کتاب المناقب والفضائل

Maarif-ul-Hadith · Chapter 17 · 144 hadiths · Page 4 of 8

2032Maarif-ul-Hadith

فضائل شیخین

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَسُوقُ بَقَرَةً إِذْ أَعْيَى فَرَكِبَهَا، فَقَالَتْ: إِنَّا لَمْ نُخْلَقْ لِهَذَا، إِنَّمَا خُلِقْنَا لِحَرَاثَةِ الْاَرْضِ" فَقَالَ النَّاسُ: سُبْحَانَ اللَّهِ بَقَرَةٌ تَتَكَلَّمُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَإِنِّي أُومِنُ بِهِ، أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، - وَمَا هُمَا ثَمَّ – وَقَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ فِي غَنَمِهِ إِذْ عَدَا الذِّئْبُ، عَلَى شَاةٍ مِنْهَا فَاَخَذَهَا، فَاَدْرَكَهَا صَاحِبُهَا فَاسْتَنْقَذَهَا، فَقَالَ لَهُ الذِّئْبُ فَمَنْ لَهَا يَوْمَ السَّبُعِ، يَوْمَ لاَ رَاعِيَ لَهَا غَيْرِي " فَقَالَ النَّاسُ: سُبْحَانَ اللَّهِ ذِئْبٌ يَتَكَلَّمُ، فَقَالَ: «أُومِنُ بِهِ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، وَمَا هُمَا ثَمَّ» (رواه البخارى)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ (ایک مجلس میں) رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا کہ: ایک آدمی ایک بیل کو ہانکے لئے جا رہا تھا وہ (چلتے چلتے) تھک گیا، تو وہ بیل پر سوار ہو گیا، بیل نے کہا کہ ہم اس لئے پیدا نہیں کئے گئے تھے ہم تو زمین کی کاشت کے کام (جتائی وغیرہ) کے لئے پیدا کئے گئے تھے تو (حاضرین مجلس میں سے بعض) آدمیوں نے کہا، سبحان اللہ بیل بھی بات کرتا ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میرا ایمان ہے، اس پر کہ (ایسا ہی ہوا) اور ابو بکر و عمر کا بھی ایمان ہے (راوی کا بیان ہے کہ) اس مجلس میں (اس وقت) وہ دونوں موجود نہیں تھے۔ اور حضور ﷺ نے یہ بھی بیان فرمایا کہ ایک آدمی اپنی بکریوں کے ریوڑ میں تھا ایک بھیڑئیے نے ریوڑ کی ایک بکری پر حملہ کر کے اس کو اٹھا لیا، بکریوں والے نے اس کو جا پکڑا اور بھیڑئیے سے بکری کو چھڑا لیا تو بھیڑئیے نے اس سے کہا کہ ان بکریوں کے لئے کون (محافظ اور رکھوالا) ہو گا “یوم السبع” میں، وہ دن وہ ہو گا جس دن میرے سوا ان بکریوں کے اور کوئی چرواہا اور محافظ نہ ہو گا تو (حاضرین میں سے بعض) لوگوں نے کہا سبحان اللہ! بھیڑیا بھی باتیں کرتا ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میرا ایمان ہے کہ یہ بات حق ہے اور ابو بکر و عمر کا بھی ایمان ہے، اور وہ دونوں (اس وقت) وہاں موجود نہ تھے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح ایمان کی حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے پیغمبر ﷺ وحی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے خبر پا کر جو کچھ بیان فرمائیں اس پر یقین کیا جائے اور اس کو بغیر شک و شبہ کے حق مانا جائے اگرچہ دنیا کے عام حالات کے لحاظ سے وہ بات ناقابل فہم ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے بیل اور بھیڑئیے کے کلام کرنے کی جو بات بیان فرمائی وہ اسی طرح کی بات تھی، اسی وجہ سے بعض حاضرین نے تعجب کا اظہار کیا، تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ میرا ایمان ہے کہ یہ حق ہے اور اپنے ساتھ ابو بکرؓ و عمرؓ کا بھی نام لے کر فرمایا کہ ان دونوں کا بھی ایمان ہے کہ یہ حق ہے۔ راوی کا بیان ہے کہ یہ بات آپ ﷺ نے ایسے وقت فرمائی جب کہ ان دونوں میں سے کوئی بھی وہاں موجود نہ تھا اس لئے یہ شبہ بھی نہیں کیا جا سکتا کہ ان دونوں کا لحاظ کرتے ہوئے اور ان کو خوش کرنے کے لئے یہ بات فرمائی ہو ..... یہ رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے شیخین (ابو بکرؓ و عمرؓ) کے کمال ایمان اور ایمانی کیفیت میں حضور ﷺ کے قریب تر ہونے اور اس بارے میں ان کے اختصاص و امتیاز کی دلیل اور شہادت ہے اور ان دونوں حضرات کے بارے میں حضور ﷺ کے اس رویہ کی یہ ایک اہم مثال ہے جس کا ذکر حضرت علی مرتضیٰؓ نے اپنے مندرجہ بالا بیان میں کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ بہت سے موقعوں پر اپنے ساتھ ان دونوں کا ذکر بھی نام لے کر فرمایا کرتے تھے۔ ؓ وارضاھما۔ حدیث کے آخری حصہ میں “یوم السبع” کا لفظ ہے، اس کا ترجمہ نہیں کیا گیا ہے شارحین نے اس کی تشریح میں متعدد اقوال نقل کئے ہیں، اس عاجز کے نزدیک راجح یہ قول ہے کہ اس سے مراد قیامت کے قریب کے وہ دن ہیں جب قیامت کے آثار ظاہر ہو جائیں گے اس وقت لوگ بھیڑ بکری وغیرہ اپنے مویشیوں کی حفاظت اور دیکھ بھال کو بالکل بھول جائیں گے وہ لاوارث ہو کر جنگلوں میں پھریں گے اور گویا بھیڑئیے وغیرہ درندے ہی ان کے وارث و مالک ہوں گے۔ اسی لحاظ سے اس کو “یوم السبع” (درندوں کا دن) کہا گیا ہے۔ واللہ اعلم۔

2033Maarif-ul-Hadith

فضائل شیخین

عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ وَدَخَلَ الْمَسْجِدَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، أَحَدُهُمَا عَنْ يَمِينِهِ وَالآخَرُ عَنْ شِمَالِهِ وَهُوَ آخِذٌ بِأَيْدِيهِمَا، وَقَالَ: هَكَذَا نُبْعَثُ يَوْمَ القِيَامَةِ. (رواه الترمذى)

حضرت بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن باہر تشریف لائے، اور مسجد میں داخل ہوئے (اور آپ کے ساتھ) ابو بکرؓ و عمرؓ بھی تھے، ایک ان دونوں میں سے آپ ﷺ کے داہنی جانب اور دوسرے بائیں جانب اور آنحضرت ﷺ ان دونوں کے ہاتھ پکڑے ہوئے تھے (اسی حال میں) آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہم تینوں قیامت کے دن اسی طرح اٹھائے جائیں گے۔ (جامع ترمذی) تشریح حدیث کا مطلب ظاہر ہے حضور ﷺ نے لوگوں کو بتلایا کہ تم جس طرح اس وقت دیکھ رہے ہو یہ دونوں (ابو بکرؓ و عمرؓ) میرے ساتھ ہیں اور میں ان دونوں کا ہاتھ پکڑے ہوئے ہوں، قیامت کے دن ہم تینوں اسی طرح ساتھ اٹھیں گے اور ساتھ ہوں گے ..... بلاشبہ یہ ان دونوں حضرات کی خاص فضیلت ہے، اس میں کوئی اور شریک نہیں اور حضور ﷺ نے اپنے دوسرے اصحاب کو ان کی اس خصوصیت و فضیلت سے مطلع فرمانا بھی ضروری سمجھا۔

2034Maarif-ul-Hadith

فضائل شیخین

عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لاَ أَدْرِي مَا بَقَائِي فِيكُمْ، فَاقْتَدُوا بِالَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِي. وَأَشَارَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ. (رواه الترمذى)

حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: میں نہیں جانتا کہ کب تک تم لوگوں میں باقی رہوں گا (تو جب میں تمہارے اندر نہ رہوں) تو تم اقتدا کیجیو اور میرے بعد ان دونوں ابو بکرؓ و عمرؓ کی۔ (جامع ترمذی) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضور ﷺ پر منکشف کر دیا گیا تھا کہ آپ ﷺ کے بعد آپ کے یہ دونوں خاص رفیق ابو بکرؓ و عمرؓ یکے بعد دیگرے آپ ﷺ کی جگہ امت کی امامت و قیادت کریں گے۔ آپ ﷺ نے ہدایت فرمائی کہ میرے بعد ان کی اقتدا و پیروی کی جائے۔

2035Maarif-ul-Hadith

فضائل شیخین

عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُوْ بَكْرٍ وَعُمَرُ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الجَنَّةِ مِنَ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ إِلاَّ النَّبِيِّينَ وَالمُرْسَلِينَ. (رواه الترمذى)

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ابو بکرؓ و عمرؓ ادھیڑ عمر والے اولین و آخرین میں سے تمام جنتیوں کے سردار ہیں سوائے انبیاء و مرسلین کے۔ (جامع ترمذی) تشریح مطلب یہ ہے کہ بنی آدم میں سے جو لوگ ادھیڑ عمر کو پہنچے اور اس کے بعد وفات پائی اور وہ ایمان اور اعمال صالحہ کی وجہ سے جنت میں جانے والے ہیں، خواہ دنیا کے ابتدائی زمانے والے ہوں یا آخری زمانے والے، ابو بکرؓ و عمرؓ جنت میں ان سب کے سردار ہوں گے اور ان کا درجہ ان سب سے بالا تر ہو گا سوائے انبیاء و مرسلین کے یعنی جنت میں سب سے فائق و بالا تر انبیاء و مرسلین ہوں گے ..... اور رسول اللہ ﷺ کا یہی ارشاد ابن ماجہ نے اپنی سنن میں حضرت علی مرتضیٰؓ سے بھی روایت کیا ہے۔

2036Maarif-ul-Hadith

فضائل شیخین

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلاَّ وَلَهُ وَزِيرَانِ مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ وَوَزِيرَانِ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ، فَأَمَّا وَزِيرَايَ مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ فَجِبْرِيلُ وَمِيكَائِيلُ، وَأَمَّا وَزِيرَايَ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ فَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ. (رواه الترمذى)

حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ہر نبی کے دو وزیر ہوتے ہیں آسمان والوں میں سے (یعنی ملائکہ میں سے) اور دو وزیر ہوتے ہیں زمین میں بسنے والے انسانوں میں سے، تو آسمان والوں میں سے میرے وزیر جبرائیل و میکائیل ہیں اور زمین والوں میں سے میرے وزیر ابو بکر و عمر ہیں۔ (جامع ترمذی) تشریح واقعہ یہی ہے کہ آنحضرت ﷺ کا معاملہ اور برتاؤ ان دونوں حضرات کے ساتھ وہی تھا جو ارباب حکومت کا اپنے خاص معتمد وزیروں کے ساتھ ہوتا ہے، آپ ہر اہم قابل غور و فکر معاملہ میں ان دونوں حضرات سے مشورہ فرماتے تھے۔ رضی اللہ عنھما وارضاھما۔

2037Maarif-ul-Hadith

فضائل حضرت عثمان ذو النورین

عَنْ عَائِشَةَ اسْتَأْذَنَ أَبُوْ بَكْرٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشِىْ، عَلَيْهِ مِرْطٌ لِىْ، فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ عَلَى حَالِهِ، فَقَضَى إِلَيْهِ حَاجَتَهُ، ثُمَّ انْصَرَفَ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ، فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ عَلَى تِلْكَ الْحَالَةِ فَقَضَى إِلَيْهِ حَاجَتَهُ، ثُمَّ انْصَرَفَ،: ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُثْمَانُ فَجَلَسَ وَاَصْلَحَ عَلَيْهِ ثِيَابَهُ، وَقَالَ: «اجْمَعِي عَلَيْكِ ثِيَابَكِ» فَقَضَى إِلَيْهِ حَاجَتَهُ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ لَمْ أَرَكَ فَزِعْتَ لِأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، كَمَا فَزِعْتَ لِعُثْمَانَ؟ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ «إِنَّ عُثْمَانَ رَجُلٌ حَيِيٌّ، وَإِنِّي خَشِيتُ، إِنْ أَذِنْتُ لَهُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ، أَنْ لَا يَبْلُغَ إِلَيَّ فِي حَاجَتِهِ» وَفِىْ رِوَايَةٍ قَالَ لَهَا اَلَا اَسْتَحْىِ مِنْ رَجُلٍ تَسْتَحْىِ مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ. (رواه مسلم)

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ (میرے والد حضرت) ابو بکرؓ نے (کسی ضرورت سے) حضور ﷺ کے پاس آنے کی اجازت چاہی ایسے حال میں کہ آپ ﷺ میرے بستر پر میری چادر اوڑھے لیٹے ہوئے تھے آپ ﷺ نے ان کو اندر آنے کی اجازت دلوا دی اور آپ ﷺ جس طرح لیٹے ہوئے تھے اسی طرح لیٹے رہے (ابو بکرؓ آئے) اور جو ضروری بات ان کو کرنا تھی کر کے چلے گئے۔ پھر (حضرت)عمرؓ (کسی ضرورت سے) آئے اور اندر آنے کی اجازت چاہی، ان کو بھی آپ ﷺ نے اجازت دلوا دی (وہ آئے) اور آپ اسی حالت میں رہے (یعنی جس طرح میرے بستر پر میری چادر اوڑھے لیٹے ہوئے تھے اسی طرح لیٹے رہے) پھر وہ بھی اپنی ضرورت پوری کر کے چلے گئے پھر (حضرت) عثمانؓ نے اندر آنے کی اجازت چاہی تو آپ ﷺ سنبھل کر بیٹھ گئے اور اپنے کپڑوں کو اچھی طرح درست فرما لیا اور مجھ سے فرمایا کہ تم بھی اپنے کپڑے (چادر وغیرہ) پوری طرح اوڑھ لو، اس کے بعد آپ ﷺ نے ان کو آنے کی اجازت دلوا دی (وہ آپ کے پاس آ گئے) اور جو ضروری بات کرنے کے لئے آئے تھے کر کے چلے گئے (حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ حضرت عثمانؓ کے جانے کے بعد) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں نے نہیں دیکھا کہ آپ ﷺ نے جیسا اہتمام (حضرت) عثمانؓ کے لئے کیا ویسا اہتمام ابو بکرؓ اور عمرؓ کے لئے کیا ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا عثمان ایسے آدمی ہیں کہ ان پر (فطری طور پر) صفت حیا کا غلبہ ہے مجھے اس کا اندیشہ ہوا کہ اگر میں نے ان کو ایسی حالت میں بلا لیا جس میں میں تھا (کہ تمہاری چادر اوڑھے لیٹا ہوا تھا) تو وہ (فرط حیا کی وجہ سے جلدی واپس چلے جائیں) اور وہ ضروری بات نہ کر سکیں جس کے لئے وہ آئے تھے (اس لئے میں نے ان کے لئے وہ اہتمام کیا جو تم نے دیکھا)۔ (صحیح مسلم) تشریح متن حدیث کی ضروری تشریح ترجمہ کے ضمن ہی میں کر دی گئی ہے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضرت عثمان ؓ پر صفت حیاء کا کس قدر غلبہ تھا اور رسول اللہ ﷺ اس کا کس قدر لحاظ فرماتے تھے۔ صحیح مسلم کی اسی حدیث کی ایک دوسری روایت میں یہ ہے کہ حضرت عائشہؓ کے سوال کے جواب میں حضور ﷺ نے فرمایا “اَلَا اَسْتَحْىِ مِنْ رَجُلٍ تَسْتَحْىِ مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ” (کیا میں ایسے بندہ خدا کا لحاظ نہ کروں جس کا فرشتے بھی لحاظ کرتے ہیں)۔ یہاں ایک بات یہ بھی قابل ذکر ہے کہ بظاہر یہ واقعہ اس زمانے کا ہے کہ حجاب (یعنی پردہ) کا حکم نازل نہیں ہوا تھا کیونکہ حضرت عمرؓ، بھی حضرت صدیقہؓ کے لئے غیر محرم تھے، ان کے آنے پر حضور ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ کو اچھی طرح کپڑے اوڑھ لینے کا وہ حکم نہیں فرمایا جو حضرت عثمانؓ کے آنے پر فرمایا۔

2038Maarif-ul-Hadith

فضائل حضرت عثمان ذو النورین

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَبَّابٍ، قَالَ: شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَحُثُّ عَلَى تَجْهِيْزِ جَيْشِ العُسْرَةِ فَقَامَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ عَلَيَّ مِائَةُ بَعِيرٍ بِأَحْلاَسِهَا وَأَقْتَابِهَا فِي سَبِيلِ اللهِ، ثُمَّ حَضَّ عَلَى الجَيْشِ فَقَامَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ عَلَيَّ مِائَتَا بَعِيرٍ بِأَحْلاَسِهَا وَأَقْتَابِهَا فِي سَبِيلِ اللهِ، ثُمَّ حَضَّ عَلَى الجَيْشِ فَقَامَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ عَلَيَّ ثَلاَثُ مِائَةِ بَعِيرٍ بِأَحْلاَسِهَا وَأَقْتَابِهَا فِي سَبِيلِ اللهِ، فَأَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْزِلُ عَنِ الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَقُولُ: مَا عَلَى عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ هَذِهِ، مَا عَلَى عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ هَذِهِ. (رواه الترمذى)

حضرت عبدالرحمٰن بن خباب ؓ کی روایت ہے کہ حضور ﷺ کی خدمت میں ایسے وقت حاضر ہوا جب کہ آپ ﷺ (منبر پر تشریف فرما تھے اور) جیش عسرہ (غزوہ تبوک) کے لئے مدد کرنے کی لوگوں کو ترغیب دے رہے تھے تو عثمانؓ کھڑے ہوئے اور کہا کہ یا رسول اللہ میرے ذمے ہیں سو اونٹ، مع نمدوں اور کجاوؤں کے (یعنی میں سو اونٹ پیش کروں گا مع پورے ساز و سامان ےکے) فی سبیل اللہ (حدیث کے راوی عبدالرحمٰن بن خباب بیان کرتے ہیں کہ) اس کے بعد پھر رسول ﷺ نے لشکر کی مدد کے لئے لوگوں کو ترغیب دی تو پھر عثمان کھڑے ہوئے اور کہا کہ یا رسول اللہ میرے ذمے ہیں (مزید)دو سو اونٹ مع نمدوں اور کجاوؤں کے فی سبیل اللہ، اس کے بعد پھر رسول ﷺ نے لشکر کی امداد کے لئے اپیل دی تو پھر (تیسری مرتبہ)عثمانؓ کھڑے ہوئے اور کہا کہ یا رسول اللہ میرے ذمہ ہیں (مزید) تین سو اونٹ مع نمدوں اور کجاوؤں کے فی سبیل اللہ (عبدالرحمٰن بن خباب کہتے ہیں کہ) میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ منبر سے اتر رہے تھے اور فرماتے تھے “مَا عَلَى عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ هَذِهِ” (یعنی عثمان اپنے اس عمل اور اس مالی قربانی کے بعد جو بھی کریں اس سے ان کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا) یہ بات آپ ﷺ نے مکرر ارشاد فرمائی۔ (جامع ترمذی) تشریح فتح مکہ کے اگلے سال ۹؁ھ میں بعض اطلاعات پر رسول اللہ ﷺ نے ایک بڑے لشکر کے ساتھ ملک شام کی طرف پیش قدمی کا فیصلہ فرمایا، یہ سفر مقام تبوک تک ہوا جو اس وقت کے ملک شام کی سرحد کے اندر تھا، وہاں لشکر کا پڑاؤ قریباً بیس دن تک رہا جس مقصد سے دور دراز کا یہ سفر کیا گیا تھا وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کی مدد سے جنگ و قتال کے بغیر ہی صرف تبوک تک پہنچنے اور وہاں بیس روزہ قیام ہی سے حاصل ہو گیا تو وہیں سے واپسی کا فیصلہ فرما لیا گیا اس وجہ سے یہ غزوہ غزوہ تبوک کے نام سے معروف ہو گیا ...... حدیث میں اس لشکر کو “جیش العسرۃ” فرمایا گیا ہے عسرۃ کے معنی ہیں تنگ حالی اور سخت حالی ..... یہ سفر ایسے حال میں کیا گیا تھا کہ مدینہ منورہ اور اس کے آس پاس میں قحط اور پیداوار کی بہت کمی کی وجہ سے بہت تنگ حالی تھی، اور موسم سخت گرمی کا تھا، لشکریوں کی تعداد اس زمانے کے لحاظ سے بہت غیر معمولی تھی (روایات میں تیس ہزار ذکر کی گئی ہے) سواریاں یعنی اونٹ اور گھوڑے بہت کم تھے، زادِ راہ یعنی کھانے پینے کا سامان بھی لشکریوں کے تعداد کے لحاظ سے بہت ہی کم تھا، انہیں وجوہ سے اس غزوہ کو “جیش العسرۃ” کہا گیا ہے۔ اسی غیر معمولی صورت کی وجہ سے آنحضرت ﷺ نے اس غزوہ کے لئے لوگوں کو مالی و جانی قربانی کی اس طرح ترغیب دی جو غزوات کے سلسلہ میں آپ کا عام معمول نہ تھا۔ حضرت عثمان ؓ نے اس لشکر کی امداد و اعانت میں سب سے زیادہ حصہ لیا، حضرت عبدالرحمٰن بن خبابؓ کی اس روایت سے معلوم ہوا کہ حضور ﷺ کی ترغیب پر انہوں نے چھ سو اونٹ مع ساز و سامان کے پیش فرمائے ..... شارحین حدیث نے بعض دوسری روایات کی بنیاد پر لکھا ہے کہ ان چھ سو کے علاوہ انہوں نے ساڑھے تین سو اونٹ اور پیش کئے اس طرح ان کے پیش کئے ہوئے اونٹوں کی تعداد ساڑھے نو سو ہوئی ..... ان کے علاوہ پچاس گھوڑے بھی پیش کئے ..... آگے درج ہونے والی حدیث سے معلوم ہو گا کہ اونٹوں گھوڑوں کے علاوہ حضرت عثمانؓ نے ایک ہزار اشرفیاں بھی لا کر حضور ﷺ کی گود میں ڈال دیں۔ آپ ﷺ نے حضرت عثمانؓ کے ان عطیات کو قبول فرما کر مجمع عام میں یہ بشارت سنائی اور بار بار فرمایا “مَا عَلَى عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ هَذِهِ” (مطلب یہ ہے کہ جنت اور رضاء الہٰی حاصل کرنے کے لئے عثمانؓ کا یہی عمل اور یہی مالی قربانی کافی ہے) ..... جب ان حالات کا تصور کیا جائے جن کی وجہ سے اس لشکر کو جیش العسرہ کہا گیا ہے تو حضرت عثمانؓ کی اس مالی قربانی کی قدر و قیمت بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے ...... ؓ وارضاہ۔ (غزرہ تبوک کے بارے میں تفصیلات سیرت و تاریخ کی کتابوں میں دیکھی جائیں)۔

2039Maarif-ul-Hadith

فضائل حضرت عثمان ذو النورین

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: جَاءَ عُثْمَانُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَلْفِ دِينَارٍ فِي كُمِّهِ، حِينَ جَهَّزَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ، فَنَشَرَهَا فِي حِجْرِهِ فَرَأَيْتُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُقَلِّبُهَا فِىْ حِجْرِهِ، وَيَقُولُ: «مَا ضَرَّ ابْنُ عَفَّانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ الْيَوْمِ» مَرَّتَيْنِ. (رواه احمد)

حضرت عبدالرحمٰن بن سمرۃ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جس وقت جیش عسرہ (غزوہ تبوک) کے لئے ضروریات کا انتظام اور سامان کر رہے تھے تو عثمانؓ اپنی آستین میں ایک ہزار دینار (اشرفیاں) لے کر آئے اور حضور ﷺ کی گود میں ڈال دئیے (عبدالرحمٰن بن سمرہ کہتے ہیں کہ) میں نے دیکھا کہ حضور ﷺ ان اشرفیوں کو اپنی گود میں الٹ پلٹ رہے ہیں اور آپ ﷺ نے دو مرتبہ فرمایا “مَا ضَرَّ ابْنُ عَفَّانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ الْيَوْمِ” (یعنی آج کے دن کے بعد عثمانؓ جو کچھ بھی کریں اس سے ان کو کوئی ضرر اور نقصان نہیں پہنچے گا)۔ (مسند احمد) تشریح حضرت عثمانؓ کی پیش کی ہوئی اشرفیوں کو حضرت عثمانؓ کے اور دوسرے لوگوں کے سامنے حضور ﷺ کا اپنی گود میں الٹنا بظاہر اپنی قلبی مسرت کے اظہار کے لئے تھا۔ حضرت عبدالرحمٰن بن خباب کی مندرجہ بالا حدیث سے معلوم ہو چکا ہے کہ حضور ﷺ کی اپیل پر جب حضرت عثمانؓ نے مجاہدین کے لئے اونٹوں کی پیش کش کی تھی، اس وقت بھی حضور ﷺ نے ان کو ایسی ہی بشارت دی تھی، اور بار بار فرمایا تھا “مَا ضَرَّ ابْنُ عَفَّانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ الْيَوْمِ” مومنین صادقین کو اس طرح کی بشارتیں دینا آخرت کی فکر اور اس کے لئے سعی و عمل سے ان کو غافل نہیں کرتا بلکہ اللہ تعالیٰ کی محبت و رضا جوئی میں اضافہ کا اور مزید دینی ترقیات کا باعث ہوتا ہے۔

2040Maarif-ul-Hadith

فضائل حضرت عثمان ذو النورین

عَنْ أَنَسِ قَالَ: قَالَ لَمَّا أُمِرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَيْعَةِ الرِّضْوَانِ كَانَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَسُولَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَكَّةَ فَبَايَعَ النَّاسَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ عُثْمَانَ فِي حَاجَةِ اللهِ وَحَاجَةِ رَسُولِهِ. فَضَرَبَ بِإِحْدَى يَدَيْهِ عَلَى الأُخْرَى، فَكَانَتْ يَدُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُثْمَانَ خَيْرًا مِنْ أَيْدِيهِمْ لأَنْفُسِهِمْ. (رواه الترمذى)

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ جب (حدیبیہ میں) رسول اللہ ﷺ نے بیعت رضوان کے لئے ارشاد فرمایا تو اس وقت عثمانؓ رسول اللہ ﷺ کے قاصد اور سفیر کی حیثیت سے مکہ گئے ہوئے تھے۔ تو ان سب لوگوں نے (جو اس وقت موجود اور حاضر تھے) بیعت کر لی، تو رسول اللہ ﷺ نے (لوگوں سے) فرمایا کہ عثمان (اس وقت یہاں نہیں ہیں) اللہ کے اور اس کے رسول(ﷺ) کے کام سے مکہ گئے ہوئے ہیں (اگر وہ یہاں ہوتے تو تم سب کے ساتھ وہ بھی بیعت کرتے، اب میں خود ان کی طرف سے بیعت کرتا ہوں) پھر آپ نے (حضرت عثمانؓ کے قائم مقام کی حیثیت سے) اپنا ایک دست مبارک اپنے ہی دوسرے دست مبارک پر رکھا (جس طرح بیعت میں ہاتھ پر ہاتھ رکھا جاتا ہے۔ آگے حدیث کے راوی حضرت انسؓ جو خود بیعت کرنے والوں میں تھے کہتے ہیں کہ) رسول اللہ ﷺ کا دست مبارک جس سے آپ نے عثمانؓ کی طرف سے بیعت کی وہ عثمانؓ کے حق میں ان دوسرے تمام لوگوں کے ہاتھوں سے بہتر تھا جنہوں نے خود اپنی طرف سے بیعت کی تھی۔ (جامع ترمذی) تشریح بیعت رضوان کا واقعہ معلوم و معروف ہے، قرآن مجید میں بھی اس کا ذکر فرمایا گیا ہے، یہاں مختصراً صرف اتنا ذکر کیا جاتا ہے جتنا حدیث کا مفہوم سمجھنے کے لئے ضروری ہے۔ ہجرت کے چھٹے سال رسول اللہ ﷺ نے ایک خواب کی بنا پر بہت سے صحابہؓ کے شدید اصرار سے عمرہ کے لئے مکہ معظمہ جانے کا ارادہ فرمایا جن لوگوں کو اس کا علم ہوا تو اس مبارک سفر میں حضور ﷺ کی رفاقت اور عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے لئے ساتھ ہو گئے، ان ساتھیوں کی تعداد چودہ سو ۱۴۰۰ کے قریب ہو گئی، چونکہ سفر عمرہ کی نیت سے کیا گیا تھا اور ذیقعدہ کے مہینہ میں کیا گیا تھا جو اشہر حرم میں سے ہے جن کا مشرکین مکہ بھی احترام کرتے اور جنگ و جدال سے پرہیز کرتے تھے۔ اس کی ضرورت نہیں سمجھی گئی کہ پہلے سے کسی کو بھیج کر مکہ والوں کی رضامندی حاصل کی جائے۔ مشرکین مکہ اس وقت حضور ﷺ اور آپ ﷺ کے دین کے سخت ترین دشمن تھے ..... جب ان کے علم میں یہ بات آئی کہ آپ ﷺ ایک بڑی جمیعت کے ساتھ آ رہے ہیں تو انہوں نے باہم مشورہ کر کے طے کر لیا کہ آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو ہم اپنے شہر مکہ میں نہیں داخل ہونے دیں گے، جب آپ ﷺ اور پورا قافلہ مکہ کی قریب مقام حدیبیہ پر پہنچ گیا (جہاں سے مکہ مکرمہ کی مسافت ۲۰ میل سے کچھ زیادہ ہے) تو مکہ والوں کے فیصلہ اور ارادے کا آپ ﷺ کو علم ہوا ..... آپ ﷺ نے پورے قافلہ کے ساتھ حدیبیہ میں قیام فرما لیا اور حضرت عثمان ؓ، کو سردارانِ قریش سے گفتگو کرنے کے لئے اپنا خاص قاصد اور سفیر بنا کر مکہ بھیج دیا، ان کا انتخاب آپ ﷺ نے اس لئے فرمایا کہ مخالفین کے لیڈروں میں ان کے بعض قریبی رشتہ دار تھے آپ ﷺ نے ان کو اس مقصد سے بھیجا کہ وہ بالخصوص قریش کے سرداروں کو اطمینان دلائیں کہ ہم لوگ صرف عمرہ کے لئے آئے ہیں، اس کے سوا کوئی مقصد نہیں ہے، ہم عمرہ کر کے مدینہ واپس ہو جائیں گے۔ حضرت عثمانؓ مکہ معظمہ چلے گئے لیکن حساب سے ان کو جس وقت تک واپس آ جانا چاہئے تھا واپس نہیں آئے اور حضور ﷺ کے قافلہ میں کسی طرح یہ خبر پہنچ گئی کہ عثمانؓ کو دشمنوں نے شہید کر دیا تو آپ کو بہت رنج اور دکھ ہوا اور آپ ﷺ نے طے فرما لیا کہ اگر ایسا ہوا ہے تو پھر جنگ ہو گی، تمام ساتھیوں میں بھی اس خبر سے سخت اشتعال تھا اس مرحلہ پر آپ ﷺ نے صحابہ کرامؓ سے جہاد فی سبیل اللہ اور اس میں شہادت تک ثابت قدمی پر خصوصی بیعت لی، یہ بیعت ایک درخت کے نیچے لی گئی تھی، قرآن مجید میں اس موقع پر بیعت کرنے والوں کے لئے اللہ تعالیٰ کی خاص الخاص رضا کا اعلان فرمایا گیا ہے، اسی لئے اس کا نام بیعت رضوان، معروف ہو گیا ہے۔ جیسا کہ ذکر کیا جا چکا ہے کہ یہ بیعت جس وقت لی گئی حضرت عثمانؓ اس وقت موجود نہیں تھے، حضور ﷺ کے قاصد کی حیثیت سے مکہ معظمہ گئے ہوئے تھے، تو جیسا کہ حدیث میں ذکر کیا گیا حدیبیہ میں موجود تمام صحابہ کرامؓ نے حضور ﷺ کے دست مبارک پر اپنا ہاتھ رکھ کر بیعت کی۔ عثمانؓ موجود نہیں تھے، ان کی طرف سے حضور ﷺ نے خود بیعت کی اپنے دست مبارک کو حضرت عثمانؓ کے ہاتھ کے قائم مقام قرار دے کر ان کی طرف سے بیعت فرمائی ..... بلا شبہ یہ حضرت عثمان ؓ کے خاص الخاص فضائل میں سے ہے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ حضرت عثمانؓ کی شہادت کی خبر صحیح نہیں تھی وہ گفتگو کر کے واپس آ گئے اس وقت اہل مکہ اور سردارانِ قریش کسی طرح اس پر آمادہ نہیں ہوئے کہ حضور ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو عمرہ کے لئے مکہ معظمہ میں داخل ہونے کی اجازت دیں۔ اس کے بعد قریش کی طرف سے گفتگو کرنے کے لئے یکے بعد دیگرے ان کے نمائندے آئے اور بالآخر وہ صلح ہوئی جو صلح حدیبیہ نام سے تاریخ اسلام کا مشہور ترین واقعہ ہے اور قرآن مجید میں اس کو “فتح مبین” فرمایا گیا ہے (تفصیلات سیرت اور تاریخ کی کتابوں میں دیکھی جا سکتی ہیں)۔

2041Maarif-ul-Hadith

فضائل حضرت عثمان ذو النورین

عَنْ مُرَّةُ بْنُ كَعْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرَ الفِتَنَ فَقَرَّبَهَا، فَمَرَّ رَجُلٌ مُقَنَّعٌ فِي ثَوْبٍ فَقَالَ: هَذَا يَوْمَئِذٍ عَلَى الهُدَى، فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ. قَالَ: فَأَقْبَلْتُ عَلَيْهِ بِوَجْهِهِ، فَقُلْتُ: هَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ. (رواه الترمذى وابن ماجه)

حضرت مرہ بن کعب ؓ سے روایت ہے (انہوں نے بیان کیا کہ) رسول اللہ ﷺ سے میں نے (ایک خطاب میں) سنا، آپ ﷺ نے اپنے بعد امت میں برپا ہونے والے کچھ فتنوں کا ذکر فرمایا اور ان کو قریب ہی میں واقع ہونے والے فتنے بتلایا۔ اسی وقت ایک شخص سر سے کپڑا اوڑھے ہوئے سامنے گذرا تو حضور ﷺ نے ایک شخص کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا، یہ شخص آنے والے ان فتنوں کے دنوں میں طریقہ ہدایت اور راہ راست پر ہو گا (حدیث کے راوی مرہ بن کعب کہتے ہیں کہ میں حضور ﷺ کی زبان مبارک سے یہ بات سن کر) اس شخص کی طرف چلا (تا کہ دیکھ لوں کہ وہ کون ہے) دیکھا تو عثمان بن عفان تھے میں نے ان کا چہرہ حضور ﷺ کی طرف کر کے حضور ﷺ سے عرض کیا، کیا وہ یہی ہیں؟ (جن کے بارے میں آپ نے فرمایا کہ وہ فتنہ کے زمانے میں ہدایت اور راہ راست پر ہوں گے؟) آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ “ہاں”(یہی وہ ہیں)۔ تشریح حدیث کسی تشریح و توضیح کی محتاج نہیں ہے مطلب بالکل واضح ہے کہ حضور ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی عطا فرمائی ہوئی اطلاع کی بنا پر بطور پیشن گوئی کے حضرت عثمان ؓ کے بارے میں اپنے اس خطاب عام میں اعلان فرمایا کہ میرے بعد قریبی زمانہ میں جو فتنے امت میں برپا ہوں گے ان میں عثمان بن عفان طریقہ ہدایت اور راہ راست پر ہوں گے ..... معلوم ہے کہ حضور ﷺ کے بعد امت میں سب سے بڑا اور پہلا فتنہ خود حضرت عثمان ؓ کے خلاف اٹھنے والا فتنہ تھا جس میں وہ انتہائی مظلومیت کے ساتھ شہید کئے گئے، جیسا کہ آئندہ ذکر کی جانے والی حدیثوں سے بھی معلوم ہو گا۔ رسول اللہ ﷺ کے اس طرح کے ارشادات کی روشنی ہی میں اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ فتنے کے دور میں حضرت عثمانؓ حق و ہدایت پر تھے، اور ان کے مخالفین جنہوں نے فتنہ برپا کیا اہل ضلال تھے۔ نَعُوذُ بِاللَّهِ تَعَالَى مِنَ الشُّرُوْرِ وَالفِتَنِ، مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ.

2042Maarif-ul-Hadith

فضائل حضرت عثمان ذو النورین

عَنْ أَبِي مُوسَى الْاَشْعَرِىْ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ المَدِينَةِ فَجَاءَ رَجُلٌ فَاسْتَفْتَحَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ» فَفَتَحْتُ لَهُ، فَإِذَا أَبُو بَكْرٍ، فَبَشَّرْتُهُ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَمِدَ اللَّهَ، ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ فَاسْتَفْتَحَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ»، فَفَتَحْتُ لَهُ فَإِذَا هُوَ عُمَرُ، فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَمِدَ اللَّهَ، ثُمَّ اسْتَفْتَحَ رَجُلٌ، فَقَالَ لِي: «افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ، عَلَى بَلْوَى تُصِيبُهُ»، فَإِذَا عُثْمَانُ، فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالَ النَّبِىُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُ المُسْتَعَانُ. (رواه البخارى ومسلم)

حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ میں مدینہ کے ایک باغ میں حضور ﷺ کے ساتھ تھا تو ایک شخص آئے اور انہوں نے دروازہ کھلوانا چاہا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ان کے لئے دروازہ کھول دو اور ان کو جنت کی خوشخبری دو، تو میں نے اس شخص کے لئے دروازہ کھول دیا تو دیکھا کہ وہ ابو بکرؓ ہیں، میں نے ان کو جنت کی بشارت دی، تو اس پر انہوں نے اللہ کی حمد کی (اور شکر ادا کیا) پھر ایک اور شخص آئے اور انہوں نے دروازہ کھلوانا چاہا تو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ ان کے لئے دروازہ کھول دو اور جنت کی خوشخبری دو، تو میں نے ان کے لئے دروازہ کھولا تو دیکھا کہ وہ عمرؓ ہیں، تو میں نے ان کو وہ بتلا دیا جو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا، تو انہوں نے اللہ کی حمد کی (اور شکر ادا کیا) پھر ایک اور شخص نے دروازہ کھلوانا چاہا، تو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ ان کے لئے بھی دروازہ کھول دو اور ان کو جنت کی خوشخبری دو، ایک بڑی مصیبت پر جو ان کو پہنچے گی (تو میں نے دروازہ کھول دیا) تو دیکھا کہ وہ عثمانؓ ہیں، تو میں نے ان کو وہ بتلایا جو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا تو انہوں نے اللہ کی حمد کی (اور شکر ادا کیا) پھر کہا (اللَّهُ المُسْتَعَانُ) (یعنی آنے والی مصیبت کے لئے میں اللہ ہی سے مدد چاہتا ہوں) ..... (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح حدیث میں باغ کے لئے حائط کا لفظ استعمال فرمایا گیا ہے، حائط اس باغ کو کہا جاتا ہے جو چہار دیواری سے گھیر دیا گیا ہو، اس میں داخلہ کے لئے دروازہ ہوتا ہے۔ اس حدیث میں یہ واقعہ بیان فرمایا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ کے کسی ایسے ہی باغ میں تشریف فرما تھے، اور اس وقت صرف ابو موسیٰ اشعریؓ آپ کے پاس تھے (اسی حدیث کی ایک دوسری روایت میں یہ اضافہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو حکم دیا تھا کہ دروازہ کی حفاظت کریں اور کسی کو بغیر اجازت کے اندر نہ آنے دیں)۔ تو اس وقت کسی شخص نے دروازہ کھلوا کر اندر آنا چاہا، تو آپ ﷺ نے ابو موسیٰ اشعری سے فرمایا کہ ان کے لئے دروازہ کھول دو اور ان کو جنت کی بشارت دے دو ..... ابو موسیٰ اشعری کو معلوم نہیں تھا کہ یہ دروازہ کھلوانے والے کون صاحب ہیں، جب دروازہ کھولا تو دیکھا کہ وہ ابو بکرؓ ہیں، تو ابو موسیٰ نے ان کو وہ بتلایا جو حضور ﷺ نے فرمایا تھا اور جنت کی بشارت دی، تو جیسا کہ حدیث میں ذکر کیا گیا ہے، انہوں نے جنت کی بشارت سن کر اللہ کی حمد کی اور شکر ادا کیا، پھر حضرت عمرؓ نے دروازہ کھلوا کر اندر آنے کی اجازت چاہی تو آپ ﷺ نے ابو موسیٰ سے وہی فرمایا جو اس سے پہلے ابو بکرؓ کے لئے فرمایا تھا ان کو معلوم نہ تھا کہ اب یہ دروازہ کھلوانے والے کون صاحب ہیں، دروازہ کھولا تو معلوم ہوا کہ یہ عمرؓ ہیں تو انہوں نے ان کو جنت کی بشارت دی، انہوں نے بھی بشارت سن کر اللہ کی حمد کی اور شکر ادا کیا، اس کے بعد تیسرے شخص آئے اور انہوں نے بھی دروازہ کھلوا کر اندر آنا چاہا تو آپ ﷺ نے ابو موسیٰ اشعری سے فرمایا ان کے لئے بھی دروازہ کھول دو اور ان کو جنت کی خوشخبری دو ایک بڑی مصیبت پر جو ان پر آنے والی ہے ابو موسیٰ اشعری کو معلوم نہیں تھا کہ یہ آنے والے کون ہیں جب حضور ﷺ کے حکم کے مطابق دروازہ کھولا تو دیکھا کہ عثمان بن عفانؓ ہیں تو انہوں نے ان کو وہ بتلایا جو حضور ﷺ نے فرمایا تھا اور ان کو جنت کی بشارت دی اور ساتھ ہی یہ کہ وہ ایک عظیم آزمائش اور مصیبت میں مبتلا ہوں گے، تو انہوں نے جنت کی بشارت پر اللہ کی حمد کی، شکر ادا کیا اور مصیبت کی بات سن کر کہا اللَّهُ المُسْتَعَانُ (کہ اللہ ہی سے مدد چاہتا ہوں) حضرت عثمانؓ پر آنے والی اس مصیبت کی کچھ تفصیل آگے ذکر کی جانے والی حدیثوں سے معلوم ہو گی۔

2043Maarif-ul-Hadith

فضائل حضرت عثمان ذو النورین

عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ حَزْنٍ الْقُشَيْرِيِّ، قَالَ: شَهِدْتُ الدَّارَ حِينَ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ عُثْمَانُ، فَقَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ وَالْإِسْلَامِ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ وَلَيْسَ بِهَا مَاءٌ يُسْتَعْذَبُ غَيْرَ بِئْرِ رُومَةَ؟ فَقَالَ: " مَنْ يَشْتَرِي بِئْرَ رُومَةَ فَيَجْعَلُ فِيهَا دَلْوَهُ مَعَ دِلَاءِ الْمُسْلِمِينَ بِخَيْرٍ لَهُ مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ؟ فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ صُلْبِ مَالِي فَجَعَلْتُ دَلْوِي فِيهَا مَعَ دِلَاءِ الْمُسْلِمِينَ، وَأَنْتُمُ الْيَوْمَ تَمْنَعُونِي مِنَ الشُّرْبِ مِنْهَا حَتَّى أَشْرَبَ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ، قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ وَالْإِسْلَامِ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنِّي جَهَّزْتُ جَيْشَ الْعُسْرَةِ مِنْ مَالِي؟ قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ وَالْإِسْلَامِ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ الْمَسْجِدَ ضَاقَ بِأَهْلِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يَشْتَرِي بُقْعَةَ آلِ فُلَانٍ فَيَزِيدُهَا فِي الْمَسْجِدِ بِخَيْرٍ لَهُ مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ؟» فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ صُلْبِ مَالِي فَزِدْتُهَا فِي الْمَسْجِدِ، وَأَنْتُمْ تَمْنَعُونِي أَنْ أُصَلِّيَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ، قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ وَالْإِسْلَامِ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ عَلَى ثَبِيرٍ ثَبِيرِ مَكَّةَ، وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَأَنَا، فَتَحَرَّكَ الْجَبَلُ فَرَكَضَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرِجْلِهِ وَقَالَ: «اسْكُنْ ثَبِيرُ، فَإِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِيٌّ وَصِدِّيقٌ وَشَهِيدَانِ» قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، شَهِدُوا لِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ - يَعْنِي أَنِّي شَهِيدٌ ثَلَاثًا. (رواه الترمذى والنسائى والدار قطنى)

ثمامہ بن حزم قشیری ؓ سے روایت ہے کہ میں حضرت عثمانؓ کے گھر پر اس وقت حاضر تھا جب انہوں نے بالا خانے کے اوپر سے (اپنے گھر کا محاصرہ کرنے والے باغیوں بلوائیوں سے خطاب کرتے ہوئے) فرمایا: کہ میں تمہیں اللہ کا اور اس کے دین حق اسلام کا واسطہ دے کر تم سے پوچھتا ہوں، کیا تم یہ بات جانتے ہو کہ رسول اللہ ﷺ جب ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لائے تو وہاں بیر رومہ کے علاوہ شیرین پانی کا کنواں نہ تھا (اور وہ ایک یہودی کی ملکیت تھا وہ اس کا پانی جس قیمت پر چاہتا بیچتا تھا) تو رسول اللہ ﷺ نے (ایک دن) ارشاد فرمایا کہ “کون اللہ کا بندہ ہے جو بیر رومہ کو خرید کر سب مسلمانوں کو اس سے پانی لینے کی اجازت دے دے (یعنی عام مسلمانوں کے لئے وقف کر دے) تو اللہ تعالیٰ جنت میں اس کو اس سے بہتر عطا فرمائے گا” تو میں نے اس کو اپنے ذاتی مال سے خرید لیا (اور قف کر دیا) اور آج تم لوگ مجھے اس کا پانی پینے سے روکتے ہو؟ جس کی وجہ سے میں سمندر کا (کھاری) پانی پینے پر مجبور ہوں، تو اس کے جواب میں ان لوگوں نے کہا اللھم نعم (یعنی اے اللہ ہم جانتے ہیں کہ عثمان کی یہ بات صحیح ہے)۔ اس کے بعد حضرت عثمانؓ نے فرمایا کہ میں تمہیں اللہ کا اور اس کے دین حق اسلام کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تم یہ بات جانتے ہو کہ حضور ﷺ کی بنوائی ہوئی مسجد نمازیوں کے لئے تنگ ہو گئی تھی تو حضور ﷺ نے (ایک دن) ارشاد فرمایا “کون اللہ کا بندہ ہے جو فلاں گھرانے کے قطعہ زمین کو (جو مسجد کے برابر میں تھا) خرید کر ہماری مسجد میں شامل کر دے تو اللہ اس کو جنت میں اس سے بہتر قطعہ عطا فرمائے گا” تو میں نے اس کو اپنے ذاتی مال سے خرید لیا (اور مسجد میں شامل کر دیا) اور آج تم لوگ مجھے اس بات سے روکتے ہو کہ میں اس میں دو رکعت نماز پڑھ سکوں؟ ...... تو ان لوگوں نے کہا اللھم نعم (اے اللہ بےشک ہم یہ بات جانتے ہیں کہ حضور ﷺ کے فرمانے پر عثمانؓ نے وہ قطعہ زمین خرید کر مسجد میں شامل کیا تھا) ..... اس کے بعد حضرت عثمانؓ نے ان لوگوں سے فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو کہ میں نے غزوہ تبوک کے لشکر کے لئے اپنے مال سے ساز و سامان کیا تھا؟ ان لوگوں نے کہا اللھم نعم (اے اللہ ہم یہ بات بھی جانتے ہیں) اس کے بعد حضرت عثمانؓ نے ان سے فرمایا کہ میں اللہ کا اور اس کے دین حق اسلام کا واسطہ دے کر تم سے پوچھتا ہوں کہ کیا تمہارے علم میں یہ بات ہے کہ (ایک دن)رسول اللہ ﷺ مکہ کے جبل ثبیر پر تھے، اور آپ ﷺ کے ساتھ ابو بکرؓ و عمرؓ تھے اور میں بھی تھا تو پہاڑ حرکت کرنے لگا یہاں تک کہ اس کے پتھر اوپر سے نیچے کی جانب نشیب میں گرنے لگے، تو آپ ﷺ نے ثبیر پہاڑ پر اپنا قدم مبارک زور سے مارا اور فرمایا “اسْكُنْ ثَبِيرُ” (اے ثبیر ساکن ہو جا) کیوں کہ اس وقت تیرے اوپر ایک نبی ہے اور ایک صدیق ہے اور دو شہید ہیں ..... تو ان لوگوں نے کہا اللهم نعم (خداوندا یہ واقعہ بھی ہمارے علم میں ہے) اس کے بعد حضرت عثمانؓ نے فرمایا اللہ اکبر! ان لوگوں نے بھی گواہی دی، اسی کے ساتھ حضرت عثمانؓ نے فرمایا) قسم ہے رب کعبہ کی کہ میں شہید (ہونے والا) ہوں، یہ آپؓ نے تین دفعہ فرمایا۔ (جامع ترمذی، سنن نسائی، دار قطنی) تشریح حضرت عمر ؓ کی شہادت کے بعد انتخاب خلیفہ کے لئے ان کی بنائی ہوئی مجلس شوریٰ نے حضرت عثمانؓ کو خلیفہ منتخب فرمایا تھا تمام صحابہ مہاجرین و انصارؓ نے ان کو اسی طرح خلیفہ تسلیم کر لیا جس طرح حضرت عمرؓ کو اور اس سے پہلے حضرت ابو بکرؓ کو خلیفہ تسلیم کر لیا تھا ...... قریباً بارہ برس تک آپؓ خلیفہ رہے آپؓ کی خلافت کے آخری سالوں میں آپؓ کے خلاف وہ فتنہ برپا ہوا جس کی پیشن گوئی رسول اللہ ﷺ نے مختلف مواقع پر فرمائی تھی۔ یہ محاصرہ جس کا اس حدیث میں ذکر ہے اس فتنہ کے سلسلہ کی آخری کڑی تھا، محاصرہ کرنے والے مصر اور عراق کے بعض شہروں کے باغی اور بلوائی تھے جن کو فتنہ پردازی کے ماہر ایک منافق یہودی عبداللہ بن سبا نے خفیہ سازشی تحریک کے ذریعہ حضرت عثمانؓ کے خلاف بغاوت پر آمادہ کیا تھا (اس فتنے اور عبداللہ بن سبا کی خفیہ تحریک کی تفصیلات سیر و تاریخ کی کتابوں میں دیکھی جا سکتی ہیں)۔ جیسا کہ حدیث سے معلوم ہوا باغی بلوائیوں کا یہ محاصرہ اتنا شدید ہو گیا تھا کہ حضرت عثمانؓ مسجد شریف آ کر نماز بھی نہیں پڑھ سکتے تھے اور آپؓ کو اور آپ کے گھر والوں کو پینے کا پانی نہیں پہنچ سکتا تھا، ان بلوائیوں کا مطالبہ تھا کہ آپ خلافت سے دستبردار ہو جائیں یعنی خود اپنے آپ کو معزول کر دیں۔ حضرت عثمانؓ رسول اللہ ﷺ کی ایک تاکیدی ہدایت کی بنیاد پر (جس کا ذکر آگے ایک حدیث میں آئے گا) ان لوگوں کے مطالبہ پر خلافت سے از خود دستبردار ہونے کو جائز نہیں سمجھتے تھے، اس کے مقابلہ میں ان باغیوں، بلوائیوں کے ہاتھوں مظلومیت کے ساتھ جان دے دینا اور شہید ہو جانا بہتر سمجھتے تھے۔ معلوم ہے کہ حضرت عثمانؓ اس وقت دنیا کی سب سے بڑی اور طاقتور حکومت کے فرمانروا تھے، اگر ان باغیوں کے خلاف طاقت کے استعمال کرنے کا فیصلہ فرماتے یا اس کی اجازت چاہنے والوں کو اجازت ہی دے دیتے تو یہ بغاوت پوری طرح کچھ دی جاتی لیکن آپ کی فطرت اور طبیعت پر حیا کی طرح حلم کا بھی غلبہ تھا، نیز آپؓ اس کے لئے کسی طرح تیار نہیں تھے کہ آپؓ کی جان کی حفاظت کے لئے کسی کلمہ گو کے خون کا قطرہ زمین پر گرے اس لئے آپؓ نے آخری حد تک افہام و تفہیم کی کوشش کی اور آخر میں اتمام حجت کے طور پر وہ خطاب فرمایا جسے اس حدیث کے راوی ثمامہ ابن حزم قشیریؓ نے بیان فرمایا ہے جنہوں نے یہ خطاب خود اپنے کانوں سے سنا تھا اور محاصرہ کا وہ منظر آنکھوں سے دیکھا تھا ...... آخر میں حدیث کے الفاظ “وَرَبِّ الْكَعْبَةِ يَعْنِي أَنِّي شَهِيدٌ ثَلَاثًا” (رب کعبہ کی قسم! میں شہید ہونے والا ہوں یہ بات آپ نے تین دفعہ فرمائی) سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپؓ کو خداداد ایمانی فراست اور کچھ غیبی اشارات سے (جن کا ذکر بعض روایات میں کیا گیا ہے) یقین ہو گیا تھا کہ یہ فتنہ میری شہادت کا تکوینی انتظام ہے جس کی پیشن گوئی رسول اللہ ﷺ نے مختلف مواقع پر فرمائی تھی، اس لئے آپ نے مظلومانہ شہید ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو جانے کا فیصلہ فرمایا اور مظلومانہ شہادت اور قربانی کی ایک لاثانی مثال قائم کر دی۔ اسی سلسلہ میں وہ حدیث ناظرین کرام عنقریب پڑھیں گے جس سے معلوم ہوگا کہ حضرت عثمان ؓ نے شہید ہونے کے لئے کس طرح تیاری کی تھی۔ حدیث میں حضرت عثمان ؓ کا جو خطاب ذکر فرمایا گیا ہے، اس کے آخر یہ واقعہ بھی بیان فرمایا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور آپؓ کے ساتھ حضرت ابو بکرصدیقؓ اور حضرت عمر فاروقؓ اور حضرت عثمانؓ مکہ کے قریب کے پہاڑ ثبیر پر ایک دن تشریف لے گئے تو پہاڑ میں ایک خاص قسم کی حرکت پیدا ہوئی تو حضور ﷺ نے زور سے قدم مبارک مارا اور فرمایا “اسْكُنْ ثَبِيرُ، فَإِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِيٌّ وَصِدِّيقٌ وَشَهِيدَانِ” (اے ثبیر ساکن ہو جا اس وقت تیرے اوپر اللہ کا ایک نبی ہے، اور ایک صدیق ہے اور دو شہید ہیں) ..... اسی طرح کا واقعہ مدینہ منورہ میں احد پہاڑ پر بھی پیش آیا، جو حضرت انسؓ کی روایت سے صحیح بخاری مین ذکر کیا گیا ہے حدیث کا متن یہ ہے۔

2044Maarif-ul-Hadith

فضائل حضرت عثمان ذو النورین

عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَعِدَ أُحُدًا، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ فَرَجَفَ بِهِمْ، فَضَرَبَهُ بِرِجْلِهِ فَقَالَ: «اثْبُتْ أُحُدُ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِيٌّ، وَصِدِّيقٌ، وَشَهِيدَانِ» (رواه البخارى)

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ (ایک دن) احد پہاڑ پر چڑھے اور ابو بکرؓ و عمرؓ و عثمانؓ (بھی آپؓ کے ساتھ تھے) احد پہاڑ ان کی وجہ سے کانپنے لگا (اور اس میں حرکت پیدا ہو گئی) تو حضور ﷺ نے اپنا قدم مبارک مارا اور فرمایا، اے احد! ٹھہر جا ساکن ہو جا اس وقت تیرے اوپر اللہ کا ایک نبی ہے اور ایک صدیق ہے اور دو شہید ہیں ..... (صحیح بخاری) تشریح بلاشبہ پہاڑ میں حرکت پیدا ہو جانا حضور ﷺ کا معجزہ تھا اور حضرت عمرؓ و حضرت عثمانؓ کو شہید فرمانا یہ آپؓ کا دوسرا معجزہ تھا، حضرت عمر ؓ حضور ﷺ کی وفات کے قریباً بارہ ۱۲ سال بعد شہید ہوئے اور حضرت عثمانؓ قریباً چوبیس ۲۴ سال بعد۔ بلاشبہ ان دونوں حضرات کے شہید ہونے کی اطلاع آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی وحی سے ہی ملی تھی۔

2045Maarif-ul-Hadith

فضائل حضرت عثمان ذو النورین

عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَا عُثْمَانُ إِنَّهُ لَعَلَّ اللَّهَ يُقَمِّصُكَ قَمِيصًا، فَإِنْ أَرَادُوكَ عَلَى خَلْعِهِ فَلاَ تَخْلَعْهُ لَهُمْ. (رواه الترمذى وابن ماجه)

حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (ایک دن) عثمانؓ کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا اے عثمان! امید ہے کہ اللہ تعالیٰ تم کو ایک خاص قمیص پہنائے گا تو اگر لوگ اس قمیص کو تم سے اترواناچاہیں تو ان کے کہنے سے تم اس کو نہ اتارنا۔ (جامع ترمذی و سنن ابن ماجہ) تشریح شارحین حدیث کا اتفاق ہے کہ حضور ﷺ کے ارشاد کا مطلب یہی تھا کہ اے عثمان اللہ تعالیٰ تم کو خلافت کا خلعت عطا فرمائے گا اور پہنائے گا تو اگر لوگ تم سے اس خلعت کو اتروانا چاہیں یعنی اللہ تعالیٰ کے عطا فرمائے ہوئے منصب خلافت سے دستبردار ہو جانے کا مطالبہ کریں تو اس کو نہ ماننا۔ رسول اللہ ﷺ کی یہ ہدایت و وصیت جامع ترمذی ہی میں خود حضرت عثمان ؓ سے بھی روایت کی گئی ہے روایت کا متن یہ ہے۔

2046Maarif-ul-Hadith

فضائل حضرت عثمان ذو النورین

عَنْ أَبِي سَهْلَةَ، قَالَ: قَالَ لِىْ عُثْمَانُ يَوْمَ الدَّارِ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ عَهِدَ إِلَيَّ عَهْدًا فَأَنَا صَابِرٌ عَلَيْهِ. (رواه الترمذى)

ابو سہلہ سے روایت ہے کہ جس دن حضرت عثمانؓ کے گھر کا محاصرہ کیا گیا اور وہ شہید کئے گئے اسی دن حضرت عثمانؓ نے مجھ کو بتلایا تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایک خاص وصیت فرمائی تھی، میں نے صبر کے ساتھ اس وصیت پر عمل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ (جامع ترمذی) تشریح یہ ابو سہلہ حضرت عثمان ؓ کے آزاد کردہ غلام تھے وہ محاصرہ کے وقت حضرت عثمانؓ کے پاس تھے اور دوسرے ہمدردوں اور وفادار رفیقوں کے ساتھ وہ بھی چاہتے تھے کہ باغیوں کے خلاف طاقت استعمال کی جائے، غالباً یہی بات انہوں نے حضڑت عثمانؓ کی خدمت میں عرض کی تھی، جس کے جواب میں حضرت عثمانؓ نے حضور ﷺ کی اس ہدایت اور وصیت کا حوالہ دیا، جو حضرت عائشہ کی مندرجہ بالا حدیث میں ذکر کی جا چکی ہے۔ یہی رسول اللہ ﷺ کی وہ خاص ہدایت اور وصیت تھی جس کی تعمیل کرتے ہوئے حضرت عثمان ؓ باغیوں بلوائیوں کے مطالبہ پر خلافت سے دستبردار ہونے کے لئے تیار نہ ہوئے اور اس کے مقابلہ میں مظلومیت کے ساتھ شہید ہو جانے کا فیصلہ فرمایا جس کی پیشن گوئی کوئی رسول اللہ ﷺ نے مختلف مواقع پر بار بار فرمائی تھی۔

2047Maarif-ul-Hadith

فضائل حضرت عثمان ذو النورین

عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ فِتْنَةً، فَقَالَ: يُقْتَلُ هَذَا فِيهَا مَظْلُومًا يَعْنِىْ عُثْمَانَ. (رواه الترمذى)

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (ایک دن اپنے خطاب میں) ایک عظیم فتنہ کا ذکر فرمایا، اور عثمانؓ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرایا کہ یہ بندہ اس فتنہ میں مظلومیت کے ساتھ شہید ہو گا۔ (جامع ترمذی) تشریح حدیث کا مطلب واضح ہے یہ ارشاد بھی بلاشبہ رسول اللہ ﷺ کے معجزات میں سے ہے کہ آنحضرت ﷺ کی وفات کے چوبیس سال بعد حضرت عثمانؓ کے خلاف جو فتنہ برپا ہونے والا تھا اس فتنہ کی اور اس فتنہ کی اور اس فتنہ میں ان کی مظلومانہ شہادت کی خبر آپ ﷺ نے صحابہ کرام کو دے دی تھی، ظاہر ہے کہ آپ ﷺ کو اس کی اطلاع اللہ تعالیٰ کی وحی سے ہی ہوئی تھی۔

2048Maarif-ul-Hadith

فضائل حضرت عثمان ذو النورین

عَنْ مُسْلِمٍ بْنِ سَعِيدٍ، مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، إِنَّ عُثْمَانَ أَعْتَقَ عِشْرِينَ عَبْدًا وَدَعَا بِسَرَاوِيلَ فَشَدَّهَا عَلَيْهِ، وَلَمْ يَلْبَسْهَا فِي جَاهِلِيَّةٍ، وَلا إِسْلامٍ وَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الْبَارِحَةَ فِي الْمَنَامِ، وَرَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ، وَإِنَّهُمْ قَالُوا لِي: «اصْبِرْ فَإِنَّكَ تُفْطِرُ عِنْدَنَا الْقَابِلَةَ، فَدَعَا بِمُصْحَفٍ فَنَشَرَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقُتِلَ، وَهُوَ بَيْنَ يَدَيْهِ» (رواه ابن احمد والموصلى)

حضرت عثمانؓ کے آزاد کردہ غلام مسلم ابن سعید سے روایت ہے کہ (جس دن حضرت عثمانؓ شہید کئے گئے اس دن) انہوں نے بیس غلام آزاد کئے اور سراویل (پاجامہ) منگوایا (اور پہنا) اور اس کو بہت مضبوط باندھا اور اس سے پہلے کبھی نہ زمانہ جاہلیت میں (یعنی اسلام لانے سے پہلے) پہنا تھا اور نہ اسلام لانے کے بعد کبھی پہنا تھا اور فرمایا کہ میں نے گذشتہ رات خواب میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھا اور آپ ﷺ کے ساتھ ابو بکرؓ و عمرؓ کو بھی، ان حضرات نے مجھ سے فرمایا کہ عثمان! صبر پر قائم رہو تم کل ہمارے پاس روزہ افطار کرو گے۔ اس کے بعد آپؓ نے مصحف (قرآن مجید) منگوایا اور اس کو سامنے رکھ کر کھولا (اور تلاوت شروع کر دی) پھر آپؓ اسی حال میں شہید کئے گئے کہ مصحف آپ کے سامنے تھا۔ (مسند احمد، مسند ابو یعلیٰ، موصلی) تشریح جیسا کہ پہلے بھی ذکر کیا جا چکا ہے کہ حضرت عثمان ؓ کو نور قلب یعنی ایمانی فراست سے اور بعض غیبی اشارات سے یقین ہو گیا تھا کہ باغیوں بلوائیوں کا یہ فتنہ میری شہادت کا تکوینی انتظام ہے، جس کی پیشن گوئی رسول اللہ ﷺ نے مختلف مواقع پر فرمائی تھی اور اس حدیث میں گذری ہوئی رات کے جس خواب کا ذکر ہے، جس میں ان کو رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے صاحبین حضرت ابو بکرؓ و حضرت عمرؓ کی زیارت ہوئی اور انہوں نے فرمایا کہ عثمان! صبر اور تسلیم و رضا کے راستے پر قائم رہو، کل تم ہمارے پاس آ کر روزہ افطار کرو گے، یہ آخری غیبی تلقین تھی جس کے بعد حضرت عثمان ؓ نے اس شہادت کی تیاری شروع فرمائی۔ جس رات کو یہ خواب دیکھا پنجشنبہ اور جمعہ کی درمیانی رات تھی، اگلے دن جمعہ کو آپؓ نے روزہ رکھا مختلف انواع کے اعمال صالحہ کا خاص طور سے اہتمام فرمایا، بیس غلام اس دن آزاد کئے، اور جیسا کہ حدیث میں بیان کیا گیا ہے آپؓ نے پاجامہ منگوایا جو اس سے پہلے کبھی آپؓ نے نہیں پہنا تھا، عرب میں عام طور سے تہبند پہننے کا رواج تھا، آپؓ بھی ہمیشہ تہبند ہی پہنتے تھے، لیکن چونکہ آپؓ پر شرم و حیا کا غلبہ تھا، اس لئے آپؓ نے اس دن بجائے تہبند کے پاجامہ منگوا کر پہنا اور اس کو بہت مضبوط باندھا تا کہ شہادت اور موت کے بعد بھی جسم کا وہ حصہ نہ کھلے جس کا کھلنا شرم و حیا کے خلاف ہے پھر آپؓ نے قرآن شریف منگوایا اور اس کی تلاوت شروع فرما دی اسی حال میں بدبخت ظالم باغیوں نے آپ کو شہید کیا، روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ شہادت کے وقت سورہ بقرہ کا وہ حصہ تلاوت فرما رہے تھے جہاں پاروں کی تقسیم کے لحاظ سے پہلا پارہ الم ختم ہوتا ہے آپؓ کے خون کے قطرے اس آیت پر گرے: فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّـهُ ۚوَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (1) یہ منجانب اللہ اس کا اعلان ہے کہ ان بدبخت ظالموں سے اللہ تعالیٰ پورا انتقام لے گا۔ (یہاں اپنے معمول کے مطابق حضرت عثمان ؓ سے متعلق فضائل و مناقب کی چند حدیثوں کا عام فہم ترجمہ اور صرف بقدر ضرورت تشریح و توضیح کی گئی ہے جیسا کہ پہلے بھی لکھا جا چکا ہے، واقعات کی تفصیل حضرت شاہ ولی اللہ کی “ازالة الخفا” اور سیر و تاریخ کی کتابوں میں دیکھی جا سکتی ہے)۔ حضرت عثمان ؓ کے فضائل کے سلسلہ میں جو حدیثیں یہاں تک درج کی گئیں ان میں ان کی ان دو اہم فضیلتوں کا ذخر نہیں آیا جن میں وہ تمام صحابہ کرام اور خلفائے راشدین میں بھی ممتاز و منفرد ہیں۔ ایک یہ کہ رسول اللہ ﷺ کے یکے بعد دیگرے اپنے دو صاحبزادیوں کا ان کے ساتھ نکاح کیا اسی وجہ سے ان کو ذو النورین کہا جاتا ہے اور دوسری یہ کہ انہوں نے حضور ﷺ کی صاحبزادی اپنی زوجہ محترمہ حضرت رقیہ کے ساتھ دو دفعہ ہجرت فرمائی، پہلی ہجرت مکہ مکرمہ سے حبشہ کی طرف اور دوسری ہجرت مدینہ منورہ کی طرف۔ اب چند وہ حدیثیں نذر ناظرین کی جا رہی ہیں جن میں ان دونوں فضیلتوں کا ذکر ہے۔

2049Maarif-ul-Hadith

فضائل حضرت عثمان ذو النورین

عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَوَّلَ مَنْ هَاجَرَ مِنْ الْمُسْلِمِينَ إلَى الْحَبَشَةِ بِأَهْلِه عُثْمَانُ بْنِ عَفَّانَ فَخَرَجَ وَخَرَجَ مَعَه بِابْنِةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ و سَلَّم فَاحْتَبَسَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ و سَلَّم خَبَرُهُمَا فَجَعَل يَخْرُج يَتَوَكَّف الْأَخْبَارَ فَقَدِمْتْ امْرَأَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ فَسَأَلَهَا فَقَالَت: يَا أَبَا الْقَاسِمِ! رَأَيْتُهُمَا قَالَ عَلَى أَيِّ حَالٍ رَأَيْتُهُمَا؟ قَالَتْ : رَأَيْتهُ وَقَد حَمَلَهَا عَلَى حِمَارٍ مِنْ هَذِه لدَّبَّابَةِ وَهُوَ يَسُوقُ بِهَا يَمْشِيْ خَلْفَهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ و سَلَّم صَحِبَهُمَا اللَّهُ إنْ كَانَ عُثْمَانُ بْنِ عَفَّانَ لأَوَّلَ مَنْ هَاجَرَ إلَى اللَّهِ بِأَهْلِهِ بَعْدَ لُوطٍ (رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِير و الْبَيْهَقِيّ و ابْنُ عَسَاكِرَ)

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ مسلمانوں میں سے جس شخص نے سب سے پہلے حبشہ کی طرف ہجرت کی وہ عثمان بن عفان تھے وہ اپنی اہلیہ محترمہ (رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی حضرت رقیہ ؓ) کو ساتھ لے کر حبشہ کے لئے روانہ ہو گئے (پھر طویل مدت تک) رسول اللہ ﷺ کو ان دونوں کے بارے میں کوئی خبر نہیں ملی تو آپ ﷺ باہر تشریف لے جاتے اور خبر معلوم ہونے کا انتظار فرماتے اور کہیں سے خبر حاصل ہونے کی کوشش فرماتے تو قبیلہ قریش کی ایک خاتون ملک حبشہ سے (مکہ) آئی تو آپ ﷺ نے اس سے (ان کے بارے میں) دریافت فرمایا تو اس نے کہا اے ابو القاسم! میں نے ان دونوں کو دیکھا ہے، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا تم نے ان کو کس حال میں دیکھا تو خاتون نے کہا کہ میں نے عثمانؓ کو دیکھا انہوں نے (آپ ﷺ کی صاحبزادی) رقیہ کو آہستہ چلنے والے ایک حمار پر سوار کر دیا تھا اور وہ خود پیدل پیچھے چل رہے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ان دونوں کے ساتھ رہے (اور ان کی حفاظت فرمائے) اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا کہ (اللہ کے پیغمبر) لوط (علیہ السلام) کے بعد عثمان پہلے شخص ہیں جنہوں نے اپنی بیوی کو ساتھ لے کر اللہ کی طرف ہجرت کی ہے۔(معجم کبیر طبرانی، بیہقی ابن عساکر) تشریح حدیث اور سیر و تاریخ کی روایات کی روشنی میں یہ معلوم و مسلم ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی پہلی زوجہ مطہرہ ام المومنین حضرت خدیجہ ؓ کے بطن سے (باختلاف روایات دو یا تین صاحبزادوں کے علاوہ جو صغر سنی ہی میں وفات پا گئے) آپ کی چار صاحبزادیاں پیدا ہوئیں حضرت زینب، حضرت رقیہ، حضرت ام کلثوم، حضرت فاطمہ۔ (ؓن) حضرت زینب جو سب سے بڑی تھیں ان کا نکاح رسول اللہ ﷺ نے ابو العاص بن الربیع سے کر دیا تھا اور وہ انہی کے ساتھ رہیں (یہاں ان کے بارے میں اس سے زیادہ لکھنا ضروری ہے) اور حضرت رقیہ اور حضرت ام کلثوم کا رشتہ آپ ﷺ کےچچا ابو لہب کے دو بیٹوں عتبہ اور عتیبہ سے ہو گیا تھا، لیکن رخصتی کی نوبت نہیں آئی تھی کہ ابو لہب اور اس کی بیوی (ام جمیل) کی طرف سے رسول اللہ ﷺ کی دعوت توحید کی شدید ترین مخالفت اور آپ ﷺ کی ایذا رسانی پر سورہ لہب نازل ہوئی جس میں ان دونوں میاں بیوی کی بدانجامی کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان فرمایا گیا اس سے طیش میں آ کر ابو لہب اور اس کی بیوی نے اپنے دونوں بیٹوں عتبہ اور عتیبہ پر دباؤ ڈالا کہ رقیہ اور ام کلثوم سے تمہارا جو رشتہ ہو چکا ہے اس کو ختم کر دو، انہوں نے ایسا ہی کیا فی الحقیقت یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انتظام تھا کہ یہ پاک صاحبزادیاں اس ناپاک گھرانے میں نہ جا سکیں۔ (ان ربی) اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں میں سے بڑی بہن رقیہ کا نکاح بحکم خداوندی (جیسا کہ دوسری روایات میں بصراحت موجود ہے) حضرت عثمان بن عفانؓ سے کر دیا جو دعوت اسلام کے ابتدائی دور ہی میں ایمان لا کر آنحضرت ﷺ کے خواص اصحاب و رفقاء میں شامل ہو چکے تھے ..... معلوم ہے کہ دعوت توحید کے ابتدائی دور میں مکہ کے شریر و ظالم اور سنگدل مشرکین کی طرف سے اسلام قبول کرنے والوں پر کیسے کیسے ظلم و ستم ڈھائے جاتے تھے۔ حضور ﷺ کو معلوم تھا کہ ملک حبشہ کا بادشاہ جو دین عیسوی کا پیرو ہے ایک نیک دل اور عادل حکمران ہے اور امید ہے کہ وہاں جو بھی جائے گا امن و امان سے رہ سکے گا تو آپ ﷺ نے ایمان لانے والے اپنے اصحاب کو مشورہ دیا کہ جو لوگ جا سکتے ہوں وہ فی الحال حبشہ چلے جائیں، چنانچہ چند حضرات نے اس کا ارادہ کر لیا، ان میں سب سے پہلے حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والے حضرت عثمانؓ تھے۔ انہوں نے حضور ﷺ کے مشورہ کے مطابق آپ ﷺ کی صاحبزادی اپنی زوجہ محترمہ حضرت رقیہؓ کو بھی ساتھ لے کر حبشہ کی طرف ہجرت فرمائی ..... پھر جیسا کہ حضرت انسؓ کی اس روایت میں بیان کیا گیا ہے رسول اللہ ﷺ کو مدت تک ان دونوں کے بارے میں کوئی خیر خبر نہیں ملی جس سے آپ ﷺ بہت فکر مند رہے اور کوشش فرماتے رہے کہ کسی طرح ان کا حال معلوم ہو ..... تو طویل عرصہ کے بعد قبیلہ قریش کی ایک عورت حبشہ سے مکہ مکرمہ آئی، آپ ﷺ نے اس سے حضرت عثمانؓ اور حضرت رقیہؓ کے بارے میں دریافت فرمایا تو اس نے بتلایا کہ میں نے ان دونوں کو دیکھا ہے۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ کسی حال میں دیکھا ہے اس نے کہا کہ میں نے ان کو اس حالت میں دیکھا ہے کہ عثمانؓ نے اپنی اہلیہ رقیہؓ کو آہستہ آہستہ چلنے والے ایک حمار پر (1) سوار کر دیا تھا اور خود پیدل اس کے پیچھے چل رہے تھے (راقم سطور کا گمان ہے کہ حمار کو آہستہ اس لئے چلایا جا رہا ہو گا کہ حضرت رقیہؓ کو تکلیف نہ ہو) ..... اس قریشی خاتون سے یہ حال معلوم کر کے آنحضرت ﷺ کو اطمینان ہوا اور آپ ﷺ نے دعا فرمائی کہ “صَحِبَهُمَا الله” (ان دونوں کو اللہ تعالیٰ کی معیت اور حفاظت نصیب رہے) اس کے ساتھ آپ ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ اللہ کے پیغمبر لوط علیہ السلام کے بعد عثمان پہلے شخص ہیں جنہوں نے اپنی رفیقہ حیات کو ساتھ لے کر اللہ کی طرف یعنی اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے ہجرت کی، اپنا وطن اپنا گھر بار اور اپنے عزیز و اقارب کو چھوڑا اور محض لوجہ اللہ جلا وطنی اختیار کی ..... اس زمانہ میں مکہ سے حبشہ کی طرف ہجرت کرنا کتنا بڑا مجاہدہ تھا، اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ یہاں یہ ذکر کر دینا بھی مناسب ہے کہ اسلام میں یہ پہلی ہجرت تھی جس کا اس حدیث میں ذکر ہے، اس قافلہ میں چند ہی حضرات تھے، اس کے بعد ایک بڑے قافلہ نے بھی مکہ سے حبشہ کو ہجرت کی۔ ان سب حضرات کا طویل مدت تک حبشہ میں قیام رہا، حضرت عثمانؓ چند برس وہاں قیام کے بعد مکہ مکرمہ واپس آئے، ایسے وقت پہنچے کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ ہجرت فرما چکے تھے تو حضرت عثمانؓ نے بھی اپنی زوجہ مطہرہ حضرت رقیہؓ اور ایک صاحبزادے (عبداللہ کو ساتھ لے کر جو حبشہ میں پیدا ہوئے تھے) مکہ مکرمہ سے مدینہ کو ہجرت کی اس طرح وہ صاحب الهجرتين ہیں اور حضرات خلفاء راشدین میں بھی یہ فضیلت انہی کو حاصل ہے۔ ؓ وارضاہ۔ مدینہ منورہ ہجرت کے دوسرے سال غزوہ بدر پیش آیا انہی دنوں حضرت رقیہؓ بیمار ہو گئیں، جب رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرامؓ بدر کے لئے روانہ ہونے لگے تو حضرت عثمانؓ نے بھی آپ ﷺ کے ساتھ جانا چاہا، حضور ﷺ نے ان سے فرمایا کہ تم رقیہؓ کی تیمارداری کے لئے یہیں رہو ہمارے ساتھ نہ چلو، اللہ تعالیٰ تم کو وہی اجر عطا فرمائے گا جو اس غزوہ کے مجاہدین کو عطا فرمایا جائے گا اور غنیمت میں تمہارا وہی حصہ ہو گا جو غزوہ میں شریک ہونے والے مجاہدین کا ہو گا ...... حضرت عثمانؓ حضور ﷺ کے اس حکم کی وجہ سے غزوہ بدر کے لئے نہیں جا سکے، حضرت رقیہؓ کی تیمارداری میں مصروف رہے ...... لیکن اللہ تعالیٰ کی مشیت اور قضا و قدر کا فیصلہ کہ وہ صحت یاب نہ ہو سکیں حضور ﷺ کی مدینہ واپسی سے پہلے ہی وفات پا گئیں واپسی پر حض ﷺ ر ﷺ کو علم ہوا تو رقیہؓ جیسی لخت جگر کی وفات کا جو صدمہ ہونا چاہئے تھا وہ ہوا اور حضرت عثمانؓ کا جو حال ہوا وہ آئندہ درج ہونے والی حدیث سے معلوم ہو گا۔

2050Maarif-ul-Hadith

فضائل حضرت عثمان ذو النورین

عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ وَهُو مَغْمُوم لَهْفَانٌ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : مَا شَأْنُكَ يَا عُثْمَانُ؟ قَال : بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولُ اللَّه وَأُمِّي ! وَهَلْ دَخَلَ عَلَى أَحَدٍ مِنْ النَّاسِ مَا دَخَلَ عَلَيَّ ، تُوُفِّيَت بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدِي رَحِمَهَا اللَّه وَانْقَطَع الظَّهْرُ وَذَهَبَ الصِّهْرُ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَك إلَى آخِرَ الْأَبَدِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : أَتَقُول ذَالِكَ يَا عُثْمَانُ ؟ قَالَ : إِيْ وَاَللَّهِ ! أَقُولُهُ يَا رَسُولُ اللَّهِ! فَبَيْنَمَا هُو يُحاوِرُه إِذْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُثْمَانَ : هَذَا جِبْرِيلُ يَا عُثْمَانُ! يَأْمُرُنِيْ عَنْ أَمْرِ اللَّهُ أَنْ أُزَوِّجَك أُخْتَهَا أُمِّ كُلْثُومٍ عَلَى مِثْل صِدَاقِهَا وَعَلَى مِثْل عِشْرَتَهَا فَزَوَّجَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إيَّاهَا . (رواه ابن عساكر)

حضرت سعید بن مسیب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عثمانؓ بن عفان سے ملے اور وہ اس وقت بہت ہی غمزدہ اور سخت رنجیدہ تھے تو رسول اللہ ﷺ نے (ان کا یہ حال دیکھ کر) فرمایا عثمان تمہارا یہ کیا حال ہے؟ انہوں نے عرض کیا اے رسول خدا! میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان ہوں کیا کسی شخص پر بھی ایسی مصیبت آئی ہے جو مجھ پر آئی ہے، آپ ﷺ کی صاحبزادی جو میرے ساتھ تھیں (یعنی رقیہ ؓ) وہ وفات پا گئیں اللہ ان پر رحمت فرمائے (اس صدمہ سے) میری کمر ٹوٹ گئی ہے اور آپ ﷺ سے دامادی کے رشتہ کا جو شرف مجھے نصیب تھا اب وہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو گیا (اور میں اس عظیم نعمت اور سعادت سے محروم ہو گیا) تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ عثمان! کیا تم ایسا ہی کہتے ہو (اور تمہیں اسی کا صدمہ اور رنج ہے؟) حضرت عثمانؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں قسم کے ساتھ وہی عرض کرتا ہوں جو میں نے عرض کیا ہے (میرا یہی حال اور یہی احساس ہے) اسی درمیان کے آپ ﷺ عثمانؓ سے یہ گفتگو فرما رہے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ اے عثمان! یہ جبرئیل امین ہیں یہ مجھے اللہ تعالیٰ کا حکم پہنچا رہے ہیں کہ میں اپنی بیٹی مرحومہ رقیہ کی بہن ام کلثوم کا نکاح تم سے کر دوں اسی مہر پر جو رقیہ کا تھا اور اسی کے مثل معاشرت پر اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے عثمانؓ کے ساتھ اپنی بیٹی ام کلثوم کا نکاح کر دیا۔ (ابن عساکر) تشریح حدیث کا مضمون واضح ہے کسی وضاحت کا محتاج نہیں اور متعدد دوسری روایات سے اس کی تائید بھی ہوتی ہے ..... اس حدیث کے بارے میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس کے راوی سعید بن المسیب تابعی ہی ظاہر ہے کہ یہ حدیث ان کو کسی صحابی سے پہنچی ہو گی جن کا انہوں نے حوالہ نہیں دیا، ایسی حدیث کو محدثین کی اصطلاح میں مرسل کہا جاتا ہے۔ لیکن سعید بن المسیب ان جلیل القدر تابعین میں سے ہیں جن کی اس طرح کی مرسل روایات مستند اور قابل قبول ہیں اور جیسا کہ عرض کیا گیا دوسری متعدد روایات سے اس حدیث کے مضمون کی تائید ہوتی ہے۔

2051Maarif-ul-Hadith

فضائل حضرت عثمان ذو النورین

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى أَوْحَى إِلَيَّ أَنْ أُزَوِّجَ كَرِيمَتَيَّ مِنْ عُثْمَانَ. (رواه ابن عدى والدار قطنى وابن عساكر)

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ نے مجھے بذریعہ وحی حکم دیا کہ میں اپنے دونوں عزیز بیٹیوں کا نکاح عثمان سے کروں۔ (ابن عدی، دار قطنی، ابن عساکر) تشریح اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عثمانؓ کے ساتھ پہلے اپنی صاحبزادی حضرت رقیہؓ کا نکاح بھی اللہ تعالیٰ کے حکم ہی سے کیا تھا اور ہجرت کے دوسرے سال ان کی وفات کے بعد دوسری صاحبزادی حضرت ام کلثومؓ کا نکاح بھی آپ ﷺ نے حضرت عثمانؓ کے ساتھ وحی کے ذریعہ ملنے والے خداوندی حکم سے ہی کیا۔