Mishkaat-al-Masabih

All 6,333 hadiths in order · Page 154 of 317

3061Mishkaat-al-Masabih

لقطہ کو بغیر تشہیر اپنے پاس رکھنا خیانت ہے

وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من آوى ضالة فهو ضال ما لم يعرفها . رواه مسلم

اور حضرت زید کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص کسی کی کوئی گم شدہ چیز اٹھا کر رکھ لے تو وہ گمراہ ہے جب تک کہ وہ اس کی تشہیر نہ کرے (مسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ جو شخص کس کی کوئی گم شدہ چیز بطور لقطہ اپنے پاس رکھے تو اسے چاہئے کہ وہ اس چیز کی تشہیر و اعلان کرتا رہے بغیر تشہیر اپنے پاس نہ رکھ چھوڑے کیونکہ یہ خیانت اور گمراہی ہے۔

3062Mishkaat-al-Masabih

حنفیہ کے ہاں زمین حل اور زمین حرم کا لقطہ برابر ہے

وعن عبد الرحمن بن عثمان التيمي أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى عن لقطة الحاج . رواه مسلم

اور حضرت عبدالرحمن بن عثمان تیمی کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے حاجیوں کی گری پڑی چیز اٹھانے سے منع کیا ہے ( مسلم) تشریح گویا حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ حرم مکہ کی حدود میں پائے جانے والے لقطہ کا تشہیر و اعلان کے بعد بھی مالک ہونا جائز نہیں ہے بلکہ اٹھانے والے کے لئے واجب ہے کہ وہ اسے اپنے پاس اس وقت تک جوں کا توں رہنے دے جب تک کہ اس کا مالک لینے نہ آئے خواہ کتنی ہی مدت گزر جائے چناچہ امام شافعی کا یہی مسلک ہے لیکن حنفیہ کے مسلک میں زمین حل اور زمین حرم کا لقطہ برابر ہے چناچہ اس کا بیان باب حرم مکہ میں گزر چکا ہے

3063Mishkaat-al-Masabih

ویران وغیرآباد زمین کے لقطہ اور برآمد ہونیوالے دفینہ کا حکم

عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه سئل عن الثمر المعلق فقال : من أصاب منه من ذي حاجة غير متخذ خبنة فلا شيء عليه ومن خرج بشيء منه فعليه غرامة مثليه والعقوبة ومن سرق منه شيئا بعد أن يؤويه الجرين فبلغ ثمن المجن فعليه القطع وذكر في ضالة الإبل والغنم كما ذكر غيره قال : وسئل عن اللقطة فقال : ما كان منها في الطريق الميتاء والقرية الجامعة فعرفها سنة فإن جاء صاحبها فادفعها إليه وإن لم يأت فهو لك وما كان في الخراب العادي ففيه وفي الركاز الخمس . رواه النسائي وروى أبو داود عنه من قوله : وسئل عن اللقطة إلى آخره

حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد حضرت شعیب) سے اور شعیب اپنے دادا یعنی حضرت عبداللہ بن عمرو) سے نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ سے درختوں پر لٹکے ہوئے پھلوں کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر کوئی ضرورت مند کچھ پھل توڑ کر کھالے مگر اپنی جھولی میں بھر کر نہ لے جائے تو اس پر کچھ گناہ نہیں ہے اور جو شخص کھائے بھی اور جھولی بھر کرلے بھی جائے تو اس پر دو گنا تاوان ہے اور سزا ہے اور جو شخص ان پھلوں میں سے کچھ چرائے جو کھلیان میں رکھے جا چکے ہوں اور وہ چرائی ہوئی مقدار ایک سیر ڈھال کی قیمت کے بقدر ہو تو اس کے لئے ہاتھ کاٹنے کی سزا ہے۔ راوی نے گمشدہ اونٹ اور بکری کے بارے میں اس سوال و جواب کا ذکر کیا جو دوسرے راویوں نے بیان کیا ہے اور جو پہلے گزر چکا ہے اس کے بعد راوی کہتے ہیں کہ پھر آنحضرت ﷺ سے لقطہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو لقطہ کسی ایسے راستے پر پایا جائے جس پر آمدورفت رہتی ہو اور گاؤں وآبادی کے قریب ہو تو اس کے بارے میں ایک سال تک تشہیر و اعلان کرو اور پھر جب مالک آجائے تو وہ لقطہ اس کے سپرد کردو اور اگر مالک نہ آئے تو وہ لقطہ تمہارا ہے کہ تم اسے اپنے کام میں لاسکتے ہو) اور وہ لقطہ جو ویرانہ قدیم میں پایا جائے اس کا اور زمین سے برآمد ہونیوالے دفینے کا حکم یہ ہے کہ اس کا پانچواں حصہ اللہ کے راستہ میں دے دیا جائے (نسائی) اور ابوداؤد نے اس روایت کو عمرو بن شعیب سے (وسدل عن اللقطۃ) تک نقل کیا ہے (مسلم) تشریح ضرورت مند سے مراد یا تو مطلقًا فقیر و مفلس ہے کہ اگرچہ وہ حالت اضطرار میں ہو اور یا اس سے مراد مضطر یعنی وہ شخص مراد ہے جو بھوک کی وجہ سے مرا جا رہا ہو۔ گویا اس کا حاصل یہ ہے کہ ضرورت مند درخت سے بقدر ضرورت پھل توڑ کر کھالے مگر اپنی جھولی میں بھر کر نہ لے جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ ابن مالک کہتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسا شخص گنہگار تو نہیں ہوتا۔ لیکن اس پر تاوان یعنی اتنے پھل کی قیمت دینا واجب ہوتا ہے یا پھر یہ کہ اس حکم کا تعلق اسلام کے ابتدائی زمانہ سے تھا پھر منسوخ ہوگیا۔ اور اس پر دوگنا تاوان ہے کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص پھل توڑ کر کھائے بھی اور اپنی جھولی میں بھر کرلے بھی جائے تو اس سے اس پھل کی دوگنی قیمت وصول کی جائے گی لیکن ابن مالک فرماتے ہیں کہ حکم بطریق تنبیہ ہے ورنہ مسئلہ یہ ہے کہ اس پھل کی دوگنی قیمت دینا واجب نہیں ہوتا بلکہ صرف اصل قیمت لی جاسکتی ہے۔ اگرچہ حضرت امام احمد کا مسلک بھی یہی ہے اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ یہ حکم اسلام کے ابتدائی زمانے کا ہے پھر منسوخ ہوگیا ہے اور سزا ہے میں سزا سے مراد تقدیر ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ہاں بطور تعزیر کوئی سزا دی جاسکتی ہے اور یہ اس لئے ہے کہ اس زمانہ میں باغات محفوظ اور گھرے ہوئے نہیں ہوتے تھے۔ جو کھلیان میں رکھے ہوئے اناج وپھل اگر اتنی مقدار میں چرائے جو ایک سیر کی قیمت کے بقدر ہو تو شرعی قانون کے مطابق اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اس وقت ایک سیر کی قیمت تین یا چار درہم ہوتی تھی چناچہ حضرت امام شافعی کے نزدیک چوری کے مال کی وہ مقدار کہ جس پر ہاتھ کاٹنے کی سزا دی جاتی ہے چار درہم یا اس سے زیادہ مالیت کی ہے۔ لیکن حنفیہ کے مسلک میں ابتدائی دس درہم ہے چناچہ شمنی نے لکھا ہے کہ اس زمانہ میں سیر کی قیمت دس درہم ہوتی تھی۔ اور جو لقطہ کسی ایسے راستے پر پایا جائے جو آبادی کے قریب ہونے کی وجہ سے گزر گاہ عام و خاص ہو تو اس کی تشہیر و اعلان واجب ہے کیونکہ اس بات کا غالب گمان ہوسکتا ہے کہ وہ کسی مسلمان کا ہو اور جو لقطہ کسی ویرانہ قدیم یعنی کسی ایسے ویران گاؤں یا قدیم وغیرآباد زمین پر پایا جائے جہاں مسلمانوں کی عمارات نہ ہوں اور نہ وہ کسی مسلمان کی ملکیت میں ہوں تو اس کا حکم یہ ہے کہ اس میں سے پانچواں حصہ نکال کر اللہ کی راہ میں صدقہ و خیرات کردیا جائے اور بقیہ اپنے استعمال میں لے آیا جائے خواہ وہ لقطہ سونے چاندی کی صورت میں ہو یا ان کے علاوہ کسی اور سامان وزیورات کی شکل میں ہو اسی طرح کسی ویران قدیم سے اگر کوئی دفینہ وغیرہ برآمد ہو تو اس کا بھی یہی حکم ہے۔

3064Mishkaat-al-Masabih

لقطہ استعمال میں آجانے کے بعد اسکا مالک طلب کرے تو اس کا بدل دینا چاہئے

وعن أبي سعيد الخدري : أن علي بن أبي طالب رضي الله عنه وجد دينارا فأتى به فاطمة رضي الله عنها فسأل عنه رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : هذا رزق الله فأكل منه رسول الله صلى الله عليه و سلم وأكل علي وفاطمة رضي الله عنهما فلما كان بعد ذلك أتت امرأة تنشد الدينار فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا علي أد الدينار . رواه أبو داود

اور حضرت ابوسعید خدری کہتے ہیں کہ ایک دن حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے کسی راستہ میں بطور لقطہ ایک دینار پایا حضرت علی اسے حضرت فاطمہ کے پاس لائے اور پھر جب حضرت علی نے اس کے بارے میں رسول کریم ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اے علی! یہ اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا رزق ہے پھر اس دینار سے خریدی ہوئی چیز کو آنحضرت ﷺ نے بھی کھایا اور حضرت علی و فاطمہ نے بھی کھایا اس کے بعد جب ایک عورت اپنا دینار ڈھونڈتی ہوئی آئی تو آپ ﷺ نے حضرت علی ؓ سے فرمایا کہ علی! اس عورت کو دینار دیدو (ابوداؤد) تشریح روایت کے مفہوم سے یہ بالکل ظاہر نہیں ہوتا کہ حضرت علی نے تشہیر و اعلان کے بغیر اس دینار کو صرف کیا بلکہ احتمال یہی ہے کہ پہلے انہوں نے اس کی تشہیر کی پھر بعد میں اسے خرچ کیا۔ آنحضرت ﷺ نے جو اس عورت کے محض کہنے پر اس کو دینار دلوایا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یا تو اس عورت نے اس دینار کی علامت بیان کی ہوگی یا آنحضرت ﷺ کو کسی اور ذریعہ سے علم ہوگیا ہوگا کہ وہ دینار اسی عورت کا تھا۔

3065Mishkaat-al-Masabih

لقطہ بری نیت سے نہ اٹھاؤ

وعن الجارود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ضالة المسلم حرق النار . رواه أبو داود

اور حضرت جابر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان کی گم شدہ چیز دوزخ کی آگ کا ایک شعلہ ہے ( دارمی) تشریح مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی لقطہ کو اس بدنیتی کے ساتھ اٹھائے کہ میں اس کا مالک ہوجاؤں گا نیز وہ ان احکام کو پورا نہ کرے جو لقطہ کے سلسلہ میں از قسم تشہیر وغیرہ شریعت نے نافذ کئے ہیں تو وہ لقطہ اس شخص کو دوزخ کی آگ کے حوالہ کر دے گا۔

3066Mishkaat-al-Masabih

جب لقطہ اٹھاؤ تو کسی کو گواہ بنالو

وعن عياض بن حمار قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من وجد لقطة فليشهد ذا عدل أو ذوي عدل ولا يكتم ولا يغيب فإن وجد صاحبها فليردها عليه وإلا فهو مال الله يؤتيه من يشاء . رواه أحمد وأبو داود والدارمي

اور حضرت عیاض بن حمار کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص کسی جگہ کوئی گری پڑی چیز پائے تو چاہئے کہ وہ کسی عادل شخص کو یا فرمایا کہ دو عادل شخصوں کو گواہ بنا لے اور اس کی تشہیر و اعلان نہ کر کے) اس لقطہ کو چھپائے نہیں اور نہ اسے کسی دوسری جگہ بھیج کر غائب کر دے۔ پھر اگر مالک آجائے تو وہ لقطہ اس کے حوالے کر دے اور اگر مالک ہاتھ نہ لگے تو پھر وہ اللہ کا دیا ہوا مال ہے کہ اللہ جسے چاہتا ہے غیب سے مال دیتا ہے ( احمد ابوداؤد دارمی) تشریح جب کوئی شخص لقطہ اٹھائے تو وہ اس وقت کسی کو اس بات پر گواہ بنالے کہ مجھے یہ چیز بطور لقطہ ملی ہے تاکہ کوئی دوسرا شخص مثلا مالک نہ تو اس پر چوری وغیرہ کی تہمت لگا سکے اور نہ کمی بیشی کا دعوی کرسکے گواہ بنا لینے میں ایک مصلحت و فائدہ یہ بھی ہے کہ اس صورت میں اس کا نفس حرص وطمع میں مبتلا نہیں ہوگا کیونکہ بغیر گواہ کے یہ احتمال ہوسکتا ہے کہ نفس بدنیتی میں مبتلا ہوجائے اور یہ سوچ کر کہ جب کوئی گواہ نہیں ہے تو یہ چیز مالک کو دینے کی بجائے خود کیوں نہ رکھ لوں جب کہ گواہ بنا لینے سے نہ صرف یہ کہ طمع نہیں ہوتی بلکہ وہ لقطہ مالک کے حوالہ کرنا یوں بھی ضروری ہوجاتا ہے پھر اس میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ اٹھانے والے کی ناگہانی موت کے بعد اس کے ورثاء اس لقطہ کو اپنی میراث اور ترکہ میں داخل نہیں کرسکتے۔ بعض حضرات یہ فرماتے ہیں کہ گواہ بنا لینے کا یہ حکم بطریق استحباب ہے جب کہ بعض علماء یہ فرماتے ہیں کہ یہ حکم بطریق وجوب ہے۔ اس حدیث میں تو یہ فرمایا گیا ہے کہ وہ اللہ کا دیا ہوا مال ہے جب کہ اوپر کی حدیث میں اسے اللہ کا دیا ہوا رزق ہے کہا گیا ہے لہذا ان دونوں سے مراد حلال ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ مالک کے نہ آنے کی صورت میں وہ لقطہ ایک ایسا حلال مال ہے جس سے وہ شخص فائدہ اٹھا سکتا ہے جسے اللہ نے غیب سے دیا ہے۔ ہاں اگر بعد میں مالک آجائے تو پھر اس کا بدل دینا ہوگا جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے۔

3067Mishkaat-al-Masabih

لقطہ کی وہ مقدارجس میں تشہیر و اعلان کی ضرورت نہیں

وعن جابر قال : رخص لنا رسول الله صلى الله عليه و سلم في العصا والسوط والحبل وأشباهه يلتقطه الرجل ينتفع به . رواه أبو داود وذكر حديث المقدام بن معدي كرب : ألا لا يحل في باب الاعتصام

اور حضرت جابر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ہمیں لاٹھی کوڑے رسی اور اسی کی مانند ان چیزوں کے بارے میں کہ جو عام طور پر کمتر سمجھی جاتی ہیں یہ اجازت دی تھی کہ جو شخص چاہے اٹھا لے اور اسے اپنے کام میں لے آئے (ابوداؤد) تشریح یعنی اگر لقطہ ان میں سے کسی چیز کا ہو تو اسے اٹھانے والا جب کہ وہ خود مالدار نہ ہو بغیر تشہیر و اعلان اس کو اپنے استعمال میں لے آئے۔ شرح السنۃ میں لکھا ہے کہ یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ اگر لقطہ کسی کمتر مال کی صورت میں ہو تو اس کی تشہیر نہ کی جائے لیکن اس قول پر تنقید کی گئی ہے رہا یہ سوال کہ کمتر مال کی حد کیا ہے تو بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ یہ لقطہ دس درہم سے کم مالیت کا ہو وہ کمتر مال ہے اور بعض حضرات کہتے ہیں کہ جو لقطہ ایک دینار یا ایک دینار سے کم مالیت کا ہو وہ کمتر مال ہے جیسا کہ حضرت علی کے بارے میں منقول حدیث سے معلوم ہوا۔ اور حضرت مقدام بن معدی کرب کی روایت (الا لا یحل) الخ باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ میں نقل کی جا چکی ہے

3068Mishkaat-al-Masabih

فرائض کا بیان

فرائض جمع ہے فریضۃ کی جو فرض سے مشتق ہے فرائض میراث کے ان حصوں کو کہتے ہیں جو قرآن و حدیث میں متعین ومقرر ہیں۔ گویا اس باب میں یہ بیان کیا جائے گا کہ جو شخص مرجائے اس کے کون کون عزیز و اقا رب اس کے وارث ہوں گے اور اس کا چھوڑا ہوا مال و اسباب ان ورثاء میں کس طرح تقسیم ہوگا۔ یہ باب چونکہ ایک بڑے اہم موضوع سے متعلق ہے اس لئے مناسب ہے کہ ابتدائی طور پر چند اصولی باتیں اور کچھ ضروری مسائل یکجائی انداز میں نقل کر دئیے جائیں۔

3069Mishkaat-al-Masabih

ورثاء کی ترتیب

علماء لکھتے ہیں کہ میت کے ترکہ (یعنی اس کے چھوڑے ہوئے مال و اسباب) کے ساتھ چار حق متعلق ہوتے ہیں جس کی ترتیب یہ ہے کہ (١) پہلے تو میت کی تجہیز و تکفین کی جائے یعنی اسے غسل دیا جائے پھر کفن دیا جائے اس کے بعد اس کی نماز جنازہ پڑھوا کر قبرستان لے جایا جائے اور پھر قبر میں دفن کیا جائے ان چیزوں میں جو کچھ خرچ کرنے کی ضرورت ہو وہ اس کے ترکہ میں سے اس طرح خرچ کیا جائے کہ نہ تو تنگی کی جائے اور نہ اسراف کیا جائے۔ (٢) اس کے بعد اگر میت کے ذمہ کوئی قرض و مطالبہ ہو تو اس کی ادائیگی کی جائے۔ پھر قرض و مطالبہ کی ادائیگی کے بعد (٣) جو مال و اسباب بچے اس میں سے تہائی حصہ میں وصیت جاری کی جائے بشرطیکہ اس نے وصیت کی ہو ان تین مرحلوں کے بعد (٤) اس کا بقیہ تمام مال و اسباب اس کے وارثوں کے درمیان تقسیم کیا جائے جس کی ترتیب یہ ہے کہ پہلے ذوی الفروض کو ان کے مقررہ حصے دئیے جائیں اور ان کو دینے کے بعد جو کچھ بچے وہ میت کے عصبات نسبی کو دیدیا جائے کیونکہ ذو الفروض کو دینے کے بعد جو کچھ بچتا ہے وہ عصبات نسبی کا حق ہوتا ہے اور اگر میت کے وارثوں میں ذوی الفروض موجود نہیں ہوتے تو پھر اس کا تمام ترکہ عصبات نسبی کو ملتا ہے اور اگر اس کے وارثوں میں عصبات نسبی نہیں ہوتے تو ذوی الفروض کو دینے کے بعد جو کچھ بچتا ہے وہ آزاد کرنیوالے کو ملتا ہے بشرطیکہ میت غلام رہا ہو اور اس کو آزاد کیا گیا ہو اور اگر آزاد کرنیوالا موجود نہ ہو تو پھر اس آزاد کرنیوالے کے مرد عصبات کو دیا جاتا ہے اور اگر یہ بھی نہ ہوں تو بھی وہ بچا ہوا ترکہ ذوی الفروض کی طرف لوٹ جائے گا علاوہ زوجین کے کیونکہ اس دوبارہ تقسیم میں ذوی الفروض میں سے زوجین کا کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ اور اگر میت کے ورثاء میں نہ تو ذوی الفروض میں سے کوئی ہو اور نہ عصبات نسبی و سببی ہوں تو اس کا ترکہ ذوی الارحام کو دیا جائے اور اگر ذوی الارحام بھی نہ ہوں تو مولا موالات کو دیا جائے اور اگر کوئی مولا موالات بھی نہ ہو تو پھر وہ تمام ترکہ اس غیر شخص کو ملے گا جس کے نسب کا میت نے اقرار کیا ہو مثلا اس نے زید کے بارے میں کہا ہو کہ یہ میرے باپ کا بیٹا ہے حالانکہ زید کا یہ نسب یعنی اس میت کے باپ کا بیٹا ہونا اس اقرار کے علاوہ اور کسی صورت میں ثابت نہ ہو لیکن پھر بھی وہ میت کے ترکہ کا حقدار قرار پائیگا۔ اور اگر ایسا بھی کوئی شخص نہ ہو تو پھر وہ ترکہ اس شخص کو دیا جائے گا جس کے لئے میت نے اپنے تمام مال کی وصیت کی ہو اور اگر ایسا بھی کوئی شخص نہ ہو جس کے لئے میت نے اپنے تمام مال و اسباب کی وصیت کی ہو تو پھر اس کا سارا مال و اسباب بیت المال میں رکھا جائے گا۔ اور اگر بیت المال بھی نہ ہو تو پھر آخر میں بیت المال کے مصرف میں صرف کیا جائے یعنی مدارس ومساجد یا فقراء اور مساکین وغیرہ کو دیا جائے گا۔

3070Mishkaat-al-Masabih

ذوی الفروض کی تفصیل

ذوی الفروض بارے ہیں (1) باپ ( ٢) دادا خواہ اوپر کے درجہ کے ہوں جیسے پڑ دادا اور سکڑ دادا وغیرہ (٣) اخیافی بھائی ( اخیافی ان بھائیوں کو کہتے ہیں جن کے باپ الگ الگ ہوں اور ماں ایک ہو ( ٤) بیوی ( ٥) خاوند ( ٦) ماں (٧) جدہ (یعنی دادی یا نانی خواہ اوپر کے درجہ کی ہو جیسے پڑ دادی اور سکڑ دادی یا پڑنانی اور سکڑنانی (٨) بیٹی (٩) پوتی (١٠) حقیقی بہن (١١) سوتیلی بہن اور (١٢) اخیافی بہن۔

3071Mishkaat-al-Masabih

ذوی الفروض کے حصے

میت کے ترکہ میں باپ کا چھٹا حصہ ہوتا ہے جب کہ میت کا بیٹا یا پوتا اور یا پڑپوتا بھی موجود ہو اور اگر یہ نہ ہوں بلکہ بیٹی یا پوتی اور یا پڑپوتی موجود ہو تو باپ کو چھٹا حصہ بھی ملے گا اور وہ عصبہ بھی ہوگا اور اگر نہ تو بیٹا یا پوتا اور پڑپوتا ہو اور نہ بیٹی یا پوتی اور یا پڑپوتی ہو تو باپ صرف عصبہ ہوگا حاصل یہ ہے کہ پہلی صورت میں تو باپ صرف صاحب فرض ہوتا ہے اور دوسری صورت میں صاحب فرض بھی ہوتا ہے اور عصبہ بھی اور تیسری صورت میں صرف عصبہ ہوتا ہے۔ اگر میت کا باپ موجود نہ ہو تو مذکوربہ بالا تینوں صورتوں میں اس کا دادا باپ کی مانند ہوگا اور اگر میت کے باپ اور دادا دونوں زندہ ہوں تو پھر دادا محروم ہوگا یعنی اسے میت کے ترکہ میں سے کچھ نہیں ملے گا۔ اخیافی بھائی اور اخیافی بہن کو میراث کا چھٹا حصہ ملے گا بشرطیکہ وہ ایک ہو اور اگر وہ دو یا دو سے زائد ہوں تو ان کے لئے تہائی حصہ ہے جو مرد و عورت پر برابر تقسیم ہوگا اور اگر میت کا باپ یا دادا زندہ ہو یا اس کا بیٹا یا بیٹے کی اولاد موجود ہو تو پھر اخیافی بھائی بہن محروم ہونگے۔ اگر بیوی مرجائے اور اس کا بیٹا بیٹی نہ ہو اور بیٹے کی اولاد بھی نہ ہو تو اس کے ترکہ میں سے شوہر کو نصف حصہ ملے گا اور اگر بیٹا بیٹی یا بیٹے کی اولاد موجود ہو تو شوہر کو چوتھا حصہ ملے گا۔ اگر خاوند مرجائے اور نہ تو اس کے بیٹے بیٹی ہوں اور نہ بیٹے کی اولاد ہو تو اس کے ترکہ میں سے بیوی کو چوتھائی حصہ ملے گا اور اگر میت کے بیٹا بیٹی یا بیٹے کی اولاد موجود ہو تو بیوی کو آٹھواں حصہ ملے گا۔ یہ بات ملحوظ رہے کہ اگر میت کی ایک ہی بیوی ہو تو اس کو بھی وہی حصہ ملے گا جو ذکر کیا گیا ہو اور اگر ایک سے زائد یعنی دو یا تین اور چار بیویاں ہوں تب بھی یہی حصہ ملے گا فرق صرف اتنا ہے کہ اگر ایک بیوی ہوگی تو مذکورہ بالا حصہ کی وہ تنہا حق دار ہوگی اور ایک سے زائد بیویاں ہوں گی تو وہ اس حصہ کو باہم تقسیم کرلیں گی۔ میت کے ترکہ میں سے ماں کو چھٹا حصہ ملے گا بشرطیکہ میت کے بیٹا بیٹی یا پوتا یا اس کی اولاد یا بہن یا دو بھائی اور دو بہن یا دو سے زائد بھائی اور بہن خواہ حقیقی بھائی بہن ہوں یا سوتیلے اور اخیافی ہوں موجود ہوں اگر ان میں سے کوئی بھی موجود نہ ہوگا تو ماں کو کل ترکہ میں سے تہائی حصہ ملے گا۔ اور اگر ماں کے ساتھ باپ اور خاوند بھی ہو تو اس صورت میں باپ اور خاوند یا بیوی کا حصہ دے کر جو باقی بچے گا اس میں سے ماں کو تہائی حصہ ملے گا اور اگر مذکورہ بالا صورت میں بیوی یا خاوند کے ساتھ باپ کے بجائے دادا موجود ہو تو پھر ماں کو تمام ترکہ کا تہائی حصہ ملے گا کیونکہ اس صورت میں دادا باپ کا قائم مقام نہیں ہوتا۔ دادی اور نانی کا چھٹا حصہ ہوتا ہے خواہ وہ ایک ہوں یا کئی ہوں جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر صرف ایک دادی یا صرف ایک نانی ہوگی تو وہ میت کے ترکہ کے چھٹے حصہ کی تنہا حق دار ہوگی اور اگر ایک سے زائد ہوں گی مثلا ایک دادی اور ایک نانی ہو یا دو دادی یا دو نانی ہوں تو وہ سب اس چھٹے حصہ کو باہم برابر تقسیم کرلیں گی بشرطیکہ وہ سب درجہ میں برابر ہوں اور اگر درجہ میں برابر نہ ہوں بلکہ درجہ میں متفاوت ہوں جیسے ایک دادی ہو اور ایک پڑدادی ہو یا ایک نانی ہو اور ایک پڑنانی ہو تو دور کے درجہ والی یعنی پڑنانی) قریب کے درجہ والی یعنی نانی کے سامنے محروم ہوگی اسی طرح ماں کی موجودگی میں تمام ہی جدات یعنی دادی ونانی وغیرہ محروم ہوتی ہیں نیز دادا کی موجودگی میں باپ کی دادیاں محروم ہوتی ہیں لیکن دادا کی بیوی یعنی باپ کی ماں محروم نہیں ہوتی۔ میت کی بیٹی میراث سے کبھی محروم نہیں ہوتی اگر اس کا بھائی یعنی میت کا بیٹا موجود ہوتا ہے تو وہ عصبہ بن جاتی ہے ورنہ ذوی الفروض رہتی ہے چناچہ بیٹی کے میراث پانے کی دو تین صورتیں ہوتی ہے۔ اول یہ کہ صرف ایک بیٹی ہو اور اس کے ساتھ اس کا کوئی حقیقی یا سوتیلا بھائی نہ ہو تو میت کے ترکہ میں سے اس کو نصف حصہ ملتا ہے اور اگر کوئی دوسرا وارث بھی نہ ہو تو باقی نصف حصہ بھی اسی کو مل جاتا ہے دوم یہ کہ اگر دو بیٹیاں ہوں یا دو سے زائد ہوں اور ان کے ساتھ ان کا کوئی حقیقی یا سوتیلا بھائی نہ ہو تو ان بیٹیوں کے ترکہ میں سے دو تہائی ملے گا جسے وہ سب آپس میں برابر تقسیم کرلیں گی۔ سوم یہ کہ اگر بیٹیوں کے ساتھ میت کا بیٹا موجود ہو تو اس صورت میں بیٹی کا کوئی حصہ مقرر نہیں بلکہ وہ عصبہ بن جاتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ میت کے ترکہ میں سے جس قدر بیٹے کو ملے گا اس کا آدھا ہر ایک بیٹی کو ملے گا خواہ ایک بیٹی ہو یا دو چار بیٹیاں ہوں چناچہ اگر کسی میت کے متعدد بیٹے اور متعدد بیٹیاں ہوں تو ان میں ترکہ کی تقسیم اس طرح ہوگی کہ ہر بیٹے کو دو حصے اور ہر بیٹی کو ایک حصہ دیا جائے گا۔ اگر میت کے بیٹی بیٹا یا پوتا موجود نہ ہو صرف ایک پوتی ہو تو اس کو ترکہ میں سے نصف ملے گا اور اگر دو یا دو سے زیادہ پوتیاں ہوں تو ان کو کل ترکہ میں سے دو تہائی دیا جائے گا۔ جسے وہ سب آپس میں برابر تقسیم کرلیں گی اگر میت کے بیٹا پوتا یا پڑپوتا موجود نہ ہو بلکہ صرف ایک بیٹی ہو تو پوتی کو چھٹا حصہ ملے گا خواہ ایک پوتی ہو یا متعدد پوتیاں ہوں اور اگر میت کے دو یا دو سے زیادہ بیٹیاں موجود ہوں گی تو اس صورت میں پوتی کو چھٹاحصہ ملے گا خواہ ایک پوتی ہو یا متعد پوتیاں ہوں اور اگر میت کے دو یا دو سے زیادہ بیٹیاں موجود ہوں گی تو اس صورت میں پوتی بالکل محروم رہے گی ہاں اگر پوتی کے ساتھ میت کا پوتا بھی موجود ہو خواہ وہ نیچے ہی کے درجہ کا کیوں نہ ہو یعنی پوتا اور خواہ یہ پوتا اس پڑپوتی کا حقیقی بھائی ہو یا سوتیلا بھائی ہو اور یا چچا زاد بھائی ہو تو پھر چاہے میت کی ایک ہی بیٹی ہو یا متعدد بیٹیاں ہوں وہ پوتی عصبہ ہوجائے گی جس کا مطلب یہ ہوگا کہ ذوی الفروض کے حصے دینے کے بعد جو کچھ بچے گا یہ پوتی اور پوتا آپس میں بطور عصوبت تقسیم کریں گے یعنی پوتے کو دو حصے اور پوتی کو ایک حصہ ملے گا لیکن یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ اگر میت کا بیٹا موجود ہوگا تو پھر یہ پوتی ہر حال میں بالکل محروم رہے گی نیز اگر نہ تو میت کی اولاد موجود ہو اور نہ میت کے بیٹے کی اولاد موجود ہو تو مذکوربہ بالا تمام صورتوں میں میت کی پوتی اس کی پوتی کے قائم مقام ہوگی اور اگر بیٹی موجود ہے تو بیٹی کی اولاد محروم رہے گی اور اگر پوتی موجود ہے تو پوتی کی اولاد محروم قرار پائیگی۔ اگر میت کی اولاد موجود ہو یا اس کے بیٹے کی اولاد موجود ہو (خواہ وہ نیچے ہی کے درجہ کی کیوں نہ ہو) تو اخیافی بہن بھائی محروم قرار پاتے ہیں اسی طرح اگر میت کا باپ یا دادا موجود ہو تو اخیافی بہن بھائی محروم ہوتے ہیں۔ اگر میت کے کوئی بیٹا یا بیٹی یا پوتا پوتی اور یا پڑپوتا پڑپوتی موجود نہ ہو بلکہ صرف ایک حقیقی بہن ہو تو وہ ہر حال میں بیٹی کے قائم مقام ہوگی یعنی اگر ایک بہن ہوگی تو اسے میت کے کل ترکہ میں سے نصف ملے گا اور اگر دو یا دو سے زائد بہنیں ہوں گی تو انہیں کل ترکہ میں سے دو تہائی ملے گا جسے وہ آپس میں برابر تقسیم کرلیں گی مذکورہ بالا صورت میں سوتیلی بہن کا بھی یہی حکم ہے بشرطیکہ حقیقی بہن موجود نہ ہو۔ اگر میت کی بیٹی یا پوتی یا پڑپوتی اور سکڑپوتی موجود ہو (خواہ ایک ہو یا زیادہ ہوں) تو اس صورت میں حقیقی بہن اور اگر حقیقی بہن نہ ہو تو سوتیلی بہن عصبہ ہوجاتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ میت کے ترکہ میں سے ذوی الفروض کو دینے کے بعد جو کچھ بچے گا وہ اس بہن کو مل جائے گا۔ اگر میت کے حقیقی بھائی ایک یا زیادہ موجود ہو تو حقیقی بہن اس کے ساتھ مل کر عصبہ بن جائے گی اور اگر بھائی حقیقی نہ ہو بلکہ سوتیلا ہو تو حقیقی بہن اس سوتیلے بھائی کی موجودگی میں ذوی الفروض میں شامل ہوگی۔ اگر میت کے ایک حقیقی بھائی ہو اور اس کے ساتھ ہی سوتیلے بھائی بہن بھی ہوں تو اس حقیقی بھائی کی موجودگی میں وہ سوتیلے بھائی بہن محروم ہوں گے۔ اگر میت کی ایک حقیقی بہن موجود ہو تو اس کی موجودگی میں سوتیلی بہن کو چھٹا حصہ ملے گا خواہ وہ ایک ہو یا ایک سے زائد ہوں اور اگر حقیقی بہنیں ایک سے زائد ہوں تو پھر سوتیلی بہن ساقط ہوجائے گی اسے کچھ نہیں ملے گا ہاں اگر سوتیلی بہن کے ساتھ سوتیلا بھائی ہو تو پھر یہ سوتیلی بہن محروم نہیں ہوگی بلکہ خواہ ایک حقیقی بہن ہو ایک سے زائد ہوں اور خواہ ایک بھی نہ ہو ہر صورت میں سوتیلی بہن سوتیلے بھائی کے ساتھ عصبہ ہوجائے گی جس کا مطلب یہ ہوگا کہ ذوی الفروض کو دینے کے بعد میت کے ترکہ میں سے جو کچھ بھی بچے گا وہ سب ان سوتیلے بہن بھائی کے درمیان بطور عصوبت تقسیم ہوجائے گا اور اگر میت کی حقیقی بہن میت کی بیٹی یا پوتی یا پڑپوتی اور یا سکڑپوتی کے ساتھ عصبہ ہوجائے گی تو اس صورت میں سوتیلا بھائی اور سوتیلی بہن بالکل محروم رہیں گے۔ یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ اگر میت کے بیٹا یا پوتا یا پڑپوتا اور یا سکڑپوتا موجود ہوگا تو میت کا حقیقی بھائی حقیقی بہن اور سوتیلے بھائی بہن محروم رہیں گے اسی طرح میت کے باپ یا دادا کی موجودگی میں بھی میت کے حقیقی اور سوتیلے بہن بھائی محروم رہیں گے۔

3072Mishkaat-al-Masabih

عصبات کی تفصیل

میت کے ترکہ میں سے ذوی الفروض کے حصے دینے کے بعد جو کچھ بچے گا وہ عصبات میں تقسیم ہوگا گویا ذوی الفروض پہلے درجہ کے وارث ہیں اور عصبات دوسرے درجہ کے وارث ہیں چناچہ عصبات کے بھی درجے ہیں اول بیٹا پوتا پڑپوتا سکڑپوتا یا اس کے نیچے کے درجہ ہے دوم باپ دادا پڑ دادا یا اس کے اوپر کے درجہ کے) سوم حقیقی اور سوتیلے بھائی اور ان کے لڑکے اگرچہ نیچے کے درجے کے ہوں چہارم میت کے چچا میت کے باپ کے چچا میت کے دادا کے چچا اور ان چچاؤں کے بیٹے پوتے پڑوتے اور سکڑوتے۔ اب ان چاروں درجوں کی ترتیب یہ ہوگی ان چاروں درجوں میں مقدم بیٹے ہیں پھر پوتے پھر پڑپوتے پھر سکڑوتے پھر باپ پھر دادا پھر پڑ دادا پھر سکڑ دادا پھر بھائی پھر بہن پھر بھتیجے (اگرچہ نیچے تک) پھر چچا پھر چچا کی اولاد لہذا جب ان چاروں درجوں میں سے پہلے درجہ کا کوئی عصبہ موجود ہوگا تو باقی تینوں درجوں کے عصبات بالکل محروم قرار پائیں گے۔ اسی طرح اگر پہلے درجہ کا کوئی عصبہ یعنی بیٹا یا پوتا یا پڑوتا اور یا سکڑوتا موجود نہ ہوگا اور دوسرے درجہ کا کوئی عصبہ موجود ہوگا تو باقی دو درجوں کے عصبات بالکل محروم ہوجائیں گے اور اگر نہ تو پہلے درجہ کے عصبات میں سے کوئی موجود اور نہ دوسرے درجہ کے عصبات میں سے بلکہ تیسرے درجہ کے عصبات میں سے کوئی موجود ہو تو پھر چوتھے درجہ کے عصبات بالکل محروم رہیں گے۔ ایسے ہی ان چاروں درجوں میں سے ہر درجہ میں قریب کا عصبہ بعید کے عصبہ پر مقدم ہوگا یعنی قریب کے عصبہ کی موجودگی میں بعید کے عصبہ کو کچھ نہیں ملے گا۔ مثلا میت کے بیٹا بھی موجود ہو اور پوتا بھی موجود ہو اور یہ دونوں ہی درجہ اول کے عصبہ ہیں مگر اس صورت میں قریب کا عصبہ یعنی بیٹا مقدم ہوگا کہ اسے میت کا ترکہ ملے گا اور بعید کا عصبہ یعنی پوتا محروم ہوجائے گا اسی طرح حقیقی عصبہ سوتیلے عصبہ پر مقدم ہوگا اور میت کے چچاؤں کے پوتے میت کے باپ کے چچاؤں پر مقدم ہوں گے۔ اور میت کے باپ کے چچاؤں کے پوتے میت کے دادا کے چچاؤں پر مقدم ہوں گے۔

3073Mishkaat-al-Masabih

ذوی الارحام کی تفصیل

جیسا کہ پہلے بتایا گیا تھا کہ میت کے وارثوں میں سب سے پہلا درجہ ذوی الفروض کا ہے اور دوسرا درجہ عصبات کا ہے اب یہ سمجھئے کہ اگر کسی میت کے وارثوں میں نہ تو ذوی الفروض ہوں اور نہ عصبات ہوں تو پھر اس کا ترکہ ذوی الارحام کو ملے گا گویا ذوی الارحام کو ملے گا گویا ذوی الارحام کے وارثوں کا تیسرا درجہ ہے چناچہ جس طرح عصبات کے چار درجے ہیں اسی طرح ذوی الارحام کے بھی چار درجے ہیں جن کی تفصیل یہ ہے۔ اول میت کی بیٹی پوتی اور پڑوتی خواہ اس سے نیچے کے درجہ کی اولاد یعنی میت کے نواسہ نواسی میت کے بیٹے کا نواسہ نواسی میت کے نواسے کا بیٹا بیٹی کی نواسی کا بیٹا بیٹی اور میت کے پوتے کے نواسہ نواسی وغیرہ۔ دوم دادا فاسد دادی فاسدہ اور نانی فاسدہ ( خواہ یہ سب اوپر کے درجہ کے ہوں) اس موقع پر یہ سمجھ لیجئے کہ دادا فاسد اس دادا کو کہتے ہیں جس کے اور میت کے درمیان عورت کا واسطہ جیسے میت کا نانا اور میت کی دادی یا نانی کا باپ اور دادی فاسدہ اور نانی فاسدہ اس دادی یا نانی کو کہتے ہیں جس کے اور میت کے درمیان دادا فاسد کا واسطہ ہو جیسے نانا کی ماں اور دادی یا نانی کے باپ کی ماں یہ سب ذوی الارحام ہیں جب کہ دادا صحیح اور دادی ونانی صحیحہ ذوی الفروض ہیں چناچہ دادا صحیح اس کو کہتے ہیں جس کے اور میت کے درمیان عورت کا واسطہ نہ ہو جیسے دادا اور پڑ دادا یا اس سے اوپر کے درجہ کے اور دادی ونانی صحیحہ اس دادی یا نانی کو کہتے ہیں جس کے اور میت کے درمیان دادا فاسد کا واسطہ نہ ہو جیسے دادی یا پڑ دادی اور نانی یا پڑنانی (یا اس سے اوپر کے درجہ کی) سوم حقیقی بہنوں کی اولاد سوتیلی بہنوں کی اولاد اخیافی بہنوں کی اولاد اخیافی بھائی کی اولاد حقیقی بھائی کی بیٹیاں اور سوتیلے بھائی کی بیٹیاں۔ چہارم پھوپیاں خواہ حقیقی ہوں یا سوتیلی اور اخیافی ہوں اخیافی چچا ماموں اور خالائیں۔ ذوی الارحام کے یہ چار درجے ہیں اور عصبات کی طرح ان کی ترتیب بھی یہ ہے کہ اگر ان چاروں درجوں میں سے اول درجہ کے ذوی الارحام وارث موجود ہوں گے یا ان کی اولاد خواہ وہ کتنے ہی نیچے کے درجہ کی ہو موجود ہوگی تو باقی تینوں درجوں کے ذوی الارحام محروم ہوں گے اسی طرح درجہ دوم کے ذوی الارحام ورثاء کی موجودگی میں سوم اور چہارم درجہ کے اور تیسرے درجہ کے ذوی الارحام کی موجودگی میں چوتھے درجہ کے ذوی الارحام محروم ہوں گے نیز عصبات کیطرح ذوی الارحام میں بھی اس کے ہر درجہ میں قریب کا ذی رحم بعید کے ذی رحم پر مقدم ہوگا

3074Mishkaat-al-Masabih

میراث پانے سے محروم کردینے والی چیزیں

اللہ تعالیٰ نے میت کا مال و اسباب اس کے موجودہ ورثاء کو متعینہ حصوں اور مقررہ ضابطوں کے تحت دینے کا جو حکم دیا ہے اس میں دراصل میت اور اس کے ورثاء کے درمیان ایک خاص علاقہ تعلق اور رشتہ داری کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ چناچہ اگر کوئی ایسی بات پیش آجائے جس سے نہ صرف یہ کہ میت اور اس کے وارث کے درمیان کسی خاص علاقہ وتعلق کا اظہار نہ ہوتا ہو بلکہ وہ ایک قسم کی جدائی علیحدگی اور نفرت ثابت کرنے کا ذریعہ بن جائے تو وہ وارث میراث میت کا حق دار نہیں ہوگا اور اسے کوئی میراث نہیں ملے گی۔ لہذا ایسی چار چیزیں ہیں جو کسی شخص کو میراث پانے سے محروم کردیتی ہیں ان چار چیزوں کی تفصیل یہ ہے کہ ١) غلامی نہ تو کسی غلام کا وارث کوئی آزاد شخص ہوتا ہے اور نہ خود غلام کسی آزاد شخص کا وارث بن سکتا ہے کیونکہ غلام شرعی طور پر کسی چیز کا مالک ہونے کی قابلیت ہی نہیں رکھتا اور نہ کوئی چیز اس کی ملکیت ہوتی ہے۔ ٢) قتل اگر کوئی بالغ وارث اپنے مورث کو قتل کر دے تو وہ وارث میراث پانے سے بالکل محروم ہوجائے گا لیکن یہاں قتل سے مراد وہ قتل ہے جس کی وجہ سے قاتل پر قصاص یا کفارہ واجب ہوتا ہے چناچہ قتل کی پانچ قسمیں ہیں (جن کی تفصیل انشاء اللہ اپنے موقع پر آئے گی) ان میں سے چار قسمیں ایسی ہیں کہ کسی میں قصاص واجب ہوتا ہے اور کسی میں کفارہ اور دیت لہذا ان چاروں صورتوں میں حنفی مسلک کے مطابق قاتل میراث سے محروم ہوجاتا ہے۔ جبکہ وہ اپنے مورث کو ناحق قتل کرے ہاں اگر وارث اپنے مورث کو ظلمًا قتل نہ کرے بلکہ دفاع کرتے ہوئے مورث پر وار کرے اور مورث مارا جائے مثلا مورث ناحق اس وارث پر حملہ کرے اور پھر وارث اپنے کو بچانے کے لئے مورث پر وار کرے اور اس کے وار کے نتیجے میں مورث مارا جائے یا مورث پر شرعا کسی وجہ سے بطور سزا قتل واجب ہو مثلًا قصاص کے طور پر) یا اس پر کوئی حد جاری کی جانی ضرور ہو اور بادشاہ یا قاضی کے حکم سے وارث نے اس مورث کو قتل کیا یا اس پر حد جاری کی اور وہ مرگیا تو اس صورت میں بھی وارث میراث سے محروم نہیں ہوگا۔ قتل کی پانچ قسموں میں ایک قسم (قتل بالتسبب) ہے قتل کی اس قسم پر نہ قصاص لازم آتا ہے اور نہ کفارہ بلکہ صرف دیت واجب ہوتی ہے چناچہ اس قسم کے قتل میں بھی قاتل میراث سے محروم نہیں ہوتا۔ قتل بالتسبب کی صورت یہ ہوتی ہے کہ مثلا کوئی شخص کسی دوسرے شخص کی زمین میں مالک کی اجازت کے بغیر پتھر رکھ دے یا کنواں کھود دے اور پتھر سے ٹھوکر کھا کر یا کنویں میں گر کر کوئی شخص مرجائے تو اس شخص پر دیت واجب ہوتی ہے۔ اسی طرح حنفیہ کا مسلک یہ ہے کہ اگر کوئی نابالغ یا مجنوں اپنے مورث کو قتل کر دے تو وہ میراث سے محروم نہیں ہوتا کیونکہ نابالغ اور مجنوں کے اکثر افعال پر شرعی طور پر کوئی سزا واجب نہیں ہوتی۔ ٣) اختلاف مذہب دو مذہبوں کا اختلاف میراث سے محروم کردیتا ہے یعنی اگر وارث مسلمان ہے اور مورث غیر مسلم ہے ( خواہ وہ ہندو ہو یا عیسائی اور یہودی وغیرہ ہو) تو اس کی میراث مسلمان کو نہیں ملے گی اسی طرح اگر وارث غیر مسلم ہے اور مورث مسلمان ہے تو اس کی میراث غیر مسلم کو نہیں ملے گی۔ ٤) اختلاف دارین یعنی ممالک وطن کا اختلاف میت اور وارث کے ملک وطن کے ملک و وطن کا مختلف ہونا میراث سے محروم کردیتا ہے مثلا ایک شخص دار الاسلام میں رہتا ہے اور ایک شخص دار الحرب میں تو دونوں ایک دوسرے کی میراث سے محروم رہیں گے۔ لیکن یہ حکم غیر مسلم کے لئے ہے۔ مسلمان مورث ووارث اگر اختلاف دارین بھی رکھ تے ہوں گے تب بھی ایک دوسرے کی میراث کے حقدار ہوں گے۔

3075Mishkaat-al-Masabih

میت کا ترکہ اس کے ورثاء کا حق ہے

عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : أنا أولى بالمؤمنين من أنفسهم فمن مات وعليه دين ولم يترك وفاء فعلي قضاؤه . ومن ترك مالا فلورثته . وفي رواية : من ترك دينا أو ضياعا فليأتني فأنا مولاه . وفي رواية : من ترك مالا فلورثته ومن ترك كلا فإلينا

حضرت ابوہریرہ نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں مسلمانوں کے حق میں خود ان سے بھی زیادہ عزیز ہوں یعنی دین و دنیا کے ہر معاملہ میں ایک مسلمان اپنے اوپر خود جتنا شفیق و مہربان ہوسکتا ہے میں اس پر اس سے بھی زیادہ شفیق و مہربان ہوں اسی لئے ان کے قرضوں کو ادا کرنے میں زیادہ حق دار ہوں لہذا جو شخص یعنی مسلمان مرجائے اور اس پر قرض ہو اور اس نے اتنا مال نہ چھوڑا ہو جس سے اس کا قرض ادا ہوسکتا ہو تو اس کے قرض کی ادائیگی میرے ذمہ ہے اور جو شخص اتنا مال چھوڑ جائے جو اس کے قرض کی ادائیگی اور اس کی کی ہوئی وصیت کی شرعی تکمیل کے بعد بھی بچ جائے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ جو شخص قرض دار یا عیال دار مرجائے اور اس نے اتنا مال نہ چھوڑا ہو جس سے اس کے قرض کی ادائیگی ہو سکے یا اس کے عیال کی پرورش ہو سکے تو اس کا وکیل یا وصی میرے پاس آئے میں اس کا انتظام کروں گا یعنی میں اس کا قرض ادا کروں گا اور اس کے عیال کی نگہداشت وغم خواری کروں گا۔ ایک روایت میں یوں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا جو شخص مال چھوڑ کر مرے تو وہ مال اس کے وارثوں کا ہے اور جو بھاری چیز یعنی قرض اور عیال چھوڑ کر مرے تو اس کا انتظام کرنا میرے ذمہ ہے ( بخاری ومسلم) تشریح شروع میں آنحضرت ﷺ کا یہ معمول تھا کہ اگر کوئی شخص مرتا جس کے ذمہ قرض ہوتا اور اس کے ترکہ میں اتنا مال نہ ہوتا جو اس قرض کی ادائیگی کے لئے کافی ہوتا ہے تو آپ ﷺ اس کے جنازہ کی نماز پڑھنے سے احتراز فرماتے لیکن جب حق تعالیٰ نے وسعت عطا فرمائی اور آپ ﷺ کو کشائش مال کی نعمت میسر ہوئی تو آپ ﷺ نے یہ معمول بنا لیا کہ جو شخص قرضدار مرجاتا آپ ﷺ اس کا قرض ادا کرتے اور اس کے جنازہ کی نماز پڑھتے۔ یہ بات حضرت ابوہریرہ ؓ کی اس روایت سے مفہوم ہوتی ہے جو باب الافلاس والانظار کی پہلی فصل میں گزر چکی ہے اور یہ گویا آنحضرت ﷺ کے اس بےپناہ جذبہ شفقت و مہربانی اور کمال رحمت ہمدردی کا مظہر ہے جو آپ ﷺ تمام مسلمانوں کے تئیں رکھتے تھے۔

3076Mishkaat-al-Masabih

میت کا ترکہ پہلے ذوی الفروض کو دو

وعن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ألحقوا الفرائض بأهلها فما بقي فهو لأولى رجل ذكر

اور حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا میراث کے حصے جو قرآن کریم میں متعین کئے گئے ہیں حصہ داروں کو دو پھر جو کچھ بچے وہ میت کے اس مرد وارث عصبہ کا حق ہے جو میت کا سب سے قریبی عزیز ہو (بخاری ومسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ میت کا ترکہ سب سے پہلے ان لوگوں کو دو جن کے حصے قرآن کریم میں مقرر ہیں کہ جنہیں ذوی الفروض کہا جاتا ہے ان کو معینہ حصے دینے کے بعد جو کچھ بچے وہ عصبات کو دو اور پھر عصبات میں مقدم وہ عصبہ ہیں جو میت کا سب سے قریبی عزیز ہو چناچہ قریب کے عصبہ کی موجودگی میں بعید کا عصبہ میت کے ترکہ کا وارث نہیں ہوتا ابتداء باب میں ذوی الفروض اور عصبات کا تفصیلی ذکر کیا جا چکا ہے۔ حدیث کے آخری الفظ رجل ذکر میں لفظ ذکر تاکید کے لئے بھی استعمال کیا گیا ہے اور اس کا مقصد یہ بھی ہے کہ خنثی سے احتراز ہوجائے۔ شرح السنۃ میں لکھا ہے کہ یہ ارشاد گرامی اس بات کی دلیل ہے کہ بعض وارث بعض دوسرے وارثوں کے حق میں حاجب یعنی میراث سے روکنے والے) ہوتے ہیں چناچہ حجب یعنی میراث سے روکنا دو طرح سے ہوتا ہے اول حجب نقصان دوم حجب حرمان اس موقع پر اجمالی طور پر ان دونوں کی یہ تعریف جان لیجئے کہ بعض وارث ایسے ہوتے ہیں جن کی وجہ سے دوسرے وارثوں کا حصہ کم ہوجاتا ہے۔ مثلا جب میت کے اولاد نہ ہو تو میت کی ماں کو ترکہ میں سے ایک تہائی ملتا ہے۔ اور اگر میت کی اولاد موجود ہو تو میت کی ماں کو صرف چھٹا حصہ ملتا ہے اس کو حجب نقصان کہتے ہیں اسی طرح بعض وارث ایسے ہوتے ہیں کہ ان کی وجہ سے بعض عزیزوں کو میراث میں سے کچھ بھی نہیں ملتا مثلا میت کے بیٹے کے موجودگی میں بھائی میراث سے بالکل محروم رہ جاتا ہے۔ اس کو حجب حرمان کہتے ہیں

3077Mishkaat-al-Masabih

اختلاف مذہب میراث سے محروم کردیتا ہے۔

وعن أسامة بن زيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يرث المسلم الكافر ولا الكافر المسلم

اور حضرت اسامہ بن زید کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ نہ تو مسلمان کافر کا وارث ہوتا ہے اور نہ کافر مسلمان کا وارث ہوتا ہے (بخاری ومسلم) تشریح علامہ نووی (رح) فرماتے ہیں کہ اس بات پر تو تمام مسلمانوں کا اتفاق واجماع ہے کہ کافر مسلمان کا وارث نہیں ہوتا یعنی اگر مورث مسلمان ہو اور وارث کافر ہو تو مسلمان مورث کے مرنے کے بعد اس کا کافر وارث میراث سے محروم رہے گا۔ لیکن اس بارے میں اختلاف ہے کہ مسلمان کافر کا وارث ہوتا ہے یا نہیں چناچہ اکثر علماء تو یہ کہتے ہیں کہ جس طرح کافر مسلمان کا وارث نہیں ہوتا۔ اسی طرح مسلمان بھی کافر کا وارث نہیں ہوتا مگر صحابہ اور تابعین میں سے بعض حضرات کا قول یہ ہے کہ مسلمان کافر کا وارث ہوتا ہے چناچہ حضرت امام مالک کا بھی یہی مسلک ہے۔ اسی طرح اس بات پر بھی تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ کافر کی طرح مرتد بھی مسلمان کا وارث نہیں ہوتا لیکن اس بارے میں اختلاف ہے کہ مسلمان مرتد کا وارث ہوتا ہے یا نہیں؟ چناچہ حضرت امام مالک حضرت امام شافعی حضرت ربیعہ اور حضرت ابن ابی لیلی وغیرہ تو یہ کہتے ہیں کہ مسلمان بھی مرتد کا وارث نہیں ہوتا، حضرت امام ابوحنیفہ یہ فرماتے ہیں کہ مرتد نے اپنے ارتداد کی زندگی میں جو کچھ کمایا ہے وہ بیت المال میں جائے گا اور حالت اسلام میں جو کچھ کمایا ہے وہ اس کے مسلمان ورثاء کو ملے گا۔

3078Mishkaat-al-Masabih

آزاد کرنیوالا غلام کا وارث ہوتا ہے

وعن أنس رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : مولى القوم من أنفسهم . رواه البخاري

اور حضرت انس نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا قوم کا مولیٰ اسی قوم میں سے ہے (بخاری) تشریح ارشاد گرامی میں مولیٰ سے مراد آزاد کرنیوالا ہے گویا اس حدیث کا مطلب یہ ہوا کہ آزاد شدہ غلام کا وارث وہ شخص ہوتا ہے جس نے اسے آزاد کیا ہے اس کے برخلاف آزاد شدہ غلام اپنے آزاد کرنیوالے کا وارث نہیں ہوگا۔ بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ مولیٰ سے مراد آزاد شدہ غلام ہے یعنی جس قبلہ وفرد سے کسی غلام کو آزاد کیا گیا ہو تو اس آزاد شدہ غلام کا وہی حکم ہوگا جو اس کو آزاد کرنیوالے قبیلے یا فرد کا ہوگا مثلًا بنی ہاشم سید نے کسی غلام کو آزاد کیا تو اب وہ آزاد شدہ غلام زکوٰۃ کے باب میں بنی ہاشم ہی کا سا حکم رکھے گا کہ جس طرح بنی ہاشم پر زکوٰۃ کا مال حرام ہے اسی طرح اس آزاد شدہ غلام پر بھی زکوٰۃ کا مال حرام ہوگا۔

3079Mishkaat-al-Masabih

بھانجا ماموں کے ترکہ کا وارث ہوتا ہے

وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ابن أخت القوم منهم وذكر حديث عائشة : إنما الولاء في باب قبل باب السلم

اور حضرت انس راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی قوم کا بھانجا اسی قوم میں سے ہے ( بخاری ومسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ بھانجا اپنے ماموں کا وارث ہوتا ہے اور یہ ذوی الارحام میں سے ہے، چناچہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور حضرت امام احمد کے نزدیک ذوی الارحام میت کے وارث ہوتے ہیں۔ ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ ذوی الارحام کو میت کے ترکہ میں سے میراث اسی صورت میں ملتی ہے جب کہ میت کے ذوی الفروض اور عصبات موجود نہ ہوں ان دونوں کی موجودگی میں ذوی الارحام کو کچھ نہیں ملتا۔ اس کی تفصیل ابتداء میں گزر چکی ہے۔ بہرحال حضرت امام اعظم ابوحنیفہ نے ذوی الارحام کے وارث ہونے پر اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ حضرت عائشہ کی روایت (انما الولاء) الخ باب السلم سے پہلے باب میں نقل کی جا چکی ہے اور حضرت براء کی روایت (الخالۃ بمنزلۃ الام) الخ انشاء اللہ باب بلوغ الصغیر وحضانۃ میں ذکر کی جائے گی۔

3080Mishkaat-al-Masabih

مسلم، غیرمسلم کا اور غیرمسلم، مسلم کا وارث نہیں ہوتا

عن عبد الله بن عمرو قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يتوارث أهل ملتين شتى . رواه أبو داود وابن ماجه (2/190) 3047 - [ 7 ] ( لم تتم دراسته ) ورواه الترمذي عن جابر

حضرت عبداللہ بن عمرو کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا دو مختلف مذہب کے لوگوں کے درمیان وارثت قائم نہیں ہوتی (ابوداؤد ابن ماجہ) امام ترمذی نے اس روایت کو حضرت جابر سے نقل کیا ہے۔ تشریح مطلب یہ ہے کہ نہ تو مسلمان غیر مسلمان کا وارث ہوسکتا ہے اور نہ غیر مسلمان، مسلمان کا وارث بن سکتا ہے۔