Mishkaat-al-Masabih

All 6,333 hadiths in order · Page 175 of 317

3481Mishkaat-al-Masabih

اپنے مال کی حفاظت کرنے والا شہید ہے

وعن عبد الله بن عمرو قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من قتل دون ماله فهو شهيد وعن أبي هريرة قال : جاء رجل فقال : يا رسول الله أرأيت إن جاء رجل يريد أخذ مالي ؟ قال : فلا تعطه مالك قال : أرأيت إن قاتلني ؟ قال : قاتله قال : أرأيت إن قتلني ؟ قال : فأنت شهيد . قال : أرأيت إن قتلته ؟ قال : هو في النار . رواه مسلم

اور حضرت عبداللہ ابن عمرو کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص اپنے مال کے لئے مارا جائے تو وہ شہید ہے (بخاری و مسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے مال و اسباب کی حفاظت کر رہا تھا کہ کسی نے اس کو قتل کردیا تو وہ شہید ہے یہی حکم اس شخص کے بارے میں ہے جو اپنے اہل و عیال کی حفاظت کرتا ہوا مارا جائے۔ اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے (جناب رسالت مآب میں حاضر ہو کر) عرض کیا کہ یا رسول اللہ! مجھے بتایئے اگر کوئی شخص میرے پاس میرا مال (زبردستی) لینے آئے (تو کیا میں مال اس حوالے کر دوں؟ ) آنحضرت ﷺ نے فرمایا نہیں تم اس کو اپنا مال نہ دو اس نے عرض کیا یہ بتایئے اگر وہ مجھ سے لڑ پڑے (تو کیا کروں) آنحضرت ﷺ نے فرمایا تم بھی اس سے لڑو اس نے عرض کیا بتایئے اگر اس نے مجھے مار ڈالا آپ نے فرمایا تم شہید ہو گے دریافت کیا اگر وہ مرجائے (تو اس کا کیا حشر ہوگا؟ ) آپ ﷺ نے فرمایا وہ دوزخ میں جائے گا (اور تم پر اس کا کوئی وبال نہیں ہوگا )۔ (مسلم ) تشریح یہ حدیث مسلمانوں کو اپنی جان ومال اور عزت وآبرو بچانے کے لئے حملہ آور کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی تلقین کرتی ہے اور اللہ کے نام لیواؤں کے شعور یہ احساس جاگزیں کرنا چاہتی ہے کہ مسلمان کا یہ شیوہ نہیں ہے کہ وہ کسی بھی ایسے شخص کے مقابلہ میں کم ہمتی اور بزدلی کا ثبوت دے جو اس کے مال کو لوٹنا چاہتا ہے اور اس کی زندگی کو تباہ و برباد کرنے پر تلا ہوا ہے، بلکہ ایک مسلمان کو ایمان و یقین اور اعتماد علی اللہ کی جو طاقت حاصل ہوتی ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ وہ حملہ آور اور فسادی کا پوری مردانگی سے مقابلہ کرے اور ذلت کی زندگی پر عزت کی موت کو ترجیح دے کر شہادت کا مرتبہ حاصل کرے یا اس حملہ آور فسادی کو ختم کر کے اس کو جہنم رسید کر دے۔ یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ اگر قاتل وفسادی مسلمان بھی ہو تو اس کی مدافعت کرنا اور اس مدافعت میں اس کو ہلاک کردینا مباح ہے۔

3482Mishkaat-al-Masabih

گھر میں جھانکنے والے کو زخمی کردینا معاف ہے

وعن أبي هريرة قال : جاء رجل فقال : يا رسول الله أرأيت إن جاء رجل يريد أخذ مالي ؟ قال : فلا تعطه مالك قال : أرأيت إن قاتلني ؟ قال : قاتله قال : أرأيت إن قتلني ؟ قال : فأنت شهيد . قال : أرأيت إن قتلته ؟ قال : هو في النار . رواه مسلم ( متفق عليه ) وعنه أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : لو اطلع في بيتك أحد ولم تأذن له فخذفته بحصاة ففتأت عينه ما كان عليك من جناح ( متفق عليه ) وعن سهل بن سعد : أن رجلا اطلع في جحر في باب رسول الله صلى الله عليه و سلم ومع رسول الله صلى الله عليه و سلم مدرى يحك به رأسه فقال : لو أعلم أنك تنظرني لطعنت به في عينيك إنما جعل الاستئذان من أجل البصر

اور حضرت ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ انہوں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اگر (تمہارا دروازہ بند ہو اور اس کی دراڑ میں سے) کوئی شخص تمہارے گھر میں جھانکے درا نحالی کہ تم نے اس کو (گھر میں آنے کی) اجازت نہیں دے رکھی ہے اور تم اس کے کنکری مارو اور اس کنکری سے اس کی آنکھ پھوٹ جائے تو تم پر کوئی گناہ (تاوان) نہیں۔ ( بخاری ومسلم ) تشریح امام شافعی نے اس حدیث کے ظاہری مفہوم پر عمل کرتے ہوئے ایسے شخص پر سے آنکھ کے تاوان کو ساقط کیا ہے جب کہ امام اعظم ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ اس پر تاوان واجب ہوگا، انہوں نے اس حدیث کو مبالغہ اور سخت تنبیہ پر محمول کیا ہے۔ اور حضرت سہل ابن سعد کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول کریم ﷺ کے دروازے سے جھانکا اور اس وقت رسول کریم ﷺ پشت خار (کنگھے) سے اپنا سر کھجا رہے تھے آپ ﷺ نے (جب اس شخص کو جھانکتے ہوئے دیکھا تو) فرمایا کہ اگر میں جانتا (یعنی مجھ کو یقین ہوتا) کہ تم (قصداً جھانک کر) مجھ کو دیکھ رہے تو میں (یہ کنگھا تمہاری آنکھ میں جھونک دیتا) کیا تم نہیں جانتے کہ کسی غیر کے گھر میں آنے کے وقت) اجازت لینے کا حکم اسی آنکھ کی وجہ سے دیا گیا ہے (کہ وہ کسی غیر محرم پر نہ پڑجائے )۔ ( بخاری ومسلم ) تشریح اس سے ثابت ہوا کہ جس طرح بغیر اجازت کے کسی کے گھر میں داخل ہونا برا ہے اسی طرح بغیر اجازت کے کسی گھر میں جھانکنا بھی برا ہے، نیز طیبی فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں اس طرف اشارہ ہے کہ اگر کوئی بلا قصد کسی کے گھر میں جھانکنے کا مرتکب ہوجائے مثلا کوئی شخص کسی کے گھر کے سامنے سے گزر رہا ہو اور اضطرارا اس کی نظر گھر میں چلی جائے تو اس پر کوئی برائی نہیں ہے۔

3483Mishkaat-al-Masabih

خواہ مخواہ کنکریاں نہ پھینکو

وعن عبد الله بن مغفل أنه رأى رجلا يخذف فقال : لا تخذف فإن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى عن الخذف وقال : إنه لا يصاد به صيد ولا ينكأ به عدو ولكنها قد تكسر السن وتفقأ العين

اور حضرت عبداللہ ابن مغفل سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو انگوٹھے اور شہادت کی انگلی سے پکڑ کر کنکریاں پھینکتے ہوئے دیکھا تو فرمایا کہ کنکریاں نہ پھینکو کیونکہ رسول کریم ﷺ اس طرح کنکریاں پھینکنے سے منع کیا ہے اور فرمایا کہ اس طرح کنکری پھینک کر نہ تو شکار کیا جاسکتا ہے اور نہ (دین کے) دشمن کو زخمی کیا جاسکتا ہے (بلکہ یہ محض لہو ولعب ہے جس سے نہ دنیا کا فائدہ ہے اور نہ دین کا اور مستزاد یہ کہ لوگوں کو اس سے ضرر پہنچتا ہے جیسا کہ خود آنحضور ﷺ نے فرمایا کہ) البتہ اس طرح کنکریاں پھینکنا دانت کو توڑ دیتا ہے اور آنکھ کو پھوڑ دیتا ہے۔ ( بخاری ومسلم) تشریح ابن ملک کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے اس طرح بلا قصد کنکریاں پھینکنے سے اس لئے منع فرمایا کہ اس میں مصلحت اور فائدہ تو ہوتا نہیں البتہ فتنہ و فساد پھوٹ پڑنے اور لڑائی جھگڑا ہوجانے کا خوف ضرور رہتا ہے چناچہ یہی حکم ہر ایسے عمل کے بارے میں ہے جس میں یہ بات موجود ہو۔

3484Mishkaat-al-Masabih

مجمع اور بازار میں ہتھیاروں کو احتیاط کے ساتھ رکھو

وعن أبي موسى قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا مر أحدكم في مسجدنا وفي سوقنا ومعه نبل فليمسك على نصالها أن يصيب أحدا من المسلمين منها بشيء

اور حضرت ابوموسیٰ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص ہماری مسجد اور ہمارے بازار میں آئے یا وہاں سے گزرے اور اس کے پاس تیر ہوں تو اس کو چاہئے کہ ان کو بند کرے (یعنی ان کے پیکانوں پر ہاتھ رکھ لے) تاکہ اس سے کسی مسلمان کو کوئی ضرر نہ پہنچے۔ ( بخاری ومسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ مساجد اور بازار ایسے تمام مقامات جہاں مسلمان جمع ہوں وہاں ہتھیاروں کو بہت دیکھ بھال کے ساتھ اپنے پاس رکھنا چاہئے خواہ وہ تیر ہوں یا دوسرے ہتھیار جیسے بندوق، تلوار نیزہ اور بلم وغیرہ تاکہ ایسا نہ ہو کہ کسی چوک اور غلطی سے کوئی مسلمان کسی کے ہتھیار سے زخمی گھائل ہوجائے۔

3485Mishkaat-al-Masabih

کسی مسلمان کی طرف ہتھیار سے اشارہ نہ کرو

وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يشير أحدكم على أخيه بالسلاح فإنه لا يدري لعل الشيطان ينزع في يده فيقع في حفرة من النار ( صحيح ) وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أشار إلى أخيه بحديدة فإن الملائكة تلعنه حتى يضعها وإن كان أخاه لأبيه وأمه . رواه البخاري ( صحيح ) وعن ابن عمر وأبي هريرة رضي الله عنهم عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من حمل علينا السلاح فليس منا . رواه البخاري وزاد مسلم : ومن غشنا فليس منا ( صحيح ) وعن سلمة بن الأكوع قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من سل علينا السيف فليس منا . رواه مسلم

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے (مسلمان) بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ نہ کرے اس لئے کہ اس کو نہیں معلوم کہ شاید شیطان اس کے ہاتھ سے ہتھیار کھینچ لے اور اس کی وجہ سے وہ ہتھیار کا مالک دوزخ کی آگ میں ڈال دیا جائے۔ (بخاری ومسلم) تشریح شیطان تو تاک میں رہتاہی ہے کہ جہاں کوئی انسان چوکا اور اس لعین نے اس کو گناہ میں مبتلا کیا اسی لئے فرمایا گیا کہ کسی مسلمان بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ نہ کرو کہ مبادا شیطان تم پر اثر انداز ہوجائے اور وہ ہتھیار اشارے اشارے میں مسلمان بھائی کے جا لگے اور اس کی وجہ سے تم دوزخ کے سزا وار بنو۔ اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اپنے (مسلمان) بھائی کی طرف لوہے (یعنی ہتھیار وغیرہ) سے اشارہ کرتا ہے اس پر فرشتے اس وقت تک لعنت بھیجتے ہیں جب تک کہ وہ اس لوہے کو رکھ نہیں دیتا اگرچہ وہ اس کا حقیقی بھائی کیوں نہ ہو۔ ( بخاری ومسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے حقیقی بھائی کی طرف لوہے سے اشارہ کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ اس کو قتل کرنے یا اس کو نقصان پہنچانے کا ارادہ رکھتا ہے بلکہ اس کا تعلق ہنسی مذاق ہی سے ہوسکتا ہے مگر اس کے باوجود فرشتے اس پر لعنت بھیجتے ہیں۔ اس ارشاد گرامی کا مقصد گویا کسی مسلمان پر اشارۃً ہتھیار یا لوہا اٹھانے کی ممانعت کو بطور مبالغہ بیان کرنا ہے۔ اور حضرت ابن عمر اور حضرت ابوہریرہ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جو شخص (ہنسی مذاق کے طور پر بھی) ہم پر ہتھیار اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں ہے یعنی ہمارے طریقہ پر عامل نہیں ہے۔ (بخاری ومسلم) اور مسلم نے یہ الفاظ بھی نقل کئے ہیں کہ (جو شخص اپنی کوئی چیز فروخت کرتے وقت فروخت کی جانے والی چیز کے کسی عیب و نقصان کو چھپا کر) ہمیں فریب دے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ اور حضرت سلمہ ابن اکوع کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص نے (بلا ارادہ قتل ہنسی مذاق میں بھی) ہمارے اوپر تلوار کھینچی وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ (مسلم)

3486Mishkaat-al-Masabih

دنیا میں کسی کو سخت اذیت میں مبتلا کرنے والا خود آخرت میں عذاب الہٰی میں گرفتار ہوگا

وعن هشام بن عروة عن أبيه أن هشام بن حكيم مر بالشام على أناس من الأنباط وقد أقيموا في الشمس وصب على رؤوسهم الزيت فقال : ما هذا ؟ قيل : يعذبون في الخراج فقال هشام : أشهد لسمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن الله يعذب الذين يعذبون الناس في الدنيا . رواه مسلم

اور حضرت ہشام ابن عروہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت ہشام ابن حکیم نے ملک شام (کے سفر کے دوران) انبطی قوم کے کچھ افراد کو اس حال میں دیکھا کہ انہیں دھوپ میں کھڑا کیا گیا تھا اور ان کے سروں پر گرم گرم تیل ڈالا گیا تھا، ہشام ابن حکیم نے (یہ روح فرسا منظر دیکھ کر) کہا کہ یہ کیا ہے؟ (یعنی ان لوگوں کو کس جرم کی پاداش میں یہ غیر انسانی سزا دی جا رہی ہے؟ ) انہیں بتایا گیا کہ خراج (زرعی ٹیکس نہ دینے) کی وجہ سے ان کو اس عذاب میں مبتلا کیا گیا ہے؟ حضرت ہشام نے فرمایا میں شہادت دیتا ہوں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ (آخرت میں) ان لوگوں کو عذاب میں مبتلا کرے گا جو لوگوں کو دنیا میں عذاب میں مبتلا کرے گا جو لوگوں کو دنیا میں عذاب میں مبتلا کرتے ہیں۔ (مسلم) تشریح یعنی جو شخص کسی کو دنیا میں ناحق کسی چیز کے عذاب میں مبتلا کرے گا مثلا کسی کو دھوپ میں کھڑا کر کے اس کے اوپر گرم تیل ڈالے گا تو اللہ تعالیٰ عقبی میں اس کو اسی چیز کے عذاب میں گرفتار کرے گا۔

3487Mishkaat-al-Masabih

ظلم کے حاشیہ برداروں پر غضب خداوندی

وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يوشك إن طالت بك مدة أن ترى أقواما في أيديهم مثل أذناب البقر يغدون في غضب الله ويروحون في سخط الله . وفي رواية : ويروحون في لعنة الله . رواه مسلم

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اگر تمہاری عمر دراز ہوئی تو تم عنقریب ان لوگوں کو دیکھو گے جن کے ہاتھوں میں گائے کی دم کی مانند ایک ایسی چیز یعنی کوڑے ہوں گے، ان کی صبح اللہ کے غضب میں اور ان کی شام اللہ کی شدید ناراضگی میں گزرے گی (یعنی ان لوگوں پر ہمہ وقت اللہ کا عذاب نازل ہوتا رہے گا) اور ایک روایت میں یہ ہے کہ ان کی شام اللہ کی لعنت میں گزرے۔ (مسلم ) تشریح ان لوگوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو کسی ظالم و جابر یا کسی صاحب اقتدار کے حاشیہ نشین ہوتے ہیں یا ان کے دروازوں پر پڑے رہتے ہیں اور ان کے آگے پیچھے لگے رہتے ہیں اور پھر اس ظالم و جابر کے بل بوتے پر وہ لوگ عام انسانوں کو ڈراتے دھمکاتے پھرتے ہیں غریبوں کو مارتے پیٹتے ہیں، کمزوروں کو گالیاں دیتے ہیں اور نادار شرفاء کی عزت وآبرو کو پامال کرتے ہیں اور کٹ کھنے کتے کی طرح ہر ایک کو کاٹنے دوڑتے ہیں۔

3488Mishkaat-al-Masabih

ناروا فیشن کرنے والی عورتوں کے بارے میں وعید

وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : صنفان من أهل النار لم أرهما : قوم معهم سياط كأذناب البقر يضربون بها الناس ونساء كاسيات عاريات مميلات مائلات رؤوسهم كأسنمة البخت المائلة لا يدخلن الجنة ولا يجدن ريحها وإن ريحها لتوجد من مسيرة كذا وكذا . رواه مسلم

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا دوزخیوں کے دو گروہ ایسے ہیں جنہیں میں نے نہیں دیکھا (اور نہ میں دیکھوں گا) ایک گروہ تو ان لوگوں کا ہے جن کے ہاتھوں میں گائے کی مانند کوڑے ہونگے جس سے وہ (لوگوں کو ناحق) ماریں گے اور دوسرا گروہ ان عورتوں کا ہے جو بظاہر کپڑے پہنے ہوئے ہوں گی مگر حقیقت میں ننگی ہوں گی وہ مردوں کو اپنی طرف مائل کریں گی اور خواہ مردوں کی طرف مائل ہوں گی ان کے سر بختی اونٹ کی کوہان کی طرح ہلتے ہوں گے ایسی عورتیں نہ تو جنت میں داخل ہوں گی اور نہ جنت کی بو پائیں گی حالانکہ جنت کی بو اتنی اتنی (یعنی مثلاً سو برس) دوری سے آتی ہے۔ (مسلم) تشریح مگر حقیقت میں ننگی ہوں گی اس میں عورتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو اتنے باریک اور مہین کپڑے پہنتی ہیں کہ ان کا بدن جھلکتا ہے، یا اس طرح کپڑے پہنتی ہیں کہ جسم کا کچھ حصہ چھپا رہتا ہے اور کچھ کھلا رہتا ہے (جیسا کہ آجکل ساڑھی اور بلاؤز کا رواج ہے) یا دوپٹہ سے اپنے پیٹ اور سینہ وغیرہ کو ڈھانکنے کی بجائے اس کو گلے میں یا پیٹھ پر ڈال لیتی ہیں، ان تمام صورتوں میں عورت بظاہر تو کپڑے پہنے ہوئے نظر آتی ہے مگر حقیقت میں وہ ننگی ہوتی ہے۔ اس جملہ سے اسی عورتوں کی طرف اشارہ ہے مقصود ہوسکتا ہے کہ جو دنیا میں تو انواع اقسام کے لباس زیب تن کرتی ہیں مگر تقویٰ وعمل صالح کے لباس سے محروم رہتی ہیں کہ وہ تقویٰ اور عمل صالح ہی کی وجہ سے آخرت میں جنت کے لباس کی مستحق ہوں گی۔ ممیلات اور مائلات سے مراد وہ عورتیں ہیں جو بناؤ سنگار اور اپنی سج دھج کے ذریعہ مردوں کو اپنی طرف مائل کرتی ہیں۔ اور خود بھی مردوں کی طرف مائل ہوتی ہیں۔ یا ممیلات سے مراد وہ عورتیں ہیں جو اپنے دوپٹے اپنے سروں سے اتار پھینکتی ہیں۔ تاکہ مرد ان کے چہرے دیکھیں اور مائلات سے مراد وہ عورتیں ہیں جو مٹک مٹک کر چلتی ہیں تاکہ لوگوں کے دل فریفتہ کریں۔ ان کے سر بختی اونٹ کے کوہان کی طرح ہلتے ہوں گے سے مراد وہ عورتیں ہیں جو اپنی چوٹیوں کو جوڑے کی صورت میں سر پر باندھ لیتی ہیں اور جس طرح بختی اونٹ کے کوہان فربہی کی وجہ سے ادھر ادھر ہلتے رہتے ہیں اسی طرح ان کے سر کے جوڑے بھی ادھر ادھر ہلتے رہتے ہیں۔ اس حدیث میں عورتوں کے جس خاص طبقہ کی نشان دہی کی گئی ہے اس کا وجود آنحضرت ﷺ کے مبارک زمانہ میں نہیں تھا بلکہ یہ آپ کا معجزہ ہے کہ آپ ﷺ نے آنے والے زمانہ میں اس قسم کی عورتوں کی پیدا ہونے کی خبر دی۔ نہ تو جنت میں داخل ہوگی الخ یہ عورتوں کے گروہ کے بارے میں فرمایا گیا ہے مردوں کے گروہ کے بارے میں اس طرح کی بات محض اختصار کے پیش نظر نہیں فرمائی گئی ہے، قاضی عیاض کے کہنے کے مطابق اس جملہ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ایسی عورتیں کبھی بھی جنت میں داخل نہیں ہوں گی بلکہ مطلب یہ ہے کہ جس وقت نیک و پارسا اور پرہیزگار عورتیں جنت میں داخل ہوں گی اور جنت کی بو پائیں گی اس وقت ایسی عورتیں نہ تو جنت میں داخل ہونگی اور نہ جنت کی بوپائیں گی، ہاں اپنی اپنی سزا بھگتنے کے بعد ان کو بھی جنت کی سعادت سے نواز دیا جائے گا۔ یا پھر یہ کہ یہ بات ان عورتوں کے بارے میں فرمائی گئی ہے جو ان چیزوں کو حلال جان کر ان کا ارتکاب کریں گی، نیز یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اس جملہ سے سخت زجر و تنبیہ مراد ہے۔

3489Mishkaat-al-Masabih

کسی کے منہ پر نہ مارو

وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا قاتل أحدكم فليجتنب الوجه فإن الله خلق آدم على صورته

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم سے کوئی شخص (کسی کو) مارے تو اس کو چاہیے کہ وہ اس کے چہرے کو بچائے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا ہے۔ (بخاری ومسلم) تشریح ا دم کو اپنی صورت پر پیدا کیا ہے؛ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو اپنی صفات پر پیدا کیا ہے اور اس کو اپنی صفات جلالیہ وجمالیہ کا مظہر بنایا۔ یا یہ مراد ہے کہ آدم کو اس صورت خاصہ پر پیدا کیا گیا جس کو اللہ تعالیٰ نے صرف انسانوں کے لئے اختراع کیا اور پیدا کیا۔ اس اعتبار سے اپنی، کی طرف، صورت، کی اضافت، انسانی شرف و کرامت کو ظاہر کرنے کے لئے ہے جیسا کہ ( نفخت فیہ من روحی)، میں اللہ تعالیٰ نے روح کی اضافت اپنی طرف فرما کر روح انسانی کی عظمت اور فضیلت کو ظاہر کیا ہے۔ اور بعضوں نے یہ کہا ہے کہ صورتہ کی ضمیر دراصل آدم کی طرف راجع ہے یعنی آدم کو اس صورت پر پیدا کیا جو آدم کے ساتھ مخصوص ہے اور جو تمام مخلوقات سے ممتاز ہے اور خصائص و کر امات پر مشتمل ہے۔ اس طرح حدیث کا حاصل یہ ہوگا کہ حق تعالیٰ نے انسان کو تمام مخلوقات میں اشرف پیدا کیا ہے اور اس کے تمام اعضاء میں اس کا چہرہ اشرف ومکرم اور انسانی صورت کمال کے ظہور کا محل ہے لہذا انسان کے چہرے پر مارنے سے اجتناب کرنا چاہیے علماء نے لکھا ہے کہ یہ حکم استحباب کے طور پر ہے۔

3490Mishkaat-al-Masabih

غیر کے گھر میں بلا اجازت جھانکنے اور داخل ہونے والا قبل تعزیر ہے

عن أبي ذر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من كشف سترا فأدخل بصره في البيت قبل أن يؤذن له فرأى عورة أهله فقد أتى حدا لا يحل له أن يأتيه ولو أنه حين أدخل بصره فاستقبله رجل ففقأ عينه ما عيرت عليه وإن مر الرجل على باب لا ستر له غير مغلق فنظر فلا خطيئة عليه إنما الخطيئة على أهل البيت . رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريب

اور حضرت ابوذر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اگر کسی شخص نے کسی کے گھر کا پردہ کھولا اور اس کے گھر میں اپنی نظر ڈالی جب کہ اس کو (اس گھر میں جھانکنے اور داخل ہونے کی) اجازت حاصل نہیں تھی اور اس نے اس کی گھر والی کو دیکھا تو (اس نے ایک ایسی چیز کا ارتکاب کیا جس کی وجہ سے) وہ قابل تعزیر ہوا، اس کے لئے یہ (ہرگز) جائز نہیں ہے کہ وہ (بلا اجازت کسی کے گھر پر) آئے (اور اس کے گھر میں جھانکے) اگر اس نے گھر میں جھانک کر دیکھا اور گھر والوں میں سے کوئی شخص سامنے آگیا اور اس نے اس (جھانکنے والے) کی آنکھ پھوڑ ڈالی تو میں اس (آنکھ پھوڑنے والے) کو سرزنش نہیں کروں گا اور نہ (بطور تاوان) اس پر کوئی چیز واجب کروں گا، ہاں اگر کوئی مرد کسی ایسے دروازے پر سے گزرے جس پر نہ کوئی پردہ پڑا ہوا ہو اور نہ وہ بند ہو اور اس کی نظر گھر کے آدمیوں پر جا پڑے تو اس پر کوئی گناہ نہیں بلکہ گناہ تو گھر والوں پر ہوگا۔ کہ انہوں نے دروازے کو بند کیوں نہیں کیا اور اس پر پردہ کیوں نہیں ڈالا۔ (ترمذی) نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔ تشریح اس کے لئے یہ (ہرگز) جائز نہیں ہے الخ یہ استیناف ہے جو علت کو متضمن ہے، یعنی یہ جملہ ایک الگ عبارت کو شروع کرتا ہے جس کا مقصد پہلی عبارت کے مفہوم کی علت کو بیان کرنا ہے۔ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اہل خانہ پر واجب ہے کہ وہ اپنے مکان کا دروازہ بند رکھے یا دروازے پر پردہ ڈالے رکھے۔

3491Mishkaat-al-Masabih

ہاتھ میں ننگی تلوار رکھنے کی ممانعت

وعن جابر قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يتعاطى السيف مسلولا . رواه الترمذي وأبو داود

اور حضرت جابر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے بےنیام تلوار کو ہاتھ میں رکھنے سے منع کیا ہے۔ (ترمذی، ابوداؤد) تشریح بےنیام تلوار کو ہاتھ میں رکھنے سے اس خوف کے پیش نظر منع فرمایا گیا ہے کہ مبادا وہ ہاتھ سے چھوٹ کر گرپڑے اور کسی کے جا لگے یا لوگ اس کے ہاتھ میں ننگی تلوار دیکھ کر خوف و دہشت میں پڑجائیں۔

3492Mishkaat-al-Masabih

انگلیوں کے درمیان تسمہ چیرنے کی ممانعت

وعن الحسن عن سمرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى أن يقد السير بين أصبعين . رواه أبو داود

اور حضرت حسن حضرت سمرۃ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ تسمہ کو دونوں انگلیوں کے درمیان چیرا جائے۔ ( ابوداؤد) تشریح اس ممانعت کا سبب یہ ہے کہ اس طرح تسمہ چیرنے سے انگلیاں زخمی نہ ہوجائیں۔ یہ حدیث اور اس سے پہلی حدیث دونوں میں مذکور ممانعت تنزیہی ہے اور ازراہ شفقت و ہمدردی ہے۔

3493Mishkaat-al-Masabih

اپنے دین، اپنی جان، اپنے مال اور اپنے اہل وعیال کی محافظت میں مارا جانے والا شہید ہے

وعن سعيد بن زيد أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من قتل دون دينه فهو شهيد ومن قتل دون دمه فهو شهيد ومن قتل دون ماله فهو شهيد ومن قتل دون أهله فهو شهيد . رواه الترمذي وأبو داود والنسائي

اور حضرت سعید ابن زید راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص اپنے دین کی حفاظت کرتا ہوا مارا جائے گا وہ شہید ہے جو شخص اپنی جان کی حفاظت کرتا ہوا مارا جائے گا وہ شہید ہے جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتا ہوا مارا جائے گا وہ شہید ہے اور جو شخص اپنے اہل و عیال کی حفاظت کرتا ہوا مارا جائے گا وہ شہید ہے۔ (ترمذی، ابوداؤد، نسائی ) تشریح دین کی محافظت میں مارے جانے کا مطلب یہ ہے کہ مثلاً کسی مسلمان کے سامنے کسی کافر یا کسی مبتدع نے اس کے دین کی توہین و حقارت کی اور وہ مسلمان اس سے لڑ پڑا اور مارا گیا۔ تو اس کو شہادت کا درجہ ملے گا۔ اکثر علماء کا مسلک یہ ہے کہ اگر مثلاً زید کا مال کوئی شخص لوٹنے کا ارادہ کرے یا اس کو قتل کرنے پر اتر آئے اور یا اس کے اہل و عیال کو کسی قسم کی کوئی نقصان پہنچانے کا قصد کرے تو زید کو چاہئے کہ وہ اس طرح کا برا ارادہ رکھنے والوں کی مدافعت کرے یعنی پہلے تو اس کو اچھے اور نرم انداز میں اس کے برے ارادہ سے باز رکھنے کی کوشش کرے لیکن اگر وہ بغیر لڑائی جھگڑے کے اپنے ارادہ سے باز نہ آئے اور زید اس کو مار ڈالے تو زید پر (تاوان) کوئی چیز نہیں ہوگی۔ اور زید مارا گیا تو وہ شہید کا درجہ پائے گا۔

3494Mishkaat-al-Masabih

مسلمان پر تلوار اٹھانے والے کے بارے میں وعید

وعن ابن عمر رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لجهنم سبعة أبواب : باب منها لمن سل السيف على أمتي أو قال : على أمة محمد . رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريب وحديث أبي هريرة : الرجل جبار ذكر في باب الغضب هذا الباب خال من الفصل الثالث

اور حضرت ابن عمر نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا دوزخ کے سات دروازے ہیں، ان میں سے ایک دروازہ اس شخص کے لئے ہے جو میری امت (کے لوگوں) پر۔ یا یہ فرمایا۔ امت محمدیہ پر (ناحق) تلوار اٹھائے اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔ (وحدیث ابی ہریرہ الرجل جبار ذکر فی باب الغصب ) اور حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث الرجل جبار الخ باب الغصب میں نقل کی جا چکی ہے۔

3495Mishkaat-al-Masabih

قسامت کا بیان

قسامت ق کے زبر کے ساتھ قسم کے معنی میں ہے یعنی سوگند کھانا۔ شرعی اصطلاح میں قسامت کا مفہوم یہ ہے کہ اگر کسی آبادی ومحلہ میں یا اس آبادی ومحلہ کے قریب میں کسی شخص کا قتل ہوجائے اور قاتل کا پتہ نہ چلے تو حکومت واقعات کی تحقیق کرے اگر قاتل کا پتہ چل جائے تو ٹھیک ہے ورنہ اس آبادی یا محلہ کے باشندوں میں سے پچاس آدمیوں سے قسم لی جائے اس طرح کہ ان میں سے ہر آدمی یہ قسم کھائے کہ اللہ کی قسم! نہ میں نے اس کو قتل کیا ہے اور نہ اس کے قاتل کا مجھے علم ہے یہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا مسلک ہے جس کی بنیاد یہ مشہور حدیث ہے کہ (البینہ علی المدعی والیمین علی من انکر) چناچہ اس باب کی تیسری فصل میں حضرت رافع ابن خدیج سے منقول روایت بھی اسی پر دلالت کرتی ہے۔ حضرت امام شافعی اور حضرت امام احمد کے نزدیک قسامت کا مفہوم یہ ہے کہ جس آبادی ومحلہ میں یا جس آبادی ومحلہ کے قریب میں لاش پائی گئی ہے اگر اس کے باشندوں اور مقتول کے درمیان کوئی عداوت و دشمنی رہی ہو یا کوئی ایسی علامت پائی گئی ہو۔ جس سے یہ ظن غالب ہو کہ اس آبادی ومحلہ کے لوگوں نے اس کو قتل کیا ہے جیسے اس آبادی یا محلہ میں لاش کا پایا جانا، تو مقتول کے وارثوں سے قسم لی جائے یعنی ان سے کہا جائے کہ وہ یہ قسم کھائیں کہ اللہ کی قسم! تم نے (یعنی اس آبادی یا محلہ کے لوگوں نے) اس کو قتل کیا ہے اگر مقتول کے وارث یہ قسم کھانے سے انکار کردیں تو پھر ان لوگوں سے قسم لی جائے جن پر قتل کا شبہ کیا گیا ہے چناچہ اس باب کی پہلی حدیث جو حضرت رافع سے منقول ہے اسی پر دلالت کرتی ہے۔ قسامت میں قصاص واجب نہیں ہوتا اگرچہ قتل عمد کا دعوی ہو بلکہ اس میں دیت واجب ہوتی ہے خواہ قتل عمد کا دعوی ہو یا قتل خطاء کا۔ لیکن حضرت امام مالک فرماتے ہیں کہ اگر قتل عمد کا دعوی ہو تو پھر قصاص کا حکم نافذ کرنا چاہئے اور حضرت امام شافعی کا قدیم قول بھی یہی ہے، قسامت کے بارے میں ملحوظ رہنا چاہئے کہ قسامت کا یہ طریقہ زمانہ جاہلیت میں بھی رائج تھا، چناچہ آنحضرت ﷺ نے اس طریقہ کو باقی رکھا اور اسی کے مطابق انصاریوں میں اس مقتول کا فیصلہ کیا جس کے قتل کا انہوں نے خیبر کے یہودیوں پر دعوی کیا تھا۔

3496Mishkaat-al-Masabih

قسامت میں مدعی سے قسم لی جائے یا مدعا علیہ سے

عن رافع بن خديج وسهل بن أبي حثمة أنهما حدثا أن عبد الله بن سهل ومحيصة بن مسعود أتيا خيبر فتفرقا في النخل فقتل عبد الله بن سهل فجاء عبد الرحمن بن سهل وحويصة ومحيصة ابنا مسعود إلى النبي صلى الله عليه و سلم فتكلموا في أمر صاحبهم فبدأ عبد الرحمن وكان أصغر القوم فقال له النبي صلى الله عليه و سلم : كبر الكبر قال يحيى بن سعد : يعني ليلي الكلام الأكبر فتكلموا فقال النبي صلى الله عليه و سلم : استحقوا قتيلكم أو قال صاحبكم بأيمان خمسين منكم . قالوا : يا رسول الله أمر لم نره قال : فتبرئكم يهود في أيمان خمسين منهم ؟ قالوا : يا رسول الله قوم كفار ففداهم رسول الله صلى الله عليه و سلم من قبله . وفي رواية : تحلفون خمسين يمينا وتستحقون قاتلكم أو صاحبكم فوداه رسول الله صلى الله عليه و سلم من عنده بمائة ناقة وهذا الباب خال من الفصل الثاني

حضرت رافع ابن خدیج اور حضرت سہل ابن حثمہ بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ ابن سہل اور محیصہ ابن مسعود خیبر آئے تو (ایک دن سیر کرتے ہوئے) دونوں کھجور کے درختوں میں ایک دوسرے سے علیحدہ ہوگئے (یعنی ایک کسی سمت کو نکل گیا اور دوسرا کسی اور سمت چلا گیا) چناچہ عبداللہ ابن سہل کو (اکیلا پا کر) کسی نے قتل کردیا (اس حادثہ کے بعد) عبدالرحمن ابن سہل (جو مقتول کے حقیقی بھائی تھے) اور مسعود کے دونوں بیٹے حویصہ اور محیصہ (جو مقتول کے چچا زاد بھائی تھے) نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے عزیز مقتول کے بارے میں مقدمہ پیش کیا، جب عبدالرحمن نے گفتگو کی ابتداء کی (جو مقتول کے حقیقی بھائی تھے اور) تینوں میں سب سے چھوٹے تھے تو نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا کہ اپنے بڑے کی بڑائی کو ملحوظ رکھو، یعنی تم تینوں میں جو شخص سب سے بڑا ہے اس کو گفتگو کی ابتداء کرنے دو ) حضرت یحییٰ ابن سعید (جو اس حدیث کے ایک راوی ہیں) کہتے کہ اس ارشاد گرامی سے آپ ﷺ کی مراد یہ تھی کہ جو شخص سب سے بڑا ہو وہ ذمہ دار ہو، چناچہ (اس کے بعد) انہوں نے (یعنی ان کے بڑے بھائی نے) گفتگو کی نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر تم میں سے پچاس آدمی قسم کھا لیں تو تم اپنے مقتول یا (اپنے مقتول کی بجائے) یہ فرمایا کہ اپنے ساتھی کا خون بہا یا قصاص لینے کے مستحق ہو۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ تو ایسی چیز ہے جس کو ہم نے نہیں دیکھا ہے (یعنی ہم یہ قطعا نہیں جانتے کہ مقتول کو کس شخص نے قتل کیا ہے) آپ ﷺ نے فرمایا پچاس یہودی قسم کھا کر (تمہارے اس شبہ سے) تمہیں پاک کردیں گے (یعنی وہ قسم کھا لیں گے کہ مقتول کو ہم نے قتل نہیں کیا ہے اور اس طرح ان پر جو قتل کا شبہ یا الزام ہے اس کو وہ ختم کردیں گے) انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ وہ تو کافر ہیں (ان کی قسموں کا کیا اعتبار) چناچہ رسول کریم ﷺ نے (فتنہ دفع کرنے کے لئے) مقتول کے ورثاء کو اپنی طرف سے خون بہا ادا کردیا اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ (آپ ﷺ نے فرمایا) تم پچاس قسمیں کھاؤ اور اپنے مقتول۔ یا یہ فرمایا کہ اپنے ساتھی کے خون بہا کے مستحق ہوجاؤ (اس کے بعد) آپ ﷺ نے اپنی طرف سے سو اونٹ خون بہا میں ادا کر دئیے۔ (بخاری ومسلم ) تشریح جو شخص سب سے بڑا ہو وہ گفتگو کا ذمہ دار ہو سے یہ بات ثابت ہوئی کہ جو شخص عمر میں سب سے بڑا ہو اس کا اکرام و احترام ضروری ہے اور گفتگو کی ابتداء اسی کی طرف سے ہونی چائیے۔ یہ حدیث اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ حدود میں وکالت جائز ہے، نیز اس پر بھی دلالت کرتی ہے کہ حاضر کی وکالت بھی جائز ہے کیونکہ مقتول کے خون کے ولی ان کے حقیقی بھائی یعنی عبدالرحمن ابن سہل تھے اور حویصہ اور محیصہ ان کے چچا زاد بھائی تھے۔ اس حدیث سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ قسامت میں پہلے مدعی سے قسم لی جائے جب کہ حنفی مسلک یہ ہے کہ پہلے مدعا علیہ سے قسم لی جائے۔ وہذا الباب خال عن الفصل الثانی۔ اور اس باب میں دوسری فصل نہیں ہے

3497Mishkaat-al-Masabih

قسم کی ابتداء مدعاعلیہ سے ہونی چاہئے

عن رافع بن خديج قال : أصبح رجل من الأنصار مقتولا بخيبر فانطلق أولياؤه إلى النبي صلى الله عليه و سلم فذكروا ذلك له فقال : ألكم شاهدان يشهدان على قاتل صاحبكم ؟ قالوا : يا رسول الله لم يكن ثم أحد من المسلمين وإنما هو يهود وقد يجترئون على أعظم من هذا قال : فاختاروا منهم خمسين فاستحلفوهم . فأبوا فوداه رسول الله صلى الله عليه و سلم من عنده . رواه أبو داود

حضرت رافع ابن خدیج کہتے ہیں کہ انصار میں سے ایک شخص (یعنی عبداللہ ابن سہل) خیبر میں قتل کر دئیے گئے چناچہ ان کے ورثاء (یعنی ان کے بیٹے اور چچا زاد بھائی) رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنا مقدمہ پیش کیا، آنحضرت ﷺ نے (ان) سے فرمایا کہ کیا تمہارے پاس دو گواہ ہیں جو تمہارے مقتول کے بارے میں گواہی دیں انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! وہاں کوئی مسلمان تو موجود نہیں تھا البتہ یہود تھے (جو ظلم کرنے، فتنہ و فساد پھیلانے اور حیلہ گری میں بہت مشہور ہیں) وہ تو اس سے بھی بڑے کام کی جرأت رکھتے ہیں (جیسے انبیاء کو قتل کردینا، کلام اللہ میں تحریف کرنا اور احکام الٰہی سے صریحا سرکشی کرنا) آپ نے فرمایا اچھا تو ان میں پچاس آدمیوں کو منتخب کرلو اور ان سے قسمیں لو لیکن مقتول کے ورثاء نے یہودیوں سے قسم لینے سے انکار کردیا (کیونکہ وہ جانتے تھے کہ وہ اتنے مکار ہیں کہ جھوٹی قسمیں کھا لیں گے) چناچہ رسول کریم ﷺ نے اس مقتول کا خون بہا اپنے پاس سے دے دیا۔ (ابو داؤد) تشریح ملا علی قاری کہتے ہیں کہ اس حدیث کا ظاہری مفہوم حنیفہ کے اس مسلک کی واضح دلیل ہے کہ قسامت میں پہلے مدعا علیہ سے قسم لینی چاہئے۔ ملا علی قاری نے اس موقع پر تمام ائمہ کے مسلک کو نقل کرنے کے بعد حنیفہ ملک کے دلائل بڑی عمدگی کے ساتھ بیان کئے ہیں۔

3498Mishkaat-al-Masabih

مرتدوں اور فساد برپا کرنے والوں کو قتل کردینے کا بیان

مرتد کسے کہتے ہیں؟ مرتد اس شخص کو کہتے ہیں جو دین اسلام سے پھر جائے یعنی ایمان واسلام کے نورانی دائرہ سے نکل کر کفر و شرک کے ظلمت کدوں میں چلا جائے۔ مرتد کے بارے میں حکم جب کوئی مسلمان نعوذ باللہ، اسلام سے پھر جائے تو اس کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی جائے اگر وہ اسلام کے بارے میں کسی شک وشبہ کا شکار ہو تو اس کا شک وشبہ رفع کیا جائے گا، اگرچہ اسلام کی دعوت دینا اور اس کا شک وشبہ دور کرنا واجب نہیں ہے بلکہ مستحب ہے کیونکہ اسلام کی دعوت اس کو پہلے ہی پہنچ چکی ہے اب اس کی تجدید دعوت کی احتیاج نہیں ہے۔ نیز مستحب یہ ہے کہ ایسے شخص کو تین دن کے لئے قید میں ڈال دیا جائے اگر وہ ان تین دنوں میں توبہ کر کے دائرہ اسلام میں لوٹ آئے تو ٹھیک ہے ورنہ اس کو قتل کردیا جائے کیونکہ اسلام نے مرتد کی سزا قتل مقرر کی ہے اور بعض علماء نے یہ لکھا ہے کہ اگر وہ مہلت طلب کرے تب واجب ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ کے فرمان آیت (اقتلوا لمشرکین) (مشرکوں کو قتل کردو) اور آنحضرت ﷺ کے ارشاد حدیث (من بدل دینہ فاقتلوہ) (جس شخص نے اپنا دین اسلام تبدیل کردیا اس کو قتل کردو) سے یہی ثابت ہوتا کہ مرتد کو مہلت دینا واجب نہیں ہے۔ فساد برپا کرنے والے کون ہیں؟ حدیث کے دوسرے جزو کا تعلق فساد برپا کرنے والوں سے ہے یوں تو عام طور پر فساد برپا کرنے والے سے وہ لوگ مراد ہوتے ہیں جو زمین پر فتنہ و فساد اور لوٹ مچاتے ہیں اور قتل و غارت گری کے ذریعہ لوگوں کے امن و سکون کو تباہ و برباد کرتے ہیں لیکن یہاں بطور خاص قطاع الطریق یعنی قزاق مراد ہیں کہ ان کی سزا بھی قتل ہے جیسا کہ ارشاد ربانی ہے۔ ا یت (انما جزآء الذین یحاربون اللہ ورسولہ ویسعون فی الارض فسادا ان یقتلوا )۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ سے لڑتے ہیں اور زمین پر فساد برپا کرتے ہیں ان کی سزا یہ ہے کہ ان کو قتل کردیا جائے، ارتداد اور مرتد کے بارے میں کچھ تفصیلی مسائل و احکام آج کل ہماری روز مرہ زندگی بڑی بےاعتدالیوں کی شکار ہے نہ ہمیں اپنی زبان پر قابو رہتا ہے، نہ ہم اپنے اعتقادات ونظریات کے دائرہ میں پوری طرح رہتے ہیں اور نہ ہماری افعال و اعمال پابند احتیاط ہوتے ہیں نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسی بہت سی باتیں ہماری زبانوں سے نکلتی رہتی ہیں جنہیں ہم بظاہر بالکل غیر اہم سمجھتے ہیں لیکن حقیقت میں وہ باتیں ہمیں کفر کے دائرہ تک پہنچا دیتی ہیں اسی طرح ایسے بہت سے افعال و اعمال ہم سے سرزد ہوتے رہتے ہیں جنہیں ہم بہت معمولی سمجھتے ہیں لیکن آخر کار وہ ہمارے لئے سخت خسران آخرت کا ذریعہ بن جاتے ہیں لہٰذا ضروری ہے کہ اس موقع پر اس بارے میں تفصیل کے ساتھ کچھ عرض کیا جائے۔ فتاویٰ عالمگیری کے ایک باب میں مرتد کے احکام و مسائل بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کئے گئے ہیں اس پورے باب کے علاوہ چند نادر الوجود مسائل کو یہاں نقل کیا جاتا ہے اس میں جو مسائل ہیں ان کا جاننا ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے تاکہ مرتد کے بارے میں احکام و مسائل ہونے کے ساتھ یہ بھی معلوم ہوجائے کہ وہ کون سے الفاظ ہیں جو زبان سے ادا ہونے پر کفر تک پہنچا دیتے ہیں یا وہ کون سے عقائد و اعمال ہیں جن کو اختیار کرنے والا کفر تک پہنچ جاتا ہے۔ مرتد عرف عام میں اس شخص کو کہتے ہیں جو دین اسلام سے پھر جائے۔ وجود ایمان کے بعد کلمہ کفر کا زبان سے ادا ہونا مرتد ہونے کا رکن ہے اور مرتد کا حکم صحیح ہونے کے لئے عقل کا ہونا شرط ہے لہٰذا مجنوں اور بےعقل بچے پر مرتد کا حکم لگانا صحیح نہیں ہے اور جس شخص پر جنون کی کیفیت مستقل طور پر طاری رہتی ہو تو اس پر مرتد کا حکم اس صورت میں لگے گا جب کہ وہ اپنے صحیح الدماغ ہونے کی حالت میں ارتداد کا مرتکب ہوا، اگر وہ اس وقت ارتداد کا مرتکب ہو جب کہ اس پر جنون کی کیفیت طاری تھی تو اس پر مرتد کا حکم نہیں لگے گا اسی طرح اس شخص پر بھی مرتد کا حکم لگانا صحیح نہیں ہوگا جو ہر وقت نشے کی حالت میں رہتا ہو اور اس کی عقل ماؤف ہوچکی ہو۔ مرتد کا حکم نافذ ہونے کے لئے بالغ ہونا شرط نہیں ہے یعنی یہ ضروی نہیں ہے کہ جو شخص حالت بلوغ میں ارتداد کا مرتکب ہو اسی کو مرتد قرار دیا جائے جب کہ نابالغ پر بھی مرتد کا حکم لگ سکتا ہے اسی طرح مرد ہونا بھی مرتد کے حکم نافذ ہونے کے لئے شرط نہیں بلکہ اگر عورت ارتداد کی مرتکب ہوگی تو اس پر بھی مرتد کا حکم لگے گا۔ مرتد کا حکم نافذ ہونے کے لئے رضا ورغبت شرط ہے لہٰذا اس شخص پر مرتد ہونے کا حکم نافذ نہیں ہوسکتا جس کو مرتد ہوجانے پر مجبور کیا گیا ہو۔ جس شخص کو برسام کی بیماری ہو اس کو کوئی ایسی چیز کھلا دی جائے جس سے اس کی عقل جاتی رہی اور ہزیان بکنے لگے اور پھر اسی حالت میں وہ مرتد ہوجائے تو اس پر مرتد کا حکم نہیں لگایا جائے گا، اسی طرح جو شخص مجنوں ہو یا وسواسی ہو یا کسی بھی قسم کا مغلوب العقل ہو تو اس پر بھی مرتد کا حکم نہیں لگے گا۔ جیسا کہ ابتداء باب میں بیان کیا گیا، جو شخص مرتد ہوجائے اس کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی جائے اور اگر اس کو کوئی شک وشبہ ہو تو اسے دور کیا جائے۔ اور پھر جب وہ دائرہ اسلام میں آنا چاہئے تو کلمہ شہادت پڑھے اور مذہب اسلام کے سوا اور سب مذاہب سے بیزاری کا اظہار کرے اور اسی مذہب سے بیزاری کا اظہار کرے جس کے دائرہ میں وہ اسلام کو چھوڑ کر گیا تھا تو یہ بھی کافی ہوگا۔ اور کوئی شخص مرتد ہونے کے بعد پھر اسلام میں لوٹ آئے اور پھر کفر کی طرف لوٹ جائے، اسی طرح تین مرتبہ کرے اور ہر مرتبہ امام وقت سے مہلت چاہے تو امام وقت اس کو تین تین دن کی تینوں مرتبہ تو مہلت دے دے لیکن اگر وہ پھر چوتھی بار کفر کی طرف لوٹے اور مہلت طلب کرے تو اب چوتھی بار امام وقت اس کو مہلت نہ دے بلکہ اگر وہ آخری طور پر دائرہ اسلام میں واپس آجائے تو ٹھیک ہے ورنہ اس کو قتل کردیا جائے۔ اگر کوئی صاحب عقل لڑکا مرتد ہوجائے تو اس کا مرتد ہونا حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور حضرت امام محمد کے نزدیک معتبر ہوگا لہٰذا اس کو دائرہ اسلام میں آجانے پر مجبور کیا جائے اور اس کو قتل نہ کیا جائے یہی حکم اس لڑکے کا ہے جو قریب البلوغ ہو۔ صاحب عقل لڑکے سے مراد ایسی عمر کا لڑکا ہے جو یہ سمجھتا ہو کہ اسلام نجات کا ذریعہ ہے اور وہ اچھے اور برے میں اور میٹھے اور کڑوے میں تمیز کرسکتا ہو۔ بعض حضرات کے نزدیک وہ لڑکا مراد ہے جو سات سال کی عمر کو پہنچ گیا ہو۔ اگر کوئی عورت مرتد ہوجائے تو اس کو قتل نہ کیا جائے بلکہ جب تک کہ وہ مسلمان نہ ہوجائے اس کو قید میں ڈالے رکھا جائے اور ہر تیسرے دن اس کو بطور تنبیہ مارا جائے تاکہ وہ اپنے ارتداد سے توبہ کر کے دائر اسلام میں آجائے لیکن اگر کوئی شخص کسی مرتد عورت کو قتل کر دے تو قاتل پر کچھ واجب نہیں ہوگا۔ کوئی باندی مرتد ہوجائے تو اس کا مالک اس کو اسلام قبول کرنے پر بایں طور مجبور کرے کہ اس کو اپنے گھر میں محبوس کر دے اس سے خدمت لینے کے ساتھ ساتھ سزاءً کچھ دوسرے کام بھی اس کے سپرد کر دے اور وہ مالک اس کے ساتھ صحبت نہ کرے۔ عاقلہ لڑکی کا وہی حکم ہے جو بالغہ کا ہے اسی طرح خنثیٰ مشکل بھی عورت کے حکم میں ہے۔ آزاد عورت جو مرتد ہوجائے اس کو اس وقت تک بطور باندی گرفتار نہیں کیا جاسکتا جب تک کہ وہ دار الاسلام میں ہے ہاں اگر وہ دار الحرب میں چلی جائے اور پھر وہاں سے وہ (اسلامی لشکر کے) قیدیوں میں آئے تو اس کو باندی بنایا جاسکتا ہے۔ اور امام ابوحنیفہ کے نوادر میں سے ایک قول یہ ہے کہ مرتدہ کو دار الاسلام میں بھی بطور باندی گرفتار کیا جاسکتا ہے چناچہ بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ اگر اس قول پر اس عورت کے بارے میں فتویٰ دیا جائے جو خاوند والی ہو تو کوئی مضائقہ نہیں بلکہ مناسب یہ ہے کہ اس عورت کا خاوند حکومت وقت سے اس کو باندی بنا لینے کی درخواست کرے یا اگر وہ خاوند اس کا مصرف (یعنی مسلمان) ہو تو حکومت وقت اس عورت کو خاوند کے تئیں ہدیہ کر دے۔ اس صورت میں خاوند اس عورت کو محبوس کرنے اور اسلام کے لئے اس کو سزاءً مارنے کا ذمہ دار ہوگا۔ جب کوئی مرتد اپنے ارتداد سے انکار کر دے تو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت محمد ﷺ کی رسالت اور دین اسلام کی حقاینت کا اقرار کرے تو یہ گویا اس کی طرف سے توبہ کا مظہر ہوگا اور اس صورت میں وہ مسلمان سمجھا جائے گا۔ جب کوئی شخص مرتد ہوجاتا ہے تو اس کے مال سے اس کی ملکیت زائل ہوجاتی ہے لیکن یہ ملکیت کا زائل ہونا موقوف رہتا ہے اگر اس شخص کو توبہ کی توفیق نصیب ہوجائے اور پھر وہ مسلمان ہوجائے تو اس کی ملکیت بھی واپس آجاتی ہے اور اگر وہ اسی حالت ارتداد میں مرجائے یا اس کو قتل کردیا جائے تو اس کے اس مال کے جو اس نے اسلام کی حالت میں کمایا تھا اس کے مسلمان وارث اور حقدار ہوں گے اور ان کو اس مال کا وہی حصہ ملے گا جو اس زمانہ میں اس کے دین کی ادائیگی کے بعد جو کچھ بچے گا وہ فئی شمار ہوگا۔ یہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا قول ہے، صاحبین یعنی حضرت امام ابویوسف اور حضرت امام محمد کے نزدیک مرتد کی ملکیت زائل نہیں ہوتی۔ مرتد کی میراث پانے والے کے بارے میں حضرت امام ابوحنیفہ کے مختلف اقوال بیان کئے جاتے ہیں، چناچہ حضرت امام محمد نے حضرت امام اعظم سے نقل کیا ہے اور یہی قول زیادہ صحیح ہے کہ جب مرتد مرجائے یا اس کو قتل کردیا جائے اور یا وہ دار الحرب بھاگ جائے تو اس کا مسلمان وارث اس کی میراث پائے گا اسی طرح اس کے مرجانے یا قتل کئے جانے یا دار الحرب بھاگ جانے کے بعد اس کی مسلمان بیوی بھی اس کی مال کی وارث ہوگی بشرطیکہ اس (مرتد کی وفات یا قتل یا دارالحرب بھاگ جانے کے) وقت وہ بیوی عدت میں ہو کیونکہ وہ مرتد اپنے ارتداد کے ذریعہ گویا (اپنی بیوی کو اپنی میراث دینے سے) راہ فرار اختیار کرنے والا ہو لہٰذا اس کا ارتداد مرض الموت کی مانند ہوا (کہ جس طرح اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو اپنے مرض الموت میں طلاق مغلظہ دے دے تو شریعت اس امر کے پیش نظر کہ اس کے شوہر نے اس کو اپنی میراث سے محروم رکھنے ہی کے لئے مرض الموت میں طلاق دی ہے اس کو اس کے شوہر کی میراث کی حقدار تسلیم کرتی ہے اسی طرح مرتد بھی اپنے ارتداد کے ذریعہ گویا اپنی بیوی کو اپنی میراث سے محروم رکھنا چاہتا ہے اس لئے شریعت اس کے (علی الرغم) اس کی بیوی کو اس کی میراث کا حقدار تسلیم کرتی ہے، اگر کوئی عورت مرتد ہوجائے تو (اس کے مرنے کے بعد) اس کا خاوند اس کی میراث کا حقدار نہیں ہوتا، ہاں اگر بیوی بیماری کی حالت میں مرتد ہوئی (پھر مرگئی) تو اس کا شوہر اس کی میراث پائے گا اسی طرح تمام اقرباء اس کے سارے مال کے وارث ہوں گے یہاں تک کہ اس نے حالت ارتداد میں جو مال جمع کیا ہوگا وہ بھی ان وارثوں کو ملے گا۔ اگر کوئی شخص مرتد ہو کر دار الحرب میں چلا گیا یا حاکم نے اس کے دار الحرب میں چلے جانے کا حکم نافذ کردیا تو اس کا مدبر غلام آزاد ہوجائے گا اور اس کی امہات اولاد بھی آزاد ہوجائیں گی اور اس کے جو دیون مؤ جلہ ہوں گے وہ فوری طور پر قابل ادائیگی ہونگے اور اس نے حالت اسلام میں جو مال پیدا کیا تھا وہ سب اس کے مسلمان ورثاء کی طرف منتقل ہوجائے گا اور اگر کسی مرتد نے اپنے زمانہ اسلام میں کوئی وصیت کی ہوگی تو مبسوط وغیرہ کی ظاہری روایت کے بموجب وہ وصیت مطلقاً باطل ہوگی یعنی اس کی وصیت کا اجراء نہیں ہوگا خواہ وہ اس وصیت کا تعلق کسی قرابت دار سے ہو یا غیر قرابت دار سے۔ مرتد جب تک دار السلام میں گھومتا پھرتا نظر آئے اس کے بارے میں قاضی ان احکام میں سے کوئی بھی حکم نافذ نہ کرے جو ذکر کئے گئے ہیں، جو شخص مرتد ہوجائے، معاملات وعقودات میں اس کے تصرف کرنے کی چار قسمیں ہیں۔ اول تو وہ تصرف ہے جو سب کے نزدیک پوری طرح جاری ونافذ ہوتا ہے جیسے اگر اس کو کوئی چیز ہبہ کی جائے اور وہ اس ہبہ کو قبول کرلے، یا وہ اپنی لونڈی کو ام ولد بنا دے، یا جب اس کی لونڈی کسی بچے کو جنم دے اور وہ مرتد اس بچے کے نسب کا دعوی کرے (یعنی یہ کہے کہ یہ میرا بچہ ہے) تو اس بچہ کا نسب اس سے ثابت ہوجائے گا اور وہ بچہ اس کے دوسرے وارثوں کے ساتھ اس کی میراث کا حقدار ہوگا اور وہ لونڈی (جس کے بطن سے بچہ پیدا ہوا ہے) اس مرتد کی ام ولد ہوگی نیز مرتد کی طرف سے تسلیم شفعہ کو قبول ونافذ کیا جائے گا، اسی طرح اگر مرتد اپنے ماذون غلام پر حجر نافذ کرے تو اس کا اعتبار کیا جائے گا۔ دوسرا تصرف وہ ہے جو بالاتفاق باطل ہوتا ہے یعنی شریعت کی نظر میں اس کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا جیسے نکاح کرنا کہ وہ مطلقاً جائز نہیں مفاوضت کرے تو اس کا حکم موقوف (معلق) رہتا ہے کہ اگر وہ مرتد مسلمان ہوگیا تو وہ شرکت مفاوضت بھی نافذ ہوجائے گی اور اگر وہ ارتداد کی حالت میں مرگیا یا اس کو قتل کردیا گیا یا وہ دارالحرب چلا گیا اور قاضی وحاکم نے اس کے دار الحرب چلے جانا کا حکم نافذ کردیا تو اس صورت میں وہ شرکت مفاوضت شروع سے شرکت عنان میں تبدیل ہوجائے گی، یہ صاحبین کا مسلک ہے لیکن حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک شرکت مفاوضت سرے سے باطل ہی نہیں ہوتی۔ چوتھا تصرف وہ ہے جس کے موقوف رہنے میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں جیسے خریدو فروخت کے معاملات اجارہ کرنا، غلام کو آزاد کرنا، مدبر کرنا یا مکاتب کرنا، وصیت کرنا اور قبض دیون وغیرہ، چناچہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا قول یہ ہے کہ ان سب معاملات میں مرتد کے تصرفات موقوف رہتے ہیں اگر وہ اسلام قبول کرے تو نافذ ہوجاتے ہیں اور اگر مرجائے، یا قتل کردیا جائے یا قاضی وحاکم اس کے دار الحرب چلے جانے کا حکم نافذ کر دے تو یہ سارے تصرفات باطل ہوجاتے ہیں۔ ارتداد کے دوران مکاتب کے سارے تصرفات نافذ ہوتے ہیں، اسی طرح اگر کوئی شخص اپنے مرتد غلام یا باندی کو فروخت کرے تو اس کی بیع جائز ہوتی ہے۔ اگر کوئی مرتد اپنے ارتداد سے تائب ہو کر دار الاسلام واپس آجائے اور یہ واپسی قاضی وحاکم کی طرف سے اس کے دار الحرب چلے جانے کے حکم کے نفاذ سے پہلے ہو تو اس کے مال و اسباب کے بارے میں اس کے مرتد ہوجانے کا حکم باطل ہوجاتا ہے اور وہ ایسا ہوجاتا ہے گویا کہ مسلمان ہی تھا اور نہ اس کی کوئی ام ولد آزاد ہوتی ہے اور نہ اس کا کوئی مدبر آزاد ہوتا ہے اور اگر اس کی واپسی قاضی وحاکم کے حکم کے نفاذ کے بعد ہوتی تو وہ اپنے وارثوں کے پاس جو چیز پائے اس کو لے لے اور جو مال و اسباب اس کے وراثوں نے بیع ہبہ اور عتاق وغیرہ کے ذریعہ اپنی ملکیت سے نکال دیا ہے اس کے مطالبہ کا حق اس کو نہیں پہنچے گا اور اپنے وارثوں سے اس کو ایسے مال کا بدلہ و معاوضہ لینے کا حق حاصل ہوگا۔ جو شخص اپنے ماں باپ کی اتباع میں مسلمان تھا (یعنی وہ بچہ تھا اور اپنے مسلمان ماں باپ کی وجہ سے مسلمان کے حکم میں تھا) اور پھر ارتداد کے ساتھ بالغ ہوا تو اگرچہ قیاس کا تقاضہ یہ ہے کہ اس کو قتل کیا جائے مگر اس کے بارے میں از راہ استحسان یہ حکم ہے کہ اس کو قتل نہ کیا جائے (کیونکہ بلوغ سے پہلے وہ مستقل بالذات مسلمان نہیں تھا بلکہ اپنے ماں باپ کی اتباع میں مسلمان کے حکم میں تھا) اسی طرح یہی حکم اس شخص کے بارے میں ہے جو چھوٹی عمر میں مسلمان ہوگیا تھا مگر جب بالغ ہوا تو مرتد تھا، نیز اگر کسی شخص و زبردستی اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا گیا تھا اور پھر وہ اسلام سے پھر گیا تو اس کو بھی از راہ استحسان قتل نہ کیا جائے لیکن ان تمام صورتوں میں حکم یہ ہے کہ اس کو اسلام قبول کرلینے پر مجبور کیا جائے اور اگر اسلام قبول کرنے سے پہلے کسی نے اس کو مار ڈالا تو مارنے والے پر کچھ واجب نہیں ہوگا۔ لقیط (وہ بچہ جو کہیں پڑا ہوا پایا جائے) اگر دار الاسلام میں ہو تو اس کے مسلمان ہونے کا حکم نافذ کیا جائے اور کفر کی حالت میں بالغ ہو تو اس کو اسلام لانے پر مجبور کیا جائے لیکن اس کو قتل نہ کیا جائے۔ یہاں تک تو مرتد کے بارے میں کچھ احکام و مسائل کا ذکر تھا، اب کچھ ان باتوں کو بیان کردینا ضروری ہے جن کا مرتکب کافر ہوجاتا ہے چناچہ ان میں سے بعض باتیں وہ ہیں جن کا تعلق ایمان واسلام سے ہے بعض باتیں وہ ہیں جن کا تعلق اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات وغیرہ سے ہے، بعض باتیں وہ ہیں جن کا تعلق نماز، روزے اور زکوٰۃ سے ہے، بعض باتیں وہ ہے جن کا تعلق علم اور علماء سے ہے بعض باتیں وہ ہیں جن کا تعلق حلال و حرام وغیرہ سے ہے، بعض باتیں وہ جن کا تعلق قیامت وغیرہ سے ہے اور بعض باتیں وہ ہیں جن کا تعلق کفر کی تلقین کرنے سے ہے۔ چونکہ یہ ایک طویل سلسلہ ہے اس لئے ان باتوں کو یعنی موجبات کفر کو ترتیب کے ساتھ الگ الگ عنوان کے ذیل میں بیان کیا جاتا ہے۔ وہ موجبات کفر جن کا تعلق ایمان واسلام سے ہے ایمان واسلام کے بارے میں وہ باتیں جن کا مرتکب کافر ہوجاتا ہے، یہ ہیں۔ اگر کوئی شخص یوں کہے کہ مجھے نہیں معلوم، میرا ایمان ہے یا نہیں؟ تو یہ خطائے عظیم ہے، ہاں اور اس بات کا مقصد اپنے شک کی نفی کرنا ہو تو خطائے عظیم نہیں ہے۔ جس شخص نے اپنے ایمان میں شک کیا اور یہ کہا کہ میں مؤمن ہوں انشاء اللہ تو وہ کافر ہے ہاں اگر وہ یہ تاویل کرے کہ مجھے نہیں معلوم کہ میں اس دنیا سے ایمان کے ساتھ اٹھوں گا یا نہیں؟ تو اس صورت میں وہ کافر نہیں ہوگا جس شخص نے یہ کہا کہ قرآن مخلوق ہے، یا ایمان مخلوق ہے تو وہ کافر ہوگیا۔ جس شخص نے یہ عقیدہ رکھا کہ ایمان وکفر ایک ہیں تو وہ کافر ہے۔ جو شخص ایمان پر راضی و مطمئن نہ ہوا وہ کافر ہے جو شخص اپنے نفس کے کفر پر راضی ہوا وہ کافر ہے اور جو شخص اپنے غیر کے کفر پر راضی ہوا اس کے بارے میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں اور فتویٰ اس قول پر ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے غیر کے کفر پر اس لئے راضی ہوا تاکہ وہ (کافر) ہمیشہ عذاب میں مبتلا رہے تو وہ کافر نہیں ہوگا اور اگر وہ اس کے کفر پر اس لئے راضی ہوا تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے حق میں اس چیز کا اظہار کرے جو اس کی صفات کے لائق نہیں ہے تو وہ کافر ہوجائے گا۔ جس شخص نے یہ کہا کہ اسلام کی صفت نہیں جانتا، تو وہ کافر ہوگیا۔ شمس الائمہ حلوائی نے اس مسئلہ کو بڑے سخت انداز میں ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ اس طرح کہنے والا ایسا شخص ہے جس کے لئے نہ دین ہے، نہ نماز ہے، نہ روزہ، نہ طاعت و عبادت ہے نہ نکاح ہے اور اس کی اولاد زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اولاد ہے۔ ایک مسلمان نے کسی عیسائی لڑکی سے نکاح کیا جس کے ماں باپ بھی عیسائی ہیں اور پھر وہ اس حال میں بڑی ہوئی کہ وہ کسی مذہب اور دین کو نہیں جانتی یعنی نہ تو وہ دین کو دل سے پہنچانتی ہے اور نہ اس کو زبان سے بیان کرسکتی ہے اور وہ دیوانی بھی نہیں ہے تو اس صورت میں اس کے اور اس کے شوہر کے درمیان تفریق ہوجائے گی۔ اسی طرح کسی مسلم بچی سے نکاح کیا اور پھر جب وہ حالت عقل میں بالغ ہوئی تو نہ وہ اسلام کو دل سے جانتی پہنچانتی ہے اور اس کو زبان سے بیان کرسکتی ہے اور وہ دیوانی بھی نہیں ہے تو اس صورت میں بھی اس کے شوہر کے درمیان جدائی ہوجائے گی۔ اگر کسی عورت سے پوچھا گیا کہ توحید کیا ہے اس نے جواب میں کہا میں نہیں جانتی تو اس جواب سے اس امر کی مراد اگر یہ ہو کہ مجھے وہ توحید (یعنی کلمہ تو حید) یاد نہیں ہے جو بچے مکتب میں پڑھا کرتے ہیں، تو اس میں اس کا کوئی نقصان نہیں۔ لیکن اگر وہ اس جواب سے یہ مراد رکھتی ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو نہیں پہنچانتی تو اس صورت میں وہ مؤمنہ نہیں رہے گی اور اس کا نکاح ٹوٹ جائے گا۔ اگر کوئی شخص اس حالت میں مرا کہ وہ یہ نہیں پہنچانتا تھا کہ کوئی میرا خالق ہے، اس کے گھر کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک اور گھر بھی ہے اور یہ کہ ظلم حرام ہے تو وہ مؤمن نہیں تھا۔ ایک شخص گناہ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ (گناہ کے ذریعہ) اپنے اسلام کو ظاہر کرنا چاہئے تو وہ کافر ہے۔ ایک شخص نے کسی سے کہا کہ میں مسلمان ہوں تو اس نے جواب میں کہا کہ تجھ پر بھی لعنت اور تیری مسلمانی پر بھی لعنت، تو وہ کافر ہوگیا۔ ایک عیسائی نے اسلام قبول کیا، اس کے بعد اس کا (عیسائی) باپ مرگیا، اس نے کہا کہ کاش میں اس وقت مسلمان نہ ہوتا تو اپنے باپ کا مال پا جاتا، وہ کافر ہوگیا۔ ایک عیسائی کسی مسلمان کے پاس آیا اور اس سے کہا کہ میرے سامنے اسلام کی دعوت پیش کرو تاکہ میں تمہارے ہاتھ پر اسلام قبول کرلوں اس مسلمان نے جواب دیا کہ تم فلاں عالم کے پاس چلے جاؤ تاکہ وہ تمہارے سامنے اسلام پیش کرے۔ اور تم اس کے ہاتھ پر اسلام قبول کرو اس طرح کہنے والے کے بارے علماء کے اختلافی اقوال ہیں۔ ابوجعفر کہتے ہیں کہ اس طرح کہنے والا کافر نہیں ہوگا۔ ایک کافر نے اسلام قبول کیا تو ایک مسلمان نے اس سے کہا کہ تمہیں اپنے دین میں کیا برائی نظر آئی تھی (جو تم نے اسلام قبول کرلیا؟ ) یہ کہنے والا کافر ہوجائے گا۔

3499Mishkaat-al-Masabih

مرتدوں اور فساد برپا کرنے والوں کو قتل کردینے کا بیان

وہ موجبات کفر جن کا تعلق اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات سے ہے وہ شخص کافر ہوجاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی ایسے وصف کی نسبت کرے جو اس کی شان کے لائق نہیں، یا کسی کو اس کا شریک یا بیٹا اور یا بیوی ٹھہرائے، یا اس کی طرف جہل کی یا عجز کی یا کسی اور خرابی کی نسبت کرے۔ یہ کہنے والا بھی کافر ہے کہ یہ جائز ہے کہ اللہ تعالیٰ کوئی ایسا کام کرے جس میں کوئی حکمت نہ ہو جو شخص یہ عقیدہ رکھے کہ اللہ تعالیٰ کفر پر راضی ہوتا ہے تو وہ کافر ہے۔ اور کوئی شخص یوں کہے کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے یہ کام کرنے کا حکم دے تو میں جب بھی یہ کام کروں تو وہ کافر ہوجائے گا۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کی طرف جو ید اور وجہ کی نسبت کی گئی ہے درآنحالیکہ وہ جارحہ نہیں، تو کیا کسی دوسری زبان میں ان چیزوں کا اطلاق جائز ہے یا نہیں؟ اس بارے میں بعض علماء نے فرمایا کہ جائز ہے بشرطیکہ ان چیزوں سے (ان کے حقیقی مفہوم یعنی) اعضاء مردانہ ہوں اور اکثر علماء یہ فرماتے ہیں کہ جائز نہیں اور یہی معتمد علیہ قول ہے۔ اگر کسی شخص نے یوں کہا کہ فلاں شخص میری آنکھ میں ایسا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی آنکھ میں یہودی، تو جمہور علماء کے نزدیک وہ شخص کافر ہوجائے گا (کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کی طرف آنکھ کے اصل معنی یعنی ایک انسانی عضو کی نسبت کی ہے) لیکن بعض حضرات یہ فرماتے ہیں کہ اگر اس جملہ سے کہنے والے کی مراد اس فلاں شخص کے افعال کی برائی کو ظاہر کرنا مقصود ہو تو کافر نہیں ہوگا۔ ایک انسان کی وفات ہوگئی ایک دوسرے شخص نے کہا کہ اللہ کو ایسا نہیں چاہئے تھا۔ تو یہ کفر ہے۔ ایک شخص نے اپنے دشمن سے کہا کہ میں اللہ کے حکم سے تیرے ساتھ یہ معاملہ کرتا ہوں دشمن نے جواب میں کہا کہ میں اللہ کا حکم نہیں جانتا یا یہ کہا کہ اس جگہ اللہ کا حکم نہیں چلتا یا یہ کہا کہ۔ اس جگہ کوئی حکم نہیں۔ یا یہ کہا کہ اللہ حکم کرنے کے لائق نہیں ہے یا یہ کہا کہ اس جگہ تو دیودہی کا حکم چلے گا یہ سب جملے کفر کو لازم کرتے ہیں۔ حاکم عبدالرحمن ؓ اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو یہ کہے کہ فلاں کام رواج کے مطابق کررہا ہوں اللہ کے حکم سے نہیں کرتا تو کیا ایسا شخص کافر ہوجائے گا؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر اس جملہ سے اس مراد صرف فساد حق، ترک شریعت اور اتباع رسم ہے نہ کہ اس کا مقصد اللہ کے حکم کو رد کرنا ہے تو وہ کافر نہیں ہوگا۔ اگر کوئی شخص کسی ایسے آدمی کے بارے میں جو کبھی بیمار نہ ہوتا ہو یہ کہے کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو بھول گیا ہے یا یہ کہا کہ یہ شخص ان لوگوں میں سے ہے جن کو اللہ تعالیٰ بھول گیا ہے تو یہ کفر ہے جائے گا کسی شخص نے اپنی بیوی سے یہ کہا کہ تم تو اللہ تعالیٰ سے زیادہ محبوب ہو تو وہ کافر ہوجائے گا۔ یہ کہنا کہ فلاں شخص بری تقدیر میں پھنس گیا ہے خطائے عظیم ہے۔ اللہ تعالیٰ کے لئے مکان کو ثابت کرنا کفر ہے چناچہ اگر کوئی شخص یوں کہے کہ اللہ تعالیٰ سے کوئی مکان خالی نہیں ہے تو وہ کافر ہوجائے گا۔ اور اگر کسی نے یوں کہا کہ اللہ تعالیٰ آسمان پر ہے تو دیکھا جائے گا کہ یہ بات اس نے کس مقصد سے کہی ہے، اگر اس کا مقصد اس چیز کی حکایت کرنا ہے جو ظاہری طور پر منقول ہے تو کافر نہیں ہوگا اور اگر اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت کرنا ہے تو پھر وہ کافر ہوجائے گا۔ اور اکثر علماء کے نزدیک اگر اس کی نیت کچھ بھی نہ ہو تو بھی کافر ہوجائے گا۔ اسی طرح یہ کہنے والا بھی کافر ہوجائے گا۔ کہ اللہ تعالیٰ انصاف کے لئے بیٹھا یا اللہ تعالیٰ انصاف کے لئے کھڑا ہوا کیونکہ اس جملہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف فوق اور تحت کی نسبت کی گئی ہے۔ یہ کہنا بھی کفر ہے کہ (میرا حامی و مددگار) آسمان پر اللہ ہے اور زمین پر فلاں شخص ہے۔ اکثر علماء کے نزدیک یہ کہنا بھی کفر ہے کہ اللہ آسمان پر سے نیچے دیکھ رہا ہے یا صرف یہ کہا کہ اللہ آسمان پر سے دیکھ رہا ہے۔ یا یہ کہا کہ اللہ عرش پر سے دیکھ رہا ہے۔ جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی طرف ظلم کی نسبت کی وہ کافر ہوگیا۔ اگر کسی شخص نے یوں کہا کہ اے اللہ! یہ ظلم مت پسند کر تو بعض علماء کے نزدیک وہ کافر ہوجائے گا۔ اسی طرح اگر کسی شخص نے کسی دوسرے شخص سے یوں کہا کہ اگر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نے انصاف کیا تو مجھے تم سے انصاف ملے گا تو وہ کافر ہوجائے گا۔ ہاں لفظ اگر کی بجائے جس وقت کہا تو وہ کافر نہیں ہوگا۔ اور اگر کسی سے یوں کہا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن حق اور عدل کے ساتھ حکم کیا تو میں تم سے اپنا حق لے لوں گا کافر ہوجائے گا۔ اگر کسی نے یوں کہا کہ اے اللہ! جب ایک ظالم ظلم کرتا ہے تو اس کا ظلم قبول مت کر، اگر تو نے اس کا ظلم قبول کیا تو میں قبول نہیں کروں گا یہ کفر ہے کیونکہ اس شخص نے گویا یہ کہا کہ اے اللہ! اگر تو اس کے ظلم پر راضی ہوگا تو میں راضی نہیں ہونگا۔ ایک شخص نے کسی سے کہا کہ جھوٹ مت کہو اس شخص نے جواب میں کہا کہ جھوٹ کس لئے ہے، کہنے ہی کے لئے تو ہے یہ کفر ہے۔ کسی شخص سے کہا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا طلب کرو اس نے کہا کہ مجھے نہیں چاہئے یا کسی نے کہا کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے جنت میں داخل کرے، غارت کروں یا کسی سے کہا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی مت کرو کیونکہ اگر تم نافرمانی کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں دوزخ میں داخل کرے گا اس نے کہا کہ میں دوزخ سے نہیں ڈرتا یا کسی سے یہ کہا کہ زیادہ مت کھاؤ، کیونکہ اللہ تعالیٰ تمہیں دوست نہیں رکھے گا اس نے کہا کہ میں تو کھاؤں گا چاہے دشمن رکھے چاہے دوست رکھے یہ باتیں کفر کو لازم کرتی ہیں۔ اسی طرح اگر کسی سے یہ کہا گیا کہ زیادہ مت ہنسو۔ یا زیادہ مت سوؤ اس کے جواب میں اس نے کہا کہ میں اتنا کھاؤں گا، اتنا سوؤں گا اور اتنا ہنسوں گا کہ جتنا چاہوں گا یہ کفر ہے۔ ایک شخص سے یہ کہا کہ گناہ مت کرو کیونکہ اللہ کا عذاب بہت سخت ہے اس نے کہا کہ میں عذاب کو ایک ہاتھ پر اٹھا لوں گا یہ کفر ہے۔ اگر کسی شخص سے یہ کہا گیا کہ اپنے ماں باپ کو مت ستاؤ اس نے کہا کہ ان کا مجھ پر کوئی حق نہیں ہے یہ اگرچہ کفر نہیں ہے لیکن سخت گناہ کی بات ہے۔ ایک شخص نے ابلیس لعین سے کہا کہ اے ابلیس! تو میرا فلاں کام کر دے تاکہ میں تیرا کہنا مانوں اور اپنے ماں باپ کو ستاؤں اور تو جس چیز سے منع کرے اس سے باز رہوں یہ کفر ہے۔ اگر کسی شخص نے کسی سے یہ کہا کہ اگر اللہ یہ دونوں جہاں نہ بناتا تو میں تم سے اپنا حق لے لیتا یہ کفر ہے۔ ایک شخص نے کوئی جھوٹی بات کہیں اور ایک سننے والے نے کہا کہ میرا اللہ تمہارے اس جھوٹ کو سچ کر دے۔ یا یہ کہا کہ تمہارے اس جھوٹ کے ساتھ برکت دے۔ تو یہ کفر کے قریب ہے اسی طرح ایک شخص نے جھوٹ بولا اور سننے والے نے کہا کہ اللہ تمہارے جھوٹ میں برکت دے تو وہ کافر ہوگیا۔ ایک شخص نے کسی سے کہا کہ فلاں شخص تمہارے ساتھ سیدھا نہیں چلتا اس نے جواب میں کہا کہ اس کے ساتھ تو اللہ بھی سیدھا نہیں چلے گا تو یہ کہنے والا کافر ہوگیا۔ اگر کسی نے یہ کہا کہ اللہ تعالیٰ زر کو محبوب رکھتا ہے اس لئے مجھے زر نہیں دیا تو وہ کافر ہوجائے گا۔ بشرطیکہ اس کے کہنے سے اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی طرف بخل کی نسبت کرنا ہو۔ ہاں صرف اتنا کہنا کفر کو لازم نہیں کرتا کہ اللہ تعالیٰ زر کو پسند نہیں کرتا ہے۔ ایک شخص نے کسی سے کہا کہ انشاء اللہ تم یہ فلاں کام کرو اس نے جواب دیا کہ میں انشاء اللہ کے بغیر یہ کام کروں گا تو یہ کفر ہے۔ ایک مظلوم نے کہا کہ (میرے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے) تقدیر الہٰی کے مطابق ہے ظالم نے یہ سن کر کہا کہ میں جو کچھ کر رہا ہوں تقدیر الہٰی کے بغیر کر رہا ہوں یہ کفر ہے۔ اگر کسی نے یہ کہا کہ اے اللہ! مجھ پر رحمت کرنے سے دریغ نہ کیجئے تو یہ کفر یہ الفاظ میں سے ہے۔ میاں بیوی آپس میں گفتگو کر رہے تھے (بیوی کی طرف سے) جب گفتگو کا سلسلہ دراز ہوا تو میاں نے کہا کہ اللہ سے ڈرو اور تقویٰ اختیار کرو بیوی نے جواب میں کہا کہ میں اللہ سے نہیں ڈرتی یہ کہنے سے بیوی مرتد ہوجائے گی۔ اور ان دونوں (میاں بیوی) کے درمیان جدائی واقع ہوجائے گی۔ بشرطیکہ میاں نے بیوی کو اس کی کسی صریح معصیت پر ٹوکا ہو اور اس کو اللہ سے ڈرایا ہو اور اس کے جواب میں بیوی نے مذکورہ جملہ کہا ہو، ہاں اگر میاں نے بیوی کو اس کی کسی اسی بات پر ٹوکا ہو جس میں اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا کوئی موقع نہ ہو (یعنی بیوی نے کوئی معصیت نہ کی ہو) تو اس صورت میں وہ کافر نہیں ہوگی۔ البتہ اگر اس صورت میں بھی اس جملہ سے بیوی کا مقصد خوف اللہ اور تقویٰ کی اہانت ہو تو دونوں کے درمیان جدائی واقع ہوجائے گی۔ ایک شخص نے کسی کو مارنے کا ارادہ کیا اور اس سے کہا کہ تم اللہ سے نہیں ڈرتے اس نے مارنے والے سے کہا کہ نہیں یہ کفر نہیں ہے کیونکہ اس کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کہے کہ اللہ سے ڈرنے کا سوال تو اس چیز میں پیدا ہوتا ہے جس کو میں کروں۔ ایک شخص کسی گناہ کا ارتکاب کر رہا تھا کہ کسی نے اس کو ٹوکا اور کہا کہ کیا تم اللہ سے نہیں ڈرتے اس نے جواب دیا کہ نہیں وہ کافر ہوجائے گا کیونکہ اس میں کسی تاویل کی گنجائش نہیں ہے، اسی طرح کسی اور شخص سے کہا گیا کہ کیا تم اللہ سے نہیں ڈرتے اور اس نے غصہ کی حالت میں جواب دیا کہ نہیں تو وہ کافر ہوگیا۔ اگر کوئی شخص اللہ کے کسی حکم کو یا پیغمبر کی شریعت کو پسند نہ کرے مثلا زید سے بکر نے کہا کہ اللہ نے چار بیویاں حلال کی ہیں اور زید کہے کہ میں اس حکم کو پسند نہیں کرتا تو یہ کفر ہے۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ صرف اللہ کا وجود ہونا چاہئے اور کسی چیز کا وجود نہیں ہونا چاہئے تو وہ کافر ہوجائے گا۔ اگر کسی شخص نے یہ کہا کہ میرے حق میں تمام نیکیاں اللہ نے پیدا کی ہیں اور برائی کا خالق میں ہوں تو وہ کافر ہوجائے گا۔ ایک شخص سے کہا گیا کہ یار تم اپنی بیوی کے بس میں نہیں آئے اس نے جواب دیا کہ عورتوں کے بس میں اللہ بھی نہیں آتا میں کیونکر بس میں آجاؤں گا یہ کفر ہے۔ اگر کسی شخص نے کسی سے یہ کہا کہ اللہ کی طرف سے دیکھتا ہوں اور تمہاری طرف سے دیکھتا ہوں (یعنی جو چیز مجھے ملی ہے وہ اللہ کی جانب سے ہے اور تمہاری جانب سے ہے) یا یہ کہا کہ میں اللہ سے امید رکھتا ہوں اور تم سے امید رکھتا ہوں تو یہ برا ہے ہاں اگر یوں کہے کہ میں اللہ کی طرف سے دیکھتا ہوں اور اس کا ظاہری سبب تمہیں سمجھتا ہوں تو یہ ایک اچھی بات ہے۔ ایک شخص نے اپنے کسی مخالف سے کسی بات میں قسم کھلوانی چاہی، اس مخالف نے کہا کہ میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں لیکن قسم کھلوانے والے نے کہا کہ میں اللہ کی قسم نہیں چاہتا بلکہ طلاق یا عتاق کی قسم لینا چاہتا ہوں تو وہ بعض علماء کے نزدیک کافر ہوجائے گا لیکن اکثر علماء کے نزدیک کافر نہیں ہوگا اور یہی قول زیادہ صحیح ہے۔ اگر کسی شخص نے بطور ہنسی مذاق فارسی میں کہ من خدا یم یعنی اس کا مطلب یہ کہنا تھا کہ اللہ آئیم تو وہ کافر ہوجائے گا۔ ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ تمہیں ہمسایہ کے حق کی پرواہ نہیں بیوی نے کہا نہیں شوہر نے کہا تمہیں خاوند کے حق کی پرواہ نہیں، بیوی نے کہا نہیں! پھر شوہر نے کہا تمہیں اللہ کے حق کی پرواہ نہیں بیوی نے اس کے جواب میں بھی کہا نہیں تو وہ کافر ہوجائے گی۔ اگر کسی شخص نے اپنی بیماری سے پریشان ہو کر تنگی معاش کے ابتلاء کی وجہ سے کہا کہ نہ معلوم اللہ نے مجھے پیدا کیوں کیا ہے جب کہ دنیا کی لذتوں اور راحتوں سے میں محروم ہوں تو اس کے بارے میں بعض علماء تو یہ کہتے ہیں کہ وہ کافر نہیں ہوگا لیکن اس کی یہ بات ایک خطائے عظیم ہے۔ ایک شخص نے کسی سے کہا کہ تم نے جو برائیاں کی ہیں ان کی وجہ سے اللہ تعالیٰ تمہیں عذاب میں مبتلا کرے گا اس نے جواب میں کہا کہ کیا اللہ تم نے مقرر کر رکھا ہے کہ اللہ وہی کرے گا جو تم کہو وہ کافر ہوجائے گا۔ اگر کسی شخص نے یہ کہا کہ اللہ دوزخ بنانے کے سوا اور کیا کرسکتا ہے تو وہ کافر ہوجائے گا۔ اسی طرح اگر کسی شخص نے کسی بدنما جانور یا بدنما انسان کو دیکھ کر کہا کہ کیا کوئی اللہ کا کار پرداز نہیں ہے کہ اس نے اس قسم کا جانور یا انسان پیدا کیا تو وہ کافر ہوجائے گا۔ ایک مفلس نے شدت افلاس میں کہا کہ فلاں شخص بھی اللہ کا بندہ ہے اور اس کو اس قدر نعمتیں حاصل ہیں اور میں بھی اللہ کا بندہ ہوں اور اتنے رنج وآلام میں مبتلا ہوں، کیا یہ انصاف ہے یہ کہنے سے وہ کافر ہوگیا۔ اسی طرح ایک شخص سے کہا گیا کہ اللہ سے ڈرو، اس نے جواب دیا کہ اللہ کہاں ہے تو وہ کافر ہوگیا۔ نیز اگر کسی نے یہ کہا کہ پیغمبر اپنی قبر میں نہیں ہیں یا یہ کہا کہ اللہ کا علم قدیم نہیں ہے یا یہ کہا کہ معدوم کا علم اللہ کو نہیں ہے تو وہ کافر ہوگیا۔ اگر کسی شخص کا نام عبداللہ ہو اور ایک اور شخص اس کو پکارتے وقت لفظ اللہ کے بجائے حرف کاف کا اضافہ کر دے تو وہ کافر ہوجائے گا۔ بشرطیکہ وہ پکارنے والا عالم ہو۔ اسی طرح اگر کوئی عالم لفظ خالق کی عمداً تصغیر کرے تو وہ کافر ہوجائے گا۔ اگر کسی شخص نے یہ کہا کہ تمہارے دل پر رحم کرے میرے دل پر نہیں تو وہ کافر ہوجائے گا۔ بشرطیکہ اس نے یہ بات رحمت الہٰی سے بےنیازی کے پیش نظر کہی ہو۔ اور اگر اس بات سے اس کا مطلب یہ ہو کہ میرا دل ثابت باثبات اللہ ہے مضطرب نہیں ہے تو وہ کافر نہیں ہوگا۔ اگر کسی شخص نے یوں قسم کھائی کہ اللہ کی قسم اور تیری خاک پاک کی قسم تو وہ کافر ہوجائے گا۔ ہاں اگر کسی نے یوں قسم کھائی کہ اللہ کی قسم اور تیرے سر، تیری جان کی قسم، تو اس کے بارے میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں۔ وہ موجبات کفر جن کا تعلق انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ ہے جو شخص انبیاء میں سے کسی بھی نبی کا اقرار نہیں کرے گا یا رسولوں میں سے کسی بھی رسول کی کسی بھی سنت پر ناراضگی یا عدم اعتقاد و اطمینان کا اظہار کرے گا تو وہ کافر ہوجائے گا۔ ابن مقاتل سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو حضرت خضر یا حضرت ذی الکفل کی نبوت کا انکار کرے۔ تو انہوں نے فرمایا کہ کسی ایسے نبی کی نبوت کا انکار کہ جس کی نبوت پر اس کی امت کے لوگ متفق نہ ہوئے ہوں، نقصان دہ نہیں ہے۔ اگر کسی شخص نے یوں کہا کہ اگر فلاں نبی ہوتا تو میں اس پر ایمان لاتا تو وہ کافر ہوجائے گا۔ اور حضرت جعفر سے منقول ہے کہ اگر کسی شخص نے یہ کہا کہ میں اللہ تعالیٰ کے تمام انبیاء پر ایمان لایا اور مجھے نہیں معلوم کہ آدم (علیہ السلام) نبی تھے یا نہیں تو وہ کافر ہوجائے گا۔ حضرت جعفر سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو انبیاء کی طرف فواحش کی نسبت کرے جیسے کسی نبی کی طرف عزم زنا کی نسبت کرنا یا اسی طرح کی کوئی اور بات کہنا جیسا کہ حشویہ (ایک باطل فرقہ) حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں اس قسم کا اظہار کرتے ہیں، تو انہوں نے فرمایا کہ ایسا شخص کافر ہے، کیونکہ یہ انبیاء کے حق میں بد گوئی ہے اور ان کی اہانت کے مترادف ہے۔ ابو ذر کہتے ہیں کہ جس شخص نے یہ کہا کہ ہر نافرمانی کفر ہے اور پھر یہ کہا کہ انبیاء (علیہم السلام) نے نافرمانی کی تو وہ کافر ہے کیونکہ اس نے انبیاء کے حق میں بدگوئی کی اور یہ کہا کہ انبیاء (علیہم السلام) نے کبھی کوئی نافرمانی نہیں کی نہ حالت نبوت میں اور نہ اس سے پہلے تو وہ کافر ہے کیونکہ اس نے یہ بات کہہ کر گویا نصوص (قرآن کریم کی آیت (عصی ربہ الا) یۃ وغیرہ) کی تردید کی۔ بعض علماء سے یہ منقول ہے کہ جس شخص نے یہ نہیں جانا کہ محمد ﷺ خاتم النبیین ہیں، وہ مسلمان نہیں ہے، جو شخص اپنے قلب میں کسی بھی نبی کے بارے میں بغض رکھے وہ کافر ہے۔ اسی طرح اگر کسی شخص نے یوں کہا کہ اگر فلاں اللہ کا رسول ہوتا تو میں اس پر ایمان نہ لاتا تو وہ کافر ہوجائے گا۔ جیسا کہ یہ کہنے والا کافر ہوجاتا ہے۔ کہ اگر اللہ تعالیٰ بھی مجھے فلاں کام کا حکم دیتا تو میں نہ کرتا۔ اگر کسی شخص نے یہ کہا کہ میں اللہ کا رسول ہوں یا فارسی میں کہا کہ من پیغمبرم اور اس سے اس کی مراد بھی یہ ہے کہ میں اللہ کا پیغام پہنچانے والا ہوں تو وہ کافر ہوجائے گا۔ اور جس وقت اس نے یہ بات کہی اور کسی دوسرے شخص نے اس سے معجزہ طلب کرنے والے کا مقصد اس شخص کو ذلیل کرنا اور اسے عاجز کرنا ہے تو وہ کافر نہیں ہوگا۔ اگر کسی شخص نے آنحضرت ﷺ کے بال مبارک کو چھوٹا سا بال کہا تو وہ بعض علماء کے نزدیک کافر ہوجائے گا اور بعض علماء کے نزدیک کافر نہیں ہوگا۔ ہاں اگر اس نے یہ بات اہانت کے طور پر کہی ہے تو ان کے نزدیک بھی کافر ہوجائے گا۔ اسی طرح اگر کسی شخص نے یہ کہا کہ میں نہیں جانتا کہ محمد ﷺ انسان تھے یا جن تو وہ کافر ہوجائے گا۔ اگر کسی نے یوں کہا کہ اگر فلاں شخص پیغمبر ہے تو میں اس سے اپنا حق لوں گا وہ کافر ہوجائے گا۔ اور اگر کسی نے یہ کہا کہ محمد دریشک بود ( یعنی محمد ﷺ ایک چھوٹے فقیر تھے) یا یہ کہا کہ پیغمبر کا کپڑا بدبودار اور میلا کچیلا تھا۔ یا یہ کہ آنحضرت ﷺ کے ناخن بڑھ رہے تھے تو بعض علماء کے نزدیک وہ بلا کسی قید کے کافر ہوجائے گا جب کہ بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ وہ اس صورت میں کافر ہوگا جب کہ وہ اس صورت میں کافر ہوگا جب کہ وہ یہ بات بطریق امانت کہے۔ اگر کسی نے کسی ایسے شخص کو گالی دی جس کا نام محمد یا احمد تھا یا اس کی کنیت ابوالقاسم تھی اور اس کو یوں مخاطب کیا کہ اے زانیہ کی اولاد، تو وہ کافر ہوگیا، بشرطیکہ (اس کا مقصد ہر اس شخص کو یہ گالی دینا ہو جس کا نام محمد یا احمد اور اس کی کنیت ابوالقاسم ہو اور اس طرح) نبی کریم ﷺ کی ذات گرامی بھی اس کے پیش نظر ہو۔ یہ کہنے سے کوئی کافر نہیں ہوتا کہ ہر گناہ کبیرہ ہے لیکن انبیاء کے گناہ صغیرہ ہیں اور اگر کسی نے یہ کہا کہ ہر برائی کا کام جو قصدًا کیا جائے گناہ کبیرہ ہے اس کام کا کرنے والا فاسق ہے اور پھر اس کے ساتھ یہ بھی کہا کہ انبیاء کے معاصی قصدًا تھے تو وہ کافر ہوگیا کیونکہ اس نے انبیاء کی شان میں بدگوئی کی۔ ہاں اگر اس نے یہ کہا کہ انبیاء کے معاصی قصدًا نہیں تھے تو وہ کافر نہیں ہوگا۔ جو رافضی حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق کی شان میں بدزبانی کرے اور نعوذ باللہ ان پر لعنت بھیجے تو وہ کافر ہے ہاں اگر اس نے حضرت علی کو حضرت ابوبکر پر فضیلت دی تو وہ کافر نہیں ہوگا لیکن اس کو مبتدع کہا جائے گا، معتزلی بھی مبتدع ہے لیکن اگر وہ یہ کہے کہ اللہ کا دیدار محال ہے تو وہ کافر ہوجائے گا۔ حضرت عائشہ پر زنا کی تہمت لگانے والے اللہ کے ساتھ کفر کرنے والا ہے ہاں اگر کسی نے آنحضرت ﷺ کی دوسری ازواج مطہرات پر زنا کی تہمت لگائی تو وہ کافر نہیں ہوتا لیکن مستحق لعنت ہوتا ہے اسی طرح جو شخص یہ کہے کہ حضرت عمر حضرت عثمان اور حضرت علی رسول کریم ﷺ کے صحابہ نہیں تھے تو وہ کافر نہیں ہوگا لیکن مستحق لعنت ہوگا۔ حضرت ابوبکر کی امامت و خلافت کا انکار کرنے والا بعض علماء کے نزدیک تو کافر ہوجاتا ہے اور بعض علماء کے نزدیک کافر نہیں ہوتا بلکہ مبتدع ہوتا ہے لیکن صحیح قول یہی ہے کہ وہ کافر ہوجاتا ہے۔ اسی طرح حضرت عمر کی خلافت کا انکار کرنے والا بھی صحیح قول کے مطابق کافر ہوجاتا ہے۔ جو لوگ حضرت عثمان حضرت علی حضرت طلحہ حضرت زبیر اور حضرت عائشہ کو نعوذ باللہ کافر کہیں، خود ان کو کافر کہنا لازم ہے، اسی طرح فرقہ زیدیہ کے تمام لوگوں کو بھی کافر کہنا واجب ہے کیونکہ وہ یہ باطل اعتقاد رکھتے ہیں کہ نعوذ باللہ کسی عجمی ملک میں ایک نبی کا ظہور ہوگا جو ہمارے نبی ﷺ کے دین کو منسوخ کرے گا اور ہمارے سردار محمد رسول ﷺ کی رسالت کو کالعدم کرے گا۔ ان روافض کو بھی کافر کہنا واجب ہے جو تناسخ ارواح کے قائل ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ مرجانے والا دوبارہ دنیا میں لوٹ آئے گا اور ائمہ میں اللہ تعالیٰ کی روح حلول کئے ہوئے ہے، امام باطن کا ظہور ہوگا، جب تک اس امام باطن کا ظہور نہ ہو اوامرو نواہی معطل ہیں اور یہ کہ جبرائیل (علیہ السلام) نے وحی لانے میں غلطی کی کیونکہ محمد ﷺ کی بجائے حضرت علی کے پاس لانی چاہئے تھی یہ فرقہ ملت اسلامیہ سے خارج ہے اور جو احکام مرتدوں کے بارے میں ہیں وہی فرقہ کے لوگوں پر نافذ ہوتے ہیں۔ جس شخص کو آنحضرت ﷺ کی شان میں بدزبانی کرنے پر مجبور کیا گیا ہو اس کی تین صورتیں ہیں۔ (١) اگر وہ یہ اقرار کرے کہ میرے دل میں محمد ﷺ کی برائی کا کوئی خطرہ بھی نہیں گزرا بلکہ میں نے اپنی زبان سے صرف وہی الفاظ ادا کئے جن کو ادا کرنے پر مجھے مجبور کیا گیا تھا درا نحالی کہ ان الفاظ کی ادائیگی بھی مجھ پر سخت شاق تھی، تو وہ کافر نہیں ہوگا اور اس کی مثال اس شخص کی سی ہوگی جس کو اپنی زبان سے کلمہ کفر کی ادائیگی پر مجبور کیا گیا ہوں اور اس نے وہ کلمہ کفر اپنی زبان سے ادا کیا ہو مگر اس کا قلب ایمان پر ثابت و مطمئن رہا ہو۔ (٢) اگر وہ اقرار کرے کہ (جب مجھے محمد کو برا کہنے پر مجبور کیا گیا تو) میرے دل میں اس عیسائی کا خیال آگیا جس کا نام محمد تھا چناچہ جب میں نے اپنی زبان سے محمد کے بارے میں برے الفاظ کہے تو میری مراد وہی عیسائی تھا، اس صورت میں بھی وہ کافر نہیں ہوگا۔ (٣) اور اگر وہ یہ اقرار کرے کہ (جب محمد کے بارے میں برے الفاظ کہنے پر مجبور کیا گیا تو) میرے دل میں اس عیسائی کا خیال آگیا جس کا نام محمد ہے لیکن میں نے اپنی زبان سے جو برے الفاظ ادا کئے وہ اس عیسائی کے بارے میں نہیں تھے بلکہ محمد ﷺ کے بارے میں تھے، اس صورت میں وہ کافر ہوجائے گا قانونًا بھی اور عند اللہ بھی۔ جس شخص نے یہ کہا کہ محمد ﷺ مجنوں تھے، وہ کافر ہے، ہاں یہ کہنے والا کہ محمد ﷺ بیہوش ہوگئے تھے، کافر نہیں ہوگا۔ اگر کسی شخص نے کہا کہ حضرت آدم (علیہ السلام) (جنت میں) گیہوں نہ کھاتے تو ہم اشقیاء نہ ہوتے تو وہ کافر ہوجائے گا۔ جس شخص نے حدیث متواتر کا انکار کیا وہ کافر ہوگیا، جس شخص نے حدیث مشہور کا انکار کیا وہ بعض علماء کے مطابق تو کافر ہوگیا لیکن بعض علماء کے مطابق گمراہ ہوا کافر نہیں ہوا اور جس شخص نے خبر واحد کا انکار کیا وہ بھی کافر نہیں ہوتا مگر اس کو قبول نہ کرنے کی وجہ سے گنہگار ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی نبی کے بارے میں اپنی خواہش کا اظہار کرے کہ وہ نبی نہ ہوتا تو اس کے متعلق علماء کہتے ہیں کہ اگر اس کی مراد یہ ہو کہ اس نبی کا مبعوث ہونا خارج از حکمت نہ ہوتا تو وہ کافر ہوگا اور اگر اس کی مراد اس نبی کی توہین اور اپنے کسی بغض کا اظہار ہے تو وہ کافر ہوجائے گا۔ ایک شخص نے کسی کے سامنے کہا کہ آنحضرت ﷺ فلاں چیز مثلا کدو کو بہت پسند فرماتے تھے اگر سننے والے نے جواب میں کہا کہ میں اس کو پسند نہیں کرتا تو یہ کفر ہے، حضرت امام ابویوسف سے بھی یہی منقول ہے لیکن بعض متاخرین علماء فرماتے ہیں کہ اگر اس نے یہ بات کہ میں اس کو پسند نہیں کرتا بطور اہانت کہی ہے تو وہ کافر ہوجائے گا ورنہ کافر نہیں ہوگا۔ اگر کسی شخص نے یہ کہا کہ حضرت آدم (علیہ السلام) نے کپڑا بنا تھا اس لئے ہم سب جو لا ہے زادے ہیں یہ کفر ہے۔ ایک شخص نے کسی کے سامنے کہا کہ آنحضرت ﷺ جب کھانا کھاتے تھے تو اپنی تینوں انگلیاں چاٹ لیتے تھے اگر سننے والے نے یہ کہا یہ کوئی اچھی چیز نہیں ہے تو وہ کافر ہوگیا۔ جس شخص نے یہ کہا کہ گنواروں میں عجیب رواج ہے کہ کھانا کھاتے ہیں اور ہاتھ نہیں دھوتے تو اگر اس نے یہ بات آنحضرت ﷺ کے عمل کی حقارت کے پیش نظر کہی ہے تو وہ کافر ہوگیا اسی طرح جس شخص نے یہ کہا کہ موچھیں پست (ہلکی ) کرنے اور عمامہ (کا سرا یعنی شملہ) گلے کے نیچے تک لٹکانے کا نہ معلوم کیسا رواج ہے؟ تو اگر اس نے یہ بات رسول کریم ﷺ کی سنت پر طنز کے طور پر کہی تو وہ کافر ہوگیا۔ ایک شخص نے کوئی بات کہی اس پر دوسرے نے اس سے کہا کہ جھوٹ کہتا ہے اگرچہ ساری بات پیغمبرانہ ہے اس کہنے سے اس پر کفر لازم ہوجائے گا ایسے ہی اگر یہ کہا کہ میں اس کی بات نہیں مانوں گا اگرچہ اس کی ساری بات پیغمبرانہ ہے تو اس سے بھی کفر لازم آئے گا۔ ایک شخص نے اپنے غلام کو مارنے پیٹنے کا ارادہ کیا، اس سے دوسرے نے کہا کہ اسے مت مارو، اس نے کہا کہ تم تو تم، اگر محمد مصطفیٰ ﷺ بھی کہیں تو بھی نہیں چھوڑ سکتا، یا یہ کہا کہ اگر آسمان سے آواز آئے کہ اس کو مت مارو تو بھی میں نہیں چھوڑ سکتا، ماروں گا۔ یہ کہنے سے اس پر کفر لازم آئے گا۔ کسی نے احادیث نبوی ﷺ سے کوئی حدیث پڑھی جس کو سن کر ایک شخص نے کہا کہ ہمہ روز خلشہا خواند یعنی ہر روز الجھن کی چیز پڑھتا ہے تو اگرچہ اس نے اس کی نسبت آنحضرت ﷺ کی طرف نہ کی ہو بلکہ پڑھنے والے کی طرف کی ہو لیکن وہ کافر ہوجائے گا بشرطیکہ اس حدیث کا تعلق احکام شریعت میں سے کسی حکم کے ساتھ ہو یا دین کے ساتھ ہو اور اگر وہ ایسی حدیث تھی کہ جس کا تعلق دین و شریعت سے نہیں تھا تو اس کی تکفیر نہیں ہوگی اور اس کے قول کو اس پر محمول کیا جائے گا کہ وہ اس کا پڑھنا غیر اولی بتارہا تھا۔ اگر کسی نے کہا بحرمت جو انک عربی اور اس جملہ سے اس کی مراد آنحضرت ﷺ تھے تو اس کی تکفیر کی جائے گی کسی نے کہا کہ نبی کریم ﷺ ایک وقت پیغمبر تھے۔ اور ایک وقت ایسا تھا کہ پیغمبر نہ تھے یا اس طرح کہا کہ میں نہیں جانتا کہ آنحضرت ﷺ کی قبر میں مؤمن ہیں یا کافر تو یہ کہنے سے کافر ہوجائے گا۔ کسی نے اپنی بیوی سے کہا کہ خلاف بات نہ کہو اس عورت نے کہا کہ پیغمبروں نے خلاف کہا ہے تو اس کا یہ کہنا کفر ہے توبہ کرے اور پھر نکاح کی تجدید کرے! کسی نے کسی سے کہا کہ مجھے تیرا دیکھنا گویا ملک الموت کا دیکھنا معلوم ہوتا ہے، تو اس کا ایسا کہنا بہت بڑی غلطی ہے اور اس کے کفر میں مشائخ کا اختلاف ہے۔ بعضوں نے کہا کہ کافر ہوجائے گا اور اکثر علماء کہتے ہیں کہ اس کہنے سے وہ کافر نہیں ہوگا۔ اور فتاویٰ قاضی خان میں لکھا ہے کہ بعضوں نے یہ کہا ہے کہ اگر اس نے یہ جملہ ملک الموت سے عدوات کی بنیاد پر کہا تو وہ کافر ہوجائے گا اور اگر موت سے ناگواری کی بنا پر کہا ہے تو کافر نہیں ہوگا اور اگر یہ کہا کہ فلاں کے منہ کو ملک الموت کی طرح دشمن سمجھتا ہوں تو اکثر مشائخ کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ سے وہ کافر ہوجائے گا، کسی نے کہا کہ میں فلاں کی گواہی نہیں سنتا خواہ جبرائیل ومیکائیل ہو تو اس صورت میں اس کی تکفیر کی جائے گا۔ اگر کسی نے فرشتوں میں سے کسی فرشتے کو عیب لگایا تو اس کی تکفیر کی جائے گا، اگر کوئی کہے کہ میں فرشتہ ہوں تو اس کہنے سے وہ کافر نہیں ہوتا اور اگر یہ کہے کہ میں نبی ہوں تو اس کہنے سے وہ کافر ہوجائے گا۔ ایک شخص نے ایک عورت سے بغیر کسی شخص کی موجودگی کے نکاح کیا اور کہا کہ میں نے اللہ اور رسول کو گواہ بنایا، یا یہ کہا کہ اللہ اور فرشتہ کو گواہ بنایا تو اس صورت میں وہ کافر ہوجائے گا اور اگر کہا کہ دائیں اور بائیں والے فرشتوں کو گواہ بنایا تو اس صورت میں کافر نہ ہوگا۔ وہ موجبات کفر جن کا تعلق قرآن پاک سے ہے اگر کسی نے کہا کہ قرآن مخلوق ہے تو وہ کافر ہوجائے گا، اسی طرح اگر کسی نے کسی آیت قرآنی کا انکار کیا یا اس کے ساتھ ٹھٹھا مخول کیا، یا عیب لگایا تو ان صورتوں میں وہ کافر ہوجائے گا۔ کسی نے دف کی تھاپ پر یا بانسری کی لے پر قرآن پڑھا تو اس نے کفر کیا، ایک شخص قرآن پڑھ رہا تھا دوسرے نے سن کر کہا کہ یہ کیا طوفان کی آواز ہے تو اس کا یہ کہنا کفر ہے اور اگر کسی نے کہا کہ میں نے بہت قرآن پڑھا اور مجھ سے گناہ معاف نہیں کیا گیا تو اس کہنے سے وہ کافر ہوگیا۔ کسی نے کسی سے کہا کہ تو نے آیت (قل ہو اللہ) کی کھال کھینچ لی، یا یہ کہا کہ تو نے آیت (الم نشرح) کا گریبان پکڑ لیا، یا اس شخص سے جو کسی بیمار کے پاس سورت یٰسین پڑھ رہا تھا کہا یٰسین مردہ کے منہ میں مت رکھو یا کسی سے کہا اے آیت (انا اعطینک الکوثر) سے بھی زیادہ کو تاہ۔ یا ایک شخص قرآن پڑھ رہا تھا اور اس کو کوئی کلمہ یاد نہیں آرہا تھا اس سے کہا آیت (والتفت الساق بالساق) یا کسی کے پاس بھرا ہوا پیالہ لایا اور کہا آیت (کاسا دھاقا) یا کسی سے مذاق کے طور پر کہا آیت (فکانت سرابا) یا ناپ تول کے وقت مذاق کے پر کہا آیت (واذا کالوہم او وزنوہم یخسرون) یا کسی سے یہ کہا کہ تو نے (الم نشرح) کی پگڑی باندھ لی ہے اور اس کی مراد یہ تھی کہ تو نے علم کا اظہار کیا ہے یا کسی نے کسی جگہ کے لوگوں کو جمع کیا اور کہا (فجمعناہم جمیعا) یا یہ کہا آیت (وحشرناہم فلم نغادر منہم احدا) یا کسی سے کہا کہ تو (والنازعات نزعا) کیونکر پڑہتا ہے نون کے پیش کے ساتھ یا اسے زیر دے کر مراد اس کی طنز کرنا تھی، یا کسی گنجے شخص سے میں تو تجھ کو اس لئے بڑا کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے (کلا بل ران) یا کسی سے کہا گیا کہ نماز پڑھنے چلو یا جماعت کی نماز میں چلو، اس نے جواب میں کہا کہ میں تنہا پڑھتا ہوں اللہ تعالیٰ کا قول ہے (ان الصلوۃ تنہا) تو ان تمام صورتوں میں کافر ہوگا۔ ایک شخص نے کسی سے کہا کہ تو نے ایسا گھر پاک صاف کیا ہے کہ جیسے (والسماء والطارق) تو بعضوں نے کہا کہ اس کہنے سے وہ کافر ہوجائے گا اور امام ابوبکر اسحاق نے کہا کہ یہ کہنے والا اگر جاہل ہے تو کافر نہیں ہوگا اور اگر وہ عالم ہے تو کافر ہوگا۔ اور اگر کسی نے کہا (قاعا صفا صفا) ہوگیا ہے تو اس جملہ میں بڑا خطرہ ہے کہ وہ کافر ہوجائے، یا دیگ میں کچھ لگا رہ گیا اس وقت کہا (والباقیات الصالحات) تو یہ بھی بڑے خطرے کی چیز ہے۔ اور جب کسی نے یہ کہا کہ قرآن عجمی ہے تو وہ کافر ہوگیا اور اگر یہ کہا کہ قرآن میں ایک کلمہ عجمی ہے تو اسے کافر کہنے میں عجلت نہ کرنی چاہئے یہ قابل غور ہے، کسی سے کسی نے کہا تو قرآن پاک کیوں نہیں پڑھتا ہے، اس نے جواب میں کہا کہ میں قرآن سے بیزار میں چکا تو اس کی تکفیر کی جائے گی، ایک شخص کو قرآن پاک کی کوئی ایسی سورت یاد ہے جسے وہ بکثرت پڑھتا رہتا ہے، دوسرے نے اس پڑھنے والے سے کہا کہ تو نے اس سورت کو کمزور وزبوں پا لیا ہے تو وہ اس کہنے سے کافر ہوجائے گا، اگر کسی نے قرآن پاک کو مثلًا فارسی میں نظم کیا، تو اس کو قتل کیا جائے گا اس لئے کہ وہ کافر ہوگیا۔

3500Mishkaat-al-Masabih

مرتدوں اور فساد برپا کرنے والوں کو قتل کردینے کا بیان

وہ موجبات کفر جن کا تعلق نماز روزہ اور زکوٰۃ سے ہے کسی نے کسی بیمار سے کہا کہ تو نماز پڑھ لے اس نے اس کے جواب میں کہا اللہ کی قسم میں کبھی نماز نہیں پڑھوں گا اور اس نے پھر کبھی نماز پڑھی بھی نہیں یہاں تک کہ مرگیا تو وہ کافر کہا جائے گا اور اگر صرف یہ کہا کہ نہیں پڑھوں گا تو اس کے اس کہنے میں چار احتمال ہیں۔ (١) ایک تو یہ کہ نماز نہیں پڑھتا اس لئے کہ پڑھ چکا۔ (٢) دوسرے یہ کہ نماز نہیں پڑھتا یعنی تیرے حکم سے نہیں پڑھتا اس لئے تجھ سے جو بہتر ہے وہ حکم کرچکا ہے۔ (٣) تیسرے یہ کہ نہیں پڑھتا یعنی بےباکی اور فسق کے طور پر کہا، ان تینوں صورتوں میں وہ کافر نہیں ہوگا۔ (٤) چوتھے یہ کہ نماز نہیں پڑھتا اس وجہ سے کہ مجھ پر نماز واجب نہیں ہے اور نہ مجھے اس کا حکم دیا گیا ہے، اس چوتھی صورت میں وہ کافر ہوجائے گا اور اگر اس نے جواب میں مطقًا یہ کہا کہ میں نماز نہیں پڑھتا تو وہ ان وجوہ کی وجہ سے کافر نہیں ہوگا۔ کسی سے کہا گیا کہ نماز پڑھ لے اس نے جواب میں کہا کہ میں پاگل ہوں جو نماز پڑھوں اور اپنے اوپر کام بڑھاؤں یا اس طرح کی مدت گزری کہ میں نے بیگار نہیں کی، یا یہ کہا کہ وہ کام کون آخر تک پورا کرسکتا ہے، یا یہ کہ عقل مند کو ایسے کام میں نہ پڑنا چاہئے جس کو آخر تک نباہ نہ سکے، یا یہ کہا کہ میرے واسطے اور لوگ کرلیتے ہیں یا یہ کہا کہ نماز پڑھنے سے مجھے کوئی سرفرازی نہیں مل جاتی ہے، یا یہ کہ تو نے نماز پڑھ لی تو کیا سر بلندی حاصل کرلی، یا کہا کہ میں نماز کس لئے پڑھوں میرے ماں باپ تو مرچکے ہیں، یا کہا کہ نماز پڑھنی نہ پڑھنی دونوں برابر ہے یا کہا کہ اس قدر نماز پڑھ چکا کہ دل اکتا گیا، یا کہا کہ نماز ایسی چیز نہیں ہے کہ وہ باقی رہے گی تو سڑ جائے گی۔ یہ تمام جوابات کفریہ ہیں۔ اسی طرح ایک شخص نے کسی سے کہا کہ آؤ فلاں کام کے لئے نماز پڑھیں، اس نے کہا میں نے بہت نماز پڑھی میری کوئی حاجت پوری نہیں ہوئی اور جواب میں یہ بات بطور طنز واستخفاف کہی تو اس سے وہ کافر ہوجائے گا، ایک فاسق نمازیوں کو مخاطب کر کے کہے آؤ مسلمانی دیکھو اور اس کے بعد وہ فسق کی مجلس کی طرف اشارہ کرے تو وہ کافر ہوجائے گا اور اگر کسی نے کہا کہ بےنماز ہونا کیا ہی بہتر ہے تو وہ اس کہنے سے کافر ہوجائے گا، ایک شخص نے کسی سے کہا کہ نماز پڑھو تاکہ تمہیں بندگی کا مٹھاس حاصل ہو، یا فارسی میں کہے نماز بخوان تا حلاوت نمازیابی۔ اس کے جواب میں اس نے کہا کہ تو مکن کہ حلاوت بےنمازی بہ بینی یعنی تم نماز نہ پڑھو تاکہ نماز نہ پڑھنے کی لذت محسوس کرسکو تو اس کہنے سے وہ کافر ہوجائے گا۔ غلام سے کسی نے کہا کہ نماز پڑھ اس نے کہا میں نہیں پڑھتا اس لئے کہ اس کا ثواب میرے آقا کو حاصل ہوگا وہ اس کہنے سے کافر ہوجائے گا۔ ایک شخص سے کسی نے کہا کہ نماز پڑھ لے اس نے جواب میں کہا کہ اللہ تعالیٰ نے میرے مال میں نقصان دیا لہٰذا میں اس کے حق میں نقصان کروں گا تو یہ جواب کفر ہے۔ ایک شخص نے صرف رمضان میں نماز پڑھتا ہے پھر بعد میں نہیں پڑھتا اور کہتا ہے کہ یہی بہت ہے، یا کہتا ہے یہی بہت زیادہ ہوگی اس لئے کہ رمضان کی ہر نماز ستر نمازوں کے برابر ہے تو وہ اس کہنے سے کافر ہوجائے گا، کوئی جان بوجھ کر قبلہ کے سوا کسی اور طرف منہ کر کے نماز پڑھے مگر اتفاق سے وہ قبلہ نکل گیا تو امام اعظم فرماتے ہیں کہ وہ کافر ہوگیا اور اسی پر فقیہ ابواللیث نے عمل کیا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی نماز بغیر وضو پڑھے یا ناپاک کپڑوں میں پڑھے تو کافر ہوجائے گا اور اگر کوئی جان بوجھ کر اس طرح نماز پڑھا کرتا ہے تو وہ بھی کافر ہے، ایک شخص کو قبلہ کا پتہ نہیں چلا اس نے تحری کی یعنی نماز پڑھی، امام ابوحنیفہ ایسے شخص کے بارے میں فرماتے ہیں کہ میں اس کے حق میں کفر کا خوف رکھتا ہوں اس لئے کہ اس نے قبلہ سے اعراض کیا اور دوسرے مشائخ کا اس کے کفر میں اختلاف ہے شمس الائمہ حلوائی فرماتے ہیں کہ جب اس نے قبلہ چھوڑ کر بطور استہزاء و اہانت دوسری طرف نماز پڑھی تو ظاہریہ ہے کہ وہ کافر ہوجائے گا۔ اور اگر کوئی ایسی صورت میں کسی وجہ سے مبتلا ہوگیا مثلًا چند لوگوں کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا کہ اسے حدث ہوگیا اور شرم کی وجہ سے اس نے سوچا کہ ظاہر نہ ہونے پائے چناچہ چھپانے کے لئے بغیر وضو نماز پڑھتا رہا یا دشمن کے پاس تھا اور کھڑے ہو کر اس حالت میں نماز پڑھی کہ وہ پاک نہ تھا، بعض مشائخ نے یہ کہا ہے کہ اس صورت میں وہ کافر نہیں ہوگا اس لئے کہ اس نے استہزاء کے طور پر نہیں کیا ہے لیکن اگر کوئی ضرورت یا حیاء کی وجہ سے ایسی صورت میں مبتلا ہوجائے تو اس کو چاہئے کہ اپنے اس قیام سے نماز کے قیام کا ارادہ نہ کرے اور نہ کچھ پڑھے اور جب ان کے ساتھ رکوع میں جائے تو وہ رکوع کا قصد نہ کرے اور نہ تسبیح پڑھے تاکہ وہ کسی کے نزدیک کافر نہ ہونے پائے اور ناپاک کپڑوں میں نماز پڑھنے سے بعض علماء کہتے ہیں کہ کافر نہیں ہوتا۔ کسی نے کہا کہ نماز فرض ہے لیکن رکوع سجدہ فرض نہیں تو اس کہنے سے کافر نہ ہوگا، اس لئے اس کو تاویل کی گنجائش ہے کہ نماز سے میری مراد جنازہ کی نماز تھی جس میں رکوع سجدے فرض نہیں ہیں۔ اگر کوئی رکوع اور سجدوں کی فرضیت کا بالکلیہ انکار کرے گا تو وہ کافر ہوجائے گا حتی کہ اگر صرف دوسرے سجدے کی فرضیت کا بھی انکار کرے گا تو وہ کافر ہوگا اس لئے کہ اس نے اجماع اور تواتر کا رد کیا۔ کسی نے کہا کہ اگر کعبہ مکرمہ قبلہ نہ ہوتا اور اس کی جگہ بیت المقدس قبلہ ہوتا تو بھی میں کعبہ ہی طرف رخ کر کے نماز پڑھتا اور بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نہ پڑھتا، یا اس طرح کہا کہ اگر فلاں قبلہ ہوتا تو اس کی طرف میں منہ نہ کرتا، یا یوں کہا کہ اگر فلاں جانب کعبہ ہوتا تو میں اس طرف منہ نہ کرتا، یا یہ کہا کہ قبلے دو ہیں ایک کعبہ، دوسرا بیت المقدس، تو ان تمام صورتوں میں وہ کافر ہوجائے گا۔ ابراہیم بن یوسف نے کہا ہے کہ اگر کسی نے دکھلانے کے لئے نماز پڑھی تو اس کو ثواب نہیں ملے گا بلکہ اس کے نامہ اعمال میں گناہ لکھا جائے گا۔ اور بعضوں نے کہا ہے کہ اس سے کافر ہوجاتا ہے اور بعضوں نے کہا کہ اس صورت میں اس پر نہ گناہ ہے اور نہ اس کے لئے ثواب ہی ہے اور وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے نماز نہیں پڑھی۔ ایک شخص کسی کافر کے پاس آیا اور ایک دو وقت کی نماز چھوڑ دی نہیں پڑھی، اگر اس نے ایسا اس کافر کی تعظیم کی وجہ سے کیا ہے تو کافر ہوگا اور اس پر ان نمازوں کی قضا نہیں ہے اور اگر ایسا فسق وفجور کی وجہ سے کیا ہے تو کافر نہ ہوگا اور اس کو ان نمازوں کی قضاء کرنی ہوگی۔ ایک شخص نے دار السلام میں اسلام قبول کیا ایک ماہ کے بعد اس سے پنچ وقتہ نماز کے متعلق سوال کیا گیا، اس نے جواب میں کہا کہ مجھے معلوم نہیں کہ وہ مجھ پر فرض ہے تو اس سے وہ کافر ہوجائے گا، ہاں اگر وہ نو مسلموں میں رہتا ہے تو کافر نہ ہوگا۔ اگر کوئی مؤذن سے اذان دیتے وقت کہے کہ تو نے جھوٹ کہا تو وہ کافر ہوجائے گا، اگر کوئی اذان سن کر یہ کہے کہ گھنٹے کی آواز ہے تو وہ کافر ہے ایک شخص سے کہا گیا تم زکوٰۃ ادا کروں، اس نے یہ سن کر کہا کہ میں ادا نہیں کرتا تو وہ اس کہنے سے کافر ہوجائے گا، بعض حضرات علماء نے کہا کہ مطقاً اس جواب سے کافر ہوجائے گا اور بعض کہتے ہیں کہ احوال ظاہرہ میں اس جواب سے کافر ہوگا لیکن احوال باطنہ میں اس جواب سے کافر نہ ہوگا اور مناسب یہ ہے کہ یہاں بھی نماز کی طرح چار احتمال ہونے چاہئیں اور تین صورتوں میں کافر نہ ہوگا اور ایک صورت میں کافر ہوجائے گا، اگر کوئی کہے کہ کاش رمضان فرض نہ ہوتا تو اس سلسلے میں علماء کا اختلاف ہے اور صحیح یہ ہے کہ یہ کہنے والے کی نیت پر موقوف ہوگا۔ اگر اس نیت سے یہ کہا کہ رمضان کے حقوق اس سے ادا نہیں ہوسکتے تو کافر نہ ہوگا، اگر کوئی رمضان آتے وقت یہ کہے کہ بھاری مہینہ یا بھاری مہمان آیا ہے تو کافر ہوگا، جب رجب کا مہینہ آیا اور کسی نے کہا کہ اس کے بعد خرابی میں مبتلا ہوں گے تو اگر اس نے یہ محترم مہینوں کے لئے حقارت کے طور پر کہا ہے تو کافر ہوگا اور اگر اپنے نفس پر گرانی کو ظاہر کرنے کے لئے کہا ہے تو کافر نہ ہوگا اور اس سے پہلے مسئلہ میں بھی جواب اسی تفصیل کے ساتھ ہونا چاہئے۔ ایک شخص نے کہا کہ رمضان کا روزہ جلد گزر جائے تو بعض کہتے ہیں کہ اس کہنے سے کافر ہوجائے گا اور بعض کہتے ہیں کہ کافر نہیں ہوگا اور اگر کوئی کہے کہ چند ازیں روزہ کہ مرا دل بہ گرفت یعنی اتنے روزے کب تک؟ میرا تو اس سے دل اکتا گیا تو اس کا یہ کہنا کفر ہے اور اسی طرح کوئی کہے کہ اللہ تعالیٰ نے طاعات کو فرض نہ کرتا تو ہمارے لئے عذاب بنادیا ہے اس جملہ کی اگر تاویل کی تو کافر نہ ہوگا، یا اسی طرح یہ کہا کہ اللہ تعالیٰ اگر ان طاعات کو فرض نہ کرتا تو ہمارے لئے بہتر ہوتا، اگر اس جملہ کی کوئی تاویل کرے تو کافر نہ ہوگا۔ کوئی کہے کہ نماز میرے لائق نہیں ہے یا حلال میرے مناسب نہیں ہے یا یہ کہا کہ کس لئے نماز پڑھوں بیوی بچے تو میں رکھتا ہی نہیں یا اس طرح کہا کہ نماز کو میں نے طاق پر رکھ دیا تو اس ان تمام صورتوں میں کافر ہوجائے گا۔ وہ موجبات کفر جن کا تعلق علم اور علماء سے ہے اگر کوئی بغیر کسی ظاہر سبب کے کسی عالم دین سے بغض رکھے تو اس کے کافر ہوجانے کا بھی خوف ہے اور اس پر بھی کفر کا خوف ہے جو کسی عالم یا فقیہ کو بغیر سبب برا کہے اور وہ کافر ہوجاتا ہے جو کسی کو اس طرح کہے کہ تیرے علم کے مقعد میں گدھے کا ذکر اور اس علم سے اس کی مراد علم دین ہو۔ ایک جاہل نے علم سیکھنے والے کو اس طرح کہا کہ یہ جو کچھ سیکھتے ہیں وہ کہانیاں اور داستانیں ہیں یا یہ کہا کہ یہ سب فریب ہے یا یہ کہا کہ میں علم حیلہ کا منکر ہوں۔ واضح رہے کہ یہ سب جملے کفریہ ہیں۔ ایک اونچی جگہ پر بیٹھ جائے اور پھر لوگ اس سے بطور مذاق اور استہزاء مسائل پوچھنے لگیں اور اس کے بعد اس کو تکیوں سے مارنے لگیں اور سب ہنسنے لگیں تو وہ سب اس فعل کی وجہ سے کافر ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح اگر کوئی علم کی مجلس میں واپس آ رہا تھا اس کو کسی نے کہا کہ تو بت خانہ سے آ رہا ہے تو وہ اس کی وجہ سے کافر ہوجاتا ہے، یا اسی طرح یہ کہا کہ مجھے علم کی مجلس سے کیا کام، یا یہ کہا کون شخص ان چیزوں کے ادا کرنے پر قدرت رکھتا ہے جو علماء کہتے ہیں تو وہ کافر ہوگا۔ اگر کوئی کہے کہ علم کو کا سہ اور کیسہ میں نہیں رکھ سکتے یعنی یہ علم نہ کھانے کے پیالہ میں رکھنے کے لائق ہے اور نہ روپے کی تھیلی میں اور ضرورت انہی دونوں کی ہے، یا یہ کہا کہ علم کا کیا کروں گا مجھے جیب میں چاندی چاہئے تو اس کہنے سے وہ کافر ہوجائے گا۔ اگر کوئی کہے کہ مجھے بال بچوں کی اتنی مصروفیات ہے کہ علم کی مجلس میں نہیں پہنچ سکتا اور اس نے اس سے علم کی اہانت کا ارادہ کیا تو اس جملہ سے بھی کفر کا خطرہ ہے۔ کوئی عالم فقیہ، علم کا تذکرہ کر رہا تھا یا کوئی صحیح حدیث بیان کر رہا تھا کسی نے اسے سن کر کہا کہ یہ کچھ نہیں ہے اور اسے رد کردیا یا کہا کہ یہ بات کیا کام آوے گی روپیہ چاہئے، کہ آج اسی کو عظمت حاصل ہے علم کیا کام آتا ہے، تو یہ کفر ہے۔ اگر کسی نے کہا کہ دانشمندی سے بہتر فساد برپا کرنا ہے تو یہ کفر ہے، کوئی عورت جس کا شوہر عالم ہو اگر یوں کہے کہ عالم شوہر کے اوپر لعنت ہو تو وہ کافر ہوجائے گی کسی نے کہا کہ عالموں کا فعل وہی ہے جیسے کافروں کا تو وہ اس کہنے سے اس وقت کافر ہوجائے گا جب تمام افعال میں برابری ظاہر کرے کہ اس طرح حق و باطل میں اس نے برابری کو ظاہری کیا۔ ایک شخص کا کسی فقیہ سے کسی بات میں جھگڑا ہوگیا، اس فقیہ نے اس کو کوئی شرعی وجہ بیان کی، اسے سن کر جھگڑنے والے نے کہا، یہ عالمانہ پن نہ کر، یہاں کچھ نہیں چل سکتی، تو ایسے شخص پر کفر کا خوف ہے، اگر کسی نے فقیہ سے کہا اے دانشمندک یا علویک تو اس سے کافر نہ ہوگا اگر اس کی نیت اہانت دین کی نہیں ہے۔ ایک واقعہ نقل کیا گیا ہے کہ ایک فقیہ عالم نے اپنی کتاب ایک دکاندار کی دکان میں رکھ دی اور کسی کام سے چلا گیا پھر جب وہ دکان سے گزر تو دکاندار نے اس کو مخاطب کر کے کہا کہ تم بسولہ بھول گئے، فقیہ نے کہا تیری دکان میں میری کتاب ہے بسولہ نہیں، دکاندار نے کہا کہ بڑھئی بسولہ سے لکڑی کاٹتا ہے اور تم کتاب سے لوگوں کی گردن کاٹتے ہو۔ فقیہ نے شیخ امام ابوبکر محمد بن فضل سے اس واقعہ کا شکوہ کیا۔ انہوں نے اس شخص کے قتل کا حکم کیا۔ ایک شخص نے بیوی پر غصہ کیا اور کہا کہ تو اللہ کی اطاعت کر اور ساتھ ہی گناہ سے منع کیا، بیوی نے جواب میں کہا میں اللہ اور علم کیا جانوں میں نے اپنے کو دوزخ میں رکھ چھوڑا ہے تو وہ اس کی وجہ سے کافر ہوگئی، ایک شخص سے کہا گیا کہ علم دین کے طلب کرنے والے فرشتوں کے بازوؤں پر چلتے ہیں، اس نے کہا یہ جھوٹ ہے تو وہ کافر ہوجائے گا۔ اگر کوئی کہے کہ امام ابوحنیفہ (رح) کا قیاس صحیح نہیں تو وہ کافر ہوجائے گا ہوجائے گا اس لئے کہ اس نے مطلقاً قیاس کی صحت کا انکار کیا کسی نے کہا کہ ثرید پلاؤ کا پیالہ علم سے بہتر ہے تو وہ کافر ہوجائے گا۔ اور کہا کہ پلاؤ کا پیالہ اللہ سے بہتر ہے تو وہ کافر نہ ہوگا۔ یہ اس وجہ سے کہ اللہ سے کا مطلب اللہ کی طرف سے ہوسکتا ہے اور علم میں یہ تاویل نہیں ہوسکتی۔ ایک شخص نے اپنے دشمن سے کہا کہ میرے ساتھ شریعت کی طرف چلو اس نے کہا کہ کوئی سپاہی بلاؤ تو چلوں بےجبر واکراہ نہیں جاسکتا تو وہ اس کہنے سے کافر ہوجائے گا کیونکہ اس نے شریعت کا مقابلہ کیا اور اگر اس نے یہ کہا کہ میرے ساتھ قاضی کے پاس چل اور اس نے یہی جواب دیا تو کافر نہ ہوگا اور اگر اس نے یہ کہا کہ میرے ساتھ شریعت اور حیلہ مفید نہیں ہوگا، یا یہ کہا کہ یہ پیش نہ جاویں گے۔ یا یہ کہا کہ میرے لئے کھجور کا حلوہ ہے شریعت کیا کروں گا، یہ ساری صورتیں کفر کی ہیں اور اگر یہ کہا کہ جس وقت تو نے چاندی لی تھی اس وقت شریعت اور قاضی کہاں تھا اس کی وجہ سے کافر ہوجائے گا۔ اور علماء متاخرین میں سے بعض نے کہا کہ اگر اس نے قاضی سے شہر کے قاضی کو مراد لیا ہے، تو کافر نہ ہوگا۔ کسی شخص سے کہا گیا کہ اس بارے میں شریعت کا حکم یہ ہے اس نے جواب دیا کہ میں رسم پر عمل کرتا ہوں نہ کہ شریعت پر تو اس کہنے سے بعض کے نزدیک کافر ہوجائے گا، ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ تو کیا کہتی ہے شریعت کا کیا حکم ہے بیوی نے بلند آواز سے ڈکار لی اور کہا اینک شرع را تو وہ کافر ہوجائے گی۔ اور اس کا نکاح جاتا رہے گا۔ ایک شخص نے اپنے مخالف کے سامنے ائمہ کا فتویٰ پیش کیا، اس نے اس فتویٰ کو رد کردیا اور کہا یہ فتوؤں کا انبار تو کیا لے آیا ہے؟ بعضوں نے کہا کہ وہ کافر ہوجائے گا اس لئے اس نے شریعت کا حکم رد کردیا۔ اسی طرح اگر اس فتویٰ کے بارے میں کچھ نہ کہا مگر فتویٰ لے کر زمین پر ڈال دیا اور کہا یہ کیا شریعت ہے؟ تو بھی کافر ہوجائے گا۔ ایک شخص نے ایک عالم سے اپنی بیوی کے متعلق کا مسئلہ دریافت کیا، اس نے جواب دیا کہ تمہاری بیوی پر طلاق واقع ہوگئی پوچھنے والے نے کہا میں طلاق ملاق کو کیا جانوں ماں بچے گھر میں ہونے چاہئیں تو وہ اس کہنے سے کافر ہوجائے گا۔ دو شخصوں میں جھگڑا ہوا، اس میں سے ایک دوسرے کے پاس علماء کا فتویٰ لے کر آیا اس نے کہا ایسا نہیں جیسا کہ فتویٰ دیا یا یہ کہا کہ میں اس پر عمل نہیں کرتا تو اس کو تعزیرًا (سزا) دی جائے گی۔ وہ موجبات کفر جن کا تعلق حلال و حرام اور فاسق و فاجر وغیرہ کے کلام سے ہے جو کوئی حلال کے حرام ہونے کا یا حرام کے حلال ہونے کا اعتقاد رکھے گا تو وہ کافر ہوجائے گا۔ لیکن اگر کوئی حرام و حلال اس لئے بتائے کہ یہ سامان رائج ہوجائے یا ایسا جہالت کی وجہ سے کیا تو وہ کافر نہ ہوگا، لیکن یہ اس صورت میں ہے کہ وہ حرام حرام لعینہ ہو اور وہ اس کے حلال ہونے کا عقیدہ رکھے تب کافر ہوگا اور اگر حرام، حرام لغیرہ ہو اور اس کو حلال بتائے تو کافر نہ ہوگا اور اس حرام لعینہ کو حلال سمجھنے میں کافر ہوگا جب اس کی لعینہ حرام کی حرمت دلیل قطعی سے ثابت ہو، لیکن اگر حرام لعینہ کی حرمت خبر احاد سے ثابت ہوگی تو اس کے حلال کا عقیدہ رکھنے میں کافر نہ ہوگا۔ ایک شخص سے کہا گیا کہ ایک حلال تم کو زیادہ پسند ہے یا دو حرام، اس نے کہا دونوں میں سے جو جلد پہنچ جائے، تو اس کے بارے میں کفر کا خوف ہے، اسی طرح اس وقت بھی خوف کفر ہے جب کہے کہ ہمیں مال چاہئے خواہ حلال ہو خواہ حرام ہو اور اگر یہ کہا کہ جب تک میں حرام پاؤں گا حلال کے پاس نہیں پھٹکوں گا تو اس کہنے سے کافر نہ ہوگا۔