Mishkaat-al-Masabih

All 6,333 hadiths in order · Page 111 of 317

2201Mishkaat-al-Masabih

قرآن کی خبر گیری کرو

عن أبي موسى الأشعري رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : تعاهدوا القرآن فوالذي نفسي بيده لهو أشد تفصيا من الإبل في عقلها

حضرت ابوموسیٰ اشعری راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا قرآن کی خبر گیری کرو (یعنی قرآن برابر پڑھتے رہو تاکہ بھولو نہیں قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے قرآن سینوں سے اتنی جلدی نکل جاتا ہے کہ اونٹ بھی اتنی جلدی اپنی رسی سے نہیں نکلتا۔ (بخاری ومسلم) تشریح یعنی اگر اونٹ کا نگہبان ومالک اپنے اونٹ کی طرف سے غفلت برتے تو اونٹ رسی سے نکل بھاگتا ہے اسی طرح اگر قرآن کریم برابر نہ پڑھا جاتا رہا تو وہ اونٹ سے بھی جلدی سینہ سے نکل جاتا ہے یعنی جلدی بھول جاتا ہے۔

2202Mishkaat-al-Masabih

قرآن کے بارے میں ایک ادب

وعن ابن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : بئس مالأحدهم أن يقول : نسيت آية كيت وكيت بل نسي واستذكروا القرآن فإنه أشد تفصيا من صدور الرجال من النعم . متفق عليه . وزاد مسلم : بعقلها

حضرت ابن مسعود ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ کسی شخص کے لئے یہ بات بری ہے کہ وہ یوں کہے کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا ہوں بلکہ وہ اس طرح کہے کہ بھلایا گیا اور قرآن کریم برابر یاد کرتے رہا کرو کیونکہ وہ لوگوں کے دل سے جانوروں سے بھی جلد نکل جاتا ہے (بخاری ومسلم) مسلم کی روایت میں لفظ بعقلہا بھی ہے یعنی ان جانوروں سے بھی جلد جو اپنی رسی جلد اپنی میں بندھے ہوئے ہوں۔ تشریح یہاں ایک ادب سکھایا جا رہا ہے اگر کسی شخص کو قرآن کریم کی کوئی سورت یا آیت یاد نہ رہے تو وہ اس کا اظہار کیونکہ کرے؟ ایسے موقع پر یہ کہنا کہ میں بھول گیا ہوں اس لئے منع ہے کہ اس طرح کہنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس نے قران پڑھنا چھوڑ دیا اور بےپروائی کے سبب بھول گیا جو ظاہر ہے کہ قرآن کی شان عظمت کے منافی اس طرح کہنا کہ بھولایا گیا ہوں گویا اس سعادت ونعمت کے حصول میں اپنی تقصیر و کوتاہی اور حسرت کا اظہار ہے جو صحیح ہے۔

2203Mishkaat-al-Masabih

صاحب قرآن کی مثال

وعن ابن عمر أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إنما مثل صاحب القرآن كمثل صاحب الإبل المعقلة إن عاهد عليها أمسكها وإن أطلقها ذهبت

حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا صاحب قرآن (قرآن پڑھنے والے) کی مثال بندھے ہوئے اونٹ کے مالک کی سی ہے اگر وہ اس اونٹ کی خبر گیری کرتا ہے تو وہ بندھا اور رکا رہتا ہے اور اگر اسے چھوڑ دیتا ہے تو وہ جاتا رہتا ہے اسی طرح اگر کوئی شخص قرآن کریم برابر نہ پڑھے اور یاد نہ کرتا رہے تو قرآن اس کے سینہ سے نکل جاتا ہے۔ (بخاری ومسلم)

2204Mishkaat-al-Masabih

جبت تک دل لگے قرآن پڑھو

وعن جندب بن عبد الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اقرؤوا القرآن ما ائتلفت عليه قلوبكم فإذا اختلفتم فقوموا عنه

حضرت جندب بن عبداللہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا قرآن اس وقت تک پڑھو جب تک کہ تمہارے دل کی خواہش ہو جب آپس میں اختلاف ہو (یعنی زیادہ پڑھنے سے ملال اور دل گرفتگی محسوس ہو) یعنی قرآن پڑھنا موقوف کردو۔ (بخاری ومسلم) تشریح ابن ملک کہتے ہیں کہ قرآن کریم کی تلاوت وقرأت میں اسی وقت تک مصروف رہنا چاہئے جب تک دل لگے دل نہ لگنے کی صورت میں قرآن کریم نہ پڑھنا بغیر حضور دل کے پڑھنے سے افضل ہے، لیکن یہاں اس حدیث سے یہ نکتہ سامنے آتا ہے کہ انسان کو چاہئے کہ وہ عادی بنے اور اپنے نفس کو ریاضت میں ڈالے تاکہ زیادہ سے زیادہ دیر تک پڑھنے سے طبیعت ملول نہ ہو بلکہ زیادہ خوشی و فرحت محسوس ہو کیونکہ کاہل اور آسودہ دل جو ریاضت کی عادت نہیں ڈالتے جلدی ہی ملول ہوجاتے ہیں چناچہ بعض تو ایسے ہوتے ہیں کہ ایک ہی سپارہ پڑھنے میں اپنی طبیعت پر بار محسوس کرنے لگتے ہیں اور ملول ہوجاتے ہیں جب کہ وہ لوگ جو ریاضت کے عادی ہوتے ہیں ایک سیارہ بلکہ اس سے بھی زیادہ اتنے ذوق وشوق کے ساتھ پڑھتے ہیں جب کہ نہ تو ان کی طبیعت پر ذرا سا بھی بار ہوتا ہے اور نہ وہ ملول ہوتے ہیں۔

2205Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کی قرأت

وعن قتادة قال : سئل أنس : كيف كانت قراءة النبي صلى الله عليه و سلم فقال : كانت مدا مدا ثم قرأ : بسم الله الرحمن الرحيم يمد ببسم الله ويمد بالرحمن ويمد بالرحيم . رواه البخاري

حضرت ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ حضرت انس ؓ سے پوچھا گیا کہ نبی کریم ﷺ کی قرأت کیسی ہوتی تھی؟ انہوں نے کہا کہ آپ کی قرأت درازی کے ساتھ ہوتی تھی پھر انہوں نے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر بتایا کہ اس طرح بسم اللہ دراز کرتے تھے (یعنی بسم اللہ الہ کے الف کو الف کے مقصود کے بقدر کھینچتے تھے، رحمن کو دراز کرتے تھے (یعنی اس کے الف کو بھی کھینچتے تھے) اور رحیم کو دراز کرتے تھے (یعنی رحیم کی یا کو اصلی یا عرضی مد کرتے تھے۔ (بخاری) تشریح آپ کی قرأت درازی کے ساتھ ہوتی تھی۔ کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ حروف مد اور لین کو بقدر معروف مد کرتے تھے جو ارباب وقوف (یعنی ارباب تجوید) کے قواعد و شرائط کے مطابق ہے۔ علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ حروف تین ہیں واؤ، الف، یا، چناچہ اس بارے میں قاعدہ یہ ہے کہ جب ان کے بقدر ہمزہ ہو تو الف کے بقدر ان کو مد کرنا چاہئے بعض حضرات کہتے ہیں کہ دو الف سے پانچ الف تک کے بقدر مد کرنا چاہئے۔ بقدر الف سے درازگی آواز مراد ہے جب کہ کہا جائے با یا تا۔ اور اگر حروف مد کے تشدید ہو تو بقدر چار الفوں کے مد کرنا چاہئے اتفاقا جیسے دابۃ اور ان کے بعد حرف ساکن ہو تو بقدر دو الفوں کے مد کرنا چاہئے اتفاقا جیسے مار اور یعلمون اور ان کے بعد مذکورہ بالا حروف کے علاوہ حرف ہو تو مد نہیں کرنا چاہئے صرف اسی آواز پر اکتفاء کرنا چاہئے جو اس حرف کے نکلنے کے بقدر ہو جیسے ایاک یہ بات ملحوظ رہنی چاہئے کہ بسم اللہ میں جو مد ہوتے ہیں وہ سب اسی قبیل سے ہیں۔

2206Mishkaat-al-Masabih

خدا کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ آواز

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما أذن الله لشيء ما أذن لنبي يتغنى بالقرآن

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ جس طرح پسندیدگی کے ساتھ نبی ﷺ کی آواز کو سنتا ہے جب کہ وہ قرآن کریم کو خوش گوئی کے ساتھ پڑھتے ہیں اس طرح کوئی اور آواز نہیں سنتا۔ (بخاری ومسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ یوں تو نبی ﷺ کی آواز بذات خود ہر بشر کی آواز سے عمدہ اور شیریں ہوتی ہے مگر جب نبی ﷺ قرآن کریم خوش گوئی یعنی تجوید و ترتیل کے ساتھ پڑھتے ہیں تو اس وقت ان کی آواز کائنات کی ہر آواز سے لطیف و شیریں ہوتی ہے اور ایسا کیوں نہ ہو؟ اللہ کا کلام اور اللہ کا رسول اسے پڑھ رہا ہو تو ظاہر ہے کہ کائنات کا ایک ایک ذرہ جاندار ہی نہیں غیر جاندار بھی وجد میں آجاتا ہے اسی بات کو فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ رب العزت اس آواز کو جتنا پسند کرتا ہے اور اسے جس طرح قبول کرتا ہے اس کی یہ پسندیدگی اور مقبولیت کائنات کو کسی بھی ایسی چیز کو حاصل نہیں ہوتی جس میں آواز ہوتی ہے اور جو سنی جاتی ہے۔

2207Mishkaat-al-Masabih

خدا کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ آواز

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما أذن الله لشيء ما أذن لنبي حسن الصوت بالقرآن يجهر به

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کسی بھی چیز کے لئے کان نہیں رکھتا یعنی کسی بھی چیز کی آواز کو قبول نہیں کرتا جیسا کہ وہ قرآن پڑھتے وقت نبی ﷺ کی خوش گوئی کے لئے کان رکھتا ہے یعنی اسے پسند و قبول کرتا ہے جب کہ نبی بآواز بلند قرآن کریم پڑھتے ہیں۔ (بخاری ومسلم)

2208Mishkaat-al-Masabih

قرآن کریم اور خوش گلوئی

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ليس منا من لم يتغن بالقرآن . رواه البخاري

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا وہ شخص ہمارے کامل طریقہ پر چلنے والا نہیں ہے جو قرآن کریم خوش گوئی کے ساتھ نہ پڑھے۔ (بخاری) تشریح مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم کو خوش گوئی اور خوش آوازی کے ساتھ پڑھنا چاہئے بشرطیکہ حروف، حرکات مد، تشدید یا اسی طرح اور کسی چیز میں تغیر پیدا نہ ہو، اسی طرح راگ کے طور پر بھی نہ ہو، بلکہ اس بارے میں تو مسئلہ یہ ہے کہ جو شخص قصدا قرآن کریم راگ کے انداز میں پڑھے گا وہ فعل حرام کا مرتکب ہوگا اس سے اجتناب ضروری ہے۔

2209Mishkaat-al-Masabih

قرآن کریم کی سماعت

وعن عبد الله بن مسعود قال : قال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو على المنبر : اقرأ علي . قلت : أقرا عليك وعليك أنزل ؟ قال : إني أحب أن أسمعه من غيري . فقرأت سورة النساء حتى أتيت إلى هذه الآية ( فكيف إذا جئنا من كل أمة بشهيد وجئنا بك على هؤلاء شهيدا ) قال : حسبك الآن . فالتفت إليه فإذا عيناه تذرفان

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول کریم ﷺ نے اس وقت جب کہ آپ ﷺ منبر پر تھے مجھ سے فرمایا کہ میرے سامنے قرآن کریم پڑھو، میں نے عرض کیا کہ آپ ﷺ کے سامنے میں قرآن کریم پڑھوں؟ حالانکہ قرآن کریم ﷺ آپ پر اتارا گیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں اسے پسند کرتا ہوں کہ اپنے علاوہ کسی دوسرے سے قرآن سنوں! حضرت ابن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ چناچہ میں نے سورت نساء پڑھنی شروع کی یہاں تک کہ جب میں اس آیت پر پہنچا آیت (فَكَيْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ بِشَهِيْدٍ وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰي هٰ ؤُلَا ءِ شَهِيْدًا) 4۔ النسآء 41) بھلا اس (قیامت کے) دن یہود وغیرہ کا کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ بلائیں گے (یعنی ہر امت کا نبی اس دن اپنی امت کے فعال و احوال کی گواہی دے گا) اور ہم آپ ﷺ کو اس امت کا گواہ بنا کر بلائیں گے تو آپ ﷺ نے فرمایا بس اب رک جاؤ (کیونکہ میں اس آیت میں مستغرق ہوتا ہوں) پھر جب میں آپ ﷺ کی طرف متوجہ ہوا تو میں کیا دیکھتا ہوں کہ آپ ﷺ کی مقدار میں آنکھیں آنسو بہا رہی ہیں (بخاری ومسلم) تشریح حضرت ابن مسعود ؓ کی عرض کہ قرآن آپ پر اتارا گیا کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم چونکہ خود آپ ﷺ پر نازل ہوا ہے اس لئے قرآن کریم پڑھنا بھی آپ ﷺ ہی کا حق ہے اور یہ جس طرح اتارا گیا ہے اسی طرح آپ ﷺ اسے پڑھ سکتے ہیں کسی اور کی کیا مجال کہ وہ آپ ﷺ کے سامنے قرآن کریم پڑھے۔ اس کے جواب میں آپ ﷺ کے ارشاد گرامی میں اسے پسند کرتا ہوں الخ کا مطلب یہ ہے کہ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے جب کہ میری خواہش یہ ہوتی ہے کہ میں کسی دوسرے سے قرآن سنوں اور یہ وہ وقت ہوتا ہے جس میں عارف پر حالت سکون طاری ہوتی ہے جیسا کہ کہا گیا ہے من عرف اللہ کل لسانہ (یعنی جس نے اللہ کو پہچانا اس کی زبان خاموش ہوگئی) اس کے برخلاف عارف کی ایک اور حالت ہوتی ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ من عف اللہ طال لسانہ یعنی جس نے اللہ کو پہچانا اس کی زبان کھل جاتی ہے۔ حاصل یہ ہے کہ بعض وقت تو عارف حالت تحیر واستغراق میں ہوتا ہے کہ سکونت اختیار کرتا ہے اور بعض وقت ہوشیار رہتا ہے کہ اس وقت وہ حقائق و معارف وغیرہ بیان کرتا ہے۔ دوسرے سے قرآن سننے میں ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ قرآنی آیات کے مفہوم و معانی خوب اچھی طرح سمجھ میں آتے ہیں غور و فکر اور محویت کمال درجہ کی حاصل ہوتی ہے۔ سورت نساء کی حدیث میں مذکورہ آیت کا مقصد چونکہ قیامت کے دن کو یاد دلانا ہے اس لئے آنحضرت ﷺ اس دن کی ہولناکی اور اپنی امت کے ضعف کا خیال کر کے روئے، یہ اس بات کی بیّن علامت اور دلیل ہے کہ آنحضرت ﷺ اپنی امت پر بڑے شفیق و عنایت فرما ہیں۔ صلی اللہ علیہ الف الف صلوۃ کلما ذکرہ الذاکرون وکلما غفل عن ذکر الغافلون۔

2210Mishkaat-al-Masabih

حضرت ابی بن کعب کی سعادت

وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لأبي بن كعب : إن الله أمرني أن أقرأ عليك القرآن قال : آلله سماني لك ؟ قال : نعم . قال : وقد ذكرت عند رب العالمين ؟ قال : نعم . فذرفت عيناه . وفي رواية : إن الله أمرني أن أقرأ عليك ( لم يكن الذين كفروا ) قال : وسماني ؟ قال : نعم . فبكى

حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ (ایک دن) رسول کریم ﷺ نے حضرت ابی بن کعب ؓ سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہارے سامنے قرآن پڑھوں؟ حضرت ابی ؓ نے عرض کیا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے میرا نام آپ کے سامنے لیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا ہاں۔ حضرت ابی ؓ نے کہا کہ دونوں جہاں کے پروردگار کے ہاں میرا ذکر کیا گیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں۔ یہ سنتے ہی حضرت ابی بن کعب ؓ کی دونوں آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ ایک اور روایت میں یوں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت ابی ؓ سے فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے کہ میں تمہارے سامنے سورت لم یکن الذین کفروا پڑھو۔ حضرت ابی ؓ نے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے میرا نام لیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں۔ (یہ سنتے ہی حضرت ابی ؓ رو پڑے۔ (بخاری ومسلم) تشریح حضرت ابی بن کعب ؓ تمام صحابہ میں سب سے بڑے قاری تھے چناچہ آنحضرت ﷺ نے ان کے اسی امتیاز وشرف کو صحابہ کے سامنے اسی طرح بیان کیا کہ اقرأکم (تم میں سب سے بڑے قاری ابی ہیں) حضرت ابی ؓ کے قول اللہ سمانی لک کا مطلب یہ تھا کہ کیا خاص طور پر اللہ تعالیٰ نے میرا ہی نام لیا ہے اور انہوں نے یہ بات اپنی عاجزی و انکساری کے اظہار اور اپنی گمنامی کی وجہ سے کہی کہ میں اس لائق کہاں ہوں کہ پروردگار بطور خاص میرا نام لے کر آپ کو حکم دے یا پھر انہوں نے یہ بات از راہ ذوق ولذت کے کہی اور اپنی اس عظیم سعادت وشرف کا اظہار کیا کہ اللہ نے مجھے یہ عظیم مرتبہ بخشا۔ یہ عظیم شرف سن کر حضرت ابی ؓ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجانا خوشی کی وجہ سے تھا ایسی خوشی جو حقیقی عاشق کو محبوب کے وصال اور محبوب کی کرم فرمائی کے وقت حاصل ہوتی ہے ایسی صورت میں قلب کا حزن و ملال سکون پا کر آنکھوں کی راہ سے نکل پڑتا ہے۔ خاص طور پر سورت لم یکن ہی کو پڑھنے کا حکم اس لئے ہوا کہ یہ سورت الفاظ کے اعتبار سے بہت مختصر بھی ہے اور اس میں فوائد بھی بہت زیادہ ہیں کیونکہ اس سورت میں دین کے اصول، وعد وعید اور اخلاص وغیرہ کے اعلیٰ مضامین مذکورہ ہیں۔ اس حدیث سے یہ بات معلوم ہوئی کہ ماہر قرآن اور اہل علم وفضل کے سامنے قرآن پڑھنا مستحب ہے اگرچہ قاری سننے والے سے افضل نہ ہو۔

2211Mishkaat-al-Masabih

دارالحرب میں قرآن لے جانے کی ممانعت

وعن ابن عمر قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يسافر بالقرآن إلى أرض العدو . متفق عليه . وفي رواية لمسلم : لا تسافروا بالقرآن فإني لا آمن أن يناله العدو

حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے دشمن ملک یعنی دارالحرب کی طرف قرآن لے کر سفر کرنے سے منع فرمایا ہے (بخاری ومسلم) اور مسلم کی ایک روایت میں یوں ہے کہ فرمایا قرآن لے کر سفر نہ کرو اس لئے کہ مجھے یہ اطمینان نہیں ہے کہ دشمن اسے چھین لے اور پھر وہ اس کی بےحرمتی کرے۔ تشریح یہاں ایک بڑا لطیف اشکال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں قرآن کریم مصحف میں تو لکھا ہوا تھا نہیں پھر آپ ﷺ نے یہ کیسے فرمایا کہ قرآن لے کر سفر نہ کیا جائے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ آپ ﷺ کے زمانہ میں اگرچہ پورا قرآن مصحف میں لکھا ہوا نہیں تھا مگر پھر بھی جو کچھ نازل ہوتا تھا اسے لوگ اپنے اپنے صحیفوں میں لکھ لیتے تھے اور ظاہر ہے کہ وہ قرآن ہی کے حکم میں تھا۔ یا یہ کہ آپ ﷺ نے یہ بات بطور پیش گوئی فرمائی کہ میرے بعد جب قرآن کریم کو مکمل طور پر یک جا جمع کر کے مصحف کی شکل دے دی جائے تو اسے لوگ لے کر کفار کے ملک میں نہ جائیں کہ مبادا وہ کفار کے ہاتھ لگ جائے اور وہ اس کی بےحرمتی کریں۔ بعض علماء فرماتے ہیں کہ دارالکفر میں اپنے ساتھ قرآن لے جانا مکروہ ہے نیز مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کافر کو کوئی خط وغیرہ لکھے تو اس میں آیت لکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ نے ہرقل کو جو مکتوب بھیجا تھا اس میں یہ آیت ( تَعَالَوْا اِلٰى كَلِمَةٍ سَوَا ءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰهَ وَلَا نُشْرِكَ بِه شَيْ ً ا وَّلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْهَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ ) 3۔ آل عمران 64) لکھی تھی۔

2212Mishkaat-al-Masabih

غرباء مہاجرین کو بشارت

عن أبي سعيد الخدري قال : جلست في عصابة من ضعفاء المهاجرين وإن بعضهم ليستتر ببعض من العري وقارئ يقرأ علينا إذ جاء رسول الله صلى الله عليه و سلم فقام علينا فلما قام رسول الله صلى الله عليه و سلم سكت القارئ فسلم ثم قال : ما كنتم تصنعون ؟ قلنا : كنا نستمع إلى كتاب الله قال فقال : الحمد لله الذي جعل من أمتي من أمرت أن أصبر نفسي معهم . قال فجلس وسطنا ليعدل بنفسه فينا ثم قال بيده هكذا فتحلقوا وبرزت وجوههم له فقال : أبشروا يا معشر صعاليك المهاجرين بالنور التام يوم القيامة تدخلون الجنة قبل أغنياء الناس بنصف يوم وذاك خمسمائة سنة . رواه أبو داود

حضرت ابوسعید ؓ خدری کہتے ہیں کہ میں ایک دن غرباء مہاجرین (یعنی اصحاب صفہ) کی ایک جماعت کے درمیان بیٹھا تھا ان میں سے کچھ ننگے بدن ہونے کی وجہ سے اپنے ساتھیوں کی اوٹ میں بیٹھے ہوئے تھے اور ایک شخص ہمارے سامنے قرآن پڑھ رہا تھا کہ اچانک نبی کریم ﷺ تشریف لائے اور ہمارے پاس کھڑے ہوگئے پڑھنے والے نے جب نبی کریم ﷺ کو کھڑے ہوئے دیکھا تو وہ چپ ہوگیا اس وقت آپ ﷺ نے ہمیں سلام کیا اور فرمایا کہ تم لوگ کیا کر رہے ہو۔ ہم نے عرض کیا کہ ہم کتاب اللہ سن رہے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے میری امت میں وہ لوگ پیدا کئے جن کے بارے میں مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ان کے ساتھ بیٹھوں۔ راوی کہتے ہیں کہ یہ فرما کر آپ ﷺ ہمارے درمیان بیٹھ گئے (یعنی کسی خاص شخص کے پہلو میں نہیں بیٹھے) تاکہ آپ ﷺ کی ذات اقدس کا تعلق ہم سب کے ساتھ یکساں رہے پھر آپ ﷺ نے اپنی انگلی سے اس طرح اشارہ کیا (کہ حلقہ بنا کر بیٹھ جاؤ) سب لوگ حلقہ بنا کر بیٹھ گئے اور ان سب کے منہ آپ کی طرف ہوگئے اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا اے مہاجرین کے مفلس گروہ تمہیں خوش خبری ہو اس بات کی کہ قیامت کے دن تمہیں بھر پور نور حاصل ہوگا اور تم دولت مند طبقے سے آدھے دن پہلے جنت میں داخل ہوگئے اور آدھا دن پانچ سو برس کے برابر ہوگا۔ (ابو داؤد) تشریح وان بعضہم الخ کا مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں کے پاس اپنے ساتھی کی بہ نسبت کم کپڑا تھا وہ اپنے اس ساتھی کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا تاکہ کپڑا کم ہونے کی وجہ سے اس کا بند نظر نہ آسکے، چناچہ ننگے بدن سے مراد ستر کے علاوہ جسم کے بقیہ حصہ کا کپڑے سے عاری ہوتا ہے اور ستر کے علاوہ جسم کے بقیہ حصہ کو بھی عام نظروں سے بچانے کی وجہ نہ صرف یہ ہے کہ ان مقدس ہستیوں کا کمال شرم و حیاء کے درجہ پر ہونا تھا بلکہ یہ بات انسانی آداب و معاشرت کے خلاف ہے کہ جسم کے اس حصہ کو عام نظروں میں کھلا رہنے دیا جائے جو عام طور پر کھلا نہیں رہتا۔ اس صورت حال کو یہاں بیان کرنے کا مقصد صحابہ کی اس مقدس جماعت کے فقر و افلاس کا اظہار ہے کہ وہ اپنے بدن کو چھپانے کے لئے پورے طور پر کپڑا بھی نہیں رکھتے تھے اسی لئے وہ مجلس میں ایک دوسرے سے مل کر بیٹھتے تھے تاکہ ایک طرح کی پوشیدگی حاصل ہوجائے۔ اس وقت آپ نے ہمیں سلام کیا۔ اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ جو شخص قرآن پڑھ رہا ہو اسے سلام نہ کرنا چاہئے جب وہ خاموش ہوجائے اس وقت سلام کیا جائے جیسا کہ فقہ کا مسئلہ ہے اسی لئے علماء لکھتے ہیں کہ اگر کوئی شخص قرآن پڑھنے والے کو سلام کرے تو اس کے سلام کا جواب دینا ضروری نہیں ہے۔ صحابہ کو قرآن کی سماعت میں مشغول دیکھنے کے باوجود آپ ﷺ نے ان سے یہ بات کی کہ تم کیا کر رہے ہو۔ جان بوجھ کر اس لئے پوچھی تاکہ ان کا جواب سن کر انہیں یہ عظیم بشارت و خوشخبری سنائیں۔ امرت ان اصبر نفسی الخ اس آیت کریمہ طرف اشارہ ہے۔ آیت (وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَه وَلَا تَعْدُ عَيْنٰكَ عَنْهُمْ تُرِيْدُ زِيْنَةَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَلَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَه عَنْ ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوٰىهُ وَكَانَ اَمْرُه فُرُطًا) 18۔ الکہف 28) (اور آپ ﷺ اپنے کو ان لوگوں کے ساتھ بیٹھنے میں مقید کرلیجئے جو صبح وشام یعنی ہمیشہ اپنے رب کی عبادت محض اس کی رضا جوئی کے لئے کرتے ہیں اور دنیوی زندگانی کی رونق کے خیال سے آپ ﷺ کی آنکھیں (یعنی توجہات) ان سے ہٹنے نہ پائیں اور ایسے شخص کا کہنا نہ مانئے جس کے قلب کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر رکھا ہے اور وہ اپنی نفسانی خواہش پر چلتا ہے اور اس کا یہ حال حد سے گزر گیا ہے راوی کے یہ الفاظ لیعدل الخ کا مطلب ہے کہ تاکہ آپ ﷺ اپنے آپ کو ہمارے درمیان بٹھانے کے معاملہ میں ہم سب کے ساتھ عدل کا معاملہ کریں تاکہ آپ ﷺ کا قرب سب کے ساتھ یکساں رہے یعنی اگر آپ ﷺ کسی شخص کے پاس بیٹھ جاتے تو بقیہ لوگوں کو اس کی خوش بختی پر رشک آتا اور سب کی خواہش یہی ہوتی کہ آپ میرے پاس ہی بیٹھیں اس لئے آپ ﷺ کسی ایک شخص کے پاس بیٹھنے کی بجائے درمیان میں بیٹھے تاکہ قرب کی سعادت سب کو یکساں طور پر حاصل ہو۔ علامہ طیبی نے اس جملہ کے معنی یہ لکھے ہیں کہ آپ ہمارے درمیان اس لئے بیٹھے تاکہ آپ ﷺ ہمارے درمیان برابری کریں اور اپنی ذات کو ہم سب سے ممتاز ونمایا کریں۔ سب لوگ حلقہ بنا کر بیٹھ گئے کا مطلب یہ ہے کہ سب آنحضرت ﷺ کے چہرہ مبارک کے سامنے حلقہ بنا کر بیٹھ گئے اسی طرح ان سب کے منہ آپ کی طرف ہوگئے کا مطلب یہ ہے کہ سب لوگ آپ ﷺ کے سامنے اس طرح بیٹھے کہ آنحضرت ﷺ سب کا چہرہ دیکھتے ہیں۔ قیامت کے دن تمہیں بھرپور نور حاصل ہوگا سے اس طرف اشارہ ہے کہ قیامت کے دن سرمایہ دار اور دولت مند طبقہ (دنیا دار) کو بھر پور نور حاصل نہیں ہوگا کیونکہ آنحضرت ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ جس نے آخرت کو درست رکھا اس نے اپنی دنیا کو نقصان پہنچایا اور جس نے اپنی دنیا کو دوست رکھا اس نے اپنی آخرت کو نقصان پہنچایا لہٰذا جو چیز فنا ہوجانے والی ہے (یعنی دنیا) اس کے مقابلہ میں اس چیز (یعنی آخرت) کو اختیار کرو جو باقی رہنے والی ہے۔ اور تم دولت مند طبقہ سے آدھے دن پہلے جنت میں داخل ہو گے۔ اس بارے میں یہ بات پیش نظر رہنی چاہئے کہ یہاں فقراء سے وہ فقراء مراد ہیں جو صالح اور صابر ہوں، اسی طرح دولت مند سے وہ دولت مند مراد ہیں جو صالح و شاکر اور اپنے مال کا حق (یعنی صدقات و زکوٰۃ وغیرہ) ادا کرنے والے ہوں انہیں میدان حشر میں کھڑا کیا جائے گا اور ان سے پوچھا جائے گا کہ تم نے مال کہاں سے اور کن ذریعوں سے حاصل کیا اور تم نے اس مال کو کہاں کہاں خرچ کیا، وہ اس حساب کتاب میں مصروف ہوں گے کہ فقراء جنت میں داخل بھی ہوجائیں گے۔ اس سے ایک بات معلوم ہوئی کہ قیامت کے روز اللہ کے فضل و کرم سے اور اس کی رحمت میں فقراء کا حصہ دولت مند طبقہ کے حصے سے زیادہ ہوگا کیونکہ دولت مند طبقہ نے تو دنیا میں راحت و نصرت پائی تھی جبکہ فقراء محروم رہے تھے۔

2213Mishkaat-al-Masabih

تجوید وترتیل سے قرآن پڑھنے کا حکم

وعن البراء بن عازب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : زينوا القرآن بأصواتكم . رواه أحمد وأبو داود وابن ماجه والدارمي

حضرت براء بن عازب ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا قرآن کو اپنی آواز کے ذریعہ زینت دو۔ (احمد و ابوداؤد وابن ماجہ ودارمی) تشریح زینت دینے سے مراد یہ ہے کہ قرآن کریم کو تجوید و ترتیل اور آواز کی نرمی و اطاعت کے ساتھ پڑھا جائے یہ بات پہلے بھی بتائی جا چکی ہے اور اب پھر جان لیجئے کہ راگ میں قران کو اس طرح پڑھنا کہ حروف یا حرکات میں کمی و زیادتی ہو حرام ہے اس طرح قرآن پڑھنے والا شخص فاسق ہوتا ہے اور سننے والا گنہگار نیز ایسے شخص کو اس طرح قرآن پڑھنے سے منع کرنا واجب ہے کیونکہ یہ ایک بہت بڑی بدعت ہے۔

2214Mishkaat-al-Masabih

قرآن بھول جانے پر وعید

وعن سعد بن عبادة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من امرئ يقرأ القرآن ثم ينساه إلا لقي الله يوم القيامة أجذم . رواه أبو داود والدارمي

حضرت سعد بن عبادہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص قرآن کریم پڑھ کر بھول جائے تو وہ قیامت کے دن اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اس کا ہاتھ کٹا ہوا ہوگا۔ (ابوداؤد، دارمی) تشریح حنفیہ کے ہاں بھول جانے سے مراد یہ ہے کہ دیکھ کر بھی نہ پڑھ سکے جب کہ حضرت امام شافعی (رح) کے ہاں اس کے معنی یہ ہیں کہ اس نے قرآن حفظ کیا پھر اسے بھول گیا کہ حفظ نہ پڑھ سکے یا پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن پڑھنا چھوڑ دے خواہ بھولے یا نہ بھولے۔ حضرت مولانا شاہ محمد اسحق فرمایا کرتے تھے کہ اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ استعداد والے کا بھولنا تو یہ ہے کہ یاد کئے ہوئے کو بغیر دیکھے نہ پڑھ سکے اور غیر استعداد والے کو بھولنا یہ ہے کہ دیکھ کر بھی نہ پڑھ سکے۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کو سیکھنے اور یاد کرنے کے بعد بھولنا بہت گناہ ہے لہٰذا چاہئے کہ قرآن کے بارے میں تغافل و کوتاہی کا راستہ اختیار نہ کیا جائے بلکہ قرآن کو ہمیشہ اور بہت پڑھتے رہنا چاہئے۔

2215Mishkaat-al-Masabih

تین دن سے کم میں قرآن ختم کرنے کا مسئلہ

وعن عبد الله بن عمرو أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لم يفقه من قرأ القرآن في أقل من ثلاث . رواه الترمذي وأبو داود والدارمي

حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص نے تین رات سے کم میں قرآن پڑھا یعنی ختم کیا اس نے قرآن کو اچھی طرح نہیں سمجھا۔ (ترمذی، ابوداؤد، دارمی) تشریح علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ یہاں یہ مراد ہے کہ جس شخص نے تین دن یا تین رات سے کم میں قرآن ختم کیا وہ قرآن کے ظاہری معنی تو سمجھ سکتا ہے لیکن قرآن کے حقائق و معارف اور دقائق ونکات تک اس کو رسائی بھی نہیں ہوتی کیونکہ ان چیزوں کو سمجھنے کے لئے تین دن تو بہت دور کی چیز ہے بڑی سے بڑی عمریں ناکافی ہوتی ہیں نہ یہ بلکہ اس مختصر سے عرصہ میں تو کسی ایک آیت یا ایک کلمہ کے حقائق و نکات بھی سمجھ میں نہیں آسکتے نیز یہاں نفی سے مراد سمجھنے کی نفی ہے نہ کہ ثواب کی نفی یعنی ثواب تو ہر صورت میں ملتا ہے پھر یہ کہ لوگوں کی سمجھ میں بھی تفاوت وفرق ہے بعض لوگوں کی سمجھ زیادہ پختہ ہوتی ہے وہ کم عرصہ میں بھی قرآنی حقائق ودقائق کو سمجھ لیتے ہیں جب کہ بعض لوگوں کی سمجھ بہت ہی کم ہوتی ہے جن کے لئے طویل عرصہ بھی کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔ سلف میں سے بعض لوگوں نے اس حدیث کے ظاہری مفہوم پر عمل کیا ہے چناچہ ان لوگوں کا معمول یہ تھا کہ وہ ہمیشہ تین ہی دن میں قرآن ختم کرتے تین دن سے کم میں ختم کرنے کو مکروہ سمجھتے تھے جب کہ دوسرے لوگ اس کے برخالف عمل کرتے تھے چناچہ بعض لوگ تو ایک رات دن میں ایک بار اور بعض لوگ دو دو بار اور بعض لوگ تین تین بار قرآن ختم کرتے تھے بلکہ بعض لوگوں کے بارے میں تو یہاں تک ثابت ہے کہ وہ ایک رکعت میں ایک قرآن ختم کرتے تھے۔ ہوسکتا ہے کہ ان لوگوں نے یا تو اس حدیث کے بارے میں یہ خیال کیا ہو کہ اس کا تعلق باعتبار اشخاص کے مختلف ہے یعنی اس حدیث کا تعلق ان لوگوں سے ہے جو کم فہم ہوتے ہیں اور جو اگر تین دن سے کم میں قرآن ختم کریں تو اس کے ظاہر معنی بھی نہ سمجھ سکتے ہوں پھر ان کے نزدیک بات یہ ہو کہ اس حدیث میں فہم کی نفی ہے اور اس صورت میں ظاہر ہے کہ جتنی بھی کم سے کم مدت میں قرآن ختم کیا جائے ثواب ملے گا۔ بعض لوگ دو مہینے میں ایک قرآن ختم کرتے تھے بعض لوگ ہر مہینے میں بعض لوگ دس دن میں اور بعض لوگ سات دن میں ایک قرآن ختم کردیتے تھے چناچہ اکثر صحابہ وغیرہم کا یہی معمول تھا کہ وہ سات دن میں قرآن ختم کرتے تھے۔ بخاری ومسلم کی ایک روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے فرمایا کہ قرآن سات میں ختم کرو اور اس پر زیادتی نہ کرو۔

2216Mishkaat-al-Masabih

ختم الاحزاب کیا ہے

مشائخ و عارفین کی اصطلاح میں سات دن میں قرآن ختم کرنے کا ختم الاحزاب کہتے ہیں ملا علی قاری (رح) کہتے ہیں ملا علی قاری وضاحت کے پیش نظر ختم الاحزاب کی سب سے صحیح ترتیب فمی بشوق ہے ملا علی قاری نے فمی بشوق کو ختم الاحزاب کی صحیح ترتیب اس لئے کہا ہے کہ بعض لوگوں کے نزدیک ختم الاحزاب (سات دن میں قرآن ختم کرنے کا طریقہ) یہ ہے کہ جمعہ کے روز ابتداء قرآن سے سورت مائدہ کے آخر تک پڑھا جائے شنبہ کے روز سورت انعام سے سورت توبہ کے آخر تک، اتوار کو سورت یونس سے سورت مریم کے آخر تک، پیر کو سورت طہ سے سورت قصص کے آخر تک، منگل کو سورت عنکبوت سے سورت ص کے آخر تک بدھ کو سورت زمر سے سورت رحمن کے آخر تک اور جمعرات کو سورت واقعہ سے آخر قرآن تک پڑھا جائے۔ اکثر حاجات کی تکمیل کے لئے مجرب بتایا گیا ہے نیز اس ترتیب کے ساتھ قرآن پڑھنے کے بارے میں بھی یہ کہا گیا ہے کہ ابتداء جمعہ کے روز سے کی جائے بہرکیف مذکورہ بالا بحث کا حاصل یہ ہوا کہ فمی بشوق کی ترتیب کے ساتھ ختم قرآن اور چیز ہے اور ختم الاحزاب دوسری چیز ہے جب کہ ملا علی قاری کے قول کے مطابق ختم الاحزاب اور فمی بشوق کی ترتیب دونوں ایک ہی چیزیں ہیں۔ اب یہ سمجھئے کہ فمی بشوق اور اس کی ترتیب کیا ہے؟ فمی بشوق کی ترتیب کے ساتھ قرآن ختم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم کی سات منزلیں سات دن میں اس طرح پڑھی جائیں کہ ان کے شروع میں فمی بشوق کے حروف واقع ہوں یعنی ف سے سورت فاتحہ کی طرف اشارہ ہے میم سے سورت مائدہ کی طرف، ی سے سورت یونس کی طرف، ب سے سورت بنی اسرائیل کی طرف، ش سے سورت شعراء کی طرف، واؤ سے سورت والصافات کی طرف اور ق سے سورت ق کی طرف اشارہ ہے اس طرح ان حروف کے مجموعہ کا نام ہے فمی بشوق، قرآن ختم کرنے کی یہ ترتیب حضرت علی ؓ کی طرف منسوب ہے کہ وہ اسی ترتیب سے قرآن ختم کرتے تھے۔ اب پھر حدیث کے مفہوم کی طرف آئیے اس بارے میں نووی کا قول یہ ہے کہ حدیث کا حکم باعتبار اشخاص کے مختلف ہے یعنی وہی بات کہ اس کا تعلق کم فہم اور کم علم لوگوں سے ہے لہٰذا جو لوگ قرآنی علوم و معارف پر نظر رکھتے ہوں اور قرآن کے دقائق و معارف سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں تو وہ اسی قدر اقتصار کرسکتے ہیں کہ جب وہ قرآن پڑھیں تو پڑھتے وقت قرآن کی آیات کا کمال فہم بھی انہیں حاصل ہوتا رہے جو شخص علم کی توسیع و اشاعت یا لوگوں کے جھگڑوں کا فیصلہ کرنے یا اسی قسم کے دوسرے کاموں میں مشغول رہتا ہو تو وہ اتنا ہی پڑھنے پر اکتفاء کرے جس سے اس کے اصل کاموں میں حرج واقع نہ ہوتا ہو، اسی طرح جو شخص تحصیل علم یا اپنے اہل و عیال کی ضروریات زندگی فراہم کرنے میں منہمک رہتا ہو، اس کے لئے بھی یہی حکم ہے مذکورہ بالا لوگوں کے علاوہ اشخاص کے لئے یہ حکم ہے کہ وہ جتنا زیادہ پڑھ سکیں پڑھیں بشرطیکہ زیادہ پڑھنا اکتاہٹ اور الفاظ کی تیز ادائیگی کی حد تک نہ پہنچ جائے۔

2217Mishkaat-al-Masabih

قرآن بآواز بلند پڑھنا افضل ہے یا آہستہ

وعن عقبة بن عامر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الجاهر بالقرآن كالجاهر بالصدقة ولامسر بالقرآن كالمسر بالصدقة . رواه الترمذي وأبو داود والنسائي وقال الترمذي : هذا حديث حسن غريب

حضرت عقبہ بن عامر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا بآواز بلند قرآن کریم پڑھنے والا شخص ظاہری صدقہ دینے والے کی طرح ہے اور آہستہ قرآن پڑھنے والا شخص چھپا کر صدقہ دینے والے کی طرح ہے۔ (ترمذی ابوداؤد، نسائی) اور امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ تشریح چھپا کر صدقہ دینا ظاہری طور پر صدقہ دینے سے افضل ہے لہٰذا حدیث کا مفہوم یہ ہوا کہ اسی طرح قرآن کریم آہستہ پڑھنا بآواز بلند پڑھنے سے افضل ہے۔ علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ جس طرح آہستہ قرآن پڑھنے کی فضیلت کے بارے میں احادیث منقول ہیں اسی طرح بآواز بلند قرآن پڑھنے کی فضیلت کے سلسلہ میں احادیث منقول ہیں لہٰذا دونوں طرح کی احادیث میں مطابقت یہ ہے کہ آہستہ آواز سے پڑھنا تو اس شخص کے حق میں افضل ہے جو ریار سے بچنا چاہتا ہو اور بآواز بلند پڑھنا اس شخص کے حق میں افضل ہے جو ریاء میں مبتلا ہونے کا خوف نہ رکھتا ہو بشرطیکہ اس طرح دوسروں کو بھی فائدہ پہنچتا ہے بایں طور کہ لوگ سنتے ہیں جس سے انہیں ثواب ملتا ہے یا دوسرے لوگ قرآن سن سن کر سیکھتے ہیں یا یہ کہ دوسروں کو پہنچتا ہے بایں طور کہ لوگ سنتے ہیں جس سے انہیں ثواب ملتا ہے کہ بآواز قرآن پڑھنا شعار دین اور اللہ کے کلام کا برملا اظہار ہے پڑھنے والے کے دل کو بیداری حاصل ہوتی ہے اس کا دھیان کسی اور طرف نہیں بٹتا، اس کے دل کی غفلت کو دور کرتا ہے، نیند کا غلبہ کم کرتا ہے اور یہ کہ دوسروں کو عبادت کا شوق دلاتا ہے، بہرکیف ان فوائد میں سے ایک فائدہ بھی پیش نظر ہو تو پھر اس صورت میں بآواز بلند پڑھنا ہی افضل ہوگا۔

2218Mishkaat-al-Masabih

قرآن کی کامل پیروی کی تاکید

وعن صهيب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما آمن بالقرآن من استحل محارمه . رواه الترمذي وقال : هذا حديث ليس إسناده بالقوي

اور صہیب ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا وہ شخص قرآن پر ایمان نہیں لایا جو اس کے حرام کو حلال جانے امام ترمذی نے اس رایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ اس روایت کی اسناد قوی نہیں ہے۔ تشریح مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں جس چیز کو حرام کہا ہے اگر کوئی شخص اسے حلال جانے تو وہ کھلم کھلا کافر ہوگیا جب وہ کافر ہوگیا تو پھر قرآن پر اس کا ایمان کیسا، یا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ شخص قرآن پر کامل ایمان نہیں لایا جو ان چیز کے حلال کا سا معاملہ کرے جنہیں اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے یعنی وہ قرآن میں مذکور حرام و ممنوع چیزوں کا ارتکاب کرے۔

2219Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کی قرات

وعن الليث بن سعد عن ابن أبي مليكة عن يعلى بن مملك أنه سأل أم سلمة عن قراءة النبي صلى الله عليه و سلم فإذا هي تنعت قراءة مفسرة حرفا حرفا . رواه الترمذي وأبو داود والنسائي

حضرت لیث ابن سعد حضرت ابن ابی ملیکہ سے نقل کرتے ہیں اور وہ حضرت یعلیٰ بن مملک کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ام المومنین حضرت ام سلمہ ؓ سے نبی کریم ﷺ کی قرأت کے بارے میں پوچھا کہ آپ ﷺ قرآن کریم کس طرح پڑھتے تھے حضرت ام سلمہ ؓ نے آپ ﷺ کی قرأت کو واضح طور پر اور ایک ایک حرف کر کے بیان کیا۔ (ترمذی، ابوداؤد، نسائی) تشریح مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ قرآن کریم اس طرح پڑھتے تھے کہ آپ ﷺ کی قرأت کے حروف کو اگر کوئی شمار کرنا چاہتا تو یہ ممکن تھا گویا آپ ﷺ خوب ترتیل سے تجوید کے طور پر پڑھتے تھے۔ علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ حضرت ام سلمہ ؓ کے بارے میں منقول الفاظ دونوں احتمال رکھتے ہیں یا تو انہوں نے آنحضرت ﷺ کی قرأت کی کیفیت کو الفاظ میں بیان کی یا یہ کہ انہوں نے قرآن کریم اسی طرح پڑھ کر سنایا جس طرح کہ آپ ﷺ پڑھا کرتے تھے۔ حضرت ابن عباس ؓ کے بارے میں منقول ہے کہ وہ فرمایا کرتے تھے بغیر ترتیل کے سارے قرآن کو پڑھنے کی بہ نسبت صرف ایک سورت ترتیل کے ساتھ پڑھنا میرے نزدیک محبوب و پسندیدہ ہے۔

2220Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کی قرات

وعن ابن جريج عن ابن أبي مليكة عن أم سلمة قالت : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يقطع قراءته يقول : الحمد لله رب العالمين ثم يقف ثم يقول : الرحمن الرحيم ثم يقف . رواه الترمذي وقال : ليس إسناده بمتصل لأن الليث روى هذا الحديث عن ابن أبي مليكة عن يعلى بن مملك عن أم سلمة وحديث الليث أصح

ابن جریج حضرت ابن ملیکہ رحمہما اللہ سے اور وہ حضرت ام سلمہ ؓ سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی قرأت علیحدہ علیحدہ ہوتی تھی الحمدللہ رب العالمین پڑھتے اور پھر ٹھہرتے پھر الرحمن الرحیم پڑھتے اور ٹھہرتے امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کی سند متصل نہیں ہے کیونکہ اس کا اصل سلسلہ سند یہ ہے حضرت ابن ملیکہ نے نقل کیا حضرت یعلی بن مملک سے اور انہوں نے نقل کیا حضرت ام سلمہ ؓ سے (جیسا کہ پہلی حدیث کا سلسلہ سند ہے) اور حضرت لیث کی حدیث جو پہلے گزری زیادہ صحیح ہے۔ تشریح بعض علماء نے کہا ہے کہ یہ حدیث قابل استدلال نہیں ہے اہل بلاغت اس روایت کو قبول نہیں کرتے کیونکہ از روئے قاعدہ وقف تام مالک یوم الدین پر ہے اسی لئے امام ترمذی نے فرمایا کہ اس بارے میں زیادہ صحیح حدیث حضرت لیث کی ہے۔ جمہور علماء کے نزدیک اس قسم کی آیتوں میں کہ جو آپس میں ایک دوسرے سے مربوط و متعلق ہیں وصل اولیٰ ہے جب کہ جزری کا قول ہے کہ وقت مستحب ہے ان کی دلیل یہی حدیث ہے دیگر شوافع کا مسلک بھی یہی ہے کہ اس حدیث کے بارے میں جمہور کی طرف سے یہ جواب دیا ہے کہ وقف اس لئے تھا کہ آپ ﷺ سننے والوں کو یہ بتادیں کہ ان آیتوں کی ابتداء کہاں سے ہے۔