Mishkaat-al-Masabih

All 6,333 hadiths in order · Page 153 of 317

3041Mishkaat-al-Masabih

خوشبودار پھول کا تحفہ واپس نہ کرو

عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من عرض عليه ريحان فلا يرده فإنه خفيف المحمل طيب الريح . رواه مسلم (2/183) 3017 - [ 2 ] ( صحيح ) وعن أنس : أن النبي صلى الله عليه و سلم كان لا يرد الطيب . رواه البخاري

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص کو خوشبودار پھول تحفہ کے طور پر دیا جائے تو وہ اسے واپس نہ کرے کیونکہ اول تو وہ سبکسار (یعنی بہت ہلکا احسان) ہے اور دوسرے یہ کہ وہ ایک اچھی خوشبو ہے ( مسلم) تشریح یہی حکم کہ اسے واپس نہ کیا جائے ہر اس تحفہ کا ہے جو بظاہر کم تر ہونے کی وجہ سے زیادہ احسان نہ رکھتا ہو مگر نفع وخوشگواری کے اعتبار سے بہت مفید اور نافع ہو تاکہ جس شخص نے وہ تحفہ دیا ہے اس کی دل شکنی نہ ہو ٢) اور حضرت انس کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ خوشبو کے تحفے کو واپس نہیں کیا کرتے تھے ( بخاری)

3042Mishkaat-al-Masabih

کسی کو کوئی چیز دے کر پھر واپس لے لینا ایک بری مثال ہے

وعن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : العائد في هبته كالكلب يعود في قيئه ليس لنا مثل السوء . رواه البخاري

اور حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اپنے ہبہ کو واپس لینے والا یعنی کسی کو کوئی چیز بطور ہدیہ وتحفہ دے کر پھر اسے واپس لے لینے والا) اس کتے کی طرح ہے جو اپنی قے چاٹتا ہے اور ہمارے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ ہم کسی بری مثال سے تشبیہ دئیے جائیں ( بخاری) تشریح حدیث کے آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ ہماری ملت اور ہماری قوم جس عزوشرف کی حامل ہے اور اس انسانیت کے جن اعلی اصول اور شرافت وتہذیب کے جس بلند معیار سے کے نوازا گیا ہے اس کے پیش نظر ہماری ملت وقوم کے کسی بھی فرد کے لئے یہ بات قطعًا مناسب نہیں ہے کہ وہ کوئی بھی ایسا کام کرے جو اس کے ملی شرف اور اس کی قومی عظمت کے منافی ہو اور اس کی وجہ سے اس پر کوئی بری مثال چسپاں کی جائے۔ اس سے گویا آپ ﷺ نے اس طرف اشارہ فرمایا کہ کسی کو کوئی چیز بطور ہدیہ وتحفہ دے کر واپس لینا چونکہ ایسا ہی ہے جیسا کہ کتا اپنی قے چالٹ لیتا ہے اس لئے کسی مسلمان کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ کسی کو اپنی کوئی چیز ہدیہ کرے اور پھر اسے واپس لے لے اور اس طرح اس پر یہ بری مثال چسپاں کی جانے لگے۔ یہ تو حدیث کی وضاحت اور اس سے پیدا ہونیوالا ایک اخلاقی اور نفسیاتی پہلو تھا لیکن اس کا فقہی اور شرعی پہلو یہ ہے کہ امام اعظم ابوحنیفہ کے مسلک کے مطابق کسی کو کوئی چیز بطور ہبہ یا بطور صدقہ دینا اور پھر لینے والے کے قبضے میں اس چیز کے چلے جانے کے بعد اس کو واپس لے لینا جائز تو ہے مگر مکروہ ہے البتہ بعض صورتوں میں جائز نہیں ہے جس کی تفصیل دوسری فصل کی پہلی حدیث کے ضمن میں ذکر کی جائے گی اور اس بارے میں ایک حدیث بھی منقول ہے۔ یہاں مذکور بہ حدیث کے بارے میں حنفیہ یہ کہتے ہیں کہ یہ کراہت پر محمول ہے اور اس کا مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ کسی کوئی چیز دے کر واپس لے لینا بےمروتی اور غیرپسندیدہ بات ہے لیکن بقیہ تینوں ائمہ یعنی حضرت امام شافعی حضرت امام مالک اور حضرت امام احمد بن حنبل کے نزدیک چونکہ یہ حدیث حرمت پر محمول ہے اس لئے ان تینوں کا مسلک یہ ہے کہ ہدیہ اور صدقہ دے کر واپس لے لینا جائز نہیں ہے البتہ حضرت امام شافعی یہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی باپ اپنے بیٹے کو کوئی چیز ہبہ کرے تو وہ اس سے واپس لے سکتا ہے۔ ایک روایت کے مطابق حضرت امام احمد کا قول بھی یہی ہے اور آگے آنیوالی بعض احادیث بھی ان پر دلالت کرتی ہیں لیکن ان احادیث کے جو معنی حنفیہ نے مراد لئے ہیں وہ بھی آگے مذکور ہوں گے۔

3043Mishkaat-al-Masabih

کوئی چیز دینے میں اولاد کے درمیان فرق وامتیاز نہ کرو

وعن النعمان بن بشير أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : إني نحلت ابني هذا غلاما فقال : أكل ولدك نحلت مثله ؟ قال : لا قال : فأرجعه . وفي رواية : أنه قال : أيسرك أن يكونوا إليك في البر سواء ؟ قال : بلى قال : فلا إذن . وفي رواية : أنه قال : أعطاني أبي عطية فقالت عمرة بنت رواحة : لا أرضى حتى تشهد رسول الله صلى الله عليه و سلم فأتى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : إني أعطيت ابني من عمرة بنت رواحة عطية فأمرتني أن أشهدك يا رسول الله قال : أعطيت سائر ولدك مثل هذا ؟ قال : لا قال : فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم . قال : فرجع فرد عطيته . وفي رواية : أنه قال : لا أشهد على جور

اور حضرت نعمان بن بشیر کے بارے میں منقول ہے کہ ایک دن ان کے والد حضرت بشیر انہیں رسول کریم ﷺ کی خدمت میں لائے اور عرض کیا کہ میں نے اپنے اس بیٹے (نعمان) کو ایک غلام عطاء کیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم نے اپنے سب بیٹوں کو اسی طرح ایک ایک غلام دیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ نہیں آپ ﷺ نے فرمایا تو پھر نعمان سے بھی اس غلام کو واپس لے لو ایک اور روایت میں یوں ہے کہ آپ ﷺ نے نعمان کے والد سے فرمایا کہ کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ تہارے سب بیٹے تمہاری نظر میں نیکی کے اعتبار سے یکساں ہوں (یعنی کیا تم یہ چاہتے ہو، کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ تمہارے سب بیٹے تمہاری نظر میں نیکی کے اعتبار سے یکساں ہوں یعنی کیا تم یہ چاہتے ہو کہ تمہارے سب بیٹے تمہارے ساتھ اچھا سلوک کریں اور سب ہی تمہاری فرمانبرداری اور تمہاری تعظیم کریں انہوں نے کہا کہ ہاں آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس صورت میں (جب کہ تم نے اپنے تمام بیٹوں سے اپنے تئیں یکساں اچھے سلوک کے خواہشمند ہو تو) صرف اپنے ایک بیٹے (نعمان) کو غلام نہ دو۔ ایک اور روایت کے یہ الفاظ ہیں کہ حضرت نعمان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میرے والد نے مجھے ایک چیز دی تو عمرہ بنت رواحہ میری والدہ نے میرے والد حضرت بشیر سے کہا کہ میں اس پر اس وقت تک رضا مند نہیں ہوں جب تک کہ تم اس ہبہ پر رسول کریم ﷺ کو گواہ نہ بنا لو چناچہ حضرت بشیر آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ میں نے اپنے بیٹے نعمان کو جو عمرہ بنت رواحہ کے بطن سے ہے ایک چیز دی ہے اور عمرہ بنت رواحہ نے مجھ سے کہا کہ میں اس ہبہ پر آپ ﷺ کو گواہ بنا لوں۔ آنحضرت ﷺ نے یہ سن کر فرمایا کہ جس طرح تم نے اپنے اس بیٹے کو ایک غلام دیا ہے کیا اسی طرح اپنے سب بیٹوں کو بھی ایک ایک غلام دیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ نہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو حضرت نعمان کہتے ہیں کہ میرے والد (آپ ﷺ کا یہ ارشاد گرامی سن کر) واپس آئے اور مجھے جو چیز دی تھی وہ واپس لے لی۔ ایک اور روایت میں اس طرح ہے کہ آپ ﷺ نے حضرت بشیر کی یہ بات سن کر فرمایا کہ میں ظلم پر گواہ نہیں بنتا ( بخاری ومسلم) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اپنی اولاد کے درمیان فرق و امتیاز کرنا انتہائی نامناسب ہے چناچہ ارشاد گرامی کی روشنی میں یہ مستحب ہے کہ کوئی چیز اپنے کسی ایک بیٹے بیٹی کو نہ دی جائے بلکہ وہ چیز برابری کے طور پر سب بیٹے بیٹیوں کو دی جائے۔ حضرت بشیر کو آنحضرت ﷺ کا یہ حکم کہ اس غلام کو واپس لے لو اولویت پر محمول ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس غلام کو واپس لے لینا ہی اولی اور زیادہ بہتر ہے چناچہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ حضرت امام شافعی اور حضرت امام مالک فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی اولاد میں بعضوں کو کچھ دی تو اس کا ہبہ صحیح ہوگا مگر کراہت کے ساتھ۔ اس کے برعکس حضرت امام احمد ثوری اور اسحق وغیرہ کے نزدیک یہ حرام ہے آپ ﷺ کا یہ ارشاد گرامی حدیث (لا اشہد علی جور) (میں ظلم پر گواہ نہیں بنتا) ان حضرات کی دلیل ہے جب کہ اول الذکر یعنی حضرت امام ابوحنیفہ آپ ﷺ کے الفاظ مبارک سے استدلال کرتے ہیں جو ایک روایت میں منقول ہیں کہ (فاشہد علی ہذا غیری) (یعنی آپ ﷺ نے بشیر سے کہا کہ تم اس بارے میں میرے علاوہ کسی اور کو گواہ بنا لو۔ یہ حضرات فرماتے ہیں کہ اگر یہ ہبہ (یعنی حضرت بشیر کا اپنے ایک بیٹے کو غلام دینا) حرام یا باطل ہوتا تو آپ ﷺ یہ نہ فرماتے کہ کسی اور کو گواہ بنا لو کیونکہ آپ ﷺ کا یہ ارشاد اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ بشیر کا یہ ہبہ بہرحال صحیح اور جائز تھا لیکن چونکہ غیرپسندیدہ اور مکروہ تھا اس لئے آپ ﷺ نے خود گواہ بننا مناسب نہیں سمجھا اور یہ فرما دیا کہ کسی اور کو گواہ بنا لو۔

3044Mishkaat-al-Masabih

ہبہ واپس لے لینا مناسب نہیں ہے

عن عبد الله بن عمرو قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يرجع أحد في هبته إلا الوالد من ولده . رواه النسائي وابن ماجه

حضرت عبداللہ بن عمر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کوئی شخص اپنا ہبہ واپس نہ لے (یعنی ہبہ واپس لے لینا مناسب نہیں ہے) ہاں باپ بیٹے سے ہبہ واپس لے سکتا ہے (نسائی ابن ماجہ) تشریح یہ حدیث امام شافعی کی دلیل ہے کیونکہ ان کے ہاں ہبہ واپس لے لینا جائز نہیں ہے لیکن باپ اپنے بیٹے سے اپنا ہبہ واپس لے سکتا ہے۔ حضرت امام اعظم فرماتے ہیں کہ باپ اپنے بیٹے سے اپنا ہبہ واپس لے سکتا ہے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح کوئی باپ ضرورت و حاجت کے وقت اپنی اولاد کے مال و زر میں سے کچھ لے کر اپنے اوپر صرف کرسکتا ہے اسی طرح جو چیز اس نے اپنے بیٹے کو بطور ہبہ دی ہے بوقت ضرورت اس کو لے کر اپنے مصرف میں لاسکتا ہے۔

3045Mishkaat-al-Masabih

سات صورتوں میں ہبہ واپس لے لینا جائز نہیں ہے

یہ بات پہلے بتائی جا چکی ہے کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے ہاں ہبہ واپس لے لینا جائز ہے لیکن مکروہ ہے چناچہ جن احادیث سے ہبہ واپس لے لینے کا عدم جواز معلوم ہوتا ہے وہ ان کو کراہت پر محمول کرتے ہیں ہاں ہبہ کی سات صورتیں ایسی ہیں جن میں امام اعظم کے نزدیک بھی اپنا ہبہ واپس لے لینا جائز نہیں ہے۔ چنانچہ فقہ کی بعض کتابوں میں سات حرفوں کے اس مجموعے (دمع خزقہ) سے ان ساتوں صورتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے بایں طور کہ اس مجموعہ کا ہر حرف ایک صورت کی طرف اشارہ کرتا ہے جس کی تفصیلی وضاحت یہ ہے کہ حرف دال سے مراد زیادتی متصلہ ہے یعنی جس ہبہ میں کسی چیز کا اضافہ ہوگیا ہو یا اس میں کوئی چیز ملا لی گئی ہو تو اس ہبہ کی واپس درست نہیں ہے۔ مثال کے طور پر اس صورت کو یوں سمجھئے کہ زید نے بکر کو زمین کا ایک ایسا قطعہ ہبہ کردیا جس میں نہ کوئی عمارت تھی اور نہ درخت وغیرہ تھے اب بکر نے اس زمین میں کوئی عمارت بنالی یا اس میں کوئی درخت وغیرہ لگا لئے تو اس صورت میں ہبہ کرنیوالے یعنی زید کے لئے یہ جائز نہیں ہوگا کہ وہ اپنا ہبہ یعنی اس زمین کو واپس لے لے۔ حرف میم واہب یا موہوب لہ کی موت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ فرض کیجئے حسن نے نعیم کو اپنی کوئی چیز ہبہ کردی اور پھر حسن مرگیا تو اب حسن کے ورثاء کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ موہوب لہ یعنی نعیم سے اس چیز کی واپسی کا مطالبہ کریں جو حسن نے اس کو ہبہ کی تھی یا اگر نعیم مرجائے تو واہب یعنی حسن کو یہ حق نہیں پہنچے گا کہ وہ نعیم کے ورثاء سے اس چیز کے بارے میں کسی قسم کا کوئی مطالبہ کرے جو اس نے نعیم کو ہبہ کردی تھی۔ حرف ع سے اشارہ ہے کہ ہبہ بالعوض کی طرف یعنی اگر کوئی شخص کسی کو اپنی کوئی چیز کسی چیز کے عوض میں ہبہ کرے تو واہب کو اپنے اس ہبہ کو واپس لے لینے کا حق نہیں پہنچتا۔ حرف خ سے اشارہ ہے خروج کی طرف یعنی اگر موہوب موہوب لہ کی ملکیت سے نکل گئی بایں طور کہ اس نے وہ چیز یا تو کسی کے ہاتھ فروخت کردی یا کسی کو دے ڈالی تو اس صورت میں واہب موہوب لہ سے اس چیز کا تقاضہ کر کے نہیں لے سکتا۔ حرف ز سے زوجین کی طرف اشارہ ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر خاوند اپنی بیوی کو یا بیوی اپنے خاوند کو کوئی چیز ہبہ کر دے تو وہ ایک دوسرے سے اس چیز کو واپس نہیں لے سکتے۔ حرف ق سے قرابت (رشتہ داری) کی طرف اشارہ ہے اور قرابت بھی وہ جس میں محرمیت ہو یعنی اگر کوئی باپ اپنے بیٹے کو یا کوئی بیٹا اپنے باپ کو یا ماں کو یا دادا کو یا نانا کو یا بھائی کو یا بہن کو اور یا کسی بھی ایسے عزیز کو کہ جس سے محرمیت کی قرابت ہو اپنی کوئی چیز ہبہ کر دے تو اس ہبہ کو واپس لے لینا اس کے لئے جائز نہیں ہوگا۔ اور حرف ز سے موہوب کے ہلاک وضائع ہوجانے کی طرف اشارہ ہے یعنی اگر موہوب وہ چیز جو ہبہ کی گئی تھی) موہوب لہ کے پاس سے ہلاک یا ضائع ہوگئے تو واہب کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ موہوب لہ سے اس کی واپسی کا مطالبہ کرے۔

3046Mishkaat-al-Masabih

کسی کو کوئی چیز دے کر پھر واپس لے لینا مروت کے خلاف ہے

وعن ابن عمر وابن عباس أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لا يحل للرجل أن يعطي عطية ثم يرجع فيها إلا الوالد فيما يعطي ولده ومثل الذي يعطي العطية ثم يرجع فيها كمثل الكلب أكل حتى إذا شبع قاء ثم عاد في قيئه . رواه أبو داود والترمذي والنسائي وابن ماجه وصححه الترمذي

اور حضرت ابن عمر اور حضرت ابن عباس راوی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کسی شخص کے لئے یہ حلال نہیں ہے کہ یعنی ازاراہ مروت یہ بات مناسب نہیں ہے) کہ وہ کسی کو اپنی کوئی چیز دے اور پھر اس کو واپس لے لے البتہ باپ اپنی اس چیز کو واپس لے سکتا ہے جو وہ اپنے بیٹے کو دے اور جو شخص کسی کو کچھ دے کر پھر واپس لے لیتا ہے اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جس نے پیٹ بھر کر کھایا اور جب اس کا پیٹ بھر گیا تو قے کر ڈالی اور پھر اس قے کو چاٹنے لگا (ابوداؤد ترمذی نسائی وغیرہ ذلک)

3047Mishkaat-al-Masabih

تحفہ کا بدلہ تحفہ

وعن أبي هريرة : أن أعرابيا أهدى لرسول الله صلى الله عليه و سلم بكرة فعوضه منها ست بكرات فتسخط فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه و سلم فحمد الله وأثنى عليه ثم قال : إن فلانا أهدى إلي ناقة فعوضته منها ست بكرات فظل ساخطا لقد هممت أن لا أقبل هدية إلا من قرشي أو أنصاري أو ثقفي أو دوسي . رواه الترمذي وأبو داود والنسائي (2/184) 3023 - [ 8 ] ( لم تتم دراسته ) وعن جابر عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من أعطي عطاء فوجد فليجز به ومن لم يجد فليثن فإن من أثنى فقد شكر ومن كتم فقد كفر ومن تحلى بما لم يعط كان كلابس ثوبي زور . رواه الترمذي وأبو داود

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک دیہاتی رسول کریم ﷺ کے لئے بطور ہدیہ ایک جوان اونٹنی لے کر آیا چناچہ آپ ﷺ نے بھی اس دیہاتی کو اس ایک اونٹنی کے بدلے میں چھ جوان اونٹنیاں عطا فرمائیں لیکن وہ دیہاتی پھر بھی خوش نہ ہوا۔ جب آپ ﷺ کو اس کا علم ہوا تو آپ ﷺ نے پہلے اللہ کی حمد وثنا بیان کی جیسا کہ آپ ﷺ کا معمول تھا آپ ﷺ جب خطبہ دیتے یا کوئی بات شروع کرتے تو پہلے اللہ کی حمد وثنا بیان فرماتے) بعد ازاں آپ ﷺ نے فرمایا کہ فلاں شخص بطور ہدیہ میرے لئے ایک اونٹنی لایا تھا میں نے بھی اس کے بدل میں اس کو چھ اونٹنیاں دیں مگر وہ پھر بھی ناخوش رہا چناچہ میں نے یہ ارادہ کیا ہے کہ اب میں قریشی ثقفی اور دوسی کے علاوہ اور کسی کا کوئی ہدیہ قبول نہ کروں (ترمذی ابوداؤد نسائی) تشریح اگر آپ کسی کو اپنی کوئی چیز بطور ہدیہ وتحفہ دیں تو اس کے عوض و بدلہ کی توقع رکھنا آپ کے خلوص کے منافی ہوگا لیکن اگر آپ کو کوئی شخص اپنی کوئی چیز بطور تحفہ وہدیہ دے تو کسی بھی صورت میں آپ کی طرف سے اس کے بدلے کی ادائیگی آپ کی عالی ہمتی، بلند حوصلگی اور آپس کے احساس مروت و محبت کے عین مطابق ہوگا۔ چناچہ آنحضرت ﷺ کو جب کوئی صحابی اپنی کوئی چیز بطور ہدیہ دیتے تھے تو اس کا بدلہ ملنے کی ہلکی سی خواہش بھی ان کے ذہن میں نہیں ہوتی تھی کیونکہ ان کا ہدیہ سراپا خلوص اور ہمہ تن نیاز مندی کا ایک اظہار محبت ہوتا تھا جو اپنے دامن میں کسی مادی خواہش کا ادنیٰ سا شائبہ بھی نہیں آنے دیتا تھا لیکن اس کے باوجود آنحضرت ﷺ کا یہ معمول تھا کہ جب بھی کوئی شخص آپ ﷺ کی خدمت میں کوئی چیز بطور ہدیہ پیش کرتا تو آپ ﷺ کسی نہ کسی صورت میں اس کو اس کا بدلہ اس سے کہیں زیادہ کر کے عطا فرماتے تھے اور آپ ﷺ کا یہ معمول صرف آپ ﷺ کے جذبہ سخاوت وفیاضی اور آپ ﷺ کی عالی ہمتی نیز باہمی ربط وتعلق کے ایک عظیم جذبہ کا مظہر ہوتا تھا۔ چنانچہ جب ایک دیہاتی آپ ﷺ کی خدمت میں بطور ہدیہ ایک اونٹنی لے کر آیا تو آپ ﷺ نے حسب معمول اس کے ہدیہ سے کئی گنا زیادہ بدلہ یعنی چھ جوان اونٹنیاں اسے دیں مگر اس پر بھی وہ خوش نہیں ہوا یہ بات یقینًا بڑی عجیب تھی ایک تو اس وجہ سے کہ بظاہر وہ اپنے ہدیہ میں گویا مخلص نہیں تھا اس کا صاف مطلب یہ تھا کہ وہ آپ ﷺ کی خدمت میں اونٹنی اس لئے لے کر آیا تھا کہ آپ ﷺ اسے بدلہ دیں اور بدلہ بھی ایسا کہ جو اس کی خواہش کے مطابق ہو چناچہ جب آپ ﷺ نے اسے چھ اونٹنیاں دیں تو وہ اس پر خوش نہیں ہوا اور اس طرح اس نے دنیاوی مال میں اپنے جذبہ حرص کا اظہار کیا چناچہ اس کی یہ بات آنحضرت ﷺ کو اتنی ناگوار ہوئی کہ آپ ﷺ کو یہ اعلان کرنا پڑا کہ میں نے قریشی انصاری ثقفی اور دوسی کے علاوہ اور کسی کا ہدیہ قبول نہ کرنے کا ارادہ کرلیا ہے۔ قریشی ان لوگوں کو کہتے ہیں جن کا تعلق قبیلہ قریش سے ہے اور انصاری سے مراد انصار مدینہ ہیں، ثقفی اور دوسی دو قبیلوں کے نام ہیں۔ آپ ﷺ نے ان قبیلوں کو بطور خاص اس لئے ذکر کیا اور ان کا استثناء کیا کہ قبیلے عالی ہمتی بلند حوصلگی اور سخاوت وفیاضی میں امتیازی حیثیت کے مالک تھے اور حضرت جابر نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جس شخص کو کوئی چیز بطور ہدیہ دی جائے اور وہ اس کا بدلہ دینے پر قادر ہو تو اسے چاہئے کہ وہ اس کا بدلہ دے اور جو شخص بدلہ دینے پر قادر نہ ہو تو وہ ہدیہ دینے والے کی تعریف و توصیف کرے اور اس کے دئیے ہوئے ہدیہ کا اظہار کرے) کیونکہ جس شخص نے اپنے محسن کی تعریف کی اس نے گویا اس کا شکر ادا کیا (یعنی فی الجملہ اس کا بدلہ اتارا) اور جس شخص نے کسی کا احسان چھپایا یعنی نہ تو اس نے کچھ دے کر اور نہ تعریف کر کے اس کا بدلہ اتارا تو اس نے کفران نعمت کیا اور یاد رکھو جو شخص اپنے آپ کو کسی ایسی چیز سے آراستہ کرے جو اسے نہیں دی گئی ہے تو اس کی مثال جھوٹ موٹ کے دو کپڑے پہننے والے کی سی ہے ( ترمذی ابوداؤد) تشریح محسن کی تعریف کرنے کو اس کا شکر ادا کرنے کا قائم مقام اس لئے قرار دیا گیا ہے کہ تعریف دراصل شکر ہی کی ایک شاخ ہے کیونکہ شکر کا مفہوم ہے دل میں محبت رکھنا زبان سے تعریف کرنا اور ہاتھ پاؤں سے خدمت کرنا۔ حدیث کے آخری جزء کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص اپنے اندر کسی ایسے دینی یا دنیاوی کمال وصفت کا اظہار کرے درحقیقت اس میں نہیں ہے تو وہ جھوٹ موٹ کے دو کپڑے پہننے والے کی مانند ہے۔ جھوٹ موٹ کے دو کپڑے پہننے والے سے مراد وہ شخص ہے جو علماء اور صلحاء کا لباس پہن کر اپنے آپ کو عالم و صالح ظاہر کرے حالانکہ واقعہ کے اعتبار سے نہ وہ عالم ہو اور نہ صالح ہو۔ اور بعض حضرات نے یہ لکھا ہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو کوئی ایسا پیراہن پہنے جس کی آستینوں کے نیچے مزید دو آستینیں لگائے تاکہ دیکھنے والے یہ سمجھیں کہ اس نے دو پیراہن پہن رکھے ہیں۔ اور بعضوں نے یہ کہا ہے کہ عرب میں ایک شخص تھا جو انتہائی نفیس قسم کے دو کپڑے پہنتا تھا تاکہ لوگ اسے عزت دار اور باحیثیت سمجھیں اور جب وہ کوئی جھوٹی گواہی دے تو اس کی اس ظاہری پوشاک کو دیکھ کر اسے جھوٹا نہ سمجھیں۔ آپ ﷺ نے اسی شخص کے ساتھ اس شخص کو تشبیہ دی جو اپنے آپ کو کسی ایسے کمال کا حامل ظاہر کرے جو اس کے اندر نام ونشان کو بھی موجود نہ ہو۔

3048Mishkaat-al-Masabih

محسن کے لئے دعاء اجروخیر

وعن أسامة بن زيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من صنع إليه معروف فقال لفاعله : جزاك الله خيرا فقد أبلغ في الثناء . رواه الترمذي

اور حضرت اسامہ بن زید کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص کے ساتھ کوئی احسان کیا جائے اور وہ احسان کرنے والے کے حق میں یہ دعا کرے جزاک اللہ خیرًا (یعنی اللہ تعالیٰ تجھے اس کا بہتربدلہ دے) تو اس نے اپنے محسن کی کامل تعریف کی (ترمذی) تشریح کامل تعریف کی یعنی اس نے اپنے محسن کے حق میں یہ دعائیہ الفاظ کہہ کر گویا اس کے تئیں ادائیگی شکر کا حق ادا کردیا کیونکہ اس نے اپنے محسن کا بدلہ اتارنے اور اس کی تعریف کرنے میں اپنے قصور و کوتاہی کا اعتراف اور اپنے عاجز ہونے کا اقرار کر کے اس کا بدلہ اللہ تعالیٰ کی طرف سونپ دیا کہ اللہ تعالیٰ اسے دنیا اور آخرت میں پورا پورا اجر عطاء فرمائے اور ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اجر سے بہتر اجر کون دے سکتا ہے۔

3049Mishkaat-al-Masabih

راہ استقامت کا سنگ میل

جلیل القدر بزرگ اور شیخ باکمال حضرت عبد الوہاب متقی فرمایا کرتے تھے کہ صوفی کو چاہئے کہ وہ مخلوق اللہ کے دینے یا نہ دینے دونوں ہی صورتوں میں دائرہ استقامت سے نہ نکلے اور نہ راہ حق سے قدم کو بھٹکنے دے اگر کوئی فاسق ونااہل شخص اسے کچھ (بطور ہدیہ) دے تو وہ اس کی اتنی تعریف نہ کرے کہ اسے صالح اور ولی کی صف میں کھڑا کر دے بلکہ اس کے حق میں یہ دعائیہ الفاظ کہے کہ اللہ تعالیٰ اسے جزاء خیر عطا کرے اور اگر اسے کسی صالح و متقی شخص سے کوئی رنج و تکلف پہنچے تو محض اس کی وجہ سے اس کے صلاح وتقوی کی نفی نہ کرے اور اسے برا بھلا نہ کہے بلکہ اس کے حق میں یہ دعائیہ الفاظ کہے کہ غفر اللہ لہ ولنا (یعنی اللہ تعالیٰ اسے اور ہمیں مغفرت و بخشش سے نوازے) اہل استقامت کا یہی طریقہ ہے اور یہی ان کی راہ عمل ہے۔

3050Mishkaat-al-Masabih

انسان کا شکرادا نہ کرنیوالا اللہ تعالیٰ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا

وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من لم يشكر الناس لم يشكر الله . رواه أحمد والترمذي

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص لوگوں کا شاکر نہیں ہوتا وہ اللہ تعالیٰ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا (احمد ترمذی) تشریح مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے شکر کی ادائیگی کی تکمیل اس بات پر منحصر ہے کہ اس کی تابعداری کی جائے بایں طور کہ اس نے ان انسانوں کا جو کہ اس تک اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے پہنچنے کا ظاہری واسطہ اور وسیلہ بنے ہیں شکر ادا کرنے کا جو حکم دیا ہے اس کی پیروی کی جائے لہذا جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی تابعداری نہیں کی اور اس کے حکم کی پیروی نہیں کی بایں معنی کہ اس نے ان لوگوں کا شکر ادا نہیں کیا جن کے واسطے سے اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتیں اسے دی ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا کر ادا نہیں کیا۔ یا پھر اس ارشاد گرامی کی مراد یہ ہے کہ جو شخص اپنے محسن کا شکر ادا نہیں کرتا اور اپنے ساتھ کئے گے احسان اور اچھے سلوک کا اقرار نہیں کرتا وہ کفران نعمت کی اپنی اس عادت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا۔

3051Mishkaat-al-Masabih

شکران نعمت کی اہمیت

وعن أنس قال : لما قدم رسول الله صلى الله عليه و سلم المدينة أتاه المهاجرون فقالوا : يا رسول الله ما رأينا قوما أبذل من كثير ولا أحسن مواساة من قليل من قوم نزلنا بين أظهرهم : لقد كفونا المؤونة وأشركونا في المهنأ حتى لقد خفنا أن يذهبوا بالأجر كله فقال : لا ما دعوتم الله لهم وأثنيتم عليهم . رواه الترمذي وصححه

اور حضرت انس کہتے ہیں کہ جب رسول کریم ﷺ (مکہ سے ہجرت فرما کر) مدینہ تشریف لے آئے تو ایک دن مہاجرین کی ایک جماعت آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! ہم نے ایسی کوئی قوم نہیں دیکھی جو زیادہ مالداری میں بہت زیادہ خرچ کرنے اور کم مالداری میں بہت اچھی خدمت اور مدد کرنے کے وصف میں اس قوم سے بہتر ہو جس میں ہم آ کر اترے ہیں انہوں نے (یعنی انصار نے) ہمیں محنت سے سبکدوش کردیا اور تمام تر منفعت میں ہمیں شریک کرلیا ہے اور اب ان کے اس جذبے سخاوت اور ایثار کو دیکھتے ہوئے ہمیں تو یہ اندیشہ ہے کہ تمام تر ثواب کہیں انہی کے حصہ میں نہ آجائے؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں تمام تر ثواب انہی کے حصہ میں نہیں آئے گا جب تک کہ تم ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے رہو گے اور ان کی تعریف یعنی شکرانہ نعمت ادا کرتے رہو گے۔ امام ترمذی نے اس حدیث کو نقل کیا ہے اور اسے صحیح کہا ہے۔ تشریح جب نبی کریم ﷺ نے مکہ سے ہجرت فرما کر مدینہ میں اقامت اختیار فرمائی اور آپ ﷺ کے ساتھ ہی مہاجرین کی ایک بہت بڑی تعداد بھی مدینہ میں اقامت گزیں ہوئی تو مدینہ کے رہنے والوں یعنی انصار نے ان کے ساتھ جو حسن سلوک کیا اور ایثار وسخاوت نیز اخوت و محبت کی جو عظیم روایت قائم کی بلا مبالغہ تاریخ انسانی اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے انصار مدینہ نے مہاجرین مکہ کے لئے اپنے دیدہ ودل ہی فرش راہ نہیں کئے بلکہ اپنے خون پسینہ کی گاڑھی کمائی بھی ان کے لئے وقف کردی انہوں نے اپنی زمین اپنے باغات اور اپنے مکانات آدھوں آدھ ان میں تقسیم کر دئیے ان کی خدمت گزاری اور خاطر تواضع میں شرافت انسانی کی ساری بلندیوں کو پیچھے چھوڑ دیا چناچہ ان کے اسی طرز عمل اور ان کے بےپایاں احسانات نے مہاجرین کو اتنا متاثر کیا کہ وہ باقاعدہ بارگاہ رسالت میں اپنا یہ اندیشہ لے کر حاضر ہوئے کہ یا رسول اللہ ﷺ! یہ انصار کہیں سارا ثواب ہی نہ لے بیٹھیں کیونکہ ہم نے تو آج تک ان سے زیادہ ایثار پسند مخیر و سخی اور احسان کرنیوالی کوئی قوم نہیں دیکھی ہے انہوں نے مال و زر کی کمی بیشی سے بےنیاز ہو کر ہماری خاطرداری کی ہے جس کے پاس زیادہ مال تھا اس نے ہم پر اتنا ہی زیادہ خرچ کیا جس کے پاس کم مال تھا اس نے اسی کے مطابق ہماری اعانت کی گویا جس کی جتنی استطاعت تھی اس نے اسی حیثیت سے ہماری مہمانداری وغم خواری کی یہاں تک کہ انہوں نے حصول معاش میں ہمیں محنت ومشقت سے بھی باز رکھا بایں طور کہ کھیتی باڑی کی محنت باغات اور درختوں کی دیکھ بھال کی صعوبت اور مکانات بنانے کی مشقت انہوں نے خود اپنے ذمہ لی مگر منفعت و پیداوار میں ہمیں برابر کا شریک رکھا ہے کہ وہ اپنی زمین اور اپنے باغات میں اپنی محنت سے جو کچھ کرتے ہیں آدھا ہمیں تقسیم کردیتے ہیں چناچہ اب تو ڈرنے لگے ہیں کہ یہ ہمارا ثواب خود ہی حاصل نہ کریں اور یہ اندیشہ ہے کہ ہماری ہجرت اور ہماری عبادتوں کا اجر اللہ تعالیٰ کہیں ان کے اعانات کی بےپناہ زیادتی کی وجہ سے ان کے نامہ اعمال میں لکھ دے۔ لیکن آنحضرت ﷺ نے انہیں بتایا کہ ایسا نہیں ہوسکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم بہت وسیع ہے اس کے ہاں اجر کی کمی نہیں ہے تمہیں تمہاری عبادت کا ثواب ملے گا اور انصار کو ان کی مددگاری اور ان کے ایثار وسخاوت کا اجر دیا جائے گا تاوقتیکہ تم ان کے لئے بھلائی کی دعا کرتے رہو کیونکہ ان کے حق میں تمہاری یہی دعا ان کے احسان کا بدلہ ہوجائے گی اور تمہاری عبادتوں کا ثواب تمہیں ہی ملتا رہے گا۔

3052Mishkaat-al-Masabih

آپس میں بطورتحفہ لین دین عداوتوں کو دور کرتا ہے

وعن عائشة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : تهادوا فإن الهدية تذهب الضغائن . رواه

اور ام المؤمنین حضرت عائشہ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتی ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا آپس میں تحفہ کا لین دین کیا کرو کیونکہ تحفہ کا لینا دینا کینوں کو دور کرتا ہے ( ترمذی تشریح مطلب یہ ہے کہ آپس میں تحفہ کے لین دی سے باہمی بغض و عداوت کے جذبات ختم ہوجاتے ہیں اور اس کے بجائے آپس کی الفت و محبت پیدا ہوجاتی ہے۔ مشکوک ہے اصل نسخہ میں لفظ رواہ کے بعد جگہ خالی تھی جس کا مطلب یہ ہے کہ مؤلف مشکوۃ کو اس حدیث کے مآخذ کا علم نہیں ہوسکا تھا چناچہ بعد میں کسی نے الترمذی بڑھا دیا

3053Mishkaat-al-Masabih

کمترچیز کے تحفہ کا لینا دیناحقیر نہ سمجھو

وعن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : تهادوا فإن الهدية تذهب وحر الصدر ولا تحقرن جارة لجارتها ولا شق فرسن شاة . رواه الترمذي (2/185) 3029 - [ 14 ] ( لم تتم دراسته ) وعن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ثلاث لا ترد الوسائد والدهن واللبن . رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريب قيل : أراد بالدهن الطيب

اور حضرت ابوہریرہ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا آپس میں تحفہ دیا لیا کرو کیونہ تحفہ سینے کی کدورت کو دور کرتا ہے اور یاد رکھو کوئی ہمسایہ اپنے دوسرے ہمسایہ کے واسطے کسی کمتر چیز کے تحفہ کو حقیر نہ سمجھے اگرچہ وہ بکری کے کھر کا ایک ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو ( ترمذی) تشریح مطلب یہ ہے کہ کوئی اپنے ہمسایہ کو کسی کمتر اور تھوڑی سی چیز کے بطور تحفہ بھیجنے کو اس ہمسایہ کے حق میں حقیر نہ سمجھے بلکہ جو بھیجنا چاہے اسے بھیجدے خوہ وہ کتنی ہی کمتر اور تھوڑی کیوں نہ ہو۔ اسی طرح جس ہمسایہ کو تحفہ بھیجا گیا ہو اس کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ اپنے ہمسایہ کے کسی تحفہ کو حقیر سمجھے بلکہ اس کے پاس جو بھی تحفہ آئے اسے رغبت وبشاشت کے ساتھ قبول کرلے اگرچہ وہ کتنی ہی تھوڑی اور کیسی ہی خراب کیوں نہ ہو۔ اور حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تین چیزیں ایسی ہیں جنہیں قبول کرنے سے انکار نہ کرنا چاہئے (١) تکیہ (٢) تیل (٣) دودھ۔ امام ترمذی نے اس حدیث کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔ نیز کہا جاتا ہے کہ تیل سے آنحضرت ﷺ کی مراد خوشبو تھی۔ تشریح مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے مہمان کو تواضع کے طور پر تکیہ دے یا تیل دے اور یا پینے کے لئے دودھ دے تو اس مہمان کے لئے مناسب نہیں ہے کہ وہ اسے قبول کرنے سے انکار کر دے بعض حضرات کی رائے یہ ہے کہ دھن یعنی تیل سے مراد خوشبو ہے جیسا کہ ترجمہ میں ذکر کیا گیا لیکن زیادہ صحیح بات یہی ہے کہ دھن سے مراد تیل ہی ہے کیونکہ اس زمانہ میں بھی اہل عرب اپنے سروں میں عمومیت کے ساتھ تیل لگایا کرتے تھے۔

3054Mishkaat-al-Masabih

خوشبودار پھول کا تحفہ واپس نہ کرو

وعن أبي عثمان النهدي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا أعطي أحدكم الريحان فلا يرده فإنه خرج من الجنة . رواه الترمذي مرسلا

اور حضرت ابوعثمان نہدی تابعی کی روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو خوشبودار پھول بطور تحفہ وہدیہ دیا جائے تو وہ اسے قبول کرنے سے انکار نہ کرے کیونکہ وہ پھول جنت سے آیا ہے اس روایت کو امام ترمذی نے بطریق ارسال نقل کیا ہے۔ تشریح وہ پھول جنت سے آیا ہے کا مطلب یہ ہے کہ خوشبودار پھول کی ایک فضیلت وخصوصیت یہ ہے کہ اس کی جڑ جنت سے آئی ہے اس طرح اس میں سے جو خوشبو آتی ہے وہ گویا جنت کی خوشبو ہے پھر یہ کہ پھول کا تحفہ بہت سبکسار (یعنی بہت کم احسان رکھتا ہے) جیسا کہ گذشتہ صفحات میں اس کی وضاحت بیان کی جا چکی ہے۔ لہذا جب کسی کو خوشبو دار پھول دیا جائے تو اسے قبول کرنے سے انکار نہ کرنا چاہئے۔

3055Mishkaat-al-Masabih

اولاد میں سے کسی ایک کے ساتھ ترجیحی سلوک مناسب نہیں ہے

عن جابر قال : قالت امرأة بشير : أنحل ابني غلامك وأشهد لي رسول الله صلى الله عليه و سلم فأتى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : إن ابنة فلان سألتني إن أنحل ابنها غلامي وقالت : أشهد لي رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : أله إخوة ؟ قال : نعم قال : أفكلهم أعطيتهم مثل ما أعطيته ؟ قال : لا قال : فليس يصلح هذا وإني لا أشهد إلا على حق . رواه مسلم

حضرت جابر کہتے ہیں کہ (ایک صحابی) حضرت بشیر کی بیوی نے ان سے کہا کہ تم میرے بیٹے نعمان کو اپنا غلام ہبہ کردو اور اس پر میرے اطمینان کے لئے رسول اللہ ﷺ کو گواہ بنا لو چناچہ حضرت بشیر رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ فلاں کی بیٹی یعنی عمرہ بنت رواحہ نے جو میری بیوی ہے مجھ سے یہ خواہش کی ہے کہ میں اس کے بیٹے (نعمان) کو اپنا غلام ہبہ کر دوں نیز اس نے یہ بھی کہا ہے کہ اس بارے میں میرے اطمینان کے لئے رسول اللہ ﷺ کو گواہ بنا لوں! آپ ﷺ نے یہ سن کر فرمایا کہ کیا اس بیٹے کے اور بھائی بھی ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ہاں آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم نے ان سب کو اسی طرح ایک ایک غلام دیا ہے جس طرح اس بیٹے نعمان کو دیا ہے انہوں نے کہا کہ نہیں آپ ﷺ نے فرمایا یہ مناسب نہیں ہے اور میں صرف حق بات پر گواہ بنتا ہوں۔ (مسلم) تشریح حق سے مراد یا تو یہ ہے کہ میں صرف اسی معاملہ میں گواہ بنتا ہوں جو بلا شک و شبہ اور بلا کراہت خالص طور پر حق اور صحیح ہو یا پھر یہ کہ آپ ﷺ نے عمومی طور پر یہ فرمایا کہ میں حق پر گواہ بنتا ہوں باطل پر گواہ نہیں بنتا بہرکیف اس سلسلے میں تفصیلی بحث پہلی فصل کی حدیث نمبر ٤ کے ضمن میں گزر چکی ہے۔

3056Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ نئے پھل کا ہدیہ کس طرح قبول کرتے تھے

وعن أبي هريرة قال : رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا أتي بباكورة الفاكهة وضعها على عينيه وعلى شفتيه وقال : اللهم كما أريتنا أوله فأرنا آخره ثم يعطيها من يكون عنده من الصبيان . رواه البيهقي في الدعوات الكبير

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا ہے کہ رسول کریم ﷺ کو جب کوئی نیا پھل پیش کیا جاتا تو پہلے اس پھل کو قبول فرما کر اپنی آنکھوں اور ہونٹوں پر رکھتے پھر یہ فرماتے اے اللہ! جس طرح تو نے ہمیں اس پھل کی ابتداء دکھائی اسی طرح اس کی انتہاء بھی دکھا۔ اس کے بعد آپ ﷺ وہ پھل کسی اس بچے کو دیدیتے جو آپ ﷺ کے پاس ہوتا ( بیہقی) تشریح تازہ پھل کو اپنی آنکھوں پر رکھنے سے آپ ﷺ کا مقصد اللہ تعالیٰ کی ایک تازہ نعمت کی تعظیم ہوتا تھا انتہاء کا تعلق اگر دنیا سے ہے تو پھر یہ دعا درازی عمر کے لئے ہوگی اور اگر اس کا تعلق عقبی سے ہے تو اس سے اس طرف اشارہ ہوگا کہ آخرت کے آگے دنیا کی کیا حقیقت ہے بڑی نعمت تو آخرت کے نعمت ہے اس طرح اس دعا کا مطلب یہ ہوگا کہ اے اللہ جس طرح تو نے ہمیں اس دنیا کی نعمت عطا کی ہے اسی طرح آخرت کی نعمت بھی کہ حقیقی نعمت وہی ہے عطا فرما۔

3057Mishkaat-al-Masabih

لقطہ کے معنی اور اس کا مفہوم

لقطہ لام کے پیش اور قاف کے زیر کے ساتھ یعنی لقطہ بھی منقول ہے اور قاف کے جزم کے ساتھ یعنی لقطہ بھی لکھا اور پڑھا جاتا ہے۔ محدثین کے ہاں قاف کے زبر کے ساتھ یعنی لقطہ مشہور ہے۔ لقطہ اس چیز کو کہتے ہیں جو کہیں (مثلًا راستہ وغیرہ میں) گری پڑی پائی جائے اور اس کے مالک کا کوئی علم نہ ہو۔ اس بارے میں شرعی حکم یہ ہے کہ اگر کہیں کوئی گری پڑی چیز پائی جائے تو اسے (یعنی لقطہ کو) اٹھا لینا مستحب ہے بشرطیکہ اپنے نفس پر یہ اعتماد ہو کہ اس چیز کی تشہیر کرا کر اسے اس کے مالک کے حوالے کردیا جائے گا اگر اپنے نفس پر یہ اعماد نہ ہو تو پھر اسے وہیں چھوڑ دینا ہی بہتر ہے لیکن اگر یہ خوف ہو کہ اس چیز کو یوں ہی پڑا رہنے دیا گیا تو یہ ضائع ہوجائے گی تو اس صورت میں اسے اٹھا لینا واجب ہوگا اگر دیکھنے والا اسے نہ اٹھائے گا اور وہ چیز ضائع ہوجائے گی تو وہ گنہگار ہوگا یہ لقطہ کا اصولی حکم ہے اب اس کے چند تفصیلی مسائل ملاحظہ کیجئے۔ لقطہ اس شخص کے پاس بطور امانت رہتا ہے جس نے اسے اٹھایا ہے بشرطیکہ وہ اس پر کسی کو گواہ کرلے کہ میں اس چیز کو حفاظت سے رکھنے یا اس کے مالک کے پاس پہنچا دینے کے لئے اٹھاتا ہوں اس صورت میں وہ لقطہ اٹھانے والے کے پاس سے ضائع ہوجائے تو اس پر تاوان واجب نہیں ہوگا اور اگر اٹھانے والے نے کسی کو اس پر گواہ بنایا اور وہ لقطہ اس کے پاس سے تلف ہوگیا تو اس پر تاوان واجب ہوگا بشرطیکہ لقطہ کا مالک یہ انکار کر دے کہ اس نے وہ چیز مجھے دینے کے لئے نہیں اٹھائی تھی۔ لقطہ جہاں سے اٹھایا جائے اس جگہ بھی اور ان مقامات پر بھی کہ جہاں لوگوں کا اجتماع رہتا ہے اس کی تشہیر کی جائے (یعنی اٹھانے والا کہتا ہے) کہ یہ چیز کس کی ہے؟ اور یہ تشہیر اس وقت تک کی جانی چاہئے کہ جب تک کہ اٹھانے والے کو یقین نہ ہوجائے کہ اب اتنے دنوں کے بعد اس کا مالک مطالبہ نہیں کرے گا لیکن صاحبین یعنی حضرت امام ابویوسف اور حضرت امام محمد کے نزدیک مدت تشہیر ایک سال ہے یعنی ان کے نزدیک مسئلہ یہ ہے کہ لقطہ کی ایک سال تک تشہیر کی جانی چاہئے اور جو چیز زیادہ دن تک نہ ٹہر سکتی ہو اس کی تشہیر صرف اسی وقت تک کی جائے کہ اس کے خراب ہوجانے کا خوف نہ ہو۔ مدت تشہیر کے دوران اگر اس کا مالک آجائے تو اسے وہ چیز دے دی جائے ورنہ مدت تشہیر گزر جانے کے بعد اس چیز کو خیرات کردیا جائے اب اگر خیرات کرنے کے بعد مالک آئے تو چاہے وہ اس خیرات کو برقرار رکھے اور اس کے ثواب کا حق دار ہوجائے اور چاہے اس اٹھانے والے سے تاوان لے یا اس شخص سے اپنی چیز واپس لے لے جس کو وہ بطور خیرات دی گئی ہے اور اگر وہ چیز اس کے پاس موجود نہ ہو تو اس سے تاوان لے لے جیسا کہ بطور لقطہ ملے ہوئے جانور کا حکم ہے۔ جانوروں میں بھی لقطہ ہونا جائز ہے یعنی اگر کسی کو کوئی گم شدہ جانور کسی شخص کو مل جائے تو اسے پکڑ لینا اور اس کی تشہیر کر کے اس کے مالک تک پہنچا دینا جائز ہے۔ اس بارے میں یہ مسئلہ ہے کہ اگر مدت تشہیر کے دوران اس جانور کے کھلانے پلانے پر کچھ خرچ ہوا ہے تو وہ احسان شمار ہوگا یعنی اس کا مطالبہ مالک سے نہیں کیا جائے گا بشرطیکہ وہ خرچ حاکم کی اجازت کے بغیر کیا گیا ہو۔ اور اگر جانور پکڑنے والے نے اس شرط کے ساتھ کہ اس جانور پر جو کچھ خرچ ہوگا جانور کے مالک سے لے لوں گا۔ حاکم کی اجازت سے اس جانور پر کچھ خرچ کیا تو اس کی ادائیگی مالک پر بطور قرض واجب ہوگی کہ جب وہ مالک اپنا جانورحاصل کرے تو اس کے جانور کو پکڑنے والے نے اس پر کچھ خرچ کیا ہے وہ سب ادا کر دے اس صورت میں لقطہ رکھنے والے کو یہ حق حاصل ہوگا کہ جب تک مالک اسے سارے اخراجات ادا نہ کرے وہ لقطہ کو اپنے پاس روکے رکھے۔ اس سلسلہ میں حاکم وقاضی کے لئے بھی یہ ہدایت ہے کہ بطور لقطہ ملنے والی چیز اگر ایسی ہے جس سے منفعت حاصل ہوسکتی ہو جیسے بھاگا ہوا غلام تو اس سے محنت و مزدوری کرائی جائے اور وہ جو کچھ کمائے اسی سے اس کے اخراجات پورے کئے جائیں اور اگر لقطہ کسی ایسی چیز کی صورت میں ہو جس سے کوئی منفعت حاصل نہیں ہوسکتی اور اس کو رکھنے میں کچھ خرچ کرنا پڑتا ہو جیسے جانور تو قاضی اس کے اخراجات پپورے کرنے کی اجازت دیدے اور یہ طے کر دے کہ اس پر جو خرچ ہوگا وہ مالک سے وصول کرلیا جائے گا۔ بشرطیکہ اس میں مالک کے لئے بہتری ہو اور اگر قاضی یہ دیکھے کہ اس صورت میں مالک کو بجائے فائدہ کے نقصان ہوگا تو پھر اس چیز کو فروخت کرا دے اور اس کی قیمت کو رکھ چھوڑے تاکہ جب مالک آجائے تو اسے دیدی جائے۔ اگر کسی شخص کے پاس کوئی لقطہ ہو اور وہ اس کی علامات بتا کر اپنی ملکیت کا دعوی کرے تو وہ لقطہ اسے دیدینا جائز ہے اس صورت میں گواہوں کا ہونا ضروری نہیں ہوگا ہاں اگر وہ علامات نہ بتاسکے تو پھر گواہوں کے بغیر وہ لقطہ اسے نہیں دینا چاہئے اگر لقطہ پانے والا کوئی مفلس ہے تو مدت تشہیر ختم ہوجانے کے بعد وہ خود اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ اور اگر وہ خود مالدار ہے تو پھر اسے خیرات کر دے۔ اس بارے میں اسے یہ اجازت ہوگی کہ اگر وہ چاہے تو اپنے اصول یعنی ماں باپ اور اپنے فروع یعنی بیٹا بیٹی اور بیوی کو بطور خیرات وہ لقطہ دیدے بشرطیکہ یہ لوگ مفلس و ضرورت مند ہوں۔ بھاگے ہوئے غلام کو پکڑ لینا اس شخص کے لئے مستحب ہے جو اس کو پکڑنے کی طاقت رکھتا ہو اسی طرح اس غلام کو بھی اپنے پاس رکھ لینا مستحب ہے جو راستہ بھول جانے کی وجہ سے بھٹک رہا ہو۔ اگر کسی کا کوئی غلام بھاگ جائے اور تین دن کی مسافت یا اس سے زیادہ دور سے کوئی شخص اسے پکڑ کر اس کے مالک کے پاس پہنچا دے تو وہ لانے والا اس بات کا مستحق ہوگا کہ غلام کے مالک سے اپنی مزدوری کے طور پر چالیس درہم وصول کرے گا اگرچہ وہ غلام چالیس درہم سے کم ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن شرط یہ ہے کہ لانے والے نے اس بات پر کسی کو گواہ بنا لیا ہو کہ میں اس غلام کو اس لئے پکڑتا ہوں تاکہ اسے اس کے مالک کے پاس پہنچا دوں۔ اور اگر کوئی شخص بھاگے ہوئے غلام کو اس کے مالک کے پاس تین دن کی مسافت سے کم دوری سے لایا ہو تو اسی حساب سے اجرت دی جائے گی۔ مثلا ڈیڑھ دن کی مسافت کی دوری سے لایا ہے تو اسے بیس درہم دئیے جائیں گے اور اگر وہ غلام اس شخص سے بھی چھوٹ کر بھاگ گیا جو اسے پکڑ کر لایا تھا تو اس پر کوئی تاوان واجب نہیں ہوگا۔ بشرطیکہ اس نے کسی کو گواہ بنا لیا ہو اور اگر گواہ نہ بنایا ہوگا تو اس صورت میں نہ صرف یہ کہ اسے کوئی اجرت نہیں ملے گی بلکہ اس پر تاوان بھی واجب نہیں ہوگا۔

3058Mishkaat-al-Masabih

بے وارث بچے کو اٹھانے کا مسئلہ

لقیط (یعنی بےوارث بچہ) اگر کہیں پڑا ہوا ملے تو اسے اٹھا لینا مستحب ہے اور اگر اس کے ہلاک ہوجانے کا خوف ہو تو پھر اسے اٹھانا واجب ہوگا۔ ایسا بچہ جب تک مملوک غلام ہونا ثابت نہ ہو حر (یعنی آزاد ہے) لقیط کا نفقہ اور اس کا خون بہابیت المال کے ذمہ ہوگا۔ اسی طرح اس کی میراث بھی بیت المال کی تحویل میں رہے گی۔ جس شخص نے لقیط کو اٹھا لیا ہے اس سے کسی اور کو لینے کا اختیار نہیں ہوگا اگر کسی شخص نے یہ دعوی کیا کہ یہ میرا بچہ ہے تو قسم کے ساتھ اس کا قول معتبر ہوگا اور اس بچہ کا نسب اس سے ثابت ہوجائے گا۔ اور اگر دو آدمی ایک ساتھ اس کا دعوی کریں تو اس کو لینے کا زیادہ حقدار وہ شخص ہوگا جو اس بچہ کے بدن میں کوئی علامت بتائے اور دیکھنے میں وہ علامت موجود پائی جائے مثلا وہ یہ بتائے کہ اس کی پیٹھ پر مسہ ہے اور پھر جب دیکھا جائے تو اس کی پیٹھ پر مسہ موجود ہو۔ اگر کوئی غلام یہ دعوی کرے کہ یہ لقیط میرا لڑکا ہے تو اس کا دعوی صحیح تسلیم کیا جائے گا لیکن وہ بچہ مسلمان رہے گا بشرطیکہ وہ مسلمانوں کی آبادی یا مسلمانوں کے محلہ میں ملا ہو اور اگر وہ ذمیوں کی بستی میں یا ان کے محلہ میں یا ان کے گرجا و مندر میں ملا ہوگا تو اس صورت میں وہ ذمی رہے گا۔ اگر لقطی کے ساتھ بندھا ہوا کچھ مال یا اس کے جسم پر کوئی زیور وغیرہ ملے تو اسے قاضی کے حکم کے بعد لقیط ہی پر خرچ کیا جائے گا اگرچہ بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ قاضی کے حکم و اجازت کے بغیر بھی اس کے مال کو اس پر خرچ کیا جاسکتا ہے۔ زیادہ صحیح قول کے مطابق اٹھانے والے کے لئے یہ تو جائز ہے کہ وہ اس لقیط کو کوئی پیشہ سیکھنے کے لئے کسی پیشہ ور کے سپرد کر دے مگر اس کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اس کا نکاح کر دے یا اس کے مال میں تصرف کرے اور یا اس سے محنت و مزدوری کرائے۔

3059Mishkaat-al-Masabih

لقطہ کے کچھ متفرق مسائل

مسئلہ فرض کیجئے ایک شخص نے کسی جگہ اپنے جوتے اتار کر رکھے، ایک دوسرا شخص آیا اور اس نے بھی اپنے جوتے اتار کر وہیں رکھ دئیے۔ اب پہلا شخص جب وہاں سے چلا تو اپنے جوتے پہننے کی بجائے اس دوسرے شخص کے جوتے پہن لئے اور چلا گیا تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس صورت میں وہ دوسرا شخص کیا کرے کیا اس کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ پہلے شخص کے جوتے لے لے؟ اس بارے میں مختار مسئلہ یہ ہے کہ یہ جائز نہیں ہے بشرطیکہ اس پہلے شخص کے جوتے کی مانند ہوں یا اس کے جوتے سے بہتر ہوں ہاں اگر وہ جوتے اس کے جوتے سے خراب ہوں تو پھر ان کو استعمال کرنا بلاشبہ جائز ہوگا۔ مسئلہ جو شخص کسی دوسرے کی گری پڑی چیز پاتا ہے اس کی دو قسمیں ہوتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ وہ چیز اتنی کمتر ہوتی ہے کہ جس کے بارے میں پانے والا یہ جانتا ہے کا اس کا مالک اس کا مطالبہ نہیں کرے گا جیسے ادھر ادھر پڑی ہوئی گٹھلیاں وغیرہ یا متفرق جگہوں پر پڑے ہوئے انار کے چھلکے وغیرہ ایسی چیز کے بارے میں مسئلہ یہ ہے کہ اٹھانے والا اس کو اپنے استعمال میں لاسکتا ہے باوجودیکہ وہ اس کی ملکیت میں نہیں آتی اور اسے مالک کو لینے کا حق پہنچتا ہے لیکن شیخ السلام کا قول یہ ہے کہ ایسی چیز لینے والے کی ملکیت میں آجاتی ہے۔ گری پڑی ملنے والی چیز کی دوسری قسم ایسا مال ہے جس کے بارے میں پانیوالا جانتا ہے کہ اس کا مالک اس کا مطالبہ کرے گا جیسے سونا چاندی وغیرہ اور دیگر تمام اشیاء ایسی چیز کے بارے میں یہ حکم ہے کہ اگر اس قسم کی کوئی چیز گری پڑی نظر آئے تو اسے اٹھا کر اپنے پاس رکھ لیا جائے اور اس کی تشہیر کرائی جائے یہاں تک کہ وہ چیز اس کے مالک کے پاس پہنچا دی جائے۔ مسئلہ اگر کوئی شخص ایک روٹی یا ایک روٹی کے بقدر کھانے کی کوئی چیز اور یا اس سے کم پائے تو اسے فراخی کی حالت میں بھی کھا لینا جائز ہے۔ مسئلہ اگر کسی چکی میں گیہوں پسوایا جائے اور اس کے آٹے میں وہ آٹا مل جائے جو عام طور پر چکی میں باقی رہ جاتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے اسی طرح اگر کسی کی جھاڑو میں سے کوئی تنکا دانتوں میں خلال کرنے کے لئے لیا جائے تو اس میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ہے مسئلہ سرائے میں مسافروں کے جو جانور لیدر وغیرہ کرتے ہیں وہ ان جانوروں کے مالک کے چلے جانے کے بعد اس شخص کی ملکیت ہوجاتے ہیں جو انہیں پہلے اٹھائے سرائے کے مالک یا منتظم کی ملکیت میں نہیں آتے۔

3060Mishkaat-al-Masabih

کوئی شخص گری پڑی چیز پائے تو وہ کیا ہے؟

عن زيد بن خالد قال : جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فسأله عن اللقطة فقال : اعرف عفاصها ووكاءها ثم عرفها سنة فإن جاء صاحبها وإلا فشأنك بها . قال : فضالة الغنم ؟ قال : هي لك أو لأخيك أو للذئب قال : فضالة الإبل ؟ قال : مالك ولها ؟ معها سقاؤها وحذاؤها ترد الماء وتأكل الشجر حتى يلقاها ربها . متفق عليه . وفي رواية لمسلم : فقال : عرفها سنة ثم اعرف وكاءها وعفاصها ثم استنفق بها فإن جاء ربها فأدها إليه

حضرت زید بن خالد کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے آپ ﷺ سے لقطہ کے بارے میں پوچھا (کہ اگر کوئی گری پڑی چیز پائی جائے تو کیا کیا جائے) آپ ﷺ نے فرمایا کہ پہلے تو اس کا ظرف پہچان لو یعنی اگر وہ چیز کسی کپڑے یا چمڑے کے تھیلے وغیرہ میں ہے تو اسے شناخت میں رکھو) اور اس کا سر بند بھی پہچانے رہو پھر ایک سال تک اس کی تشہیر کرو ایک سال کی مدت میں اگر اس کا مالک آجائے تو وہ چیز اس کے حوالہ کردو اور اگر وہ نہ آئے تو پھر اسے اپنے استعمال میں لے آؤ۔ پھر اس شخص نے گمشدہ بکری کے بارے میں پوچھا کہ اگر کسی کی گم شدہ بکری کوئی شخص پکڑ لائے تو اس کا کیا کرے) آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ تمہاری ہے یا تمہارے بھائی کی ہے اور یا بھیڑئیے کی ہے اس کے بعد اس شخص نے پوچھا کہ گمشدہ اونٹ کے بارے میں کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا تمہیں اس سے کیا مطلب ہے ( یعنی اسے نہ پکڑو کیونکہ وہ ضائع ہونیوالی چیز نہیں ہے اس لئے اس کو پکڑ کر لانے کی ضرورت نہیں) اس کی مشک اور اس کے موزے اس کے ساتھ ہیں کہ وہ جب تک اپنے مالک کے پاس نہ پہنچے پانی تک جاسکتا ہے اور درخت کے پتے کھا سکتا ہے۔ (بخاری ومسلم) اور مسلم کی ایک روایت میں یوں ہے کہ جب اس شخص نے لقطہ کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ایک سال تک اس کی تشہیر کرو اور اس کا سر بند اور ظرف تھیلا وغیرہ پہچانے رکھو (اس مدت تشہیر میں اگر اس کا مالک نہ آئے) تو پھر اسے اپنے استعمال میں لے آؤ اور اگر اس کے بعد اس کا مالک آجائے تو اس کی وہ چیز بشرطیکہ تمہارے پاس جوں کی توں موجود ہو) دیدو اور نہ اس کی قیمت ادا کردو۔ تشریح ابن مالک کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے اس چیز کا ظرف اور سربند پہچان لینے کا حکم اس لئے دیا تاکہ جو شخص اس چیز کی ملکیت کا دعوی کرے اس پہچان کی وجہ سے اس کا سچا یا جھوٹا ہونا معلوم ہوجائے۔ لیکن اس بارے میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں کہ اگر کوئی شخص لقطہ اٹھانے والے کے پاس آئے اور اپنا ظرف اور اس کا سربند پہچان کر اس لقطہ کے مالک ہونے کا دعوی کرے تو وہ لقطہ اسے دے دینا واجب ہے یا نہیں؟ چناچہ امام مالک اور امام احمد تو یہ کہتے ہیں کہ اس صورت میں وہ لقطہ اسے کسی گواہی کے بغیر ہی دے دینا واجب ہے کیونکہ ظرف اور اس کے سربند کی پہچان رکھنے کا یہی مقصد ہے لیکن امام شافعی اور حنفیہ یہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص لقطہ کا ظرف اور اس کا سربند پہچان لے اور اس لقطہ کا وزن یا عدد بتادے نیز لقطہ اٹھانے والے کے دل میں یہ بات بیٹھ جائے کہ یہ شخص سچا ہے تب وہ لقطہ اس شخص کو دے دینا جائز تو ہے لیکن وہ شخص گواہوں کے بغیر لقطہ اٹھانے والے کو دینے پر مجبور نہیں کرسکتا۔ اس صورت میں کہا جائے گا کہ ظرف اور سربند کی پہچان رکھنے کا فائدہ یہ ہوگا کہ اس کی وجہ سے وہ لقطہ اٹھانے والے کے مال میں اس طرح خلط ملط نہیں ہوجائے گا کہ جب لقطہ کا مالک آئے تو وہ اپنے مال و اسباب اور اس لقطہ کے درمیان امتیاز نہ کرسکے۔ ثم عرفہا (پھر اس کی تشہیر کرو) کا مطلب یہ ہے کہ جس جگہ وہ لقطہ پایا گیا ہے نہ صرف وہاں بلکہ بازاروں اور مسجدوں میں اور فلاں کے پاس پہنچ کر اس چیز کی تفصیل و علامات بیان کر کے لے جائے۔ مدت تشہیر کے بارے میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں۔ حضرت امام شافعی حضرت امام مالک حضرت امام احمد اور حنفیہ میں سے حضرت امام محمد تو حدیث کے ظاہری مفہوم پر عمل کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس کے لئے ایک سال کی مدت متعین ہے یعنی لقطہ کی ایک سال تک تشہیر کرانی چاہئے، لیکن صحیح تر روایت کے مطابق حضرت امام ابوحنیفہ اور حضرت امام ابویوسف کا قول یہ ہے کہ مدت متعین کی کوئی قید نہیں ہے بلکہ حدیث میں ایک سال کا ذکر باعتبار غالب کے بر سبیل اتفاق ہے۔ لیکن پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حدیث میں ایک سال کی مدت اگر اتفاقی طور پر ذکر کی گئی ہے۔ اور متعین طور پر مذکور نہیں ہے تو پھر تشہیر کی کیا مدت متعین کی جائے؟ اس کی وضاحت ہدایہ نے امام ابوحنیفہ کی ایک روایت کے مطابق یوں کی ہے کہ اگر لقطہ دس درہم سے کم قیمت کا ہو تو اس کی تشہیر چند دن تک کرنا کافی ہے اگر دس درہم کی مالیت کا ہو تو ایک مہینہ تک تشہیر کی جائے اور وہ سو درہم کی مالیت کا ہو پھر ایک سال تک تشہیر کی جائے۔ بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ مالیت کی مذکورہ بالا مقدار کی جو مختلف مدتیں بیان کی گئی ہیں ان میں سے لازم کوئی بھی نہیں ہے۔ بلکہ یہ لقطہ اٹھانے والے کی رائے پر موقوف ہے کہ کہ وہ لقطہ کیا اس وقت کی تشہیر کرے جب تک کہ اسے یہ غالب گمان نہ ہوجائے کہ اب کوئی نہیں آئگا اور اس مدت کے بعد اس لقطہ کو طلب نہیں کرے گا۔ ان علماء کی دلیل مسلم کی وہ روایت ہے کہ جس میں لفظ سنۃ ایک سال کی قید کے بغیر صرف عرفہا اس کی تشہیر کی جائے) منقول ہے۔ لقطہ اگر کسی چیز کی صورت میں ہو جو زیادہ دنوں تک نہ ٹہہر سکتی ہو اور موسمی حالات کے تغیر و تبدل سے متاثر ہوتی ہو جیسے کھانے کی کوئی چیز یا پھل وغیرہ تو اس کے بارے میں یہ حکم ہے کہ اس تشہیر اسی وقت تک کی جائے جب تک کہ وہ خراب نہ ہو اور اگر لقطہ کوئی بہت ہی حقیر و کمتر چیز ہو جیسے گٹھلی اور انار کا چھلکا وغیرہ تو اس کا حکم یہ ہے کہ اس کی تشہیر کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ بلکہ اسے بغیر تشہیر و اعلان استعمال کرلینے کی اجازت ہے مگر اس کے مالک کو یہ حق حاصل ہوگا کہ اگر وہ چاہے تو اپنی اس چیز کا مطالبہ کرے۔ (فان جاء صاحبہا والا فشانک بہا) کا مطلب یہ ہے کہ لقطہ کی تشہیر کے بعد اگر اس کا مالک آجائے تو اسے وہ لقطہ دیدیا جائے اگر اس مالک کے ساتھ گواہ بھی ہوں جو اس کے دعوی کی ملکیت کی گواہی دیں تو لقطہ اٹھانے والے پر یہ واجب ہوگا کہ وہ اسے لقطہ دیدے اور اگر گواہ نہ ہوں گے تو پھر دے دینا واجب نہیں جائز ہوگا جیسا کہ اوپر اس کی وضاحت کی گئی۔ اور اگر مدت تشہیر گزر جانے کے بعد اس لقطہ کا مالک نہ آئے تو پھر لقطہ اٹھانے والا اس لقطہ کو اپنے استعمال میں لے آئے۔ اس سے گویا یہ معلوم ہوا کہ لقطہ اٹھانے والا اصل مالک کے نہ آنے کی صورت میں اس لقطہ کا خود مالک بن جاتا ہے خواہ وہ مالدار ہو یا مفلس ہو چناچہ اکثر صحابہ اور حضرت امام شافعی کا یہی مسلک ہے لیکن بعض صحابہ کا قول یہ ہے کہ اگر لقطہ اٹھانے والا خود مالدار ہو تو وہ اس لقطہ کا مالک نہیں بنتا بلکہ اسے چاہئے کہ وہ اس لقطہ کو فقراء و مساکین کو بطور صدقہ دیدے چناچہ حضرت ابن عباس سفیان ثوری ابن المبارک اور حنفیہ کا یہی قول ہے نیز اس بارے میں یہ بھی حکم ہے کہ اگر صدقہ کردینے کے بعد مالک آئے تو اسے یہ اختیار ہوگا کہ چاہے تو وہ اس صدقہ کو برقرار رکھے اور اس کے ثواب کا حصہ دار بن جائے اور چاہے تو لقطہ اٹھانے والے یا اس مفلس سے کہ جس کو وہ لقطہ بطور صدقہ دے دیا گیا تھا تاوان لے لے بشرطیکہ وہ چیز ہلاک وضائع ہوگئی ہو۔ لیکن ان دونوں میں سے جو بھی تاوان دے گا وہ دوسرے سے کوئی مطالبہ نہیں کرسکتا یعنی اگر لقطہ اٹھانے والے نے تاوان دیا تو اسے مفلس سے کوئی مطالبہ کرنے کا حق نہیں ہوگا اور اگر مفلس سے تاوان لیا تو وہ لقطہ اٹھانے والے سے کوئی مطالبہ نہیں کرسکتا ہاں اگر وہ لقطہ ہلاک وضائع نہ ہوا ہو بلکہ جوں کا توں موجود ہو تو وہی لے لے گویا اس کا مطلب یہ ہوا کہ مالک کو تاوان لینے کا حق اسی صورت میں پہنچے گا جب کہ وہ لقطہ ہلاک وضائع ہوگیا ہو اور اگر وہ ہلاک وضائع نہ ہوا ہو تو پھر وہی لینا ہوگا۔ شرح وقایہ کے بعض حاشیوں میں نہایہ کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ تشہیر کے بعد لقطہ کو صدقہ کردینا جائز ہے لیکن اسے رکھ چھوڑنا عزیمت ہے۔ ہی لک (وہ تمہاری ہے) کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی بکری بطور لقطہ تم نے پکڑی اور پھر تم نے اس کی تشہیر کی جس کے نتیجہ میں اس کا مالک آگیا تو وہ تم سے لے لے گا لیکن اگر تشہیر کے بعد مالک نہ آیا تو پھر وہ بکری تمہاری ہوجائے گی تم اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہو اسی طرح (ولاخیک الا) الخ یا تمہارے بھائی کی ہے الخ کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم نے وہ بکری پکڑی لی اور اس کا مالک آگیا تو وہ اسے لے لے گا اور اگر تم نے نہ پکڑی اور مالک کے ہاتھ لگ گئی تب بھی وہ لے لے گا یا پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم نے وہ بکری نہ پکڑی تو تمہارے بجائے کوئی اور تمہارا مسلمان بھائی اسے پکڑ لے گا اور اگر ان میں سے کوئی بھی صورت نہ ہوئی تو پھر بھیڑیا اس بکری کو پکڑ لے گا گویا اس ارشاد کا مقصد اس بات سے آگاہ کرنا ہے کہ اگر کوئی بکری بطور لقطہ ملے تو اسے پکڑ لینا اور مالک کے نہ آنے کی صورت میں اس سے فائدہ اٹھانا جائز ہے تاکہ وہ بکری یوں ہی ضائع نہ ہو اور بھیڑیا وغیرہ اسے نہ کھالے۔ یہی حکم ہر اس جانور کے بارے میں ہے جو اپنے نگہبان یعنی چرانے والے کی عدم موجودگی میں بھیڑئیے کی گرفت میں جانے سے محفوظ نہ رہ سکتا ہو۔ اونٹ کی مشک سے مراد اس کا پیٹ ہے یعنی اونٹ کا پیٹ مشک کی طرح ہوتا ہے جس میں اتنی رطوبت رہتی ہے جو اس کو بہت دنوں تک بغیر پانی کے رکھ سکتی ہے چناچہ اونٹ کئی روز تک پیاس کو برداشت کرلیتا ہے جب کہ دوسرے جانوروں میں یہ چیز نہیں ہوتی۔ اس بارے میں مشہور ہے کہ اونٹ پندرہ روز تک اپنی پیاس برداشت کرلیتا ہے۔ اونٹ کے موزے، سے مراد اس کے مضبوط و قوی تلوے ہیں کہ وہ راہ چلنے اور پانی گھاس تک پہنچنے اور درندوں سے اپنے آپ کو بچانے کی خوب طاقت رکھتا ہے۔ گویا اس ارشاد گرامی میں مشک اور موزے کے ذریعہ اونٹ کو اس مسافر سے تشبیہ دی گئی ہے جو اپنے ساتھ سامان سفر رکھتا ہے جس کی موجودگی میں اسے کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔ علماء نے لکھا ہے کہ اس معاملہ میں ہر جانور اونٹ کے حکم میں ہے جو اپنے نگہبان یعنی چرواہے کی عدم موجودگی میں بھیڑئیے وغیرہ کے چنگل میں پھنس کر ضائع و ہلاک نہیں ہوتا جیسے گھوڑا گائے اور گدھا وغیرہ حضرت امام شافعی اور حضرت امام مالک نے اس حدیث سے یہ بھی استدلال کیا ہے کہ جنگل میں اونٹ اور گائے وغیرہ بطور لقطہ نہیں پکڑے جاسکتے کیونکہ وہاں ان کے ضائع ہوجانے کا کوئی خدشہ نہیں ہوتا۔ البتہ دیہات اور شہروں میں اگر یہ جانور ملیں تو انہیں بطور لقطہ نہیں پکڑے جاسکتے کیونکہ وہاں ان کے ضائع ہوجانے کا کوئی خدشہ نہیں ہوتا البتہ دیہات اور شہروں میں اگر یہ جانور ملیں تو انہیں بطور لقطہ پکڑنا جائز ہے۔ حنفیہ کے ہاں تمام جانوروں کا التقاط اور تعریف یعنی انہیں بطور لقطہ پکڑنا اور اس کی تشہیر کرنا) لوگوں کے مال کی حفاظت کے پیش نظر ہر جگہ مستحب ہے خواہ جنگل ہو یا آبادی حضرت زید کی اس روایت کے بارے میں حنفیہ یہ کہتے ہیں کہ اس میں مذکورہ حکم کہ اونٹ کو پکڑنے کی ضرورت نہیں ہے اس زمانہ میں تھا جب کہ امانتدار اور خیر و بھلائی کے حامل لوگوں ہی غلبہ تھا جس کی وجہ سے اگر کسی کا جانور کوئی نہ پکڑتا تھا تو کسی خائن کا ہاتھ ان تک نہیں پہنچتا تھا لیکن اب اس زمانہ میں یہ بات مفقود ہے اور امانت ودیانت کے حامل لوگ بہت ہی کم ہیں اس لئے مخلوق اللہ کے مال کی حفاظت کا تقاضا یہی ہے کہ جو جانور جہاں مل جائے اسے بطور لقطہ پکڑ لایا جائے اور اس مالک تک پہنچانے کی کوشش کی جائے۔