وعن جابر قال : نحرنا مع رسول الله عام الحديبية البدنة عن سبعة والبقرة عن سبعة . رواه مسلم
حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے حدیبیہ کے سال رسول کریم ﷺ کے ہمراہ سات آدمیوں کی طرف سے اونٹ ذبح کیا اور سات آدمیوں کی طرف سے گائے ذبح کی۔ (مسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ ہم نے شرکت میں جانور ذبح کئے اس طرح کہ اونٹ اور گائے میں سات سات آدمی شریک تھے۔ چناچہ یہ حدیث حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور اکثر علماء کے اس مسلک کی دلیل ہے کہ اونٹ اور گائے میں سات آدمیوں کا شریک ہونا جائز ہے جب کہ ان ساتوں کو قربت یعنی ثواب مقصود ہو، قربت خواہ ایک طرح کی ہو۔ جیسے کہ اگر ایک شخص ہدی کی نیت رکھتا ہے تو دوسرے بھی ہدی ہی کی نیت رکھیں یا قربت مختلف ہو جیسے کہ بعض تو ہدی کے ارادہ و نیت سے شریک ہوں اور بعض قربانی کی نیت سے اور حضرت امام شافعی کے نزدیک اس صورت میں بھی ایک اونٹ یا گائے میں سات آدمیوں کی شکست جائز ہے جب کہ بعض تو مثلاً ہدی یا قربانی کی نیت سے شریک ہوں اور بعض محض گوشت کے لئے! حضرت امام مالک کا مسلک یہ ہے کہ واجب قربانی یا ہدی میں کسی بھی جانور میں مطلق طور پر شرکت درست نہیں ہے۔ بکر و بھیڑ میں شرکت متفقہ طور پر تمام علماء کے نزدیک جائز نہیں ہے۔
وعن ابن عمر : أنه أتى على رجل قد أناخ بدنته ينحرها قال : ابعثها قياما مقيدة سنة محمد صلى الله عليه و سلم
حضرت ابن عمر ؓ کے بارے میں منقول ہے کہ وہ ایک ایسے شخص کے پاس پہنچے جو اپنے اونٹ کو بٹھا کر نحر کر رہا تھا، انہوں نے اس سے فرمایا کہ اس اونٹ کو کھڑا کردو اور اس کا بایاں پاؤں باندھو اور اس طرح اونٹ کو نحر کر کے رسول کریم ﷺ کے طریقہ کو اختیار کرو۔ (بخاری و مسلم)
تشریح
اونٹ کے سینہ میں برچھی مارنے کو نحر کہتے ہیں اور گائے وغیرہ کا گلا چھری سے کاٹنا ذبح کہلاتا ہے لہٰذا اونٹ کو تو نحر کرنا افضل ہے اور گائے بیل، بھینس، بھیڑ اور بکری کو ذبح کرنا افضل ہے۔ نحر کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اونٹ کو کھڑا کر کے نحر کرنا افضل ہے اور اگر کھڑا نہ کیا جاسکے تو پھر بٹھا کر نحر کرنا لٹا کر نحر کرنے سے افضل ہے۔ جو جانور ذبح کئے جاتے ہیں ان کو بائیں پہلو پر لٹا کر ذبح کرنا چاہئے۔ قرآن کریم سے بھی یہی ثابت ہے کہ اونٹ کو نحر کیا جائے۔ چناچہ فرمایا گیا ہے۔ آیت (فصل لربک وانحر) الکوثر)۔ اللہ تعالیٰ کے واسطے نماز پڑھو اور نحر کرو۔ اس آیت کی تفسیر میں اونٹ کو نحر کرنا لکھا گیا ہے۔ ذبح کرنے کے بارے میں یہ آیت کریمہ ہے۔ (اَنْ تَذْبَحُوْا بَقَرَةً ) 2۔ البقرۃ 67)۔ یہ کہ گائے کو ذبح کرو۔
ہدی کے بارے میں کچھ ہدایات
وعن علي رضي الله عنه قال : أمرني رسول الله صلى الله عليه و سلم أن أقوم على بدنه وأن أتصدق بلحمها وجلودها وأجلتها وأن لا أعطي الجزار منها قال : نحن نعطيه من عندنا
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے مجھے ہدایت فرمائی کہ میں آپ ﷺ کے اونٹوں کی خبر گیری کروں، ان کے گوشت کو خیرات کر دوں اور ان کی کھالیں اور جھولیں بھی صدقہ کر دوں اور یہ کہ قصائی کو ان میں سے کوئی چیز (بطور مزدوری) نہ دوں، نیز آپ ﷺ نے فرمایا کہ (مزدوری) ہم اپنے پاس سے دیں گے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
اونٹوں سے مراد وہ اونٹ ہیں جو آنحضرت ﷺ حجۃ الوداع میں بطور ہدی مکہ مکرمہ لے گئے تھے اور جن کی تعداد سو تھی، اس کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔ ہدی کے جانور کی کھال، جھول اور مہار وغیرہ بھی خیرات کر دینی چاہئے، ان چیزوں کو قصائی کو مزدوری میں نہ دینا چاہئے ہاں اگر قصائی کو احساناً دیا جائے تو پھر کوئی مضائقہ نہیں۔ چاہے تو کھال ہی کسی کو صدقہ و خیرات کردی جائے اور اگر اس کو فروخت کر کے جو قیمت ملے وہ صدقہ کردی جائے تو یہ بھی جائز ہے۔ ہدی کا دودھ نہ نکالنا چاہئے بلکہ اس کے تھنوں پر ٹھنڈا پانی چھڑک دیا جائے تاکہ اس کا دودھ اترنا موقوف ہوجائے اور اگر دودھ نہ نکالنے سے جانور کو تکلیف ہو تو پھر دودھ نکال لیا جائے اور اسے خیرات کردیا جائے۔
کس ہدی کا گوشت مالک کو کھانا جائز ہے
وعن جابر قال : كنا لا نأكل من لحوم بدننا فوق ثلاث فرخص لنا رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : كلوا وتزودوا . فأكلنا وتزودنا
حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ پہلے ہم اپنی قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ نہیں کھاتے تھے، پھر رسول کریم ﷺ نے ہمیں اجازت دی اور فرمایا کہ کھاؤ اور اسے توشہ بناؤ، (یعنی تین دن کے بعد بھی) چناچہ ہم نے کھایا اور توشہ بنایا۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
ابتداء اسلام میں لوگوں کو گوشت کی زیادہ ضرورت تھی اور ایسے لوگوں کی تعداد زیادہ ہوتی تھی جو خود قربانی نہیں کرسکتے تھے اس لئے آپ ﷺ نے حکم دیا تھا کہ قربانی کا گوشت تین دن کے بعد جمع کر کے نہ رکھ بلکہ دوسرے لوگوں کو کھانے کے لئے صدقہ کردیا کرو، پھر بعد میں جب گوشت کی زیادہ ضرورت نہ رہی اور سب ہی لوگوں کو قربانی کی کی استطاعت حاصل ہوگئی تو آپ ﷺ نے اجازت دے دی کہ قربانی کا گوشت تین دن کے بعد بھی جمع کر کے رکھا جاسکتا ہے۔ شمنی (رح) فرماتے ہیں کہ مالک کو نفل تمتع اور قران کی ہدی اور قربانی کا گوشت کھانا جائز ہے، ان کے علاوہ دوسرے قسم کی ہدی کا گوشت درست نہیں کیونکہ وہ کفارہ اور جنایت کی ہوگی۔
دشمنان اللہ کو رنج پہنچانا مستحب ہے
عن ابن عباس : أن النبي صلى الله عليه و سلم أهدى عام الحديبية في هدايا رسول الله صلى الله عليه و سلم جملا كان لأبي جهل في رأسه برة من فضة وفي رواية من ذهب يغيظ بذلك المشركين . رواه أبو داود
حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ حدیبیہ کے سال اپنے ہدی کے جانوروں میں ابوجہل کا اونٹ بھی لے گئے تھے جس کی ناک میں چاندی کی نتھنی تھی۔ ایک روایت میں ہے کہ وہ سونے کی تھی اور اس سے مقصد مشرکین کو غیظ دلانا تھا۔ (ابوداؤد)
تشریح
آنحضرت ﷺ چھ ہجری میں عمرے کے لئے مدینہ سے روانہ ہوئے مگر مشرکین مکہ نے آپ ﷺ کو اور آپ ﷺ کے رفقاء کو حدیبیہ کے مقام پر روک دیا اور مکہ نہیں جانے دیا، یہ بہت مشہور واقعہ ہے، اسی سفر میں آنحضرت ﷺ جو اونٹ بطور ہدی ذبح کرنے کے لئے لے گئے تھے ان میں ایک اونٹ ابوجہل کا بھی تھا جو غزوہ بدر میں بطور غنیمت ہاتھ لگا تھا۔ اس اونٹ کو آپ ﷺ اپنے ہمراہ اس لئے لے گئے تھے تاکہ مشرکین مکہ اس اونٹ کو دیکھ کر کڑھیں اور جلیں کہ یہ اونٹ مسلمانوں کے ہاتھ پڑا اور ذبح کیا گیا، اس سے معلوم ہوا کہ دشمنان اللہ کو رنج پہنچانا اور انہیں جلانا مستحب ہے۔
وعن ناجية الخزاعي قال : قلت : يا رسول الله كيف أصنع بما عطب من البدن ؟ قال : انحرها ثم اغمس نعلها في دمها ثم خل بين الناس وبينها فيأكلونها . رواه مالك والترمذي وابن ماجهورواه أبو داود والدارمي عن ناجية الأسلمي
حضرت ناجیہ خزاعی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہدی کے جانوروں میں سے جو جانور کسی بھی وجہ سے قریب المرگ ہوں تو میں اس کا کیا کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا اس جانور کو ذبح کر ڈالو پھر اس کی جوتی کو اس کے گلے میں بطور ہارپڑی ہو اس کے خون میں رنگ دو اور اس کے ذریعہ اس کی گردن پر نشان لگا دوں اس کے بعد اس جانور کو لوگوں کے درمیان چھوڑ دو (یعنی اس کا گوشت کھانے سے فقراء کو منع نہ کرو) تاکہ وہ اسے کھائیں۔ (مالک، ترمذی، ابن ماجہ) ابوداؤد اور دارمی نے اس روایت کو حضرت ناجیہ اسلمی سے نقل کیا ہے۔
تشریح
تاکہ وہ اسے کھائیں کا مطلب یہ ہے کہ رفقاء قافلہ کے علاوہ خواہ وہ اغنیاء ہوں یا فقراء، دوسرے فقراء اس جانور کے گوشت کو اپنے استعمال میں لائیں۔ اس بارے میں پوری تفصیل پہلی فصل میں گزر چکی ہے۔ مذکورہ بالا حدیث کو مالک، ترمذی اور ابن ماجہ نے حضرت ناجیہ خزاعی سے نقل کیا ہے اور ابوداؤد اور دارمی نے حضرت ناجیہ اسلمی سے۔ اس طرح بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس حدیث کے دو راوی ہیں ایک ناجیہ خزاعی اور دوسرے ناجیہ اسلمی۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ صحابہ میں ناجیہ نام کے صرف ایک ہی صحابی ہیں لہٰذا محدثین اس بارے میں لکھتے ہیں یہاں اختلاف صرف نسب کا ہے ذات ایک ہی ہے یعنی ناجیہ خزاعی اور ناجیہ اسلمی ایک ہی صحابی کا نام ہے۔ بات صرف اتنی ہے کہ بعض نے تو انہیں ناجیہ خزاعی کے نام سے ذکر کیا ہے اور بعض نے ناجیہ اسلمی کہا ہے کیونکہ خزاعی اور اسلمی یہ دونوں ان کے قبیلہ کے نام ہیں۔
وعن عبد الله بن قرط رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن أعظم الأيام عند الله يوم النحر ثم يوم القر . قال ثور : وهو اليوم الثاني . قال : وقرب لرسول الله صلى الله عليه و سلم بدنات خمس أو ست فطفقن يزدلفن إليه بأيتهن يبدأ قال : فلما وجبت جنوبها . قال فتكلم بكلمة خفية لم أفهمها فقلت : ما قال ؟ قال : من شاء اقتطع . رواه أبو داود وذكر حديثا ابن عباس وجابر في باب الأضحية
حضرت عبداللہ بن قرط ؓ کہتے ہی کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام دنوں میں بہت بڑا دن از روئے فضیلت قربانی کا دن (یعنی ذی الحجہ کی دسویں تاریخ) ہے اور پھر قربانی کا دن۔ حدیث کے راوی حضرت ثور ؓ کہتے ہیں کہ یہ (قر کا دن) دوسرا دن (یعنی ذی الحجہ کی گیارہویں تاریخ ہے) حضرت عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ (جب قربانی کے دن) آنحضرت ﷺ کے قریب وہ اونٹ لائے گئے جو پانچ یا چھ کی تعداد میں تھے تو اونٹوں نے (ایک دوسرے پر سبقت کر کے) آپ ﷺ کے نزدیک آنا شروع کیا تاکہ جسے چاہیں پہلے اسی کو ذبح کریں راوی کہتے ہیں کہ جب یہ جانور پہلو پر گرگئے (یعنی وہ ذبح کر دئیے گئے) تو آنحضرت ﷺ نے آہستہ سے کچھ فرمایا جسے میں نہ سمجھ سکا، چناچہ میں نے (اس شخص سے جو میرے پاس تھا) پوچھا کہ آپ ﷺ نے کیا فرمایا ہے؟ اس نے کہا کہ آپ ﷺ نے یہ فرمایا کہ جو شخص (ہدی کے) ان جانوروں میں سے (گوشت) کاٹ کرلے جائے۔ (ابوداؤد)
تشریح
علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ دنوں میں بہت بڑا دن قربانی کا دن ہے سے مراد یہ ہے کہ قربانی کا دن ان دنوں میں ایک دن ہے جو افضل اور بزرگ ترین دن ہیں۔ یہ مراد اس لئے لی گئی ہے کہ دوسری احادیث میں (ذی الحجہ کے) عشرہ کو تمام دنوں کے مقابلہ میں افضل کہا گیا ہے لہٰذا اس اعتبار سے کہ عشرہ ذی الحجہ افضل ہے ذی الحجہ کی دسویں تاریخ (جو قربانی کا دن ہے) بھی افضل ہے کیونکہ یہ دن بھی عشرہ ذی الحجہ میں شامل ہے۔ اب رہی یہ بات کہ جس طرح احادیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ تمام دنوں میں افضل ترین عشرہ ذی الحجہ ہے اسی طرح یہ بات بھی احادیث ہی سے ثابت ہے کہ رمضان کا آخری عشرہ افضل ترین ہے تو اس تضاد کو یوں رفع کیا جائے کہ ان احادیث کو کہ جن سے عشرہ ذی الحجہ کا افضل ہونا ثابت ہوتا ہے اشہر حرم کے ساتھ مقید کیا جائے یعنی یہ کہا جائے کہ اشہر حرم کے دنوں میں افضل ترین عشرہ ذی الحجہ ہے لہٰذا حاصل یہ نکلے گا کہ عشرہ ذی الحجہ حرام مہینوں سے افضل ہے اور عشرہ رمضان مطلق طور پر تمام دنوں میں افضل ہے۔ مذکورہ بالا تضاد کو دور کرنے کے لئے یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ فضیلت باعتبار حیثیت کے مختلف ہے یعنی چونکہ رمضان میں روزے رکھے جاتے ہیں، اس ماہ مقدس میں عبادت کا ثواب بہت زیادہ حاصل ہوتا ہے اور اس کے آخر عشرہ میں اعتکاف ہوتا ہے اس اعتبار سے تو رمضان کا آخری عشرہ افضل ہے اور چونکہ ذی الحجہ میں حج کے افعال ادا ہوتے ہیں اور قربانی کی جاتی ہے اس اعتبار سے یہ افضل ہے۔ قر کا دن سے بقر عید کے بعد کا دن یعنی ذی الحجہ کی گیارہویں تاریخ مراد ہے، اس دن کو قر کا دن اس لئے کہتے ہیں کہ ادائے مناسک کی محنت و مشقت برداشت کرنے کے بعد منیٰ میں اسی دن حاجیوں کو سکون وقرار ملتا ہے۔ اس موقع پر بھی یہ خلجان پیدا ہوسکتا ہے کہ حدیث صحیح میں تو عرفہ کے دن کو افضل کہا گیا ہے؟ تو اس کا جواب بھی یہی ہے کہ قر کا دن ان دنوں میں سے ایک دن ہے جو افضل ہیں۔ اونٹوں نے آپ ﷺ کے نزدیک آنا شروع کیا الخ کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جب ان اونٹوں کو ذبح کرنے کا ارادہ فرمایا اور وہ اونٹ آپ ﷺ کے پاس لائے گئے تو ہر اونٹ آنحضرت ﷺ کے دست مبارک کی برکت حاصل کرنے کے لئے اس بات کا منتظر تھا کہ پہلے مجھے ذبح کریں، اس مقصد کے لئے اونٹ ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے، یہ دراصل آپ ﷺ کا معجزہ تھا کہ جانوروں میں بھی حصول برکت وسعادت کا وہ جذبہ لطیف پیدا ہوگیا جو انسانوں ہی کا خاصہ ہوسکتا ہے۔ وذکر حدیث ابن عباس و جابر فی باب الاضحیۃ اور حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت جابر ؓ کی حدیثیں باب الاضحیۃ میں ذکر کی جا چکی ہیں۔
عن سلمة بن الأكوع قال : قال النبي صلى الله عليه و سلم من ضحى منكم فلا يصبحن بعد ثالثة وفي بيته منه شيء . فلما كان العام المقبل قالوا : يا رسول الله نفعل كما فعلنا العام الماضي ؟ قال : كلوا وأطعموا وادخروا فإن ذلك العام كان بالناس جهد فأردت أن تعينوا فيهم
حضرت سلمہ بن اکوع ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے جو شخص قربانی کرے تو تیسرے دن کے بعد اس حال میں صبح نہ ہو کہ اس کے گھر میں قربانی کا گوشت موجود ہو یعنی قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ نہ رکھے پھر جب دوسرا سال آیا تو بعض صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! کیا ہم اس سال بھی ایسا ہی کریں جیسا کہ پچھلے سال کیا تھا؟ (یعنی گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی قربانی کا گوشت تین دن کے بعد نہ رہنے دیں) آپ ﷺ نے فرمایا۔ کھاؤ، کھلاؤ اور جمع کر کے رکھو، دراصل پچھلے سال لوگ محنت و مشقت اور محتاجگی میں مبتلا تھے اس لئے میں نے جمع کرنے سے منع کر کے یہ چاہا تھا کہ تم لوگ ان ضرورت مندوں کی مدد کرو (اور اب چونکہ ایسی ضرورت و حاجت نہیں رہی ہے اس لئے اگر تم قربانی کا گوشت جمع رکھنا چاہتے ہو تو تمہیں اس کی اجازت ہے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
ایک سال مدینہ اور آس پاس کے علاقوں میں شدید قحط پڑا تھا، اس موقع پر باہر کے رہنے والے بڑی کثرت کے ساتھ مدینہ آگئے تھے جن سے سارا مدینہ بھر گیا تھا، اسی سال آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا کہ لوگوں کے پاس جتنا گوشت ہو تقسیم کردیں، جمع کر کے نہ رکھیں۔ پھر آئندہ سال جب تقسیم کی حاجت و ضرورت نہ رہی تو آپ ﷺ نے جمع رکھنے کی اجازت دے دی۔
وعن نبيشة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن كنا نهينا عن لحومها أن تأكلوها فوق ثلاث لكي تسعكم . جاء الله بالسعة فكلوا وادخروا وأتجروا . ألا وإن هذه الأيام أيام أكل وشرب وذكر الله . رواه أبو داود
حضرت نبیشہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ ہم تمہیں قربانی یا ہدی کے گوشت کے بارے میں اس بات سے منع کرتے تھے کہ تم اسے تین دن سے زیادہ کھاؤ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ وسعت ہو (یعنی تاکہ اس طرح تمہارے فقراء بھی اس گوشت سے فائدہ اٹھائیں) اب اللہ تعالیٰ نے وسعت بخش دی ہے اس لئے تم (جب تک جی چاہے) کھاؤ اور جمع رکھو نیز (اس گوشت کے صدقہ و خیرات کے ذریعہ) ثواب حاصل کرو اور یاد رکھو! یہ (چار) دن جو منیٰ میں گزارے جاتے ہیں کھانے پینے کے دن ہیں کہ ان ایام میں روزہ رکھنا حرام ہے اور اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کے دن ہیں۔ (ابوداؤد)
تشریح
حدیث کے آخری جملہ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس ارشاد کے مطابق یہ ایام ذکر اللہ میں بہت زیادہ مشغول رہنے کے ہیں۔ آیت (فاذا قضیتم مناسککم فاذکروا اللہ کذکرکم آباء کم او اشد ذکرا)۔ یعنی جب تم اپنے حج کے افعال کی ادائیگی سے فارغ ہو چکو تو اللہ تعالیٰ کو یاد کرو جیسا کہ تم اپنے باپوں کو یاد کرتے ہو یعنی بہت زیادہ یاد کرنا۔
دسویں ذی الحجہ کو جمرہ عقبہ پر کنکریاں مارنے کے بعد منیٰ ہی میں ہدی ذبح کی جاتی ہے اس کے بعد سر منڈا کر یا بال کتروا کر احرام کھول دیا جاتا ہے اس طرح رفث (عورت سے جماع وغیرہ) کے علاوہ ہر وہ چیز جو احرام کی حالت میں ممنوع تھی، جائز ہوجاتی ہے، چناچہ اس باب میں سر منڈوانے اور بال کتروانے دونوں چیزوں کا ذکر ہے، اگرچہ مؤلف مشکوۃ نے عنوان میں صرف سر منڈوانے کے ذکر پر اکتفاء کیا ہے کیونکہ احرام سے نکلنے کے لئے بال کتروانے کی بہ نسبت سر منڈانا افضل ہے، اس بارے میں تفصیل انشاء اللہ حسب موقع بیان ہوگی۔ یہ بات جان لیجئے کہ آنحضرت ﷺ کے بارے میں یہ کہیں ثابت نہیں ہے کہ آپ ﷺ نے حج وعمرہ کے علاوہ اور کبھی سر منڈایا ہو۔
عن ابن عمر : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم حلق رأسه في حجة الوداع وأناس من أصحابه وقصر بعضهم
حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے حجۃ الوداع میں اپنا سر منڈایا اور صحابہ میں سے کچھ نے تو اپنے سر منڈائے اور کچھ نے اپنے بال کتروائے۔ (بخاری و مسلم)
تشریح
جن صحابہ ؓ نے اپنے سر منڈائے انہوں نے تو آنحضرت ﷺ کی اتباع کے جذبے اور حصول فضیلت کو پیش نظر رکھا اور جن صحابہ ؓ نے بال کتروانے پر اکتفاء کیا (انہوں نے گویا جواز پر عمل کیا کہ بال کتروانا بھی جائز ہے)۔ صحیحین وغیر ہما میں یہ منقول ہے کہ آنحضرت ﷺ نے عمرۃ القضاء میں سر منڈانے کی بجائے بال کتروائے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ سے یہ دونوں چیزیں ثابت ہیں لیکن افضل سر منڈانا ہی ہے۔
وعن ابن عباس قال : قال لي معاوية : إني قصرت من رأس النبي صلى الله عليه و سلم عند المروة بمشقص
حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ حضرت معاویہ ؓ نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے سر کے بال مروہ کے قریب تیر کی پیکان سے کترے۔ (بخاری و مسلم)
تشریح
مشقص کے معنی ہیں تیر کی پیکان لیکن بعض حضرات کہتے ہیں کہ مشقص بڑی قینچی کو کہتے ہیں اور یہ معنی زیادہ مناسب اور زیادہ صحیح ہیں۔ احادیث سے چونکہ یہ بات ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اپنے حج میں سر کے بال کتروائے نہیں بلکہ منڈوائے تھے اس لئے حضرت معاویہ ؓ کے اس بیان کا تعلق حج سے نہیں بلکہ عمرے سے ہے، چناچہ حضرت معاویہ ؓ کے الفاظ عند المروۃ (مروہ کے قریب) بھی اس بات پر دلالت کرتے ہیں کیونکہ حضرت معاویہ ؓ اگر آپ ﷺ کے بال حج میں کترتے تو مروہ کے قریب نہ کہتے بلکہ یہ کہتے کہ میں نے آپ ﷺ کے سر کے بال منیٰ میں کترے۔
سر منڈانے والوں کے لئے آنحضرت ﷺ کی دعاء رحمت
وعن ابن عمر : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال في حجة الوداع : اللهم ارحم المحلقين . قالوا : والمقصرين يا رسول الله ؟ قال : اللهم ارحم المحلقين . قالوا : والمقصرين يا رسول الله ؟ قال : والمقصرين
حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے حجۃ الوداع میں فرمایا۔ اے اللہ! سر منڈانے والوں پر رحم فرما! صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! بال کتروانے والوں کے لئے دعاء رحمت کیجئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا۔ اے اللہ! سر منڈانے والوں پر رحم فرما۔ صحابہ نے جب پھر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! بال کتروانے والوں کے لئے بھی دعاء رحمت کیجئے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا (اے اللہ) اور بال کتروانے والوں پر بھی رحم فرما۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
اس بات سے سر منڈانے کی فضیلت ثابت ہوئی کہ آپ ﷺ نے سر منڈانے والوں کے لئے تو کئی بار دعاء رحمت کی اور بال کتروانے والوں کے لئے کئی بار کے بعد ایک ہی مرتبہ دعاء رحمت کی۔
سر منڈانے والوں کے لئے آنحضرت ﷺ کی دعاء رحمت
وعن يحيى بن الحصين عن جدته أنها سمعت النبي صلى الله عليه و سلم في حجة الوداع دعا للمحلقين ثلاثا وللمقصرين مرة واحدة . رواه مسلم
حضرت یحییٰ بن حصین (تابعی) اپنی دادی محترمہ سے (کہ جن کی کنیت ام الحصین ہے) نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے حجۃ الوداع میں نبی کریم ﷺ کو سر منڈانے والوں کے لئے تین مرتبہ اور بال کتروانے والوں کے لئے آخر میں ایک مرتبہ دعا کرتے سنا۔ (مسلم)
تشریح
اس حدیث سے پہلے بخاری و مسلم کی جو روایت نقل کی گئی ہے اس سے معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ نے سر منڈانے والوں کے لئے تو دو مرتبہ دعا کی اور تیسری مرتبہ میں بال کتروانے والوں کو بھی شامل فرمایا نیز بخاری و مسلم ہی کی ایک اور روایت میں یہ منقول ہے کہ آنحضرت ﷺ نے چوتھی مرتبہ میں بال کتروانے والوں کو شامل فرمایا جب کہ مسلم کی یہ روایت بتار ہی ہے کہ آپ ﷺ نے سر منڈانے والوں کے لئے تو تین مرتبہ دعا کی اور بال کتروانے والوں کے لئے ایک مرتبہ، اب چاہے تو ان کو تو تیسری ہی مرتبہ میں شامل کیا ہو، چاہے چوتھی مرتبہ ان کے لئے علیحدہ سے دعا کی۔ بہرکیف ان تمام روایتوں میں مطابقت پیدا کرنے کے لئے علماء لکھتے ہیں کہ آپ ﷺ نے یہ دعا کئی مجلسوں میں کی ہوگی، چناچہ کسی مجلس میں آپ ﷺ نے سر منڈانے والوں کے لئے دو مرتبہ اور تیسری مرتبہ میں بال کتروانے والوں کے لئے دعا کی اور کسی مجلس میں تین مرتبہ سر منڈانے والوں کے لئے اور چوتھی مرتبہ بال کتروانے والوں کے لئے دعا کی ہوگی، یا پھر یہ کہ جس راوی نے جو سنا اور اس پر جو حقیقت ظاہر ہوئی اس نے اسی کو ذکر کیا۔
سرمنڈانے میں دائیں طرف سے ابتداء کرنا سنت ہے
وعن أنس : أن النبي صلى الله عليه و سلم أتى منى فأتى الجمرة فرماها ثم أتى منزله بمنى ونحر نسكه ثم دعا بالحلاق وناول الحالق شقه الأيمن ثم دعا أبا طلحة الأنصاري فأعطاه إياه ثم ناول الشق الأيسر فقال احلق فحلقه فأعطاه طلحة فقال : اقسمه بين الناس
حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ منیٰ میں آنے کے بعد جمرہ عقبہ کے پاس تشریف لائے اور وہاں کنکریاں ماریں پھر منیٰ میں اپنی قیام گاہ پر تشریف لائے اور اپنی ہدی کے جانوروں کو ذبح کیا، اس کے بعد سر مونڈنے والے کو (جس کا نام معمر بن عبداللہ تھا) بلایا اور اپنے سر کا دایاں حصہ اس کے سامنے کیا، چناچہ اس نے آپ ﷺ نے سر (کے اس داہنے حصہ) کو مونڈا، پھر آپ ﷺ نے حضرت طلحہ انصاری ؓ کو بلایا اور ان کو اپنے وہ مونڈے ہوئے بال دئیے، اس کے بعد آپ ﷺ نے اپنے سر کا بایاں حصہ مونڈنے والے کی طرف کر کے فرمایا کہ اب اسے مونڈو، چناچہ اس نے مونڈ دیا، یہ بال بھی آپ ﷺ نے حضرت ابوطلحہ انصاری ؓ کو دے دئیے اور فرمایا کہ یہ بال لوگوں میں تقسیم کردو۔ (بخاری و مسلم)
تشریح
اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ سر منڈانے میں دائیں طرف سے ابتداء کرنا سنت ہے، نیز اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ دائیں طرف میں منڈوانے والے کا اعتبار ہے کہ وہ اپنے سر کو دائیں طرف سے منڈوانا شروع کرے، جب کہ بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ مونڈنے والے کی دائیں طرف کا اعتبار ہے یعنی مونڈنے والا اپنی دائیں طرف سے سر مونڈنا شروع کرے۔
قربانی کے دن خوشبو کا استعمال
وعن عائشة رضي الله عنها قالت : كنت أطيب رسول الله صلى الله عليه و سلم قبل أن يحرم ويوم النحر قبل أن يطوف بالبيت بطيب فيه مسك
حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں رسول کریم ﷺ کو احرام باندھنے سے پہلے خوشبو لگاتی تھی (احرام خواہ حج کا ہوتا خواہ عمرہ کا اور خواہ دونوں کا) اور میں نحر (قربانی) کے دن بھی خانہ کعبہ کے طواف سے پہلے (سر منڈانے اور کپڑے پہننے کے بعد) آپ ﷺ کے خوشبو لگاتی تھی اور خوشبو بھی وہ جس میں مشک ہوتا تھا۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
علماء لکھتے ہیں کہ جن مواقع پر حضرت عائشہ ؓ نے خوشبو لگانے کا ذکر کیا ہے یعنی احرام باندھنے سے پہلے اور نحر کے دن طواف خانہ کعبہ سے قبل، اگر ان اوقات میں خوشبو لگائی جائے تو مشک اور گلاب کی خوشبو لگانا سب سے بہتر اور اولیٰ ہے کیونکہ ان دونوں میں صرف خوشبو ہوتی ہے رنگ نہیں ہوتا۔ نحر (قربانی کے دن) یعنی دسویں ذی الحجہ کو سر منڈانے کے بعد حاجی احرام سے باہر ہوجاتے ہیں یعنی وہ چیزیں جو احرام کی وجہ سے ان پر حرام تھیں اس دن سب حلال ہوجاتی ہیں علاوہ رفث کے اور جب طواف زیارت سے فراغت ہوجاتی ہے تو رفث بھی حلال ہوجاتا ہے۔
نحر کے دن آنحضرت ﷺ نے ظہر کی نماز کہاں پڑھی۔
وعن ابن عمر : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أفاض يوم النحر ثم رجع فصلى الظهر بمنى . رواه مسلم
حضرت ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے نحر کے دن (رمی اور قربانی سے فارغ ہو کر) مکہ تشریف لائے اور چاشت کے وقت طواف فرض کیا پھر (اس روز) وہاں سے واپس ہوئے اور ظہر کی نماز منیٰ میں پڑھی۔ (مسلم)
تشریح
اس حدیث سے تو یہ معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ نے دسویں ذی الحجہ کو ظہر کی نماز منیٰ میں پڑھی جب کہ باب حجۃ الوداع میں حضرت جابر ؓ کی روایت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے اس دن ظہر کی نماز مکہ میں ادا فرمائی؟ چناچہ دونوں روایتوں کے اس ظاہری تضاد کو حضرت جابر ؓ کی روایت کی تشریح میں رفع کیا جا چکا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ظہر کی نماز تو مکہ ہی میں ادا کی تھی البتہ آپ ﷺ نے منیٰ میں نفل نماز پڑھی جس کو حضرت ابن عمر ؓ نے ظہر کی نماز گمان کیا۔
عورت کو صرف بال کتروانے چاہئیں
عن علي وعائشة رضي الله عنهما قالا : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم أن تحلق المرأة رأسها . رواه الترمذي
حضرت علی ؓ اور حضرت عائشہ ؓ دونوں راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عورت کو اپنا سر منڈاوانے سے منع فریایا ہے۔ (ترمذی)
تشریح
اس ارشاد گرامی کا مطلب یہ ہے کہ عورتیں جب احرام سے باہر آئیں تو سر منڈانا ان پر واجب نہیں ہے بلکہ ان کے لئے حرام ہے ہاں بال کتروانا ان پر واجب ہے، بخلاف مردوں کے کہ ان پر دونوں چیزوں میں سے کوئی ایک واجب ہے کہ چاہے تو سر منڈائیں چاہے صرف بال کتروالیں البتہ سر منڈانا افضل ہے۔
سرمنڈانے یا بال کتروانے کی مقدار
سر منڈانے یا بال کتروانے کی مقدار حنفیہ کے ہاں فقہی مسئلہ یہ ہے کہ سر منڈانے کے سلسلہ میں صرف چوتھائی سر کا منڈنا واجب ہے اور پورے سر کا منڈانا افضل ہے، ہاں بال کتروانے کے سلسلہ میں واجب صرف چوتھائی سر کے بال کو ایک انگلی پور کے برابر کتروانا ہے اور پورے سر کے بال کتروانے مستحب ہیں، لیکن علامہ ابن ہمام نے اس قول کو اختیار کیا ہے جو حضرت امام مالک کا مسلک ہے کہ پورے سر کو منڈوانا یا پورے سر کے بال کتروانا ہی واجب ہے اور انہوں نے فرمایا ہے کہ یہی صواب ہے۔
افعال حج میں تقدیم وتاخیر
عن عبد الله بن عمرو بن العاص : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم وقف في حجة الوداع بمنى للناس يسألونه فجاءه رجل فقال : لم أشعر فحلقت قبل أن أذبح . فقال : اذبح ولا حرج فجاء آخر فقال : لم أشعر فنحرت قبل أن أرمي . فقال : ارم ولا حرج . فما سئل النبي صلى الله عليه و سلم عن شيء قدم ولا أخر إلا قال : افعل ولا حرج وفي رواية لمسلم : أتاه رجل فقال : حلقت قبل أن أرمي . قال : ارم ولا حرج وأتاه آخر فقال : أفضت إلى البيت قبل أن أرمي . قال : ارم ولا حرج وعن ابن عباس قال : كان النبي صلى الله عليه و سلم يسأل يوم النحر بمنى فيقول : لا حرج فسأله رجل فقال : رميت بعد ما أمسيت . فقال : لا حرج . رواه البخاري
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ حجۃ الوداع کے موقع پر جب منیٰ میں ٹھہرے تاکہ لوگ آپ ﷺ سے مسائل دریافت کریں تو ایک شخص آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ ناواقفیت کی وجہ سے میں نے ذبح کرنے سے پہلے اپنا سر منڈا لیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا اب ذبح کرلو، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ پھر ایک اور شخص نے آ کر عرض کیا کہ میں نے ناواقفیت کی بناء پر کنکریاں مارنے سے پہلے جانور ذبح کرلیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا اب کنکریاں مار لو، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اسی طرح آپ ﷺ سے جس فعل کی بھی تقدیم یا تاخیر کے بارے میں سوال کیا گیا آپ ﷺ نے یہی فرمایا کہ اب کرلو۔ اس میں کوئی حرج نہیں۔ (بخاری و مسلم) مسلم کی ایک اور روایت میں یوں ہے کہ ایک شخص آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے سر منڈا لیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اب کنکریاں مار لو، اس میں کوئی حرج نہیں ہے، ایک اور شخص آیا اور کہنے لگا کہ میں نے خانہ کعبہ کا فرض طواف کنکریاں مارنے سے پہلے کرلیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا اب کنکریاں مار لو، اس میں کوئی حرج نہیں۔
تشریح
اس روایت میں ان افعال حج کی تقدیم و تاخیر کے سلسلے میں فرمایا گیا ہے اور سائلین کے جواب دئیے گئے ہیں جو قربانی کے دن یعنی ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کو کئے جاتے ہیں، چناچہ اس دن چار چیزیں ہوتی ہیں جن کی ترتیب یہ ہے کہ پہلے منیٰ میں پہنچ کر جمرہ عقبہ پر جو ایک مینار ہے سات کنکریاں ماری جائیں، پھر جانور کہ جن کی تفصیل پہلے بیان ہوچکی ہے ذبح کئے جائیں اس کے بعد سر منڈایا جائے یا بال کتروائے جائیں اور پھر مکہ جا کر خانہ کعبہ کا طواف کیا جائے، اس ترتیب کے ساتھ ان افعال کی ادائیگی اکثر علماء کے نزدیک مذکورہ بالا حدیث کی روشنی میں سنت ہے چناچہ حضرت امام شافعی اور حضرت امام احمد بھی انہیں میں شامل ہیں۔ ان حضرات کے نزدیک اگر ان افعال کی ادائیگی میں تقدیم و تاخیر ہوجائے تو بطور جزاء (اس کے بدلہ میں) دم یعنی جانور ذبح کرنا واجب نہیں ہوتا۔ علماء کی ایک جماعت کا کہنا یہ ہے کہ مذکورہ بالا ترتیب واجب ہے۔ حضرت امام اعظم اور حضرت امام مالک بھی اس جماعت کے ساتھ ہیں۔ یہ حضرات کہتے ہیں کہ ارشاد گرامی اس میں کوئی حرج نہیں ہے کا مطلب صرف اتنا ہے کہ یہ تقدیم و تاخیر چونکہ ناواقفیت یا نسیان کی وجہ سے ہوئی ہے اس لئے اس میں کوئی گناہ نہیں ہے لیکن جزاء کے طور پر دم یعنی جانور ذبح کرنا واجب ہوگا۔ لہٰذا ان حضرات کے مسلک کے مطابق ان چاروں چیزوں میں سے کوئی چیز اگر مقدم یا مؤخر ہوگئی تو بطور جزاء ایک بکری یا اس کے مانند کوئی جانور ذبح کرنا ضروری ہوگا۔ علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباسؓ نے ایسی ہی ایک حدیث روایت کی ہے جب کہ خود انہوں نے مذکورہ افعال کی تقدیم و تاخیر کے سلسلہ میں دم واجب کیا ہے اگر وہ حدیث کے وہ معنی نہ سمجھتے جو حضرت امام اعظم اور ان کے ہمنواء علماء نے سمجھے ہیں تو وہ خود دم واجب کیوں کرتے؟