Mishkaat-al-Masabih

All 6,333 hadiths in order · Page 114 of 317

2261Mishkaat-al-Masabih

دعا مانگتے وقت قبولیت کا یقین رکھو

وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ادعوا الله وأنتم موقنون بالإجابة واعلموا أن الله لا يستجيب دعاء من قلب غافل لاه . رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريب

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا قبولیت دعا کا یقین رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے مانگو۔ یاد رکھو! اللہ تعالیٰ غافل اور کھیلنے والے دل کی دعا قبول نہیں کرتا یعنی اس شخص کی دعا قبول نہیں ہوتی جس کا دل دعا مانگتے وقت اللہ تعالیٰ سے غافل اور غیر اللہ میں مشغول ہو امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔ تشریح حدیث کے پہلے جز کا مطلب یہ ہے کہ دعا کے وقت تمہیں ایسی حالت میں ہونا چاہئے جس کے سبب تم قبولیت دعا کے مستحق قرار پاؤ مثلا اچھے کام میں مشغولیت اور برے کاموں سے اجتناب ہو دعا کی جو شرائط ہیں ان کی رعایت ہو رہی ہو مثلا توجہ الی اللہ، حضور قلب اور اخلاص حاصل ہو۔ آخری بات یہ کہ تمہارے قلب پر قبولیت کا یقین و اعتماد، عدم قبولیت کی مایوسی پر غالب ہو۔ یا پھر مراد یہ ہے کہ دعا کے وقت تمہیں یہ کامل اعتماد حاصل ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اپنے وسیع و لامحدود فضل کی بناء پر تمہیں مایوس اور ناامید نہیں کرے گا اور تمہاری دعا ضرور قبول ہوگی۔

2262Mishkaat-al-Masabih

دعا کے وقت ہاتھوں کا رخ

وعن مالك بن يسار قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا سألتم الله فاسألوه ببطون أكفكم ولا تسألوه بظهورها وفي رواية ابن عباس قال : سلوا الله ببطون أكفكم ولا تسألوه بظهورها فإذا فرغتم فامسحوا بها وجوهكم . رواه داود

حضرت مالک بن یسار ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جس وقت تم اللہ تعالیٰ سے دعا مانگو اس سے اپنے ہاتھوں کے اندرونی رخ کے ذریعے مانگو اس سے اپنے ہاتھوں کے اوپر کے رخ کے ذریعہ نہ مانگو۔ ایک اور روایت میں حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے اپنے ہاتھوں کے اندرونی رخ کے ذریعہ مانگو اور جب تم دعا سے فارغ ہوجاؤ تو اپنے ہاتھوں کو اپنے منہ پر پھیر لو تاکہ وہ برکت جو ہاتھوں پر اترتی ہے منہ کو بھی پہنچ جائے۔ (ابوداؤد) تشریح مطلب یہ ہے کہ دعا مانگتے وقت جب ہاتھوں کو اٹھاؤ تو ان کو اس طرح رکھو کہ ہاتھوں کے اندر کا رخ یعنی ہتھیلیاں منہ کے سامنے رہیں جیسا کہ دعا کے وقت کا معمول ہے ہاتھوں کو الٹ کر دعا نہ مانگو حالت استسقاء اس حکم سے مستثنی ہے کیونکہ اس وقت ہاتھوں کو الٹ کر ہی دعا مانگنا منقول ہے چناچہ اسے باب الاستسقاء میں بیان کیا جا چکا ہے۔

2263Mishkaat-al-Masabih

ہاتھوں کی لاج رکھتا ہے

وعن سلمان قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن ربكم حيي كريم يستحيي من عبده إذا رفع يديه إليه أن يردهما صفرا . رواه الترمذي وأبو داود والبيهقي في الدعوات الكبير

حضرت سلمان ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ تمہارا پروردگار بہت حیاء مند ہے یعنی وہ حاجت مندوں کا سا معاملہ کرتا ہے وہ بغیر مانگے دینے والا ہے اور وہ اپنے بندہ سے حیاء کرتا ہے کہ اسے خالی ہاتھ واپس کرے جب کہ اس کا بندہ اس کی طرف (دعا کے لئے) اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتا ہے۔ (ترمذی، ابوداؤد، بیہقی)

2264Mishkaat-al-Masabih

دعا کے بعد اٹھے ہوئے ہاتھوں کو اپنے منہ پر پھیرنا سنت ہے

وعن عمر رضي الله عنه قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا رفع يديه في الدعاء لم يحطهما حتى يمسح بهما وجهه . رواه الترمذي

حضرت عمر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ جب دعا میں اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے تو انہیں اس وقت تک نہ رکھتے جب تک کہ اپنے منہ پر نہ پھیر لیتے۔ (ترمذی) تشریح ان احادیث سے معلوم ہوا کہ دعا کے وقت ہاتھوں کو اٹھانا اور پھر دعا کے بعد انہیں اپنے منہ پر پھیرلینا سنت ہے۔

2265Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ جامع دعائیں پسند کرتے تھے

وعن عائشة رضي الله عنها قالت : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يستحب الجوامع من الدعاء ويدع ما سوى ذلك . رواه أبو داود

حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ ان دعاؤں کو پسند فرماتے تھے جو جامع ہیں اور ان دعاؤں کو چھوڑ دیتے تھے جو جامع نہیں ہیں۔ (ابوداؤد) تشریح جامع دعا اس کو کہتے ہیں جس میں الفاظ تو کم ہوں مگر وہ دنیاوی اور اخروی امور کے بہت زیادہ معنی و مقصد پر حاوی ہو جیسے یہ دعائیں ہیں۔ دعا (ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الآخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار)۔ اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھلائی عطا کر اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔ دعا (اللہم انی اسألک العفو والعافیۃ فی الدین والدنیا والآخرۃ)۔ اے اللہ! میں تجھ سے دین میں دنیا میں اور آخرت میں عفو عافیت مانگتا ہوں۔ اسی قسم کی اور بھی بہت سی جامع دعائیں ہیں جو احادیث میں منقول ہوئی ہیں۔ حدیث کے آخری جملہ کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ ایسی دعاؤں کو ترک کئے ہوئے تھے جو جامع نہیں ہیں بلکہ کسی خاص مطلب و مقصد ہی کے بارے میں ہیں مثلا یہ دعا۔ ارزقنی زوجۃ حسنۃ (اے اللہ) مجھے اچھی بیوی عطا فرما) لیکن اتنی بات ملحوظ رہے کہ یہ آپ ﷺ کی اکثر عادت کے اعتبار سے فرمایا گیا ہے کہ آپ ﷺ اکثر اور بہت زیادہ وہی دعائیں مانگتے تھے جو جامع ہیں ورنہ تو کبھی کبھی کسی خاص مطلب کے لئے بھی آپ ﷺ کا دعا مانگنا ثابت ہے۔

2266Mishkaat-al-Masabih

غائبانہ دعا جلد قبول ہوتی ہے

وعن عبد الله بن عمرو قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن أسرع الدعاء إجابة دعوة غائب لغائب . رواه الترمذي وأبو داود

حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا بہت جلد قبول ہونے والی وہ دعا ہے جو غائب غائب کے لئے کرے۔ (ترمذی، ابوداؤد) تشریح جو شخص کسی کے لئے اس کی عدم موجودگی میں یعنی غائبانہ دعا کرتا ہے تو وہ دعا بہت جلد قبول ہوتی ہے کیونکہ ایسی دعائیں کسی کو دکھانے سنانے کا تو کوئی سوال ہی پید انہیں ہوتا بلکہ خلوص ہی خلوص ہوتا ہے۔

2267Mishkaat-al-Masabih

اچھے لوگوں سے طلب دعا

وعن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال استأذنت النبي صلى الله عليه و سلم في العمرة فأذن لي وقال : أشركنا يا أخي في دعائك و لا تنسنا . فقال كلمة ما يسرني أن لي بها الدنيا . رواه أبو داود والترمذي وانتهت روايته عند قوله لا تنسنا

حضرت عمر بن خطاب ؓ راوی ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم ﷺ سے ادائیگی عمرہ کے لئے اجازت مانگی تو آپ ﷺ نے مجھے اجازت عطا فرمائی اور فرمایا کہ اے میرے چھوٹے بھائی اپنی دعا میں ہمیں شریک کرلینا اور دعا کے وقت مجھے نہ بھولنا حضرت عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ایسا کلمہ ارشاد فرمایا کہ اگر اس کے بدلہ میں مجھے تمام دنیا بھی دے دی جائے تو مجھے خوشی نہ ہوگی۔ (ابوداؤد، امام ترمذی نے اس روایت کو لفظ ولا تنسنا پر ختم کردیا ہے) تشریح آنحضرت ﷺ کا ارشاد فرمودہ وہ کلمہ جس کے بدلہ میں پوری دنیا حاصل کرنا بھی حضرت عمر ؓ کے لئے باعث خوشی نہ ہوتا کیا تھا؟ اس بارے میں دو احتمال ہیں ہوسکتا ہے کہ اس کلمہ سے مراد آنحضرت ﷺ کا یہی ارشاد ہوسکتا ہے جو انہوں نے حضرت عمر ؓ سے ان کی عمرہ کے لئے روانگی کے وقت فرمایا یعنی دعا میں شریک کرنا اور دعا کے وقت نہ بھولنا۔ لیکن یہ احتمال بھی ہے کہ آپ ﷺ نے اس موقع پر کوئی اور بات ارشاد فرمائی ہوگی۔ جو حضرت عمر ؓ کے نزدیک تمام دنیا سے بھی زیادہ قیمتی اور گرانمایہ تھی او اس بات کو یہاں حدیث میں نقل نہیں کیا گیا ہے۔ آنحضرت ﷺ نے حضرت عمر ؓ سے دعا کے لئے جو درخواست کی اس سے نہ صرف یہ کہ ذات نبوت کی طرف سے مرتبہ عبودیت اور مقام بندگی میں اپنے عجز اور اپنی مسکینی کا اظہار ہے بلکہ اس طرح امت کے لوگوں کو اس بات کی ترغیب بھی دلائی گئی ہے کہ اللہ کے نیک اور عابد بندوں اور اچھے لوگوں سے دعاء خیر کی جائے چاہے وہ مرتبہ کے لحاظ سے اپنے سے کم تر ہی کیوں نہ ہو نیز اس موقع پر آپ ﷺ نے اس لطیف انداز میں گویا امت کو اس بات سے بھی آگاہ کردیا کہ اپنی دعا کو صرف اپنی ذات ہی کے لئے مخصوص نہ کیا جائے بلکہ اپنی دعاؤں اور خاص طور پر ان دعاؤں میں جو مقام قبولیت پر مانگی جائیں اپنے عزیز و اقرباء اور اپنے دوستوں کو بھی شامل کیا جائے۔ اور آخر میں ایک بات یہ بھی کہ اس حدیث سے حضرت عمر فاروق ؓ کی عظمت و بزرگی کا اظہار ہوتا ہے آپ ﷺ نے ان سے دعا کی درخواست کر کے گویا ان کی عظمت و بزرگی اور ان کی فضیلت کی تصدیق کی۔

2268Mishkaat-al-Masabih

وہ خوش قسمت جن کی دعائیں رد نہیں ہوتیں

وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ثلاثة لا ترد دعوتهم : الصائم حين يفطر والإمام العادل ودعوة المظلوم يرفعها الله فوق الغمام وتفتح لها أبواب السماء ويقول الرب : وعزتي لأنصرنك ولو بعد حين . رواه الترمذي

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تین شخص ہیں جن کی دعا رد نہیں ہوتی۔ (١) روزہ دار جب افطار کرتا ہے (یعنی روزہ دار جب افطار کرتے وقت دعا کرتا ہے تو اس کی دعا قبول ہوتی ہے کیونکہ وہ عبادت کی ادائیگی کے بعد ہوتی ہے اور یہ کہ اس وقت عاجزی اور مسکینی کا پیکر ہوتا ہے (٢) لوگوں کا سردار حاکم جو عدل و انصاف کرے (کیونکہ حدیث میں منقول ہے ایک ساعت کا عدل ساٹھ برس کی عبادت سے بہتر ہے اس لئے اس فضیلت و شرف کی وجہ سے عادل سردار و حاکم کی دعا قبول ہوتی ہے۔ (٣) مظلوم کی دعا جب مظلوم دعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا کو بادلوں کے اوپر اٹھاتا ہے اور اس دعا کے لئے آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور پروردگار فرماتا ہے کہ قسم ہے مجھے اپنی عزت کی میں تیری مدد ضرور کروں گا اگرچہ وہ کچھ مدت بعد ہی ہو (یعنی تیرا حق ضائع نہیں کروں گا) اور تیری دعا کو رد نہیں کروں گا اگر مدت دراز گزر جائے۔ (ترمذی) تشریح مظلوم کی دعا کو بادلوں کے اوپر اٹھانا اور اس کے لئے آسمانوں کے دروازوں کا کھلنا دراصل کنایہ ہے اس بات سے کہ مظلوم کی دعا اوپر پہنچتی ہے اور جلد قبول ہوتی ہے۔

2269Mishkaat-al-Masabih

وہ خوش قسمت جن کی دعائیں رد نہیں ہوتیں

وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ثلاث دعوات مستجابات لا شك فيهن : دعوة الوالد ودعوة المسافر ودعوة المظلوم . رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه

حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں تین دعائیں قبول کی جاتی ہیں ان کی قبولیت میں کوئی شک نہیں ایک تو باپ کی دعا، دوسری مسافر کی دعا اور تیسری مظلوم کی دعا۔ (ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ) تشریح باپ کی دعا کا مطلب یہ ہے کہ باپ اپنی اولاد کے حق میں خواہ دعا کرے یا بددعا دونوں جلد قبول ہوجاتی ہیں اور جب باپ کی دعا قبول ہوتی ہے تو ماں کی دعا بطریق اولیٰ قبول ہوتی ہے اگرچہ یہاں حدیث میں ماں کی دعا کے بارے میں ذکر نہیں کیا گیا ہے لیکن بات یہی ہے کیونکہ ماں اپنی اولاد کے حق میں باپ کی بہ نسبت زیادہ شفیق ہوتی ہے۔ مسافر کی دعا کے بارے میں دو احتمال ہیں یا تو یہ کہ مسافر کی دعا اس شخص کے حق میں قبول ہوتی ہے جو اس کے ساتھ احسان اور اچھا سلوک کرتا ہے اور اس کی بددعا اس شخص کے حق میں قبول ہوتی ہے جو اسے تکلیف و ایذاء پہنچاتا ہے اور اس کے ساتھ برا سلوک کرتا ہے، یا پھر یہ کہ مسافر کی دعا مطلقاً قبول ہوتی ہے خواہ وہ اپنے لئے کرے یا دوسرے کے لئے۔ مظلوم کی دعا کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص مظلوم کی مدد کرتا ہے یا اس کو تسلی و تسکین دلاتا ہے اور مظلوم اس کے حق میں دعا کرتا ہے تو اس کی دعا قبول ہوتی ہے اسی طرح جو شخص مظلوم پر ظلم کرتا ہے یا جو شخص ظالم کی حمایت و تائید کر کے مظلوم کی ذہنی، روحانی اور جسمانی تکلیف و مصیبت میں اضافہ کرتا ہے اور مظلوم اس شخص کے حق میں بد دعا کرتا ہے تو اس کی بد دعا قبول ہوتی ہے۔ اسی طرح جو شخص ظالم کی حمایت و تائید کر کے مظلوم کی ذہنی روحانی اور جسمانی تکلیف و مصیبت میں اضافہ کرتا ہے اور مظلوم اس کے حق میں بد دعا کرتا ہے تو اس کی بد دعا قبول ہوتی ہے۔

2270Mishkaat-al-Masabih

اپنی ادنیٰ سے ادنیٰ حاجت بھی اللہ ہی کے سامنے پیش کرو

عن أنس رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ليسأل أحدكم ربه حاجته كلها حتى يسأله شسع نعله إذا انقطع زاد في رواية عن ثابت البناني مرسلا حتى يسأله الملح وحتى يسأله شسعه إذا انقطع . رواه الترمذي

حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے ہر شخص کو چاہئے کہ اوہ اپنی تمام حاجتیں اپنے پروردگار سے مانگے یہاں تک کہ اگر اس کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو اسے بھی اللہ سے مانگو۔ ترمذی نے ایک اور روایت میں جو ثابت بنانی سے بطریق ارسال نقل کی ہے یہ الفاظ بھی نقل کئے ہیں کہ یہاں تک کہ نمک بھی اس سے مانگے اور اگر جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ بھی اس سے مانگے۔ (ترمذی) تشریح مصنف مشکوۃ کو چاہئے تھا کہ وہ زاد فی روایۃ کے بجائے یوں کہتے کہ رواہ الترمذی و زادی فی روایۃ دوسری روایت میں یہ جملہ حتی یسألہ شسعہ الخ اگر اس کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو اسے بھی اللہ ہی سے مانگے مکرر ذکر کیا گیا ہے اور وہ اس لئے کہ یہ مکرر ذکر کرنا اس بات پر دلالت کرے کہ اللہ سے مانگنے میں کسی بھی مرحلہ پر سائل کے لئے کوئی رکاوٹ اور کسی بھی قسم کی کوئی محرومی نہیں ہے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر نہایت مہربان ہے وہ جو کچھ بھی مانگتے ہیں اللہ ان کو عطا کرتا ہے لہٰذا بندوں کو چاہئے کہ وہ اپنی ہر حاجت خواہ وہ کتنی ہی ادنیٰ سے ادنیٰ کیوں نہ ہو اللہ ہی کے سامنے پیش کریں اسی سے اپنی ہر مراد مانگیں اسی کی اور صرف اسی کی ذات پر اعتماد کریں۔ ابوعلی دقاق فرماتے ہیں کہ یہ بات معرفت کی نشانیوں میں سے ہے کہ اپنی ہر حاجت خواہ وہ بڑی سے بڑی ہو یا چھوٹی سے چھوٹی ہو اللہ تعالیٰ سے مانگی جائے اس موقع پر انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بڑی عمدہ مثال پیش کی ہے کہ ایک طرف تو جب وہ اللہ تعالیٰ کے دیدار کے مشتاق ہوئے تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور میں یہ سب سے بڑی اور سب سے عظیم الشان درخواست پیش کی کہ۔ رب ارنی انظر الیک۔ اے میرے رب! مجھے دکھا کہ میں تیری طرف (یعنی تجھے) دیکھوں۔ دوسری طرف جب وہ نان جویں کے محتاج ہوئے تو پروردگار ہی سے عرض کیا۔ آیت (رب انی لما انزلت الی من خیر فقیر)۔ میرے پروردگار! تو نے میری طرف از قسم مال ورزق جو کچھ اتارے میں اس کے لئے محتاج ہوں۔

2271Mishkaat-al-Masabih

دعا میں ہاتھ کہاں تک اٹھائے جائیں؟

وعن أنس قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يرفع يديه في الدعاء حتى يرى بياض إبطيه

حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ دعا کے وقت اپنے ہاتھوں کو اتنا اٹھاتے تھے کہ آپ ﷺ کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگتی تھی۔

2272Mishkaat-al-Masabih

دعا میں ہاتھ کہاں تک اٹھائے جائیں؟

وعن سهل بن سعد عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : كان يجعل أصبعيه حذاء منكبيه ويدعو

حضرت سہل بن سعد ؓ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آپ ﷺ اپنی دونوں انگلیوں یعنی دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کے سرے اپنے مونڈھوں کے برابر لے جاتے اور پھر دعا مانگتے۔ تشریح اس حدیث میں دعا کے وقت ہاتھوں کو اٹھانے کی جو مقدار بیان کی گئی ہے ہاتھوں کو اٹھانے کا یہی اوسط درجہ ہے اور آنحضرت ﷺ دعا کے وقت اکثر اپنے ہاتھوں کو اتنا ہی اٹھاتے تھے جہاں تک اس سے پہلی حدیث کا تعلق ہے کہ جس سے ہاتھوں کو زیادہ اوپر اٹھانا معلوم ہوتا ہے تو یہ صورت بعض اوقات پر محمول ہے یعنی جب دعا میں بہت ہی زیادہ استغراق، مبالغہ اور محویت منظور ہوتی تھی مثلا استسقاء یا سخت آفات پر مصائب کے وقت تو آپ ﷺ اس موقع پر اپنے ہاتھوں کو اتنا اٹھاتے تھے کہ بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگتی تھی۔

2273Mishkaat-al-Masabih

آپ ﷺ دعا کے بعد منہ پر ہاتھ اسی وقت پھیرتے جب ہاتھوں کو اٹھاتے۔

وعن السائب بن يزيد عن أبيه أن النبي صلى الله عليه و سلم كان إذا دعا فرفع يديه مسح وجهه بيديه روى البيهقي الأحاديث الثلاثة في الدعوات الكبير

سائب بن یزید ؓ اپنے والد مکرم سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب دعا مانگتے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے تو اپنے منہ پر دونوں ہاتھوں کو پھیرتے۔ (مذکورہ بالا تینوں حدیثیں بیہقی نے دعوات کبیر میں نقل کی ہیں) تشریح علامہ طیبی کہتے ہیں کہ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نبی کریم ﷺ دعا کے بعد ہاتھوں کو منہ پر اسی وقت پھیرتے جب کہ دعا کے وقت ہاتھوں کو اٹھاتے اگر دعا کے وقت آپ ﷺ ہاتھوں کو نہ اٹھاتے تو انہیں منہ پر پھیرتے بھی نہیں تھے لہٰذا نماز کی حالت میں، طواف میں، سونے کے وقت، کھانے کے بعد اور اسی طرح دیگر مواقع پر آپ ﷺ سے جو دعائیں اور دعاؤں کے وقت ہاتھوں کو نہ اٹھانا منقول ہے تو آپ ﷺ ان مواقع پر ہاتھوں کو منہ پر پھیرتے بھی نہیں تھے۔

2274Mishkaat-al-Masabih

دعا کا ادب

وعن عكرمة عن ابن عباس رضي الله عنهما قال : المسألة أن ترفع يديك حذو منكبيك أو نحوهما والاستغفار أن تشير بأصبع واحدة والابتهال أن تمد يديك جميعا وفي رواية قال : والابتهال هكذا ورفع يديه وجعل ظهورهما مما يلي وجهه . رواه أبو داود

حضرت عکرمہ ؓ حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا سوال (دعا) کرنے کا ادب طریقہ یہ ہے کہ تم اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے مونڈھوں کے برابر یا ان کے قریب تک اٹھا۔ استغفار کا ادب یہ ہے کہ تم اپنی انگلی کے ذریعہ اشارہ کرو اور دعا میں انتہائی عجز و مبالغہ اختیار کرنا یہ ہے کہ تم اپنے دونوں ہاتھوں کو اکٹھے دراز کرو یعنی اتنے اٹھاؤ کہ بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگے۔ (ابوداؤد) ایک روایت میں یوں ہے کہ انہوں نے کہا دعا میں انتہائی عاجزی کا اظہار اس طرح ہے اور یہ کہہ کر انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور ان کی پشت کو اپنے منہ کے قریب کیا (یعنی جس طرح کہ استغفار کے وقت ہاتھوں کو اٹھایا جانا منقول ہے) ( ابوداؤد ) تشریح ایک انگلی کے ذریعہ اشارہ کرو میں انگلی سے مراد سبابہ ہے کہ جسے شہادت کی انگلی کہتے ہیں اور مقصود اس سے سبّ ہے یعنی نفس امارہ اور شیطان ملعون کو ملامت کرنا اور ان کی برائیوں سے پناہ مانگنا اس موقع پر ایک کی قید اس لئے لگائی گئی ہے کہ دونوں انگلیوں سے اشارہ کرنا مکروہ ہے چناچہ منقول ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک شخص کو دو انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے دیکھا تو اس سے فرمایا کہ ایک انگلی سے اشارہ کرو، ایک انگلی سے اشارہ کرو۔ حدیث کے آخری جزو کا مطلب یہ ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے دعا میں انتہائی عجز کے اظہار کا طریقہ عمل کے ذریعہ بتایا چناچہ انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اتنا زیادہ اٹھایا کہ بغلوں کی سفیدی ظاہر ہونے لگی اور ہاتھ سر کے برابر پہنچ گئے۔

2275Mishkaat-al-Masabih

ہر دعا کے وقت ہاتھوں کو بہت زیادہ اٹھانا بدعت ہے

وعن ابن عمر أنه يقول : إن رفعكم أيديكم بدعة ما زاد رسول الله صلى الله عليه و سلم على هذا يعني إلى الصدر رواه أحمد

حضرت ابن عمر ؓ کے بارے میں مروی ہے کہ وہ کہا کرتے تھے کہ تمہارا اپنے ہاتھوں کو بہت زیادہ اٹھانا بدعت ہے آنحضرت ﷺ اکثر اس سے زیادہ یعنی سینہ سے زیادہ اوپر نہیں اٹھاتے تھے۔ (احمد) تشریح حضرت ابن عمر ؓ نے ہاتھوں کو زیادہ اٹھانے کو بدعت اس لئے کہا کہ وہ لوگ اپنے ہاتھوں کو اکثر اوقات بہت ہی زیادہ اٹھانے لگے تھے اور حالات و مواقع میں کوئی فرق نہیں کرتے تھے حالانکہ انہیں چاہئے تھا کہ وہ ایک مقصد کے لئے تو ہاتھوں کو سینہ تک اٹھاتے اور مونڈھوں تک دوسرے مقصد کے لئے اسی طرح اور مقصد کے لئے مونڈھوں سے اوپر اٹھاتے۔ اس بات کو زیادہ وضاحت کے ساتھ یوں سمجھئے کہ آنحضرت ﷺ کے ہاتھ آٹھانے کی مقدار کا فرق حالات و مواقع کے اختلاف پر مبنی تھا کہ آپ ﷺ اکثر تو اپنے ہاتھ سینے تک اٹھاتے تھے بعض مواقع پر مونڈھوں تک اٹھاتے اور کسی خاص موقع پر مونڈھوں سے اوپر بھی اٹھاتے تھے لیکن حضرت ابن عمر ؓ نے جو لوگوں کو یہ تنبیہ کی وہ مواقع اور حالات کے اختلاف کو مدنظر نہیں رکھتے تھے بلکہ ہر موقع اور دعا کے وقت اپنے ہاتھوں کو بہت ہی زیادہ اوپر اٹھانے لگے تھے اس لئے حضرت ابن عمر ؓ نے ان کے اس طرز عمل سے بیزاری کا اظہار کیا اور اسے سنت کے خلاف قرار دیا۔

2276Mishkaat-al-Masabih

کسی کے لئے دعا کرتے وقت اپنی ذات کو مقدم رکھو

وعن أبي بن كعب قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا ذكر أحدا فدعا له بدأ بنفسه رواه الترمذي وقال هذا حديث حسن غريب صحيح

حضرت ابی بن کعب ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ جب کسی کا ذکر کرتے اور پھر اس کے لئے دعا کرتے (یعنی اس کے لئے دعا کرنے کا ارادہ کرتے) تو پہلے اپنے لئے دعا کرنا شروع کرتے اس کے بعد اس شخص کے لئے دعا کرتے امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب صحیح ہے۔ تشریح اس حدیث میں امت کے لئے تعلیم ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کے لئے دعا کرے تو اپنے لئے دعا کرے پھر اس شخص کے لئے کرے مثلا اس طرح دعا کرے۔ دعا (اللہم اغفرلی ولفلان)۔ اے اللہ میری اور فلاں شخص کی مغفرت فرما۔

2277Mishkaat-al-Masabih

دعا کے نتیجے میں تین چیزوں میں سے ایک چیز ضرور حاصل ہوتی ہے

وعن أبي سعيد الخدري أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ما من مسلم يدعو بدعوة ليس فيها إثم ولا قطيعة رحم إلا أعطاه الله بها إحدى ثلاث : إما أن يعجل له دعوته وإما أن يدخرها له في الآخرة وإما أن يصرف عنه من السوء مثلها قالوا : إذن نكثر قال : الله أكثر . رواه أحمد

حضرت ابوسعید خدری ؓ راوی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ جو بھی مسلمان کوئی دعا مانگتا ہے ایسی دعا کہ اس میں نہ تو گناہ کی کسی چیز کی طلب ہو اور نہ ناطہ توڑنے کی تو اللہ تعالیٰ اسے اس دعا کے نتیجے میں تین چیزوں میں سے ایک چیز ضرور دیتا ہے یا تو یہ کہ جلدی ہی اس کا مطلوب عطا فرما دے یا یہ کہ اس کے لئے اس دعا کو ذخیرہ آخرت بنا دے کہ دنیا میں اس کا مطلوب حاصل نہ ہونے کی صورت میں اس کے عوض آخرت میں اجر عطا کرتے یا یہ کہ اسے اس کی دعا کے بقدر برائی سے بچائے۔ صحابہ نے یہ سن کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہم تو اب بہت زیادہ دعائیں مانگیں گے کیونکہ ہمیں دعا کے بڑے فائدے معلوم ہوگئے آپ نے فرمایا۔ اللہ کا فضل بہت زیادہ ہے۔ (احمد) تشریح اللہ تعالیٰ کا فضل بہت زیادہ ہے۔ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تمہاری دعا کے نتیجہ میں تمہیں جو کچھ عطا فرماتا ہے اس کے مقابلہ میں وہ کہیں زیادہ ہے جو وہ تمہیں مانگے بغیر محض اپنے بےپایاں فضل اور وسیع کرم سے دیتا ہے۔

2278Mishkaat-al-Masabih

وہ پانچ دعائیں جو رد نہیں ہوتی

وعن ابن عباس رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه و سلم قال خمس دعوات يستجاب لهن : دعوة المظلوم حتى ينتصر ودعوة الحاج حتى يصدر ودعوة المجاهد حتى يقعد ودعوة المريض حتى يبرأ ودعوة الأخ لأخيه بظهر الغيب . ثم قال : وأسرع هذه الدعوات إجابة دعوة الأخ لأخيه بظهر الغيب . رواه البيهقي في الدعوات الكبير

حضرت ابن عباس ؓ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا پانچ دعائیں ہیں جنہیں شرف قبولیت سے نوازا جاتا ہے۔ (١) مظلوم کی دعا یہاں تک کہ وہ ظالم سے اپنے ہاتھ سے یا اپنی زبان کے ذریعہ بدلہ لے لے۔ (٢) حاجی کی دعا یہاں تک کہ وہ اپنے شہر اور اپنے اہل و عیال کے پاس واپس آجائے یا حج سے فارغ ہوجائے (٣) جہاد کرنے والے کی دعا یا طلب علم و عمل میں سعی و کوشش سے فارغ ہو کر بیٹھ جائے (٤) مریض کی دعا یہاں تک کہ وہ اچھا ہوجائے یا مرجائے (٥) ایک بھائی کی اپنے بھائی کے لئے غائبانہ دعا۔ پھر اس کے بعد آپ نے فرمایا ان دعاؤں میں سب جلدی قبول ہونے والی ایک بھائی کی اپنے بھائی کے لئے غائبانہ دعا ہے۔

2279Mishkaat-al-Masabih

ذکر اللہ اور تقرب الی اللہ کا بیان

تقرب الی اللہ یعنی اللہ کا قرب و نزدیکی حاصل کرنے سے ذکر اللہ کے ذریعے اللہ کا تقرب حاصل کرنا بھی مراد ہوسکتا ہے اور نوافل کے ذریعہ اللہ کا تقرب حاصل کرنا بھی مراد ہوسکتا ہے۔ ذکر اللہ کی قسمیں ذکر اللہ (اللہ کا ذکر) دل سے بھی ہوتا ہے اور زبان سے بھی اور افضل یہ ہے کہ دل اور زبان دونوں سے اللہ کا ذکر ہو اور اگر ان میں سے کسی ایک سے ہو تو پھر دل کا ذکر افضل ہے۔ اب ذکر بالقلب (دل سے اللہ کا ذکر) کی بھی دو قسمیں ہیں ایک قسم تو یہ ہے اللہ کی عظمت میں، جبروت و ملکوت میں اور اس کی قدرت کی نشانیوں میں جو زمین و آسمان میں ہیں، غور و فکر اور استغراق اس قسم کے ذکر کو ذکر خفی کہتے ہیں۔ حدیث شریف میں منقول ہے کہ وہ ذکر خفی ستر درجہ افضل ہے جسے حفظہ (یعنی اعمال لکھنے والے فرشتے) بھی نہیں سنتے چناچہ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کو حساب کتاب کے لئے جمع کرے گا تو حفظہ (اعمال لکھنے والے فرشتے) وہ تمام ریکارڈ لے کر حاضر ہوں گے جنہیں انہوں نے اپنی نوشت اور یادداشت میں محفوظ کر رکھا ہوگا وہ تمام ریکارڈ دیکھ کر اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا کہ دیکھو میرے بندوں کے اعمال میں اور کیا چیز باقی رہ گئی ہے (جو تمہارے اس ریکارڈ میں نہیں ہے) وہ عرض کریں گے! پروردگار! بندوں کے اعمال کے سلسلہ میں جو کچھ بھی ہمیں معلوم ہو اور جو کچھ بھی ہم نے یاد رکھا ہم نے اسے اس ریکارڈ میں جمع کردیا ہے، اس ریکارڈ میں ہم نے ایسی کوئی چیز محفوظ کرنے سے نہیں چھوڑی جس کی ہمیں خبر ہوئی ہو تب اللہ تعالیٰ بندہ کو مخاطب کر کے فرمائے گا کہ میرے پاس تیری ایسی نیکی محفوظ ہے جسے کوئی نہیں جانتا اور وہ ذکر خفی ہے میں تجھے اس نیکی کا اجر عطا کروں گا۔ ذکر بالقلب کی دوسری قسم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بندوں کو جو احکام دئیے ہیں خواہ ان کا تعلق امر کرنے سے ہو یا نہی سے ان کی ادائیگی کے وقت آنے پر اللہ تعالیٰ کو یاد کیا جائے۔ ذکر بالقلب کی ان دونوں قسموں میں سے پہلی قسم افضل واعلیٰ ہے بعض فقہاء کہتے ہیں کہ ذکر کا اطلاق صرف زبان کے ساتھ اللہ کا ذکر کرنے پر ہوتا ہے اور قول مختار کے مطابق اس کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ وہ اپنے تئیں سنائے یعنی ذکر کرنے والے کی زبان کم سے کم اس درجہ میں جاری ہو کہ وہ خود سن لے ان فقہاء کے کہنے کے مطابق اس درجہ سے کم ذکر معتبر نہیں۔ نیز یہ فقہاء یہ کہتے ہیں کہ دل کے ذکر کی حیثیت از قسم علم و تصور قلب کے فعل کی تو ہے، لیکن اسے ذکر نہیں کہیں گے۔ ذکر اسی کو کہیں گے جس کا تعلق زبان کی ادائیگی سے ہو۔ اب نہیں کہا جاسکتا کہ اس بات سے ان فقہاء کا مقصود کیا ہے؟ اگر مطلب یہ ہے کہ لغوی طور پر فعل قلب پر ذکر کا اطلاق نہیں ہوتا تو یہ بات اس چیز کے خلاف ہے جو لغت کی کتابوں میں موجود ہے چناچہ صحاح اور قاموس میں لکھا ہے کہ ذکر نسیان کی ضد ہے اور ظاہر ہے کہ یہ خود قلب کا فعل ہے کیونکہ جس طرح نسیان بھول جانے کا تعلق قلب سے ہے اسی طرح اس کی ضد یعنی ذکر (یاد) کا تعلق بھی قلب ہی سے ہے۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ جو کچھ زبان سے ادا ہوتا ہے اسے بھی ذکر کہا جاتا ہے۔ حاصل یہ کہ لفظ ذکر فعل قلب اور فعل لسان دونوں کے درمیان مشترک ہے جس طرح فعل قلب کو ذکر کہتے ہیں اسی طرح فعل لسان کو بھی ذکر کہا جاتا ہے لہٰذا جیسے ذکر باللسان معتبر ہے ایسے ہی ذکر بالقلب بھی معتبر ہے بلکہ ذکر بالقلب ہی افضل ہے۔ مشائخ طریقت رحمہم اللہ بھی فرماتے ہیں کہ ذکر کی دو قسمیں ہیں قلبی اور لسانی اور ذکر قلبی کا اثر لسانی کے اثر سے کہیں زیادہ قوی اور افضل ہے۔ جن فقہاء نے ذکر قلبی کا انکار کیا ہے ہوسکتا ہے کہ ان کی مراد یہ ہے کہ شریعت نے جن مواقع پر ذکر باللسان کی تعلیم دی ہے جیسے تسبیحات قرأت نماز اور نماز کے بعد کے اذکار و اوراد وغیرہ تو وہاں قلبی ذکر کافی نہیں ہوتا بلکہ لسانی ذکر ہونا چاہئے ان فقہاء کی مراد یہ نہیں ہے کہ ذکر قلبی پر اخروی ثواب مرتب نہیں ہوتا۔

2280Mishkaat-al-Masabih

ذکر کرنے والوں کی فضیلت

عن أبي هريرة وأبي سعيد رضي الله عنهما قالا : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يقعد قوم يذكرون الله إلا حفتهم الملائكة وغشيتهم الرحمة ونزلت عليهم السكينة وذكرهم الله فيمن عنده . رواه مسلم

حضرت ابوہریرہ ؓ اور حضرت ابوسعید خدری ؓ دونوں راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب بھی کوئی جماعت اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کے لئے بیٹھتی ہے تو ان کو وہ فرشتے گھیر لیتے ہیں (جو راستوں پر اہل ذکر کو ڈھونڈھتے پھرتے ہیں) ان کو رحمت اپنی آغوش میں لے لیتی ہے (وہ خاص رحمت جو آیت ( وَالذّٰكِرِيْنَ اللّٰهَ كَثِيْرًا وَّالذّٰكِرٰت) 33۔ الاحزاب 35) کے لئے مخصوص ہے) ان پر سکینہ کا نزول ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ ان ذکر کرنے والوں کا تذکرہ اپنے پاس والوں یعنی ملائکہ مقربین اور ارواح انبیاء میں کرتا ہے۔ (مسلم) تشریح سکینہ دل کے سکون و اطمینان اور خاطر جمعی کا نام ہے جس کے باعث دنیا کی لذتوں کی خواہش اور ماسوا اللہ کی لذت وطلب دل سے نکل جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی ذات میں استغراق و استحضار اور اس کی طرف توجہ کی سعادت نصیب ہوتی ہے سکینہ کا نازل ہونا اس آیت سے بھی ثابت ہے۔ آیت (اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَ طْمَى ِنُّ الْقُلُوْبُ ) 13۔ الرعد 28)۔ آگاہ رہو! اللہ کے ذکر کے ذریعہ قلوب کو اطمینان و سکون حاصل ہوتا ہے۔