Mishkaat-al-Masabih

All 6,333 hadiths in order · Page 176 of 317

3501Mishkaat-al-Masabih

مرتدوں اور فساد برپا کرنے والوں کو قتل کردینے کا بیان

اگر کوئی شخص حرام مال کسی فقیر کو ثواب کی نیت سے دے اور ثواب کی امید رکھے تو وہ کافر ہوجاتا ہے اور اگر فقیر کو یہ معلوم تھا کہ یہ مال حرام ہے اور کے باوجود اس نے وہ مال لے لیا اور دینے والے کو دعا دی اور اس دینے والے نے آمین کہی، تو وہ کافر ہوگا۔ ایک شخص سے کہا گیا کہ حلال مال کھاؤ اس نے کہا کہ مجھے تو حرام مال بہت پیارا ہے تو وہ کافر ہوجائے گا۔ اور اگر اس کے جواب میں یہ کہا کہ اس دنیا میں کسی ایک حلال کھانے والے کو لاؤ تاکہ میں اسے سجدہ کروں تو وہ اس کہنے سے کافر ہوجائے گا، کسی نے ایک شخص سے کہا کہ حلال کھایا کرو جواب میں اس نے کہا کہ مجھے تو حرام چاہئے تو وہ کافر ہوگیا۔ کسی فاسق کے لڑکے نے شراب پی۔ پھر اس کے عزیز و اقا رب آ کر اس پر روپے نچھاور کرنے لگے تو وہ سب کافر ہوگئے اور اگر نچھاور نہیں کیا بلکہ کہا کہ تمہیں مبارک ہو تو بھی کافر ہوجائیں گے۔ اگر کسی نے کہا کہ شراب کی حرمت قرآن سے نہیں ثابت ہوتی تو وہ کافر ہوجائے گا۔ کسی نے شراب پینے والے سے کہا کہ قرآن سے شراب کی حرمت ثابت ہے پھر تو شراب کیوں پیتے ہو توبہ کیوں نہیں کرتے؟ تو اس کے جواب میں شرابی نے کہا کہ ازشیرمادر شکید یعنی کیا ماں کے دودھ سے صبر ہوسکتا ہے؟ تو وہ اس کے کہنے سے کافر نہیں ہوگا، اس وجہ سے کہ یا تو یہ استفہام ہے یا شراب اور دودھ میں شغف کے اندر برابری ظاہر کرنا ہے۔ اگر کوئی حالت حیض میں اپنی بیوی سے جماع (صحبت) کو حلال سمجھے گا تو وہ کافر ہوجائے گا۔ اسی طرح وہ بھی کافر سمجھا جائے گا جو اپنی بیوی سے اغلام (لواطت) کو جائز جانے اور نوارد میں امام محمد سے روایت ہے کہ ان دونوں صورتوں میں کافر نہیں ہوتا اور اس حکم کو صحیح قرار دیا گیا ہے۔ ایک شخص نے شراب پی اور پھر کہا کہ جو شخص ہمارے اس کیف میں ہمارا شریک مسرت ہے اصل مسرت اسی کی ہے اور جو شخص ہمارے اس کیف ومسرت سے ناراض ہے وہ گھاٹے میں ہے تو وہ کافر ہوگیا۔ اسی طرح وہ شراب پینے میں مشغول تھا تو اس نے کہا کہ مسلمان ہونے کو آشکارا کر رہا ہوں یا مسلمان ہونا ظاہر ہو رہا ہے تو اس سے کافر ہوجائے گا۔ اگر بدکار اور شرابی نے یہ کہا کہ اگر شراب کا کوئی قطرہ گرجائے گا۔ تو جبرائیل (علیہ السلام) اپنے پیروں سے اٹھائیں گے تو اس سے وہ کافر ہوجائے گا۔ ایک فاسق سے کسی نے کہا کہ تو ہر دن اس طرح صبح کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور مخلوق اللہ کو تکلیف دیتا ہے، اس نے کہا خوب کرتا ہوں تو وہ کافر ہوجائے گا۔ گنا ہوں کے متعلق کسی نے کہا کہ یہ بھی ایک مذہب ہے تو وہ اس کی وجہ سے کافر ہوجائے گا۔ محیط میں ایسا ہی ہے اور تجنیس ناطقی میں ہے کہ زیادہ صحیح یہ ہے کہ یہ کہنے والا کافر نہیں ہوتا، اسی طرح وہ بھی کافر ہوگا جو تسبیح وتہلیل کے وقت یہ جملے کہے۔ ایک شخص نے سبحان اللہ کہا، دوسرے نے کہا کہ تو نے سبحان اللہ کی رونق ختم کردی، یا کہا کہ تو نے اس کی کھال ادھیڑ دی تو وہ کافر ہوجائے گا۔ کسی سے کہا گیا کہ تم لا الٰہ الا اللہ نہیں کہتا تو وہ کافر ہوگا اور بعضوں نے کہا کہ مطلقًا کافر ہوجائے گا اور اگر جواب میں یہ کہا کہ تو نے یہ کلمہ پڑھ کر کیا بلندی حاصل کرلی کہ میں کہوں، تو بھی کافر ہوجائے گا، ایک بادشاہ کو چھینک آئی، اس کی چھینک پر کسی نے کہا (یرحمک اللہ)۔ دوسرے نے یرحمک اللہ کہنے والے سے کہا کہ بادشاہ کے لئے اس طرح مت کہو تو یہ کہنے والا کافر ہوجائے گا۔ وہ موجبات کفر جن کا تعلق یوم قیامت اور قیامت سے متعلق چیزوں سے ہے جو کوئی قیامت یا جنت دوزخ یا میزان وپل صراط اور نامہ اعمال کا انکار کر دے تو وہ کافر ہوجائے گا، اسی طرح کوئی مرنے کے بعد پھر جی اٹھنے کا انکار کر دے تو وہ بھی کافر ہے۔ کوئی شخص یہ کہے میں یہ نہیں جانتا کہ یہود و انصاری قیامت میں جب اٹھائے جائیں گے تو وہ آگ کے عذاب کے مبتلا کئے جائیں گے یا نہیں تو اس کہنے سے وہ کافر ہوجائے گا۔ اسی طرح وہ شخص بھی کافر ہوجاتا ہے جو جنت میں داخل ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ کے دیدار کا انکار کر دے۔ یا مرنے کے بعد عذاب قبر کا انکار کرے یا انسان کے حشرونشر کا انکار کرلے، لیکن انسان کے علاوہ دوسری مخلوق کے حشر کا انکار کرنے والا کافر نہیں ہوتا اسی طرح وہ بھی کافر نہیں ہوتا جو یہ کہے کہ عذاب اور ثواب کا تعلق صرف روح سے مخصوص ہے۔ ایک شخص نے دوسرے سے کہا کہ گناہ نہ کرو اس لئے کہ ایک دوسری دنیا بھی ہے جہاں حساب و کتاب ہوگا اس نے جواب دیا کہ اس دنیا کی کس کو خبر ہے تو وہ کافر ہوجائے گا۔ ایک شخص کا دوسرے کے ذمہ قرض باقی تھا، اس نے اس کو مخاطب کر کے کہا کہ اگر یہاں تم نہیں دیتے ہو تو قیامت میں تم سے وصول کرلوں گا اس نے جواب میں کہا جی ہاں قیامت قائم ہوگی؟ تو اگر اس نے قیامت کی توہین کے ارادہ سے ایسا کہا تو کافر ہوجائے گا۔ ایک شخص نے دوسرے پر ظلم وستم ڈھایا، اس پر مظلوم نے کہا آخر قیامت کا دن آنے والا ہے اس لئے ڈرو اس نے جواب میں کہا فلاں گدھا قیامت میں ہوگا تو اس سے کافر ہوجائے گا ایک شخص نے اپنے قرضدار سے کہا میرے روپے دنیا میں دیدے قیامت میں روپیہ نہ ہوگا اس نے کہا کہ اچھا دس روپے اور دیدو اس دنیا میں لے لینا یا میں تمہیں وہاں دے دوں گا تو وہ اس کہنے سے کافر ہوجائے گا کسی نے کہا کہ مجھے حشر سے کیا کام ہے، یا یہ کہا کہ میں قیامت سے نہیں ڈرتا تو وہ کافر ہوجائے گا۔ کسی نے اپنے دشمن سے کہا کہ میں اپنا حق تجھ سے قیامت میں وصول کرلوں گا اس نے کہا اس دن اس بھیڑ میں مجھے کہاں پائے گا؟ مشائخ کو اس کے کفر میں اختلاف ہے فقیہ اللیث کہتے ہیں کہ وہ اس کہنے سے کافر نہ ہوگا۔ کسی نے کہا اس دنیا میں سب اچھا رہنا چاہے اس دنیا میں جو ہوگا سو ہوگا تو وہ کافر ہوجائے گا۔ ایک شخص سے کہا گیا کہ تم آخرت کے پیش نظر دنیا سے گریز کرو اس نے کہا کہ نقد چھوڑ کر ادھار پر کون بھروسہ کرے؟ تو وہ کافر ہوجائے گا۔ کسی نے کہا کہ جو اس دنیا میں بےعقل وخرد ہوگا وہ اس دنیا میں اس شخص کی طرح ہوگا جس کی تھیلی پھٹی ہوئی ہے یعنی ناکارہ ہوگا امام ابوبکر محمد بن الفضل نے کہا کہ اگر اس سے اس کا منشا آخرت کے ساتھ تمسخر اور طنز ہے تو یہ باعث تکفیر ہوگا۔ کسی نے کسی سے کہا کہ میں تیرے ساتھ دوزخ میں جاؤں گا لیکن اندر نہیں آسکتا تو وہ کافر ہوجائے گا۔ اگر کسی نے کہا کہ جب تک تم رضوان جنت کے لئے کچھ نہیں لے جاؤ گے تو وہ جنت کا دروازہ نہیں کھولے گا تو اس کہنے سے کافر ہوجائے گا۔ کسی نے بھلائی کا حکم دینے والوں سے کہا کہ یہ کیا ہنگامہ مچا رکھا ہم اگر یہ انکار و رد کے طور پر کہا ہے تو اس کے کافر ہوجانے کا خوف ہے کسی نے ایک شخص سے کہا کہ فلاں کے گھر جا کر بھلی بات کا حکم کرو، جواب میں کہا کہ اس نے میرے ساتھ کیا کیا ہے یا مجھے اس کو اذیت دینے کی کیا وجہ ہے؟ یا کہا میں الگ تھلگ ہوں اس فضول کام سے کیا واسطہ؟ تو یہ سب کفریہ الفاظ ہیں۔ کسی نے ایک شخص سے تعزیت کرتے ہوئے کہا جو اس کی جان سے کم ہوا وہ تم پر زیادہ ہو تو اس سے بھی کفر کا خوف ہے۔ یا کہا کہ تم پر زیادہ کیا جائے تو یہ جہالت اور غلطی ہے یہ کہا کہ فلاں کی جان کم ہو کر تیری جان پر آگیا، تو یہ بھی جہالت ہے اور اگر یہ کہا کہ وہ مرگیا لیکن اپنی جان تیرے سپرد کر گیا تو کافر ہوجائے گا۔ ایک شخص بیمار تھا وہ اچھا ہوا دوسرے نے اس سے کہا فلاں گدھا پھر بھیج دیا تو یہ بھی کفر ہے۔ ایک شخص بیمار ہوا اور اس کی بیماری بہت بڑھ گئی اور اس نے طول کھینچا بیمار نے اکتا کر اللہ کو خطاب کر کے کہا کہ خواہ تو حالت اسلام پر موت دے یا حالت کفر پر تو یہ بھی باعث کفر ہے۔ وہ موجبات کفر جن کا تعلق تلقین کفر و ارتداد وغیرہ سے ہے جب کوئی کسی کو کلمہ کفر کی تلقین کرے گا تو وہ کافر ہوجائے گا۔ خواہ یہ کھیل کود اور ہنسی مذاق ہی کے طور پر کیوں نہ ہو اسی طرح وہ بھی کافر ہوجائے گا جو کسی کی بیوی کو حکم دے کہ تو مرتد ہوجا اور اس طرح اپنے شوہر سے علیحدگی اختیار کرلے، امام اعظم اور امام ابویوسف سے یہی روایت ہے ایک شخص نے کسی کو حکم دیا کہ تو کافر ہوجا تو حکم دینے والا کافر ہوجائے گا خواہ جس کو حکم دیا گیا ہے وہ کافر ہو یا نہ ہو۔ امام ابواللیث فرماتے ہیں کہ جس وقت کوئی شخص کسی کو کلمہ کفر کی تعلیم دے گا وہ کافر ہوجائے گا۔ اسی طرح اگر کسی مرد یا عورت کو مرتد ہونے کا حکم دے گا تو بھی وہ کافر ہوگا۔ امام محمد فرماتے ہیں کہ ایک شخص کو مجبور کیا گیا کہ وہ کفر زبان سے نکالے ورنہ اس کے ساتھ ایسا ایسا کرے گا یعنی جان یا کسی عضو کے تلف کرنے کی دھمکی دی گئی اس نے خوف سے کلمہ کفر زبان سے کہ دیا تو اس کی چند صورتیں ہوگی اگر اس نے کلمہ کفر اس طرح زبان سے ادا کیا کہ اس کا دل ایمان پر بالکل مطمئن ہے دل میں کفر کا کھٹکا تک بھی نہیں گذرا صرف زبان سے کلمہ کفر سرزد ہوا ہے تو اس صورت میں نہ قضاء اس کی تکفیر کی جائے گی اور نہ وہ عند اللہ کافر ہوگا اور اگر کلمہ کفر زبان سے کہنے والا کہے کہ میں نے یہ سوچا تھا کہ اپنے بارے میں زمانہ ماضی میں کفر کی جھوٹی خبر دے کر چھٹکارا حاصل کرلوں میں نے مستقل کفر کا ارادہ نہیں کیا تھا تو اس صورت میں قضا یعنی قانونًا اس کے کفر کا فیصلہ دیا جائے گا اور قاضی اس میں اور اس کی بیوی میں تفریق کر دے گا اور اگر وہ یہ کہے کہ کلمہ کفر کہتے وقت میرے دل میں یہ بات گذری کہ گذرے کہ زمانہ میں کفر کی جھوٹی خبر دے دوں لیکن زمانہ میں جھوٹے کفر کا میں نے ارادہ نہیں کیا بلکہ ایام مستقبل میں ارادہ کیا تو اس صورت میں اللہ کے نزدیک بھی کافر ہوجائے گا اور دنیا کے حکم میں بھی۔ ایک شخص کو مجبور کیا گیا کہ وہ صلیب کی طرف منہ کر کے نماز پڑھے چناچہ اس نے پڑھی تو اس کی تین صورتیں ہوں گی۔ (١) اگر وہ یہ کہتا ہے کہ زبردستی کی وجہ سے صلیب کی طرف نماز پڑھ لی ہے لیکن دل میں کوئی وہم اس کی عقیدت کا نہیں گذرا ہے تو وہ کافر نہیں ہوگا نہ قضاءً اور نہ فی ما بینہ وبین اللہ۔ (٢) اگر وہ یہ کہتا ہے کہ میرے دل میں یہ بات گذری کہ اللہ تعالیٰ کے لئے نماز پڑھ رہا ہوں نہ کہ صلیب کے لئے تو اس صورت میں بھی وہ کافر نہ ہوگا۔ (٣) اگر وہ یہ کہتا ہے کہ میرے دل میں یہ بات گذری کہ میں اللہ کے لئے نماز پڑھوں لیکن میں اس کو چھوڑ دیا اور صلیب کے لئے نماز پڑھی تو اس صورت میں وہ قضاءً بھی کافر ہوگا اور فی ما بینہ وبین اللہ بھی۔ ایک مسلمان سے کہا گیا کہ تم بادشاہ کو سجدہ کرو ورنہ ہم تمہیں قتل کر ڈالیں گے تو افضل یہ ہے کہ سجدہ نہ کرے ایک شخص نے کلمہ کفر زبان سے جان بوجھ کر نکالا لیکن کفر کا اعتقاد پیدا نہیں ہوا تو بعض لوگ کہتے ہیں کہ وہ کافر نہیں ہوگا اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ وہ کافر ہوجائے گا اور یہی صحیح ہے۔ ایک شخص نے کلمہ کفر زبان سے ادا کیا لیکن اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ کفر کا کلمہ ہے مگر اس نے یہ اپنے اختیار سے کہا ہے کہ تمام علماء کے نزدیک ہوجائے گا۔ اور جہالت عذر شمار نہ ہوگی اور بعض لوگوں نے کہا کہ کافر نہیں ہوگا مذاق کرنے والا یا ٹھٹھا کرنے والا جب کلمہ کفر استخفاف کے طور پر بالذات آفرینی کے طور پر بکے گا تو وہ تمام کے نزدیک کافر قرار دیا جائے گا اگرچہ اس کا اعتقاد اس کے خلاف ہو۔ ایک شخص کی زبان سے کلمہ کفر غلطی سے جاری ہوگیا اس طرح کہ وہ دوسرا کلمہ بولنا چاہئے تھا لیکن آگیا کفر کا کلمہ تو وہ کافر نہیں ہوگا مجوسیوں کی ٹوپی سر پر رکھنے سے مسلمان کافر ہوجاتا ہے البتہ گرمی یا سردی سے بچنے کے لئے ایسا کرے تو کافر نہ ہوگا زنار یعنی حینؤ پہننے سے مسلمان کافر ہوجاتا ہے لیکن اگر لڑائی میں جاسوسی کے لئے ایسا کرے تو کافر نہ ہوگا۔ کسی نے کہا کہ تو جو کچھ کر رہا ہے اس سے بہتر کفر کرنے والا ہے، اگر اس سے نیت کفر کا اچھا جاننا ہے تو وہ کافر ہوجائے گا۔ اور بعض علماء جیسے فقیہ ابواللیث کہتے ہیں کہ صرف اس جملہ سے آدمی کافر ہوجاتا ہے خواہ اس کی نیت کچھ بھی ہو۔ مجوس نو روز کے دن جو کچھ کرتے ہیں اگر مسلمان اس کی موافقت میں ان کے ساتھ نکلے گا تو کافر ہوجائے گا، کھانے پینے اور ضروریات زندگی کی چیز خریدنے سے کافر نہیں ہوگا، اس دن اگر کوئی مسلمان مشرکوں کو اس دن کی تعظیم کے اظہار کے لئے کوئی تحفہ بھیجے خواہ وہ معمولی ہی کیوں نہ ہو تو وہ کافر ہوجائے گا ہاں اگر ان کے بچوں کی رسم مونڈن میں دعوت قبول کرے تو اس سے کافر نہ ہوگا۔ کفار کی باتوں اور معاملہ کو اچھاجاننے والا کافر ہوجاتا ہے مثلاً یہ کہے کہ کھانے کے وقت مجوس کا یہ مذہب بہتر ہے کہ اس وقت گفتگو نہ کی جائے یا مجوس کی یہاں یہ اچھا ہے کہ حالت حیض میں بیوی کو ساتھ لیٹنے بھی نہ دیا جائے، اس کہنے سے کافر ہوجائے گا کسی نے کسی شخص کی عزت وجاہ کی وجہ سے اس کے جوڑے پہننے کے وقت جانور ذبح کیا تو وہ کافر ہوجائے گا۔ اور یہ ذبیحہ مردار ہے اس کا کھانا جائز نہیں۔ اسی طرح غیر اللہ کی عظمت کے اظہار کے لئے گائے، اونٹ یا کسی جانور کا ذبح کرنا یا غازیوں اور حاجیوں کی واپسی پر اس کی عظمت کے اظہار کے لئے ایسا کرنا باعث کفر ہے۔ جو جانور کسی دیوی دیوتا یا بزرگ کے نام پر چھوڑا گیا اور نامزد کر کے اس کو شہرت دیدی گئی جسے اور بدعقیدہ لوگ کوئی جانور مثلا بکرا چھوڑا دیتے ہیں اور کہتے پھرتے ہیں کہ یہ بکرا شیخ سدو کے نام پر ہے یا یہ گائے احمد کبیر کی ہے یا یہ مرغا مدار صاحب کا ہے وغیرہ وغیرہ یا کسی غیر اللہ کے نام کی عظمت اور تقریب کے لئے کیا گیا تو یہ سب کفر کی باتیں ہیں، اسی طرح بزرگوں کی قبر پر یا دریا کے کنارے جانور ذبح کرنا یا کسی دیوی دیوتا کو بھوگ دینا یہ سب کام ایسے ہیں کہ ان کی وجہ سے آدمی کافر ہوجاتا ہے اور ایسا ذبیح مردار کے حکم میں ہے اس کا کھانا درست نہیں اس سے کوئی فرق نہیں ہوتا کہ ان مواقع پر جانور ذبح کرتے وقت بسم اللہ پڑھی ہو یا نہ پڑھی ہو دونوں صورتوں میں وہ حرام ہے کیونکہ جب غیر اللہ کے نام پر نامزد ہوچکا ہے تو بسم اللہ پڑھنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا ایسا ہی الاشباہ النظائر، تنویر الابصار، درمختار، منح الغفار، فتاوٰی عالمگیری اور مطالب المؤمنین وغیرہ کتابوں میں مذکور ہے۔ ان میں سے بعض کتابوں میں یہ بھی صراحت ہے کہ ایسے غیر اللہ کے نام پر چھوڑے ہوئے جانوروں کا ذبح کرنے والا کافر ہے اور یہ ذبیحہ حرام ہے علماء میں ابوحصص کبیر ابوعلی دقاق، عبداللہ کاتب، عبد الواحد اور ابوالحسن نووی وغیرہ مشہور علماء نے یہی لکھا ہے۔ اور اس کو صحیح کہا ہے اور تفسیر نیشاپوری میں ہے کہ تمام علماء کا اس مسئلہ میں اتفاق ہے کہ جو مسلمان کسی جانور کو اللہ کے سوا کسی اور کے تقرب و تعظیم کے لئے ذبح کرے وہ مرتد ہے اور اس کے ذبح کئے ہوئے جانور کا وہی حکم ہے جو ایک مرتد کے ذبح کئے ہوئے جانور کا ہے اور صحیح حدیث میں آیا ہے کہ وہ شخص معلون ہے جو غیر اللہ کے تقرب و تعظیم کے لئے جانور ذبح کرے جیسا کہ حدیث کی مشہور کتاب مشکوٰۃ شریف میں ہے اور شاہ عبد العزیز محدث دہلوی نے اپنی کتاب تفسیر عزیزی میں آیت ( وَمَا اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِه) 16۔ النحل 115) کی تفسیر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ جانور جو غیر اللہ کے نام کے ساتھ شہرت دیا گیا ہے وہ خنزیر سے بدتر اور مردار ہے جن حضرات کو تفصیل مطلوب ہو ان کو چاہیے کہ وہ تفسیر عزیزی کے مطالعہ کریں انشاء اللہ اس کے مطالعہ سے یہ مسئلہ منقع ہو کر ان کے ذہن نشین ہوجائے گا۔ ایک عورت نے اپنی کمر پر رسی باندھ کر کہا کہ یہ زنار (جینؤ) ہے تو وہ کافر ہوگئی ایک شخص نے اس طرح کہا کہ خیانت کرنے سے بہتر کافر ہی ہے تو اکثر علماء کہتے ہیں کہ وہ اس کہنے سے کافر ہوجائے گا اس اور اسی پر ابوالقاسم صغار کا فتویٰ ہے ایک شخص نے عورت کو مارا اس عورت نے کہا تو مسلمان نہیں ہے تو مرد نے یہ سن کر کہا ہاں میں مسلمان نہیں ہوں تو وہ اس کہنے سے کافر ہوجائے گا ایک شخص نے کہا کیا تو مسلمان نہیں ہے اس نے کہا نہیں تو یہ بھی کافر ہے ایک عورت نے اپنے شوہر سے کہا کہ تمہارے اندر دینی حمیت اور اسلامی غیرت نہیں کہ تم اسے پسند کرتے ہو کہ میں اجنبی مردوں کے ساتھ خلوت کروں؟ خاوند نے جواب میں کہا ہاں مجھ میں دینی حمیت اور اسلامی غیرت نہیں ہے تو وہ اس سے کافر ہوجائے گا۔ ایک مرد نے کہا اپنی بیوی کو اس طرح مخاطب کیا اے یہودیہ، اے مجوسیہ اے کافرہ! عورت نے یہ سن کر کہا کہ میں ایسی ہی ہوں یا کہا ایسی ہوں تو مجھے طلاق دے دو یا یہ کہا کہ اگر ایسی ہوتی تو تمہارے ساتھ کیسی رہتی یا نہ رہتی یا یہ کہا کہ اگر ایسی نہ ہوتی تو تمہارے ساتھ صحبت نہ کرتی یا تم مجھے نہ رکھتے تو اس کہنے سے وہ عورت کافر ہوجائے گی اور اگر اس کے جواب میں یہ کہا کہ اگر میں ایسی ہوں تو تم مجھے نہ رکھو تو اس سے کافر نہ ہوگی اور اگر کسی بیوی نے اپنے شوہر کو مخاطب کیا اے کافر اے یہودی، اے مجوسی،! پس شوہر نے اس کے جواب میں کہا اگر ایسا نہ ہوتا تو تم کو نہ رکھتا تو وہ اسی کیوجہ سے کافر ہوگیا اور اگر کہا کہ اگر میں ایسا ہوں تو تم میرے ساتھ نہ رہو تو اس صورت میں وہ کافر نہ ہوگا۔ اور اگر کسی اجنبی سے کہا اے کافر یہودی! اس نے کہا کہ میں ایسا ہی ہوں میرے ساتھ تم مت رہو یا کہا اگر ایسا نہ ہوتا تو تمہارے ساتھ نہ رہتا یا اسی طرح کا کوئی جملہ کہا تو وہ کافر ہوجائے گا ایک شخص نے ایک کام کا ارادہ کیا اس کی بیوی نے اس سے کہا کہ اگر تم یہ کام کرو گے تو کافر ہوجاؤ گے اس شوہر نے وہ کام کیا اور عورت کی بات پر توجہ نہ دی تو وہ شوہر کافر نہ ہوگا۔ اپنی بیوی کو کسی نے مخاطب کر کے کہا اے کافرہ! بیوی نے کہا میں نہیں تم ہو، کسی عورت نے اپنے شوہر سے کہا اے کافر! شوہر نے کہا کہ میں نہیں بلکہ تو کافرہ ہو تو اس سے میاں بیوی میں جدائی واقع نہیں ہوگی اور اگر کسی اجنبی مسلمان سے کہا اے کافر یا اجنبی عورت کو کہا اے کافرہ اور مخاطب مرد و عورت نے جواب میں کچھ نہیں کہا یا کسی شوہر نے اپنی بیوی کو کہا اے کافرہ! اور عورت نے کچھ جواب نہ دیا یا بیوی نے اپنے شوہر کو کافر کے ساتھ خطاب کیا اور شوہر نے کچھ جواب نہ دیا تو اس صورت میں ابوبکر اعمش بلخی کا قول ہے کہ کہنے والا کافر ہے اور بقیہ دوسرے علماء بلخ کہتے ہیں کہ وہ کافر نہیں ہوتا اور صحیح جواب یہ ہے کہ اگر کہنے والے کا ارادہ صرف برا بھلا کہنا مقصد ہے تو وہ کافر نہیں ہوتا اور اگر وہ اعتقاد بھی یہ ہی رکھتا ہے کہ یہ مسلمان کافر ہے اور پھر اس کو کافر سے خطاب کرتا ہے تو البتہ وہ اس کی وجہ سے کافر ہوجائے گا۔ اگر کوئی عورت اپنے بچے کو کافر بچہ کے ساتھ خطاب کرے تو یہ باعث کفر نہیں ہے اور بعضوں نے کہا ہے کہ یہ کفر ہے اسی طرح کوئی مرد اپنے بچہ کو ان الفاظ سے خطاب کرے تو وہ بھی کافر نہیں ہے اور اگر اپنے جانور کو کہا اے کافر تو اس سے کافر نہ ہوگا اور کسی شخص نے کسی مسلمان کو اے کافر اے یہودی یا اے مجوسی کہہ کر خطاب کیا اور اس مسلمان نے جواب میں لبیک کہا تو وہ کافر ہوگا۔ اگر یوں کہے کہ میں ڈر گیا کہ کہیں کافر نہ ہوجاؤں تو اس سے کافر نہ ہوگا اگر کسی نے کسی سے کہا کہ تو نے مجھے اتنا ستایا کہ میرا جی چاہا کہ کافر ہوجاؤں تو وہ کافر ہوجائے گا۔ کسی نے کہا کہ یہ زمانہ مسلمان رہنے کا نہیں بلکہ یہ زمانہ کافری کا ہے۔ بعضوں نے کہا اس سے کافر ہوجائے گا اور صاحب محیط نے لکھا ہے کہ میرے نزدیک صحیح یہ ہے کہ وہ کافر نہ ہوگا۔ ایک مجوسی اور ایک مسلمان ایک جگہ ساتھ ساتھ تھے ایک شخص نے مجوسی کو پکارا کہ اے مجوسی اب اگر مسلمان نے یہ سمجھ کر جواب دیا کہ مجھے پکار رہا ہے تو وہ کافر نہیں ہوگا بشرطیکہ وہ دونوں اس پکارنے والے کے کسی ایک کام میں مشغول تھے اور اگر دونوں کسی ایک کام میں مشغول نہ تھے بلکہ الگ الگ کاموں میں مشغول تھے تو اس پر کفر کا خوف ہے۔ اگر مسلمان کہے کہ میں ملحد ہوں تو وہ کافر ہوجائے گا۔ اور اگر وہ کہے کہ مجھے معلوم نہیں تھا کہ اس جملہ سے آدمی کافر ہوجاتا ہے تو اسے اس کی وجہ سے معذور قرار نہیں دیا جائے گا ایک شخص نے ایک جملہ زبان سے نکالا جسے لوگوں نے کفریہ کلمہ سمجھا حالانکہ درحقیقت وہ کلمہ کفر نہ تھا مگر اس سے ان لوگوں نے کہا کہ تو کافر ہوگیا اور تیری بیوی کے درمیان جدائی واقع ہوگئی، اس کے جواب میں اس نے کہا کافر شدہ گیر، وزن طلاق شدہ گیر، تو وہ کافر ہوجائے گا۔ اور اس کی بیوی اور اس کے درمیان جدائی واقع ہوجائے گی۔ ایک شخص نے کہا کہ میں فرعون ہوں یا کہا کہ میں ابلیس ہوں تو اس سے وہ کافر ہوجائے گا ایک شخص نے ایک بدکار کو نصیحت کی اور توبہ کی ترغیب دی اس کے جواب میں اس نے کہا از پس ایں ہمہ کلاہ مغاں پر سر نہم تو وہ اس سے کافر ہوجائے گا ایک عورت نے اپنے شوہر سے کہتا کہ تمہارے ساتھ رہنے سے کافر ہونا بہتر ہے تو وہ کافر ہوجائے گی۔ ایک عورت نے کہا کہ اگر میں ایسا کام کروں تو کافر ہوں ابوبکر محمد بن الفضل کہتے ہیں کہ اس کہنے سے وہ عورت کافر ہوگئی اور اس کا نکاح ٹوٹ گیا اور قاضی علی السعدی کا کہنا ہے کہ یہ جملہ تعلیق ویمین ہے کفر نہیں ہے ایک عورت نے اپنے خاوند سے کہا کہ تم اس کے بعد مجھ پر ظلم کرو گے یا یہ کہا کہ اگر تم میرے لئے ایسی چیز نہ خریدو گے تو میں کافر ہوجاؤ نگی تو وہ فوراً یہ کہتے ہی کافر ہوگئی۔ ایک شخص نے تمثیل کے طور پر کہا کہ میں مجوسی تھا مگر مسلمان ہوگیا یہ صرف زبان سے بطور حکایت کہا اعتقادًا نہ کہا تو بھی وہ کافر ہوجائے گا اگر کوئی مسلمان کسی آدمی کو سجدہ تحیتہ کرے گا تو وہ اس سے کافر نہ ہوگا ایک شخص نے کسی مسلمان سے کہا کہ اللہ تعالیٰ تم سے تمہارا ایمان چھین لے اس نے اس کے جواب میں آمین کہا تو وہ دونوں کافر ہوجائیں گے کسی شخص نے کسی کو تکلیف دی اس نے کہا کہ مجھے مت ستاؤ میں مسلمان ہوں ستانے والے نے جواب دیا چاہے مسلمان رہو چاہے کافر تو وہ ایذاء دینے والا کافر ہوجائے گا یا کہا کہ اگر تو کافر بھی ہوجائے تو میرا کیا نقصان تو اس سے بھی کافر ہوجائے گا۔ ایک کافر نے اسلام قبول کیا لوگوں نے اس کو تحفے ہدئیے دیئے ایک مسلمان نے یہ دیکھ کر کہا کہ کاش میں بھی کافر ہوتا اور پھر مسلمان ہوتا تو لوگ مجھ کو بھی تحفے ہدیئے دیتے یا اس نے یہ بات کہی نہیں لیکن دل میں آرزو کی تو وہ کافر ہوگیا۔ ایک شخص نے آرزو کی کہ اللہ تعالیٰ شراب کو حرام نہ کرتا تو اس سے وہ کافر نہ ہوگا۔ اور اگر کسی نے یہ آرزو کی کہ اللہ تعالیٰ ظلم وزنا کو حرام نہ کرتا یا ناحق قتل وخون ریزی کو حرام نہ کرتا تو وہ کافر ہوجائے گا۔ اس لئے کہ یہ وہ چیزیں ہیں کہ کبھی بھی حلال نہ رہیں گویا پہلی صورت میں ایسی چیز کی آرزو کی جو محال نہیں اور دوسری میں ایسی چیز کی آرزو کی جو محال ہے اسی طرح اگر کوئی آرزو کرے کہ بھائی بہن کے درمیان نکاح حرام نہ ہوتا تو اس سے کافر نہ ہوگا۔ اس لئے کہ یہ شروع میں حلال رہ چکا ہے لہٰذا محال نہیں کہا جائے گا۔ ماحصل یہ ہوا کہ جو چیز کبھی حلال تھی اور بعد میں حرام ہوگئی اس کے حلال ہونے کی تمنا کرنا موجب کفر نہیں ہے۔ ایک مسلمان نے کسی خوبصورت گداز بدن عیسائی عورت کو دیکھ کر آرزو کی کہ کاش میں عیسائی ہوتا کہ اس سے بیاہ کرسکتا، تو وہ کافر ہوجائے گا۔ ایک شخص نے کسی سے کہا حق بات پر میری مدد کرو اس نے کہا کہ کہیں مدد حق پر کی جاتی ہے میں ناحق پر البتہ تیری مدد کروں گا تو وہ اس کی وجہ سے کافر ہوجائے گا۔ اگر کوئی یہ کہے کہ میں نے اس درخت کو پیدا کیا ہے تو وہ اس کہنے سے کافر نہیں ہوا اس لئے کہ اس کی مراد درخت لگانا سمجھی جائے گی ہاں اگر کوئی حقیقتًا پیدا کرنا مراد لے تو وہ کافر ہوجائے گا۔ ایک شخص نے کہا کہ جب تک میرے یہ بازو موجود ہیں میری روزی کم نہ ہوگی تو بعض مشائخ نے کہا کہ اس کی وجہ سے وہ کافر ہوجائے گا اور بعضوں نے کہا ہے کہ اس پر کفر کا خوف ہے! اگر کوئی یہ کہے کہ درویشی یا تصوف بدبختی ہے تو یہ بہت بری بات ہے۔ کسی نے چاند کے گرد کوئی دائرہ دیکھا اور دعوی کیا کہ بارش ہوگی اور اس طرح اس نے غیب کا دعوی کیا تو وہ کافر ہوجائے گا۔ ایک نجومی نے کسی سے کہا کہ تیری بیوی حاملہ ہے اور اس نے اس پر اعتقاد جما لیا تو وہ کافر ہوگیا۔ ایک شخص نے الو کی آواز سنی اور پھر کسی سے کہا کہ بیمار مرجائے گا یا کوئی مصیبت آئے گی یا اسی طرح کوا بولا اور اس کی آواز سن کر کسی نے کہا کہ کوئی سفر سے آ رہا ہے تو ایسے شخص کے کفر میں مشائخ کے اختلافی اقوال ہیں۔ کسی نے کوئی ناجائز بات کہی دوسرے نے اس سے کہا کہ یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟ اس کہنے سے تم کافر ہوجاؤ گے! اس نے کہا کہ پھر میں کیا کروں کافر ہوتا ہوں گا تو ہوجاؤں گا تو وہ کافر ہوجائے گا۔ ایک شخص نے قرأت کے دوران حرف ضاد کی جگہ زا پڑھا یا اصحاب الجنۃ کی جگہ اصحاب النار پڑھا تو ایسے شخص کی امامت جائز نہیں ہے اگر کوئی قصدًا ایسا پڑھے گا تو وہ کافر ہوجائے گا۔۔ جو شخص کہے قسم ہے تیری زندگانی کی یا میری زندگانی کی یا اسی طرح کی کوئی اور قسم کھائے تو اس پر کفر کا خوف ہے۔ ایک شخص نے کہا کہ رزق تو اللہ تعالیٰ دیتا ہے مگر وہ بندے سے حرکت چاہتا ہے تو بعضوں نے کہا یہ شرک ہے ایک شخص نے کہا کہ میں ثواب و عذاب سے بری ہوں تو کہا گیا کہ اس سے کافر ہوجائے گا۔ اگر کسی نے کہا کہ فلاں شخص جو کچھ بھی کہے گا میں کروں گا اگرچہ وہ کفر ہی کیوں نہ ہو تو وہ کافر ہوجائے گا۔ اگر کوئی کہے کہ میں مسلمان ہونے سے بیزار ہوں تو وہ کافر ہوجائے گا۔ مامون رشید کے زمانے کا ایک واقعہ نقل کیا گیا ہے کہ خلیفہ وقت نے ایک فقیہ سے اس شخص کے متعلق سوال کیا جس نے کسی کپڑا بننے والے کو قتل کردیا تھا کہ اس قاتل پر کیا واجب ہوگا فقیہ نے کہا تعزیر واجب ہے مامون نے حکم دیا کہ فقیہ کو پیٹا جائے چناچہ اسے پیٹا گیا یہاں تک کہ وہ مرگیا، پھر مامون نے کہا کہ میں نے یہ حکم اس لئے دیا تھا کہ اس نے شریعت کے ساتھ استہزا کیا اور شریعت کے ساتھ اس طرح کا مذاق کفر ہے ایک فقیر کالی کملی اوڑھے ہوئے تھا کسی نے اس کو دیکھ کر مدثر کہا تو یہ کفر ہے۔ جو ظالم بادشاہ کو عادل کہے وہ کافر ہے اور بعضوں نے کہا کہ وہ کافر نہیں ہوتا ہے اگر کوئی کسی ظالم کو اے اللہ سے خطاب کرے گا تو وہ کافر ہوجائے گا۔ اور اگر کہے اے بار اللہ تو اکثر مشائخ کہتے ہیں اس سے کافر نہیں ہوگا ایک عالم صغار نامی سے ان خطیبوں کے متعلق سوال کیا گیا جو جمعہ کے دن منبروں پر خطبہ پڑھتے ہیں اور سلطان کو العادل الاعظم یا شہنشاہ الاعظم یا مالک رقاب الامم یا سلطان ارض اللہ یا مالک بلاد اللہ یا معین خلیفۃ اللہ کے لقب سے یاد کرتے ہیں کیا بادشاہوں کو خطبہ میں ان القاب کے ساتھ یاد کرنا جائز ہے یا ناجائز؟ تحقیق اس مسئلہ میں کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ یہ جائز نہیں ہے اس لئے کہ ان القاب کے بعض الفاظ کفر ہیں اور بعض معصیت اور کذب ہیں۔ اور شہنشاہ کا لفظ بغیر اعظم کی صفت کے اللہ تعالیٰ کے اسماء کے لئے مخصوص ہے اس کے ساتھ بندوں کی صفت بیان کرنا جائز نہیں ہے اور مالک رقاب الامم کا جملہ بادشاہ کے لئے صریح جھوٹ ہے اسی طرح بادشاہ کو سلطان ارض اللہ یا اس طرح کے لقب سے یاد کرنا بھی جھوٹ ہے۔ امام ابومنصور نے کہا کہ اگر کوئی کسی کے آگے زمین بوسی کرے یا اس کے سامنے جھکے، یا اپنا سر جھکائے تو وہ کافر نہیں ہوگا۔ اس لئے کہ اس کا منشا تعظیم و تکریم ہے عبادت نہیں ہے اور دوسرے مشائخ نے کہا کہ جابروں کے سامنے سجدہ ریز ہونا گناہ کبیرہ ہے اور بعض عالموں نے کہا کہ اس سے وہ مطلقاً کافر ہوجاتا ہے اور بعضوں نے کہ اس میں تفصیل ہے اگر عبادت کا ارادہ کیا تو وہ کافر ہوجائے گا۔ اور اگر تعظیم کا ارادہ کیا تو کافر نہ ہوگا مگر اس کا یہ فعل حرام ہوگا اور اگر کوئی ارادہ سرے سے پایا ہی نہ جائے تو بھی اکثر کے نزدیک کافر ہوگا زمین چومنا سجدہ کرنے کے برابر ہے ہاں زمین پر پیشانی یا رخسار رکھنے سے ہلکا جرم ہے، اگر کوئی یہ عقیدہ رکھے کہ خراج، سلطان کی ملکیت ہے تو یہ کفر ہے! اگر کوئی کسی کے ساتھ برائی سے پیش آئے اور وہ یہ کہے کہ یہ سب تیری لائی ہوئی مصیبت ہے اللہ کو اس میں دخل نہیں ہے تو یہ بھی کفر ہے اگر کوئی بادشاہ کے خلعت زبیب تن کرتے وقت اس کی خوشنودی اور مبارکبادی کے لئے قربانی کرے گا تو کافر ہوگا اور یہ قربانی مردار کے حکم میں ہوگی اور اس کا کھانا درست نہ ہوگا۔ کہیں کہیں یہ جو ہندوانہ رواج ہے کہ جب کسی کو چیچک نکلتی ہے تو عورتیں کسی پتھر کا نام چیچک رکھ دیتی ہیں اور اس کی پوجا کر کے بچوں کی چیچک سے شفا چاہتی ہیں اور اعتقاد رکھتی ہیں کہ اس سے بچہ اچھا ہوجائے گا یہ باعث کفر ہے اور وہ عورتیں کافر ہوجاتی ہیں اور اگر ان کے شوہر بھی اسے پسند کریں تو وہ بھی کافر ہیں۔ اسی طرح دریا کے کنارے جا کر پانی کو پوجنا اور وہاں بکری وغیرہ ذبح کرنا بھی خالص مشرکانہ رسم ہے اور باعث تکفیر ہے اور وہ بکری مردار کے حکم میں ہے اور اس کا گوشت کھانا جائز نہیں ہے ایسے ہی گھر میں تصویر بنا کر رکھنا اور اس کی پرستش کرنا جیسا کہ آتش پرست کرتے ہیں۔ یا بچہ پیدا ہونے کے وقت شنگرف سے نقشہ بنانا اور اس میں تیل ڈالنا اور پھر بھوانی بت کے نام سے اس کی پوجا کرنا یا اس طرح اور جو دوسرے کام کئے جاتے ہیں یہ سب مشرکانہ رسم اور کفر کا باعث ہیں چناچہ جو عورتیں یہ سب کچھ کرتی ہیں وہ کافر ہوجاتی ہیں اور ان کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ آجکل جب تک خیانت نہ کرو اور جھوٹ نہ بولو گزارہ نہیں ہوسکتا ہے کہ جب تک خریدو فروخت میں تم جھوٹ نہ بولو گے روٹی نہیں ملے گی، یا کسی سے کوئی کہے کہ تم کیوں خیانت کرتے ہو، یا کیوں جھوٹ بولتے ہو، وہ جواب دے کہ اس کے علاوہ چارہ نہیں ہے تو ان الفاظ سے وہ کافر ہوجائے گا! اگر کوئی کسی سے کہے کہ تم جھوٹ نہ بولا کرو اور وہ اس کے جواب میں کہے کہ یہ بات تو کلمہ (لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ) سے زیادہ درست ہے تو وہ کافر ہوجائے گا۔ اگر کسی کو غصہ آئے اور دوسرا اس کا غصہ دیکھ کر کہے کہ غصہ سے بہتر تو کافر ہی ہے تو وہ کافر ہوجائے گا۔ اگر کوئی شخص ایک ناجائز بات کہنے لگے دوسرا کہے یہ تم کیا کہہ رہے ہو اس سے تو تم پر کفر لازم آ رہا ہے وہ جواب میں کہے کہ اگر مجھ پر کفر آتا ہے تو تم کیا کرو گے۔ تو وہ اس کی وجہ سے کافر ہوجائے گا کسی کے دل میں ایسی چیز کا خطرہ گذرا جو باعث کفر ہے اگر وہ اس کو اس حالت میں زبان پر لایا کہ وہ اسے برا جانتا ہے تو یہ ایمان کی علامت ہے اور اگر کفر کے ارادہ سے اس کو زبان پر لایا تو اسی وقت وہ کافر ہوجائے گا۔ اگرچہ سو برس کے بعد کفر اختیار کرے اگر کوئی شخص بخوشی اپنی زبان پر کلمہ کفر لایا مگر اس کا دل ایمان پر قائم ہے تو وہ کافر ہوجائے گا۔ اور عند اللہ مؤمن باقی نہ رہے گا اور جو شخص بھول کر ایسے الفاظ زبان پر لائے جو باعث کفر نہیں ہیں تو وہ علی حالہ مؤمن ہے اور اس کو نہ توبہ کا حکم دیا جائے گا اور نہ تجدید نکاح کا اگر کسی شخص نے کوئی ایسی بات کہی یا کوئی ایسا عمل کیا جس میں کئی صورتیں کفر کی ہوں اور ایک صورت ایسی ہو کہ کفر لازم نہ آتا ہو تو مفتی پر لازم ہے کہ اسی عدم کفر کی طرف رجحان رکھے ہاں اگر وہ شخص صراحت کے ساتھ اس صورت کو اختیار کرے جو باعث کفر ہے تو اس وقت کوئی تاویل مفید نہیں ہوگی، لیکن اگر کہنے والے کی نیت میں وہ صورت ہو جس سے آدمی کافر نہیں ہوتا ہے تو وہ مسلمان ہے اور اگر وہ صورت اختیار کرے جو باعث کفر ہے تو کسی قسم کا فتویٰ اس کے لئے کارآمد نہ ہوگا اور اسے حکم دیا جائے گا کہ وہ توبہ کرے اور اس سے رجوع کرے اور اپنی بیوی سے دوبارہ نکاح کرے۔ مسلمان کے لئے مناسب یہ ہے کہ وہ صبح وشام ذیل کی دعا پڑھتا رہے انشاء اللہ وہ کفر وشرک کی ہر صورت سے محفوظ رہے گا اس لئے کہ آنحضرت ﷺ نے ایسا ہی فرمایا ہے وہ دعا یہ ہے (اللہم انی اعوذ بک من ان اشرک بک شیأ وانا اعلم بہ واستغفرک لما لا اعلم بہ) فتاوٰی عالمگیری سے موجبات کفر کی جو بحث نقل کی جا رہی تھی الحمد للہ وہ پوری ہوئی۔

3502Mishkaat-al-Masabih

مرتد کی سزا قتل ہے

عن عكرمة قال : أتي علي بزنادقة فأحرقهم فبلغ ذلك ابن عباس فقال : لو كنت أنا لم أحرقهم لنهي رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تعذبوا بعذاب الله ولقتلتهم لقول رسول الله صلى الله عليه و سلم : من بدل دينه فاقتلوه . رواه البخاري

حضرت عکرمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کچھ زندیق حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی خدمت میں لائے گئے تو انہوں نے ان کو جلا ڈالا پھر جب اس بات کی خبر حضرت ابن عباس کو ہوئی تو انہوں نے فرمایا کہ اگر میں ہوتا تو ان کو نہ جلاتا کیونکہ رسول کریم ﷺ نے یہ ممانعت فرمائی ہے کہ کسی شخص کو ایسے عذاب میں مبتلا نہ کرو جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کی طرح ہو جیسے کسی کو آگ میں جلانا بلکہ میں ان کو قتل کردیتا کیونکہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو شخص اپنا دین بدل ڈالے اس کو قتل کردو۔ (بخاری ) تشریح اصل میں زندیق مجوسیوں کی ایک قوم کا نام ہے جو زردشت مجوس کی اختراع کی ہوئی کتاب زند کے پیروکار ہیں لیکن اصطلاح عام میں ہر ملحد فی الدین کو زندیق کہا جاتا ہے، چناچہ یہاں بھی زندیق سے وہ لوگ مراد ہیں جو دین اسلام چھوڑ کر مرتد ہوگئے تھے۔ بعض علماء یہ فرماتے ہیں کہ اس روایت میں جن لوگوں کو زندیق کہا گیا ہے وہ دراصل عبداللہ ابن سبا کی قوم میں سے کچھ لوگ تھے جو حدود اسلام میں فتنہ و فساد برپا کرنے اور امت کو گمراہ کرنے کے لئے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے تھے اور حضرت علی کے بارے میں خدائی کا دعویٰ کرتے تھے، چناچہ حضرت علی نے ان کے اس عظیم فتنہ کا سر کچلنے کے لئے ان سب کو پکڑوا بلایا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ سب توبہ کریں اور یہ فتنہ پھیلانے سے باز رہیں لیکن جب انہوں نے اس سے انکار کردیا تو حضرت علی نے ایک گڑھا کھدوا کر اس میں آگ جلوائی اور ان سب کو آگ کے اس گڑھے میں ڈلوا دیا۔ منقول ہے کہ جب حضرت ابن عباس کا مذکورہ قول حضرت علی تک پہنچا تو انہوں نے فرمایا کہ بیشک ابن عباس نے سچ کہا اس سے معلوم ہوا کہ حضرت علی نے اس مسئلہ میں اپنے اجتہاد پر عمل کیا اور اس مصلحت کے پیش نظر ان سب کو جلوا دیا کہ یہی لوگ نہیں بلکہ ان کا عبرتناک انجام دیکھ کر دوسرے لوگ بھی اس قسم کی مفسدہ پردازی سے باز رہیں۔

3503Mishkaat-al-Masabih

کس کو آگ میں جلانے کی سزا نہ دو

وعن عبد الله بن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن النار لا يعذب بها إلا الله . رواه البخاري

اور حضرت عبداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا آگ کے عذاب میں تو صرف اللہ تعالیٰ مبتلا کرتا ہے لہٰذا اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کے لئے مناسب نہیں ہے کہ وہ کسی انسان کو اس کے کسی جرم کی وجہ سے آگ میں جلانے کی سزا دے۔ (بخاری)

3504Mishkaat-al-Masabih

فرقہ خوارج کی نشاندہی

وعن علي رضي الله عنه قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : سيخرج قوم في آخر الزمان حداث الأسنان سفهاء الأحلام يقولون من خير قول البرية لا يجاوز إيمانهم حناجرهم يمرقون من الدين كما يمرق السهم من الرمية فأينما لقيتموهم فاقتلوهم فإن في قتلهم أجرا لمن قتلهم يوم القيامة

اور حضرت علی کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ عنقریب اس زمانہ کے آخر میں کچھ ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو نوجوان ہوں گے ہلکی عقل والے ہونگے لوگوں کی اچھی باتیں بیان کریں گے لیکن ان کا ایمان ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا ایمان سے مراد نماز ہے یعنی ان کی نمازیں قبول نہیں ہوں گی اور وہ لوگ دین یعنی امام وقت اور علماء حق کی اطاعت سے اس طرح نکل بھاگیں جس طرح تیر شکار کے درمیان سے نکل جاتا ہے لہٰذا تم میں سے جس شخص کی ایسے لوگوں سے مڈبھیڑ ہوجائے وہ انہیں قتل کر دے کیونکہ ان کے قتل کرنے کا اس شخص کو قیامت کے دن انعام ملے گا جو انہیں قتل کرے گا۔ ( بخاری ومسلم ) تشریح لوگوں کو اچھی باتیں بیان کریں گے اس سے مراد یہ ہے کہ مذکورہ لوگ وہ بہترین اقوال اور اچھی باتیں بیان کریں گے جو عام طور پر اللہ کے نیک بندوں کی زبانوں پر رہتی ہیں یعنی قرآن کریم کی آیات لیکن ملحوظ رہے کہ مشکوٰۃ کے نسخوں میں تو (من خیر قول البریۃ) ہے یعنی خیر کا تعلق قول سے ہے چناچہ یہاں اسی کے مطابق ترجمہ و مطلب بیان کیا گیا ہے جب کہ مصابیح میں (من قول خیر البریہ) ہے یعنی اس میں خیر کا تعلق البریہ سے ہے جس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ لوگ بہترین انسان کے اقوال بیان کریں گے اس صورت میں قرآن کریم کی آیات کی بجائے رسول کریم ﷺ کی احادیث مراد ہوں گی۔ لیکن علماء کہتے ہیں کہ جملہ کی زیادہ مناسب اور موزوں ترکیب وہی ہے جو یہاں مشکوٰۃ میں نقل کی گئی ہے کیونکہ احادیث میں خوارج کے بارے میں منقول ہے کہ وہ قرآن کریم کی آیات پڑھیں گے اور ان سے اپنے غلط عقائد ونظریات پر استدلال کریں گے اور ان آیات کی غلط سلط تاویل کریں گے۔ جس طرح تیر شکار کے درمیان سے نکل جاتا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح کوئی شکار کے درمیان سے نکل جاتا ہے اور اس شکار میں جلدی پیوست ہو کر فورًا نکل جانے کی وجہ سے وہ تیر شکار کے خون وغیرہ سے آلودہ نہیں ہوتا اسی طرح وہ لوگ بھی امام وقت اور علماء حق کی اطاعت سے نکل جائیں گے! طیبی کہتے ہیں کہ اس تمثیل کی مراد ان لوگوں کا دین کے دائرہ میں داخل ہونے پھر دین کے دائرہ سے نکل جانے اور اس تیر کی مانند کہ جو شکار میں پیوست ہو کر نکل جائے اور آلودہ نہ ہو ان لوگوں پر دین کی کسی بات کے اثر نہ ہونے کو ظاہر کرتا ہے نیز اس کا منشاء ان خوارج کی نشان دہی کرنا ہے جو امام وقت اور اسلامی حکومت کے اطاعت گزار نہیں ہوتے اور لوگوں پر ہتھیار اٹھاتے ہیں چناچہ ابتداء میں ان خوارج کا ظہور حضرت علی کے عہد خلافت میں ہوا جن میں سے اکثر کو حضرت علی نے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ خوارج کے بارے میں علماء کا فیصلہ خطابی کہتے ہیں کہ علمائے امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ خوارج کی جماعت باوجود گمراہی کے مسلمانوں ہی کے فرقوں میں سے ایک فرقہ ہے ان کے ہاں نکاح کرنا بھی جائز اور ان کا ذبیحہ کھانا بھی درست ہے نیز ان کی گواہی بھی معتبر ہے چناچہ منقول ہے کہ حضرت علی ؓ سے ان سے لوگوں کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا وہ منافق ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ منافق تو اللہ تعالیٰ کو بہت تھوڑا یاد کرتے ہیں اس لئے انہیں منافق بھی نہیں کہا جاسکتا پھر پوچھا گیا کہ تو آخر وہ کیا ہیں؟ حضرت علی نے فرمایا کہ وہ مسلمانوں میں سے ایک فرقہ کے لوگ ہیں فتنہ و گمراہی نے ان کو گھیر لیا ہے چناچہ وہ اندھے اور بہرے ہوگئے ہیں۔ جیسا کہ بتایا گیا خوارج مسلمانوں کے ایک فرقہ کا نام ہے جو گمراہی میں مبتلا ہے اس فرقہ کا بنیادی عقیدہ یہ ہے کہ بندہ نہ صرف گناہ کبیرہ بلکہ صغیرہ گناہوں کے ارتکاب سے بھی کافر ہوجاتا ہے۔

3505Mishkaat-al-Masabih

خوارج کے بارے میں آنحضرت ﷺ کی پیش گوئی

وعن أبي سعيد الخدري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يكون أمتي فرقتين فيخرج من بينهما مارقة يلي قتلهم أولاهم بالحق . رواه مسلم

اور حضرت ابوسعید خدری کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کچھ دنوں بعد میری امت دو فرقوں میں تقسیم ہوجائے گی ان دونوں فرقوں میں ایک ایسی جماعت پیدا ہوگی جو حق کی اطاعت سے نکلنے والی ہوگی اس جماعت کو موت کے گھاٹ اتارنے کی ذمہ داری ان دونوں فرقوں میں سے وہ شخص پورا کرے گا جو حق سے زیادہ قریب ہوگا۔ (مسلم) تشریح دو فرقوں سے مراد ایک تو حضرت علی کے حامیوں کی جماعت ہے اور دوسری حضرت امیر معاویہ کے حامیوں کی جماعت ہے ان دونوں کے درمیان سے جو ایک تیسری جماعت پیدا ہوئی اسی کو خوارج کہا گیا ہے خوارج کو فنا کے گھاٹ اتارنے اور ان کے فتنہ و فساد کا دفعیہ کرنے کی طرف حضرت علی متوجہ ہوئے کیونکہ اس وقت انہی کی شخصیت حق سے زیادہ قریب کا سب سے بڑا مصداق تھی۔

3506Mishkaat-al-Masabih

مسلمان کا مسلمان کو قتل کرنا کفر کے قریب پہنچ جانا ہے۔

وعن جرير قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم في حجة الوداع : لا ترجعن بعدي كفارا يضرب بعضكم رقاب بعض (2/305) 3538 - [ 6 ] ( متفق عليه ) وعن أبي بكرة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إذا التقى المسلمان حمل أحدهما على أخيه السلاح فهما في جرف جهنم فإذا قتل أحدهما صاحبه دخلاها جميعا . وفي رواية عنه : قال : إذا التقى المسلمان بسيفهما فالقاتل والمقتول في النار قلت : هذا القاتل فما بال المقتول ؟ قال : إنه كان حريصا على قتل صاحبه

اور حضرت جریر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ خبردار میرے بعد کفر کے ذریعہ پیچھے نہ پھرجانا کہ تم میں سے ایک دوسرے کی گردن مارنے لگے۔ (بخاری) تشریح تم میں سے ایک دوسرے کی گردن مارنے لگے یہ استیناف ہے یعنی ایک جملہ ہے جو اس ممانعت کفر کے ذریعہ پیچھے نہ پھرجانا کی وضاحت اور بیان ہے گویا سوال کرنے والے نے سوال کیا کہ کفر کے ذریعہ پیچھے پھرجانا ممکن ہے؟ تو جواب میں فرمایا گیا کہ مسلمانوں کا آپس میں ایک دوسرے کی گردن مارنا یعنی یہ ایک ایسا عمل ہے جو کافروں کے عمل کے مشابہ ہے یا یہ عمل کفر کے قریب پہنچا دیتا ہے۔ اور حضرت ابوبکرہ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جب دو مسلمانوں کی آپس میں اس طرح مڈبھیڑ ہو کہ ان میں کا ایک اپنے دوسرے (مسلمان) بھائی پر ہتھیار اٹھائے دوزخ میں ڈالے تو وہ دوزخ جائیں کنارے پر پہنچ جاتے ہیں اور پھر اگر ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کر دے تو دونوں ایک ساتھ دوزخ میں ڈالے جائیں گے۔ ایک روایت ابوبکرہ ہی سے یوں منقول ہے کہ آپ ﷺ نے فریا ما اگر دو مسلمانوں کی آپس میں تلوار کے ساتھ مڈبھیڑ ہو اور ان میں کا ایک دوسرے کو قتل کر دے تو قاتل و مقتول دونوں ہی دوزخ کی آگ میں ڈالے جائیں گے میں نے عرض کیا کہ قاتل کا دوزخ میں جانا تو ظاہر ہے کہ اس نے چونکہ ظلم کیا ہے اس لئے وہ دوزخ میں ڈالا جائے گا مگر مقتول کے بارے میں ایسا کیوں ہے؟ کہ وہ تو مظلوم ہے اس کو دوزخ میں کیوں ڈالا جائے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا اس لئے کہ وہ بھی تو اپنے ساتھی یعنی حریف کو قتل کرنے پر آمادہ تھا یہ اور بات ہے کہ اس کا وار خالی گیا اور دوسرے کا وار بھر پور پڑا۔ (بخاری ومسلم) تشریح دونوں ایک ساتھ دوزخ میں ڈالے جائیں گے کہ بارے میں علماء لکھتے ہیں کہ یہ حکم اس صورت میں ہے جب کہ ان دونوں میں سے ایک بھی حق پر نہ ہو، ہاں اگر ان میں سے ایک حق پر ہوگا تو دوزخ کی آگ میں اسی کو ڈالا جائے گا جو ناحق پر ہوگا، لیکن یہ بھی اسی صورت میں ہے جب کہ اشتباہ، التباس اور تاویل سے قتل سرزد نہ ہو۔ وہ بھی تو اپنے ساتھی کو قتل کرنے پر آمادہ تھا اور ابن ملک کہتے ہیں کہ یہ ارشاد اس بات کی دلیل ہے کہ کسی حرام چیز کے ارتکاب کی محض آمادگی پر بھی مواخذہ ہوتا ہے چناچہ صورت مذکورہ میں یہی نوعیت ہے کہ وہ دونوں ہی ایک دوسرے کی جان کے طلبگار ہوتے ہیں ہاں اگر مقتول محض اپنے دفاع کا ارادہ رکھتا ہو اور اس کی نیت میں دوسرے کے قتل کی خواہش و ارادہ کا دخل نہ ہوتا تو اس سے مواخذہ نہ ہوتا کیونکہ شریعت نے دفاعی کاروائی کی اجازت دی ہے۔

3507Mishkaat-al-Masabih

مرتد اور قزاقوں کی سزا

وعن أنس قال : قدم على النبي صلى الله عليه و سلم نفر من عكل فأسلموا فاجتووا المدينة فأمرهم أن يأتوا إبل الصدقة فيشربوا من أبوالها وألبانها ففعلوا فصحوا فارتدوا وقتلوا رعاتها واستاقوا الإبل فبعث في آثارهم فأتي بهم فقطع أيديهم وأرجلهم وسمل أعينهم ثم لم يحسمهم حتى ماتوا . وفي رواية : فسمروا أعينهم وفي رواية : أمر بمسامير فأحميت فكحلهم بها وطرحهم بالحرة يستسقون فما يسقون حتى ماتوا

اور حضرت انس کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں قبیلہ عکل کے کچھ لوگ آئے اور اسلام قبول کیا لیکن ان کو مدینہ کی آب وہوا موافق نہ آئی جس کی وجہ سے وہ اس مرض میں مبتلا ہوگئے کہ ان کے پیٹ پھول گئے اور رنگ زرد ہوگیا آنحضرت ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ شہر سے باہر زکوٰۃ کے اونٹوں کے رہنے کی جگہ چلے چائیں اور وہاں ان اونٹوں کا پیشاب اور دودھ پیا کریں، چناچہ انہوں نے اس پر عمل کیا اور اچھے ہوگئے پھر وہ ایسی گمراہی میں مبتلا ہوئے کہ مرتد ہوگئے اور مستزاد یہ کہ ان اونٹوں کے چرواہوں کو قتل کر کے اونٹوں کو ہانک کرلے گئے جب رسول کریم ﷺ کو اس کا علم ہوا تو آپ ﷺ نے ان کے پیچھے چند سواروں کو بھیجا جو ان سب کو پکڑ لائے۔ ان کے اس جرم کی سزاء کے طور پر آنحضرت ﷺ کے حکم سے ان کے ہاتھ پیر کاٹ دیئے گئے اور ان کی آنکھیں پھوڑ دی گئیں یہاں تک کہ ان کے ہاتھوں اور پیروں کو گرم تیل میں داغا نہیں گیا یعنی جیسا کہ قاعدہ ہے کہ ان اعضاء کو کاٹنے کے بعد گرم تیل میں داغ دیا جاتا ہے تاکہ خون بند ہوجائے لیکن ان کے ساتھ یہ بھی نہیں کیا گیا) آخر کار وہ سب مرگئے! تشریح ان اونٹوں کا پیشاب اور دودھ پیا کریں اس ارشاد گرامی سے حضرت امام محمد نے یہ استدلال کیا ہے کہ جن جانوروں کا گوشت حلال ہے ان کا پیشاب بھی پاک ہے یہی قول امام مالک اور حضرت امام احمد کا ہے لیکن حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور حضرت امام ابویوسف کے نزدیک ان جانوروں کا پیشاب نجس (ناپاک) ہے ان کی طرف سے اس ارشاد گرامی کی یہ تاویل کی جاتی ہے کہ ان لوگوں کے مرض کی نوعیت کے اعتبار سے آنحضرت ﷺ کو بذریعہ وحی یہ معلوم ہوا ہوگا کہ ان کے مرض کا علاج صرف اونٹ کا پیشاب ہے اس لئے آپ ﷺ نے مخصوص طور پر ان لوگوں کو اس کا حکم دیا۔ پھر حضرت امام اعظم ابوحنیفہ تو یہ فرماتے ہیں کہ جس طرح اونٹ کا پیشاب پینا دوا کے علاوہ حلال نہیں ہے اسی طرح دوا کے طور پر پینا بھی حلال نہیں ہے، کیونکہ اس بات پر کوئی متفق نہیں ہے کہ پیشاب میں کسی مرض کی شفا ہے، لیکن حضرت امام ابویوسف کے نزدیک کسی مرض کے علاج کے لئے پینا حلال ہے۔ ابن مالک فرماتے ہیں کہ باوجودیکہ آنحضرت ﷺ نے مثلہ سے منع فرمایا ہے لیکن آپ ﷺ نے ان لوگوں کو اس طرح کی سزا دی، اس کی وجہ یا تو یہ ہے کہ ان لوگوں نے اونٹوں کے چرواہوں کے ساتھ یہی برتاؤ کیا تھا اس لئے آنحضرت ﷺ نے بطور قصاص ان لوگوں کے ساتھ بھی ویسا ہی معاملہ کیا یا یہ وجہ تھی کہ چونکہ ان مفسدوں نے بہت بڑے جرم کا ارتکاب کیا تھا یعنی مرتد بھی ہوئے، چرواہوں کو قتل بھی کیا ہے اور قزاقی بھی کی کہ لوٹ مار کر کے سارے اونٹ لے گئے اور امام وقت کو حق پہنچتا ہے کہ اس قسم کے جرم کی صورت میں بطور زجر و تنبیہ اور ب مصلحت امن و انتظام مجرم کو مختلف طرح کی سزائیں دے چناچہ آپ ﷺ نے اسی کے پیش نظر ان لوگوں کے ساتھ اس طرح معاملہ کیا۔ نووی کہتے ہیں کہ اس حدیث کے معنی ومنشاء کے بارے میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں، بعض حضرات تو یہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں جو واقعہ نقل کیا گیا ہے وہ ان آیات کے نازل ہونے سے پہلے کا ہے جن میں حدود شرعی سزاؤں اور قزاقوں کی سزا کے بارے میں صریح احکام بیان کئے گئے ہیں اسی طرح آنحضرت ﷺ نے مثلہ کی جو ممانعت فرمائی ہے وہ بھی اس واقعہ کے بعد کا حکم ہے اس اعتبار سے یہ حدیث منسوخ ہے، لیکن دوسرے بعض حضرات کا قول یہی ہے کہ یہ حدیث منسوخ ہے، بلکہ اسی موقعہ پر وہ آیت نازل ہوئی تھی جس میں قزاقوں کی یہ سزا بیان کی گئی ہے کہ ان کو قتل کردیا جائے یا سولی دے دی جائے اور ان کا ایک اور پیر کاٹ دیا جائے، لیکن آنحضرت ﷺ نے ان لوگوں کو جو سزا دی وہ بطور قصاص تھی کہ انہوں نے اونٹوں کے چرواہوں کے ساتھ جو معاملہ کیا تھا ان کے ساتھ بھی وہی معاملہ کیا گیا۔ اب رہی یہ بات کہ آخری وقت میں ان مفسدوں کو پانی کیوں نہیں دیا گیا، تو اس کے بارے میں بعض علماء کا کہنا ہے کہ یہ بھی قصاص کے طور پر تھا کہ ان مفسدوں نے بھی اونٹوں کے چرواہوں کو اسی طرح بغیر پانی کے تڑپا تڑپا کر مار ڈالا تھا چناچہ ان کے ساتھ بھی یہی کیا گیا کہ جب انہوں نے پانی مانگا تو انہیں پانی نہیں دیا گیا، لیکن بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ ان کو پانی نہ دینے کا حکم آنحضرت ﷺ نے نہیں دیا تھا بلکہ لوگوں نے ان مفسدوں کے تئیں انتہائی نفرت اور غصہ کے اظہار کے طور پر از خود ان کو پانی نہیں دیا۔ اس بارے میں جہاں تک مسئلہ کا تعلق ہے تو علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جو شخص سزا موت کا مستوجب ہوچکا ہو اور اس کو قتل کرنا واجب ہو وہ اگر پانی مانگے تو پانی دینے سے انکار نہ کرنا چاہئے۔

3508Mishkaat-al-Masabih

مثلہ کی ممانعت

عن عمران بن حصين قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يحثنا على الصدقة وينهانا عن المثلة . رواه أبو داود ( جيد ) ورواه النسائي عن أنس

حضرت عمران ابن حصین کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ صدقہ دینے پر ہمیں رغبت دلاتے تھے اور مثلہ سے منع فرماتے تھے (ابو داؤد، ) نسائی نے اس روایت کو حضرت انس ؓ سے نقل کیا ہے۔ تشریح جسم کے کسی عضو جیسے ناک، کان، ستر یا کسی اور حصہ جسم کے کاٹ ڈالنے کو مثلہ سے منع فرمانا بعض حضرات کے نزدیک تو بطور تحریم ہے یعنی یہ مکروہ تحریمی ہے اور بعض حضرات کہتے ہیں کہ بطور تنزیہی ہے یعنی یہ مکروہ تنزیہی ہے لیکن زیادہ صحیح قول تحریم ہی کا ہے جہاں تک اس سے پہلی حدیث میں مذکورہ واقعہ کا تعلق ہے تو یہ بات وہاں بھی بتائی جا چکی ہے کہ آپ کی طرف سے ان مفسدوں کے اعضاء جسم کا کاٹا جانا قصاص کے طور پر تھا۔

3509Mishkaat-al-Masabih

جانوروں کے ساتھ آنحضرت ﷺ کا جذبہ رحمت

وعن عبد الرحمن بن عبد الله عن أبيه قال : كنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في سفر فانطلق لحاجته فرأينا حمرة معها فرخان فأخذنا فرخيها فجاءت الحمرة فجعلت تفرش فجاء النبي صلى الله عليه و سلم فقال : من فجع هذه بولدها ؟ ردوا ولدها إليها . ورأى قرية نمل قد حرقناها قال : من حرق هذه ؟ فقلنا : نحن قال : إنه لا ينبغي أن يعذب بالنار إلا رب النار . رواه أبو داود

اور حضرت عبدالرحمن بن عبداللہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا ایک مرتبہ ہم لوگ رسول کریم ﷺ کے ہمراہ سفر میں تھے جب ایک موقع پر آنحضرت ﷺ قضائے حاجت کے لئے تشریف لے گئے تو ہم نے ایک حمرہ کو دیکھا جس کے ساتھ دو بچے تھے ہم نے ان دونوں بچوں کو پکڑ لیا، اس کے بعد حمرہ آئی اور اپنے بچوں کی گرفتاری پر احتجاج شروع کیا جبھی نبی کریم ﷺ تشریف لے آئے، آپ ﷺ نے جب حمرہ کو اس طرح بیتاب دیکھا تو فرمایا کہ کس نے اس کے بچوں کو پکڑ کر اس کو مضطرب کر رکھا ہے؟ اس کے بچے اس کو واپس کردو پھر آپ ﷺ نے ان چیونٹیوں کے رہنے کی جگہ کو دیکھا جس کو ہم نے جلا دیا تھا اور فرمایا کہ ان چیونٹیوں کو کس نے جلایا ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ ہم نے جلایا ہے آپ ﷺ نے فرمایا پروردگار کے علاوہ کہ جو آگ کا بھی مالک ہے اور کسی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ کسی کو آگ کے عذاب میں مبتلا کرے۔ (ابو داؤد) تشریح حمرہ ح پر پیش اور میم پر تشدید و زبر ایک پرندے کا نام سے جو سرخ رنگ کا اور چڑیا کی مانند چھوٹا ہوتا ہے، حدیث کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ آگ کے ذریعہ کسی کو عذاب دینا صرف اللہ تعالیٰ ہی کے شایاں ہے اور چونکہ یہ سب سے بڑا عذاب ہے اس لئے کسی انسان کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی کو آگ میں جلائے۔ چیونٹیوں کے بارے میں مسئلہ یہ ہے اگر چیونٹیاں تکلیف پہنچانے میں ابتداء کریں یعنی از خود کسی کو کاٹنے لگیں تو ان کو مار ڈالنا چاہئے ورنہ ان کو مارنا مناسب نہیں ہے، اسی طرح چیونٹیوں کے بلوں کو آگ سے جلانا بھی ممنوع ہے، نیز چیونٹیوں کو پانی میں ڈالنا مکروہ ہے اگر ایک چیونٹی کاٹے تو صرف اسی کو مارا جائے اس کے ساتھ اور چیونٹیوں کو مار ڈالنے کی ممانعت ہے۔

3510Mishkaat-al-Masabih

ایک باطل فرقہ کے بارے میں پیش گوئی

وعن أبي سعيد الخدري وأنس بن مالك عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : سيكون في أمتي اختلاف وفرقة قوم يحسنون القيل ويسيئون الفعل يقرؤون القرآن لا يجاوز تراقيهم يمرقون من الدين مروق السهم في الرمية لا يرجعون حتى يرتد السهم على فوقه هم شر الخلق والخليقة طوبى لمن قتلهم وقتلوه يدعون إلى كتاب الله وليسوا منا في شيء من قاتلهم كان أولى بالله منهم قالوا : يا رسول الله ما سيماهم ؟ قال : التحليق . رواه أبو داود

اور حضرت ابوسعید خدری اور حضرت انس ابن مالک رسول کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا عنقریب میری امت میں اختلاف وافتراق پیدا ہوگا ایک فرقہ جو باتیں تو اچھی کرے گا مگر اس کا عمل برا ہوگا اس فرقہ کے لوگ قرآن کریم پڑھیں گے لیکن ان کا وہ پڑھنا ان کے حلق سے نیچے نہیں جائے گا یعنی قبول نہیں ہوگا اور وہ لوگ دین یعنی امام وقت اور علماء حق کی اطاعت سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار کے درمیان سے نکل جاتا ہے اور وہ دین کی طرف اس وقت تک نہیں لوٹیں گے جب تک کہ تیر اپنے سوفار کی طرف نہ لوٹ آئے اور وہ لوگ آدمیوں اور جانوروں میں سب سے بدترین ہوں گے۔ خوشخبری ہے اس شخص کے لئے جو ان لوگوں کو قتل کر دے یا وہ لوگ اس کو قتل کردیں۔ یعنی جو شخص ان لوگوں کے فتنہ اور ان کی گمراہی کا سر کچلنے کے لئے ان کا مقابلہ کرے یہاں تک کہ یا تو وہ ان لوگوں کو فنا کے گھاٹ اتار دے یا وہ ان لوگوں سے حق کے لئے لڑتا ہوا خود قتل ہوجائے تو دونوں صورتوں میں اس کے لئے حق تعالیٰ کی خوشنودی اور آخرت کی سعادتوں کی خوشخبری ہے کہ پہلی صورت میں تو وہ غازی کا لقب پائے گا اور دوسری صورت میں شہادت کا عظیم مرتبہ حاصل کرے گا وہ بظاہر تو انسانوں کو کتاب اللہ کی دعوت دیں گے لیکن رسول کریم ﷺ کی سنت اور ان کی احادیث کو ترک کرنے پر اکسائیں گے حالانکہ احادیث نبوی ﷺ قرآن کریم کی تفسیر و تشریح ہیں کہ احادیث کے بغیر قرآن کریم کو سمجھنا اور اس کے احکام پر عمل کرنا ناممکن ہے وہ لوگ کسی معاملہ میں ہم مسلمانوں میں سے نہیں ہیں یعنی وہ کسی بات میں مسلمان شمار نہیں ہوں گے جو شخص ان لوگوں کو فنا کے گھاٹ اتارے گا وہ اپنی جماعت میں اللہ کے سب سے زیادہ قریب ہوگا صحابہ نے یہ سن کر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! ان لوگوں کی پہنچان کیا ہے؟ آپ نے فرمایا سرمنڈانا۔ (ابو داؤد ) تشریح میری امت میں اختلاف وافتراق پیدا ہوگا کا مطلب یہ ہے کہ میری امت میں کچھ ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو آپس میں اختلاف وافتراق کو ہوا دیں گے اور اپنی اغراض کے لئے امت کے اتحاد کو ختم کرنے کی کوشش کریں گے! یہ جملہ ایک فرقہ باتیں تو اچھی کرے گا ماقبل کے جملہ کی وضاحت اور بیان ہے یعنی امت میں جو لوگ اختلاف وافراق پیدا کرنے کی کوشش کریں گے ان کی ایک خاص علامت یہ ہوگی کہ وہ باتیں تو بڑی اچھی اچھی کریں گے لیکن ان کا عمل بہت ہی برا ہوگا ان کی زبان سے تو یہ ظاہر ہوگا کہ پوری امت میں یہی لوگ ہیں جو دین کے شیدائی ہے، اللہ اور رسول ﷺ کے سچے اطاعت گزار ہیں اور مسلمانوں کے بھی خواہ ہیں لیکن ان کے عمل و کردار کا یہ حال ہوگا کہ وہ اپنی اغراض کے لئے مسلم دشمن طاقتوں کا آلہ کار اپنے نفس کے غلام اپنی خواہشات کے بندے اور مال وجاہ کے حرص میں مبتلا ہوں گے اور ان کا مقصد اتحاد امت کی جڑیں کھوکھلی کرنا ہوگا۔ یہ جملہ (یقرؤون القران) اس فرقہ کے لوگ قرآن پڑھیں گے یا تو استیناف یعنی ایک الگ جملہ ہے جو ماقبل کی عبارت کی توضیح وبیان ہے یا شاطبی کے مسلک کے مطابق بدل ہے یا پھر اس سے نفس اختلاف کی وضاحت مراد ہے کہ عنقریب میری امت کے لوگوں میں اختلاف و افتراق پیدا ہوجائے گا اور دو فرقوں میں تقسیم ہوجائیں گے ان میں سے ایک فرقہ حق پر ہوگا اور ایک فرقہ باطل پر ہوگا طیبی کہتے ہیں کہ اس تاویل کی تائید آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد سے بھی ہوتی ہے جو اسی باب کی پہلی فصل میں نقل ہوچکا ہے کہ حدیث (تکون امتی فرقتین فتخرج من بینہما مارقۃ یلی فتلہم اولاہم بالحق) اس صورت میں کہا جائے گا کہ لفظ قوم مابعد کے جملہ کا موصوف ہے اور ایک کی خبر جملہ (یقرؤوں القران) ہے اور اس جملہ کا مقصد ان دونوں فرقوں میں سے ایک فرقہ کی (جو باطل ہے ) نشان دہی کرنا ہے جب کہ دوسرے فرقہ کے ذکر کو اس لئے چھوڑ دیا گیا ہے کہ وہ خود بخود مفہوم ہوجاتا ہے۔ حدیث (لا یجاوز تراقیہم) ان کا پڑھنا ان کے حلق سے نیچے نہیں جائے گا کا مطلب یہ ہے کہ چونکہ وہ لوگ بنیادی طور پر گمراہی میں مبتلا ہوں گے اور محض آلہ کار کے طور پر قرآن کریم کی آیات کا کوئی بھی اثر نہ ان کے دل پر ہوگا اور نہ ان کے دوسرے اعضاء حرکت وعمل اثر ان کا مخارج حروف اور ان کی آوازوں سے آگے نہیں جائے گا جس کی وجہ سے قرآن کریم کی آیات کا کوئی بھی اثر نہ ان کے دل پر ہوگا اور نہ ان دوسرے اعضاء حرکت وعمل اثر پذیر ہوں گے چناچہ قرآن کریم کی جن باتوں پر یقین و اعتقاد کرنا لازم ہے ان پر وہ اعتقاد و یقین نہیں رکھیں گے اور قرآن کریم کی جن باتوں پر عمل کرنا ضروری ہے وہ ان پر عمل نہیں کریں گے۔ یا اس جملہ کے یہ معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی قرأت کو اس دنیا سے اوپر نہیں اٹھائے گا یعنی اس کو قبول نہیں کرے گا گویا ان کی قرأت ان کے حلقوم سے آگے نہیں بڑھے گی۔ حدیث (حتی یرتد السہم علی فوقہ) جب کہ تیر اپنے سوفار کی طرف نہ لوٹ آئے یہ تعلیق بالمحال ہے یعنی جس طرح تیر کا اپنے سوفار اپنی چٹکی کی جگہ واپس آنا محال ہے اسی طرح ان لوگوں کا دین کی طرف آنا بھی محال ہے گویا یہ جملہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد آیت (حتی یلج الجمل فی سم الخیاط) کی مانند ہے اور اس جملے کا منشاء اس بات کو تاکید اور شدت کے ساتھ بیان کرنا ہے کیونکہ وہ لوگ سخت قسم کی جہالت اور گمراہی میں مبتلا ہوں گے اور یہ غلط گمان ان کے قلب و دماغ میں بیٹھ چکا ہوگا کہ ہم حق اور ہدایت پر ہیں اس لئے ان کا دین کے دائرہ میں لوٹ آنا ناممکن ہوگا۔ سرمنڈانا آپ ﷺ نے یہ بات شائد اس لئے فرمائی کہ اس زمانہ میں عرب میں سرمنڈانے کا رواج نہیں تھا، بلکہ اکثر لوگ سروں پر بال رکھا کرتے تھے، اس ارشاد کا مقصد سرمنڈانے کی برائی یا تحقیر کرنا نہیں ہے کیونکہ سرمنڈانا تو اللہ کے شعار اور اس کی طاعت میں سے ایک عمل ہے اور ان لوگوں کی عادات میں سے ہے جو اللہ کے نیک و صالح بندے ہیں۔ بعض حضرات یہ فرماتے ہیں کہ تحلیق سے مراد سرمنڈانا نہیں ہے بلکہ لوگوں کو حلقہ در حلقہ بٹھانا مراد ہے جو ان لوگوں کی طرف سے محض نمائش اور تکلف کے طور پر ہوگا۔

3511Mishkaat-al-Masabih

وہ تین صورتیں جن میں ایک مسلمان کو سزائے موت دی جاسکتی ہے

وعن عائشة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يحل دم امرئ مسلم يشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله إلا بإحدى ثلاث زنا بعد إحصان فإنه يرجم ورجل خرج محاربا لله ورسوله فإنه يقتل أو يصلب أو ينفى من الأرض أو يقتل نفسا فيقتل بها . رواه أبو داود

اور حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا نفس مسلمان کہ جو اس امر کی شہادت دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، اس کا خون حلال نہیں ہے ہاں ان تین صورتوں میں سے کوئی ایک صورت واقع ہوجانے کی وجہ سے اس کا خون حلال ہوجاتا ہے ایک تو یہ کہ وہ محصن ہونے کے بعد زنا کرے تو اس کو سنگسار کردیا جائے دوسری صورت یہ کہ کوئی شخص اللہ اور اس کے رسول سے لڑنے کے لئے نکلے یعنی جو مسلمان قزاقی کرے یا بغاوت کی راہ پر لگ جائے تو اس کو قتل کردیا جائے یا سولی دے دی جائے اور یا اس کو قید میں ڈال دیا جائے اور تیسری صورت قتل نفس کی ہے کہ جو مسلمان کسی کو عمداً قتل کر دے تو اس کے بدلے میں اس کو قتل کردیا جائے۔ (ابو داؤد) تشریح محصن ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ مسلمان جو آزاد ہو مکلف ہو اور نکاح صحیح کے ساتھ صحبت کرچکا ہو یعنی شادی شدہ ہو اور پھر اس کے بعد زنا کا مرتکب ہو اس کی سزا یہ ہے کہ اس کو سنگسار کر کے ختم کردیا جائے۔ قزاقی کرنے والے کے بارے میں تین سزائیں بیان کی گئی ہیں۔ (١) قتل کردیا جائے۔ (٢) سولی دیا جائے (٣) قید میں ڈالا جائے ان تینوں میں تفصیل یہ ہے کہ اگر وہ قزاق مال تو نہ لوٹ سکا ہو مگر اس نے کسی کو جان سے مار ڈالا ہو تو اس صورت میں اس کو قتل کیا جائے گا اور اگر اس نے مال بھی لوٹا ہو اور کسی کو قتل بھی کیا ہو تو اس صورت میں اس کو سولی دی جائے گی۔ اب اس کے متعلق حضرت امام مالک تو یہ فرماتے ہیں کہ اس کو زندہ سولی پر لٹکا دیا جائے تاکہ وہ مرجائے لیکن حضرت امام شافعی یہ فرماتے ہیں کہ اس کو قتل کر کے اس کی لاش سولی پر لٹکا دی جائے تاکہ دوسرے لوگوں کو اس کے انجام سے عبرت ہو۔ تیسری سزا قید کی ہے اس کے لئے حدیث میں (ینفیٰ فی الارض) کے الفاظ ہیں اس کے معنی حضرت امام شافعی کے نزدیک تو یہ ہے کہ اس کو مسلسل شہر بدر کیا جاتا رہے یعنی اسے کسی ایک شہر میں ٹھہرنے اور رہنے نہ دیا جائے بلکہ ایک شہر سے دوسرے شہر کی طرف نکالا جاتا رہے تاکہ اسے قرار و آرام نہ مل سکے لیکن حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک ان الفاظ کے معنی یہ ہیں کہ اس کو قید میں ڈال دیا جائے اور یہ قید کی سزا اس صورت میں ہے جب کہ اس نے نہ تو مال لوٹا ہو اور نہ کسی کو قتل کیا ہو بلکہ راہگیروں کو ڈرایا دھمکایا ہو اس طرح اس نے راستے کے امن و عافیت کی طرف سے لوگوں کو خوف و تشویش میں مبتلا کیا ہو حدیث کا یہ جزء جس میں قزاقوں اور راہزنوں کی مذکورہ بالا سزاؤں کا حکم ہے؟ دراصل قرآن کریم کی اس آیت سے مستبظ ہے کہ ا یت (اِنَّمَا جَزٰ ؤُا الَّذِيْنَ يُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَه وَيَسْعَوْنَ فِي الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ يُّقَتَّلُوْ ا اَوْ يُصَلَّبُوْ ا اَوْ تُ قَطَّعَ اَيْدِيْهِمْ وَاَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ يُنْفَوْا مِنَ الْاَرْض )۔ 5۔ المائدہ 33) جو لوگ اللہ تعالیٰ اس کے رسول ﷺ سے لڑتے ہیں اور ملک میں فساد یعنی بدامنی پھلاتے پھرتے ہیں ان کی سزا یہ ہے کہ وہ قتل کئے جائیں یا سولی دئیے جائیں، یا ان میں سے ہر ایک کا ایک طرف کا ہاتھ اور دوسری طرف کا پاؤں کاٹ دیا جائے یا زمین سے نکال کر جیل خانہ میں بھیج دیئے جائیں اس اعتبار سے بظاہر حدیث میں (او ینفیٰ فی الارض) سے پہلے یہ عبارت (او یقطع یدہ ورجلہ) میں خلاف بھی ہونی چاہئے تھی تاکہ یہ حدیث مذکورہ آیت کی پوری مطابق ہوجاتی لیکن یہ قوی احتمال ہے کہ اصل حدیث میں تو یہ عبارت رہی ہو البتہ یہاں حدیث کے راوی کی بھول سے نقل ہونے سے رہ گئی ہو یا راوی نے اختصار کے پیش نظر اس کو قصدًا حذف کردیا ہے۔ حرف او حدیث میں بھی قرآن کی آیت میں بھی اظہار تفصیل کے لئے ہے لیکن بعض حضرات یہ فرماتے ہیں کہ تخییر کے لئے ہے یعنی یہ ظاہر کرنے کے لئے ہے کہ امام وقت اور حاکم کو یہ اختیار ہے کہ وہ مذکورہ تفصیل کا لحاظ کئے بغیر ان سزاؤں میں سے جو سزا مناسب جانے قزاق کو دے۔

3512Mishkaat-al-Masabih

کسی مسلمان کو خوف ودہشت میں مبتلا کرنے کی ممانعت

وعن ابن أبي ليلى قال : حدثنا أصحاب محمد صلى الله عليه و سلم أنهم كانوا يسيرون مع رسول الله صلى الله عليه و سلم فنام رجل منهم فانطلق بعضهم إلى حبل معه فأخذه ففزع فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يحل لمسلم أن يروع مسلما . رواه أبو داود

اور حضرت ابن ابی لیلی (تابعی) کہتے ہیں کہ محمد ﷺ کے صحابہ نے ہم سے یہ حدیث بیان کی کہ وہ کسی موقع پر رات میں رسول کریم ﷺ کے ہمراہ سفر میں تھے ان میں سے ایک شخص جب کسی پڑاؤ پر سو گیا تو ان میں کا ایک دوسرا شخص اپنی جگہ سے اٹھ کر چلا اور سونے والا اس سے ڈر گیا، آنحضرت ﷺ نے بھی اس کی یہ حرکت دیکھ لی یا آپ ﷺ نے اس کے بارے میں سنا تو فرمایا کہ کسی مسلمان کے لئے یہ بات حلال نہیں ہے کہ وہ کسی مسلمان کو ڈرائے۔ (ابو داؤد )

3513Mishkaat-al-Masabih

اسلام کی عزت کا کفر کی ذلت سے سودا نہ کرو

وعن أبي الدرداء عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من أخذ أرضا بجزيتها فقد استقال هجرته ومن نزع صغار كافر من عنقه فجعله في عنقه فقد ولى الإسلام ظهره . رواه أبو داود

اور حضرت ابودرداء رسول کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے کسی جزیہ والی زمین کو خریدا اس نے اپنی ہجرت کو توڑ دیا اور جس نے کافر کی ذلت کو اس کی گردن سے نکال کر اپنی گردن میں ڈال لیا اس نے اسلام کو پس پشت ڈال دیا۔ (ابو داؤد) تشریح مطلب یہ ہے کہ اگر کسی مسلمان نے کسی ذمی سے کوئی خراجی جزیہ والی زمین خریدی تو اس مسلمان پر اس زمین کا وہ جزیہ عائد ہوگا جو اس زمین کے پہلے مالک ذمی پر عائد تھا۔ اور اسی طرح گویا وہ مسلمان دار الاسلام کی طرف ہجرت کرنے کی وجہ سے جن حقوق اور جس شرف وعزت کے دائرہ میں تھا اس سے نکل جائے گا اور ایک کافر کی ذلت یعنی جزیہ کی سختی کو اپنے ہاتھوں اپنے گلے میں ڈالنے والا ہوگا۔ اور جس نے کافر کی ذلت کو اس کی گردن سے نکال کر۔۔۔۔۔ الخ۔ حدیث کا یہ جزء دراصل پہلے جزء کا بیان اور اس کی وضاحت ہے کہ جس مسلمان نے ایک کافر کے جزیہ کو اپنے ذمہ لے لیا اس نے گویا اسلام کی عطا کی ہوئی عزت دے کر کفر کی ذلت و رسوائی مول لے لی اور اس طرح اس نے کفر کو اسلام کا بدل قرار دیا ہے۔ خطابی کہتے ہیں کہ یہاں جزیہ سے مراد خراج ہے یعنی اگر کوئی مسلمان کسی کافر سے کوئی خراجی زمین خریدے گا تو اس زمین کا خراج ساقط نہیں ہوگا بلکہ اب وہ اس مسلمان پر عائد ہوجائے گا۔ چناچہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا یہی مسلک ہے۔

3514Mishkaat-al-Masabih

مسلمان، کافروں میں مخلوط نہ رہیں

وعن جرير بن عبد الله قال : بعث رسول الله صلى الله عليه و سلم سرية إلى خثعم فاعتصم ناس منهم بالسجود فأسرع فيهم القتل فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه و سلم فأمر لهم بنصف العقل وقال : أنا بريء من كل مسلم مقيم بين أظهر المشركين قالوا : يا رسول الله لم ؟ قال : لا تتراءى ناراهما . رواه أبو داود

اور حضرت جریر ابن عبداللہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے قبیلہ خثعم کے مقاتلہ پر ایک لشکر بھیجا تو اس قبیلہ کے کچھ لوگ (جو اسلام قبول کرچکے تھے لیکن ان کا رہن سہن قبیلہ کے کافروں ہی کے ساتھ تھا نماز کی پناہ پکڑنے لگے) یعنی لشکر والوں کو علم ہوجائے کہ یہ مسلمان ہیں اور اس طرح وہ حملہ سے بچ جائیں لیکن ان کے قتل میں عجلت سے کام لیا گیا یعنی لشکر والوں نے ان کے سجدوں کا اعتبار نہ کیا اور یہ گمان کر کے کہ یہ بھی کافر ہیں اور محض قتل سے بچنے کے لئے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر رہے ہیں ان کو بھی قتل کردیا جب اس واقعہ کی اطلاع رسول کریم ﷺ کو پہنچی تو آپ ﷺ نے ان مسلمان مقتولین کے ورثاء کو آدھی دیت دیئے جانے کا حکم دیا اور فرمایا کہ میں اس مسلمان سے بیزاری کا اظہار کرتا ہوں جو مشرکوں کے درمیان اقامت اختیار کرے صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ کی بیزاری کا سبب کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا مسلمانوں کو کافروں سے اتنی دور رہنا چاہئے کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کی آگ نہ دیکھ سکیں (لیکن اگر کوئی مسلمان کافروں میں مخلوط رہا تو گویا اس نے حکم کی پرواہ نہیں کی )۔ (ابو داؤد) تشریح رسول کریم ﷺ نے ان مقتولین کے مسلمان ہونے کا علم ہوجانے کے باوجود ان کے ورثاء کو پوری دیت کا حقدار قرار نہیں دیا بلکہ آدھی دیت دیئے جانے کا حکم فرمایا اس کا سبب یہ تھا کہ ان لوگوں نے مشرکین کے درمیان اقامت اختیار کر کے گویا خود اپنے قتل میں معاونت کی جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے اس کا اظہار بھی فرمایا کہ میں ہر اس مسلمان سے اپنی بیزاری اور برأت کا اظہار کرتا ہو جو مشرکین اور کفار کے درمیان اقامت پذیر ہو۔ وہ آپس میں ایک دوسرے کی آگ نہ دیکھ سکیں۔ کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان اور کافر ایک دوسرے سے اتنی دور اقامت اختیار کریں کہ اگر دونوں طرف آگ جلائی جائے تو مسلمان کی آگ کافر نہ دیکھ سکیں اور کافروں کی آگ مسلمان نہ دیکھ سکیں۔ جیسا کہ ترجمہ میں وضاحت کی گئی ہے اس جملہ میں آنحضرت ﷺ کی اس بیزاری کی علت مذکور ہے جو آپ ﷺ نے کافروں کے درمیان رہنے والے مسلمانوں کے متعلق ظاہر فرمائی ہے۔

3515Mishkaat-al-Masabih

بلا تحقیق حال کسی کو قتل نہ کرو

وعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : الإيمان قيد الفتك لا يفتك مؤمن . رواه أبو داود

اور حضرت ابوہریرہ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا ایمان اپنے حامل یعنی مؤمن کو اس بات سے روکتا ہے کہ وہ کسی کو ناگہاں قتل کر دے، لہٰذا کوئی مؤمن ناگہاں قتل نہ کرے۔ (ابو داؤد) تشریح حدیث کا حاصل یہ ہے کہ کسی مسلمان کو یہ نہ چاہئے کہ وہ غفلت میں کسی کی جان لے لے اور کسی کو اس کے حال کی تحقیق کے بغیر کہ وہ مسلمان ہے یا کافر، قتل کر دے۔ چونکہ ذمی کافر، اسلامی حکومت کی طرف سے جان ومال کی حفاظت کے عہد و یقین دہانی کے زیر سایہ ہوتا ہے اس لئے اس کا بھی یہی حکم ہے کہ اس کو بھی قتل نہ کیا جائے ہاں اگر کوئی مفسد وغدار ہو کہ وہ مسلمانوں کے در پئے آزار ہو اور فتنہ و فساد اور بدامنی پھیلاتا ہو تو اس کی بات دوسری ہے، جیسا کہ کعب ابن اشرف یہودی یا ابورافع کو ناگہاں قتل کیا گیا، علاوہ ازیں ان دونوں کو آنحضرت ﷺ نے جو قتل کیا وہ خاص بحکم الہٰی تھا۔ نیز بعض حضرات یہ بھی فرماتے ہیں کہ ان دونوں کا قتل، اس ممانعت سے پہلے کا واقعہ ہے۔

3516Mishkaat-al-Masabih

دار الحرب بھاگ جانے والے غلام کو قتل کردینے والا مستوجب مواخذہ نہیں

وعن جرير عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إذا أبق العبد إلى الشرك فقد حل دمه . رواه أبو داود

اور حضرت جریر نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جب کوئی غلام، شرک یعنی دار الحرب کی جانب بھاگ جائے تو اس کا خون حلال ہوگا۔ (ابو داؤد ) تشریح اس کا خون حلال ہوگا۔ کا مطلب یہ ہے کہ اگر ایسے غلام کو کوئی قتل کر دے تو قاتل سے کوئی مواخذہ نہیں ہوگا اور نہ اس پر کچھ واجب ہوگا بایں سبب کہ اس غلام نے مشرکوں کی محافظت اختیار کی اور دار الاسلام کو ترک کیا۔ اور اگر کوئی غلام نہ صرف یہ کہ دار الحرب بھاگ جائے بلکہ مرتد بھی ہوجائے تو اس کا خون بطریق اولی حلال ہوگا۔

3517Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والا ذمی مباح الدم ہے یا نہیں ؟

وعن علي رضي الله عنه أن يهودية كانت تشتم النبي صلى الله عليه و سلم وتقع فيه فخنقها رجل حتى ماتت فأبطل النبي صلى الله عليه و سلم دمها . رواه أبو داود

اور حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی کریم ﷺ کو برا بھلا کہا کرتی تھی اور آپ میں عیب نکال کر طعن کیا کرتی تھی، چناچہ آپ ﷺ کی شان اقدس میں یہ گستاخی ایک شخص برداشت نہ کرسکا اور اس عورت کا گلا گھونٹ ڈالا جس سے وہ مرگئی، نبی کریم ﷺ نے اس کا خون معاف کردیا۔ (ابو داؤد) تشریح اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ اگر کوئی ذمی کافر آنحضرت ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے لگے تو وہ اس عہد وذمہ کو توڑ دیتا ہے جس کی وجہ سے اسلامی حکومت میں اس کو اپنی جان ومال کی حفاظت حاصل تھی اور وہ مباح الدم حربی وہ کافر جس کا خون مباح ہو اس کی مانند ہوجاتا ہے جیسا کہ حضرت امام شافعی کا مسلک ہے، لیکن حضرت امام اعظم ابوحنفیہ فرماتے ہیں کہ اس کی وجہ سے اس ذمی کا عہد نہیں ٹوٹتا چناچہ یہ مسلک فقہ کی کتابوں میں کتاب الجزیہ کے آخر میں مذکور ہے اور ھدایہ میں اس کے دلائل بھی لکھے ہوئے ہیں،

3518Mishkaat-al-Masabih

ساحر کو قتل کردیا جائے

وعن جندب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : حد الساحر ضربة بالسيف . رواه الترمذيعن أسامة بن شريك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أيما رجل خرج يفرق بين أمتي فاضربوا عنقه . رواه النسائي

اور حضرت جندب کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جادوگر کو حد (شرعی سزا) یہ ہے کہ اس کو تلوار سے قتل کردیا جائے (ترمذی) تشریح علماء کا اس بات پر اجماع و اتفاق ہے کہ جادو کرنا حرام ہے۔ ویسے جادو کے مسئلہ میں علماء کے مختلف اقوال ہیں، حضرت امام شافعی تو یہ فرماتے ہیں کہ جادوگر کو قتل کردیا جائے بشرطیکہ اس کا جادو موجب کفر ہو اور وہ توبہ نہ کرے۔ حضرت امام ملک اور بعض دوسرے علماء کا قول یہ ہے کہ ساحر کافر ہے، سحر کفر ہے، سحر سیکھنا سیکھانا بھی کفر ہے ساحر کو قتل کردی جائے اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے خواہ اس نے کسی مسلمان پر سحر کیا ہو یا کسی ذمی پر۔ اور حنیفہ یہ کہتے ہیں کہ اگر ساحر کا یہ عقیدہ ہو کہ کار ساز شیطان کی ذات ہے کہ وہ میرے لئے جو چاہتا ہے کرتا ہے تو وہ کافر ہے اور اگر یہ عقیدہ ہو کہ سحر، مجرد خیال ہے تو وہ کافر نہ ہوگا بلکہ فاسق ہے اور سحر کا سیکھنا حرام ہے۔ درمختیار کے حاشیہ طحطاوی میں یہ لکھا ہے کہ سحر کی تین قسمیں ہیں۔ (١) فرض۔ (٢) حرام۔ (٣) جائز اگر کوئی شخص اہل حرب کے ساحر کے توڑ کے لئے سحر سیکھے تو وہ فرض ہے، اگر کوئی شخص اس مقصد کے لئے سیکھے کہ اس کے ذریعہ میاں بیوی کے درمیان تفریق کرا دے گا تو حرام ہے اور اگر اس مقصد کے لئے سیکھے کہ اس کے ذریعہ میاں بیوی کے درمیان پیار و محبت پیدا کرے گا تو جائز ہے۔ سحر کے کفر ہونے میں اگرچہ حنبلی علماء کے اختلافی اقوال ہیں لیکن تنقیح میں ان کی کتابوں کے حوالہ سے یہ نقل کیا گیا ہے کہ ساحر کی توبہ کا اعتبار نہ کیا جائے۔ ساحر اپنے سحر کی وجہ سے کافر ہوجاتا ہے اور جو شخص کسی مسلمان پر سحر کرے اس کو قتل کردیا جائے۔ سحر کی طرح کہانت، نجوم، رمل اور علم شعبدہ کا سیکھنا اور سیکھانا بھی حرام ہے اور اس کے ذریعہ کمایا ہوا مال بھی حرام ہے۔ حضرت اسامہ ابن شریک کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص امام وقت کے خلاف خروج کرے اور اس طرح وہ میری امت میں تفرقہ ڈالے تو اس کی گردن اڑا دو (نسائی) تشریح امام وقت، امت کے اتحاد واجماعیت کا بنیادی محور ہوتا ہے اس کی اطاعت و فرمانبرداری ہر مسلمان پر اسی لئے لازم ہے کہ اس کی وجہ سے نہ صرف اسلام کی تعلیم اجتماعیت کا تقاضہ پورا ہوتا ہے بلکہ مسلمان ایک جھنڈے کے نیچے متفق ومتحد رہ کر اسلام دشمن ومسلم مخالف طاقتوں کے مقابلہ پر ایک مضبوط چٹان بن جاتے ہیں اور اس طرح وہ اسلام کی شان و شوکت کو باقی رکھنے کا فریضہ انجام دیتے ہیں، لیکن اگر کوئی شخص اس اجتماعی دائرہ سے نکلتا ہے تو وہ صرف ایک برائی کا مرتکب نہیں ہوتا بلکہ پوری امت کے اتفاق و اتحاد کو ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے اسی لئے فرمایا گیا ہے کہ اگر کوئی اعتراض ہو تو اس کے اس شک وشبہ اور اعتراض کو دور کیا جائے گا لیکن اس کے باوجود وہ اپنی حرکت سے باز نہ آئے اور اصلاح کی کوئی کوشش اس کو سرکشی و بغاوت کی راہ سے واپس نہ لاسکے تو پھر اس کو مار ڈالا جائے جیسا کہ حضرت علی نے خوارج کے ساتھ کیا۔

3519Mishkaat-al-Masabih

خوارج کے متعلق پیشین گوئی

وعن شريك بن شهاب قال : كنت أتمنى أن ألقى رجلا من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم أسأله عن الخوارج فلقيت أبا برزة في يوم عيد في نفر من أصحابه فقلت له : هل سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يذكر الخوارج ؟ قال : نعم سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم بأذني ورأيته بعيني : أتي رسول الله صلى الله عليه و سلم بمال فقسمه فأعطى من عن يمينه ومن عن شماله ولم يعط من وراءه شيئا . فقام رجل من ورائه فقال : يا محمد ما عدلت في القسمة رجل أسود مطموم الشعر عليه ثوبان أبيضان فغضب رسول الله صلى الله عليه و سلم غضبا شديدا وقال : والله لا تجدون بعدي رجلا هو أعدل مني ثم قال : يخرج في آخر الزمان قوم كأن هذا منهم يقرؤون القرآن لا يجاوز تراقيهم يمرقون من الإسلام كما يمرق السهم من الرمية سيماهم التحليق لا يزالون يخرجون حتى يخرج آخرهم مع المسيح الدجال فإذا لقيتموهم هم شر الخلق والخليقة . رواه النسائي

اور حضرت شریک ابن شہاب تابعی کہتے ہیں کہ میری ایک یہ بڑی آرزو تھی کہ میں نبی کریم ﷺ کہ کسی صحابی سے ملاقات کی سعادت حاصل کروں اور ان سے خوارج کے بارے میں پوچھوں کہ آج کل جو خوارج پیدا ہو رہے ہیں کیا آنحضرت ﷺ نے ان کے متعلق کوئی پیشین گوئی کی تھی؟ چناچہ میں ایک صحابی حضرت ابوبرزہ سے عید کے دن ان کے دوستوں کی موجودگی میں ملا اور ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے رسول کریم ﷺ کو خوارج کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں! میں نے اپنے کانوں سے رسول کریم ﷺ کو خوارج کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے اور اپنی آنکھوں سے یہ واقعہ بھی دیکھا ہے کہ ایک مرتبہ رسول کریم ﷺ کی خدمت میں کچھ مال لایا گیا، آپ ﷺ نے اس مال کو حاضرین مجلس میں اس طرح تقسیم فرمایا کہ جو لوگ آپ کی داہنی جانب بیٹھے ہوئے تھے ان کو دیا اور جو لوگ بائیں جانب بیٹھے تھے ان کو دیا لیکن جو لوگ آپ کے پیچھے تھے ان کو کچھ نہیں دیا۔ چناچہ آپ ﷺ کے پیچھے بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ اے محمد ﷺ آپ ﷺ نے تقسیم میں انصاف نہیں کیا۔ وہ شخص کالے رنگ کا تھا، اس کے سر کے بال منڈے ہوئے تھے اور دو سفید کپڑے پہنے ہوئے تھا۔ (اسکی بات سن کر) رسول کریم ﷺ سخت غضبناک ہوگئے اور فرمایا کہ اللہ کی قسم! تم میرے بعد کسی شخص کو مجھ سے زیادہ انصاف کرنے والا نہیں پاؤ گے اور پھر فرمایا کہ آخر زمانہ میں ایک گروہ پیدا ہوگا اور یہ شخص گویا اسی گروہ کا ایک فرد ہے اس گروہ کے لوگ قرآن پڑھیں گے لیکن ان کا پڑھنا ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا اور وہ لوگ امام وقت کے خلاف خروج و سرکشی کے ذریعہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار کے درمیان سے نکل جاتا ہے ان لوگوں کی علامت یہ ہے کہ ان کے سرمنڈے ہوئے ہوں گے اس گروہ کے لوگ ہر زمانہ میں پائے جائیں گے اور ہمیشہ خروج کرتے رہیں گے یہاں تک کہ ان کا آخری شخص مسیح دجال یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف خروج کرے گا جب کہ وہ قیامت کے قریب دنیا میں نازل ہوں گے، لہٰذا جب بھی تمہارا ان سے سامنا ہوجائے ان کو قتل کر ڈالو، وہ لوگ آدمیوں اور جانوروں میں بد ترین مخلوق ہیں۔ (نسائی )

3520Mishkaat-al-Masabih

قیامت کے دن اہل حق کے چہرہ منور اور اہل باطل کے چہرے سیاہ ہوں گے

وعن أبي غالب رأى أبو أمامة رؤوسا منصوبة على درج دمشق فقال أبو أمامة : كلاب النار شر قتلى تحت أديم السماء خير قتلى من قتلوه ثم قرأ ( يوم تبيض وجوه وتسود وجوه ) الآية قيل لأبي أمامة : أنت سمعت من رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قال : لو لم أسمعه إلا مرة أو مرتين أو ثلاثا حتى عد سبعا ما حدثتكموه . رواه الترمذي وابن ماجه وقال الترمذي : هذا حديث حسن

اور حضرت ابوغالب (تابعی) کہتے ہیں کہ حضرت ابوامامہ (صحابی) نے (ایک دن) دمشق کی شاہراہ پر (خوارج کے) سر پڑے ہوئے دیکھے یا وہ سولی پر لٹکے ہوئے تھے تو انہوں نے فرمایا کہ یہ دوزخ کے کتے ہیں اور آسمان کے نیچے بدترین مقتول ہیں اور بہترین مقتول وہ ہے جس کو انہوں نے قتل کیا ہو۔ اور پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی۔ اس قیامت کے دن کہ بہت سے منہ سفید منور ہوں گے اور بہت سے منہ سیاہ ہوں گے ابوغالب نے حضرت ابوامامہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے یہ بات رسول کریم ﷺ سے سنی ہے؟ ابوامامہ نے فرمایا اگر میں نے یہ بات ایک بار دو بار تین بار یہاں تک کہ انہوں نے سات بار گنا نہ سنی ہوتی تو تمہارے سامنے بیان نہ کرتا یعنی اگر میں اس بات کو آنحضرت ﷺ سے اتنی کثرت سے بار بار نہ سنتا تو میں تمہارے سامنے بیان نہ کرتا۔ ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن ہے۔ تشریح حضرت ابوامامہ نے جو آیت پڑھی وہ پوری یوں ہے۔ (یوم تبیض وجوہ وتسود وجوہ فاما الذین اسودت وجوہہم اکفرتم بعد ایمانکم فذوقوا العذاب بما کنتم تکفرون )۔ (ال عمران ٣ ١٠٦) اس دن کو بہت سے منہ سفید (منور) ہوں گے اور بہت سے منہ کالے ہوں گے پس جن کے منہ کالے ہونگے ان سے کہا جائے گا کہ تم ایمان لانے کے بعد پھر کافر ہوگئے تھے؟ تو تم نے جو کچھ کفر کیا ہے اس کے بدلے میں عذاب چکھو۔ حدیث میں جن لوگوں کے سروں کا ذکر ہے ان کے بارے میں علماء لکھتے ہیں کہ وہ مرتد تھے، بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ بدعتی تھے، جب کہ حضرت ابوامامہ سے منقول ہے کہ وہ خوارج تھے۔