مناروں پر کنکریاں پھینکنے کا بیان
جمار دراصل سنگریزوں اور کنکریوں کو کہتے ہیں اور جمار حج ان سنگریزوں اور کنکریوں کا نام ہے جو مناروں پر مارے جاتے ہیں اور جن مناروں پر کنکریاں ماری جاتی ہیں انہیں جمار کی مناسبت سے جمرات کہتے ہیں۔ جمرات یعنی وہ منارے جن پر کنکریاں پھینکی جاتی ہیں تین ہیں۔ (١) جمرہ اولیٰ۔ (٢) جمرہ وسطی۔ (٣) مرہ عقبہ۔ یہ تینوں جمرات منیٰ میں واقع ہیں اور بقر عید کے روز یعنی دسویں ذی الحجہ کو صرف جمرہ عقبہ پر کنکریاں پھینکی جاتی ہیں، پھر گیارھویں، بارھویں اور تیرھویں کو تینوں جمرات پر کنکریاں مارنا واجب ہے۔
رمی جمرہ عقبہ سواری پر بھی جائز ہے
عن جابر قال : رأيت النبي صلى الله عليه و سلم يرمي على راحلته يوم النحر ويقول : لتأخذوا مناسككم فإني لا أدري لعلي لا أحج بعد حجتي هذه . رواه مسلم
حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا، نحر (قربانی) کے دن نبی کریم ﷺ اپنی سواری پر سوار کنکریاں مار رہے تھے اور فرماتے تھے کہ مجھ سے افعال حج سیکھ لو، کیونکہ میں نہیں جانتا کہ شاید میں اپنے اس حج کے بعد پھر حج نہ کرسکوں۔ (مسلم)
تشریح
حضرت امام شافعی فرماتے ہیں کہ جو شخص منیٰ میں پیادہ پا پہنچے تو وہ پیادہ پا ہی جمرہ عقبہ پر کنکریاں مارے اور پھر گیارہویں اور بارہویں تاریخ کو تو تینوں جمرات پر پیادہ رہ کر ہی رمی کرے اور تیرہویں تاریخ کو سوار ہو کر کنکریاں مارے۔ فقہ حنفی کی مشہور کتاب ہدایہ میں لکھا ہے کہ جس رمی کے بعد دوسری رمی ہے جیسے جمرہ اولیٰ اور جمرہ وسطی ٰ کی رمی تو اس رمی کو پیادہ کرنا ہی افضل ہے کیوں کہ اس رمی کے بعد وقوف کرنا، درود و دعا، وغیرہ میں مشغول ہونا ہوتا ہے اور ایسی صورت میں پیادہ پائی کی حالت عاجزی و تضرع کے لحاظ سے زیادہ بہتر ہے۔ جہاں تک آنحضرت ﷺ کے عمل کا تعلق ہے تو احادیث صحیحہ میں جو کچھ منقول ہے اس کا خلاصہ اور حاصل یہ ہے کہ آپ ﷺ نے نحر کے دن جمرہ عقبہ کی رمی تو سواری پر کی ہے اور بقیہ دونوں کی رمی پیادہ کی ہے۔
کنکریوں کی تعداد اور اس کو پھینکنے کا طریقہ
وعنه قال : رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم رمى الجمرة بمثل حصى الخذف . رواه مسلم
حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے آنحضرت ﷺ کو خذف کی کنکریوں کی طرح (یعنی چھوٹی چھوٹی) کنکریوں سے رمی جمار کرتے دیکھا ہے۔ (مسلم)
تشریح
مناروں پر کنکریاں پھینکنے کا طریقہ کئی طرح سے منقول ہے لیکن زیادہ صحیح اور آسان ترین طریقہ یہ ہے کہ کنکری کو شہادت کی انگلی اور انگوٹھے کے سروں سے پکڑ کر یعنی چٹکی میں رکھ کر پھینکا جائے، چناچہ اب معمول بھی اسی طرح ہے۔
وعنه قال : رمى رسول الله صلى الله عليه و سلم الجمرة يوم النحر ضحى وأما بعد ذلك فإذا زالت الشمس
حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے قربانی کے دن کو چاشت کے وقت (یعنی زوال سے پہلے) منارے پر کنکریاں پھینکیں اور بعد کے دنوں میں دوپہر ڈھلنے کے بعد کنکریاں پھینکیں۔ (بخاری و مسلم)
تشریح
ضحیٰ دن کے اس حصہ کو کہتے ہیں جو طلوع آفتاب کے بعد سے زوال آفتاب سے پہلے تک ہوتا ہے، بعد کے دنوں سے مراد ایام تشریق یعنی گیارہویں، بارہویں اور تیرہویں تاریخیں ہیں۔ ان دنوں میں آپ ﷺ نے زوال آفتاب کے بعد رمی کی۔ ابن ہمام فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ دوسرے دن یعنی گیارہویں تاریخ کو رمی جمار کا وقت زوال آفتاب کے بعد ہوتا ہے اسی طرح تیسرے دن یعنی بارہویں تاریخ کو بھی رمی کا وقت زوال آفتاب کے بعد ہی ہوتا ہے۔ اب اس کے بعد اگر کوئی شخص مکہ جانا چاہے تو وہ تیرہویں تاریخ کو طلوع فجر سے پہلے جاسکتا ہے اور اگر طلوع فجر کے بعد مکہ جانا چاہے گا تو پھر اس پر اس دن کی رمی جمار واجب ہوجائے گی اب اس کے لئے رمی جمار کئے بغیر مکہ جانا درست نہیں ہوگا ہاں اس دن یعنی تیرہویں تاریخ کو زوال آفتاب سے پہلے بھی رمی جمار جائز ہوجائے گی۔ اس موقع پر ایک یہ مسئلہ بھی جان لیجئے کہ اگر کوئی شخص کنکریاں مناروں پر پھینکے نہیں بلکہ ان پر ڈال دے تو یہ کافی ہوجائے گا مگر یہ چیز غیر پسندیدہ ہوگی بخلاف مناروں پر کنکریاں رکھ دینے کے کہ یہ اس طرح کافی بھی نہیں ہوگا۔
وعن عبد الله بن مسعود : أنه انتهى إلى الجمرة الكبرى فجعل البيت عن يساره ومنى عن يمينه ورمى بسبع حصيات يكبر مع كل حصاة ثم قال : هكذا رمى الذي أنزلت عليه سورة البقرة
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے بارے میں منقول ہے کہ وہ (رمی کے لئے) جمرہ کبریٰ (یعنی جمرہ عقبہ) پر پہنچے تو (اس طرح کھڑے ہوئے کہ) انہوں نے خانہ کعبہ کو اپنی بائیں طرف کیا اور منیٰ کو دائیں طرف اور پھر انہوں نے سات کنکریاں (اس طرح) پھینکیں کہ ہر کنکری پھینکتے ہوئے تکبیر کہتے تھے، پھر انہوں نے فرمایا کہ اسی طرح اس ذات گرامی (یعنی رسول کریم ﷺ نے پھینکی ہیں جس پر سورت بقرہ نازل ہوئی ہے۔ (بخاری و مسلم)
تشریح
حضرت ابن مسعود ؓ جمرہ عقبہ پر اس طرح کھڑے ہوئے کہ خانہ کعبہ تو ان کی بائیں سمت میں تھا اور منیٰ دائیں سمت لیکن دوسرے جمرات پر اس طرح کھڑا ہونا مستحب ہے کہ منہ قبلہ کی طرف ہو۔ رمی جمرہ میں سات کنکریاں پھینکی جاتی ہیں اور ہر کنکری پھینکتے ہوئے تکبیر کہی جاتی ہے چناچہ بیہقی کی روایت کے مطابق آنحضرت ﷺ ہر کنکری کے ساتھ اس طرح تکبیر کہتے تھے۔ اللہ اکبر اللہ اکبر دعا (اللہم اجعلہ حجا مبرورا وذنبا مغفورا عملا مشکورا)۔ یوں تو پورا قرآن ہی آنحضرت ﷺ پر نازل ہوا ہے لیکن اس موقع پر خاص طور پر سورت بقرہ کا ذکر اس مناسبت سے کیا گیا ہے کہ اس سورت میں حج کے احکام و افعال مذکور ہیں۔
جمرات پر سات کنکریاں پھینکنا واجب ہے
وعن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الاستجمار تو ورمي الجمار تو والسعي بين الصفا والمروة تو والطواف تو وإذا استجمر أحدكم فليستجمر بتو . رواه مسلم
حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا استنجاء طاق ہے (یعنی استنجے کے لئے تین ڈھیلے لینے چاہئیں) کنکریاں پھینکنی طاق ہے (یعنی سات کنکریاں پھینکنی چاہئیں) صفا اور مروہ کے درمیان سعی طاق ہے (یعنی ان دونوں کے درمیان سات مرتبہ پھرنا چاہئے) خانہ کعبہ کے گرد طواف طاق ہے (یعنی سات چکر کا ایک طواف ہوتا ہے) اور جب تم میں سے کوئی شخص اگر کی دھونی لینا چاہئے تو اسے چاہئے کہ طاق (یعنی تین یا پانچ یا سات مرتبہ) لے۔ (مسلم)
تشریح
جمرات (مناروں) پر سات سات کنکریاں پھینکنا واجب ہے، اسی طرح صفا ومروہ کے درمیان سات مرتبہ سعی واجب ہے اور جمہور علماء کے نزدیک ایک طواف کے لئے خانہ کعبہ کے گرد سات چکر فرض ہیں جب کہ حنفیہ کے ہاں چار چکر تو فرض ہیں اور باقی واجب ہیں۔
عن قدامة بن عبد الله بن عمار قال : رأيت النبي صلى الله عليه و سلم يرمي الجمرة يوم النحر على ناقة صهباء ليس ضرب ولا طرد وليس قيل : إليك إليك . رواه الشافعي والترمذي والنسائي وابن ماجه والدارمي
حضرت قدامی بن عبداللہ بن عمار ؓ کہتے ہیں کہ میں نے قربانی کے دن رسول کریم ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ اپنی اونٹنی صہباء پر سوار (جمرہ عقبہ پر) کنکریاں پھینک رہے تھے نہ تو وہاں مارنا تھا نہ ہانکنا اور نہ ہٹو بچو کی آوازیں تھیں۔ (شافعی، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، دارمی)
تشریح
صہباء اس اونٹنی کو کہتے ہیں جس کی رنگت کی سفیدی، سرخی آمیز، ہو بایں طور کہ اس کے بالوں کی نوکیں اوپر سے سرخ ہوں اور نیچے کی طرف سفیدی ہو۔ حدیث کے آخری جزء کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح امراء و سلاطین اور سربراہ مملکت کی سواری کے آگے آگے نقیب و چوب دار راستہ کا انتظام و اہتمام کرتے ہوئے چلتے ہیں سرور کائنات اور آقائے نامدار ﷺ کی سواری کے آگے اس طرح کا کوئی انتظام و اہتمام نہیں ہوتا تھا۔
سعی اور رمی جمار ذکر اللہ کا ذریعہ
وعن عائشة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إنما جعل رمي الجمار والسعي بين الصفا والمروة لإقامة ذكر الله . رواه الترمذي والدارمي وقال الترمذي : هذا حديث حسن صحيح
حضرت عائشہ ؓ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتی ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا مناروں پر کنکریاں مارنا اور صفا اور مروہ کے درمیان پھرنا ذکر اللہ کے قیام کے لئے ہے (ترمذی، دارمی) امام ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
تشریح
ظاہری طور پر یہ فعل ایسے ہیں کہ ان کا عبادت ہونا معلوم نہیں ہوتا اس لئے فرمایا کہ یہ دونوں فعل اللہ تعالیٰ کے ذکر کو قائم کرنے کے لئے مقرر ہوئے ہیں، چناچہ یہ معلوم ہی ہے کہ ہر کنکری مارتے وقت تکبیر سنت اور سعی کے دوران وہ دعائیں پڑھنا بھی سنت ہے جن کا پہلے ذکر ہوچکا ہے۔
منیٰ میں کسی کے لئے کوئی جگہ متعین نہیں ہے
وعنها قالت : قلنا : يا رسول الله ألا نبني لك بناء يظلك بمنى ؟ قال : لا منى مناخ من سبق . رواه الترمذي وابن ماجه والدارمي
حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! کیا ہم آپ کے لئے منیٰ میں کوئی ایسی عمارت نہ بنوا دیں جو آپ ﷺ کے لئے سایہ کی جگہ رہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا۔ نہیں! منیٰ اس شخص کے اونٹ بٹھانے کی جگہ ہے جو پہلے پہنچے۔ (ترمذی، ابن ماجہ، دارمی)
تشریح
آنحضرت ﷺ کے ارشاد گرامی کا مطلب یہ ہے کہ منیٰ میں پہنچنے میں خصوصیت سبقت کے ساتھ ہے مکان بنانے یا کوئی جگہ متعین کرلینے کے ساتھ نہیں ہے۔ یعنی منیٰ ایسی جگہ ہے جہاں کسی کے لئے کوئی خصوصیت نہیں ہے اور نہ وہاں کسی کے بیٹھنے کے لئے کوئی خاص جگہ متعین ہے بلکہ وہاں جو شخص جس جگہ پہلے پہنچ جائے وہی اس جگہ کا مستحق ہے۔
عن نافع قال : إن ابن عمر كان يقف عند الجمرتين الأوليين وقوفا طويلا يكبر الله ويسبحه ويحمده ويدعو الله ولا يقف عند جمرة العقبة . رواه مالك
حضرت نافع ؓ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر ؓ پہلے دونوں مناروں کے نزدیک بہت دیر تک ٹھہرتے اور (وہاں اللہ کی تکبیر، اللہ کی تسبیح اور اللہ کی تحمید میں مشغول رہتے، نیز (ہاتھ اٹھا کر) اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے اور جمرہ عقبہ کے پاس نہیں ٹھہرتے تھے۔ (مالک)
تشریح
پہلے دونوں مناروں سے مراد جمرہ اولیٰ اور جمرہ وسطی ہیں۔ حضرت ابن عمر ؓ جب ان دونوں جمروں پر رمی کرچکے تو وہاں ٹھہر کر دعا وغیرہ میں مشغول رہتے، چناچہ ان جمرات پر وقوف کرنا اور وقوف کے دوران دعا وزاری اور تسبیحات وغیرہ میں مشغول رہنا مسنون ہے۔ مدت وقوف کے بارے میں علماء نے لکھا ہے کہ ان جمرات پر اتنی دیر تک ٹھہرنا چاہئے جتنی دیر میں سورت بقرہ پڑھی جاتی ہے۔ ویسے بعض اہل اللہ کے بارے میں تو یہ منقول ہے کہ وہ ان جمرات پر اتنی دیر تک کھڑے رہے ہیں کہ ان کے پاؤں ورم کر گئے تھے۔ اور جمرہ عقبہ کے پاس نہیں ٹھہرتے تھے کا مطلب یہ ہے کہ جمرہ عقبہ کی رمی کے بعد دعا کے لئے اس جمرہ پر نہ تو قربانی کے دن ٹھہرتے تھے اور نہ دوسرے ہی دنوں میں وقوف کرتے تھے تاہم اس سے دعا کا بالکل ترک کرنا لازم نہیں آتا۔ باب النحر میں وہ روایت آئے گی جس میں حضرت ابن عمر ؓ نے یہ وضاحت کی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
ہدی ہا کے زبر اور دال کے سکون کے ساتھ، ان چوپایوں کو کہتے ہیں جو حرم میں طلب ثواب کی خاطر ذبح کئے جاتے ہیں، وہ بکری دنبہ، بھیڑہوں خواہ گائے، بھینس بیل اور خواہ اونٹ ہوں اور عمر وغیرہ کی جو شرائط قربانی کے جانوروں میں ہوتی ہیں وہی ہدی میں بھی ہوتی ہیں۔ بکری اور اس کی مانند دوسرے جانور جیسے دنبہ اور بھیڑ کی قربانی یوں تو ہر موقع پر جائز ہے لیکن اگر کوئی شخص حالت جنابت یا حیض میں طواف الزیارۃ کرے یا کوئی شخص وقوف عرفات کے بعد سر منڈانے سے پہلے ہی جماع کرے تو اس صورت میں بطور کفارہ وجزاء قربانی کے لئے بکری کا ذبح کرنا کافی ہوگا بلکہ بدنہ یعنی اونٹ یا گائے کی قربانی کرنی ہوگی۔ ہدی کی دو قسمیں ہیں (١) واجب (٢) تطوع یعنی نفل، پھر ہدی واجب کی کئی قسمیں ہیں۔ ہدی قران، ہدی تمتع، ہدی جنایات، ہدی نذر اور ہدی احصار۔ ہدی کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ بندہ بارگاہ حق جل مجدہ میں اس جانور کی قربانی کا ہدیہ بھیجتا ہے اور اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی قربت حاصل کرتا ہے اس مناسبت سے اس جانور کو ہدی کہتے ہیں۔
عن ابن عباس قال : صلى رسول الله صلى الله عليه و سلم بذي الحليفة ثم دعا بناقته فأشعرها في صفحة سنامها الأيمن وسلت الدم عنها وقلدها نعلين ثم ركب راحلته فلما استوت به على البيداء أهل بالحج . رواه مسلم
حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے (سفر حج میں) ذوالحلیفہ پہنچ کر ظہر کی نماز پڑھی اور پھر اپنی اونٹنی کو (جو قربانی کے لئے تھی) طلب فرمایا اور اس کی کوہان کے داہنے پہلو کو زخمی کیا اور اس کے خون کو پونچھ کر اس کے گلے میں دو جوتیوں کا ہار ڈال دیا اور اس کے بعد اپنی (سواری کی) اونٹنی پر (کہ جس کا نام قصواء تھا) سوار ہوئے اور جب مقام بیداء میں اونٹنی آپ ﷺ کو لے کھڑی ہوئی تو آپ ﷺ نے لبیک کہی۔ (مسلم)
تشریح
پہلے یہ سمجھ لیجئے کہ اشعار اور تقلید کسے کہتے ہیں؟ حج میں ہدی کا جو جانور ساتھ لے جایا جاتا ہے اس کے پہلو کو زخم آلود کردیتے ہیں جسے اشعار کہا جاتا ہے نیز اس جانور کے گلے میں جوتے یا ہڈی وغیرہ کا ہار ڈال دیتے ہیں جسے تقلید کہا جاتا ہے اور ان دونوں کا مقصد اس امر کی علامت کردینا ہوتا ہے کہ یہ ہدی کا جانور ہے۔ آنحضرت ﷺ جب حج کے لئے چلے اور ذوالحلیفہ کو جو اہل مدینہ کا میقات ہے پہنچے تو نماز پڑھنے کے بعد اس اونٹنی کو طلب فرمایا جسے آپ ﷺ بطور ہدی اپنے ساتھ لے چلے تھے، پہلے آپ ﷺ نے اس کی کوہان کے داہنے پہلو میں نیزہ مارا جب اس سے خون بہنے لگا تو اسے پونچھ دیا اور پھر اس کے گلے میں دو جوتیوں کا ہار ڈال دیا اس طرح آپ ﷺ نے یہ علامت مقرر فرما دی کہ یہ ہدی کا جانور ہے تاکہ لوگ جب اس نشانی و علامت کے ذریعہ یہ جانیں کہ یہ ہدی ہے تو اس سے کوئی تعارض نہ کریں اور قزاق وغیرہ اسے غائب نہ کریں اور اگر یہ جانور راستہ بھٹک جائے تو لوگ اسے اس کی جگہ پہنچا دیں۔ ایام جاہلیت میں لوگوں کا یہ شیوہ تھا کہ جس جانور پر ایسی کوئی علامت نہ دیکھتے اسے ہڑپ کر جاتے تھے اور جس جانور پر یہ علامت ہوتی تھی اسے چھوڑ دیتے تھے، چناچہ شارع اسلام نے بھی اس طریقہ کو مذکورہ بالا مقصد کے تحت جائز رکھا۔ اب اس فقہی مسئلہ کی طرف آئیے، جمہور ائمہ اس بات پر متفق ہیں کہ اشعار یعنی جانور کو اس طرح زخمی کرنا سنت ہے لیکن جثم یعنی بکری، دنبہ اور بھیڑ میں اشعار کو ترک کردینا چاہئے کیونکہ یہ جانور بہت کمزور ہوتے ہیں ان جانوروں کے لئے صرف تقلید یعنی گلے میں ہار ڈال دینا کافی ہے۔ حضرت امام ابوحنیفہ کے نزدیک تقلید تو مستحب ہے لیکن اشعار مطلقاً مکروہ ہے خواہ بکری و چھترہ ہو یا اونٹ وغیرہ علماء حضرت امام اعظم کی اس بات کی تاویل یہ کرتے ہیں کہ حضرت امام اعظم مطلق طور پر اشعار کی کراہت کے قائل نہیں تھے بلکہ انہوں نے صرف اپنے زمانے کے لئے اشعار کو مکروہ قرار دیا تھا کیونکہ اس وقت لوگ اس مقصد کے لئے ہدی کو بہت زیادہ زخمی کردیتے تھے جس سے زخم کے سرایت کر جانے کا خوف ہوتا تھا۔ اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ظہر کی نماز ذوالحلیفہ کی مسجد میں پڑھی جب کہ باب صلوٰۃ السفر کی پہلی حدیث میں جو بخاری و مسلم نے روایت کی ہے یہ بات واضح طور پر ثابت ہوچکی ہے کہ آپ ﷺ نے ظہر کی نماز تو مدینہ ہی میں پڑھ لی تھی اور عصر کی نماز ذوالحلیفہ میں پڑھی۔ لہٰذا ان دونوں روایتوں کے تضاد کو یوں دور کیا جائے کہ آپ ﷺ نے ظہر کی نماز تو مدینہ ہی میں پڑھی تھی مگر حضرت ابن عباس ؓ نے چونکہ مدینہ میں ظہر کی نماز آپ ﷺ کے ہمراہ نہیں پڑھی ہوگی اس لئے جب انہوں نے آنحضرت ﷺ کو ذوالحلیفہ میں نماز پڑھتے دیکھا تو یہ گمان کیا کہ آپ ﷺ یہاں ظہر کی نماز پڑھ رہے ہیں اسی لئے انہوں نے یہاں یہ بیان کیا کہ آپ ﷺ نے ظہر کی نماز ذوالحلیفہ میں پڑھی۔ اھل بالحج ( آپ ﷺ نے حج کے لئے لبیک کہی) سے یہ نہ سمجھئے کہ آپ ﷺ نے واقعۃً صرف حج ہی کے لئے لبیک کہی بلکہ یہ مفہوم مراد لیجئے کہ آپ ﷺ نے حج اور عمرہ دونوں کے لئے لبیک کہی کیونکہ صحیحین میں حضرت انس ؓ سے منقول اس روایت نے اس بات کو بالکل واضح کردیا ہے کہ میں نے آنحضرت ﷺ کو حج اور عمرہ کے لئے لبیک کہتے سنا ہے۔ چناچہ اس موقع پر راوی نے یا تو عمرہ کا ذکر اس لئے نہیں کیا کہ اصل چونکہ حج ہی ہے اس لئے صرف اسی کے ذکر پر اکتفاء کیا یا یہ کہ آنحضرت ﷺ نے جب دونوں کے لئے لبیک کہی تو راوی نے صرف حج کو سنا عمرہ کا ذکر نہیں سنا۔
وعن عائشة رضي الله عنها قالت : أهدى النبي صلى الله عليه و سلم مرة إلى البيت غنما فقلدها
ام المؤمنین حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ بکریوں کو بطور ہدی خانہ کعبہ کو بھیجا اور ان کے گلے میں ہار ڈالا۔ (بخاری و مسلم)
تشریح
علامہ طیبی کہتے ہیں کہ تمام علماء اس بات پر متفق ہیں کہ بکریوں میں اشعار یعنی ان کو زخمی کرنا مشروع نہیں ہے البتہ ان میں تقلید یعنی ان کے گلے میں ہار ڈالنا سنت ہے لیکن اس بارے میں حضرت امام مالک کا اختلافی قول ہے۔
وعن جابر قال : ذبح رسول الله صلى الله عليه و سلم عن عائشة بقرة يوم النحر . رواه مسلم
حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے قربانی کے دن حضرت عائشہ ؓ کی طرف سے ایک گائے ذبح فرمائی۔ (مسلم)
وعنه قال : نحر النبي صلى الله عليه و سلم عن نسائه بقرة في حجته . رواه مسلم
حضرت جابر ؓ ہی کی یہ روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنی ازواج مطہرات کی طرف سے ایک گائے ذبح کی۔ (مسلم)
تشریح
علماء لکھتے ہیں کہ دونوں حدیثیں اس بات پر محمول ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے اپنی ازواج کی اجازت سے قربانی کی ہوگی کیونکہ دوسرے کی طرف سے قربانی اس کی اجازت کے بغیر جائز نہیں۔ ائمہ کے یہاں مشہور مسئلہ تو یہی ہے کہ ایک گائے میں سات ادمیوں تک کی طرف سے قربانی جائز ہوتی ہے لیکن حضرت امام مالک کا قول یہ ہے کہ ایک گائے یا ایک بکری وغیرہ کی قربانی تمام گھر والوں کی طرف سے کافی ہوجاتی ہے، لہٰذا یہ حدیث حضرت امام مالک کے اس قول کی دلیل ہوسکتی ہے بشرطیکہ آپ ﷺ نے سات سے زائد کی طرف سے ایک قربانی کی ہو جب کہ دوسرے ائمہ کے نزدیک یہ حدیث اس بات پر محمول ہے کہ آپ ﷺ نے ایک گائے کی قربانی صرف سات ہی کی طرف سے کی ہوگی۔
خود حج کو نہ جانے اور ہدی بھیجنے کا مسئلہ
وعن عائشة رضي الله عنها قالت : فتلت قلائد بدن النبي صلى الله عليه و سلم بيدي ثم قلدها وأشعرها وأهداها فما حرم عليه كان أحل له
حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے اونٹوں کے لئے اپنے ہاتھوں سے پٹے بنائے اور پھر انہیں اونٹوں کے گلے میں ڈالا اور ان (کے کوہان) کو زخمی کیا اور پھر ان کو بطور ہدی خانہ کعبہ روانہ کردیا (یعنی جب ٩ ھ میں حج فرض ہوا اور حضرت ابوبکر ؓ کو حاجیوں کا امیر مقرر کر کے مکہ مکرمہ بھیجا گیا تو ان کے ساتھ آنحضرت ﷺ کی طرف سے بطور ہدی اونٹ بھیجے گئے اور اس کی وجہ سے آنحضرت ﷺ پر ایسی کوئی چیز حرام نہیں ہوئی جو ان کے لئے حلال تھی۔ (بخاری و مسلم)
تشریح
حدیث کے آخری جملہ کا مطب یہ ہے کہ ان جانوروں کو بطور ہدی بھیجنے کی وجہ سے آنحضرت پر احرام کے احکام جاری نہیں ہوئے کہ احرام کی حالت میں جو چیزیں حرام ہوجاتی ہیں وہ آپ ﷺ پر حرام ہوگئی ہوں، یہ بات حضرت عائشہ ؓ نے اس لئے کہی کہ انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ کے بارے میں سنا تھا کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ جو شخص خود حج کو نہ جائے اور اپنی طرف سے ہدی مکہ بھیجے تو اس پر وہ تمام چیزیں کہ جو محرم پر حرام ہوتی ہیں اس وقت تک کے لئے حرام ہوجاتی ہیں جب کہ اس کی ہدی حرم میں نہ پہنچ جائے اور ذبح نہ ہوجائے۔ چناچہ حضرت عائشہ ؓ نے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے حضرت عباس ؓ کے اس قول کی تردید کی۔
خود حج کو نہ جانے اور ہدی بھیجنے کا مسئلہ
وعنها قالت : فتلت قلائدها من عهن كان عندي ثم بعث بها مع أبي
حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے اس صوف کے جو میرے پاس تھا پٹے بنائے اور پھر (یہ پٹے اونٹوں کے گلے میں ڈال کر) ان کو بطور ہدی اپنے والد ماجد (حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے ہمراہ خانہ کعبہ روانہ کیا۔ (بخاری و مسلم)
ہدی پر سوار ہونے کا مسئلہ
وعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم رأى رجلا يسوق بدنة فقال : اركبها . فقال : إنها بدنة . قال : اركبها . فقال : إنها بدنة . قال : اركبها ويلك في الثانية أو الثالثة
حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ اونٹ ہانکتا ہوا جا رہا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس اونٹ پر سوار ہوجاؤ۔ اس نے کہا کہ یہ تو ہدی ہے (میں اس پر کیسے سوار ہوجاؤں؟ وہ یہ سمجھتا تھا کہ ہدی پر سوار ہونا کسی حال میں بھی جائز نہیں ہے)۔ آنحضرت ﷺ نے پھر فرمایا کہ اس پر سوار ہوجاؤ۔ اس نے پھر کہا کہ یہ ہدی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا اس پر سوار ہوجاؤ۔ افسوس ہے تم پر کہ میں تمہیں سوار ہونے کے لئے کہتا ہوں اور تم اپنی طرف سے عذر بیان کرتے ہو۔ آپ ﷺ نے یہ بات دوسری یا تیسری مرتبہ میں فرمائی۔ (بخاری و مسلم)
ہدی پر سوار ہونے کا مسئلہ
وعن أبي الزبير قال : سمعت جابر بن عبد الله سئل عن ركوب الهدي فقال : سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول : اركبها بالمعروف إذا ألجئت إليها حتى تجد ظهرا . رواه مسلم
حضرت ابوزبیر (تابعی) کہتے ہیں کہ میں نے سنا حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے ہدی پر سوار ہونے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے آنحضرت ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تک کہ تمہیں کوئی اور سواری نہ ملے اور تم سوار ہونے پر مجبور ہو تو اس ہدی پر (اس) احتیاط کے ساتھ سوار ہو (کہ اسے کوئی ضرر و تکلیف نہ پہنچے) (مسلم)
تشریح
اس بارے میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں آیا ہدی پر سوار ہونا جائز ہے یا نہیں؟ چناچہ بعض حضرات کہتے ہیں کہ اگر سوار ہونے کی صورت میں ہدی کو کوئی ضرر نہ پہنچے تو اس پر سوار ہونا جائز ہے۔ لیکن حنفیہ کے نزدیک یہ مسئلہ ہے کہ اگر ضرورت و مجبوری ہو تو ہدی پر سوار ہوا جاسکتا ہے ورنہ نہیں، لہٰذا جن روایتوں میں ہدی پر سوار ہونے کا مطلق طور پر جواز ملتا ہے وہ روایتیں ضرورت و مجبوری پر محمول ہیں۔
راستہ میں قریب المرگ ہوجانے والی ہدی کا مسئلہ
وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال : بعث رسول الله صلى الله عليه و سلم ستة عشر بدنة مع رجل وأمره فيها . فقال : يا رسول الله كيف أصنع بما أبدع علي منها ؟ قال : انحرها ثم اصبغ نعليها في دمها ثم اجعلها على صفحتها ولا تأكل منها أنت ولا أحد من أهل رفقتك . رواه مسلم
حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ایک شخص (جس کا نام ناجیہ اسلمی ؓ تھا) کے ہمراہ سولہ اونٹ مکہ روانہ کئے اور اس شخص کو ان اونٹوں کا محافظ بنایا (کہ نہ صرف ان اونٹوں کو حفاظت کے ساتھ لے جائے بلکہ مکہ پہنچ کر انہیں ذبح بھی کر دے) اس شخص نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ان میں سے جو (تھک جانے کی وجہ سے) نہ چل سکے (یا کمزوری وغیرہ کی بناء پر قریب المرگ ہوجائے) تو اس کو کیا کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا تم اسے ذبح کردینا اور پھر وہ دونوں جوتیاں (جو بطریق ہار اس کے گلے میں پڑی ہوں) اس کے خون میں رنگ کر ان کے نشان اس کے کوہان کے کنارہ پر لگا دینا اور اس کا گوشت نہ تم کھانا اور نہ اپنے ساتھیوں میں سے کسی کو کھانے دینا۔ (مسلم)
تشریح
جوتیوں کو خون میں رنگ کر اونٹ کے کوہان پر نشان لگا دینے کے لئے آپ ﷺ نے اس لئے فرمایا تاکہ راستہ چلنے والے یہ جان لیں کہ یہ ہدی ہے اس طرح اس کا گوشت جو فقراء و مساکین ہوں وہ تو کھا لیں اور اغنیاء اس سے اجتناب کریں کیونکہ اس کا گوشت کھانا اغنیاء پر حرام ہے۔ آخر میں آپ ﷺ نے اس کی ہدایت فرما دی کہ اس اونٹ کو ذبح کر کے وہیں چھوڑ دینا، اس کا گوشت نہ تم خود کھانا اور نہ اپنے رفقاء سفر کو کھانے دینا خواہ فقراء و مساکین ہوں یا اغنیاء ان کو ہر حال میں ان کا گوشت کھانے سے منع اس لئے کیا کہ کہیں یہ لوگ اپنی ماندگی کا کوئی بہانہ کر کے اپنے کھانے کے لئے کوئی اونٹ ذبح نہ کر ڈالیں۔ اب یہ بات محل اشکال بن سکتی ہے کہ ایسی صورت میں کہ گوشت کھانے سے خود محافظ کو بھی منع کیا جا رہا ہے اور اس کے رفقاء قافلہ کو بھی، تو پھر اس گوشت کا مصرف کیا ہوگا؟ ظاہر ہے کہ اس طرح وہ گوشت یوں ہی ضائع ہوگا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ گوشت ضائع نہیں ہوگا بلکہ جہاں وہ اونٹ ذبح ہوگا وہاں آس پاس کے رہنے والے اسے اپنے استعمال میں لے آئیں گے، یا قافلے تو آتے جاتے ہی رہتے ہیں ان کے بعد جو قافلہ وہاں سے گزرے گا وہ اس سے فائدہ اٹھائے گا۔ بہرکیف راستے میں جو ہدی قریب المرگ ہوجائے اور اس کو ذبح کردیا جائے تو اس کا حکم یہ ہے جو حدیث میں ذکر کیا گیا کہ اس کو گوشت اغنیاء اور اہل قافلہ کے لئے کھانا درست نہیں ہے لیکن اس بارے میں فقہی تفصیل ہے جس کو ملتقی الابحر اور درمختار میں یوں نقل کیا گیا ہے کہ (١) اگر ہدی واجب ہو اور وہ راستہ میں قریب المرگ ہوجائے یا ایسی عیب دار ہو کہ اس کی قربانی جائز نہ ہوتی ہو تو اس کے بجائے دوسری ہدی روانہ کرے، اس پہلی ہدی کو چاہے تو ذبح کر کے خود کھالے یا دوسروں کو کھلا دے یا اور جو چاہے کرے۔ (٢) اگر ہدی نفل ہو اور مرنے کے قریب ہو تو اس کو ذبح کرلے اور جوتیاں (جو بطور ہار اس کے گلے میں پڑی ہوں) اس کے خون میں رنگ کر اس کی گردن پر نشان کر دے اور اس کے گوشت میں سے نہ مالک کھائے اور نہ اغنیاء کھائیں۔ (٣) جو ہدی منزل مقصود پر پہنچ کر ذبح ہو اس کے بارے میں اسی فصل کی آخری حدیث کی تشریح میں بتایا گیا ہے کہ نفل تمتع اور قران کی ہدی اور قربانی کے گوشت میں سے مالک کو کھانا مستحب ہے۔ ان کے علاوہ دوسرے قسم کی ہدی کے گوشت میں سے مالک کو کھانا درست نہیں ہے۔ آخر میں ایک بات اور جان لیجئے کہ مذکورہ بالا حدیث کی شرح میں بعض شارحین سے کچھ چوک ہوگئی ہے کیوں کہ انہوں نے لکھا ہے کہ حدیث میں گوشت نہ کھانے کا جو حکم دیا گیا ہے وہ اس ہدی سے متعلق ہے جسے اپنے اوپر واجب کیا گیا ہو جیسے نذر کی ہدی اور اگر ہدی نفل ہو تو اس کا گوشت کھانا جائز ہے، لہٰذا ان شارحین سے راستہ کی اس ہدی کو منزل مقصود پر پہنچ کر ذبح ہونے والی ہدی پر قیاس کر کے یہ بات لکھ دی ہے حالانکہ یہ بات حدیث کے منشاء و حقیقت کے بالکل خلاف ہے۔