سورت بقرہ کی آخری آیتیں عورتوں کو سکھانے کا حکم
وعن جبير بن نفير رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن الله ختم سورة البقرة بآيتين أعطيتهما من كنزه الذي تحت العرش فتعلموهن وعلموهن نساءكم فإنها صلاة وقربان ودعاء . رواه الدرامي مرسلا
حضرت جبیر بن نفیر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے سورت بقرہ کو دو آیتوں (یعنی امن الرسول سے آخرت تک) 2۔ البقرۃ 190) پر ختم فرمایا ہے یہ دو آیتیں مجھے اس خزانے سے عطا فرمائی گئی ہیں جو عرش کے نیچے ہے لہٰذا ان آیتوں کو تم سیکھو اور اپنی عورتوں کو سکھلاؤ کیونکہ وہ آیتیں رحمت ہیں (خدا کے قرب) کا ذریعہ ہیں اور تمام دینی و دنیاوی بھلائیوں کے حصول کے لئے دعا ہیں (اس روایت کو دارمی نے بطریق ارسال نقل کیا ہے)
جمعہ کے دن سورت ہود پڑھنے کا حکم
وعن كعب رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : اقرؤوا سورة هود يوم الجمعة . رواه الدرامي مرسلا
حضرت کعب ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جمعہ کے دن سورت ہود پڑھا کرو۔ (دارمی)
جمعہ کے دن سورت کہف پڑھنے کی برکت
وعن أبي سعيد رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من قرأ سورة الكهف في يوم الجمعة أضاء له النور ما بين الجمعتين . رواه البيهقي في الدعوات الكبير
حضرت ابوسعید ؓ راوی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص جمعہ کے دن سورت کہف پڑھتا ہے تو اس کے لئے (یعنی اس کے دل میں ایمان و ہدایت کا) نور دوسرے جمعہ تک روشن رہتا ہے بیہقی نے اس روایت کو دعوات کبیر میں نقل کیا ہے۔
وعن خالد بن معدان قال : اقرؤوا المنجية وهي ( آلم تنزيل ) فإن بلغني أن رجلا كان يقرؤها ما يقرأ شيئا غيرها وكان كثير الخطايا فنشرت جناحها عليه قالت : رب اغفر له فإنه كان يكثر قراءتي فشفعها الرب تعالى فيه وقال : اكتبوا له بكل خطيئة حسنة وارفعوا له درجة . وقال أيضا : إنها تجادل عن صاحبها في القبر تقول : اللهم إن كنت من كتابك فشفعني فيه وإن لم أكن من كتابك فامحني عنه وإنها تكون كالطير تجعل جناحها عليه فتشفع له فتمنعه من عذاب القبر وقال في ( تبارك ) مثله . وكان خالد لا يبيت حتى يقرأهما . وقال طاووس : فضلتا على كل سورة في القرآن بستين حسنة . رواه الدارمي
حضرت خالد بن معدان سے منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا (رات کے ابتدائی حصہ میں) اس سورت کو پڑھا کرو جو (قبر و حشر کے) عذاب سے نجات دینے والی ہے اور وہ سورت الم تنزیل ہے کیونکہ (صحابہ سے) مجھ تک یہ بات پہنچی ہے کہ ایک شخص تھا جو یہی سورت پڑھا کرتا تھا وہ اس سورت کے علاوہ اور کچھ نہیں پڑھتا تھا (یعنی اس سورت کے علاوہ اور کسی چیز کو ورد نہیں قرار دیا تھا) اور وہ شخص بہت زیادہ گنہگار تھا، چناچہ (جب اس شخص کا انتقال ہوا تو) اس سورت نے اس پر اپنے بازو پھیلا دئیے اور فریاد کی کہ اے میرے پروردگار! اس شخص کی بخشش فرما کیونکہ یہ مجھے بہت زیادہ پڑھا کرتا تھا۔ حق تعالیٰ نے اس شخص کے حق میں اس سورت کی شفاعت قبول فرمائی اور فرشتوں کو حکم دیا کہ (اس کے نامہ اعمال میں) اس کے ہر گناہ کے بدلہ نیکی لکھ دو اور اس کے درجات بلند کردو، آنحضرت ﷺ یہ بھی فرماتے تھے کہ بیشک یہ سورت اپنے پڑھنے والے کی طرف سے قبر میں جھگڑتی ہے کہ یا الٰہی! اگر میں تیری کتاب (قرآن کریم) میں سے ہوں جو لوح محفوظ میں لکھا ہے تو اس کے حق میں میری شفاعت قبول فرما اور اگر (بفرض محال) میں تیری کتاب میں سے نہیں ہوں تو مجھے اس میں سے مٹا دے۔ نیز حضرت خالد نے فرمایا یہ سورت (قبر میں) ایک پرندہ کی مانند آئے گی اور اس پر اپنے بازو پھیلا کر اس کے لئے (اللہ تعالیٰ سے) شفاعت کرے گی۔ حضرت خالد نے سورت تبارک الذی بیدہ الملک کے بارے میں بھی یہی کہا ہے کہ (اس سورت کی بھی یہی تاثیر اور برکت ہے) حضرت خالد کا معمول یہ تھا کہ وہ دونوں سورتیں پڑھے بغیر نہیں سوتے تھے۔ حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ ان دونوں سورتوں کو قرآن کریم کی ہر سورت پر ساٹھ نیکیوں کے ساتھ فضیلت بخشی گئی ہے۔ (دارمی یعنی ان دونوں روایتوں کو ایک حضرت خالد سے اور دوسری حضرت طاؤس سے منقول ہے، دارمی نے نقل کیا ہے)۔
تشریح
حضرت خالد ایک جلیل القدر تابعی ہیں ستر صحابہ سے ملاقات اور صحبت کا شرف حاصل ہے اسی طرح حضرت طاؤس بھی مشاہیر تابعین میں سے ہیں لہٰذا حضرت خالد اور حضرت طاؤس دونوں سے منقول مذکورہ بالا روایتیں اگرچہ مرسل ہیں (کہ یہاں صحابی کا واسطہ ذکر نہیں کیا گیا ہے) لیکن حکم میں مرفوع ہی کے ہیں کیونکہ اس قسم کی باتیں صرف آنحضرت ﷺ ہی سے معلوم ہوسکتی ہیں جو صحابہ کے ذریعہ تابعین تک پہنچتی ہیں اس لئے یہ بات ملحوظ رہنی چاہئے کہ یہ دونوں حضرات کے اپنے اقوال نہیں بلکہ مرفوع روایتیں ہیں۔ اس پر اپنے بازو پھیلا دئیے کا مطلب یہ ہے کہ وہ سورت یا اس کا ثواب پرندہ کی صورت اختیار کر گیا اور اپنے بازو اپنے پڑھنے والے پر پھیلا دئیے تاکہ اس پر سایہ کرلے یا یہ کہ اس نے اپنی رحمت کے بازو پھیلا دئیے یعنی اسے اپنی پناہ میں لے لیا اور اس کی طرف سے شفاعت و وکالت کی۔ قبر میں جھگڑتی ہے کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص اس سورت کو پڑھتا ہے مداومت کے ساتھ تو یہ سورت اس کے لئے عذاب کی تخفیف یا قبر میں فراخی و وسعت یا اسی قسم کی دوسری آسانی و سہولت کی شفاعت و سفارش کرتی ہے۔ حضرت طاؤس کی روایت کے یہ الفاظ ان دونوں سورتوں کو قرآن کی ہر سورت پر فضیلت دی گئی ہے۔ اس صحیح روایت کے منافی نہیں ہے کہ سورت بقرہ، سورت فاتحہ کے بعد قرآن کی تمام سورتوں سے افضل ہے کیونکہ سورت بقرہ کی فضیلت اس اعتبار سے ہے کہ اس میں بہت عمدہ اور اعلیٰ مضامین مذکور ہیں اور ان دونوں سورتوں کو اس جہت و اعتبار سے فضیلت حاصل ہے کہ یہ اپنے پڑھنے والے کو عذاب قبر سے بچاتی ہیں۔
وعن عطاء بن أبي رباح قال : بلغني أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من قرأ ( يس ) في صدر النهار قضيت حوائجه رواه الدارمي مرسلا
حضرت عطاء بن ابی رباح (تابعی) کہتے ہیں کہ مجھ تک یہ حدیث پہنچی ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جو شخص دن کے ابتدائی حصہ میں سورت یٰسین پڑھتا ہے تو اس کی (دینی و دنیوی) حاجتیں پوری کی جاتی ہیں۔ (دارمی نے اس روایت کو بطریق ارسال نقل کیا ہے)۔
قریب المرگ کے سامنے یٰس کا پڑھنا
وعن معقل بن يسار المزني رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من قرأ ( يس ) ابتغاء وجه الله تعالى غفر له ما تقدم من ذنبه فاقرؤوها عند موتاكم . رواه البيهقي في شعب الإيمان
حضرت معقل بن یسار ؓ راوی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ رب العزت کی رضا و خوشنودی کی طلب میں سورت یٰسین پڑھتا ہے تو اس کے وہ گناہ بخش دئیے جاتے ہیں جو اس نے پہلے کئے ہیں لہٰذا اس سورت کو اپنے مردوں کے سامنے پڑھو۔ (بیہقی)
تشریح
گناہوں سے مراد صغیرہ گناہ ہیں کہ وہ اس سورت کی برکت سے بخش دئیے جاتے ہیں اسی طرح کبیرہ گناہ بھی بخشے جاتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی بےپایاں رحمت شامل حال ہو۔ مردوں سے مراد قریب المرگ ہیں، مطلب یہ ہے کہ جو شخص قریب المرگ ہو اس کے سامنے سورت یٰسین پڑھنی چاہئے تاکہ وہ اپنی زندگی کے آخری لمحات میں اس کو سنے اور اس کے معانی کی طرف اس کی توجہ ہو اس طرح اس کا سننا اس کے پڑھنے کے حکم میں ہوجائے گا جو اس کی مغفرت و بخشش کا سبب ہوگا۔ یا پھر مردوں سے مراد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سورت کو اپنی میت کی مغفرت و بخشش کی زیادہ احتیاج ہوتی ہے۔
سورت بقرہ قرآن کی رفعت ہے
وعن عبد الله بن مسعود أنه قال : إن لكل شيء سناما وإن سنام القرآن سورة البقرة وإن لكل شيء لبابا وإن لباب القرآن المفصل . رواه الدارمي
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا۔ ہر چیز کے لئے رفعت و بلندی ہوتی ہے اور قرآن کی رفعت و بلندی سورت بقرہ ہے ہر چیز کا خلاصہ (حاصل مقصد) ہوتا ہے اور قرآن کا خلاصہ مفصل ہے۔ (دارمی)
تشریح
سورت بقرہ قرآن کریم کی رفعت و بلندی اس لئے ہے کہ نہ صرف یہ کہ وہ قرآن کی سورتوں میں سب سے بڑی ہے بلکہ اس سورت میں بہت زیادہ احکام مذکور ہیں۔ پہلے بھی کئی مقامات پر بتایا جا چکا ہے، مفصل یا مفصلات سورت حجرات سے ختم قرآن یعنی سورت ناس تک کی سورتوں کو کہا جاتا ہے، یہ سورتیں پورے قرآن کا خلاصہ اس طور پر ہیں کہ قرآن کریم کے جو مضامین اختصار اور اجمالی طور پر متفرق سورتوں میں ہیں وہ ان سورتوں میں یکجا اور تفصیلی طور پر بیان فرمائے گئے ہیں اسی لئے ان سورتوں کو مفصل کہنے کی وجہ تسمیہ بھی بہت خوب ہے۔
وعن علي رضي الله عنه قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : لكل شيء عروس وعروس القرآن الرحمن . رواه البيهقي في شعب الإيمان
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ہر چیز کے لئے زینت ہوتی ہے اور قرآن کریم کی زینت سورت رحمٰن ہے۔
تشریح
سورت رحمٰن کو قرآن کریم کی زینت اس لئے فرمایا گیا ہے کہ اس میں دنیا و آخرت کی نعمتوں کا بیان ہے حوروں کے اوصاف کا بیان ہے جو جنت کی دلہنیں ہیں اور ان حوروں کے زیورات وغیرہ کا بیان ہے۔
وعن ابن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قرأ سورة الواقعة في كل ليلة لم تصبه فاقة ابدا . وكان ابن مسعود يأمر بناته يقرأن بها في كل ليلة . رواه البيهقي في شعب الإيمان
حضرت ابن مسعود ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص شب میں سورت واقعہ پڑھتا ہے وہ کبھی بھی فاقہ کی حالت کو نہیں پہنچتا حضرت ابن مسعود ؓ اپنی صاحبزادیوں کو حکم دیا کرتے تھے کہ وہ ہر شب میں یہ سورت پڑھا کریں۔ (ان دونوں روایتوں کو بیہقی نے شعب الایمان میں نقل کیا ہے)۔
تشریح
فاقہ کے معنی ہیں محتاجگی اور حاجت مندی۔ لہٰذا اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص روزانہ رات میں سورت واقعہ پڑھتا ہے اس کے لئے محتاجگی، نقصان و پریشانی کا باعث نہیں بنتی اس وجہ سے کہ اسے صبر و قناعت کی دولت فرما دی جاتی ہے یا یہ کہ ایسے شخص کو دل کی محتاجگی نہیں ہوتی یعنی ظاہری محتاجگی کے باوجود اس کا دل مستغنی ہوتا ہے کیونکہ اس کے قلب میں وسعت و فراخی عطا کی جاتی ہے، معرفت الٰہی حاصل ہوتی ہے اور توکل و اعتماد کا سرمایہ اس کے قلب و روح میں طمانیت پیدا کردیتا ہے اور اس کا سبب یہ ہوتا ہے کہ وہ شخص اس سورت کے معانی و مفہوم سے استفادہ کرتا ہے۔ بہرکیف اتنی بات جان لینی چاہئے کہ شارع نے بعض ان عبادات و نیکیوں کی طرف رغبت دلائی ہے جو نہ صرف یہ کہ اخروی طور پر باعث فلاح وسعادت ہوتی ہیں بلکہ ان دنیاوی امور میں بھی نافع اور موثر بنتی ہیں جن کا حصول دین کے لئے ممد و معاون ہوتا ہے اور اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ بہر صورت کسی نہ کسی طرح عبادت اور نیک کاموں میں مصروف رہیں۔
وعن علي رضي الله عنه قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يجب هذه السورة ( سبح اسم ربك الأعلى ) رواه أحمد
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ اس سورت یعنی سبح اسم ربک الاعلیٰ کو بہت محبوب رکھتے تھے۔ (احمد)
تشریح
آنحضرت ﷺ سورت اعلیٰ یعنی سبح اسم ربک الاعلیٰ کو اس لئے بہت زیادہ محبوب رکھتے تھے کہ اس میں یہ آیت (اِنَّ هٰذَا لَفِي الصُّحُفِ الْاُوْلٰى 18 صُحُفِ اِبْرٰهِيْمَ وَمُوْسٰى 19) 87۔ الاعلی 18۔ 19) ہے جو قرآن کریم کی حقانیت و صداقت پر شاہد اور مشرکین و اہل کتاب کے خیالات و اعتقادات کی بہت مضبوط تردید ہے۔ حضرت ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ سے پوچھا کہ یا رسول اللہ! حضرت ابراہیم کے صحیفوں میں کیا تھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا اس میں تمام مثالیں بیان کی گئی ہیں مثلا کہا گیا ہے کہ اے مسلط! گرفتار نفس اور فریب خوردہ بادشاہ میں نے تجھے دنیا میں اس لئے نہیں بھیجا کہ تو دنیا جمع کرنے لگے بلکہ میں نے تجھے دنیا میں اس لئے بھیجا تھا کہ تو مظلوموں کی بد دعا سے بچے کیونکہ میں مظلوموں کی بد دعا رد نہیں کرتا خواہ مظلوم کافر ہی کیوں نہ ہو سلیم الطبع اور عقل مند انسان کے لئے لازم ہے کہ جب تک اس میں عقل ہو وہ اپنے لئے چار اوقات مقرر کرے ایک وقت میں تو وہ اپنے رب سے مناجات کرے، دوسرے وقت میں اپنے نفس کا محاسبہ کرے، تیسرے وقت میں اللہ کی صفت وقدرت میں غور و فکر کرے اور چوتھے وقت میں اپنی حاجت مثلا کھانے پینے وغیرہ میں مشغول رہے۔ عقل مند کے لئے لازم ہے کہ وہ صرف تین چیزوں کی طمع کرے (١) معاد (آخرت) کے لئے زاد راہ تیار کرنے کی (٢) یا اپنی معاش کی اصلاح کی (٣) یا غیر حرام سے لذت و نفع حاصل کرنے کی۔ عقلمند کے لئے لازم ہے کہ وہ اپنے زمانہ پر نظر رکھنے والا ہو اپنے حال کی طرف متوجہ ہو اور اپنی زبان کی حفاظت کرنے والا ہو (یاد رکھو) جس شخص نے اپنے کلام کا اپنے اعمال سے محاسبہ کیا اس کا کلام زیادہ نہیں ہوگا وہ صرف وہی کلام کرے گا جو ضروری ہو۔ حضرت ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اچھا حضرت موسیٰ کے صحیفوں میں کیا تھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا اس میں عبرتیں یعنی ڈرانے کی باتیں تھیں مثلا اس میں یہ کہا گیا ہے کہ مجھے اس شخص پر تعجب ہے جو موت پر یقین رکھتا ہے مگر اس کے باوجود (وہ اپنی دنیاوی زندگی کے عیش و عشرت پر) خوش بھی ہوتا ہے۔ مجھے اس شخص پر تعجب ہے جو دوزخ کی آگ پر یقین رکھتا ہے مگر وہ پھر بھی ہنستا ہے۔ مجھے اس شخص پر تعجب ہے جو تقدیر پر یقین رکھتا ہے مگر وہ پھر بھی (طلب معاش کے سلسلہ میں) رنج و غم اٹھاتا ہے مجھے اس شخص پر تعجب ہے جو دنیا اور اس کے انقلابات کو دیکھتا ہے اور پھر بھی اس سے مطمئن رہتا ہے اور مجھے اس شخص پر تعجب ہے جو کل (قیامت) کے دن کے حساب پر یقین رکھتا ہے اور پھر بھی عمل نہیں کرتا۔
وعن عبد الله بن عمرو قال : أتى رجل النبي صلى الله عليه و سلم فقال أقرئني يا رسول الله فقال : اقرأ ثلاثا من ذوات ( الر ) فقال : كبرت سني واشتد قلبي وغلظ لساني قال : فاقرأ ثلاثا من ذوات ( حم ) فقال مثل مقالته . قال الرجل : يا رسول الله أقرئني سورة جامعة فأقرأه رسول الله صلى الله عليه و سلم ( إذا زلزلت الأرض ) حتى فرغ منها فقال الرجل : والذي بعثك بالحق لا أزيد عليها أبدا ثم أدبر الرجل فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم أفلح الرويجل مرتين . رواه أحمد وأبو داود
حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! مجھے پڑھائیے! آپ ﷺ نے فرمایا قرآن کریم کی ان سورتوں میں سے کہ جن کے شروع میں الر ہے پڑھو۔ اس نے عرض کیا میری عمر زیادہ ہوچکی ہے اور دل میرا سخت ہوگیا ہے (یعنی میرے قلب پر حافظہ کی کمی اور نسیان کا غلبہ ہے) نیز میری زبان موٹی ہے (یعنی کلام اللہ خصوصا! بڑی سورتیں میں یاد نہیں کرسکتا) آپ ﷺ نے فرمایا اگر تم وہ سورتیں نہیں پڑھ سکتے تو ان سورتوں میں سے تین سورتیں پڑھو جن کے شروع میں حم ہے (کیونکہ یہ سورتیں ان سورتوں کی نسبت چھوٹی ہیں) اس شخص نے پھر وہی کہا کہ یا رسول اللہ! مجھے کوئی جامع سورت پڑھائیے (یعنی کوئی ایسی سورت بتائیے جس میں بہت سی باتیں جمع ہوں) چناچہ آپ ﷺ نے اسے سورت اذا زلزلت پڑھائی جب آپ ﷺ (پوری سورت پڑھا کر) اس سے فارغ ہوئے اس شخص نے کہا کہ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں (اس سورت پر عمل کرنے کے سلسلہ میں) اس پر کبھی بھی زیادتی نہیں کروں گا۔ پھر اس شخص نے پیٹھ پھیری (یعنی جب واپس ہوگیا) تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اس شخص نے مراد حاصل کرلی یہ آپ ﷺ نے دو مرتبہ فرمایا۔ (احمد، ابوداؤد )
تشریح
جن سورتوں کی ابتداء لفظ الر سے ہوتی ہے ان کی تعداد پانچ ہے ان سورتوں کے بارے میں آپ ﷺ نے سائل سے فرمایا کہ ان میں سے کوئی بھی تین سورتیں پڑھ لیا کرو۔ سورت اذا زلزلت کو سورت جامعہ (جامع سورۃ) اس لئے فرمایا گیا ہے کہ اس سورت میں یہ ایک آیت (فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَه۔ وَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَه۔ ) 99۔ الزلزلہ 7-8) (تو جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا)۔ اس آیت میں وہ تمام چیزیں آگئی ہیں جن کو کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور جن کے مجموعہ کا نام ہے خیر و بھلائی اور وہ تمام چیزیں بھی اس میں شامل ہیں جن سے بچنے کا حکم دیا ہے جن کے مجموعہ کا نام ہے شر و برائی۔
وعن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ألا يستطيع أحدكم أن يقرأ ألف آية في كل يوم ؟ قالوا : ومن يستطيع أن يقرأ ألف آية في كل يوم ؟ قال : أما يستطيع أحدكم أن يقرأ : ( ألهاكم التكاثر ) ؟ ) رواه البيهقي في شعب الإيمان
حضرت ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات پر قادر نہیں ہے کہ وہ روزانہ ایک ہزار آیتیں پڑھا کرے۔ صحابہ نے عرض کیا کہ کون شخص اس بات پر قادر ہوسکتا ہے کہ وہ ہمیشہ روزانہ ایک ہزار آیتیں پڑھتا رہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کیا کوئی شخص اس بات پر قادر نہیں ہوسکتا کہ وہ روزانہ الہٰکم التکاثر پڑھ لیا کرے۔ (بیہقی)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص روزانہ یہ سورت پڑھ لیا کرے تو اسے ایک ہزار آیتوں کا ثواب ملے گا کیونکہ اس سورت میں دنیا سے بےرغبتی دلائی گئی ہے اور آخرت کی طرف متوجہ ہونے کی ترغیب دی گئی ہے۔
قل ہو اللہ احد پڑھنے کی تاثیر
وعن سعيد بن المسيب مرسلا عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من قرأ ( قل هو الله أحد ) عشر مرات بني له بها قصر في الجنة ومن قرأ عشرين مرة بني له بها قصران في الجنة ومن قرأها ثلاثين مرة بني له بها ثلاثة قصور في الجنة . فقال عمر بن الخطاب رضي الله عنه : والله يا رسول الله إذا لنكثرن قصورنا . فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الله أوسع من ذلك . رواه الدارمي
حضرت سعید بن مسیب ؓ بطریق ارسال نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص سورت قل ہو اللہ احد دس بار پڑھے تو اس کی وجہ سے جنت میں اس کے لئے ایک محل بنایا جاتا ہے جو شخص اس کو بیس مرتبہ تو اس کی وجہ سے جنت میں اس کے لئے دو محل بنائے جاتے ہیں اور جو شخص اس کو تیس مرتبہ پڑھے تو اس کی وجہ سے جنت میں اس کے لئے تین محل بنائے جاتے ہیں۔ (لسان ببوت سے یہ بشارت سن کر) حضرت عمر بن خطاب ؓ کہنے لگے کہ اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول پھر تو اب ہم (جنت میں) اپنے بہت زیادہ محل بنالیں گے (یعنی جب اس سورت کو پڑھنے کی یہ برکت اور اس کا یہ ثواب ہے تو پھر ہم اب اس سورت کو بہت زیادہ پڑھیں گے تاکہ اس کی وجہ سے جنت میں ہمارے لئے بہت زیادہ محل بنیں) رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس سے بھی بہت زیادہ فراخ ہے۔ (یعنی اس سورت کی فضیلت اور اس کا ثواب بہت عظیم اور بہت وسیع ہے لہٰذا اس بشارت پر تعجب نہ کرو بلکہ اس کے حصول کی کوشش کرو اور اس کی طرف راغب ہو)۔ (دارمی)
رات میں قرآن پڑھنے کا اثر
وعن الحسن مرسلا : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من قرأ في ليلة مائة آية لم يحاجه القرآن تلك الليلة ومن قرأ في ليلة مائتي آية كتب له قنوت ليلة ومن قرأ في ليلة خمسمائة إلى الألف أصبح وله قنطار من الأجر . قالوا : وما القنطار ؟ قال : اثنا عشر ألفا . رواه الدرامي
حضرت حسن ؓ بطریق ارسال نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص رات میں قرآن کی سو آیتیں پڑھے تو رات میں قرآن اس سے نہیں جھگڑے گا جو رات میں دو سو آیتیں پڑھے تو اس کے لئے شب بیداری کا ثواب لکھا جاتا ہے اور جو شخص رات میں پانچ سو سے ہزار تک آیتیں پڑھے تو وہ اس حال میں صبح کرتا ہے کہ اس کے لئے قنطار کے بقدر ثواب لکھا جا چکا ہوتا ہے۔ صحابہ نے عرض کیا کہ قنطار کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا بارہ ہزار (درہم یا دینار)۔ (دارمی)
تشریح
قرآن اس سے نہیں جھگڑے گا کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص قرآن نہیں پڑھتا اور اس سے تعلق نہیں رکھتا تو قرآن اس کا دشمن ہوجاتا ہے اور اس پر لعنت و ملامت کرتا ہے لہٰذا رات میں قرآن کی سو آیتیں پڑھنا اس رات میں قرآن کی دشمنی کے دفعیہ اور اس کے حق کی ادائیگی کے لئے کافی ہے۔ اس موقع پر اتنی بات بھی جان لینی چاہئے کہ قرآن کا جھگڑنا یعنی قرآن کی لعنت و ملامت دو سبب سے ہے ایک تو قرآن نہ پڑھنے کی وجہ سے دوسرے قرآن پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے، پس اگر قرآن کی لعنت و ملامت قرآن نہ پڑھنے کی وجہ سے ہوگی تو وہ پڑھنے سے دفع ہوجائے گی اور اگر قرآن کی لعنت و ملامت قرآن پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے ہوگی تو وہ لعنت و ملامت باقی رہے گی جب تک کہ وہ عمل نہ کرے جب قرآن پر عمل کرے گا تو اس کی لعنت و ملامت بھی ختم ہوجائے گی، حاصل یہ ہے کہ اگر کوئی شخص قرآن پڑھے گا اور اس پر عمل بھی کرے گا تو وہ قرآن کی دشمنی اور اس کی لعنت و ملامت سے کلیۃ محفوظ رہے گا بلکہ قرآن ایسے شخص کے حق میں شفاعت سفارش بھی کرے گا اور اگر ایک بات میں بھی قصور و کوتاہی ہوگی تو قرآن کی دشمنی بھی باقی رہے گی اور لعنت و ملامت بھی ختم نہیں ہوگی۔ علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ قرأت قرآن ہر شخص پر واجب ہے اگر کوئی شخص قرآن نہیں پڑھے گا تو اللہ تعالیٰ اس سے جھگڑے گا، لہٰذا جھگرنے کی نسبت قرآن کی طرف مجازی ہے حقیقت میں وہ اللہ کا جھگڑنا ہوگا یعنی قرآن نہ پڑھنے والے پر براہ راست اللہ کی لعنت ہوگی۔ قنطار کے بقدر، کا مطلب قنطار کی تعداد کے برابر یا قنطار کے وزن کے برابر، بہرکیف یہاں مراد یہ ہے کہ حدیث میں مذکور تعداد میں قرآن کی آیتیں پڑھنے والا شخص بہت ہی زیادہ ثواب پاتا ہے۔
گزشتہ صفحات میں جو احادیث گزری ہیں ان میں کچھ سورتوں اور آیتوں کے فضائل بیان کئے جا چکے ہیں یہ باب ختم ہو رہا ہے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اب بعض سورتوں کے فضائل تفصیل کے ساتھ بیان کر دئیے جائیں جنہیں تفسیر عزیزی اور درمنثور نے نقل کیا ہے تاکہ ان فضائل کو پڑھنے کے بعد مسلمانوں کا دل خوش ہو کہ وہ زیادہ سے زیادہ راغب اور سرگرم ہو کر اس عظیم نعمت کو حاصل کرنے کی کوشش کریں اس طرح وہ دنیا کی فلاح وسعادت سے بہرہ ور ہو سکیں۔
حضرت مولانا عبدالعزیز (رح) لکھتے ہیں کہ مفسرین نے کہا جب طوفان نوح نے اس دنیا کو اپنے خوفناک عذاب کے چنگل میں گھیر لیا اور حضرت نوح (علیہ السلام) اپنی کشتی میں سوار ہوئے تو وہ بھی خوف غرق سے ہراساں ولرزاں تھے انہوں نے غرق سے نجات پانے اور اس عذاب الٰہی سے محفوظ رہنے کے لئے بسم اللہ مجریہا ومرسہا کہا اس کلمہ کی برکت سے ان کی کشتی غرقابی سے محفوظ وسالم رہی مفسرین کہتے ہیں کہ جب اس آدھے کلمہ کی وجہ سے اتنے ہیبت ناک طوفان سے نجات حاصل ہوئی تو جو شخص اپنی پوری عمر اس پورے کلمہ یعنی بسم اللہ الرحمن الرحیم سے اپنے ہر کام کی ابتداء کرنے کا التزام کرے وہ نجات سے کیونکر محروم رہ سکتا ہے؟ علماء لکھتے ہیں کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم میں انیس حروف ہیں دوزخ کے موکل بھی انیس ہیں لہٰذا بسم اللہ الرحمن الرحیم کے ہر حرف کے ذریعہ ان میں سے ہر ایک کی بلا دفع ہوسکتی ہے نیز علماء نے یہ بھی لکھا ہے کہ دن رات کو چوبیس گھنٹے ہوتے ہیں پانچ گھنٹوں کے لئے تو پانچ وقت کی نمازیں مقرر فرمائی گئیں اور بقیہ انیس گھنٹوں کے لئے یہ انیس حروف عطا فرمائے گئے تاکہ ان انیس گھنٹوں میں ہر نشست و برخاست ہر حرکت و سکون اور ہر کام کے وقت ان انیس حروف کے ذریعہ برکت و عبادت حاصل ہو یعنی ان حروف بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنے کی برکت سے یہ انیس گھنٹے بھی عبادت میں لکھے جائیں۔ علماء نے یہ بھی لکھا ہے کہ سورت برأت کو جو قتل کفار کے حکم پر مشتمل ہے بسم اللہ الرحمن الرحیم سے خالی رکھا گیا ہے کیونکہ یہ کلمہ رحمت ہے جو موقع کا مقتضی نہیں ہے اسی طرح جانور کو ذبح کرتے وقت بھی صرف بسم اللہ اللہ اکبر کہنا مقرر فرمایا گیا ہے بسم اللہ الرحمن الرحیم کہنے کا حکم نہیں دیا گیا ہے کیونکہ ذبح کی صورت قہر عذاب کی شکل ہے اور یہ کلمہ رحمت (یعنی بسم اللہ الرحمن الرحیم) اس کا محل اور اس کا مقتضی نہیں لہٰذا جو شخص اس کلمہ رحمت یعنی بسم اللہ الرحمن الرحیم پر ہر وقت اور ہر آن مداومت کرتا ہے جس کا اولیٰ درجہ یہ ہے کہ وہ ہر روز ستر مرتبہ فرض نماز میں یہ کلمہ اپنی زبان پر جاری کرتا ہے کہ وہ شخص غضب و عذاب سے محفوظ اور ثواب سے محظوظ ہوگا۔ اس آیت یعنی بسم اللہ الرحمن الرحیم کے خواص میں سے یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جب کوئی شخص بیت الخلاء جائے تو اسے چاہئے کہ وہ بسم اللہ کہہ کر جائے تاکہ اس کی وجہ سے اس کی شرم گاہ اور جنات کے درمیان پردہ واقع ہوجائے کوئی شخص بسم اللہ کہہ کر بیت الخلاء جاتا ہے تو اس کا خاصہ یہ ہے کہ جنات کی نظر اس کی شرمگاہ کی طرف نہیں جاتی، لہٰذا جب اس کی تاثیر یہ ہے کہ یہ آیت انسان اور اس کے دنیاوی دشمن جنات کے درمیان پردہ بن جاتی ہے تو امید ہے کہ یہ ایک مسلمان اور عذاب عقبی کے درمیان بھی یقیناً پردہ بن کر حائل ہوگی۔
سورت فاتحہ کے فضائل اور اس کی تاثیر
صحاح ستہ میں یہ روایت آتی ہے کہ جب کسی شخص کو بچھو یا سانپ کاٹ لیتا تھا یا کوئی مرگی میں مبتلا ہوتا تھا یا کوئی دیوانہ ہوجاتا تھا تو نبی کریم ﷺ کے صحابہ سورت فاتحہ پڑھ کر اس شخص پر دم کیا کرتے تھے اور آنحضرت ﷺ اس عمل کو پسند فرماتے تھے۔ دارقطنی اور ابن عساکر حضرت زید بن سائب ؓ سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے سورت فاتحہ پڑھ کر ان پر دم کیا اور یہ سورت پڑھنے کے بعد اپنے دہن مبارک کا لعاب ان کے جسم کے اس حصہ پر ملا جہاں درد تھا۔ بزار نے اپنی مسند میں حضرت انس بن مالک ؓ سے نقل کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص نے اپنا پہلو اپنے بچھونے پر رکھا (یعنی سونے کے لئے اپنے بستر پر گیا) اور پھر اس نے سورت فاتحہ اور قل ہو اللہ احد پڑھ کر اپنے اوپر دم کیا تو وہ ہر آفت و بلاء سے محفوظ ہوگیا الاّ یہ کہ اس کی موت کا وقت آپہنچا ہو یعنی موت سے کوئی چیز نہیں بچا سکتی۔ عبد حمید نے اپنی مسند میں حضرت ابن عباس ؓ سے بطریق مرفوع یہ روایت نقل کی ہے کہ فاتحۃ الکتاب ( سورت فاتحہ) باعتبار ثواب کے دو تہائی قرآن کے برابر ہے، ابوشیخ طبرانی، ابن مردویہ، دیلمی اور ضیاء مقدسی روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ مجھے گنج العرش (عرش کے خزانہ) سے چار چیزیں عطا کی گئی ہیں اس خزانہ سے ان چار چیزوں کے علاوہ اور کوئی چیز دوسرے کو نہیں دی گئی ہے اور وہ چار چیزیں ہیں۔ (١) ام الکتاب ( سورت فاتحہ) (٢) آیۃ الکرسی (٣) سورت بقرہ کی آخری آیتیں (٤) سورت کوثر۔ ابونعیم اور دیلمی نے حضرت ابوذر ؓ سے روایت کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا سورت فاتحہ اس چیز سے کفایت کرتی ہے کہ قرآن کی اور کوئی سورت و آیت کفایت نہیں کرتی اور اگر سورت فاتحہ کو ترازو کے ایک پلڑے میں رکھیں اور باقی تمام قرآن کو دوسرے پلڑے میں رکھیں تو یقیناً سورت فاتحہ سات قرآن کے برابر ہو۔ حضرت ابوعبید فضائل قرآن میں حسن بصری سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص نے سورت فاتحہ پڑھی اس نے گویا توریت و انجیل زبور اور قرآن کو پڑھا۔ تفسیر وکیع، کتاب، المصاحف ابن ابناری، کتاب، العظمہ، ابوالشیخ اور حلیۃ الاولیاء ابونعیم میں منقول ہے کہ ابلیس ملعون کو نوحہ و آہ وزاری کرنے اور اپنے سر پر خاک ڈالنے کا چار مرتبہ اتفاق ہوا ہے اول تو اس وقت جب کہ اس کو ملعون قرار دیا گیا دوسرے اس وقت جب کہ اسے آسمان و زمین پر ڈالا گیا تیسرے اس وقت جب کہ نبی کریم ﷺ کو خلعت نبوت سے نوازا گیا اور چوتھے اس وقت جب کہ سورت فاتحہ نازل ہوئی۔ ابوشیخ نے کتاب الثواب میں لکھا ہے کہ جس شخص کو کوئی حاجت درپیش ہو تو اسے چاہئے کہ وہ سورت فاتحہ پڑھے اور اس کے بعد اپنی حاجت کے لئے دعا کرے (انشاء اللہ اس کی حاجت پوری ہوگی) ثعلبی حضرت شعبی سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنے درد گردہ کی شکایت کی انہوں نے اس شخص سے کہا کہ تمہیں چاہئے کہ اساس القرآن پڑھ کر درد کی جگہ دم کرو (انشاء اللہ شفا ہوگی) اس شخص نے پوچھا کہ اساس القرآن کیا ہے؟ شعبی نے فرمایا کہ فاتحۃ الکتاب یعنی سورت فاتحہ۔ مشائخ کے مجرب اعمال میں یہ مذکور ہے کہ سورت فاتحہ اسم اعظم ہے اس سورت کو ہر مطلب و حاجت کے لئے پڑھنا چاہئے اس سلسلے میں اس سورت کو پڑھنے کے دو طریقے منقول ہیں اول یہ کہ اس سورت کو فجر کی سنت و فرض نماز کے درمیان چالیس دن تک اکتالیس مرتبہ اس طرح پڑھا جائے کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم کے میم کو الحمد کے لام کے ساتھ ملا یا جائے یعنی بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمدللہ رب العالمین الآیۃ۔ اس سورت کو مقرر بالا دن تک مذکورہ بالا طریقہ سے پڑھنے کے بعد مطلوب انشاء اللہ حاصل ہوگا اگر کسی مریض یا سحر زدہ کی شفا منظور ہو تو مذکورہ بالا طریقہ سے یہ سورت پڑھ کر پانی پر دم کر کے اس مریض یا سحر زدہ کو پلایا جائے انشاء اللہ شفا حاصل ہوگی۔ دوم یہ کہ نوچندی اتوار کو فجر کی سنت و فرض نماز کے درمیان میم کو لام کے ساتھ ملانے کی قید کے بغیر ستر مرتبہ یہ سورت پڑھے بعد ازاں ہر روز اسی وقت پڑھے مگر اس طرح کہ ہر روز مذکورہ تعداد میں سے دس مرتبہ کم کر دے یعنی نوچندی اتوار کو ستر مرتبہ، دوسرے روز ساٹھ مرتبہ تیسرے روز پچاس مرتبہ، اس طرح دس دس بار کم کرتا جائے تاآنکہ ہفتہ کے روز ختم ہوجائے اگر پہلے مہینہ میں مطلب حاصل ہوجائے تو فبہا ورنہ دوسرے اور تیسرے مہینہ میں اسی طرح پڑھے۔ امراض مزمنہ پرانے امراض کی شفاء کے لئے اس سورت کو چینی کے پیالے یا پلیٹ پر گلاب، مشک اور زعفران سے لکھ کر پلانا ایک مجرب عمل ہے اسی طرح دانتوں کے درد، شکم اور دوسرے دردوں میں سات مرتبہ سورت فاتحہ پڑھ کر دم کرنا بھی مجرب ہے۔
سورت بقرہ کی فضیلت بھی بہت زیادہ منقول ہے صحیح مسلم میں حضرت انس بن مالک ؓ کا یہ ارشاد منقول ہے کہ ہم میں سے جو شخص سورت بقرہ اور سورت آل عمران پڑھ لیتا تھا تو ہم اس کے مرتبہ باعتبار جاہ و عظمت کے بہت بلند ہوجاتا تھا چناچہ اس بات کی تائید اس روایت سے بھی ہوتی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک لشکر کو کہیں بھیجنا چاہتے تھے اس لشکر کے امیر کے تعین میں تردد پیدا ہو رہا تھا آپ ﷺ اس مقررہ لشکر کے ہر فرد کو بلا کر اس سے پوچھتے تھے کہ تم قرآن کی کون سی سورت یاد رکھتے ہو؟ اسے جو سورت یاد ہوتی وہ بتادیتا یہاں تک کہ نوبت ایک جوان تک پہنچی جو عمر میں سب سے چھوٹا تھا آپ ﷺ نے اس سے بھی دریافت فرمایا کہ تم قرآن کی کون سی سورت یاد رکھتے ہو؟ اس نے عرض کیا کہ فلاں فلاں سوت اور سورت البقرہ۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کیا تم سورت بقرہ بھی یاد رکھتے ہو۔ اس نوجوان نے عرض کیا کہ ہاں یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا جاؤ اس لشکر کے تم ہی امیر مقرر کئے گئے۔ بیہقی نے شعب الایمان میں یہ روایت نقل کی ہے کہ امیرالمومنین حضرت عمر فاروق ؓ نے سورت بقرہ کو اس کے حقائق نکات کے ساتھ بارہ برس کے عرصہ میں پڑھا اور جس روز انہوں نے یہ سورت ختم کی اس دن ایک اونٹ ذبح کیا اور بہت زیادہ کھانا لا کر آنحضرت ﷺ کے صحابہ کو کھلایا۔ اس سلسلہ میں حضرت ابن عمر ؓ سے بھی منقول ہے کہ انہوں نے آٹھ برس تک اس سورت کو پڑھنے میں اپنے آپ کو منہمک رکھا۔ آٹھ برس کے بعد انہوں نے یہ سورت ختم کی غرضیکہ آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ ؓ کے نزدیک اس سورت کو جو عظمت و فضیلت حاصل تھی وہ کسی اور سورت کو حاصل نہیں تھی۔ اس سورت کے مجرب خواص میں یہ ہے کہ جس موسم میں بچوں کو چیچک نکلتی ہے اس وقت جس بچے کی عافیت منظور ہو تو اس بچہ کو روبرو نہار منہ اس سورت کو تجوید کے ساتھ پڑھ کر اس پر دم کیا جائے وہ بچہ بھی نہار منہ ہونا چاہئے انشاء اللہ اس سال اس بچہ کو چیچک نہیں نکلے گی اگر نکلے گی بھی تو انجام بخیر ہوگا لیکن شرط یہ ہے کہ جس وقت اس سورت کو پڑھنا شروع کیا جائے تو اڑھائی پاؤ چاول اور اس پر دہی و کھانڈ ڈال کر اسے اسی مجلس میں کسی مستحق کو کھانے کے لئے دے دیا جائے۔
درمنثور میں منقول ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص سورت کہف کی ابتدائی دس آیتیں یاد کرے گا وہ دجال کے فتنہ سے بچایا جائے گا اسی طرح وہ شخص بھی دجال کے فتنہ سے محفوظ رہے گا جو اس سورت کی آخری دس آیتیں یاد کرے گا جو شخص سوتے وقت سورت کہف کی دس آیتیں پڑھ لیا کرے گا وہ فتنہ دجال سے بچایا جائے گا و اور جو شخص سوتے وقت اس سورت کا آخری حصہ پڑھے گا تو اس کے لئے قیامت کے دن اس کی قرأت کے نزدیک سے اس کے قدم تک نور ہی نور ہوگا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ جو شخص جمعہ کے دن سورت کہف پڑھتا ہے تو اس جمعہ سے دوسرے جمعہ تک (کے صغیرہ گناہوں) کا کفارہ ہوجاتا ہے اسی طرح ایک روایت میں یہ ہے کہ جس گھر میں سورت کہف پڑھی جاتی ہے اس رات کو اس گھر میں شیطان داخل نہیں ہوتا۔
فضائل سورت ملک اور سورت یٰس وغیرہ
نبی کریم ﷺ کا رشاد گرامی ہے کہ جس شخص نے عشاء کے بعد چار رکعتیں پڑھیں اس طرح کہ پہلے دو رکعتوں میں قل یا ایہا الکافرون اور قل ہو اللہ احد پڑھے اور اس کے بعد دو رکعتوں میں تبارک الذی اور الم تنزیل السجدہ تو اس کے لئے چار رکعتوں کا ثواب ایسی چار رکعتوں کے ثواب کے برابر لکھا جاتا ہے جو لیلۃ القدر میں پڑھی جائیں اسی طرح ایک اور روایت میں ہے کہ جس شخص نے مغرب و عشاء کے درمیان سورت تبارک الذی اور الم تنزیل السجدہ پڑھی تو گویا اس نے لیلۃ القدر میں شب بیداری کی۔ ایک اور روایت میں حضرت کعب ؓ سے منقول ہے کہ جس شخص نے رات میں الم تنزیل السجدہ اور تبارک الذی پڑھی اس کے لئے ستر نیکیاں لکھی جاتی ہیں، اس کی ستر برائیاں دور کی جاتی ہیں اور اس کے ستر درجات بلند کئے جاتے ہیں ایک اور روایت میں ہے کہ جس شخص نے رات میں الم تنزیل السجدہ اور تبارک الذی پڑھی اللہ تعالیٰ اس کے لئے لیلۃ القدر کے ثواب کی مانند ثواب لکھتا ہے۔ ابن خریس، ابن مردویہ اور بیہقی حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تورات میں سورت یٰس کا نام معمہ رکھا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ سورت اپنے پڑھنے والے کے لئے دنیا وآخرت کی تمام نیکیوں اور بھلائیوں پر مشتمل ہے اپنے پڑھنے والے سے دنیا وآخرت کی مصیبت دفع کرتی ہے اور اس سے آخرت کی ہولناکی دور کرے گی۔ اور اس کا نام رافعہ یا (دافعہ)، خافضہ یا (قاضیہ) بھی رکھا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ سورت مومنین کو بلند مرتبہ بناتی ہے اور کافروں کو پست کرتی ہے نیز اپنے پڑھنے والے سے ہر برائی دفع کرتی ہے اور اس کی ہر حاجت پوری کرتی ہے جو شخص اسے پڑھتا ہے تو وہ اس کے حق میں بیس حج کے برابر ہوتی ہے جو شخص اسے سنتا ہے تو وہ اس کے حق میں ایسے دینار کے برابر ہوتی ہے جسے وہ اللہ کی راہ میں (یعنی جہاد میں) خرچ کرے اور جو شخص اسے لکھ کر پیتا ہے تو وہ اس کے پیٹ میں ہزار دائیں، ہزار نور، ہزار برکتیں اور ہزار رحمتیں داخل کرتی ہے اور اس میں سے ہر کینہ اور ہر دکھ درد نکال باہر کرتی ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں اس بات کو پسند کرتا ہوں اور دوست رکھتا ہوں کہ سورت یٰس میری امت کے ہر فرد بشر کے دل میں ہو (یعن ہر شخص کو یاد ہو) اور آپ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے ہر رات میں سورت یٰس پڑھنے پر مداومت کی (یعنی وہ روزانہ رات میں اسے پڑھتا رہے) اور پھر وہ مرجائے تو اسے شہادت کی موت نصیب ہوتی ہے۔ نیز رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص نے دن کے ابتدائی حصہ میں سورت یٰس پڑھی اس کی حاجتیں پوری کی جاتی ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جو شخص سورت یٰس صبح کے وقت پڑھتا ہے اسے شام تک اس دن کی آسانیاں عنایت کی جاتی ہیں اور جس شخص نے شب کے ابتدائی حصہ میں اس کو پڑھا اسے صبح تک اس رات کی آسانیاں عطا کی جاتی ہیں۔ بیہقی نے حضرت ابوقلابہ (رح) سے جو جلیل القدر تابعین میں سے ہیں ان کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ جس شخص نے سورت یٰس پڑھی اس کی مغفرت کی جاتی ہے جس شخص نے یہ سورت بھوک کی حالت میں پڑھی وہ سیر ہوجاتا ہے جس شخص نے اس حالت میں پڑھی کہ وہ راستہ بھول گیا ہے تو اپنا راستہ پا لیتا ہے جس شخص نے اس حالت میں پڑھی کہ اس کا جانور جاتا رہا تو وہ اپنا جانور پا لیتا ہے جس شخص نے کھانے کے وقت اس حالت میں پڑھی کہ اسے کھانے کی کمی کا خوف ہے تو اس کا کھانا کافی ہوجاتا ہے جس شخص نے اسے میت یا قریب المرگ کے پاس پڑھا تو اس میت یا قریب المرگ پر آسانی ہوجاتی ہے جس شخص نے اسے کسی ایسی عورت پر پڑھا جو ولادت کی شدید تکلیف میں مبتلا ہے تو اس کے لئے ولادت میں آسانی کردی جاتی ہے اور جس شخص نے یہ سورت پڑھی اس نے گویا پورآ قرآن گیارہ مرتبہ پڑھا اور یاد رکھو ہر چیز کا دل ہوتا ہے قرآن کا دل سورت یٰس ہے۔ مقبری کہتے ہیں کہ اگر کسی قسم کا کوئی خوف ہو حکومت وقت کا کوئی نقابل برداشت یا غلط مطالبہ ہو کسی دشمن کی طرف سے ایذاء رسانی کا اندیشہ ہو تو سورت یٰس پڑھو انشاء اللہ اس کی برکت کی وجہ سے تم ہر قسم کے خوف و اندیشہ سے محفوظ رہو گے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے جس نے جمعہ کے دن سورت یٰس اور والصافات پڑھی اور پھر اللہ سے کوئی چیز مانگی تو اللہ تعالیٰ اسے وہ چیز عنایت فرمائے گا۔ حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول کریم ﷺ کا نماز سے فارغ ہونا اس بات سے پہچانتے تھے کہ آپ ﷺ نماز کے بعد یہ آیت (سُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ ) 37۔ الصافات 180) آخر آیت تک پڑھتے تھے۔ نیز نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے نماز کے بعد یہ آیت (سُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ ) 37۔ الصافات 180) آیت تک تین مرتبہ پڑھی تو بلاشک اس نے پورے پیمانہ کے ساتھ (یعنی بھر پور) ثواب حاصل کیا۔ آپ ﷺ یہ بھی فرماتے تھے کہ جس شخص کے لئے یہ بات خوش کن ہو کہ وہ قیامت کے روز بھرپور ثواب کا حق دار ہو تو اسے چاہئے کہ وہ اپنی مجلس کے آخر میں جب کہ وہ اٹھنے کا ارادہ کرے یہ آیت یعنی سبحان ربک الخ پڑھے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے سبع طُوَل (یعنی وہ سات بڑی سورتیں جو ابتداء قرآن میں مذکور ہیں) تورات کی جگہ دی ہیں۔ الرآت سے طواسین تک انجیل کی جگہ دی ہیں طواسین اور حامیمون کے درمیان کی سورتیں زبور کی جگہ دی ہیں اور حامیمون سے وہ مفصل (قرآن کی آخری سورتوں) کے ذریعہ مجھے امتیاز و فضیلت بخشی ہے مجھ سے پہلے کسی نبی نے ان سورتوں کو نہیں پڑھا (یعنی ان سورتوں کے مضامین صرف مجھے ہی عنایت فرمائے گئے ہیں اور کسی نبی کو اس سے سرفراز نہیں کیا گیا ہے)۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ہر چیز کا خلاصہ ہوا کرتا ہے قرآن کا خلاصہ حامیمون ہیں حضرت سمرہ بن جندب ؓ سے بطریق مرفوع منقول ہے کہ حامیمون جنت کے باغات میں سے باغ ہیں۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ حامیمون سات ہیں یعنی ایسی سورتوں کی تعداد سات ہے جن کے شروع میں حم ہے اور دوزخ کے دروازے بھی سات ہیں ان میں سے ہر حم قیامت میں دوزخ کے ہر دروازے پر کھڑی رہے گی اور ہر ایک عرض کرے گی کہ اے پروردگار! اس دروازے کے ذریعہ اس شخص کو دوزخ میں داخل نہ کر جو مجھ پر ایمان رکھتا تھا اور مجھ کو پڑھتا تھا۔ نیز آپ ﷺ نے فرمایا جس طرح ہر درخت کا پھل ہوتا ہے اسی طرح قرآن کا پھل حامیمون ہیں وہ باغ ہیں ارزانی کرنے والے، سیر کرنے والے، تجارت کی جگہ، لہٰذا جس شخص کو یہ بات پسندیدہ اور محبوب ہو کہ وہ جنت کے باغات میں خوشہ چینی کرے تو اسے چاہئے کہ وہ حامیمون پڑھے۔ بیہقی نے شعب الایمان میں نقل کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ جب تک تبارک الذی اور حم السجدہ نہ پڑھ لیتے تھے سوتے نہیں تھے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ جو شخص جمعہ کی شب میں حم الدخان اور یٰس پڑھتا ہے تو وہ اس حالت میں صبح کرتا ہے کہ اس کی بخشش ہوچکی ہوتی ہے۔ ایک دوسری روایت میں فرمایا ہے جو شخص جمعہ کی شب میں یا جمعہ کے دن حم الدخان پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں گھر بناتا ہے نیز ایک روایت یہ ہے جو شخص جمعہ کی رات میں سورت دخان پڑھتا ہے تو وہ اس حالت میں صبح کرتا ہے کہ اس کی مغفرت ہوچکی ہوتی ہے۔ اور اس کا نکاح حور عین سے کیا جائے گا۔ اور جو شخص رات میں سورت دخان پڑھتا ہے اس کے پہلے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس شخص نے الم تنزیل، یٰس اقتربت الساعۃ اور تبارک الذی پڑھی یہ سورتیں اس کے لئے نور ہوں گی اور شیطان و شرک سے پناہ بن جائیں گی نیز قیامت کے دن اس کے درجات بلند کئے جائیں گے۔ ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص ہر رات میں اقتربت الساعۃ پڑھے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے اس حال میں اٹھائے گا کہ اس کا منہ چودہویں رات کے چاند کی مانند روشن ہوگا۔ نیز رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ سورت اذا وقعت اور رحمن پڑھنے والا زمین و آسمان میں رہنے والوں کے درمیان ساکن الفردوس کے نام سے پکارا جاتا ہے یعنی وہ خوش نصیب جنت الفردوس میں کہ جو سب سے اعلیٰ جنت ہے رہے گا۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا سورت الواقعہ سورت الغنی ہے لہٰذا اسے پڑھو اور اپنی اولاد کو سکھاؤ اور ایک روایت میں ہے کہ اسے اپنی بیویوں کو سکھلاؤ۔ حضرت عائشہ ؓ کے بارے میں منقول ہے کہ وہ عورتوں سے کہا کرتی تھیں کہ تم میں سے کسی کو سورت واقعہ پڑھنے سے کوئی چیز روک نہ دے۔ منقول ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک شخص سے فرمایا کہ وہ جب سونے کے لئے اپنے بستر پر جائے تو سورت حشر پڑھے۔ ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ شیطان سے پناہ مانگے اور پھر تین مرتبہ سورت حشر کا آخری حصہ پڑھے تو اللہ تعالیٰ ستر ہزار فرشتے بھیجتا ہے جو اس شخص سے جن وانس کے شیاطین کو دور رکھتے ہیں اگر وہ یہ رات میں پڑھتا ہے تو وہ فرشتے ان شیاطین کو شام تک دور رکھتے ہیں نیز آپ ﷺ کا راشاد گرامی ہے کہ جس شخص نے سورت حشر کی آخری آیتیں دن میں یا رات میں پڑھیں اور اس دن میں یا رات میں مرگیا تو اس کے لئے جنت واجب ہوگی۔ آپ ﷺ نے فرمایا میں اس بات کو پسندیدہ اور محبوب رکھتا ہوں کہ میری امت کے ہر فرد و بشر کے دل میں تبارک الذی ہو (یعنی ہر شخص کو یہ سورت یاد ہو) اور حضرت عکرمہ بن سیان ؓ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت اسماعیل کے سامنے قرآن پڑھا جب میں سورت والضحیٰ پر پہنچا تو انہوں نے فرمایا کہ سورت والضحیٰ کے بعد آخر تک ہر سورت کے ختم ہونے کے بعد اللہ اکبر کہو اس لئے کہ جب میں نے حضرت عبداللہ بن کثیر کے سامنے قرآن کریم پڑھا اور میں سورت والضحیٰ پر پہنچا تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ اس سورت کے بعد قرآن کریم کے آخر تک ہر سورت کے ختم ہونے کے بعد اللہ اکبر کہو، نیز حضرت ابن عباس ؓ نے بھی اس بات کا حکم دیا ہے، چناچہ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں مجھے اس بات کا حکم حضرت ابی بن کعب ؓ نے دیا اور حضرت ابی ؓ نے مجھے بتایا کہ انہیں رسول کریم ﷺ نے اس بات کا حکم دیا ہے۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اذازلزلت آدھے قرآن کے برابر ہے والعادیات بھی آدھے قرآن کے برابر ہے، نیز آپ ﷺ نے فرمایا جو شخص رات میں ہزار آیتیں پڑھا کرے گا وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ ہنستا ہوگا عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ! ہزار آیتیں پڑھنے کی طاقت کون رکھتا ہے آپ نے فرمایا بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر الہکم التکاثر آخر سورت تک پڑھے اور پھر فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے! یہ سورت ہزار آیتوں کے برابر ہے۔ ابوالشیخ نے عظمت میں اور ابومحمد سمرقندی نے قل ہو اللہ احد کے فضائل میں حضرت انس ؓ سے روایت کی ہے کہ خیبر کے یہودی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ اے ابوالقاسم! اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کو نور حجاب سے آدم کو حماء مسنون یعنی سڑی ہوئی کیچڑ سے ابلیس کو شعلہ آگ سے آسمان کو دھوئیں سے اور زمین کو پانی کے جھاگ سے پیدا کیا لہٰذا اب آپ اپنے رب کے بارے میں بتائیے کہ اللہ تعالیٰ کس چیز سے پیدا ہوا؟ نبی کریم ﷺ نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا، تاکہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آپ کے پاس یہ سورت یعنی قل ہو اللہ احد لائے جس کا مطلب یہ ہے کہ اے محمد آپ ان سے کہہ دیجئے اللہ ایک ہے نہ اس کے اصول ہیں نہ فروع اور نہ اس کا کوئی شریک ہے اللہ الصمد اللہ تعالیٰ بالکل بےپرواہ اور مستغنی ہے نہ تو وہ کھتا ہے نہ پیتا ہے اور نہ اسے کسی چیز کی حاجت و ضرورت ہے یہ ساری سورت آپ نے پڑھ کر سنا دی، چناچہ اس سورت میں نہ جنت کا ذکر ہے اور نہ دوزخ کا نہ حلال چیزوں کا ذکر ہے اور نہ حرام کا بلکہ اس سورت کو اللہ تعالیٰ نے صرف اپنی طرف منسوب کیا ہے۔ لہٰذا یہ سورت خاص طور پر اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے۔ یعنی اس سورت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات وصفات اور وحدانیت کی حقیقت بتائی ہے اس لئے جس شخص نے اس سورت کو تین مرتبہ پڑھا گویا اس نے تمام وحی یعنی پورا قرآن پڑھ لیا، جس شخص نے اس سورت کو تیس مرتبہ پڑھا ہو اس دن میں دنیا میں کوئی شخص اس کی فضیلت کے برابر نہیں ہوگا علاوہ اس شخص کے جس نے اس سے بھی زیادہ پڑھا ہو جس شخص نے اس سورت کو دو بار پڑھا ہو وہ جنت الفردوس میں رہے گا اور جو شخص اپنے گھر میں داخل ہوتے وقت اسے تین مرتبہ پڑھے تو اس سے فقر و محتاجگی دور رہتے ہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ ایک رات رسول کریم ﷺ نے اس طرح گزاری کہ تمام رات صبح تک اس سورت کو بار بار پڑھتے تھے۔ ایک روایت میں ہے کہ جس شخص نے قل ہو اللہ احد پڑھی اس نے گویا تہائی قرآن پڑھا ایک اور روایت میں ہے کہ جس شخص نے سورت اخلاص کو دو سو مرتبہ پڑھا اس کے دو سو برسوں کے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں (یعنی اس کے بہت ہی زیادہ گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں) اور ایک روایت میں ہے کہ جس شخص نے قل ہو اللہ احد پچاس مرتبہ پڑھی اس کے پچاس برس کے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں ایک روایت یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص نے ہر روز دو مرتبہ قل ہو اللہ احد پڑھی اس کے لئے ڈیڑھ ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور اس سے پچاس برس کے گناہ دور کئے جاتے ہیں الاّ یہ کہ اس پر دین کوئی قرض ہو۔ ابن سعید، ابن خریس، ابویعلیٰ اور بیہقی دلائل میں حضرت انس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ملک شام میں تھے کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نازل ہوئے اور عرض کیا کہ اے محمد ﷺ! معاویہ ابن معاویہ مزنی ؓ (صحابی) کا انتقال ہوگیا ہے کیا آپ ﷺ جانتے ہیں کہ ان کی نماز جنازہ پڑھیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں! چناچہ حضرت جبرائیل نے اپنا بازو زمین پر مارا جس سے ان کے لئے ہر چیز پست ہو کر زمین کی سطح سے مل گئی یہاں تک کہ معاویہ کا جنازہ بلند ہو کر سامنے نظر آنے لگا اور نبی کریم ﷺ نے ان کی نماز جنازہ فرشتوں کی دو صفوں میں پڑھی اور ہر صف میں چھ لاکھ فرشتے تھے۔ حضرت جبرائیل نے کہا کہ قل ہو اللہ احد کے پڑھنے نے وہ اس سورت کو ہر وقت کھڑے بیٹھے آتے جاتے اور سوتے (یعنی لیٹے لیٹے) پڑھا کرتے تھے۔ ایک اور روایت میں حضرت انس ؓ ہی سے منقول ہے کہ ہم رسول کریم ﷺ کے ہمراہ تبوک میں تھے ایک دن آفتاب طلوع ہوا تو اس میں ایسی روشنی وشعاع اور ایسا نور تھا کہ ہم نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا، چناچہ نبی کریم ﷺ سورج کی اس روشنی و نور کے بارے میں اظہار تعجب ہی فرما رہے تھے کہ اچانک حضرت جبرائیل تشریف لے آئے ان سے پوچھا کہ سورج کے لئے ایسا کیا سبب پیش آیا کہ میں اس کو ایسی روشنی ونور کے ساتھ دیکھ رہا ہوں کہ پہلے کبھی اس طرح طلوع ہوتے نہیں دیکھا؟ انہوں نے کہا کہ اس کا سبب یہ ہے کہ آج مدینہ میں معاویہ ابن معاویہ لیثی کا انتقال ہوگیا ہے چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف ستر ہزار فرشتے بھیجے تاکہ وہ ان نماز جنازہ پڑھیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا کہ اے جبرائیل! اس فضیلت و کر امت کا سبب کیا ہے حضرت جبرائیل نے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ قل ہو اللہ احد بہت زیادہ پڑھتے تھے کھڑے بیٹھے چلتے اور دن و رات کے دوسرے اوقات میں اس سورت کو بہت زیادہ پڑھتے تھے کیونکہ یہ سورت آپ کے رب کی نسبت ہے جو شخص اس سورت کو پچاس مرتبہ پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے پچاس ہزار درجے بلند کرتا ہے اور اس سے پچاس ہزار برائیاں دور کرتا ہے نیز اس کے لئے پچاس ہزار نیکیاں لکھتا ہے اور جو شخص اس سے بھی زیادہ پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اس سے بھی زیادہ ثواب عطا فرماتا ہے پھر جبرائیل نے کہا کہ کیا میں آپ کے لئے زمین سمیٹ لوں تاکہ آپ ان کی نماز جنازہ پڑھ سکیں؟ آپ نے کہا ہاں۔ چناچہ آپ نے ان کی نماز جنازہ پڑھی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تین چیزیں ایسی ہیں جن کو جو شخص تکمیل ایمان کی خاطر اختیار کرے تو وہ جنت کے جس دروازے سے چاہے گا داخل ہوگا اور جس بھی حور عین سے چاہے گا نکاح کرے گا۔ (١) اپنے قاتل کو معاف کرے (٢) دین خفیہ ادا کرے (٣) ہر فرض نماز کے بعد دس مرتبہ قل ہو اللہ احد پڑھے۔ (یہ سن کر) حضرت ابوبکر ؓ نے عرض کیا کہ اگر ان میں سے کوئی ایک چیز بھی اختیار کرے گا تو مذکورہ بالا ثواب سعادت کا حقدار ہوگا۔ رسول کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے جو شخص روزانہ پچاس مرتبہ قل ہو اللہ احد پڑھے تو اسے قیامت کے دن اس کی قبر سے اس طرح بلایا جائے گا کہ اے اللہ کے مدح کرنے والے جنت میں داخل ہوجا۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا جو شخص کھانا شروع کرتے وقت بسم اللہ کہنا بھول جائے تو اسے چاہئے کہ جب وہ کھانے سے فارغ ہو تو قل ہو اللہ احد پڑھ لے نیز رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص اپنے گھر میں داخل ہوتے وقت قل ہو اللہ احد پڑھتا ہے تو نہ صرف یہ کہ اس کے گھر والوں سے بلکہ ہمسایوں سے بھی فقر و محتاجگی دور ہوتی ہے ایک روایت میں ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ایک دن حضرت جبرائیل بڑی اچھی صورت میں شاداں وفرحاں میرے پاس ائے اور کہنے لگے کہ اے محمد! اللہ تعالیٰ آپ کو سلام فرماتا ہے اور فرماتا ہے کہ ہر ذات کے لئے سلسلہ نسب ہوتا ہے میرا نسب قل ہو اللہ احد ہے لہٰذا آپ کی امت میں سے جو شخص میرے پاس اس حال میں آئے گا کہ اس نے کبھی قل ہو اللہ احد ہزار بار پڑھی ہوگی تو میں اسے اپنا نشان عطا کروں گا۔ اسے اپنے عرش کے قریب رکھوں گا اور ایسے ستر آدمیوں کے حق میں اس کی شفاعت قبول کروں گا جو مستوجب عذاب ہوں گے اور اگر میں نے اپنے اوپر یہ واجب نہ کرلیا ہوتا کہ آیت (کل نفس ذائقۃ الموت (یعنی میں نے یہ کلیہ نہ بنادیا ہوتا کہ ہر جاندار موت کا مزہ ضرور چکھے گا) تو میں اس کی روح قبض نہ کرتا۔ ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ جو شخص نماز جمعہ کے بعد قل ہو اللہ احد، قل اعوذ براب الفلق اور قل اعوذ برب الناس سات سات مرتبہ پڑھے تو اللہ تعالیٰ اسے دوسرے جمعہ تک برائیوں سے پناہ میں رکھتا ہے۔ ایک روایت یہ ہے کہ جس شخص نے قل ہو اللہ احد ہزار مرتبہ پڑھی تو اس کا یہ پڑھنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس بات سے زیادہ محبوب و پسندیدہ ہے کہ وہ فی سبیل اللہ (یعنی جہاد میں) ایک ہزار گھوڑے مع لگام و زین کے دے۔ حضرت کعب احبار ؓ کہتے ہیں کہ جو شخص قل ہو اللہ احد پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے گوشت کو آگ پر حرام کردیتا ہے، نیز کعب احبار ؓ سے یہ بھی منقول ہے کہ جو شخص روزانہ رات ودن میں دس بار قل ہو اللہ احد اور آیۃ الکرسی پڑھنے پر مواظبت کرے تو وہ اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگے تو وہ عطا فرماتا ہے۔ ایک روایت میں یہ ہے کہ جس شخص نے اس سورت کو ہزار مرتبہ پڑھا اس نے اپنا نفس اللہ تعالیٰ سے خرید لیا یعنی وہ آگ سے محفوظ ہوگیا، اسی طرح ایک روایت میں یوں ہے کہ جو شخص اس سورت کو دو سو مرتبہ پڑھتا ہے تو اسے پانچ سو برس کی عبادت کا ثواب حاصل ہوتا ہے۔ ایک روایت میں نبی کریم ﷺ کے بارے میں منقول ہے کہ جب آپ ﷺ نے حضرت علی ؓ کا نکاح حضرت فاطمہ ؓ کے ساتھ کیا تو آپ ﷺ نے پانی منگا کر اس میں کلی کی پھر اسے اپنے گھر میں لے گئے اور اس پانی کو ان کے گریبان میں اور ان کے دونوں مونڈھوں کے درمیان چھڑکا نیز قل ہو اللہ احد، قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس پڑھ کر انہیں اللہ کی پناہ میں دیا۔ ایک روایت میں ہے کہ جس شخص نے فجر کی نماز کے بعد کسی سے بات چیت کرنے سے پہلے ستر مرتبہ قل ہو اللہ احد پڑھی تو اس دن اس کی طرف سے پچاس صدیقین کے عمل اوپر پہنچائے جاتے ہیں۔