Mishkaat-al-Masabih

All 6,333 hadiths in order · Page 113 of 317

2241Mishkaat-al-Masabih

اول جامع قرآن

علماء نے لکھا ہے کہ قرآن کا جمع ہونا تین مرتبہ واقع ہوا ہے ایک مرتبہ تو خود سرکار دو عالم ﷺ کے زمانہ میں لیکن اس وقت پورا قرآن کریم ایک مصحف میں مرتب طریقہ سے جمع نہیں ہوا تھا۔ دوسری مرتبہ حضرت ابوبکر ؓ کے سامنے جمع ہوا گویا اول جامع قرآن حضرت ابوبکر صدیق ہی ہیں اللہ ان پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔ اور وہ سب سے پہلے شخص ہیں جنہوں نے کتاب اللہ کو جمع کیا۔ تیسری مرتبہ حضرت عثمان ؓ کے زمانہ میں جمع ہوا کہ حضرت عثمان ؓ نے تمام صحابہ کو جمع کیا اور ان کے مشورہ سے قرآن کریم مصاحف میں مرتب طور پر لغت قریش کے مطابق نقل کرایا اور پھر وہ مصاحف اطراف و جوانب میں بھیجے یہ بات ٢٥ ہجری کی ہے۔ لہٰذا حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور حضرت عثمان ؓ دونوں کے قرآن جمع کرنے میں فرق یہ ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ نے تو قرآن کو اس خوف سے جمع کیا کہ کہیں اس کے بغیر قران کا کچھ حصہ جاتا نہ رہے اور حضرت عثمان ؓ نے اس لئے جمع کیا کہ امت میں اختلاف و انتشار کا فتنہ نہ پیدا کیا جائے اس طرح کہا جائے گا کہ حضرت عثمان ؓ نے حقیقت میں قرآن جمع نہیں کیا ہے بلکہ انہوں نے امت کو اختلاف و انتشار کی راہ سے بچا کر ایک لغت (لغت قریش) پر قائم و جمع کیا ہے۔

2242Mishkaat-al-Masabih

سورۃ براۃ کے شروع میں بسملہ نہ ہونے کی ایک وجہ

وعن ابن عباس قال : قلت لعثمان بن عفان ما حملكم أن عمدتم إلى الأنفال وهي من المثاني وإلى براءة وهي من المئين فقرنتم بينهما ولم تكتبوا بينهما سطر بسم الله الرحمن الرحيم ووضعتموها في السبع الطول ما حملكم على ذلك فقال عثمان كان رسول الله صلى الله عليه و سلم مما يأتي عليه الزمان وهو تنزل عليه السور ذوات العدد فكان إذا نزل عليه الشيء دعا بعض من كان يكتب فيقول : ضعوا هؤلاء الآيات في السورة التي يذكر فيها كذا وكذا فإذا نزلت عليه الآية فيقول : ضعوا هذه الآية في السورة التي يذكر فيها كذا وكذا . وكانت الأنفال من أوائل ما نزلت بالمدينة وكانت براءة من آخر القرآن وكانت قصتها شبيهة بقصتها فظننت أنها منها فقبض رسول الله صلى الله عليه و سلم ولم يبين لنا أنها منها فمن أجل ذلك قرنت بينهما ولم أكتب بينهما سطر بسم الله الرحمن الرحيم ووضعتها في السبع الطول . رواه أحمد والترمذي وأبو داود

حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان ؓ سے کہا کہ اس کی کیا وجہ ہے کہ آپ نے سورت انفال کی جو مثانی میں ہے اور سورت براۃ کو جو میئین میں سے ہے پاس پاس رکھا ہے اور دونوں سورتوں کے درمیان بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھ کر امتیاز بھی قائم نہیں کیا ہے پھر یہ کہ آپ نے سورت انفال کو سات لمبی سورتوں کے درمیان رکھا ہے آخر اس کا سبب کیا ہے؟ حضرت عثمان ؓ نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں وقت گزرتا رہتا تھا اور آیتوں والی سورتیں نازل ہوتی رہتی تھیں (یعنی قرآن کی آیتیں حسب موقع اور حسب ضرورت بتدریج اترتی تھیں) چناچہ آپ ﷺ کا معمول یہ تھا کہ جب قرآن کی کوئی آیت یا اس کا کچھ حصہ آپ ﷺ پر نازل ہوتا تو آپ کا تبان وحی میں سے کسی کو یعنی زید بن ثابت ؓ وغیرہ کو بلاتے اور فرماتے کہ اس آیت کو سورت میں شامل کردو جس میں ایسا اور ایسا ذکر ہے یعنی کسی خاص موضوع مثلا حیض و طلاق وغیرہ کا نام لیتے اور فرماتے کہ جس سورت میں اس کے بارے میں ذکر ہے اس آیت کو اسی میں شامل کردو۔ اس کے بعد پھر جب کوئی آیت نازل ہوتی تو اس کے بارے میں فرماتے کہ اسے اس سورت میں شامل کردو اور جس میں ایسا اور ایسا ذکر ہے اور سورت انفال ان سورتوں میں سے ہے جو مدینہ میں نازل ہوئی ہیں جب کہ سورت برأت قرآن کا وہ حصہ ہے جو آخر میں نازل ہوا ہے لیکن سورت انفال میں مذکورہ باتیں سورت براۃ میں مذکورہ باتوں کے مشابہ ہیں یعنی دونوں سورتوں میں کافروں سے برسر پیکار ہونے اور عہد ختم کرنے کا بیان ہے رسول کریم ﷺ اس دنیا سے تشریف لے گئے لیکن ہمیں یہ نہیں بتا گئے کہ سورت برأت انفال ہی کا حصہ ہے یا نہیں؟ لہٰذا نبی کریم ﷺ کے نہ بتانے کے سبب اور دونوں سورتوں میں از روئے مفہوم معنی مماثلت و مشابہت ہونے کے باعث ہم نے دونوں سورتوں کو پاس پاس رکھا لیکن ہم نے دونوں کے درمیان بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھ کر امیتاز قائم نہیں کیا اور پھر ہم نے ان دونوں سورتوں کو پاس پاس سات بڑی سورتوں کے درمیان رکھا لیکن ان دونوں کے فاصلہ رکھا یعنی دونوں کو الگ الگ رکھا کیونکہ جس طرح دونوں کے دو ہونے میں شبہ تھا اسی طرح دونوں کے ایک ہونے بھی شبہ تھا۔ (احمد، ترمذی، ابوداؤد ) تشریح قرآن مجید کی سورتوں کو اسی طرح تقسیم کیا گیا ہے کہ سوت بقرہ سے سورت یونس تک کو طوال کہتے ہیں عربی میں طوال لمبے کو کہتے ہیں اور قرآن کی ابتدائی سات سورتیں چونکہ لمبی ہیں اس لئے اس مناسبت سے ان کا نام سبع طوال سالت لمبی سورتیں ہوا۔ سورت یونس سے سورت شعراء تک کی سورتوں کو میئین کہا جاتا ہے۔ میئین مأۃ کی جمع ہے اور عربی میں مأۃ سو کو کہتے ہیں اور یہ سورتیں چونکہ سو سو آیتوں سے زیادہ پر مشتمل ہیں یا سو کے قریب ہیں اس لئے ان سورتوں کو میئین کہتے ہیں اور سورت شعراء سے سورت حجرات تک کی سورتیں مثانی کہلاتی ہیں یہ سورتیں سو سو آیتوں سے کم ہیں اور پھ یہ کہ ان سوتوں کے مضمون اور قصے مکرر ہیں اس لئے ان کو مثانی کہا جاتا ہے۔ سورت حجرات سے آخر قرآن تک کی سورتوں کو مفصل کہتے ہیں کیونکہ ان سورتوں کے درمیان بسم اللہ کا فاصلہ اتنا قریب ہے۔ یہ گویا تین قسمیں ہوئی پھر ان میں سے آخری قسم یعنی مفصل کی بھی تین قسمیں ہیں۔ (١) طوال (٢) اوساط (٣) قصار۔ سورت حجرات سے (والسماء ذات البروج) تک کی سورتیں طوال مفصل کہلاتی ہیں۔۔ والسماء ذات البروج سے لم یکن تک کی سورتوں کو اوساط مفصل کہتے ہیں اور سورت لم یکن سے آخر قرآن تک کی سورتوں کو قصار مفصل کہا جاتا ہے۔ اس تفصیل کو ذہن میں رکھ کر اب حدیث کے مفہوم کی طرف آئیے۔ حضرت عثمان ؓ سے حضرت عباس ؓ کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ سورت انفال مثانی میں سے ہے کیونکہ وہ سو آیتوں سے کم ہے اور سوت براۃ میئین میں سے ہے کیونکہ وہ سو آیتوں سے زیادہ ہے لہٰذا آپ نے قرآن کو جمع اور نقل کراتے وقت ان دونوں سورتوں کو نزدیک نزدیک طوال میں کیوں رکھا۔ چاہئے تو یہ تھا کہ انفال مثانی رکھتے اور براۃ کو میئین میں آخر میں بھی ایک خلش کی بات یہ ہے کہ ان دونوں سورتوں کے درمیان بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں لکھی۔ حضرت عثمان ؓ نے ان کی اس بات کا جواب دیا اس کا حاصل یہ ہے کہ ان دونوں سورتوں کے درمیان اشتباہ پیدا ہوگیا ہے ایک وجہ تو یہ کہ دونوں سورتیں ایک ہی سورت ہیں (جیسا کہ ترجمہ میں بیان کیا گیا) اس سبب سے ان کو طوال میں رکھنا اور ان دونوں کے درمیان بسم اللہ الرحمن الرحیم نہ لکھنا درست ہوا اور ایک وجہ سے یہ دونوں سورتیں الگ الگ دو سورتیں ہیں اس لئے ان کے درمیان فاصلہ رکھا گیا۔ الحمد للہ کتاب فضائل القرآن ختم ہوئی۔

2243Mishkaat-al-Masabih

دعاؤں کا بیان

دعا کے معنیٰ ہیں کہ اعلیٰ ذات سے ادنیٰ چیزوں میں سے کچھ بطریق عاجزی طلب کرنا امام نووی فرماتے ہیں کہ ہر زمانہ میں اور ہر جگہ کے علماء اس بات پر متفق رہے ہیں کہ دعا مانگنا مستحب ہے ان کی دلیل قرآن و حدیث کے ظاہری اور واضح مفہوم کے علاوہ انبیاء (علیہم السلام) کا فعل بھی ہے کیونکہ تمام انبیاء کرام دعا مانگا کرتے تھے۔ لیکن بعض زہاد اور اہل معارف یہ بھی کہنا ہے کہ ترک دعا (یعنی دعا نہ مانگنا) افضل ہے کیونکہ اس طرح رضاء مولیٰ اور اپنی قسمت پر اور تقدیر کے ساتھ راضی ہونے کا مکمل اظہار ہوتا ہے۔ مولانا شاہ محمد اسحق صاحب نے ان زہاد و اہل معارف کے اس قول کے بارے میں کہا ہے کہ یہ قول اس خاص کیفیت پر محمول ہے جو بعض وقت بعض مردان حق پر طاری ہوتی ہے اور جس میں رضاء بقضاء ہی غالب ہوتی ہے جیسا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ پیش آیا کہ جب انہیں آگ میں ڈالا گیا تو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے ان سے کہا کہ آپ دعا کیجئے اور اپنے پروردگار سے اپنی نجات سلامتی کے لئے درخواست کیجئے تو انہوں نے فرمایا کہ حق تعالیٰ جل شانہ میرا حال جانتا ہے مجھے کوئی درخواست کرنے اور دعا مانگنے کی ضرورت نہیں ہے

2244Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کی شان رحمت

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لكل نبي دعوة مستجابة فتعجل كل نبي دعوته وإني اختبأت دعوتي شفاعة لأمتي إلى يوم القيامة فهي نائلة إن شاء الله من مات من أمتي لا يشرك بالله شيئا . رواه مسلم وللبخاري أقصر منه

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ ہر ایک نبی کے لئے ایک دعا ہے جو قبول کی جاتی ہے چناچہ ہر نبی نے اپنی دعا کے بارے میں جلدی کی لیکن میں نے اپنی دعا اپنی امت کی شفاعت کی خاطر قیامت کے دن تک کے لئے محفوظ رکھی ہے پس میری یہ دعا اگر اللہ نے چاہا تو میری امت کے ہر اس شخص کو فائدہ پہنچائے گی۔ جو اس حال میں مرا ہو کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو۔ (مسلم) اور بخاری نے اس روایت کو اس سے کم نقل کیا ہے۔ تشریح ہر نبی کے لئے ایک دعا ہے۔ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو حکم فرمایا تھا کہ اپنے مخالفین کی تباہی کے لئے بد دعا کرو لہٰذا وہ بد دعا کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ اسے منظور فرماتا تھا چناچہ اسی دعا کے بارے میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو دعا مانگنے کا جو حق دیا تھا اور پھر اس کی قبولیت کا یقین بھی عطا فرمایا تھا تو ہر نبی نے اپنے اس حق کے استعمال میں بہت جلدی کی جیسا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی امت کی ہلاکت و تباہی کے لئے بد دعا کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی پوری امت طوفان میں غرق کردی گئی۔ یا اسی طرح حضرت صالح (علیہ السلام) نے بھی اپنی امت کی تباہی کے لئے بد دعا کی اور امت ان کی حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی ایک آواز کے ذریعہ ہلاکت کی وادیوں میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چھپ گئی لیکن میں نے اپنی دعا کو محفوظ رکھا یعنی اپنے مخالفین کی ایذاء پر صبر کیا اور ان کے لئے بد دعا نہ کی۔ کیونکہ میں رحمۃ اللعلمین ہوں میری شان یہ نہیں ہے کہ میں بد دعا کروں اور لوگوں کے لئے تباہی و بربادی کا سامان فراہم کروں میں نے اپنے اس حق کو جو مجھے بھی ملا تھا قیامت تک کے لئے اٹھا رکھا ہے۔ قیامت کے دن میں اس دنیا میں بد دعا کے بجائے ہر اس امتی کے حق میں شفاعت کروں گا جو ایمان کے ساتھ اس دنیا سے رخصت ہوا ہو اگرچہ وہ گنہگار ہی کیوں نہ رہا ہو۔ اس موقع پر اتنی بات اور جان لیجئے کہ شفاعت کئی قسم کی ہوگی بعض لوگ تو آنحضرت ﷺ کی شفاعت کے نتیجہ میں دوزخ میں داخل ہی نہیں ہوں گے بعض دوزخ سے جلدی نکل آئیں گے بعض جنت میں جلدی داخل ہوں گے اور بعض کے جنت میں درجے بلند ہوں گے۔ اللہم ارزقنا شفاعۃ نبینا علیہ الف الف صلوۃ۔

2245Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کی شان رحمت

وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اللهم إني اتخذت عندك عهدا لن تخلفنيه فإنما أنا بشر فأي المؤمنين آذيته شتمته لعنته جلدته فاجعلها له صلاة وزكاة وقربة تقربه بها إليك يوم القيامة

حضرت ابوہریرہ ؓ روای ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے بارگاہ حق میں یوں دعا کی کہ اے میرے پروردگار! میں نے تیری خدمت میں ایک درخواست پیش کی ہے تو مجھے اس کی قبولیت سے نواز اور مجھے ناامید نہ کر۔ یعنی میں امیدوار کرم ہوں کہ میری درخواست ضرور ہی منظور ہوگی اور وہ درخواست یہ ہے کہ میں ایک انسان ہوں لہٰذا جس مومن کو میں نے کوئی ایذاء پہنچائی ہو بایں طور کہ میں نے اسے برا بھلا کہا ہو میں نے اس پر لعنت کی ہو میں نے اسے مارا ہو تو ان سب چیزوں کو تو اس مومن کے حق میں رحمت کا سبب گناہوں سے پاکی کا ذریعہ اور اپنے قرب کا باعث بنا دے کہ تو ان چیزوں کے سبب اس کو قیامت کے دن اپنا قرب بخشے۔ (بخاری ومسلم) تشریح لفظ فانما انا بشر تمہید ہے عذر کی کہ میں بھی ایک انسان ہوں کبھی کبھی بتقاضائے بشریت کسی پر خفا بھی ہوجاتا ہوں۔ لفظ فای المومنین، اس چیز کی تفصیل اور بیان ہے جس کے لئے آپ ﷺ نے اپنے ارشاد اللہم اتخذت الخ کے ذریعہ بارگاہ حق جل شانہ میں درخواست پیش کی بہرکیف آنحضرت ﷺ کی اس دعا کا حاصل یہ ہے کہ جس مومن کو مجھ سے کوئی بھی ایذاء پہنچ جائے تو اس ایذاء کو اس کے حق میں رحمت وغیرہ کا سبب بنا دے۔ منقول ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ ؓ نے کسی چیز کی طلب میں بہت مبالغہ سے کام لیا یہاں تک کہ آپ ﷺ کا دامن پکڑ کر کھڑی ہوگئیں آنحضرت ﷺ نے ان کے اس طرز عمل پر فرمایا کہ قطع اللہ یدک۔ اللہ تعالیٰ تیرا ہاتھ کاٹے۔ حضرت عائشہ ؓ کو یہ بات بہت محسوس ہوئی۔ وہ فورا آپ کا دامن چھوڑ کر ہٹ گئیں اور اپنے حجرہ میں آخر بہت ہی رنجیدہ ملول اور غصہ میں بھر کر بیٹھ گئیں۔ جب آنحضرت ﷺ ان کے پاس تشریف لائے اور حضرت عائشہ ؓ کی یہ کیفیت دیکھی تو اس وقت آپ نے ان کو خوش کرنے کے لئے یہ کہا۔ اللہم انی اتخذت عندک عہدا الخ۔ لہٰذا علماء لکھتے ہیں کہ جو شخص کسی کے لئے بد دعا کر بیٹھے تو اس کے لئے مسنون یہ ہے کہ وہ اس بد دعا کے بدلہ میں مذکورہ بالا دعا بھی ضرور کرے۔

2246Mishkaat-al-Masabih

دعا جزم ویقین کے ساتھ کرو

وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا دعا أحدكم فلا يقل : اللهم اغفر لي إن شئت ارحمني إن شئت ارزقني إن شئت وليعزم مسألته إنه يفعل ما يشاء ولا مكره له . رواه البخاري

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جب تم میں سے کوئی شخص دعا مانگے۔ اے اللہ مجھے بخش دے اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم کر اگر تو چاہے تو مجھے رزق عطا فرما اگر تو چاہے۔ بلکہ چاہئے یہ کہ وہ عزم بالجزم اور یقین و اعتماد کے ساتھ دعا مانگے (شک وشبہ کا کلمہ مثلا اگر تو چاہے وغیرہ کا استعمال نہ کرے) کیونکہ اللہ تعالیٰ تو خود وہی کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے اس پر کوئی زور زبردستی کرنے والا نہیں۔ (بخاری) تشریح مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے جو کچھ مانگو جزم و یقین کے ساتھ مانگو یعنی یہی کہو کہ اے اللہ ہمارا فلاں مطلب پورا کر، جو چاہتا ہے وہی کرتا ہے اس لئے یہ نہ کہو۔ کہ اگر تو چاہے تو ہمارا فلاں مطلب پورا کر دے۔ کیونکہ اس طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے قبولیت دعا میں شک پیدا کرنا ہے حالانکہ قبولیت دعا میں یقین ہونا چاہئے کیونکہ اس نے قبولیت کا وعدہ کیا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کا خلاف نہیں کیا کرتا اور پھر یہ کہ اللہ تعالیٰ کی ذات چونکہ بےپروا اور مستغنی ہے کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے میں اس پر کسی کا کوئی زور نہیں ہے بلکہ وہ وہی کرتا ہے جو چاہتا ہے اس لئے اپنی دعا کے ساتھ یہ کہنا کہ اگر تو چاہے بالکل بےفائدہ اور لا حاصل ہے۔

2247Mishkaat-al-Masabih

تھک کر دعا مانگنا نہ چھوڑو

وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا دعا أحدكم فلا يقل : اللهم اغفر لي إن شئت ولكن ليعزم وليعظم الرغبة فإن الله لا يتعاظمه شيء أعطاه . رواه مسلم

حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جب تم میں سے کوئی شخص دعا مانگے تو اس طرح نہ کہے کہ اے اللہ مجھے بخش دے اگر تو چاہے۔ بلکہ بلا کسی شک کے جزم و یقین کے ساتھ اور پوری رغبت کے ساتھ دعا مانگے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ جو چیز عطا کرتا ہے۔ وہ اس کے لئے مشکل نہیں ہوتی۔ (مسلم)

2248Mishkaat-al-Masabih

تھک کر دعا مانگنا نہ چھوڑو

وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يستجاب للعبد ما لم يدع بإثم أو قطيعة رحم ما لم يستعجل . قيل : يا رسول الله ما الاستعجال ؟ قال : يقول : قد دعوت وقد دعوت فلم أر يستجاب لي فيستحسر عند ذلك ويدع الدعاء . رواه مسلم

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا بندے کی دعا شرائط قبولیت کے بعد قبول کی جاتی ہے جب تک وہ گناہ کی یا ناطہ توڑنے کی دعا نہیں مانگتا اور جب تک کہ جلدی نہیں کرتا۔ عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ جلدی کا کیا مطلب ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا دعا مانگنے والا بار بار کہنے لگے کہ میں نے دعا مانگی یعنی اکثر میں نے دعا مانگی لیکن میں نے اسے قبول ہوتے نہیں دیکھا۔ اور پھر وہ تھک کر بیٹھ جائے اور دعا مانگنی ہی چھوڑ دے۔ (مسلم) تشریح اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ قبولیت دعا کے لئے جہاں جزم و یقین اور اللہ کی ذات پر پورا بھروسہ شرط ہے وہیں یہ بات بھی ضروری ہے کہ دعا ان ہی چیزوں کے لئے مانگی جائے جو عادتا مانگی جاتی ہوں اور مباح ہوں، لہٰذا یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ مومن کی دعا اسی وقت قبول ہوتی ہے جب کہ وہ نہ گناہ کی کوئی چیز طلب کرے اور نہ ناطہ توڑنے کی دعا کرے اور نہ جلد بازی سے کام لے۔ گناہ کی چیز مانگنے کا مطلب یہ کہ کوئی شخص یہ دعا مانگنے لگے کہ اے اللہ! مجھے فلاں شخص کو (جو مسلمان ہے) قتل کردینے کی طاقت عطا فرما، یا یہ کہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے شراب یا کوئی حرام و غیر حلال چیز عطا کر یا یہ کہے کہ اے اللہ فلاں شخص کو بخش دے درآنحالیکہ اس بارے میں یقین ہے کہ وہ کافر مرا ہے۔، ظاہر ہے اس قسم کی دعا مانگنا اور پھر ان کی قبولیت کی توقع ہی رکھنا دیدہ دلیری ہی کہا جاسکتا ہے اس طرح محال اور غیر ممکن الوقوع چیزوں کی دعا مانگنا اور ان کی قبولیت کی امید رکھنا بھی انتہائی حماقت اور بےوقوفی کی بات ہے مثلا کوئی عقل کا اندھا یہ دعا مانگے کہ اے اللہ! تو مجھے دنیا ہی میں حالت بیداری میں اپنا دیدار عطا فرما۔ ناطہ توڑنے کی دعا، کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بد باطن شخص یہ دعا مانگنے لگے کہ اے اللہ! مجھ میں اور میرے باپ میں جدائی اور تفریق کر دے۔ یہ حدیث کا مفہوم کے مطابق مومن کی ایسی غیر ایمانی دعا بھی قبول نہیں ہوتی۔ حدیث کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ یہ بات بندہ مومن کی شان کے لائق نہیں ہے کہ اگر قبولیت دعا میں تاخیر محسوس ہو تو تھک کر بیٹھ جائے اور دعا مانگنا ہی چھوڑ دے۔ کیونکہ دعا بھی عبادت ہے اور عبادت سے اس طرح اکتاہٹ یا دل گرفتگی مومن کے لئے کسی بھی حال میں مناسب نہیں ہے۔ پھر یہ کہ قبولیت دعا میں تاخیر یا تو اس لئے ہوتی ہے کہ اس کا وقت نہیں آتا کیونکہ ازل ہی میں ہر چیز کے وقوع اور تکمیل کا ایک وقت مقرر ہے جب تک وہ وقت نہیں آتا وہ چیز بھی وقوع پذیر نہیں ہوتی یا یہ دعا مانگنے والا جو دعا مانگتا ہے اس کی تقدیر میں اس کی دعا کا اس دنیا میں قبول ہونا لکھا نہیں ہوتا اس صورت میں اسے اس کے بدلہ میں آخرت کا ثواب عطا کیا جاتا ہے یا پھر قبولیت میں تاخیر اس لئے ہوتی ہے کہ دعا مانگنے میں پوری عاجزی و انکساری، سچی لگن اور تڑپ اور کمال عبودیت کا اظہار کرتا رہے کیونکہ دعا میں ان چیزوں کو اختیار کرنے والے کو اللہ تعالیٰ بہت پسند کرتا ہے۔

2249Mishkaat-al-Masabih

غائبانہ دعا قبول ہوتی ہے

وعن أبي الدرداء رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : دعوة المسلم لأخيه بظهر الغيب مستجابة عند رأسه ملك موكل كلما دعا لأخيه بخير قال الملك الموكل به : آمين ولك بمثل . رواه مسلم

حضرت ابودرداء ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو مسلم بندہ اپنے مسلمان بھائی کے لئے غائبانہ دعا کرتا ہے تو وہ قبول کی جاتی ہے۔ دعا کرنے والے کے سر کے قریب ایک فرشتہ متعین کردیا جاتا ہے جب وہ اپنے مسلمان بھائی کے لئے بھلائی کی دعا کرتا ہے تو وہ متعین شدہ فرشتہ کہتا ہے کہ اے اللہ اس کی دعا قبول کر اور (یہ بھی کہتا ہے کہ) تیرے لئے بھی ایسا ہی ہو۔ (مسلم) تشریح یہاں تو بطور خاص اس دعا کی قبولیت کی بشارت دی گئی ہے جو اپنے مسلمان بھائی کے لئے اس کی عدم موجودگی میں زبان سے نکلے لیکن ایسے ہی اگر کوئی کسی مسلمان کے لئے اس کے سامنے اپنے دل میں چپکے سے دعا کرے تو وہ دعا بھی اس بشارت کے تحت آتی ہے کیونکہ جس طرح غائبانہ دعا میں خلوص کار فرما ہوتا ہے اور اس کے نتیجہ میں دعا قبول ہوتی ہے اسی طرح اس کی موجودگی میں اپنے دل میں یا چپکے سے دعا کرتے وقت بھی پوری طرح خلوص ہی کی کار فرمائی ہوتی ہے۔ حدیث کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ دعا قبول کرنے والے کے ساتھ جو فرشتہ متعین کیا جاتا ہے کہ وہ دعا کے وقت بارگاہ حق شانہ میں یہ سفارش پیش کرتا ہے کہ الٰہی اس شخص کی دعا اس کے بھائی کے حق میں قبول فرما اور پھر وہ دعا کرنے والے کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ جس طرح اس دعا کے نتیجہ میں تیرا بھائی خیر و بھلائی کو پہنچے گا۔ اسی طرح اللہ کرے کہ تجھے بھی خیر و بھلائی حاصل ہو۔

2250Mishkaat-al-Masabih

بددعا کرنے کی ممانعت

وعن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تدعوا على أنفسكم ولا تدعوا على أولادكم لا توافقوا من الله ساعة يسأل فيها عطاء فيستجيب لكم . رواه مسلم وذكر حديث ابن عباس : اتق دعوة المظلوم . في كتاب الزكاة

حضرت جابر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اپنے لئے بد دعا نہ کرو اپنی اولاد کے لئے بد دعا نہ کرو اور نہ اپنے مال غلام لونڈیوں جانوروں اور دوسرے مال و اسباب کے لئے بد دعا کرو تاکہ تمہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ ساعت حاصل نہ ہوجائے جس میں اللہ ہر سوال پورا کرتا ہے اور پھر تمہاری بد دعا قبول ہوجائے گی۔ (مسلم) تشریح حدیث کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ کچھ اوقات ایسے ہوتے ہیں جس میں حق تعالیٰ کی بارگاہ میں ہر دعا کو شرف قبولیت سے نوازا جاتا ہے اس لئے کہیں ایسا نہ ہو کہ تم جس وقت اپنے لئے یا اپنی اولاد یا اپنے مال کے لئے بد دعا کر رہے ہو وہی وقت قبولیت دعا کا ہو اور پھر تمہاری بد دعا قبول ہوجائے جس کے نتیجے میں نقصان و خسران بھی ہو اور پشیمانی بھی ہو لہٰذا اس سے معلوم ہوا کہ جو نادان کسی مصیبت و تکلیف یا غصہ کے وقت اپنے لئے یا اپنی اولاد کے لئے اپنے اموال کے لئے بد دعا کرتے ہیں وہ مناسب نہیں ہے۔ وذکر حدیث ابن عباس اتق دعوۃ المظلوم فی کتاب الزکوۃ اور ابن عباس ؓ کی حدیث مظلوم کی دعا سے ڈرو الخ کتاب الزکوۃ میں نقل کی جا چکی ہے۔

2251Mishkaat-al-Masabih

دعا عبادت ہے

عن النعمان بن بشير قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الدعاء هو العبادة ثم قرأ : ( وقال ربكم ادعوني أستجب لكم ) رواه أحمد والترمذي وأبو داود والنسائي وابن ماجه

حضرت نعمان بن بشری ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ دعا ہی عبادت ہے۔ اور پھر اس کے بعد آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی۔ اور تمہارے پروردگار نے کہہ دیا ہے کہ مجھ سے دعا مانگو میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔ (احمد، ترمذی، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ) تشریح گویا آپ ﷺ نے بطور مبالغہ فرمایا کہ۔ دعا ہی عبادت ہے۔ کیونکہ دعا وہ عبادت ہے جس میں بندہ حق تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتا ہے اللہ کی ذات کے علاوہ ہر ایک ذات سے استغنا برتتا ہے اللہ کی ذات کے علاوہ اور کسی سے نہ ڈرتا ہے نہ امید رکھتا ہے اور پھر یہ کہ دعا میں اخلاص ہوتا ہے اللہ کی حمد و شکر گزاری ہوتی ہے اللہ سے سوال کیا جاتا ہے اللہ کی وحدانیت کو ظاہر کیا جاتا ہے اپنے مقصد اور مطلب کے حصول کے لئے اللہ ہی کی طرف توجہ اور رغبت ہوتی ہے اللہ کی مناجات کی جاتی ہے اللہ کے سامنے اپنے آپ کو ذلیل و کمتر و عاجز کر کے کمال عبودیت کا اظہار کیا جاتا ہے اور اللہ سے فریاد کی جاتی ہے اور اس سے مدد مانگی جاتی ہے۔ آپ ﷺ نے اپنے ارشاد کی توثیق کے سلسلہ میں بطور دلیل قرآن کریم کی آیت اس لئے پڑھی کہ اس سے معلوم ہوجائے کہ دعا مامور بہ ہے یعنی دعا کرنے کا حکم دیا گیا اور اس حکم کی تعمیل یعنی دعا مانگنے پر ثواب دیا جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ جو چیز اس درجہ کی ہوتی ہے اسے ہی عبادت کہتے ہیں کہ اس آیت کا آخری حصہ بھی دلالت کرتا ہے کہ دعا عبادت ہے چناچہ آگے فرمایا گیا ہے۔ آیت ( اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ ) 40۔ غافر 60)۔ جو لوگ میری عبادت یعنی دعا کے سلسلہ میں تکبر کرتے ہیں وہ عنقریب ذلیل و خوار ہو کر دوزخ میں داخل ہوں گے۔

2252Mishkaat-al-Masabih

دعا عبادت کا خلاصہ ہے

وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الدعاء مخ العبادة . رواه الترمذي

حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ دعا عبادت کا مغز ہے۔ (ترمذی) تشریح مطلب یہ ہے کہ دعا عبادت کا خلاصہ ہے اور اس کا مقصود باالذات ہے کیونکہ عبادت کی حقیقت اور اس کا خلاصہ عاجزی اور اپنے آپ کو ذلیل و کمتر سمجھنا ہے اور یہی چیز دعا میں حاصل ہوتی ہیں۔

2253Mishkaat-al-Masabih

دعا کی فضیلت اور برتری

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ليس شيء أكرم على الله من الدعاء

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کے نزدیک دعا سے زیادہ بلند مرتبہ کوئی چیز نہیں ہے۔ (ترمذی، ابن ماجہ اور امام ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ تشریح دعا سے زیادہ بلند مرتبہ کوئی چیز نہیں ہے۔ کا مطلب یہ ہے کہ اذکار و عبادات میں کوئی چیز دعا کے برابر نہیں ہے۔ لہٰذا آپ کا یہ ارشاد قرآن کریم کی اس آیت۔ (اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ ) 49۔ الحجرات 13)۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تم میں بہت زیادہ بلند مرتبہ وہی شخص ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیز گار ہے۔ (کے منافی نہیں ہے)

2254Mishkaat-al-Masabih

دعا تقدیر کو بدل دیتی ہے۔

وعن سلمان الفارسي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يرد القضاء إلا الدعاء ولا يزيد في العمر إلا البر . رواه الترمذي

حضرت سلمان فارسی ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تقدیر کو دعا کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں بدلتی اور عمر کو نیکی کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں بڑھاتی۔ (ترمذی) تشریح تقدیر سے مراد ہے ایسی ناپسندیدہ چیز کا پیش آنا جس سے انسان ڈرتا ہے، لہٰذا حدیث کا مطلب یہ ہوا کہ جب بندہ کو دعا کرنے کی توفیق ہوجاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے ایسی چیز کو دور کرتا ہے۔ تقدیر کی قسمیں خوب سمجھ لیجئے کہ تقدیر کی دو قسمیں ہیں ایک تو مبرم اور دوسری معلق تقدیر مبرم تو حق تعالیٰ کا اٹل فیصلہ ہوتا ہے جو چیز پیش آنے والی ہوتی ہے اس میں کچھ بھی تغیر و تبدل ممکن نہیں ہے مگر تقدیر معلق میں بعض اسباب کی بنا پر تغیر و تبدل بھی ہوتا ہے۔ لہٰذا یہاں حدیث میں جس تقدیر کے بارے میں کہا ہے کہ وہ دعا سے بدل جاتی ہے وہ تقدیر معلق ہی ہے یہاں تقدیر مبرم مراد نہیں ہے۔ نیکی سے عمر میں اضافہ کا مطلب حدیث سے جو یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ نیکی سے عمر میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کے بارے میں بھی سمجھ لیجئے کہ یہاں بھی عمر کی کمی و زیادتی تقدیر معلق کے اعتبار سے ہے یعنی تقدیر میں لکھ دیا جاتا ہے کہ فلاں شخص اگر نیکی کرے گا تو اتنی عمر ہوگی اور اگر نیکی نہ کرے گا تو اتنی عمر ہوگی۔ اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ لوح محفوظ میں اس طرح لکھا جاتا ہے کہ مثلا اگر فلاں شخص حج کرے گا یا جہاد کرے گا تو اس کی عمر چالیس سال کی ہوگی اور اگر حج و جہاد دونوں کرے گا تو اس کی عمر ساٹھ سال کی ہوگی لہٰذا اگر اس شخص نے حج بھی کیا اور جہاد بھی کیا تو اس کی عمر ساٹھ سال کی ہوگی اس طرح اس کی عمر بڑھ گئی اور اگر اس نے صرف جہاد ہی کیا یا صرف حج ہی کیا تو اس کی عمر چالیس سال کی ہوگی اس طرح اس کی عمر انتہاء عمر سے کہ وہ ساٹھ سال تھی کم ہوئی۔ بعض حضرات نے حدیث کے اس جملہ کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ جس شخص نے نیکی کی اس کی عمر ضائع نہیں ہوئی پس گویا اس کی عمر زیادہ ہوئی اس اعتبار سے یہاں فرمایا گیا ہے کہ نیکی انسان کی عمر میں اضافہ کردیتی ہے۔

2255Mishkaat-al-Masabih

دعا دافع بلا ہے

وعن ابن عمر رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الدعاء ينفع مما نزل ومما لم ينزل فعليكم عباد الله بالدعاء . رواه الترمذي

حضرت ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ بلاشبہ دعا اس چیز کے لئے بھی نافع سے جو پیش آچکی ہے اور اس چیز کے لئے بھی نافع ہے جو پیش نہیں آئی ہے لہٰذا اے اللہ کے بندو! دعا کو اپنے لئے ضروری سمجھو۔ (ترمذی) اس روایت کو احمد نے معاذ بن جبل ؓ سے نقل کیا ہے نیز امام ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے۔ تشریح جو چیز پیش آچکی ہے اس کے لئے دعا کے نافع ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جو مصیبت و بلا نازل ہوچکی ہے اگر وہ معلق ہوتی ہے تو دعا کرنے سے دفع ہوجاتی ہے اور انسان سکون و اطمینان پا لیتا ہے اور اگر وہ مبرم ہوتی ہے تو بھی دعا کا نفع ظاہر ہوتا ہے بایں طور کہ اللہ تعالیٰ اسے صبر کی طاقت عطا فرما دیتا ہے جس کے نتیجے میں نہ صرف یہ کہ اس مصیبت و بلا کا تحمل اس کے لئے آسان ہوجاتا ہے اور وہ اس پر راضی بھی ہوجاتا ہے بلکہ وہ یہ نہیں چاہتا کہ وہ مصیبت و بلا میں مبتلا نہ ہو۔ کیونکہ صبر کی دولت حاصل ہوجانے کے بعد اس کا جذبہ اطاعت اتنا قوی ہوجاتا ہے اور مضبوط ہوجاتا ہے کہ وہ اس مصیبت و بلا میں بھی اسی طرح لذت و کیفیت محسوس کرتا ہے جیسا کہ خالص دنیا دار قسم کے لوگ نعمتوں اور راحتوں میں لذت وکیف پاتے ہیں۔ جو چیز پیش نہیں آتی اس کے لئے دعا بایں طور نافع ہوتی ہے کہ اس کو نازل ہونے سے روک دیتی ہے بشرطیکہ اس کا تعلق بھی تقدیر معلق سے ہو۔

2256Mishkaat-al-Masabih

دعا دافع بلا ہے

وعن جابر رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من أحد يدعو بدعاء إلا آتاه الله ما سأل أو كف عنه من السوء مثله ما لم يدع بإثم أو قطيعة رحم . رواه الترمذي

حضرت جابر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو بھی شخص دعا مانگتا ہے تو اللہ تعالیٰ یا تو اسے وہ چیز عطا فرما دیتا ہے جو وہ مانگتا ہے بشرطیکہ اس چیز کا دینا ازل میں اس کے مقدر میں لکھا جا چکا ہو یا اس کے عوض میں اس سے برائی کو روک دیتا ہے یعنی اس چیز کا اگر دینا اس کے مقدر میں لکھا نہیں ہوتا تو اس کے عوض میں اللہ تعالیٰ اس کے مانگنے کے بقدر اس سے مصیبت وبلا کو دور کردیتا ہے جب تک وہ گناہ کی کوئی چیز یا ناطہ توڑنے کی دعا نہیں مانگتا۔ (ترمذی)

2257Mishkaat-al-Masabih

اللہ تعالیٰ سے اس کا فضل مانگو

وعن ابن مسعود رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : سلوا الله من فضله فإن الله يحب أن يسأل وأفضل العبادة انتظار الفرج . رواه الترمذي وقال هذا حديث غريب

حضرت ابن مسعود ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے اس کا فضل مانگا جائے اور عبادت (یعنی دعا) کی سب سے بہتر چیز کشادگی کا انتظار کرنا ہے۔ امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔ تشریح کشادگی کا انتظار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ دعا مانگنے والا غیر اللہ سے شکوہ و شکایت اور مایوسی کا اظہار کئے بغیر اس بات کا امیدوار رہے کہ وہ جس بلاء و غم کے دور ہونے کی دعا مانگ رہا ہے وہ انشاء اللہ ضرور دور ہوگا قبولیت دعا میں بظاہر چاہے کتنی ہی تاخیر ہو مگر وہ امید و آس کا دامن ہرگز نہ چھوڑے اور کسی بھی مرحلہ پر اللہ کی ذات اور اس کے فضل سے ایک لمحہ کے لئے بھی مایوس نہ ہو۔ گویا یہ اشارہ ہے صبر کی طرف کہ صبر کی طاقت نہ صرف یہ کہ انسان کی قوت ارادی میں زبردست اضافہ کا سبب بنتی ہے بلکہ اللہ کی ذات پر مکمل اعتماد و یقین اور بھروسہ کی اسپرٹ پیدا کرتی ہے اور ویسے بھی اس میں کوئی شک نہیں کہ صبر کی جزاء اور اس کا انعام بےحد و بےحساب ہے۔

2258Mishkaat-al-Masabih

اللہ سے نہ مانگنا اللہ کی ناراضگی کا سبب

وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من لم يسأل الله يغضب عليه . رواه الترمذي

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جو شخص اللہ سے نہیں مانگتا اللہ اس سے ناراض ہوتا ہے کیونکہ ترک دعا اللہ سے تکبر اور استغناء کی علامت ہے۔ (ترمذی)

2259Mishkaat-al-Masabih

اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگنے کو بہت پسند کرتا ہے

وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من فتح له منكم باب الدعاء فتحت له أبواب الرحمة وما سئل الله شيئا يعني أحب إليه من أن يسأل العافية . رواه الترمذي

حضرت ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ تم میں سے جس شخص کے لئے دعا کا دروازہ کھولا گیا یعنی جس شخص کو پورے آداب و شرائط کے ساتھ بہت دعا مانگنے کی توفیق عطا کی گئی تو سمجھو کہ اس کے لئے رحمت کے دروازے کھول دئیے گئے کیونکہ اس کی دعا کے نتیجے میں کبھی تو اس کی مانگی ہوئی چیز ملتی ہے اور کبھی مانگی ہوئی چیز کے بدلہ میں اس سے شر و برائی کو دور کردیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز نہیں مانگی جاتی۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ اور محبوب بات یہ ہے کہ اس سے عافیت مانگی جائے۔ (ترمذی) تشریح حدیث کے آخری جز کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ عافیت مانگنے کو بہت پسند کرتا ہے اس کے برابر اور کسی چیز کے مانگنے کو پسند نہیں کرتا۔ عافیت کے معنی ہیں دنیا و آخرت کی تمام ظاہری و باطنی غیر پسندیدہ چیزوں تمام آفات و مصائب تمام بیماریوں اور تمام بلاؤں سے سلامتی و حفاظت۔ لہٰذا عافیت، دنیا و آخرت کی تمام بھلائیوں پر حاوی ہے جس نے عافیت مانگی اس نے گویا دنیا وآخرت کی تمام ہی بھلائیاں مانگ لیں۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ عافیت مانگنے کو پسند کرتا ہے۔ (نسال اللہ العافیۃ)

2260Mishkaat-al-Masabih

سختیوں میں قبولیت دعا کا خواہشمند فراخی کے وقت زیادہ دعا مانگے

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من سره أن يستجيب الله له عند الشدائد فليكثر الدعاء في الرخاء . رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريب

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص کے لئے یہ بات پسندیدگی اور خوشی کا باعث ہو کہ تنگی اور سختی کے وقت اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول کرے تو اسے چاہئے کہ وہ وسعت فراخی کے زمانہ میں بہت دعا کرتا رہے۔ اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔