کتاب الطہارت

Maarif-ul-Hadith · Chapter 4 · 70 hadiths · Page 3 of 4

444Maarif-ul-Hadith

وضو کا طریقہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « مَنْ تَوَضَّأَ وَاحِدَةً فَتِلْكَ وَظِيفَةُ الْوُضُوءِ الَّتِي لَا بُدَّ مِنْهَا ، وَمَنْ تَوَضَّأَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُ كِفْلَانِ ، وَمَنْ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا فَذَلِكَ وُضُوئِي ، وَوُضُوءُ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلِي » (رواه احمع)

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو وضو کرے ایک دفعہ (یعنی دھوئے جانے والے اعضاء کو اس میں صرف ایک ہی ایک دفعہ دھوئے) تو یہ وضو کا وہ درجہ ہے جس کے بغیر کوئی چارہ ہی نہیں (اور اس کے بغیر وضو ہوتا ہی نہیں) اور جو وضو کرے دو دو مرتبہ (یعنی اس میں اعضاء وضو کو دو دو دفعہ دھوئے) تو اس کو (ایک ایک دفعہ والے وضو کے مقابلہ میں) دو حصے ثواب ہو گا۔ اور جس نے وضو کیا تین تین دفعہ (جو) افضل اور مسنون طریقہ ہے، تو یہ میرا وضو ہے اور مجھ سے پہلے پیغمبروں کا (یعنی میرا دستور اعضاء وضو کو تین تین دفعہ دھونے کا ہے اور مجھ سے پہلے انبیاء علیہم السلام کا طریقہ بھی یہی رہا ہے)۔ (مسند احمد) تشریح یہ حدیث مسند احمد کی ہے اور اس میں ایک دوسری روایت اس طرح ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن ایک ایک دفعہ وضو کر کے دکھایا اور فرمایا کہ یہ وہ کم سے کم درجہ کا وضو ہے جس کے بغیر کسی کی نماز اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول ہی نہیں ہو سکتی، اس کے بعد آپ ﷺ نے دو دفعہ کا وضو کر کے دکھایا اور فرمایا کہ پہلے والے وضو کے مقابلہ میں اس کا ثواب دوہرا ملے گا، پھر آپ ﷺ نے تین تین دفعہ والا وضو کر کے دکھایا اور فرمایا کہ یہ میرا وضو ہے اور مجھ سے پہلے انبیاء علیہم السلام کا۔ اس دوسری روایت کو دار قطنی، بیہقی، ابن حبان اور ابن ماجہ نے بھی دریافت کیا ہے۔ (زجاجۃ المصابیح) ان دونوں روایتوں سے بات بالکل صاف ہو جاتی ہے۔ فَلِلَّہِ الْحَمْدُ۔

445Maarif-ul-Hadith

وضو کی سنتیں اور اس کے آداب

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « لَا وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ تَعَالَى عَلَيْهِ » (رواه الترمذى وابن ماجه)

حضرت سعید بن زید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ جس شخص نے اللہ کا نام لئے بغیر وضو کیا، اس کا وضو ہی نہیں۔ (جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ) تشریح وضو میں فرض تو بس وہی چار چیزیں ہیں جن کا ذکر سورہ مائدہ کی اس مندرجہ بالا آیت میں کیا گیا ہے جس میں نماز سے پہلے وضو کرنے کا حکم دیا گیا ہے، یعنی پورے چہرے کا دھونا، ہاتھوں کا کہنیوں تک دھونا، سر کا مسح کرنا، پاؤں کا ٹخنوں تک دھونا۔ ان چار چیزوں کے علاوہ رسول اللہ ﷺ وضو میں جن چیزوں کا اہتمام فرماتے تھے یا جن کی ترغیب دیتے تھے، وہ وضو کی سنتیں اور اس کے آداب ہیں جن سے وضو کی ظاہری یا باطنی تکمیل ہوتی ہے۔ مثلاً چہرے اور ہاتھ پاؤں کی بجائے ایک ایک دفعہ تین تین بار دھونا اور مل مل کر دھونا، ڈاڑھی میں اور ہاتھ پاؤں کی انگلیوں میں خلال کرنا، انگلی میں پہنی ہوئی انگوٹھی کو حرکت دینا، تا کہ اس کے نیچے پانی پہنچنے میں شبہ نہ رہ جائے، اسی طرح کلی اور ناک کی صفائی کا اہتمام کرنا، کانوں کے اندرونی اور بیرونی حصہ کا مسح کرنا، شروع میں بسم اللہ اور آخر میں کلمہ شہادت پڑھنا اور خاتمہ وضو کی دعا کرنا، یہ سب وضو کی سنتیں اور اس کے آداب و مستحبات ہیں جن سے وضو کی تکمیل ہوتی ہے۔ اس سلسلہ کی چند حدیثیں ذیل میں پڑھیے!۔ تشریح ..... امت کے اکثر ائمہ اور مجتہدین کے نزدیک اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جو وضو غفلت کے ساتھ، اللہ کا نام لئے بغیر کیا جائے وہ بہت ناقص اور بالکل بے نور ہو گا۔ اور ناقص کو کالعدم قرار دے کر اس کی سرے سے نفی کر دینا عام محاورہ ہے۔ “ کتاب الایمان ” میں یہ بات تفصیل اور وضاحت سے لکھی جا چکی ہے۔ اگلے ہی نمبر پر ابو ہریرہ و ابن مسعود و ابن عمر ؓ کی روایت سے جو حدیث درج ہو رہی ہے اس سے یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ اللہ کا نام لئے بغیر جو وضو کیا جائے وہ اگرچہ بالکل بے کار نہیں ہے لیکن اپنی باطنی تاثیر اور نورانیت کے لحاظ سے بہت ناقص ہے۔

446Maarif-ul-Hadith

وضو کی سنتیں اور اس کے آداب

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ مَسْعُوْدٍ وَابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ تَوَضَّأَ وَذَكَرَ اسْمَ اللهِ فَاِنَّهُ يُطَهِّرُ جَسَدَهُ كُلَّهُ وَمَنْ تَوَضَّأَ وَلَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللهِ لَمْ يُطَهِّرْ إِلَّا مَوْضِعَ الْوُضُوْءِ". (رواه الدار القطنى)

حضرت ابو ہریرہ و ابن مسعود و ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ جو شخص وضو کرے اور اس میں اللہ کا نام لے، تو یہ وضو اس کے سارے جسم کو پاک کر دیتا ہے، اور جو کوئی وضو کرے اور اس میں اللہ کا نام نہ لے، تو وہ وضو اس کے صرف اعضائے وضو ہی کو پاک کرتا ہے۔ (سنن دار قطنی) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو وضو اللہ کا نام لے کر مثلاً بسم اللہ پڑھ کر یا اسی طرح کوئی کلمہ ذکر زبان سے ادا کر کے کیا جائے تو اس کے اثر سے سارا جسم مطہر اور منور ہو جاتا ہے اور جو وضو اللہ کا نام لئے اور اس کا ذکر کئے بغیر کیا جائے تو اس سے صرف اعضاء وضو ہی کی طہارت ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہی ہوا کہ یہ وضو بہت ناقص قسم کا ہوتا ہے۔

447Maarif-ul-Hadith

وضو کی سنتیں اور اس کے آداب

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَبَا هُرَيْرَةَ , إِذَا تَوَضَّأْتَ فَقُلْ : بِسْمِ اللَّهِ , وَالْحَمْدُ لِلَّهِ؛ فَإِنَّ حَفَظَتَكَ لَا تَبْرَحُ تَكْتُبُ لَكَ الْحَسَنَاتِ حَتَّى تُحْدِثَ مِنْ ذَلِكَ الْوُضُوءِ ". (رواه الطبرانى فى الصغير)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے ابو ہریرہ جب تم وضو کرو تو “ بِسْمِ اللَّهِ , وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ” کہہ لیا کرو (اس کا اثر یہ ہو گا کہ) جب تک تمہارا یہ وضو باقی رہے گا، اس وقت تک تمہارے محافظ فرشتے (یعنی کاتبین اعمال) تمہارے لئے برابر نیکیاں لکھتے رہیں گے۔ (معجم صغیر للطبرانی) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو وضو “ بِسْمِ اللَّهِ , وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ” کہہ کر کیا جائے اللہ تعالیٰ کے نزدیک اتنی عظیم نیکی ہے، کہ جب تک وہ باقی اور قائم رہے اس وقت تک کاتبان اعمال اس وضو والے کے نامہ اعمال میں مسلسل نیکیاں لکھنے کے لئے مامور ہیں۔

448Maarif-ul-Hadith

وضو کی سنتیں اور اس کے آداب

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « إِذَا تَوَضَّأْتُمْ فَابْدَءُوا بِمَيَامِنِكُمْ » (رواه احمد وابوداؤد)

حضرت ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب تم لباس پہنو اور جب تم وضو کرو تو اپنے داہنے اعضاء سے ابتدا کیا کرو۔ (مسند احمد، سنن ابی داؤد) تشریح مطلب یہ ہے کہ جب کوئی کپڑا یا جوتا یا موزہ وغیرہ پہنا جائے تو پہلے داہنی طرف پہنا جائے اور جب وضو کیا جائے تو ہر عضو کے دھونے کی ابتدا داہنی طرف سے کی جائے۔

449Maarif-ul-Hadith

وضو کی سنتیں اور اس کے آداب

عَنْ لَقِيطِ بْنِ صَبْرَةَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ ، أَخْبِرْنِي عَنِ الوُضُوءِ؟ قَالَ : أَسْبِغِ الوُضُوءَ ، وَخَلِّلْ بَيْنَ الأَصَابِعِ ، وَبَالِغْ فِي الاِسْتِنْشَاقِ ، إِلاَّ أَنْ تَكُونَ صَائِمًا. (رواه ابوداؤد والترمذى والنسائى)

لقیط بن صبرہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے وضو کی بات بتائیے؟ (یعنی بتائیے کہ جن باتوں کا وضو میں مجھے خاص طور سے اہتمام کرنا چاہئے) آپ ﷺ نے فرمایا: (ایک تو یہ کہ) پورا وضو خوب اچھی طرح اور کامل طریقہ سے کیا کرو (جس میں کوئی کمی کسر نہ رہے) اور دوسرے یہ کہ ہاتھ پاؤں دھوتے وقت ان کی انگلیوں میں خلال کیا کرو اور تیسرے یہ کہ ناک کے نتھنوں میں پانی چڑھا کے اچھی طرح ان کی صفائی کیا کرو، الا یہ کہ تم روزے سے ہو۔ (یعنی روزہ کی حالت میں ناک میں پانی زیادہ نہ چڑھاؤ)۔ (سنن ابی داؤد، جامع ترمذی، سنن نسائی)

450Maarif-ul-Hadith

وضو کی سنتیں اور اس کے آداب

عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَوَضَّأَ دَلَكَ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ بِخِنْصَرِهِ. (رواه الترمذى وابوداؤد وابن ماجه)

مستورد بن شداد ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، جب آپ ﷺ وضو فرماتے، تو ہاتھ کی سب سے چھوٹی انگلی (چھنگلیا) سے پاؤں کی انگلیوں کو (یعنی ان کے درمیانی حصوں کو) ملتے تھے۔ (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، سنن ابن ماجہ)

451Maarif-ul-Hadith

وضو کی سنتیں اور اس کے آداب

عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا تَوَضَّأَ ، أَخَذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ فَأَدْخَلَهُ تَحْتَ حَنَكِهِ فَخَلَّلَ بِهِ لِحْيَتَهُ » ، وَقَالَ : هَكَذَا أَمَرَنِي رَبِّي. (رواه ابوداؤد)

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا طریقہ یہ تھا کہ جب وضو فرماتے تو ایک ہاتھ سے پانی لے کر ٹھوڑی کے نیچے ریش مبارک کے اندرونی حصہ میں پہنچاتے اور اس سے ریش مبارک میں خلال کرتے (یعنی ہاتھ کی انگلیاں اس کے درمیان سے نکالتے) اور فرماتے میرے رب نے مجھے ایسا ہی کرنے کا حکم دیا ہے۔ (سنن ابی داؤد)

452Maarif-ul-Hadith

وضو کی سنتیں اور اس کے آداب

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ بَاطِنِهِمَا بِالسَّبَّاحَتَيْنِ وَظَاهِرِهِمَا بَإِبْهَامَيْهِ

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (وضو میں) اپنے سر مبارک کا مسح فرمایا اور اس کے ساتھ دونوں کانوں کا بھی (اس طرح) کہ کانوں کے اندرونی حصہ کا تو انگوٹھوں کے برابر والی، انگلیوں سے مسح فرمایا اورا وپر کے حصہ کا دونوں انگوٹھوں سے۔ (سنن نسائی)

453Maarif-ul-Hadith

وضو کی سنتیں اور اس کے آداب

عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ « تَوَضَّأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَدْخَلَ إِصْبَعَيْهِ فِي جُحْرَيْ أُذُنَيْهِ » (رواه ابوداؤد واحمد وابن ماجه)

ربیع بنت معوذ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے وضو فرمایا تو (کانوں کا مسح کرتے ہوئے) دونوں کانوں کے سوراخوں میں بھی آپ ﷺ نے اپنی انگلیاں ڈالیں۔ (سنن ابی داؤد، مسند احمد، سنن ابن ماجہ)

454Maarif-ul-Hadith

وضو کی سنتیں اور اس کے آداب

بْنِ أَبِي رَافِعٍ قَالَ : كَانَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ « إِذَا تَوَضَّأَ ، حَرَّكَ خَاتَمَهُ » (رواه الدار القطنى وابن ماجه)

حضرت ابو رافع ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز کا وضو فرماتے تھے تو انگلی میں پہنی ہوئی اپنی انگوٹھی کو بھی حرکت دیتے تھے (تاکہ پانی اس جگہ بھی اچھی طرح پہنچ جائے اور کوئی شک و شبہ باقی نہ رہے)۔ (سنن دار قطنی، سنن ابن ماجہ) تشریح مندرجہ بالا حدیثوں میں وضو کے سلسلہ کے جن جن اعمال کا ذکر ہے، مثلاً ڈاڑھی اور ہاتھ پاؤں کی انگلیوں کا خلال کرنا، کانوں کے اندر باہر کا اچھی طرح مسح کرنا اور ان کے سوراخوں تک بھی انگلیاں پہنچانا، اسی طرح ہاتھ میں پہنی ہوئی انگوٹھی کو حرکت دینا، یہ سب وضو کے تکمیلی آداب ہیں جن کا اہتمام رسول اللہ ﷺ خود بھی فرماتے تھے، اور اپنے قول و عمل سے دوسروں کو بھی ان کی تعلیم و ترغیب دیتے تھے۔

455Maarif-ul-Hadith

وضو میں پانی بے ضرورت نہ بہایا جائے

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاص ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِسَعْدٍ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ ، فَقَالَ : " مَا هَذَا السَّرَفُ يَا سَعْدُ؟ " قَالَ : أَفِي الْوُضُوءِ سَرَفٌ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، وَإِنْ كُنْتَ عَلَى نَهْرٍ جَارٍ ". (رواه احمد وابن ماجه)

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ سعد بن ابی وقاص ؓ وضو کر رہے تھے (اور اس میں پانی کے استعمال میں فضول خرچی سے کام لے رہے تھے) رسول اللہ ﷺ ان کے پاس سے گزرے تو آپ نے ان سے فرمایا: سعد! یہ کیسا اسراف ہے (یعنی پانی بے ضرورت کیوں بہایا جا رہا ہے) انہوں نے عرض کیا حضور (ﷺ) کیا وضو کے پانی میں بھی اسراف ہوتا ہے؟ (یعنی کیا وضو میں پانی زیادہ خرچ کرنا بھی اسراف میں داخل ہے؟) آپ ﷺ نے فرمایا، ہاں یہ بھی اسراف میں داخل ہے، اگرچہ تم کسی جاری نہر کے کنارے ہی پر کیوں نہ ہو۔ (مسند احمد، سنن ابن ماجہ) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا، کہ وضو کے آداب میں سے یہ بھی ہے کہ پانی کے استعمال میں اسراف سے کام نہ لیا جائے۔

456Maarif-ul-Hadith

وضو کے بعد تولیہ یا رومال کا استعمال

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا تَوَضَّأَ مَسَحَ وَجْهَهُ بِطَرَفِ ثَوْبِهِ. (رواه الترمذى)

حضرت معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ ﷺ وضو فرماتے تو اپنے ایک کپڑے کے کنارے سے چہرہ مبارک پونچھ لیتے۔ (جامع ترمذی) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ وضو فرمانے کے بعد اپنے کسی کپڑے (چادر وغیرہ) کے کنارے ہی سے چہرہ مبارک پونچھ لیتے تھے۔اور امام ترمذی ہی نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ وضو کے بعد اعضاء وضو کو پونچھنے کے لئے رسول اللہ ﷺ کے واسطے ایک مستقل کپڑا رہتا تھا جس کو آپ ﷺ اس کام میں استعمال کرتے تھے۔ بعض اور صحابہ کرامؓ کی روایات میں بھی ایسے کپڑے یا رومال کا ذکر آیا ہے۔ اس سلسلہ کی تمام روایات کو سامنے رکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مقصد کے لئے کوئی مستقل کپڑا رومال کی طرح کا بھی رہتا تھا اور کبھی کبھی آپ ﷺ اپنے کسی کپڑے کے کنارے سے بھی یہ کام لیتے تھے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔

457Maarif-ul-Hadith

ہر وضو کے بعد اللہ تعالیٰ کا کچھ ذکر اور نماز

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَالَ لِبِلاَلٍ : « عِنْدَ صَلاَةِ الفَجْرِ يَا بِلاَلُ حَدِّثْنِي بِأَرْجَى عَمَلٍ عَمِلْتَهُ فِي الإِسْلاَمِ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ دَفَّ نَعْلَيْكَ بَيْنَ يَدَيَّ فِي الجَنَّةِ » قَالَ : مَا عَمِلْتُ عَمَلًا أَرْجَى عِنْدِي : أَنِّي لَمْ أَتَطَهَّرْ طَهُورًا ، فِي سَاعَةٍ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ ، إِلَّا وَصَلَّيْتُ بِذَلِكَ الطُّهُورِ مَا كُتِبَ لِي أَنْ أُصَلِّيَ " . (رواه ابوداؤد والترمذى)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن فجر کی نماز کے بعد بلال سے فرمایا، تمہیں اپنے جس اسلامی عمل سے سب سے زیادہ امید خیر و ثواب ہو وہ مجھے بتلاؤ، کیوں کہ میں نے تمہارے چپلوں کی چاپ جنت میں اپنے آگے آگے سنی ہے (مطلب یہ ہے کہ رات میں نے خواب میں دیکھا کہ میں جنت میں چل پھر رہا ہوں اور آگے آگے تمہارے قدموں کی آہٹ سن رہا ہوں، تو میں دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ یہ تمہارے کس عمل کی برکت ہے، لہذا تم مجھے اپنا وہ عمل بتاؤ جس سے تمہیں سب سے زیادہ ثواب اور رحمت کی امید ہو) بلال نے عرض کیا کہ مجھے اپنے اعمال میں سب سے زیادہ امید اپنے اس عمل سے ہے، کہ میں نے رات یا دن کے کسی وقت میں جب بھی وضو کیا ہے تو اس وضو سے میں نے نماز ضرور ہی پڑھی ہے، جتنی نماز کی بھی مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس وقت توفیق ملی۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح نمبر “ ۱۷ ” پر بحوالہ مسلم و ترمذی حضرت عمر ؓ کی وہ حدیث گزر چکی ہے جس میں وضو کے بعد کلمہ شہادت اور دعا ماثور “ اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ التَّوَّابِينَ، وَاجْعَلْنِي مِنَ الْمُتَطَهِّرِينَ ” پڑھنے کی فضیلت و برکت بیان فرمائی گئی ہے اور نمبر (۳۶) پر حضرت عثمان ؓ کی وہ حدیث بھی بحوالہ بخاری و مسلم گزر چکی ہے جس میں وضو کرنے کے بعد قلبی توجہ اور یکسوئی کے ساتھ دو رکعت نماز پڑھنے پر پچھلے سارے گناہوں کی معافی کی بشارت سنائی گئی ہے، اس سلسلہ میں ایک حدیث یہاں اور پڑھ لی جائے۔ اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت بلال ؓ کے قدموں کی آہٹ یا چپلوں کی چاپ جنت میں سننے کی جو اطلاع دی ہے، جیسا کہ ترجمہ میں بھی ظاہر کر دیا گیا ہے۔ یہ خواب (۱) کا واقعہ ہے۔ اس لئے یہ سوال پیدا ہی نہیں ہوتا کہ بلالؓ زندگی ہی میں جنت میں کس طرح پہنچ گئے البتہ حضور ﷺ کا خواب میں حضرت بلالؓ کو جنت میں دیکھنا اور اس کا بیان فرمانا اس بات کی قطعی شہادت ہے کہ حضرت بلالؓ جنتی ہیں بلکہ درجہ اول کے جنتیوں میں ہیں۔ اس حدیث کی روح اور اس کا خاص پیغام یہ ہے کہ بندہ اس کی عادت ڈالے کہ جب بھی وضو کرے اس سے حسب توفیق کچھ نماز ضرور پڑھے، خواہ فرض ہو، خواہ سنت، خواہ نفل۔

458Maarif-ul-Hadith

جنابت اور غسل جنابت

عَنْ عَبْدِاللهِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « لَا تَقْرَأِ الحَائِضُ ، وَلَا الجُنُبُ شَيْئًا مِنَ القُرْآنِ » (رواه الترمذى)

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ حائضہ عورت اور جنبی آدمی قرآن پاک میں سے کچھ بھی نہ پڑھے۔ (یعنی قرآن مجید جو اللہ تعالیٰ کا مقدس کلام ہے، اس کی تلاوت ان دونوں کے لئے بالکل ممنوع ہے)۔ (جامع ترمذی) تشریح ہر سلیم الفطرت اور صاحب روحانیت انسان، جب اس کے جسم کے کسی حصہ سے کوئی گندہ مادہ خارج ہوتا ہے یا اپنی طبیعت کا وہ کائی ایسا بہیمی اور شہوانی تقاضا پورا کرتا ہے جو ملکوتیت سے بہت ہی بعید ہوتا ہے تو جیسا کہ پہلے بھی ذکر کیا جا چکا ہے، وہ اپنے باطن میں ایک خاص قسم کی ظلمت و کدورت اور گندگی و آلودگی محسوس کرتا ہے اور اس حالت میں عبادت جیسے مقدس کاموں کے قابل اپنے کو نہیں سمجھتا اور بتلایا جا چکا ہے کہ دراصل اسی ھالت کا نام حدث ہے۔ پھر اس حدث کی دو قسمیں ہیں یا یوں کہئے کہ دو درجے ہیں، ایک حدث اصغر، جس کے ازالہ کے لئے صرف وضو کافی ہو جاتا ہے، یعنی صرف وضو کر لینے سے ظلمت و گندگی کا وہ اثر زائل ہو جاتا ہے اور دوسرے حدث اکبر، جس کے اثرات زیادہ گہرے اور زیادہ وسیع ہوتے ہیں، اور ان کا ازالہ پورے جسم کے غسل ہی سے ہو سکتا ہے پیشاب پاخانہ اور خروج ریاح وغیرہ حدث اصغر کی مثالیں اور مجامعت و حیض و نفاس وغیرہ حدث اکبر کی۔ ہر سلیم الفطرت انسان اس روحانی ظلمت و کدورت کے ازالہ کے لئے جو مجامعت یا حیض و نفاس سے قلب و روح میں پیدا ہوتی ہے، غسل ضروری سمجھتا ہے اور جب تک غسل نہ کر لے، اپنے کو مقدس مشاغل و وطائف میں مشغولی کے لائق بلکہ مقدس مقامات سے گزرنے کے بھی قابل نہیں سمجھتا، گویا یہ انسان کی سلیم فطرت کا تقاضا ہے، شریعت مطہرہ نے بھی ان حالات میں غسل واجب کیا ہے اور غسل سے پہلے نماز اور تلاوت قرآن جیسے مقدس وظائف میں مشغول ہرنے سے اور مساجد جیسے مقدس مقامات میں داخل ہونے سے منع فرمایا ہے، اس سلسلہ کی چند حدیثیں ذیل میں درج کی جاتی ہیں۔

459Maarif-ul-Hadith

جنابت اور غسل جنابت

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « وَجِّهُوا هَذِهِ الْبُيُوتَ عَنِ الْمَسْجِدِ فَإِنِّي لَا أُحِلُّ الْمَسْجِدَ لِحَائِضٍ وَلَا جُنُبٍ » (رواه ابوداؤد)

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ان گھروں کا رخ مسجد کی طرف سے پھیر دو (یعنی ان کے دروازے جو مسجد کی طرف ہیں، ان کو مسجد کی جانب سے بند کر کے دوسری جانب کھولو) کیوں کہ کسی حائضہ عورت اور کسی جنبی کے لئے مسجد میں داخل ہونے کا بالکل جواز نہیں ہے۔ (ان کے لئے مسجد میں آنا ناجائز و حرام ہے)۔ (سنن ابی داؤد) تشریح مسجد نبوی ﷺ جب شروع میں بنی تھی، تو اس کے آس پاس کے بہت سے گھروں کے دروازے مسجد کی طرف تھے، گویا کہ صحن مسجد ہی میں کھلتے تھے، کچھ عرصہ کے بعد یہ حکم آ گیا، کہ مسجد کے ادب و احترام کا یہ حق ہے کہ حائضہ اور جنبی اس میں داخل نہ ہوں، اس وقت رسول اللہ ﷺ نے یہ اعلان فرمایا اور حکم دیا کہ یہ سب دروازے مسجد کی جانب سے بند کر کے دوسری طرف کھولے جائیں۔

460Maarif-ul-Hadith

غسل جنابت کا طریقہ اور اس کے آداب

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « إِنَّ تَحْتَ كُلِّ شَعَرَةٍ جَنَابَةً ، فَاغْسِلُوا الشَّعَرَ ، وَأَنْقُوا الْبَشَرَةَ » (رواه ابوداؤد والترمذى وابن ماجه)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جسم کے ہر بال کے نیچے جنابت کا اثر ہوتا ہے، اس لئے غسل جنابت میں بالوں کو اچھی طرح دھونا چاہئے۔ (تا کہ جسم انسانی کا وہ حصہ بھی جو بالوں سے چھپا رہتا ہے، پاک صاف ہو جائے) اور جلد کا جو حصہ ظاہر ہے (جس پر بال نہیں ہیں) اس کی بھی اچھی طرح صفائی دھلائی کرنی چاہئے۔ (سنن ابی داؤد، جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ)

461Maarif-ul-Hadith

غسل جنابت کا طریقہ اور اس کے آداب

عَنْ عَلِيٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « مَنْ تَرَكَ مَوْضِعَ شَعْرَةٍ مِنْ جَنَابَةٍ لَمْ يَغْسِلْهَا فُعِلَ بِهَا كَذَا وَكَذَا مِنَ النَّارِ » قَال عَلِيٌّ : فَمِنْ ثَمَّ عَادَيْتُ رَأْسِي فَمِنْ ثَمَّ عَادَيْتُ رَأْسِي ثَلَاثًا. (رواه ابوداؤد واحمد والدارمى الا انهما لم يكررا فَمِنْ ثَمَّ عَادَيْتُ رَأْسِي)

حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص نے غسل جنابت میں ایک بال بھر بھی جگہ دھونے سے چھوڑ دی تو اس کو دوزخ کا ایسا ایسا عذاب دیا جائے گا۔ حدیث کے راوی حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کے اس ارشاد ہی کی وجہ سے میں اپنے سر کے بالوں کا دشمن بن گیا (یعنی میں نے معمول بنا لیا، کہ جب ذرا بڑھے، میں نے ان کا صفایا کر دیا) ابو داؤد کی روایت کے مطابق یہ جملہ آپ ﷺ نے تین دفعہ فرمایا۔ (سنن ابی داؤد، مسند احمد، مسند دارمی) تشریح ان دونوں حدیثوں سے معلوم ہوا کہ غسل جنابت میں سارے جسم کا اس طرح دھویا جانا ضروری ہے کہ ایک بال بھر جگہ بھی دھونے سے باقی نہ رہ جائے۔ بعض شارحین نے لکھا ہے کہ غسل کی سہولت کی وجہ سے حضرت علی مرتضیٰ ؓ نے سر کے بال صاف کرانے کا اپنا جو معمول بنا لیا تھا اس سے معلوم ہوا کہ اس مقصد سے سر منڈانے کا طریقہ بھی جائز اور مستحسن ہے۔ اگرچہ اولی سر پر بال رکھنے ہی کا طریقہ ہے، جیسا کہ خود رسول اللہ ﷺ کا اور باقی خلفائے راشدین کا معمول تھا۔

462Maarif-ul-Hadith

غسل جنابت کا طریقہ اور اس کے آداب

عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : « كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ يَبْدَأُ فَيَغْسِلُ يَدَيْهِ. ثُمَّ يُفْرِغُ بِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ فَيَغْسِلُ فَرْجَهُ. ثُمَّ يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ. ثُمَّ يَأْخُذُ الْمَاءَ فَيُدْخِلُ أَصَابِعَهُ فِي أُصُولِ الشَّعْرِ. حَتَّى إِذَا رَأَى أَنْ قَدْ اسْتَبْرَأَ حَفَنَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ حَفَنَاتٍ. ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ. ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ » (رواه البخارى ومسلم واللفظ لمسلم)

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب غسل جنابت فرماتے تھے تو سب سے پہلے اپنے دونوں ہاتھ دھوتے تھے، پھر بائیں ہاتھ سے مقام استنجا کو دھوتے اورداہنے ہاتھ سے اس پر پانی ڈالتے تھے، پھر وضو فرماتے تھے، اسی طرح جس طرح نماز کے لئے وضو فرمایا کرتے تھے، پھر پانی لیتے تھے اور بالوں کی جڑوں میں انگلیاں ڈال کر وہاں پانی پہنچاتے تھے، یہاں تک کہ جب آپ ﷺ سمجھتے تھے کہ آپ نے سب میں پوری طرح پانی پہنچا لیا، تو دونوں ہاتھ بھر بھر کر تین دفعہ پانی اپنے سر کے اوپر ڈالتے تھے، اس کے بعد باقی سارے جسم پر پانی بہاتے تھے، اس کے بعد دونوں پاؤں دھوتے تھے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

463Maarif-ul-Hadith

غسل جنابت کا طریقہ اور اس کے آداب

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي خَالَتِي مَيْمُونَةُ ، قَالَتْ : « أَدْنَيْتُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُسْلَهُ مِنَ الْجَنَابَةِ ، فَغَسَلَ كَفَّيْهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ ، ثُمَّ أَفْرَغَ بِهِ عَلَى فَرْجِهِ ، وَغَسَلَهُ بِشِمَالِهِ ، ثُمَّ ضَرَبَ بِشِمَالِهِ الْأَرْضَ ، فَدَلَكَهَا دَلْكًا شَدِيدًا ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ، ثُمَّ أَفْرَغَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ حَفَنَاتٍ مِلْءَ كَفِّهِ ، ثُمَّ غَسَلَ سَائِرَ جَسَدِهِ ، ثُمَّ تَنَحَّى عَنْ مَقَامِهِ ذَلِكَ ، فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِالْمِنْدِيلِ فَرَدَّهُ » (رواه البخارى ومسلم وهذا لفظ مسلم)

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ میری خالہ ام المؤمنین حضرت میمونہ ؓ نے مجھ سے بیان کیا، کہ میں نے ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ کے غسل جنابت کے لئے پانی بھر کے آپ ﷺ کے پاس رکھ دیا۔ تو آپ ﷺ نے سب سے پہلے اپنے ہاتھوں کو دو دفعہ دھویا، پھر اپنا دھلا ہوا ہاتھ آپ ﷺ نے پانی کے اس برتن میں ڈالا اور اس سے پانی لے کر اپنے مقام استنجا پر ڈالا اور بائیں ہاتھ سے اس کو دھویا، پھر اپنا بایاں ہاتھ زمین پر مارا اور اس کو خوب زمین کی مٹی سے ملا اور رگڑا، پھر وضو کیا، جیسے کہ آپ ﷺ نماز کے لئے وضو فرمایا کرتے تھے، اس کے بعد تین دفعہ اپنے سر پر پانی لپ بھر بھر کے ڈالا، پھر اپنے سارے جسم کو دھویا، پھر اس جگہ سے ہٹ کر آپ ﷺ نے اپنے دونوں پاؤں دھوئے، پھر میں نے آپ ﷺ کو رومال دیا، تو آپ ﷺ نے اس کو واپس فرما دیا (صحیحین ہی کی دوسری روایت میں یہ اضافہ بھی ہے، کہ رومال استعمال کرنے کے بجائے آپ ﷺ نے جسم پر سے پانی کو سونت دیا اور جھاڑ دیا)۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح حضرت عائشہ صدیقہ اور حضرت میمونہ کی ان حدیثوں سے رسول اللہ ﷺ کے غسل کے طریقے کی پوری تفصیل معلوم ہو جاتی ہے، یعنی یہ کہ آپ ﷺ سب سے پہلے اپنے دونوں ہاتھ دو تین دفعہ دھوتے تھے (کیوں کہ ان ہاتھوں ہی کے ذریعہ پورے جسم کو غسل دیا جاتا ہے) اس کے بعد آپ ﷺ مقام استنجا کو بائیں ہاتھ سے دھوتے تھے اور داہنے ہاتھ سے اس پر پانی ڈالتے تھے اس کے بعد بائیں ہاتھ کو مٹی سے مل مل کے اور رگڑ رگڑ کر خوب مانجتے اور دھوتے تھے، پھر اس کے بعد وضو فرماتے تھے (جس کے ضمن میں تین تین دفعہ کلی کر کے اور ناک میں پانی لے کر اس کی اچھی طرح صفائی کر کے منہ اور ناک کے اندرونی حصہ کو غسل دیتے تھے اور حسب عادت ریش مبارک میں خلال کر کے اس کے ایک ایک بال کو غسل دیتے اور بالوں کی جڑوں میں پانی پہنچاتے تھے) اس کے بعد اسی طرح سر کے بالوں کو اہتمام سے دھوتے تھے اور ہر بال کی جڑ تک پانی پہنچانے کی کوشش کرتے تھے، اس کے بعد باقی سارے جسم کو غسل دیتے تھے، پھر غسل کی اس جگہ سے ہٹ کر پاؤں کو پھر دھوتے تھے۔ ظاہر ہے کہ غسل کا سب سے زیادہ پاکیزہ اور با سلیقہ طریقہ یہی ہو سکتا ہے۔ غسل کی جگہ سے ہٹ کر پھر پاؤں آپ ﷺ غالباً اس لئے دھوتے تھے کہ غسل کی وہ جگہ صاف اور پختہ نہیں ہوتی تھی۔