ﷺ نے یہ ( سن کر) فرمایا کہ یہ کام وہ لوگ کرتے ہیں جو ناواقف ہوتے ہیں۔ ( ابوداؤد، نسائی) تشریح آنحضرت ﷺ کے ارشاد کا مطلب یہ تھا کہ یہ غیر دانشمندانہ کام تو وہی لوگ کرسکتے ہیں جو یہ نہیں جانتے کہ اس ( گھوڑیوں پر گدھے چھوڑنے) سے بہتر گھوڑی پر گھوڑا ہی چھوڑنا ہے کیونکہ جو فوائد گھوڑی سے اس کی نسل پیدا ہونے کی صورت میں حاصل ہوتے ہیں وہ اس کے پیٹ سے خچر پیدا ہونے سے حاصل نہیں ہوسکتے ہیں۔ یا یہ مراد ہے کہ یہ کام وہی نادان کرسکتے ہیں جو شریعت کے احکام سے واقف نہیں ہیں اور ان کو اس چیز کا راستہ نظر نہیں آتا جو ان کے حق میں اولیٰ اور بہتر ہے۔ اس حدیث میں گویا گھوڑی پر گدھا چھوڑنے کی ممانعت مذکور ہے اور یہ ممانعت نہی کراہت کے طور پر ہے۔

3804Mishkaat-al-Masabih

تلوار کو تھوڑی بہت چاندی سے مزین کرنا جائز ہے

وعن أنس قال : كانت قبيعة سيف رسول الله صلى الله عليه و سلم من فضة . رواه الترمذي وأبو داود والنسائي والدارمي (2/382) 3885 - [ 25 ] ( لم تتم دراسته ) وعن هود بن عبد الله بن سعد عن جده مزيدة قال : دخل رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم الفتح وعلى سيفه ذهب وفضة . رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريب

اور حضرت انس کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کی تلوار کے قبضے کی ٹوپی چاندی کی تھی۔ ( ترمذی، ابوداؤد، نسائی، دارمی) تشریح شرح السنۃ میں لکھا ہے کہ یہ حدیث اس پر دلالت کرتی ہے کہ تلوار کو تھوڑی بہت چاندی کے ساتھ مزین و آراستہ کرنا جائز ہے۔ یہی حکم پیٹی کا بھی ہے۔ البتہ ان میں سے کسی میں بھی سونے کے استعمال کی اجازت نہیں ہے۔ اور حضرت ہود ابن عبداللہ بن سعد اپنے دادا سے کہ جن کا نام مزیدہ تھا نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ فتح کے دن ( مکہ میں) داخل ہوئے تو اس وقت آپ کے پاس جو تلوار تھی اس پر سونے اور چاندی کا کام تھا۔ امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے کہا یہ حدیث غریب۔ تشریح اس حدیث کی بنیاد پر ہتھیار و اسلحہ جات میں سونے کے استعمال کو جائز قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ اس حدیث کی سند مضبوط نہیں ہے۔

3805Mishkaat-al-Masabih

جنگ میں حفاظت کے زیادہ سے زیادہ سامان استعمال کرنا توکل کے منافی نہیں ہے

وعن السائب بن يزيد : أن النبي صلى الله عليه و سلم كان عليه يوم أحد درعان قد ظاهر بينهما . رواه أبو داود وابن ماجه

اور حضرت سائب ابن یزید سے روایت ہے کہ غزوہ احد کے دن نبی کریم ﷺ ( کے جسم مبارک) پر دو زرہیں تھیں آپ ﷺ نے ایک دوسرے پر پہن رکھا تھا۔ ( ابوداؤد، ابن ماجہ) تشریح اس حدیث میں اس طرف اشارہ ہے کہ جنگ کے کار آمد زیادہ سے زیادہ سامان فراہم کرنا اور میدان جنگ میں اپنی حفاظت کے لئے حتی الوسعت زیادہ سے زیادہ چیزوں کو اختیار کرنا جائز ہے۔ اور یہ توکل کے منافی نہیں ہے۔

3806Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کے جھنڈے کا ذکر

وعن ابن عباس قال : كانت راية نبي الله صلى الله عليه و سلم سوداء ولواؤه أبيض . رواه الترمذي وابن ماجه (2/383) 3888 - [ 28 ] ( لم تتم دراسته ) وعن موسى بن عبيدة مولى محمد بن القاسم قال : بعثني محمد بن القاسم إلى البراء بن عازب يسأله عن راية رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : كانت سوداء مربعة من نمرة . رواه أحمد والترمذي وأبو داود (2/383) 3889 - [ 29 ] ( لم تتم دراسته ) وعن جابر : أن النبي صلى الله عليه و سلم دخل مكة ولواؤه أبيض . رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه

اور حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کا بڑا جھنڈا سیاہ رنگ کا تھا اور چھوٹا سفید رنگ کا۔ ( ترمذی، ابن ماجہ) اور حضرت موسیٰ ابن عبیدہ جو حضرت محمد ابن قاسم ( تابعی) کے آزاد کردہ غلام تھے کہتے ہیں کہ ( ایک دن) حضرت محمد ابن قاسم نے مجھے حضرت براء ابن عازب ( صحبی) کے پاس بھیجا تاکہ یہ دریافت ہو سکے کہ رسول کریم ﷺ کا جھنڈا کیسا تھا۔ چناچہ حضرت براء نے فرمایا کہ ( آنحضرت ﷺ کا) جھنڈا سیاہ رنگ کا تھا ( اس کا کپڑا چوکور اور نمرہ کی طرح تھا۔ ( احمد، ترمذی، ابوداؤد) تشریح چونکہ جھنڈے کے کپڑے کو نمرہ کی طرح بیان کیا گیا ہے اس لئے سیاہ رنگ کا تھا سے مراد یہ ہے کہ اس کا اکثر حصہ سیاہ رنگ کا تھا جس کی وجہ سے وہ دور سے سیاہ ہی معلوم ہوتا تھا نہ کہ خالص سیاہ رنگ کا تھا۔ نمرہ اس کملی یا چادر کو کہتے ہیں جس میں سیاہ اور سفید دھاریاں اور خط ہوں۔ ویسے لغت میں نمر مشہور درندہ چیتے کو کہتے ہیں اسی لئے ایسے کپڑے کو چیتے سے تشبیہ دی ہے کہ اسی کھال پر سیاہ وسفیددھاریاں ہوتی ہیں۔ اور حضرت جابر کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ( فتح مکہ کے دن) مکہ میں داخل ہوئے تو اس وقت آپ ﷺ کے ساتھ سفید جھنڈا تھا۔ (ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ )

3807Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کی نظر میں گھوڑوں کی قدر وقیمت

عن أنس قال : لم يكن شيء أحب إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم بعد النساء من الخيل . رواه النسائي

حضرت انس کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کی نظر میں عورتوں کے بعد ( جہاد کے مقاصد کے لئے) گھوڑوں سے زیادہ محبوب و پسندیدہ اور کوئی چیز نہیں ہوتی تھی۔ ( نسائی )

3808Mishkaat-al-Masabih

جنگ میں حقیقی طاقت حق تعالیٰ کی مدد ونصرت سے حاصل ہوتی ہے

وعن علي قال : كانت بيد رسول الله صلى الله عليه و سلم قوس عربية فرأى رجلا بيده قوس فارسية قال : ما هذه ؟ ألقها وعليكم بهذه وأشباهها ورماح القنا فإنها يؤيد الله لكم بها في الدين ويمكن لكم في البلاد . رواه ابن ماجه

اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کہتے ہیں ( کسی میدان میں یا ویسے ہی کسی موقع پر) رسول کریم ﷺ کے ہاتھ میں عربی کمان تھی، جب آپ ﷺ نے ایک شخص ( صحابی) کے ہاتھ میں فارسی ( ایرانی کمان دیکھی تو فرمایا کہ یہ کیا ہے؟ اس کو پھینک دو، تمہیں ایسی ( یعنی عربی) کمان رکھنی چاہئے۔ اور اسی طرح ( یعنی اس وضع کی) رکھنی چاہئے۔ نیز تمہیں کامل نیزے رکھنے چاہئیں، یقینا ان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ دین ( کو سر بلند رکھنے) میں تمہاری مدد کرے گا اور ( دشمنوں کے) شہروں میں تمہیں جما دے گا۔ ( ابن ماجہ) تشریح گویا ان صحابی نے جب یہ دیکھا ہوگا کہ فارسی ( ایرانی) کمان زیادہ مضبوط اور زیادہ سخت ہوتی ہے تو انہوں نے اس کمان کو عربی کمان پر ترجیح دی، نیز پھر انہوں نے یہ گمان کیا ہوگا کہ ایسی کمان جنگ میں بہت کار آمد ہوتی ہے اور دشمنوں کے شہروں کو فتح کرنے کا مضبوط ذریعہ ہے، چناچہ آنحضرت ﷺ نے ان پر واضح کیا کہ تمہارا جو خیال ہے وہ صحیح نہیں ہے بلکہ آلات حرب خواہ کسی قسم کے ہوں اور دیکھنے میں کتنے ہی مضبوط و عمدہ ہوں حقیقت میں میدان جنگ کی کامیابی کا ان پر انحصار نہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کی مرضی پر موقوف ہے کہ وہ جس کو چاہتا ہے اپنے دین کی سر بلندی کی جدوجہد میں مدد ونصرت دے کر کامیاب وکامران کرتا ہے۔ حقیقی مدد ونصرت اسی کی طرف سے اور اسی کی قوت وقدرت کے ساتھ ہوتی ہے، نہ تمہاری قوت و طاقت سے دین کی سر بلندی میں نصرت حاصل ہوتی ہے اور نہ محض تمہارے سازوسامان اور آلات حرب کی مضبوطی و عمدگی سے دشمنوں کے مقابلے پر مدد ملتی ہے۔

3809Mishkaat-al-Masabih

آداب سفر کا بیان

اس باب میں احادیث نقل ہوں گی جن سے سفر کے آداب اور طور طریقے معلوم ہوں گے، سفر خواہ جہاد کا ہو یا حج کا یا ان کے علاوہ اور کسی طرح کا۔ واضح رہے کہ سفر کے آداب بہت ہیں بعض تو اس طرح کے ہیں کہ ان کا تعلق سفر سے شروع کرنے سے پہلے سے ہے اور بعض آداب اس نوعیت کے ہیں کہ ان کا لحاظ سفر کے دوران ہونا چاہئے اور بعض آداب ایسے ہیں جو سفر سے واپس آنے پر ملحوظ رہنے چاہئیں، ان میں سے کچھ کے بارے میں اس باب میں منقول احادیث اور ان کی تشریح ات سے معلوم ہوگا لیکن اس کی سب سے عمدہ تفصیل احیاء العلوم میں مذکور ہے۔

3810Mishkaat-al-Masabih

جہاد کے لئے جمعرات کے دن نکلنا آنحضرت ﷺ کے نزدیک پسندیدہ تھا

عن كعب بن مالك : أن النبي صلى الله عليه و سلم خرج يوم الخميس في غزوة تبوك وكان يحب أن يخرج يوم الخميس . رواه البخاري

حضرت کعب ابن مالک راوی ہیں کہ نبی کریم غزوہ تبوک کے لئے جمعرات کے دن روانہ ہوئے اور آنحضرت ﷺ اس کو پسند فرماتے تھے کہ جہاد کے سفر کی ابتداء جمعرات کے دن سے کریں۔ ( بخاری) تشریح تبوک ایک جگہ کا نام ہے جو مدینہ اور دمشق کے درمیانی راستہ پر خیبر اور العلاء کے خط پر واقع ہے، یہ پہلے شام کے علاقہ میں تھا حجاز کی حدود میں ہے۔ مدینہ سے اس کا فاصلہ ٤٦٥ میل ہے، اس وقت یہ جگہ مدینہ سے ایک مہینہ کی مسافت کے بقدر تھی، آنحضرت ﷺ ٩ ھ میں اس جگہ پر فوج لے کر گئے تھے اسی کو غزوہ تبوک کہا جاتا ہے، یہ آنحضرت ﷺ کا آخری غزوہ تھا۔ ابوداؤد نے حضرت کعب ابن مالک کی جو روایت نقل کی ہے اس میں یوں ہے کہ ایسا کم ہوتا تھا کہ آنحضرت ﷺ جہاد کے لئے اپنے سفر کی ابتداء جمعرات کے دن سے نہ کرتے ہوں۔ آنحضرت ﷺ جہاد کے سفر میں جمعرات ہی کے دن روانہ ہونا کیوں پسند کرتے تھے؟ اس میں کئی احتمال ہیں ایک تو یہ کہ چونکہ بندوں کے نیک اعمال جمعرات ہی کے دن سے اللہ تعالیٰ تک اٹھائے جاتے ہیں اس لئے آنحضرت ﷺ یہ چاہا کرتے تھے کہ جہاد کا عمل آج ہی اللہ تعالیٰ تک اٹھایا جائے کہ وہ افضل اعمال ہے اور دوسرے یہ کہ خمیس لشکر کو بھی کہتے ہیں ( اور جمعرات کا دن بھی یوم الخمیس کہلاتا ہے) لہٰذا آپ جمعرات کے دن سفر جہاد کی ابتداء کر کے یہ فال نیک لیتے تھے کہ جس لشکر کے مقابلہ پر جا رہے ہیں اس پر فتح حاصل ہوگی۔ بہر کیف اس سلسلے میں سنت نبوی ﷺ کے مطابق جو چیز ہے وہ یہی ہے کہ جب جہاد کے لئے سفر اختیار کیا جائے تو جمعرات کے دن روانگی عمل میں لائی جائے لیکن اصل مدار استخارہ اور تفویض اور توکل پر ہے۔ یہ واضح رہے کہ سلف ( صحابہ) سے یہ قطعًا منقول نہیں ہے کہ وہ سفر کی ابتداء کرنے کے سلسلے میں نجوم کا اتباع کرتے ہوں اور روانگی سفر کے لئے وہی ساعت اختیار کرتے ہوں جو حوتش کا حساب ظاہر کرتا ہو! حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بارے میں منقول ہے کہ ایک دن ان کے پاس بیٹھے ہوئے ایک شخص سے کہا کہ تم سفر میں فلاں روز جانا، فلاں روز روانہ نہ ہونا، یہ سن کر حضرت علی نے اس شخص سے فرمایا کہ اگر اس وقت میرے ہاتھ میں تلوار ہوتی تو میں ( اتنی غلط اور خلاف اسلام بات کہنے پر) تمہاری گردن اڑا دیتا، ہم حضرت ابوالقاسم محمد ﷺ کی خدمت میں (برابر) حاضر رہا کرتے تھے، ہم نے تو کبھی بھی آپ کی مجلس میں یہ ذکر ہوتے نہیں سنا کہ فلاں روز سفر کرنا چاہئے اور فلاں روز سفر نہ کرنا چاہئے۔ اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے قمر در عقرب اور محاق کے سلسلے میں جو کچھ روایت کیا جاتا ہے وہ پایہ صحت کو پہنچا ہوا نہیں ہے۔

3811Mishkaat-al-Masabih

تنہا سفر کرنے کی ممانعت

وعن عبد الله بن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لو يعلم الناس ما في الوحدة ما أعلم ما سار راكب بليل وحده . رواه البخاري

اور حضرت عبداللہ ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اگر لوگ اس چیز کو جو تنہا سفر کرنے سے پیش آتی ہے اتنا جان لیں جتنا میں جانتا ہوں تو کوئی سوار رات میں کبھی سفر ( کرنے کی ہمت) نہ کرے۔ ( بخاری) تشریح اس چیز سے دینی اور دنیاوی نقصانات مراد ہیں۔ چناچہ دینی نقصان تو یہ ہے کہ تنہائی کی وجہ سے نماز کی جماعت میسر نہیں ہوتی اور دنیوی نقصان یہ ہے کہ کوئی غم خوار و مددگار نہیں ہوتا کہ اگر کوئی ضرورت یا کوئی حادثہ پیش آئے تو اس سے مدد مل سکے۔ سوار اور رات کی قید اس لئے لگائی گئی ہے کہ سوار کو پیادہ کی بہ نسبت زیادہ خطرہ رہتا ہے اور خصوصًا رات میں۔

3812Mishkaat-al-Masabih

جس قافلہ میں کتا اور گھنٹال ہوتا ہے اس کے ساتھ رحمت کے رشتے نہیں ہوتے

وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تصحب الملائكة رفقة فيها كلب ولا جرس . رواه مسلم

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اس قافلہ کے ساتھ فرشتے نہیں ہوتے جس میں کتا اور گھنٹال ہو۔ ( مسلم) تشریح فرشتے سے کتبہ یعنی اعمال لکھنے والے فرشتے اور حفظ یعنی حفاظت کرنے والے مراد نہیں ہیں بلکہ رحمت کے فرشتے مراد ہیں۔ کتے سے مراد وہ کتا ہے جو پاسبانی کے لئے نہ ہو، لہٰذا پاسبانی اور مویشیوں کی حفاظت کے لئے کتا رکھنا مباح ہے۔ جرس ( گھنٹال) ان گھنٹیوں اور گھنگرو وں کو کہتے ہیں جو جانوروں کے گلے میں باندھی جاتی ہے۔ اس ( جرس) کے ممنوع ہونے کا سبب یہ ہے کہ وہ ناقوس کی مشابہت رکھتا ہے یا اس لئے ممنوع ہے کہ یا ان کے لٹکانے والی چیزوں میں سے ہے جن کی آواز کی ناپسندیدگی و کر اہت کی وجہ سے ان کا لٹکانا ممنوع ہے۔ چناچہ اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے جو آگے آرہی ہے اور جس میں جرس کو مزامیر الشیطان کہا گیا ہے۔ نیز شرح السنۃ میں یہ روایت مذکور ہے کہ ایک دن حضرت عائشہ ؓ کے پاس ایک لڑکی آئی جس کے پاؤں میں جھانجھیں یا گھنگرو تھے، حضرت عائشہ نے کہا کہ میرے پاس سے وہ چیز ہٹاؤ جو ملائکہ کو دور کرنے والی ہے نیز منقول ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ہر جرس کے ساتھ شیطان ہوتا ہے۔

3813Mishkaat-al-Masabih

گھنگرو اور گھنٹیاں شیطانی باجہ ہیں۔

وعنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : الجرس مزامير الشيطان . رواه مسلم

اور حضرت ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جرس ( یعنی گھنگرو اور گھنٹی) مزامیر شیطان ( یعنی شیطانی باجہ) ہے۔ (مسلم) تشریح مزامیر دراصل مزمار کی جمع ہے اور مزمار بانسری کو کہتے ہیں جو بجائی جاتی ہے، نیز زمر اور تزمیر بانسری کے ساتھ گانے کو کہتے ہیں۔ مزامیر بلفظ جمع اس لئے فرمایا گیا ہے کہ اس کی آواز میں اس طرح کا تسلسل ہوتا ہے کہ وہ منقطع نہیں ہوتی گویا اس آواز کی ہر لے اور ہر سلسلہ ایک مزمار ہے۔ نیز جرس کو مزامیر شیطان اس وجہ سے فرمایا گیا ہے کہ وہ انسان کو ذکر واستغراق اور مشغولیت عبادت سے باز رکھتا ہے۔

3814Mishkaat-al-Masabih

اونٹ کے گلے میں تانت کا پٹا باندھنے کی ممانعت

وعن أبي بشير الأنصاري : أنه كان مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في بعض أسفاره فأرسل رسول الله صلى الله عليه و سلم رسولا : لا تبقين في رقبة بغير قلادة من وتر أو قلادة إلا قطعت

اور حضرت ابوبشیر انصاری سے روایت ہے کہ وہ کسی سفر میں رسول کریم ﷺ کے ہمراہ تھے، تو ( وہ بیان کرتے ہیں کہ اس سفر کے موقع پر) رسول کریم ﷺ نے ایک شخص کو قافلہ کے اندر اس حکم کا اعلان کرنے کے لئے بھیجا کہ کسی اونٹ کی گردن میں کمان کی تانت کے قلادے ( پٹے) کو باقی نہ رکھا جائے۔ فرمایا کہ قلادے کو باقی نہ رکھا جائے بلکہ کاٹ ڈالا جائے۔ ( بخاری ومسلم) تشریح یا یہ فرمایا کہ یہ دراصل راوی کا شک ہے کہ آنحضرت ﷺ نے (قلادۃ من وتر) یعنی کمان کی تانت کا قلادہ فرمایا تھا یا صرف قلادہ فرمایا تھا۔ قلادے کاٹ دینے کا حکم اس لئے فرمایا کہ لوگ اس میں گھنگرو اور گھنٹیاں باندھ دیتے تھے اور یہ چیز مزامیر الشیطان ہے جیسا کہ پچھلی حدیث میں گزرا، یا اس لئے منع فرمایا کہ بعض کمزور عقیدہ لوگ کمان کی تانت میں منکے ( مالے کے دانے) وغیرہ باندھ کر اور اس کا قلادہ ( پٹا) بنا کر جانوروں کے گلے میں ڈال دیا کرتے تھے اور یہ گمان رکھتے تھے کہ اس کے ذریعہ جانور آفات وغیرہ سے محفوظ رہیں گے، لہٰذا آنحضرت ﷺ نے اس چیز سے منع فرمایا کیونکہ ایسا کوئی بھی ذریعہ اللہ تعالیٰ کے حکم و فیصلہ اور تقدیر کے لکھے کو ٹال نہیں سکتا۔

3815Mishkaat-al-Masabih

جانوروں پر سفر کرینکے بارے میں چند ہدایات

وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا سافرتم في الخصب فأعطوا الإبل حقها من الأرض وإذا سافرتم في السنة فأسرعوا عليها السير وإذا عرستم بالليل فاجتنبوا الطريق فإنها طرق الدواب ومأوى الهوام بالليل . وفي رواية : إذا سافرتم في السنة فبادروا بها نقيها . رواه مسلم

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب تم ارزانی کے زمانے میں ( اونٹوں پر) سفر کرو تو ان اونٹوں کو ان کا زمین ( سے کھانے) کا حق دو ( یعنی گھاس کھانے کا موقع دو بایں طور کہ سفر کے دوران ان کو تھوڑی دیر کے بعد چرنے کے لئے چھوڑ دیا کرو تاکہ وہ پیٹ بھر کر چریں اور تیز چلیں) اور جب تم قحط سالی کے زمانے میں سفر کرو تو ان پر جلدی سفر کرو ( یعنی سفر کے دوران راستہ میں تاخیر نہ کرو تاکہ اونٹ پوری خوراک نہ ملنے کی وجہ سے ضعف ونقاہت میں مبتلا ہونے سے پہلے تمہیں منزل مقصود پر پہنچائیں) نیز جب تم کہیں رات میں پڑاؤ ڈالو تو راستے پر پڑاؤ نہ ڈالو کیونکہ ان پر چوپائے چلتے ہیں اور وہ موذی ( زہریلے) جانوروں ( جیسے سانپ وبچھو وغیرہ) کا مسکن اور ان کی گزر گاہیں ہیں) اور ایک روایت میں یوں ہے کہ جب تم قحط سالی کے زمانے ( اونٹوں پر) سفر کرو تو تیزی کے ساتھ سفر طے کرو جب کہ اونٹوں میں گودا ( یعنی بدن کی طاقت) موجود ہو۔ ( مسلم )

3816Mishkaat-al-Masabih

ضرورت مند رفیق کی خبر گیری کرو

وعن أبي سعيد الخدري قال : بينما نحن في سفر مع رسول الله صلى الله عليه و سلم إذ جاءه رجل على راحلة فجعل يضرب يمينا وشمالا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من كان معه فضل ظهر فليعد به على من لا ظهر له ومن كان له فضل زاد فليعد به على من لا زاد له قال : فذكر من أصناف المال حتى رأينا أنه لا حق لأحد منا في فضل . رواه مسلم

اور حضرت ابوسعید خدری کہتے ہیں کہ ایک موقع پر جب کہ ہم ایک سفر میں رسول کریم ﷺ کے ہمراہ تھے اچانک ایک شخص آنحضرت ﷺ کے پاس اونٹ پر آیا اور اونٹ کو دائیں بائیں پھیرنے موڑنے لگا، چناچہ یہ ( دیکھ کر) رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کے پاس ( اپنی ضرورت سے) زائد سواری ہو اس کو چاہئے کہ وہ سواری اس شخص کو دے دے جس کے پاس سورای نہیں ہے اور اس شخص کے پاس اپنی ضرورت سے زائد کھانے پینے کا سامان ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ کھانے پینے کا سامان اس شخص کو دے جس کے پاس کھانے پینے کا سامان نہیں ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد آنحضرت ﷺ نے مال اور چیزوں کی اقسام کو ذکر کیا ( یعنی آپ نے چیزوں کا نام لے کر فرمایا کہ جس کے پاس فلاں چیز اور فلاں چیز جیسے کپڑا وغیرہ اپنی حاجت سے زائد ہو تو اس کو اس شخص پر خرچ کیا جانا چاہئے جس کے پاس وہ چیز نہ ہو) یہاں تک کہ ( آپ کی ترغیب و نصیحت سے) ہمیں احساس ہوگیا کہ ہم میں سے کسی کا اپنی اس چیز پر کوئی حق نہیں ہے جو اس کے پاس اس کی ضرورت سے زائد ہے ( بلکہ اس چیز کا حقیقی مستحق وہ شخص ہے جو اس وقت اس چیز سے محروم ہے۔ ( مسلم) تشریح دائیں بائیں پھیرنے موڑنے لگا کا مطلب یہ تو یہ ہے کہ اس کا اونٹ اتنا تھک گیا تھا یا پوری خوراک نہ ملنے کی وجہ سے اتنا لاعز ہوگیا تھا کہ وہ شخص اس اونٹ کو کسی ایک جگہ پر کھڑا کردینے پر قادر نہیں ہو رہا تھا بلکہ کبھی اس کو دائیں موڑ دیتا تھا اور کبھی بائیں گھما دیتا تھا۔ یا مطلب ہے کہ وہ شخص اپنی آنکھوں کو چاروں طرف پھیرتا تھا اور ان کو دائیں بائیں گھما کر یہ دیکھتا تھا کہ کہیں سے اس کو وہ چیزیں مل جائیں جو اس کی ضرورت اور حاجتوں کو پورا کردیں۔ اس صورت میں حاصل یہ ہوگا کہ اس شخص کے پاس نہ تو سواری کے لئے کوئی مناسب انتظام تھا اور نہ اس کے ساتھ کھانے پینے اور اوڑھنے بچھونے کا کوئی سامان تھا، اس لئے آنحضرت ﷺ نے اس کی اس بےسروسامانی کی طرف لوگوں کو متوجہ کیا اور پھر ترغیب دلائی کہ وہ اس ضرورت مند اور درماندہ کی خبر گیری کریں۔

3817Mishkaat-al-Masabih

مقصد سفر پورا ہوجانے پر گھر لوٹنے میں تاخیر نہ کرو

وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : السفر قطعة من العذاب يمنع أحدكم نومه وطعامه وشرابه فإذا قضى نهمه من وجهه فليعجل إلى أهله

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ سفر عذاب کے ایک ٹکڑا ہے جو تمہیں نہ تو ( آرام و راحت سے) سونے دیتا ہے اور نہ ( ڈھنگ سے) کھانے پینے دیتا ہے، لہذا جب تم میں سے کوئی شخص ( کہیں سفر میں جائے اور) اپنے سفر کی غرض کو پورا کرے ( یعنی جس مقصد کے لئے سفر کیا ہے وہ مقصد پورا ہوجائے) تو اس کو چاہئے کہ اپنے گھر والوں کے پاس واپس آجانے میں جلدی کرے۔ (بخاری ومسلم ) تشریح سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے کا مطلب یہ ہے کہ سفر اپنی صورت کے اعتبار سے جہنم کے عذاب کے انواع میں سے ایک نوع ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے آیت (سارھقہ صعودا )۔ جیسے بھی جسمانی تکلیف اور روحانی اذیت کے اعتبار سے کسی شخص کے حق میں سفر، پریشانیوں اور صعوبتوں کا ذریعہ ہونے سے کم نہیں ہوتا۔ خصوصًا اس دور میں جب کہ آج کی طرح سفر کے تیز رفتار اور اطمینان بخش ذرائع نہیں تھے، لوگ سفر کے دوران کیسی کیسی مشقتیں برداشت کرتے تھے۔ اور کیسی کیسی مصیبتوں سے دو چار ہوتے تھے اس کا اندازہ بھی آج کے دور میں نہیں لگایا جاسکتا۔ حدیث میں سفر کی بطور خاص دو پریشانیوں کا جو ذکر کیا گیا ہے کہ سفر کے دوران نہ تو وقت پر اور طبیعت کے موافق کھانا پینا ملتا ہے اور نہ آرام وچین کی نیند نصیب ہوتی ہے وہ محض مثال کے طور پر ہے ورنہ سفر میں تو نہ معلوم کتنے ہی دینی اور دنیاوی امور فوت ہوتے ہیں جیسے جمعہ و جماعت کی نماز سے محرومی رہتی ہے، اہل بیت اور دیگر قرابت داروں کے حقوق بروقت ادا نہیں ہوتے اور گرمی سردی کی مشقت و تکلیف اور اسی طرح کی دوسری پریشانیاں برداشت کرنا پڑتی ہیں۔

3818Mishkaat-al-Masabih

مسافر کا اپنے گھر واپس آنے پر بچوں کے ذریعہ استقبال

وعن عبد الله بن جعفر قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا قدم من سفر تلقي بصبيان أهل بيته وإنه قدم من سفر فسبق بي إليه فحملني بين يديه ثم جيء بأحد ابني فاطمة فأردفه خلفه قال : فأدخلنا المدينة ثلاثة على دابة . رواه مسلموعن أنس : أنه أقبل هو وأبو طلحة مع رسول الله صلى الله عليه و سلم ومع النبي صلى الله عليه و سلم صفية مردفها على راحلته . رواه البخاري

اور حضرت عبداللہ ابن جعفر کہتے ہیں کہ جب رسول کریم ﷺ سفر سے تشریف لاتے تو آپ ﷺ کے اہل بیت کے بچوں کے ذریعہ آپ کا استقبال کیا جاتا ( یعنی آپ ﷺ کے اہل بیت اپنے بچوں کو آپ ﷺ کی خدمت میں لے جاتے) چناچہ ( ایک روز) آنحضرت ﷺ جب سفر سے واپس تشریف لائے ( اور مدینہ کے قریب پہنچے) تو مجھ کو آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا گیا، آپ ﷺ نے مجھے اٹھا لیا اور اپنے آگے سوار کرلیا پھر حضرت فاطمہ کے دونوں بیٹوں میں سے ایک بیٹے ( یعنی حضرت حسن یا حضرت حسین کو لایا گیا) تو آپ ﷺ نے ان کو اپنے پیچھے بٹھا لیا اور پھر ( اس طرح ہم تینوں ایک جانور پر ( سوار) مدینہ میں داخل ہوئے۔ ( مسلم) اور حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ وہ ( انس) اور حضرت طلحہ رسول کریم ﷺ کے ہمراہ ( خیبر کے سفر سے) واپس آئے تو اس موقع پر حضرت صفیہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھیں اور آپ ﷺ نے ان کو اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھا رکھا تھا۔ ( بخاری) تشریح یہ خیبر سے واپس ہونے کے وقت کا واقعہ ہے کہ حضرت صفیہ خیبر کے مال غنیمت میں سے تھیں اور پہلے حضرت دحیہ کلبی کے ہاتھ لگی تھیں جن سے آنحضرت ﷺ نے ان کو لے لیا اور پھر انہیں آزاد کر کے ان سے نکاح کرلیا اور سواری پر اپنے ساتھ بٹھا کر مدینہ لائے۔

3819Mishkaat-al-Masabih

سفر سے آنحضرت ﷺ کی واپسی کا وقت

وعنه قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم لا يطرق أهله ليلا وكان لا يدخل إلا غدوة أو عشية

اور حضرت انس کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ اپنے گھر والوں کے پاس ( سفر سے) رات کے وقت واپس نہیں آیا کرتے تھے بلکہ دن کے ابتدائی حصہ میں یعنی صبح کے وقت، یا آخری حصہ میں یعنی شام کے وقت (گھر میں) داخل ہوا کرتے تھے۔ ( بخاری، مسلم )

3820Mishkaat-al-Masabih

رات کے وقت سفر سے واپس نہ آنے کی ہدایت

وعن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا طال أحدكم الغيبة فلا يطرق أهله ليلا وعنه أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إذا دخلت ليلا فلا تدخل على أهلك حتى تستحد المغيبة وتمتشط الشعثة

اور حضرت جابر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کسی کی غیر حاضری کا عرصہ طویل ہوجائے ( یعنی اس کو سفر میں زیادہ دن لگ جائیں) تو وہ ( سفر سے واپسی کے وقت) اپنے ( گھر میں) رات کے وقت داخل نہ ہو۔ ( بخاری ومسلم) تشریح شرح السنۃ میں ایک یہ روایت منقول ہے کہ حضرت ابن عباس نے بیان کیا کہ آنحضرت ﷺ کی طرف سے اس ممانعت کے بعد ( کا واقعہ ہے کہ) دو آدمیوں نے ( آنحضرت ﷺ کے اس حکم پر عمل نہیں کیا اور) اپنے سفر سے واپسی پر گھر میں داخل ہونے کے لئے رات ہی کا وقت اختیار کیا تو ( جب وہ اپنے اپنے گھر میں داخل ہوئے تو وہاں) ان میں سے ہر ایک نے اپنی بیوں کے ساتھ غیر مردوں کو پایا۔ اور حضرت جابر کہتے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ اگر تم ( سفر سے واپسی پر اپنے شہر وآبادی میں) رات کے وقت پہنچو تو اپنے گھر میں داخل نہ ہو جب تک کہ بیوی زیر ناف بالوں کو صاف نہ کرلے اور وہ بیوی کہ جس کے بال پراگندہ ہوں کنگھی چوٹی نہ کرلے۔ (بخاری ومسلم ) تشریح ان احادیث کا مطلب یہ واضح کرنا ہے کہ سفر سے واپسی کے لئے رات کا وقت اختیار کرنا نا مناسب نہیں ہے بہتر یہ ہے کہ سفر سے واپسی کی ابتداء ایسے وقت کی جائے کہ اپنے گھر والوں کے پاس رات ہونے سے پہلے پہنچ جائے تاکہ رات کے وقت گھر پہنچنے کی وجہ سے گھر والے بےآرام نہ ہوں اور ان کی نیندوں میں خلل نہ پڑے اور اگر اپنے شہر اور اپنی آبادی میں پہنچتے رات ہوجائے تو ایسی صورت میں بہتر یہ ہے کہ گھر میں داخل ہونے کے لئے اس وقت تک صبر و انتظار کرے جب تک کہ اس کی بیوی کو اس کا آنا معلوم نہ ہوجائے اور وہ بناؤ سنگار کے ذریعہ اپنے آپ کو آراستہ اور جنسی اختلاط کے لئے تیار نہ کرلے تاکہ شوہر جب اس کے پاس پہنچ جائے تو سفر کی تکان اور جدائی کی پزمردگی، جسمانی انبساط ونشاط میں تبدیل ہوجائے۔ نووی کہتے ہیں کہ یہ چیزیں ( یعنی رات کے وقت سفر سے واپسی اور کچھ دیر انتظار وصبر کئے بغیر گھر میں داخل ہوجانا) اس شخص کے حق میں مکروہ ہیں جو لمبے سفر سے واپس آ رہا ہو، ہاں جو شخص کسی چھوٹے سفر سے واپس آ رہا ہو یا اس کے گھر والوں کو رات کے وقت اس کے پونچنے کی اطلاع سے ہو تو اس کے لئے اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ جیسا کہ اوپر کی ایک حدیث ( نمبر ١٢) سے واضح ہوا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص کسی بڑے لشکر یا بڑے قافلہ میں ہو اور اس لشکر و قافلہ کی واپسی کی خبر مشہور ہوچکی ہو اور اس کی بیوی کو بھی اس کے آنے کا علم ہو ( کہ وہ لشکر و قافلہ کے ساتھ فلاں رات میں آئے گا) تو اس کے لئے بھی رات کے وقت آنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، اس لئے کہ اصل مقصد تو بیوی کا اس کے آنے سے پہلے تیار ومستعد رہنا ہے سو وہ اس صورت حال میں حاصل ہے۔ لیکن ملا علی قاری کہتے ہیں کہ اس صورت میں بھی گھر پہنچ کر پہلے دروازہ کھٹکھٹانا اور جواب کا انتظار کرنا ضروری ہوگا۔