کتاب الطہارت

Maarif-ul-Hadith · Chapter 4 · 70 hadiths · Page 2 of 4

424Maarif-ul-Hadith

وضو پر وضو

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ تَوَضَّأَ عَلَى طُهْرٍ كُتِبَ لَهُ عَشْرُ حَسَنَاتٍ. (رواه الترمذى)

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے طہارت کے باوجود (یعنی باوضو ہونے کے باوجود تازہ) وضو کیا اس کے لئے دس نیکیاں لکھی جائیں گی۔ (جامع ترمذی) تشریح اس ارشاد کا مقصد بظاہر یہ واضح کرنا ہے کہ با وضو ہونے کی حالت میں تازہ وضو کرنے کو فضول و عبث نہ سمجھا جائے، بلکہ یہ ایسی نیکی ہے جس کے کرنے والے کے نامہ اعمال میں دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ اکثر علماء کی رائے یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد کا تعلق اس صورت سے کہ جب کہ پہلے وضو سے کوئی ایسی عبادت کر لی گئی ہو جس کے لئے وضو ضروری ہے، اس لئے اگر کسی نے وضو کیا اور ابھی وضو سے کوئی عبادت ادا نہیں کی اور نہ کوئی ایسا کام کیا جس کے بعد وضو کی تجدید مستحب ہو جاتی ہے تو ایسی صورت میں اس کو تازہ وضو نہیں کرنا چاہئے۔

425Maarif-ul-Hadith

ناقص وضو کے بُرے اثرات

عَنْ شَبِيبٍ أَبِي رَوْحٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ ، فَقَرَأَ الرُّومَ فَالْتَبَسَ عَلَيْهِ ، فَلَمَّا صَلَّى قَالَ : « مَا بَالُ أَقْوَامٍ يُصَلُّونَ مَعَنَا لَا يُحْسِنُونَ الطُّهُورَ ، فَإِنَّمَا يَلْبِسُ عَلَيْنَا الْقُرْآنَ أُولَئِكَ » (رواه النسائى)

شبیب بن ابی روح ؓ رسول اللہ ﷺ کے ایک صحابیؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے ایک دن فجر کی نماز پڑھی اور اس میں آپ ﷺ نے سورہ روم شروع کی تو آپ ﷺ کو اس میں اشتباہ ہو گیا اور خلل پڑ گیا۔ جب آپ ﷺ نماز پڑھ چکے تو فرمایا بعض لوگوں کی یہ کیا حالت ہے کہ ہمارے ساتھ نماز میں شریک ہو اجاتے ہیں اور طہارت (وضو وغیرہ) اچھی نہیں کرتے، بس یہی لوگ ہمارے قرآن پڑھنے میں خلل ڈالتے ہیں۔ (سنن نسائی) تشریح معلوم ہوا کہ وضو وغیرہ طہارت اچھی طرح نہ کرنے کے برے اثرات دوسرے صاف قلوب پر بھی پڑتے ہیں اور اتنے پڑتے ہیں کہ ان کی وجہ سے قرآن مجید کی قرآت میں گڑ بڑ ہو جاتی ہے اور جب رسول اللہ ﷺ کا قلب مبارک دوسرے لوگوں کی اس طرح کی کوتاہیوں سے اتنا متاثر ہوتا تھا تو پھر ہم عوام کس شمار و قطار میں ہیں لیکن چونکہ ہمارے قلوب پر زنگ کی تہیں کی تہیں جم گئی ہیں اس لئے ہم کو ان چیزوں کا احساس نہیں ہوتا۔ اس حدیث سے بڑی وضاحت کے ساتھ یہ بات معلوم ہو گئی کہ انسانوں کے قلوب پر ساتھ والوں کی اچھی یا بری کیفیات کا کس قدر اثر پڑتا ہے، اصحاب قلوب صوفیاء کرام نے اس حقیقت کو خوب سمجھا ہے۔

426Maarif-ul-Hadith

مسواک کی اہمیت اور فضیلت

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " السِّوَاكُ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ ، مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ " (رواه الشافعى واحمد والدارمى والنسائى وروى البخارى فى صحيحه بلا اسناد)

حضرت عائشہ صدیقہ ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا “ مسواک منہ کو بہت زیادہ پاک صاف کرنے والی اور اللہ تعالیٰ کو بہت زیادہ خوش کرنے والی چیز ہے ”۔ (مسند امام شافعی، مسند احمد، سنن دارمی، سنن نسائی۔ نیز صحیح بخاری میں امام بخاری نے بھی اس حدیث کو بلا اسناد یعنی تعلیقاً روایت کیا ہے۔) تشریح طہارت و نظافت کے سلسلہ میں رسول اللہ ﷺ نے جن چیزوں پر خاص طور سے زور دیا ہے اور بڑی تاکید فرمائی ہے ان میں سے ایک مسواک بھی ہے۔ ایک حدیث میں آپ ﷺ نے یہاں تک فرمایا ہے کہ اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ میری امت پر بہت مشقت پڑ جائے گی تو میں ہر نماز کے وقت مسواک کرنا ان پر لازم کر دیتا۔ مسواک کے جو طبی فوائد ہیں اور بہت سے امراض سے اس کی وجہ سے جو تحفظ ہوتا ہے آج کل کا ہر صاحبِ شعور اسسے کچھ نہ کچھ واقف ہے۔ لیکن دینی نقطہ نگاہ سے اس کی اصل اہمیت یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو بہت زیادہ راضی کرنے والا عمل ہے۔ اس مختصر تمہید کے بعد مسواک کی ترغیب و تاکید کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کے چند ارشادات پڑھئے! تشریح ..... کسی چیز میں حسن کے دو پہلو ہو سکتے ہیں ایک یہ کہ وہ حیاۃ دنیا کے لحاظ سے فائدہ مند اور عام انسانو کے نزدیک پسندیدہ ہو اور دوسرے یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی محبوب اور اجر اخروی کا وسیلہ ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں بتلایا ہے کہ مسواک میں یہ دونوں چیزیں جمع ہیں، اس سے منہ کی صفائی ہوتی ہے، گندے اور مضر مادے خارج ہو جاتے ہیں۔ منہ کی بدبو زائل ہو جاتی ہے، یہ اس کے نقد دنیوی فوائد ہیں اور دوسرا اخروی اور ابدی نفع اس کا یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہونے کا بھی خاص وسیلہ ہے۔

427Maarif-ul-Hadith

مسواک کی اہمیت اور فضیلت

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : « لَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي أَوْ عَلَى النَّاسِ لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلاَةٍ »

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ میری امت پر بہت مشقت پڑ جائے گی تو میں ان کو ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حتمی امر کرتا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں مسواک کی محبوبیت اور اس کے عظیم فوائد دیکھتے ہوئے میرا جی چاہتا ہے کہ اپنے ہر امتی کے لئے حکم جاری کر دوں کہ وہ ہر نماز کے وقت مسواک ضرور کیا کرے۔ لیکن ایسا حکم میں نے صرف اس خیال سے نہیں دیا کہ اس سے میری امت پر بہت بوجھ پڑ جائے گا اور ہر ایک کے لئے اس کی پابندی مشکل ہو گی، غور سے دیکھا جائے تو یہ بھی ترغیب و تاکید کا ایک عنوان ہے اور بلا شبہ بڑا مؤثر عنوان ہے۔ فائدہ ..... اسی حدیث کی بعض روایات میں “ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ ” کی بجائے “ عِنْدَ كُلِّ وُضُوءٍ ” بھی وارد ہوا ہے اور مطلب دونوں کا قریب قریب ایک ہی ہے۔ (صحیح بخاری کتاب الصوم، باب السواک الرطب والیابس للصائم)

428Maarif-ul-Hadith

مسواک کی اہمیت اور فضیلت

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا جَاءَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَطُّ إِلَّا أَمَرَنِي بِالسِّوَاكِ ، لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ أُحْفِيَ مُقَدَّمَ فِيَّ " (رواه احمد)

حضرت ابو امامہ باہلی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا “ اللہ کے فرشتے جبرئیل جب بھی میرے پاس آئے ہر دفعہ انہوں نے مجھے مسواک کے لئے ضرور کہا۔ خطرہ ہے کہ (جبرئیل کی بار بار کی اس تاکید اور وصیت کی وجہ سے) میں انے منہ کے اگلے حصہ کو مسواک کرتے کرتے گھس نہ ڈالوں ”۔ (مسند احمد) تشریح مسواک کے بارہ میں حضرت جبرئیل کی بار بار یہ تاکید وصیت دراصل اللہ تعالیٰ ہی کے حکم سے تھی اور اس کا خاص راز یہ تھا کہ جو ہستی اللہ تعالیٰ سے مخاطبہ اور مناجاۃ میں ہمہ وقت مصروف رہتی ہو اور اللہ کا فرستہ جس کے پاس بار بار آتا ہو اور اللہ کے کلام کی تلاوت اور اس کی طرف دعوت جس کا خاص وظیفہ ہو اس کے لیے خاص طور سے ضروری ہے کہ وہ مسواک کا بہت زیادہ اہتمام کرے۔ اسی لئے رسول اللہ ﷺ مسواک کا بہت زیادہ اہتمام فرماتے تھے۔

429Maarif-ul-Hadith

مسواک کے خاص اوقات اور مواقع

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : « كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَرْقُدُ مِنْ لَيْلٍ وَلَا نَهَارٍ ، فَيَسْتَيْقِظُ إِلَّا يَتَسَوَّكُ قَبْلَ أَنْ يَتَوَضَّأَ » (رواه احمد وابوداؤد)

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا معمول تھا کہ دن یا رات میں جب آپ ﷺ سوتے تو اٹھنے کے بعد وضو کرنے سے پہلے مسواک ضرور فرماتے۔ (مسند احمد، سنن ابی داؤد)

430Maarif-ul-Hadith

مسواک کے خاص اوقات اور مواقع

عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا قَامَ لِلتَّهَجُّدِ مِنَ اللَّيْلِ يَشُوصُ فَاهُ بِالسِّوَاكِ. (رواه البخارى ومسلم)

حضرت حزیفہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا دستور تھا کہ جب رات کو آپ ﷺ تہجد کے لئے اٹھتے تو مسواک سے اپنے دہن مبارک کی خوب صفارئی کرتے (اس کے بعد وضو فرماتے اور تہجد میں مشغور ہوتے)۔ (صحیح بخاری و مسلم)

431Maarif-ul-Hadith

مسواک کے خاص اوقات اور مواقع

عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِى عَنِ قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْدَأُ إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ؟ قَالَتْ : « بِالسِّوَاكِ. (رواه مسلم)

شریح بن ہانیؓ سے روایت ہے کہ میں نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ جب باہر سے گھر میں تشریف لاتے تھو تو سب سے پہلے کیا کام کرتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ سب سے پہلے آپ ﷺ مسواک فرماتے تھے۔ (صحیح مسلم) تشریح ان حدیثوں سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ ہر نیند سے جاگنے کے بعد، خاص کر رات کو تہجد کے لئے اٹھنے کے وقت پابندی اور اہتمام سے مسواک فرماتے تھے، اس کے علاوہ باہر سے جب گھر میں تشریف لاتے تھے تو سب سے پہلے مسواک فرماتے تھے، اس سے معلوم ہوا کہ مسواک صرف وضو کے ساتھ مخصوص نہیں ہے، بلکہ سو کر اٹھنے کے بعد اور مسواک کئے زیادہ دیر گزارنے کے بعد اگر وضو کرنا نہ بھی ہو جب بھی مسواک کر لینی چاہئے۔ ہمارے علمائے کرام نے ان ہی احادیث کی بناء پر لکھا ہے کہ مسواک کرنا یوں تو ہر وقت میں مستحب اور باعث اجر و ثواب ہے، لیکن پانچ موقعوں پر مسواک کی اہمیت زیادہ ہے۔ وضو میں، نماز کے لئے کھڑے ہوتے وقت، اگر وضو اور نماز کے درمیان زیادہ فصل ہو گیا) اور قرآن مجید کی تلاوت کے لئے اور سوتے سے اٹھنے کے وقت اور منہ میں بدبو پیدا ہو جانے یا دانتوں کے رنگ میں تغیر آ جانے کے وقت ان کی صفائی کے لئے۔

432Maarif-ul-Hadith

مسواک سنت انبیاء اور تقاضائے فطرت

عَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَرْبَعٌ مِنْ سُنَنِ الْمُرْسَلِينَ : الحَيَاءُ ، وَالتَّعَطُّرُ ، وَالسِّوَاكُ ، وَالنِّكَاحُ. (رواه الترمذى)

حضرت ابو ایوب انصاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا چار چیزیں پیغمبروں کی سنتوں میں سے ہیں۔ ایک حیاء، دوسرے خوشبو لگانا، تیسرے مسواک کرنا اور چوتھے نکاح کرنا۔ (جامع ترمذی) تشریح رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں یہ بتلا کر کہ یہ چاروں چیزیں اللہ کے پیغمبروں کی سنتیں اور ان کے معمولات میں سے ہیں اپنی امت کو ان کی ترغیب دی ہے اور بلا شبہ یہ بڑی مؤثر ترغیب ہے۔ حیا کے بارے میں کتاب الاخلاق میں تفصیل سے لکھا جا چکا ہے، نکاح کے بارہ میں ان شاء اللہ کتاب النکاح میں لکھا جائے گا۔ تعطر یعنی خوشبو لگانا بڑی محبوب صفت ہے، انسان کے روحانی اور ملکوتی تقاضوں میں سے ہے اس سے روح اور قلب کو ایک خاص نشاط حاصل ہوتا ہے، عبادت میں کیف اور ذوق پیدا ہوتا ہے اور اللہ کے دوسرے بندوں کو بھی راحت پہنچتی ہے اس لیے تمام انبیاء علیہم السلام اور اللہ تعالیٰ کے سارے اچھے بندوں کی محبوب سنت ہے۔

433Maarif-ul-Hadith

مسواک سنت انبیاء اور تقاضائے فطرت

عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَشْرٌ مِنَ الْفِطْرَةِ : قَصُّ الشَّارِبِ ، وَإِعْفَاءُ اللِّحْيَةِ ، وَالسِّوَاكُ ، وَاسْتِنْشَاقُ الْمَاءِ ، وَقَصُّ الْأَظْفَارِ ، وَغَسْلُ الْبَرَاجِمِ ، وَنَتْفُ الْإِبِطِ ، وَحَلْقُ الْعَانَةِ ، وَانْتِقَاصُ الْمَاءِ " قَالَ زَكَرِيَّا : قَالَ مُصْعَبٌ : وَنَسِيتُ الْعَاشِرَةَ إِلَّا أَنْ تَكُونَ الْمَضْمَضَةَ. (رواه مسلم)

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ دس چیزیں ہیں جو امور فطرت میں سے ہیں۔ مونچھوں کا ترشوانا، داڑھی کا چھوڑنا، مسواک کرنا، ناک میں پانی لے کر اس کی صفائی کرنا، ناخن ترشوانا، انگلیوں کے جوڑوں کو (جن میں اکثر میل کچیل رہ جاتاہے اہتمام سے) دھونا، بغل کے بال لینا، موئے زیر ناف کی صفائی کرنا، اور پانی سے استنجا کرنا۔ حدیث کے راوی زکریا کہتے ہیں کہ ہمارے شیخ مصعب نے بس یہی نو چیزیں ذکر کیں اور فرمایا کہ دسویں چیز بھول گیا ہوں، اور میرا گمان یہی ہے کہ وہ کلی کرنا ہے۔ (صحیح مسلم) تشریح اس حدیث میں ان دس چیزوں کو “ مِنَ الْفِطْرَةِ ” یعنی امور فطرت میں سے کہا گیا ہے۔ بعض شارحین حدیث کی رائے یہ ہے کہ الفطرۃ سے مراد یہاں سنت انبیاء یعنی پیغمبروں کا طریقہ ہے اور اس کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ اسی حدیث کی مستخرج ابی عوانہ کی روایت میں فظرۃ کی جگہ سنت کا لفظ ہے، یعنی اس میں “ عَشْرٌ مِنَ الْفِطْرَةِ ” کی بجائے “ عَشْرٌ مِنَ السُّنَّةِ ” کے الفاظ ہیں، ان حضرات کا کہنا ہے کہ اس حدیث میں انبیاء علیہم السلام کے طریقہ کو الفطرۃ اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ فطرت کے عین مطابق ہوتا ہے۔ اس تشریح کی بناء پر حدیث کا مطلب یہ ہو گا کہ انبیاء علیہم السلام نے جس طریقہ پر خود زندگی گزاری اور اپنی اپنی امتوں کو جس پر چلنے کی ہدایت کی اس میں یہ دس باتیں شامل تھیں۔ گویا یہ دس چیزیں انبیاء علیہم السلام کی متفقہ تعلیم اور ان کے مشترکہ معمولات سے ہیں۔ بعض شارحین نے الفطرۃ سے دین فطرت یعنی دین اسلام مراد لیا ہے۔ قرآن مجید میں دین کو فطرت کہا گیا ہے، ارشاد ہے “ فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّيْنِ حَنِيْفًا١ؕ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا١ؕ لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ ” (1) (الروم ۳۰: ۳۰) اس بناء پر حدیث کا مطلب یہ ہو گا کہ یہ دس چیزیں دین فطرت یعنی اسلام کے اجزاء یا احکام میں سے ہیں۔ اور بعض شارحین نے الفطرۃ سے انسان کی اصل فطرت و جبلت ہی مراد لی ہے اس تشریح کی بناء پر حدیث کا مطلب یہ ہو گا کہ یہ دس چیزیں انسان کی اصل فطرت کا تقاضا ہیں جو اللہ نے اس کی بنائی ہے۔ گویا جس طرح انسان کی اصل فطرت یہ ہے کہ وہ ایمان اور نیکی اور طہارت و پاکیزگی کو پسند کرتا ہے اور کفر اور فواحش و منکرات اور گندگی و ناپاکی کو ناپسند کرتا ہے اسی طرح مذکورہ بالا دس چیزیں ایسی ہیں کہ انسانی فطرت (اگر کسی خارجی اثر سے ماؤف اور فاسد نہ ہو چکی ہو) تو ان کو پسند ہی کرتی ہے اور حقیقت شناسوں کو یہ بات معلوم اور مسلم ہے کہ انبیاء علیہم السلام جو دین اور زندگی کا طریقہ لے کر آتے ہیں وہ دراصل انسانی فطرت کے تقاضوں ہی کی مستند اور منضبط تشریح ہوتی ہے۔ اس تفصیل سے خود بخود معلوم ہو جاتا ہے کہ حدیث کے لفظ الفطرۃ کا مطلب خواہ سنت انبیاء ہو خواہ دین فطرت اسلام ہو، اور خواہ انسان کی اصل فطرت و جبلت ہو، حدیث کا مدعا تینوں صورتوں میں ایک ہی ہو گا اور وہ یہ کہ دس چیزیں انبیاء علیہم السلام کے لائے ہوئے اس متفقہ طریقہ زندگی اور اس دین کے اجزاء و احکام میں سے ہیں، جو دراصل انسان کی اصل فطرت و جبلت کا تقاضا ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے حجۃ اللہ البالغہ میں اپنے خاص حکیمانہ طرز پر اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے جو چند سطریں لکھی ہیں ان کا خلاصہ ہم ذیل میں درج کرتے ہیں فرماتے ہیں: “ یہ دس عملی باتیں جو دراصل طہارت و نظافت کے بات سے تعلق رکھتی ہیں، ملت حنفیہ کے مونسس و مورث حضرت ابراہیم علیہ السلام سے منقول ہیں۔ اور ابراہیمی طریقہ پر چلنے والی حنیفی امتوں میں عام طور سے ان کا رواج رہا ہے اور ان پر ان کا عقیدہ بھی رہا ہے۔ قرنہا قرن تک وہ ان اعمال کی پابندی کرتے ہوئے جیتے اور مرتے رہے ہیں، اسی لئے نا کو فطرت کہا گیا ہے اور یہ ملت حنیفی کے شعائر ہیں۔ اور ہر ملت کے لئے ضروری ہے کہ اس کے کچھ مقرر و معلوم شعائر ہوں اور وہ ایسے اعلانیہ ہوں جن سے اس ملت کی فرمانبرداری اور نافرمانی احساس اور مشاہدہ کی گرفت میں آ سکے، اور یہ بھی قرین حکمت ہے کہ شعائر ایسی چیزیں ہوں جو نادر الوقوع نہ ہوں اور ان میں معتد بہ فوائد ہوں اور لوگوں کے ذہن ان کو پوری طرح قبول کریں اور ان دس چیزوں میں یہ باتیں موجود ہیں۔ اس کو سمجھنے کے لئے ان چند باتوں پر غور کرنا چاہئے! جسم انسانی کے بعض حصوں میں پیدا ہونے والے بالوں کے بڑھنے سے پاکیزگی پسند اور لطیف مزاج آدمی کی سلیم فطرت اسی طرح منقبض اور مکدر ہوتی ہے جس طرح کہ حدث سے یعنی کسی گندگی کے جسم سے خارج ہونے سے ہوا کرتی ہے۔ بغل میں اور ناف کے نیچے پیدا ہونے والے بالوں کا حال یہی ہے۔ اسی لیے ان کی صفائی سے سلیم الفطرت آدمی اپنے قلب و روح میں ایک نشاط اور انشراح کی کیفیت محسوس کرتا ہے جیسے کہ یہ اس کی فطرت کا خاص تقاضا ہے۔ اور بالکل یہیحال نخنوں کا بھی ہے۔ اور ڈاڑھی کی نوعیت یہ ہے کہ اس سے چھوٹے اور بڑے کی تمیز ہوتی ہے اور وہ مردوں کے لئے شرف اور جمال ہے اور اسی سے ان کی مردانہ ہیئت کی تکمیل ہوتی ہے اور وہ سنت انبیاء ہے۔ اس لئے اس کا رکھنا ضروری ہے (۱) اور اس کا صاف کرنا مجوس و ہنود وغیرہ اکثر غیر مسلم قوموں کا طریقہ ہے۔ نیز چونکہ بازاری قسم کے اور نیچی سطح کے لوگ عموماً ڈاڑھیاں نہیں رکھتے اس لئے ڈاڑھیاں نہ رکھنا گویا اپنے کو ان ہی کی صفوں میں شامل کرنا ہے۔ اور مونچھوں کے بڑھانے اور لمبا رکھنے میں کھلا ہوا ضرر یہ ہے کہ منہ تک بڑھی ہوئی مونچھوں میں کھانے پینے کی چیزیں لگ جاتی ہیں اور ناک سے خارج ہونے والی رطوبت کا راستہ بھی کا راستہ بھی وہی ہے اس لئے صفائی اور پاکیزگی کا تقاضا یہی ہے کہ مونچھیں زیادہ بڑی نہ ہونے پائیں اس واسطے مونچھوں کے ترشوانے کا حکم دیا گیا ہے۔ اور کلی اور پانی کے ذریعہ ناک کی صفائی اور مسواک اور پانی سے استنجا اور اہتمام سے انگلیوں کے ان جوڑوں کو دھونا جن میں میل کچیل رہ جاتا ہے، صفائی اورپاکیزگی کے نقطہ نظر سے ان سب چیزوں کی ضرورت و اہمیت کسی وضاحت کی محتاج نہیں ”۔ بعض اکابر علماء نے فرمایا ہے کہ اس حدیث سے یہ اصول معلوم ہو گیا کہ جسم کی صفائی اور اپنی ہیئت اور صورت کی درستی اور ایسی ہر چیز کا ازالہ اور اس سے اجتناب جس سے گھن آئے اور کراہیت پیدا ہو احکام فطرت میں سے ہے اور طریقہ انبیاء ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صورت کی تحسین کو اپنا خاص انعام و احسان بتلایا ہے۔ وَّ صَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ اس حدیث کو حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے ان کے بھانجے حضرت عبداللہ بن زبیرؓ نے روایت کیا ہے، ان سے روایت کرنے والے طلق بن حبیب ہیں۔ اور ان سے روایت کرنے والے مصعب بن شیبہ ہیں۔ ان کے شاگرد زکریا بن ابی زائدہ ہیں۔ ان ہی زکریا نے اپنے اپنے شیخ مصعب سے یہ حدیث روایت کی ہے جس مین انہوں نے دس چیزوں میں سے نو کو و ثوق سے ذکر کیا اور دسویں کے متعلق بتلایا کہ وہ مجھے اچھی طرح یاد نہیں رہی، البتہ میرا خیال ہے کہ وہ مضمضہ (کلی) کرنا تھا۔

434Maarif-ul-Hadith

نماز کو قیمتی بنانے میں مسواک کا اثر

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَفْضُلُ الصَّلَاةُ الَّتِي يُسْتَاكُ لَهَا عَلَى الصَّلَاةِ الَّتِي لَا يُسْتَاكُ لَهَا سَبْعِينَ ضِعْفًا " (رواه البيهقى فى شعب الايمان)

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ نماز جس کے لئے مسواک کی جائے اس نماز کے مقابلہ میں جو بلا مسواک کے پڑھی جائے ستر گنی فضیلت رکھتی ہے۔ (شعب الایمان للبیہقی) تشریح پہلے بھی بار بار ذکر کیا جا چکا ہے کہ عربی زبان اور محاورمیں ستر (اور اسی طرح بعض اور عدد بھی) مطلق کثرت اور بہتات کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں، غالباً اس حدیث مین بھی سبعین کا لفظ اس محاورہ کے مطابق کثرت اور بہتات ہی کے لیے استعمال ہوا ہے۔ اس بناء پر حدیث کا مطلب یہ ہو گا کہ جو نماز مسواک کر کے پڑھی جائے وہ اس نماز کے مقابلے میں جو بلا مسواک کے پڑھی جائے بدرجہا اور بہت زیادہ افضل ہے۔ اور اگر سبعین سے مراد ستر کا خاص عدد ہو تب بھی کوئی استبعاد کی بات نہیں ہے۔ جب کوئی بندہ مالک الملک اور احکم الحاکمین کے دربار میں حاضری اور نماز کے ذریعہ اس سے مخاطبت اور مناجاۃ کا ارادہ کرے اور یہ سوچے کہ اس کی عظمت و کبریائی کا حق تو یہ ہے کہ مشک و گلاب سے اپنے دہن و زبان کو دھو کر اس کا نام نامی کیا جائے اور اس کے حضور میں کچھ عرض کیا جائے، لیکن چونکہ اس مالک نے اپنی عنایت و رحمت سے صرف مسواک ہی کا حکم دیا ہے اس لئے میں مسواک کرتا ہوں، بہر حال جب کوئی بندہ اللہ تعالیٰ کی عظمت کے اس احساس اور ادب کے اس جذبہ سے نماز کے لئے مسواک کرے تو وہ نماز اگر اس نماز کے مقابلہ میں جس کے لئے مسواک نہ کی گئی ہو ستر یا اس سے بھی زیادہ درجے افضل قرار دی جائے تو بلکل حق ہے۔ حقیقت تو یہ ہے؎ ہزار بار بشویم دہن زمشک و گلاب ہنوز نام تو گفتن کمال بے ادبی است فائدہ ..... مشکوٰۃ المصابیح میں حضرت عائشہؓ کی یہ حدیث صرف بیہقی کے حوالے سے نقل کی گئی ہے لیکن منذری نے ترغیب میں اس حدیث کو حضرت عائشہ ہی کی روایت سے خفیف لفظی فرق کے ساتھ درج کر کے لکھا ہے۔ رواہ احمد والبزار و ابو یعلی وابن خزیمہ فی صحیحہ۔ وراہ الحاکم فی المستدرک وقال صحیح الاسناد۔ اور قریب قریب اسی مضمون کی ایک حدیث ابو نعیم کے حوالہ سے حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی روایت سے اور دوسری حضرت جابرؓ کی روایت سے نقل کی ہے اور پہلی کی سند کو جید اور دوسری کی سند کو صحیح کہا ہے۔

435Maarif-ul-Hadith

نماز کے لئے وضو کا حکم

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « لَا تُقْبَلُ صَلَاةُ مَنْ أَحْدَثَ حَتَّى يَتَوَضَّأَ » (رواه البخارى ومسلم)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص کا وضو نہیں ہے اس کی نماز قبول نہیں ہو گی تا وقتیکہ وہ وضو نہ کر لے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح طہارت کے باب میں رسول اللہ ﷺ نے امت کو جو ہدایات دی ہیں ان میں سے بعض تو وہ ہین جن کی حیثیت مستقل احکام کی ہے جیسے استنجے کے احکام جسم کو اور کپڑوں کو پاک رکھنے کے احکام، پانی کی پاکی اور ناپاکی کے تفصیلی احکام وغیرہ۔ اور بعض وہ ہیں جن کی حیثیت شرائط نماز کی ہے۔ وضو کا حکم اسی قبیل سے ہے، قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے۔ اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَ اَيْدِيَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ وَ امْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَيْنِ. اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ نماز جو اللہ تعالیٰ کی مقدس بارگاہ میں حاضری اور اس سے مخاطبت و مناجاۃ کی ایک خاص الخاص شکل ہے اس کے لئے باوضو ہونا شرط ہے۔ پس اگر کوئی شخص با وضو نہیں ہے۔ (یعنی حدث کی حالت میں ہے، جس کی حقیقت پہلے بتائی جا چکی ہے) تو نماز شروع کرنے سے پہلے اس کو وضو کر لینا چاہئے۔ دربار الٰہی کی اس خاص حاضری کا یہ لازمی ادب ہے، اس کے بغیر اس کی نماز ہرگز قبول نہیں ہو گی، اس سلسلہ کے رسول اللہ ﷺ کے چند ارشادات ذیل میں پڑھئے!۔

436Maarif-ul-Hadith

نماز کے لئے وضو کا حکم

عَنِ ابْنَ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « لَا تُقْبَلُ صَلَاةٌ بِغَيْرِ طُهُورٍ وَلَا صَدَقَةٌ مِنْ غُلُولٍ » . (رواه مسلم)

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کوئی نماز طہارت کے بغیر قبول نہیں ہو سکتی اور نہ کوئی ایسا صدقہ قبول ہو سکتا ہے جو ناجائز طریقہ سے حاصل کئے ہوئے مال سے کیا جائے۔ (صحیح مسلم) تشریح اس حدیث میں “ طهور ” سے مراد وضو ہے اور اس کا مطلب وہی ہے جو حضرت ابو ہریرہ ؓ کی اوپر والی حدیث کا ہے، صرف الفاظ کا فرق ہے۔

437Maarif-ul-Hadith

نماز کے لئے وضو کا حکم

عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ ، وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ ، وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ » (رواه ابوداؤد والترمذى والدارمى ورواه ابن ماجه عنه وعن ابى سعيد)

حضرت علی مرتضیٰ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کہ نماز کی کنجی طہور (یعنی وضو) ہے اور اس کی تحریم تکبیر ہے (یعنی اللہ اکبر کہہ کے آدمی نماز میں داخل ہو جاتا ہے، جس کے بعد بات چیت کرنے اور کھانے پینے کے ایسے جائز کام نماز کے ختم ہونے تک اس کے لئے حرام اور ناجائز ہو جاتے ہیں) اور اس کی تحلیل السلام علیکم کہنا ہے (یعنی نماز کے ختم پر السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہنے کے بعد وہ ساری باتیں آدمی کے لئے حلال اور جائز ہو جاتی ہیں جو نماز کی وجہ سے اس کے لئے حرام اور ناجائز ہو گئی تھیں)۔ (سنن ابی داؤد، جامع ترمذی، سنن دارمی اور ابن ماجہ نے اس حدیث کو حضرت علی ؓ کے علاوہ حضرت ابو سعید خدری ؓ سے بھی روایت ہے)۔

438Maarif-ul-Hadith

نماز کے لئے وضو کا حکم

عَنْ جَابِرِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « مِفْتَاحُ الْجَنَّةِ الصَّلَاةُ ، وَمِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ » (رواه احمد)

حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنت کی کنجی نماز ہے اور نماز کی کنجی طہور (یعنی وضو) ہے۔ (مسند احمد) تشریح ان دونوں حدیثوں میں طہور یعنی وضو کو نماز کی کنجی فرمایا گیا ہے۔ گویا جس طرح کوئی شخص کسی مقفل گھر میں کنجی سے اس کا تالا کھولے بغیر داخل نہیں ہو سکتا، اسی طرح بغیر وضو کے نماز میں داخلہ نہیں ہو سلتا۔ ان چاروں حدیثوں کی تعبیر میں اگرچہ کچھ فرق ہے لیکن حاصل اور مدعا سب کا یہی ہے کہ نماز کے قابل قبول ہونے کےلئے واضح شرط ہے۔ نماز چونکہ اللہ تعالیٰ کے حضور م یں حاضری اور اسے مخاطب و مناجاۃ کی اعلیٰ اور انتہائی شکل ہے، جس کے آگے اس دنیا میں ممکن نہیں، اس لئے اس کے ادب کا حق تو یہ تھا کہ ہر نماز کے لئے سارے جسم کے غسل اور بالکل پاک صاف اچھا لباس پہننے کا حکم دیا جاتا لیکن چونکہ اس پر عمل بہت مشکل ہوتا اس لئے اللہ تعالیٰ نے از راہِ کرم صرف اتنا ضروری قرار دیا کہ نماز پاک کپڑے پہن کر پڑھی جائے اور سارے جسم کے غسل کے بجائے صرف وضو کر لیا جائے جس میں وہ سارے ظاہری اعضاء دھل جاتے ہیں جو انسان کے جسم میں خاص اہمیت رکھتے ہیں اور اس حیثیت سے وہی سارے جسم کے قائم مقام قرار دئیے جا سکتے ہیں۔ نیز ہاتھ پاؤں اور چہرہ اور سر یہی وہ اعضاء ہیں جو عام طور پر لباس سے باہر رہتے ہیں اس لئے وضو میں صرف انہی کے دھونے اور مسح کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں وضو نہ ہونے کی حالت میں طبیعت میں جو ایک خاص قسم کا روحانی تکدر اور انقباض ہوتا ہے اور وضو کرنے کے بعد انشراح و انبساط کی ایک خاص کیفیت اور ایک خاص طرح کی لطافت و نورانیت جو انسان کے باطن میں پیدا ہوتی ہے۔ جن بندگانِ خدا کو ان کیفیتوں کا احساس اور تجربہ ہوتا ہے وہ خوب سمجھتے ہیں کہ نماز کے لئے وضو کو لازمی شرط قرار دیے جانے کا اصل راز کیا ہے، باقی اتنی بات تو ہم سب عوام بھی سمجھ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی مقدس اور عالی بارگاہ میں حاضری کا یہ ادب ہے۔ اللہ کے جو بندے صرف اتنی بات سمجھ کر بھی وضو کریں گے۔ ان شاء اللہ وہ بھی اپنے وضو میں ایک خاص لذت و نورانیت محسوس کریں گے۔

439Maarif-ul-Hadith

وضو کا طریقہ

عَنْ عُثْمَانَ أَنَّهُ تَوَضَّأَ فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ ثَلاَثًا ، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاَثًا ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ اليُمْنَى إِلَى المَرْفِقِ ثَلاَثًا ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ اليُسْرَى إِلَى المَرْفِقِ ثَلاَثًا ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ اليُمْنَى ثَلاَثًا ، ثُمَّ اليُسْرَى ثَلاَثًا ، ثُمَّ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ نَحْوَ وَضُوئِي هَذَا ثُمَّ قَالَ : « مَنْ تَوَضَّأَ وُضُوئِي هَذَا ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ لاَ يُحَدِّثُ نَفْسَهُ فِيهِمَا بِشَيْءٍ ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ » (رواه البخارى ومسلم واللفظ للبخارى)

حضرت عثمان ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک دن اس طرح وضو فرمایا کہ پہلے اپنے دونوں ہاتھوں پر تین دفعہ پانی ڈالا پھر کلی کی اور ناک میں پانی لے کر اس کو نکالا اور ناک کی صفائی کی پھر تین دفعہ اپنا پورا چہرہ دھویا۔ اس کے بعد داہنا ہاتھ کہنی تک تین دفعہ دھویا۔ پھر اسی طرح بایاں ہاتھ کہنی تک تین دفعہ دھویا، اس کے بعد سر کا مسح کیا، پھر داہنا پاؤں تین دفعہ دھویا، پھر اسی طرح بایاں پاؤں تین دفعہ دھویا۔ (اس طرح پورا وضو کرنے کے بعد) حضرت عثمان ؓ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے بالکل میرے اس وضو کی طرح وضو فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ جس نے میرے وضو کے مطابق وضو کیا پھر دو رکعت نماز (دل کی پوری توجہ کے ساتھ) ایسی پڑھی جو حدیث نفس سے خالی رہی (یعنی دل میں ادھر ادھر کی باتیں نہیں سوچیں) تو اس کے پچھلے سارے گناہ معاف ہو گئے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح حضرت عثمان ؓ نے اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ کے وضو کا جو طریقہ بتلایا ہے بلکہ عملاً کر کے دکھایا ہے، یہی وضو کا افضل اور مسنون طریقہ ہے البتہ اس میں کلی اور پانی سے ناک کی صفائی سے متعلق یہ نہیں بیا کیا گیا ہے کہ آپ ﷺ نے یہ کتنے دفعہ کیا۔ لیکن بعض دوسری روایتوں میں تین تین دفعہ کی تصریح ہے۔ (۱) آگے حدیث میں جو دو رکعتیں خشوع و خضوع کے ساتھ پڑھنے کا ذکر ہے، یہ ضروری نہیں کہ وہ نفل ہی ہوں، بلکہ اگر کسی کو مسنون طریقہ پر وضو کر کے کوئی فرض یا سنت نماز بھی ایسی نصیب ہو گئی جو حدیث نفس سے یعنی ادھر ادھر کے خیالات سے خالی رہی تو ان شاء اللہ حدیث کی موعود مغفرت اس کو بھی حاصل ہو گی۔ شارحین حدیث اور عارفین نے لکھا ہے کہ حدیث نفس یہ ہے کہ ادھر ادھر کا کوئی خیال ذہن میں آئے اور دل اس میں مشغول ہو جائے، لیکن اگر کوئی خطرہ دل میں گزرے اور دل اس میں مشغول نہ ہو بلکہ اس کو ہٹانے اور دفع کرنے کی کوشش کرے تو وہ مضر نہیں ہے اور یہ چیز کا ملین کو بھی پیش آتی ہے۔

440Maarif-ul-Hadith

وضو کا طریقہ

عَنْ أَبِي حَيَّةَ ، قَالَ : رَأَيْتُ عَلِيًّا تَوَضَّأَ ، فَغَسَلَ كَفَّيْهِ حَتَّى أَنْقَاهُمَا ، ثُمَّ مَضْمَضَ ثَلاَثًا ، وَاسْتَنْشَقَ ثَلاَثًا ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاَثًا ، وَذِرَاعَيْهِ ثَلاَثًا ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّةً ، ثُمَّ غَسَلَ قَدَمَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ، ثُمَّ قَامَ فَأَخَذَ فَضْلَ طَهُورِهِ فَشَرِبَهُ وَهُوَ قَائِمٌ ، ثُمَّ قَالَ : أَحْبَبْتُ أَنْ أُرِيَكُمْ كَيْفَ كَانَ طُهُورُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. (رواه الترمذى والنسائى)

ابو حیہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت علی ؓ کو دیکھا آپ نے وضو اس طرح فرمایا، پہلے اپنے دونوں ہاتھ اچھی طرح دھوئے یہاں تک کہ ان کو خوب اچھی طرح صاف کر دیا، پھر تین دفعہ کلی کی، پھر تین دفعہ پانی ناک میں لے کر اس کی صفائی کی، پھر چہرے اور دونوں ہاتھوں کو تین تین دفعہ دھویا، پھر سر کا مسح ایک دفعہ کیا، پھر دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھوئے، اس کے بعد آپ کھڑے ہوئے اور کھڑے ہی کھڑے آپ نے وضو کا بچا ہوا پانی لے کر پیا۔ حضرت علی مرتضیٰ ؓ نے اس طرح پورا وجو کر کے دکھانے کے بعد فرمایا۔ میں نے چاہا کہ تمہیں دکھلاؤں کہ رسول اللہ ﷺ کس طرح وضو فرمایا کرتے تھے۔ (جامع ترمذی و سنن نسائی) تشریح جیسا کہ حضرت عثمان اور حضرت علی ؓ کی ان حدیثوں سے معلوم ہوا رسول اللہ ﷺ عام طور سے وضو اسی طرح فرماتے تھے کہ دھونے والے اعضاء کو تین تین دفعہ دھوتے تھے اور سر پر مسح ایک ہی دفعہ فرماتے تھے۔ لیکن کبھی کبھی آپ ﷺ نے ایسا بھی کیا ہے کہ دھوئے جانے والے اعضاء کو بھی صرف ایک ہی ایک مرتبہ یا صرف دو ہی مرتبہ دھویا، اور ایسا آپ ﷺ نے یہ بتانے اور دکھانے کے لئے کیا کہ اس طرح بھی وضو ہو جاتا ہے، فقہاء کی اصطلاح میں اس کو بیان جواز کہتے ہیں۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ کسی وقت پانی کی کمی کی وجہ سے آپ ﷺ نے ایسا کیا ہو۔ واللہ اعلم۔

441Maarif-ul-Hadith

وضو کا طریقہ

عَنِ عَبْدِاللهِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : « تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَرَّةً مَرَّةً لم يزد على هذا » (رواه البخارى)

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ (ایک دن) رسول اللہ ﷺ نے وضو فرمایا ایک ایک مرتبہ (یعنی وضو میں دھوئے جانے والے اعضاء کو آپ ﷺ نے صرف ایک ایک دفعہ دھویا، اس سے زیادہ نہیں کیا)۔ (صحیح بخاری)

442Maarif-ul-Hadith

وضو کا طریقہ

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ « تَوَضَّأَ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ » (رواه البخارى)

حضرت عبداللہ بن زید بن عاصم ؓ سے روایت ہے کہ (ایک دفعہ) رسول اللہ ﷺ نے وضو فرمایا دو دو مرتبہ (یعنی دھوئے جانے والے اعضاء کو دو بار دھویا)۔ (صحیح بخاری) تشریح ان دونوں حدیثوں میں اعضاء وضو کے صرف ایک ایک دفعہ یا دو دو دفعہ دھونے کا جو ذکر ہے جیسا کہ اوپر بتلایا جا چکا ایسا آپ ﷺ نے کبھی کبھی صرف یہ جتانے اور دکھانے کے لئے کیا تھا کہ اتنا کرنے سے بھی وضو ہو جاتا ہے، ورنہ عام عادت شریفہ یہی تھی کہ وضو میں آپ ﷺ ہاتھ، منہ اور پاؤں کو تین تین دفعہ دھوتے تھے اور اسی کی دوسروں کو تعلیم دیتے تھے، اور وضو کا یہی افضل اور مسنون طریقہ ہے، مندرجہ ذیل دو حدیثوں سے یہ بات اور زیادہ صاف ہو جاتی ہے۔

443Maarif-ul-Hadith

وضو کا طریقہ

عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْئَلُ عَنِ الْوُضُوءِ ، فَأَرَاهُ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ، ثُمَّ قَالَ : « هَذَا الْوُضُوءُ ، فَمَنْ زَادَ عَلَى هَذَا فَقَدْ أَسَاءَ ، أَوْ تَعَدَّى ، أَوْ ظَلَمَ » (رواه النسائى وابن ماجه)

عمرو بن شعیب اپنے والد شعیب سے اور وہ اپنے دادا عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک اعرابی وضو کے بارے میں سوال کرتے ہوئے (یعنی وضو کا طریقہ پوچھتے ہوئے) رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے ان کو تین تین دفعہ وضو کر کے دکھایا (یعنی ایسا وضو کر کے دکھایا جس میں آپ ﷺ نے دھوئے جانے والے اعضاء کو تین تین دفعہ دھویا) اس کے بعد آپ ﷺ نے ان اعرابی سے فرمایا کہ وضو ایسے ہی کیا جاتا ہے، تو جس نے اس میں اپنی طرف سے کچھ اور اضافہ کیا تو اس نے برائی کی اور زیادتی کی اور ظلم کیا۔ (سنن نسائی و سنن ابن ماجہ) تشریح اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے وضو میں اضافہ کرنے کی جو سخت مذمت کی ہے اس کا مطلب بظاہر یہی ہے کہ اعضاء وضو کے صرف تین تین دفعہ دھونے سے کامل مکمل وضو ہو جاتا ہے۔ اب جو شخص اس میں کوئی اضافہ کرے گا وہ گویا شریعت میں اپنی طرف سے ترمیم کرے گا، اور بلا شبہ یہ اس کی بڑی جسارت اور بڑی بے ادبی ہو گی۔