حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، قَالَ: أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ، فَكَلَّمَتْهُ فِي شَيْءٍ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَيْهِ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ جِئْتُ وَلَمْ أَجِدْكَ كَأَنَّهَا تُرِيدُ المَوْتَ، قَالَ: «إِنْ لَمْ تَجِدِينِي، فَأْتِي أَبَا بَكْرٍ» (رواه البخارى ومسلم)
حضرت جبیر بن مطعم ؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کسی چیز اور کسی معاملہ کے بارے میں اس نے حضور ﷺ سے گفتگو کی، آپ ﷺ نے اس کو فرمایا کہ پھر (بعد میں کبھی) آیا، اس عورت نے عرض کیا کہ یہ بتلائیے کہ اگر میں آئندہ آؤں اور آپ کو نہ پاؤں؟ ..... حدیث کے راوی جبیر بن مطعم کہتے ہیں کہ غالباً اس عورت کا مطلب یہ تھا کہ اگر میں آئندہ آؤں اور حضور ﷺ دنیا سے رحلت فرما چکے ہوں، تو میں کیا کروں؟ ..... تو آپ نے فرمایا کہ اگر تم مجھے نہ پاؤ تو ابو بکرؓ کے پاس آ جانا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ عورت مدینہ منورہ سے دور کے کسی مقام کی رہنے والی تھی، اس نے حضور ﷺ سے چاید کچھ طلب کیا تھا جو آپ اس وقت عنایت نہ فرما سکے یہ فرما دیا کہ آئندہ کبھی پھر آنا .... اس نے عرض کیا کہ اگر آئندہ میں آؤں اور آپ کو نہ پاؤں آپ دنیا سے رحلت فرما چکے ہوں تو میں کیا کروں؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ اس صورت میں تم ابو بکرؓ کے پاس آنا ..... اس حدیث میں آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد متصلاً بلا فصل حضرت ابو بکرؓ کے خلیفہ ہونے کی طرف کھلا اشارہ ہے۔
حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ يَنْبَغِي لِقَوْمٍ فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَؤُمَّهُمْ غَيْرُهُ. (رواه الترمذى)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: کسی قوم (کسی ایسی جماعت اور گروہ) کے لئے جس میں ابو بکر موجود ہوں درست اور مناسب نہیں ہے کہ ابو بکرؓ کے سوا کوئی دوسرا شخص ان کا امام ہو۔ (جامع ترمذی)
تشریح
یہ حدیث کسی تشریح کی محتاج نہیں، اس کا صریح مقتضی اور مفاد یہ ہے کہ امت میں جب تک ابو بکرؓ رہیں اہل ایمان انہیں کو اپنا امام بنائیں، ان کے سوا کسی کو امام بنانا صحیح نہ ہو گا، بلاشبہ یہ بھی رسول اللہ ﷺ کے ان ارشادات میں سے ہے جن کے ذریعہ حضور ﷺ نے اپنے بعد کے لئے حضرت ابو بکرؓ کی خلافت کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔
حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ
عَن ابْنِ عُمَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: «أَنْتَ صَاحِبِي فِي الْغَارِ وصاحبي على الْحَوْض» . (رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ، راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابو بکرؓ سے سے ارشاد فرمایا کہ: تم غار میں میرے ساتھی تھے اور آخرت میں حوض کوثر پر بھی میرے ساتھی ہو گے۔ (جامع ترمذی)
تشریح
معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب مکہ معظمیہ سے ہجرت فرمائی تو تین (۳) دن تک مکہ مکرمہ کے قریب ثور پہاڑ کے ایک غار میں روپوش رہے تھے، اس غار میں حضرت ابو بکرؓ ہی آپ کے ساتھ تھے ہجرت کے اس سفر میں اور خاص کر اس غار میں حضور ﷺ کے ساتھ رہنا (جس میں آخری حد تک کے خطرات تھے) وفاداری اور فدائیت کا بےمثال عمل تھا، اسی لئے حضور ﷺ نے خاص طور سے اس کو یاد رکھا (قرآن مجید میں بھی اس کا ذکر فرمایا گیا ہے “ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّـهَ مَعَنَا” سورہ توبہ آیت نمبر ۴۰) اردو زبان میں یار غار کا لفظ قرآن پاک کی اسی آیت اور رسول اللہ ﷺ کے اس سلسلہ کے ارشادات ہی سے آیا ہے۔ غار کی اس تین روزہ رفاقت میں حضرت ابو بکرؓ نے جس فدائیت کا ثبوت دیا اس کا کچھ حال آگے درج ہونے والے حضرت عمرؓ کے ایک بیان سے معلوم ہو گا۔
حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَانِي جِبْرِيلُ فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَرَانِي بَابَ الْجَنَّةِ الَّذِي تَدْخُلُ مِنْهُ أُمَّتِي» فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ مَعَكَ حَتَّى أَنْظُرَ إِلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَمَا إِنَّكَ يَا أَبَا بَكْرٍ أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي» (رواه ابوداؤد)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: جبرئیل امین میرے پاس آئے، میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے جنت کا وہ دروازہ کھلایا جس سے میری امت کا جنت میں داخلہ ہو گا۔ ابو بکرؓ نے (حضور ﷺ سے یہ سن کر عرض کیا کہ) حضور ﷺ! میرے دل میں یہ آرزو پیدا ہوئی کہ میں بھی اس وقت حضور ﷺ کے ساتھ ہوتا اور میں بھی اس دروازہ کو دیکھتا ..... رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ابو بکر تم کو معلوم ہونا چاہئے کہ میری امت میں سب سے پہلے تم جنت میں داخل ہو گے۔ (سنن ابی داؤد)
تشریح
اس حدیث میں حضور ﷺ نے یہ واقعہ بیان فرمایا ہے کہ جبرائیل امین آئے اور میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ لے گئے اور جنت کا وہ دروازہ کھلایا جس سے میری امت جنت میں داخل ہو گی ..... ہو سکتا ہے کہ یہ واقعہ شب معراج کا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ کسی دوسرے موقع پر جبرائیل بحکم خداوندی حضور ﷺ کو جنت کا وہ دروازہ کھانے کے لئے لے گئے ہوں، یہ معراج کی طرح کا ملا اعلیٰ کا سفر بھی ہو سکتا ہے اور مکاشفہ بھی ہو سکتا ہے۔ بہرحال جب حضرت ابو بکرؓ نے آپ ﷺ سے یہ سن کر عرض کیا کہ حضرت میرے دل میں آرزو پیدا ہوئی کہ کسش میں بھی اس وقت آپ کے ساتھ ہوتا اور میں بھی جنت کا وہ دروازہ دیکھتا تو حضور ﷺ نے ان کو بشارت سنائی کہ تم جنت کا دروازہ دیکھنے کی آرزو کرتے ہو میں تم کو اس سے بڑی خداوندی نعمت کی خوشخبری سناتا ہوں، یقین کرو کہ میری امت میں سب سے پہلے جنت میں تم داخل ہو گے، بلاشبہ یہ اس کی روشن دلیل ہے کہ امت میں سب سے افضل اور عالی مرتبت حضرت ابو بکر صدیق ہی ہیں۔ ؓ وارضاہ۔
حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ
عَنْ عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ، قَالَ: أَبُو بَكْرٍ سَيِّدُنَا وَخَيْرُنَا وَأَحَبُّنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. (رواه الترمذى)
حضرت عمر ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ابو بکرؓ ہمارے سید (سردار) ہیں، ہم میں سب سے بہتر و افضل ہیں اور رسول اللہ ﷺ کو ہم میں سب سے زیادہ محبوب ہیں (یعنی ان کو حضور ﷺ کی محبوبیت کا جو مقام حاصل ہے وہ ہم میں سے کسی کو حاصل نہیں)۔
تشریح
حضرت ابو بکرؓ کی فضیلت اور بلند مقامی کے بارے میں یہ حضرت عمرؓ کا بیان ہے، جس کی بنیاد رسول اللہ ﷺ کے ارشادات اور ان کے ساتھ آپ ﷺ کے طرز عمل کے مشاہدہ پر ہے۔
حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ
عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الحَنَفِيَّةِ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: «أَبُو بَكْرٍ»، قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: «ثُمَّ عُمَرُ»، وَخَشِيتُ أَنْ يَقُولَ عُثْمَانُ، قُلْتُ: ثُمَّ أَنْتَ؟ قَالَ: «مَا أَنَا إِلَّا رَجُلٌ مِنَ المُسْلِمِينَ» (رواه البخارى)
حضرت محمد بن حنفیہ سے روایت ہے بیان فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد ماجد (حضرت علی مرتضیٰ ؓ) سے دریافت کیا کہ امت میں رسول اللہ ﷺ .... کے بعد سب سے بہتر و افضل کون ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ ابو بکر۔ میں نے کہا ان کے بعد کون؟ تو انہوں نے فرمایا کہ عمرؓ..... (محمد بن الحنفیہ کہتے ہیں) پھر مجھے خطرہ پیدا ہوا کہ (اگر میں اسی طرح دریافت کروں کہ عمر کے بعد کون؟) تو یہ نہ کہہ دیں کہ عمرؓ کی بعد عثمان (اس لئے میں نے سوال اس طرح کیا) پھر عمر کے بعد آپ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ ابو بکر۔ کہ میں اس کے سوا کچھ نہیں کہ مسلمانوں میں کا ایک آدمی ہوں۔ (صحیح بخاری)
تشریح
محمد بن الحنفیہ حضرت علیؓ کے صاحبزادے ہیں حضرت فاطمہ زہرا ؓ کے بطن سے نہیں بلکہ حضرت علیؓ کے حرم میں داخل ایک دوسری خاتون حنفیہ سے جن کا اصل نام خولہ تھا اپنے قبیلہ کی نسبت سے حنفیہ کے نام سے معروف ہیں حضرت صدیق اکبرؓ کے زمانہ خلافت میں نبوت کے جھوٹے مدعی مسیلمہ کذاب اور اس کے ساتھیوں سے جو کہاد ہوا تو فتح کے بعد جنگی قانون کے مطابق جو مرد اور عورتیں گرفتار ہو کر آئے ان میں یہ خولہ بھی تھیں، یہ حضرت علیؓ کے حوالہ کر دی گئیں اور ان کے حرم میں داخؒ ہو گئیں۔ محمد بن الحنفیہ انہی کے بطن سے حضرت علیؓ کے صاحبزادے ہیں۔ علم اور صلاح و تقویٰ اور دوسری صفات کمال کے لحاظ سے بلند مقام تابعین میں سے ہیں۔ انہی کا یہ بیان ہے کہ میں نے والد ماجد حضرت علی مرتضیٰؓ سے دریافت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد امت میں کون افضل ہے؟ تو انہوں نے پہلے نمبر پر حضرت ابو بکر صدیقؓ کا اور دوسرے نمبر پر حضرت عمرؓ کا نام لیا اور اپنے بارے میں فرمایا کہ میں اس کے سوا کچھ نہیں کہ مسلمانوں میں کا ایک آدمی ہوں۔ ظاہر ہے کہ حضرت علیؓ نے یہ بطور تواضع و انکسار، فرمایا، ورنہ امت میں اس وقت سب سے افضل خود حضرت علی مرتضیٰؓ ہی تھے، حضرت عثمانؓ اس سے پہلے شہید کئے جا چکے تھے ..... یہ روایت تو محمد بن الحنفیہ کی ہے۔ محدثین کے نزدیک حضرت علی مرتضیٰ ؓ سے یہ روایت تواتر کے ساتھ ثابت ہے کہ آپ فرماتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد امت میں سب سے افضل اور بلند مرتبہ حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ ہیں اور یہ کہ جو کوئی مجھے ان دونوں سے افضل قرار دے گا میں اس پر حد (شرعی سزا) جاری کروں گا۔
حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «كُنَّا فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لاَ نَعْدِلُ بِأَبِي بَكْرٍ أَحَدًا، ثُمَّ عُمَرَ، ثُمَّ عُثْمَانَ، ثُمَّ نَتْرُكُ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لاَ نُفَاضِلُ بَيْنَهُمْ» (رواه البخارى)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے فرماتے تھے کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ابو بکر کے برابر کسی کو نہیں سمجھتے تھے، ان کے بعد عمرؓ، ان کے بعد عثمان۔ پھر ہم رسول اللہ ﷺ کے تمام اصحاب کو چھوڑ دیتے تھے، ان کے درمیان ایک کو دوسرے پر فضیلت نہیں دیتے تھے۔ (صحیح بخاری)
تشریح
حضرت عبداللہ بن عمرؓ کا مطلب بہ ظاہر یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں حضور ﷺ کا طرز عمل دیکھ کر ہم یہ سمجھتے تھے کہ سب سے افضل حضرت ابو بکرؓ ہیں، ان کے بعد حضرت عمرؓ، ان کے بعد حضرت عثمانؓ، یہ تینوں حضرات سن رسیدہ تھے، اہم امور میں حضور ﷺ اکثر ان ہی سے مشورہ فرماتے تھے، اگرچہ ان تین حضرات کے بعد وہ بلاشبہ امت میں سب سے افضل ہیں اور بعض خصوصیات میں بہت اعلیٰ و بالا ہیں۔
یہ بات بھی قابل لحاظ رہے کہ حضرت ابن عمرؓ کا یہ بیان شخصیات کے بارے میں ہے، طبقات اور صفات کے لحاظ سے صحابہ کرامؓ میں جو درجات و مراتب کا فرق ہے اس سے حضرت ابن عمرؓ نے تعرض نہیں کیا ہے ..... مثلاً عشرہ مبشرہ، اصحاب بدر اور اصحاب بیعت رضوان، سابقین اولین من المہاجرین والانصار (ؓ اجمعین) حضرت ابن عمرؓ کے اس بیان میں ان کے فضائل کی نفی نہیں ہے، انہوں نے جو فرمایا اس کا تعلق، اس خاص فضیلت سے ہے جو ان تین بزرگوں کو حضور ﷺ کے زمانہ میں حاصل تھی۔ واللہ اعلم۔
حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ
عَنْ عُمَرَ قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَتَصَدَّقَ، وَوَافَقَ ذَلِكَ مَالًا عِنْدِي، فَقُلْتُ: الْيَوْمَ أَسْبِقُ أَبَا بَكْرٍ إِنْ سَبَقْتُهُ يَوْمًا. قال: فَجِئْتُ بِنِصْفِ مَالِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَبْقَيْتَ لِأَهْلِكَ؟» قُلْتُ: مِثْلَهُ، قَالَ: فَأَتَى أَبُو بَكْرٍ بِكُلِّ مَا عِنْدَهُ. فَقَالَ: «يَا أَبَا بَكْرٍ مَا أَبْقَيْتَ لِأَهْلِكَ؟» فَقَالَ: أَبْقَيْتُ لَهُمُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ. قُلْتُ: لَا أُسَابِقُكَ إِلَى شَيْءٍ أَبَدًا. (رواه الترمذى وابوداؤد)
حضرت عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم لوگوں کو صدقہ کرنے (یعنی راہ خدا میں مال پیش کرنے) کا حکم فرمایا اور یہ حکم ایسے وقت فرمایا جب کہ (حسن اتفاق سے) میرے پاس مال بڑی مقدار میں تھا تو میں نے (اپنے دل میں) کہا کہ اگر میں کبھی ابو بکر سے آگے نکل سکتا ہوں تو آج آگے نکل جاؤں گا (حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ) میں گھر آیا اور گھر میں جو کچھ مال تھا میں نے اس میں سے پورا آدھا لا کر حضو ر ﷺ کی خدمت میں پیش کر دیا۔ آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ تم نے اپنے اہل و عیال کے لئے کیا باقی چھوڑا ہے۔ میں نے عرض کیا (جتنا یہ لے کر آیا ہوں اتنا ہی گھر والوں کے لئے باقی چھوڑا ہے۔ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں اور ابو بکرؓ وہ سب کچھ لے آئے جو ان کے پاس تھا تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ ابو بکر اپنے اہل و عیال کے لئے کیا باقی چھوڑا۔ انہوں نے عرض کیا کہ گھر والوں کے لئے میں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو باقی چھوڑا ہے(حضرت عمرؓ کہتے ہیں) میں نے (اپنے دل سے) کہا کہ میں کبھی بھی کسی چیز میں ابو بکرؓ سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔ (جامع ترمذی و سنن ابی داؤد)
تشریح
ہو سکتا ہے کہ حضرت عمرؓ جو اپنی کل دولت کا نصف لائے تھے، وہ مقدار میں حضرت ابو بکر کے لائے ہوئے سے زیادہ ہو مگر حضرت ابو بکرؓ کا یہ عمل اور حال کہ انہوں نے گھر والوں کے لئے کچھ بھی نہ چھوڑا بس اللہ و رسول پر ایمان اور ان کی رضا جوئی کو سب کچھ سمجھ کر اس پر قناعت کر لی بلاشبہ یہ مقام بہت بلند ہے۔
حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ
عَنْ عُمَرَ ذُكِرَ عِنْدَهُ أَبُو بَكْرٍ فَبَكَى وَقَالَ: وَدِدْتُ أَنَّ عَمَلِي كُلَّهُ مِثْلُ عَمَلِهِ يَوْمًا وَاحِدًا مِنْ أَيَّامِهِ وَلَيْلَةً وَاحِدَةً مِنْ لَيَالِيهِ أَمَّا لَيْلَتُهُ فَلَيْلَةٌ سَارَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْغَار فَلَمَّا انتهينا إِلَيْهِ قَالَ: وَاللَّهِ لَا تَدْخُلُهُ حَتَّى أَدْخُلَ قَبْلَكَ فَإِنْ كَانَ فِيهِ شَيْءٌ أَصَابَنِي دُونَكَ فَدَخَلَ فَكَسَحَهُ وَوَجَدَ فِي جَانِبِهِ ثُقْبًا فَشَقَّ إزَاره وسدها بِهِ وَبَقِي مِنْهَا اثْنَان فألقمها رِجْلَيْهِ ثُمَّ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ادْخُلْ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوُضِعَ رَأسه فِي حجره وَنَامَ فَلُدِغَ أَبُو بَكْرٍ فِي رِجْلِهِ مِنَ الْجُحر وَلم يَتَحَرَّك مَخَافَة أَن ينتبه رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَقَطَتْ دُمُوعُهُ عَلَى وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَا لَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ؟» قَالَ: لُدِغْتُ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي فَتَفِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَهَبَ مَا يَجِدُهُ ثُمَّ انْتَقَضَ عَلَيْهِ وَكَانَ سَبَبَ مَوْتِهِ وَأَمَّا يَوْمُهُ فَلَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْتَدَّتِ الْعَرَبُ وَقَالُوا: لَا نُؤَدِّي زَكَاةً. فَقَالَ: لَوْ مَنَعُونِي عِقَالًا لَجَاهَدْتُهُمْ عَلَيْهِ. فَقُلْتُ: يَا خَلِيفَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَأَلَّفِ النَّاسَ وَارْفُقْ بِهِمْ. فَقَالَ لِي: أَجَبَّارٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَخَوَّارٌ فِي الْإِسْلَامِ؟ إِنَّهُ قَدِ انْقَطَعَ الْوَحْيُ وَتَمَّ الدِّينُ أَيَنْقُصُ وَأَنا حَيّ؟ (رَوَاهُ رزين)
حضرت عمر ؓ سے روایت ہے کہ ان کے سامنے حضرت ابو بکرؓ کا ذکر کیا گیا تو رونے لگے اور کہا کہ میں دل سے چاہتا ہوں کہ میرے تما عمر کے عمل ان کے ایام زندگی کے ایک دن کے عمل کے برابر اور ان کی زندگی کی راتوں میں سے ایک رات کے عمل کے برابر ہو جائیں (یعنی مجھ کو میری زندگی بھر کے اعمال کا اللہ تعالی وہ اجر عطا فرما دیں جو ابوبکرؓ کے ایک دن اور ایک رات کے عمل کا عطا ہوگا اس کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ ابوبکرؓ کی رات سے میری مراد وہ خاص رات ہے جب وہ حضور ﷺ کے ساتھ ہجرت کے سفر میں (اپنے سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق روپوشی کے ارادہ سے) غار (یعنی غارثور) کی طرف چلے تو جب غار کے پاس پہنچے (اور حضرت ﷺ نے غار کے اندر جانا چاہا) تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ خدا کی قسم آپ ابھی غار میں داخل نہ ہوں پہلے میں غار کے اندر جاؤں گا تو اگر وہاں کوئی موذی چیز ہوگی (مثلا درندہ یا سانپ بچھو جیسا زہریلا جانور) تو جو گزرے گی مجھ پر گزرے گی آپ محفوظ رہیں گے پھر ابوبکر غار کے اندر چلے گئے اس کی صفائی کی اس غار میں ایک طرف چند سوراخ نظر آئے تو اپنے تہہ بند میں سے پھاڑ کر اس کے ٹکڑوں اور چیتھڑوں سے ان سوراخوں کو بند کیا۔ لیکن دو سوراخ باقی رہ گئے (تہبند میں سے جو کچھ پھاڑا تھا اس میں سے اتنا باقی نہیں رہا کہ ان دو سوراخوں کو بھی بند کیا جا سکتا) تو ابوبکرؓ نے ان دو سوراخوں میں اپنے دونوں پاؤں اڑا دیئے اس کے بعد حضور ﷺ سے عرض کیا کہ اب آپ اندر تشریف لے آئیں تو حضور ﷺ غار کے اندر تشریف لے گئے (رات کا بڑا حصہ گزر چکا تھا حضور ﷺ پر نیند کا غلبہ تھا) آپ ﷺ ابوبکرؓ کی گود میں سر مبارک رکھ کر سو گئے (اسی حالت میں) ابوبکرؓ کے پاؤں میں سانپ نے کاٹ لیا (اگرچہ اس کے زہر سے حضرت ابوبکرؓ کو سخت تکلیف ہونے لگی) لیکن اس اندیشہ سے کہ حضور ﷺ کی آنکھ نہ کھل جائے آپ بیدار نہ ہو جائیں اسی طرح بیٹھے رہے حرکت بھی نہیں کی یہاں تک کہ تکلیف کی شدت سے ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور حضور ﷺ کے چہرہ مبارک پر گرے (تو حضور ﷺ کی آنکھوں کھل گئی آپ ﷺ نے ابوبکرؓ کی آنکھوں سے آنسو بہتے دیکھے تو) دریافت فرمایا کہ ابوبکرؓ تم کو کیا ہوا انہوں نے عرض کیا کہ آپ ﷺ پر میرے ماں باپ قربان مجھے سانپ نے کاٹ لیا آپ ﷺ نے (اسی جگہ پر جہاں سانپ نے کاٹا تھا) اپنا آب دہن ڈال دیا تو ابوبکرؓ کو جو تکلیف ہو رہی تھی وہ اسی وقت چلی گئی (آگے حضرت عمرؓ بیان فرماتے ہیں) پھر (ابوبکرؓ کی وفات سے کچھ پہلے) اس زہر کا اثر لوٹ آیا اور وہی ان کی وفات کا سبب بنا (اس طرح انکو شہادت فی سبیل اللہ کی سعادت و فضیلت بھی نصیب ہو گئی) اور یہ ایسا ہی ہوا جیسا کہ خیبر میں کھائے ہوئے زہر کا اثر قریبا چار سال کے بعد حضور ﷺ کی وفات کے قریب لوٹ آیا تھا اور وہی آپ ﷺ کی وفات کا سبب بنا تو حضرت عمرؓ نے حضرت ابوبکرؓ کے سفر ہجرت کی اس رات کے اس عمل کا ذکر فرمایا اس کے بعد اس دن کا اوراس دن کے حضرت ابوبکرؓ کے اس عمل کا ذکر فرمایا جس کے بارے میں انہوں نے کہا تھا کہ میں دل سے چاہتا ہوں کہ میرے ساری عمر کے اعمال ان کے ایک دن کے عمل کے برابر ہو جائیں اس سلسلہ میں حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ دن سے مراد ابوبکرؓ کی زندگی کا وہ دن ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ وفات فرما گئے اور عرب (کے بعض علاقوں کے لوگ) مرتد ہوگئے اور انہوں نے فریضہ زکات ادا کرنے سے انکار کردیا تو ابوبکر نے کہا کہ اگر وہ لوگون کا پاؤں باندھنے کی رسی (1) دینے سے بھی انکار کریں گے تو میں ان کے خلاف جہاد کروں گا (حضرت عمر کہتے ہیں کہ) میں نے کہا اے خلیفہ رسول اللہ (اس وقت ان لوگوں کے ساتھ تالیف اور نرمی کا معاملہ کیجئے تو انہوں نے (غصہ کے ساتھ) مجھے فرمایا کہ تم زمانہ جاہلیت میں تو بڑے زور آور اور غصہ ور تھےکیا اسلام کے دور میں بزدل اور ڈرپوک ہو گئے ہو (یہ کیسا انقلاب ہے) وحی کا سلسلہ (حضور ﷺ کی وفات کے بعد) ختم ہو گیا، دین مکمل ہو چکا۔ کیا دین کو ناقص کیا جائے اس میں کمی کی جائے گی اس حال میں کہ میں زندہ ہوں۔ (یہ نہیں ہو سکتا)۔ (رزین)
تشریح
حدیث کا مطلب سمجھنے کے لئے جس قدر تشریح و توضیح کی ضرورت تھی وہ ترجمہ کے ضمن میں کر دی گئی ہے، البتہ حضرت عمرؓ نے اپنے اس بیان میں مرتدین کے خلاف جہاد سے متعلق حضرت ابو بکرؓ کے جس پُر عزیمت فیصلہ اور اقدام کا ذکر کیا ہے اور اس سلسلہ میں انکار جو خاتمہ کلام نقل فرمایا ہے (اينقص الدين وانا حى) اس کی تشریح اور وضاحت کے سلسلہ میں کچھ عرض کرنا ضروری ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات سے اسلام اور مسلمانوں کے لئے عام اسباب کے لحاظ سے بڑی خطرناک صورت حال پیدا ہو گئی تھی حضور ﷺ کا سایہ سر سے اٹھ جانے کی وجہ سے جو شکستہ دلی عام صحابہ میں پیدا ہو گئی تھی اس کا اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے .... علاوہ ازیں رسول اللہ ﷺ نے مرض وفات ہی میں حضرت اسامہ کی .... قیادت میں ایک بڑی مہم پر ایک لشکر کی روانگی کا حکم دیا تھا۔
حضور ﷺ کی وفات کے بعد صدیق اکبرؓ نے فیصلہ فرمایا کہ آنحضرت کے حکم کے مطابق یہ لشکر بلاتاخیر روانہ ہو جائے، چنانچہ وہ روانہ ہو گیا اس طرح اس وقت کی فوجی طاقت کا ایک بڑا حصہ اس محاذ پر چلا گیا اس کے علاوہ حجاز مقدس کے قریب علاقے یمامہ میں مسیلمہ کذاب نے حضور ﷺ کے آخری دور حیات ہی میں نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور کچھ قبیلے اس کے ساتھ ہو گئے تھے، اس طرح ایک حکومت سی قائم ہو گئی تھی۔
صدیق اکبرؓ نے حضور ﷺ کی وفات کے بعد فوراً فیصلہ فرمایا کہ اس فتنہ کو بھی جلد سے جلد ختم کیا جائے، چنانچہ خالد بن الولید کی قیادت میں اس کے لئے بھی ایک لشکر کی روانگی کا حکم دیا۔ انہی حالات میں حجاز ہی کے بعض علاقوں کے لوگوں نے (جو نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے تھے) زکوٰۃ کی ادائیگی سے اجتماعی طور پر انکار کر دیا، صدیق اکبرؓ نے اس کو ارتداد قرار دیا اور اس کے خلاف بھی جہاد اور لشکر کشی کا فیصلہ فرمایا اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ اس وقت کی ساری فوجی طاقت ان محاذوں پر چلی جاتی اور مرکز اسلام مدینہ منورہ کا حال یہ ہو جاتا کہ اگر کوئی دشمن حملہ کر دے یا آس پاس کے منافقین کوئی فتنہ برپا کر دیں تو اس کی مدافعت اور اس پر قابو پانے کے لئے فوجی طاقت موجود نہ ہو۔
اس لئے حضرت عمرؓ اور روایات میں ہے کہ ان کے ساتھ حضرت علیؓ کی بھی رائے تھی کہ صورت حال کی نزاکت کے پیش نظر اس وقت زکوٰۃ کی ادائیگی سے انکار کرنے والوں کے خلاف جہاد اور لشکر کشی نہ کی جائے، مصلحت اندیشی اور حکمت عملی کے طور پر ان کے معاملہ میں تالیف اور نرمی کا رویہ اختیار کیا جائے، لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت ابو بکرؓ کے دل میں یقین پیدا فرما دیا تھا کہ اس فتنہ ارتداد کا استیصال فوراً ضروری ہے، کسی مصؒحت اندیشی کے تحت اس کو نظر انداز کرے کی کوئی گنجائش نہیں ہے، زکوٰۃ دین کا اہم رکن ہے نماز ہی کی طرح گویا جزو ایمان ہے، اس کی ادائیگی سے انکار کو برداشت کرنے کا مطلب دین کی قطع و برید برداشت کرنا ہو گا آپ نے فرمایا دین مکمل ہو چکا ہے، وحی کا سلسلہ خمت اور منقطع ہو چکا ہے، رسول اللہ ﷺ نے دینی کو جس شکل و صورت میں چھوڑا ہے، اپنی جان دے کر بھی اس کی حفاظت کرنا ہمارا فرض ہے۔
اس سلسلہ کلام کے آخر میں آپ نے فرمایا “أَيَنْقُصُ الدِّيْنُ وَاَنَا حَىٌّ” صدیق اکبرؓ کے ان دو لفظوں سے دین کے ساتھ ان کے جس خاص الخاص عاشقانہ تعلق اور اس کی راہ میں قربانی اور فدائیت کے جس جذبہ کا اظہار ہوتا ہے، راقم سطور اپنی اردو زبان میں اس کے ادا کرنے سے عاجز ہے۔
اس واقعہ میں یہ نکتہ خاص طور سے قابل غور اور ہمارے لئے سبق آموز ہے کہ حضرت عمرؓ کی رائے حضرت ابو بکرؓ کے اس فیصلہ اور اقدام کے خلاف تھی بعد میں وہی فیصلہ ان کی نظر میں اتنا عظیم ہو گیا کہ اپنے زندگی بھر کے اعمال کو وہ حضرت ابو بکرؓ کے اسی ایک عمل سے کمتر سمجھنے لگے، اور اس کا برملا اعتراف فرمایا۔ رضى الله تعالى عنهما وارضاهما۔
فضائل فاروق اعظمؓ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَقَدْ كَانَ فِيمَا قَبْلَكُمْ مِنَ الأُمَمِ مُحَدَّثُونَ، فَإِنْ يَكُ فِي أُمَّتِي أَحَدٌ فَإِنَّهُ عُمَرُ. (رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم سے پہلی امتوں میں محدث یعنی ایسے لوگ ہوتے تھے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام کی نعمت سے خاص طور پر نوازے جاتے تھے، تو اگر میری امت میں سے کسی کو اس نعمت سے خاص طور پر نوازا گیا تو وہ عمر ہیں۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
رسول اللہ ﷺ کے خلیفہ اول سیدنا ابو بکر صدیق ؓ کے فضائل و مناقب سے متعلق حدیثیں ناظرین کرام ملاحظہ فرما چکے، ان میں رسول اللہ ﷺ کے ارشادات بھی تھے اور بعض جلیل القدر صحابہ کرام کے بیانات بھی اب آپ کے خلیفہ دوم فاروق اعظم ؓ سے متعلق چند احادیث درج کی جا رہی ہیں، ان میں بھی حضور ﷺ کے ارشادات کے علاوہ جلیل القدر صحابہ کرام کے بیانات بھی ہوں گے۔
تشریح .....“محدث” اللہ تعالیٰ کے اس خوش نصیب بندے کو کہا جاتا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بکثرت الہامات ہوتے ہوں اور اس بارے میں اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا خصوصی معاملہ ہو اور وہ نبی نہ ہو کسی نبی کا امتی ہو۔
حضور ﷺ کے اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ اگلی امتوں میں ایسے لوگ ہوتے تھے اور میری امت میں اگر کسی کو اللہ تعالیٰ نے اس نعمت سے خصوصیت کے ساتھ نوازا ہے) تو وہ عمرؓ ہیں ..... حدیث کے الفاظ سے کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہونی چاہئے کہ حضور ﷺ کو اس بارے میں کوئی شک شبہ تھا، آپ کی امت جب خیر الامم اور اگلی تمام امتوں سے افضل ہے تو ظاہر ہے کہ اس میں بھی ایسے خوش نصیب بندے ہوں گے جو کثرت الہامات کی نعمت سے نوازے جائیں گے، حضور ﷺ کے اس ارشاد کا مقصد و مدعا اس بارے میں حضرت عمرؓ، کی خصوصیت اور امتیاز سے لوگوں کو آگا کرنا ہے، اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے اس انعام کے بارے میں حضرت عمرؓ کو تخصص و امتیاز حاصل تھا، جیسا کہ آگے درج ہونے والی احادیث سے معلوم ہو گا۔
فضائل فاروق اعظمؓ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ جَعَلَ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِهِ. (رواه الترمذى)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ نے عمرؓ کی زبان اور اس کے قلب میں حق رکھ دیا ہے۔ (جامع ترمذی)
فضائل فاروق اعظمؓ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ
عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ يَقُولُ بِهِ. (رواه ابوداؤد)
حضرت ابو ذر غفاری ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ارشاد فرماتے تھےئ کہ اللہ تعالیٰ نے عمرؓ کی زبان پر حق رکھ دیا ہے، وہ حق ہی کہتا ہے۔ (سنن ابی داؤد)
تشریح
پہلی حدیث حضرت عبداللہ بن عمرؓ کی روایت سے ہے اور دوسری حضرت ابو ذر غفاریؓ کی روایت سے، دونوں کا حاصل اور مدعا یہی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمرؓ کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جن خاص انعامات سے نوازا ہے ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ان کے دل میں جو کچھ آتا ہے اور جو کچھ وہ زبان سے کہتے ہیں وہ حق ہی ہوتا ہے، وہ حق ہی سوچتے اور حق ہی بولتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ان سے اجتہادی غلطی بھی نہیں ہوتی ....اجتہادی غلطی تو حضرات انبیاء علیہم السلام سے بھی ہو جاتی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو مطلع کر کے اصلاح کرا دی جاتی ہے، حضرت عمرؓ سے بھی کبھی کبھی اجتہادی غلطی ہو جاتی تھی، لیکن حق واضح ہو جانے پر رجوع فرما لیتے تھے، رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بارے میں اور اسی طرح منکرین زکوٰۃ سے جہاد و قتال کے خلاف ان کی جو رائے تھی وہ ان کی اجتہادی غلطی ہی تھی، بعد میں حق واضح ہو جانے پر انہوں نے رجوع اور حضرت صدیق اکبرؓ کی رائے سے اتفاق فرما لیا، بہرحال اجتہادی غلطی کے اس طرح کے چند استثنائی واقعات کے علاوہ (جن میں حق واضح ہو جانے پر انہوں نے رجوع فرما لیا) انہوں نے جو سوچا سمجھا اور جو احکام جاری کئے وہ سب حق ہی تھے۔
بلاشبہ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا خصوصی انعام تھا ..... آئندہ درج ہونے والی بعض حدیثوں سے ان شاء اللہ حضرت فاروق اعظمؓ کی اس خصوصیت اور فضیلت پر مزید روشنی پڑے گی۔
فضائل فاروق اعظمؓ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ كَانَ بَعْدِي نَبِيٌّ لَكَانَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ. (رواه الترمذى)
حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (ایک صحبت میں) فرمایا کہ: اگر بالفرض میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر بن الخطاب نبی ہوتے۔ (جامع ترمذی)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبوت کا سلسلہ مجھ پر ختم فرمایا اور قیامت تک کے لئے نبوت کا دروازہ بند ہو گیا (جس کا اعلان قرآن پاک میں بھی فرما دیا گیا ہے) اگر بالفرض اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ فیصلہ نہ فرما دیا گیا ہوتا اور میرے بعد بھی نبوت کا سلسلہ جاری رہتا تو عمر بن الخطاب اپنی روحانی خصوصیات کی وجہ سے بالخصوص اس لائق تھے کہ ان کو نبی بنایا جاتا۔ اس حدیث میں بھی ان کے اس خصوصی کمال و امتیاز کی طرف اشارہ ہے، جس کا ذکر مندرجہ بالا حدیثوں میں کیا گیا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے قلب پر حق کا القا اور الہامات کی کثرت۔
فضائل فاروق اعظمؓ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ
عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: مَا كُنَّا تَبعِدُ أَنَّ السَّكِينَةَ تَنْطِقُ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ. (رواه البيهقى فى دلائل النبوة)
حضرت علی مرتضیٰ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ ہم لوگ اس بات کو بعید نہیں جانتے تھے کہ عمرؓ کی زبان پر سکینہ بولتا ہے۔ (دلائل النبوۃ للبیہقی)
تشریح
حضرت علی مرتضیٰ کی اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عمرؓ جب خطاب فرماتے یا بات کرتے تو دلوں میں ایک خاص قسم کا سکون و اطمینان پیدا ہوتا تھا، ہم اس بات کو بعید نہیں سمجھتے تھے کہ ان کی زبان و بیان میں یہ خاص تاثیر اللہ تعالیٰ نے رکھ دی ہے۔ یہ مطلب لیا جائے تو حضرت علیؓ کے اس کلام میں “السكينة” سے مراد یہی خداداد تاثیر ہے ........ شارحین نے لکھا ہے کہ “السكينه” سے مراد خاص فرشتہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں حضرت علیؓ کا مطلب یہ ہو گا کہ ہم یہ بات بعید نہیں سمجھتے تھے کہ حضرت عمرؓ خطاب اور بات فرماتے ہیں تو ان کی زبان سے اللہ کا ایک خاص فرشتہ کلام کرتا ہے جس کا نام یہ لقب “السكينه” ہے۔
فضائل فاروق اعظمؓ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ
عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ عُمَرُ وَافَقْتُ رَبِّي فِي ثَلاَثٍ فِي مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ وَفِي الْحِجَابِ وَفِي أُسَارَى بَدْرٍ. (رواه البخارى ومسلم)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ: میں نے تین باتوں میں اپنے خداوند تعالیٰ سے موافقت کی (یعنی میری رائے وہ ہوئی جو خدا وند تعالیٰ کا حکم آنے والا تھا) مقام ابراہیم کے بارے میں اور پردے کے مسئلہ میں اور غزوہ بدر کے قیدیوں کے مسئلہ میں۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
واقعہ یہ ہے کہ ذخیرہ حدیث میں کم از کم پندرہ ایسے واقعات کا ذکر ملتا ہے، کہ کسی مسئلہ میں حضرت عمرؓ کی ایک رائے ہوئی یا ان کے قلب میں داعیہ پیدا ہوا کہ کاش اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ حکم آ جاتا تو وہی حکم وحی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آ گیا اس حدیث میں ان میں سے صرف تین کا ذکر کیا گیا ہے ..... ایک مقام ابراہیم سے متعلق حکم کا، دوسرے پردے کے بارے میں، تیسرے غزوہ بدر کے قیدیوں کے بارے میں حکم کا ...... جس کی مختصر تشریح یہ ہے کہ “مقام ابراہیم” سفید رنگ کا ایک پتھر ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی تھی (اس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاؤں کے نشانات معجزانہ طور پر پڑ گئے تھے جو اب تک باقی ہیں) وہ اسی زمانہ سے محفوظ چلا آ رہا ہے، رسول اللہ ﷺ کے زمانے تک خانہ کعبہ کی قریب ہی میں ایک جگہ کھلا رکھا رہتا تھا (بعد میں اس کو عمارت میں محفوظ کر دیا گیا)
حضرت عمر ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے یہ خواہش ظاہر کی کہ کاش ایسا ہوتا کہ مقام ابراہیم کو خصوصیت سے نماز کی جگہ قرار دے دیا جائے، تو سورہ بقرہ کی آیت نمبر ۱۲۵ نازل ہوئی اور اس میں حکم آ گیا “وَاتَّخِذُوا مِن مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى” (اور مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بنا لیا کرو) آیت کا سہل الفہم مطلب یہ ہے کہ طواف کے بعد جو دو رکعتیں پڑھی جاتی ہیں وہ مقام ابراہیم کے پاس پڑھی جائیں، فقہا کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ حکم استحبابی ہے، اگر سہولت سے مقام ابراہیم کے پاس پڑھی جا سکیں تو وہیں پڑھی جائیں، ورنہ مسجد حرام میں کہیں بھی پڑھی جا سکتی ہیں۔
دوسرا مسئلہ حجاب یعنی پردے سے متعلق ہے، جب تک مستورات کے لئے حجاب یعنی پردے کا کوئی حکم نازل نہیں ہوا تھا۔ عام مسلمانوں کی طرح رسول اللہ ﷺ کے گھروں میں بھی بضرورت صحابہ کرامؓ کی آمدورفت ہوتی تھی، حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ میرے دل میں اللہ تعالیٰ نے داعیہ پیدا فرمایا کہ خاص کر ازواج مطہرات کے لئے حجاب کا خصوصی حکم آ جائے چنانچہ اس بارے میں آیت نازل ہو گئی “وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ” (سورہ احزاب آیت ۵۴)
تیسری بات یہ کہ غزوہ بدر میں مسلمانوں کی فتح اور مشرکین کی شکست کے بعد ان کے جو آدمی گرفتار کر کے قیدی بنائے گئے، ان کے متعلق میری رائے یہ تھی کہ یہ سب اسلام، رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کے جانی دشمن اور اکابر مجرمین ہیں، ان سب کو قتل کر دیا جائے، ان کو زندہ چھوڑ دینا ایسا ہی ہے، جیسے زہریلے سانپوں کو زندہ چھوڑنا لیکن ابو بکر صدیقؓ اور رسول اللہ ﷺ پر رحم دلی کا غلبہ تھا ان کی رائے فدیہ لے کر چھوڑ دینے کی ہوئی اور اسی پر عمل کیا گیا ...... بعد میں سورہ انفال کی وہ آیات نازل ہوئیں جو میری رائے کے مطابق تھیں۔
یہاں یہ بات خاص طور پر قابل لحاظ ہے کہ واقعہ یہ تھا کہ ان تینوں مسئلوں میں وحی الہی نے حضرت عمرؓ کی موافقت کی تھی، لیکن حضرت عمرؓ نے از راہِ ادب اس کو اس طرح تعبیر کیا کہ میں نے حکم خداوندی کی موافقت کی تین مسئلوں میں۔ بلاشبہ یہ حسن ادب رسول اللہ ﷺ ہی کی تعلیم و تربیت اور فیض صحبت ہی کا نتیجہ تھا۔
فضائل فاروق اعظمؓ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اللَّهُمَّ أَعِزَّ الإِسْلاَمَ بِأَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ أَوْ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّاِب فَأَصْبَحَ عُمَرُ فَغَدَا عَلَى النَّبِىِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمَ ثُمَّ صَلَّى فِى الْمَسْجِدِ ظَاهِرًا. (رواه احمد والترمذى)
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے دعا کی (رات میں) کہ اے میرے اللہ اسلام کو عزت اور قوت عطا فرما ابو جہل ابن ہشام کے ذریعہ یا عمر بن الخطاب کے ذریعہ پس صبح کو اٹھے عمرؓ اور آئے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں اور اسلام لے آئے اور مسجد حرام میں علانیہ نماز پڑھی۔ (مسند احمد، جامع ترمذی)
تشریح
اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو عالم اسباب بنایا ہے، یہاں ہر بڑے کام اور ہر عظیم مقصد کے لئے اس کے مطابق تدبیر اور عملی جدوجہد اور خاص صلاحیت رکھنے والے جانباز کارکنوں کی ضرورت ہوتی ہے، ابو جہل بن ہشام اور عمر بن الخطاب رسول اللہ ﷺ اور آپ کے لائے ہوئے دین کے درجہ اول کے دشمن تھے، اسی کے ساتھ ان دونوں میں وہ صلاحیتیں جو کسی بڑے کام کے لئے درکار ہوتی ہیں، (راقم سطور کا خیال ہے کہ غالباً حضور ﷺ پر منکشف کر دیا گیا تھا کہ دونوں میں سے کسی ایک کو ہدایت دی جا سکتی ہے) تو آپ ﷺ نے ایک رات کو یہ دعا فرمائی جس کا حدیث میں ذکر ہے۔
تقدیر الہی میں یہ سعادت حضرت عمرؓ کے لئے مقدر ہو چکی تھی، ان کے حق میں دعا قبول ہو گئی اور ان کو توفیق مل گئی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان سے جو کام لیا خاص کر خلافت کے دس سالوں میں وہ بلا شبہ امت میں ان کا اور صرف ان کا حصہ ہے۔
مسند احمد اور جامع ترمذی کی مندرجہ بالا روایت میں حضرت عمرؓ کے اسلام لانے کا واقعہ بہت اختصار کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ مشکوٰۃ المصابیح کے بعض شارحین نے ابو عبداللہ حاکم کی “دلائل النبوۃ” کے حوالہ سے حضرت ابن عباسؓ ہی کی روایت سے یہ واقعہ مفصل روایت کیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ابو جہل جو مشرکین مکہ کا سردار اور بڑا سرمایہ دار بھی تھا اس نے اعلان کیا کہ جو کوئی محمد ﷺ کو قتل کر دے میں اس کو سو اونٹنیاں اور ایک ہزار اوقیہ چاندی بطور انعام دینے کی ذمہ داری لیتا ہوں۔ عمرؓ نے ابو جہل سے کہا کہ تمہاری یہ بات پکی ہے؟ ابو جہل نے کہا بالکل پکی، فوراً ادا کروں گا۔ اس کے بعد عمر تلوار لے کر اس ناپاک ارادہ سے نکلے، راستہ میں ایک شخص نے ان کو اس حال میں دیکھا تو پوچھا کہ عمر کہاں اور کس ارادہ سے جا رہے ہو ..... عمرؓ نے کہا محمد (ﷺ) کو قتل کرنے جا رہا ہوں ...... اس شخص نے کہا کیا تم ان کے کنبہ بنی ہاشم سے بےخوف ہو (وہ ان کی حمایت میں میدان میں آ جائیں گے اور پھر خونریز جنگ ہو گی) عمرؓ نے کہا کہ معلوم ہوتا ہے کہ تو نے بھی باپ دادا کا دین چھوڑ کے محمد کا دین قبول کر لیا ہے۔ اس شخص نے کہا کہ میں تم کو بتلاتا ہوں کہ تمہاری بہن (فاطمہ) اور بہنوئی (سعید بن زید) نے بھی محمد ﷺ کا دین قبول کر لیا ہے۔ یہ سن کر عمرؓ سیدھے بہن کے گھر کی طرف گئے۔ وہ اس وقت سورہ طہ تلاوت کر رہی تھیں، عمرؓ نے دروازہ پر کھڑے ہو کر سنا، پھر دروازہ کھلوایا اور کہا کہ تم کیا پڑھ رہی تھیں؟ ان کی بہن نے بتایا کہ ہم لوگوں نے اسلام قبول کر لیا ہے اور اس میں قرآن کی آیتیں پڑھ رہی تھی؟ عمرؓ نے کہا مجھے بھی پڑھ کر سناؤ! چنانچہ ان کی بہن نے سورہ طہ پڑھنی شروع کی ...... جب یہ آیت تلاوت کی “اللَّـهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ” تو عمر کے دل کی دنیا میں انقلاب آ گیا اور بول اٹھے کہ بیشک وہی اور صرف وہی الٰہ اس لائق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے، اور کلمہ شہادت پڑھا پھر بہن ہی کے گھر میں رات گزاری اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضری کی تڑپ دل میں پیدا ہو گئی۔ بار بار کہتے تھے “وَا شَوْقَاهُ اِلَى مُحَمَّدٍ” اسی حال میں خباب بن الارت ان کے پاس آئے اور ان کو بتلایا کہ رسول اللہ ﷺ آج رات برابر دعا کرتے رہے کہ اے اللہ عمر بن خطاب یا ابو جہل بن ہشام کے ذریعہ اسلام کو عزت اور قوت عطا فرما! اور میرا خیال ہے کہ حضور ﷺ کی دعا تمہارے حق میں قبول ہو گئی۔ اس کے بعد صبح کو عمر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور اسلام قبول کیا۔ اور اسی وقت کہا کہ ہم لات اور عزیٰ کی پرستش کرتے تھے وادیوں کے نشیب میں اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر اور خدا کی عبادت کریں ہم چھپ چھپا کر؟ ...... یہ نہیں ہو گا ..... خدا کی قسم ہم اللہ کی عبادت اعلانیہ خانہ کعبہ کے صحن میں کریں گے۔ (اس وقت تک مسلمان علانیہ مسجد حرام میں نماز ادا نہیں کرتے تھے)۔
حافظ ابن حجرؒ نے فتح الباری میں ابو جعفر بن ابی شیبہ کی تاریخ کے حوالہ سے ابن عباسؓ ہی کی روایت نقل کی ہے کہ حضرت عمرؓ نے اسلام قبول کرنے کے فوراً بعد طے کیا کہ ہم ابھی چل کر اعلانیہ مسجد حرام میں نماز پڑھیں گے اور ایسا ہی کیا گیا ..... فتح الباری ہی میں ابن ابی شیبہ اور طبرانی کے حوالہ سے حضرت عبداللہ بن مسعود کا بیان نقل کیا گیا ہے۔
وَاللَّهِ مَا اسْتَطَعْنَا أَنْ نُصَلِّيَ حَوْلَ الْبَيْتِ ظَاهِرِينَ حَتَّى أَسْلَمَ عُمَرُ
ترجمہ ..... خدا کی قسم عمر کے اسلام لانے سے پہلے ہماری طاقت نہ تھی کہ ہم بیت اللہ کے قریب میں علانیہ نماز پڑھ سکتے (عمر کے اسلام میں داخل ہونے کے بعد ہی ہمارے لئے یہ ہوا)۔
حافظ ابن حجرؒ نے حضرت عمر ؓ کی قبول اسلام کی بہت سی روایات مختلف صحابہ کرامؓ کی روایت سے حدیث کی مختلف کتابوں کے حوالوں سے نقل کی ہیں جن میں حضرتے عبداللہ بن مسعودؓ، حضرت ابن عباسؓ، حضرت انسؓ، حضرت عائشہ صدیقہؓ، حضرت ابن عمرؓ کے علاوہ حضرت علی مرتضیٰ بھی ہیں۔ (فتح الباری باب مناقب عمر پارہ نمبر ۱۴، ص ۳۷۳)
فضائل فاروق اعظمؓ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «بَيْنَ أَنَا نَائِمٌ أُتِيتُ بِقَدَحِ لَبَنٍ، فَشَرِبْتُ حَتَّى إِنِّي لَأَرَى الرِّيَّ يَخْرُجُ مِنْ أَظْفَارِي، مِنْهُ، ثُمَّ أَعْطَيْتُ فَضْلِي عُمَرَ بْنَ الخَطَّابِ» قَالُوا: فَمَا أَوَّلْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «العِلْمَ» (رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ نے بیان فرمایا کہ میں سو رہا تھا، اسی حال میں میرے پاس لایا گیا دودھ کا بھرا ہوا پیالہ تو میں نے خوب سیر ہو کر پیا یہاں تک کہ میں نے سیرابی کا اثر اپنے ناخنوں تک میں محسوس کیا، پھر میں نے وہ دودھ جو میرے پینے کے بعد بچ گیا تھا وہ عمر بن الخطاب کو دے دیا کہ وہ اس کو پی ل یں، بعض صحابہ نے عرض کیا کہ آپ نے اس کی کیا تعبیر دی؟ آپ نے فرمایا کہ علم۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
علمائے عارفین نے کہا ہے کہ علم حق کی صورت مثالیہ دوسرے عالم میں دودھ کی ہے، جو شخص خواب میں دیکھے کہ اس کو دودھ پلایا جا رہا ہے اس کی تعبیر یہ ہے کہ اس کو علم حق نافع عطا ہو گا۔ دودھ اور علم حق میں یہ مناسبت ظاہر ہے کہ دودھ جسم انسانی کے لئے بہترین نافع غذا ہے، اسی طرح علم حق جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہو روح کے لئے بہترین اور نافع ترین غذا ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول اللہ ﷺ کو عطا فرمائے ہوئے علم حق میں حضرت عمرؓ کا خاص حصہ تھا اور صدیق اکبرؓ کے بعد جس طرح دس سال انہوں نے خلافت اور نبوت کی نیابت کا کام انجام دیا اور جس طرح امت کی رہنمائی فرمائی وہ اس کی دلیل اور شہادت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو علم حق سے وافر حصۃ عطا فرمایا تھا۔
حضرت شاہ ولی اللہؒ نے ازالۃ الحقائق میں فاروق اعظم ؓ، کے علمی کمالات پر جو کچھ تحریر فرمایا ہے، وہ اہل علم کے لئے قابل دید ہے، اس کے مطالعہ سے اس بارے میں فاروق اعظم کے امتیاز اور انفرادیت کو پوری طرح سمجھا جا سکتا ہے۔
فضائل فاروق اعظمؓ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ، رَأَيْتُ النَّاسَ يُعْرَضُونَ عَلَيَّ وَعَلَيْهِمْ قُمُصٌ، مِنْهَا مَا يَبْلُغُ الثُّدِيَّ، وَمِنْهَا مَا دُونَ ذَلِكَ، وَعُرِضَ عَلَيَّ عُمَرُ بْنُ الخَطَّابِ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ يَجُرُّهُ». قَالُوا: فَمَا أَوَّلْتَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «الدِّينَ» (رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ نے بیان فرمایا کہ اس حالت میں کہ میں سویا ہوا تھا میں نے خواب میں دیکھا کہ لوگوں کو وہ میرے سامنے لائے جاتے ہیں اور وہ سب کرتے پہنے ہوئے ہیں، ان میں سے کچھ کے کرتے ایسے ہیں جو صرف سینے تک ہیں، اور کچھ ایسے ہیں جن کے کرتے سینے کے کچھ نیچے تک ہیں، اور عمر بن خطابؓ بھی میرے سامنے لائے گئے ان کا کرتہ اتنا لمبا تھا کہ زمین تک پہنچتا تھا اور وہ اس کو زمین پر گھسیٹ کر چلتے تھے، بعض صحابہ نے عرض کیا کہ حضور ﷺ نے اس کی کیا تعبیر دی؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ “دین”۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
لباس اور دین میں یہ مناسبت اور مشابہت ظاہر ہے کہ لباس سردی او ر دھوپ کی تپش وغیرہ اس عالم کی آفات و تکالیف سے جسم انسانی کی حفاظت کرتا ہے اور سامان زینت ہے۔ اور دین عالم آخرت میں سامان زینت ہو گا اور عذاب سے حفاظت کا ذریعہ و سیلہ ...... خواب میں جو لوگ آنحضرت ﷺ کے سامنے پیش کئے گئے تھے وہ یہ ظاہر امت کے مختلف طبقات اور درجات کے لوگ تھے ..... کچھ وہ تھے جن کے دین میں مختلف درجات کا نقص تھا اور ان میں حضرت عمرؓ بھی تھے جن کا دین بہت کامل تھا۔ وہ سراپا دین تھے ان کا دین ان کی اپنی ہستی سے بھی زیادہ تھا۔ ؓ وارضاہ۔
فضائل فاروق اعظمؓ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ
عَنِ المِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ: لَمَّا طُعِنَ عُمَرُ جَعَلَ يَأْلَمُ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ وَكَأَنَّهُ يُجَزِّعُهُ: يَا أَمِيرَ المُؤْمِنِينَ، وَلَئِنْ كَانَ ذَاكَ، لَقَدْ صَحِبْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَحْسَنْتَ صُحْبَتَهُ، ثُمَّ فَارَقَكَ وَهُوَ عَنْكَ رَاضٍ، ثُمَّ صَحِبْتَ أَبَا بَكْرٍ فَأَحْسَنْتَ صُحْبَتَهُ، ثُمَّ فَارَقَكَ وَهُوَ عَنْكَ رَاضٍ، ثُمَّ صَحِبْتَ الْمُسْلِمِيْنَ فَأَحْسَنْتَ صُحْبَتَهُمْ، وَلَئِنْ فَارَقْتَهُمْ لَتُفَارِقَنَّهُمْ وَهُمْ عَنْكَ رَاضُونَ، قَالَ: «أَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ صُحْبَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِضَاهُ، فَإِنَّمَا ذَالِكَ مَنٌّ مِنَ اللَّهِ مَنَّ بِهِ عَلَيَّ، وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ صُحْبَةِ أَبِي بَكْرٍ وَرِضَاهُ، فَإِنَّمَا ذَالِكَ مَنٌّ مِنَ اللَّهِ مَنَّ بِهِ عَلَيَّ، وَأَمَّا مَا تَرَى مِنْ جَزَعِي فَهُوَ مِنْ أَجْلِكَ وَأَجْلِ أَصْحَابِكَ، وَاللَّهِ لَوْ أَنَّ لِي طِلاَعَ الأَرْضِ ذَهَبًا لاَفْتَدَيْتُ بِهِ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ قَبْلَ أَنْ أَرَاهُ» (رواه البخارى)
حضرت مسور بن مخرمہ ؓ سے روایت ہے کہ جب زخمی کئے گئے حضرت عمرؓ (ان کو خنجر سے زخمی کیا ابو لؤلؤ مجوسی نے)تو تکلیف اور دکھ کا اظہار فرمانے لگے تو حضرت ابن عباسؓ نے ان سے اس طرح کہا کہ گویا وہ سمجھتے تھے کہ تکلیف کا یہ اظہار صبر و برداشت کی کمی کی وجہ سے ہے (اور تسلی دینے کے لئے کہا) اے امیر المؤمنین درد و تکلیف کا یہ اظہار آپ کی طرف سے بالکل نہ ہونا چاہئے (آپ اس وقت اللہ تعالیٰ کے انعامات کو یاد کیجئے کہ اس نے آپ کو کیسی عظیم نعمتوں سے نوازا) آپ رسول اللہ ﷺ کے ساتھی اور رفیق بن کر آپ کے ساتھ رہے اور آپ نے اس صحبت و رفاقت کا اچھا حق ادا کیا پھر حضور ﷺ اس حال میں آپ سے جدا ہوئے کہ وہ آپ سے راضی اور خوش تھے۔
پھر آپ ﷺ کے خلیفہ ابو بکرؓ کے خصوصی ساتھی اور رفیق بنے تو ان کی صحبت و رفاقت کا بھی آپ نے اچھا حق ادا کیا، پھر وہ بھی اس حال میں آپ سے جدا ہوئے کہ وہ آپ سے پوری طرح راضی اور خوش تھے (یہاں تک کہ آپ کو اپنے بعد کے لئے خلیفہ بنایا) پھر (اپنے دور خلافت میں) سب مسلمانوں کے ساتھ آپ کا اچھا معاملہ رہا (آپ نے سب کے حقوق ادا کئے) اور اگر آپ ان کو چھوڑ کر جائیں گے تو اس حال میں ان سے جدا ہوں گے کہ وہ سب آپ سے راضی خوش ہوں گے (حضرت ابن عباس کا یہ مطلب تھا کہ رسول اللہ ﷺ کا اور پھر حضرت ابو بکرؓ کا اور پھر سب مسلمانوں کا آپ سے راضی خوش رہنا اس بات کی دلیل اور علامت ہے کہ اللہ بھی آپ سے راضی ہے اس لئے آپ کی طرف فسے تکلیف اور بےقراری کا جو اظہار ہو رہا ہے نہ ہونا چاہئے اللہ تعالیٰ کے ان انعامات کو یاد کر کے مطمئن رہنا چاہئے)۔
حضرت عمرؓ نے ابن عباسؓ کی اس بات کے جواب میں فرمایا کہ (اے ابن عباس) تم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ میری صحبت و رفاقت کا اور حضور ﷺ کی رضا کا جو ذکر کیا تو یہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کا خاص احسان تھا جو اس نے مجھ پر فرمایا اور اسی طرح ابو بکرؓ کے ساتھ صحبت و رفاقت اور ان کی رضا کا جو ذکر کیا وہ بھی خداوندی انعام و احسان تھا (یعنی یہ میرا ذاتی کمال نہیں تھا) اور میری طرف سے تکلیف اور پریشانی کا اظہار جو تم دیکھتے ہو وہ (زخم کی تکلیف کی وجہ سے نہیں بلکہ) تم لوگوں کی وجہ سے ہے (یعنی مجھے فکر اور ڈر ہے کہ تم لوگ میرے بعد فتنوں میں مبتلا نہ ہو جاؤ)۔
اور جہاں تک اخروی انجام کی فکر کا تعلق ہے تو (میرا حال یہ ہے کہ اگر میرے پاس اتنا اسونا ہو کہ ساری زمین بھر جائے تو میں وہ سب عذاب الٰہی سے بچنے کے لئے بطور فدیہ دے دوں قبل اس کے کہ اللہ کا عذاب دیکھوں۔ (صحیح بخاری)
تشریح
حضرت فاروق اعظمؓ نے عبداللہ بن عباسؓ کو جواب دیتے ہوئے آخر میں جو یہ فرمایا کہ تم جو مجھے بےچینی اور بےقراری کی حالت میں دیکھ رہے ہو یہ زخم کی تکلیف کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ یہ اس فکر اور اندیشہ کی وجہ سے ہے کہ میرے بعد تم لوگ فتنوں میں مبتلا نہ ہو جاؤ ..... اس کی بنیاد یہ تھی کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا تھا کہ عمر فتنوں کے لئے بند دروازہ ہیں۔ جب تک وہ ہیں امت فتنوں سے محفوظ رہے گی، جب وہ نہ رہیں گے، تو فتنوں کے لئے دروازہ کھل جائے گا۔
چنانچہ ایسا ہی ہوا ان کی شہادت کے بعد سے شیاطین الجن والانس کی طرف سے فتنوں کی تخم ریزی شروع ہوئی اور حضرت عثمانؓ کے آخری دور خلافت میں فتنہ اس حد تک پہنچ گیا کہ اپنے کو مسلمان کہنے والوں ہی کے ہاتھوں وہ انتہائی مظلومیت کے ساتھ شہید ہوئے اور اس کے بعد خانہ جنگی کا جو سلسلہ شروع ہوا اس میں ہزارہا صحابہ و تابعین شہید ہوئے۔ یہی وہ فتنے تھے جن کی فکر اور اندیشہ سے اپنے زخم کی تکلیف کو بھلا کر فاروق اعظم بےچین اور مضطرب تھے اور آخر میں جو فرمایا “وَاللَّهِ لَوْ أَنَّ لِي طِلاَعَ الأَرْضِ ذَهَبًا الخ” (خدا کی قسم اگر میرے پاس زمین بھر بھی سونا ہو تو میں اللہ کا عذاب دیکھنے سے پہلے ہی اس سے بچنے کے لئے وہ سارا سونا فدیہ میں دے دوں) اس کا مقصد حضرت ابن عباسؓ کو یہ بتلانا ہے کہ میں جو اضطراب اور بتےچینی محسوس کر رہا ہوں اس کا ایک دوسرا سبب جو زیادہ اہم ہے وہ عذاب الہی کا خوف بھی ہے ...... راقم سطور عرض کرتا ہے، فاروق اعظم کا یہ خوف ان کے کمال ایمان اور کمال معرفت کی دلیل ہے، جس کا ایمان اور عرفان جس قدر کامل ہو گا اس پر اسی قدر خوف خدا کا غلبہ ہو گا۔
رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے “انا اعلمكم بالله واخشاكم” مجھے اللہ تعالیٰ کے بارے میں علم اور معرفت تم سب سے زیادہ، اور اس کا خوف ڈر بھی مجھے تم سب سے زیادہ ہے۔ قرآن مجید میں بار بار یہ مضمون بیان کیا گیا ہے کہ اللہ کی خاص رحمت اور جنت کے مستحق وہ بندے ہیں جو اس کے خوف سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں سورہ “بينة” میں مومنین صالحین کا یہ انجام بیان فرما کر کہ وہ “خىر البرية” (اللہ کی مخلوق میں سب سے بہتر) ہیں، وہ آخرت میں ان غیر فانی جنتی باغات میں رہیں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہیں، ان کو رضائے خداوندی کی نعمت حاصل ہو گی؟ اور وہ اپنے اس خداوند سے راضی ہوں گے، آخر میں فرمایا گیا ہے “ذَٰلِكَ لِمَنْ خَشِيَ رَبَّهُ” (یہ سب ان مومنین صالحین کے لئے ہے جو خداوند تعالیٰ سے (یعنی اس کی پکڑ اور اس کے عذاب سے) ڈرتے رہے ہیں) ..... الغرض حضرت فاروق اعظمؓ کا یہ ارشاد ان کے کمال ایمان اور کمال معرفت کی دلیل ہے۔ قریباں را بیش بود حیرانی۔
شہادت
اس حدیث میں حضرت فاروق اعظمؓ کے جس زخمی کئے جانے کا ذکر ہے وہ وہی ہے، جس کے نتیجہ میں آپ کی شہادت ہوئی ..... مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اختصار کے ساتھ انتہائی المناک واقعہ کا ذکر کر دیا جائے۔ فاروق اعظمؓ کے دور خلافت میں ہی ایران فتح ہوا، ایران کے جو مجوسی جنگی قیدیوں کی حیثیت سے گرفتار کر کے لائے گئے وہ شرعی قانون کے مطابق مسلمانوں میں تقسیم کر دئیے گئے کہ ان سے غلام اور خادم کی حیثیت سے کام لیں اور ان کے کھانے پینے وغیرہ ضروریات زندگی کی کفالت کریں اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کریں ..... ایران سے آئے ہوئے ان اسیران جنت میں ایک بدبخت ابو لؤلؤ نامی مجوسی بھی تھا جو مشہور صحابی مغیرہ بن شعبہ کے حوالے کیا گیا تھا اس نے فاروق اعظم کو شہید کرنے کا منصوبہ بنایا ایک خنجر تیار کیا اور اس کو بار بار زہر میں بجھایا اور اس کے بعد رات میں مسجد شریف کے محراب میں چھپ کر بیٹھ گیا، فاروق اعظمؓ فجر کی نماز بہت سویرے اندھیرے میں شروع کرتے اور بڑی بڑی سورتیں پڑھتے تھے، ذی الحجہ کی ستائیسویں تاریخ تھی وہ حسب معمول فجر کی نماز کے لئے تشریف لائے اور محراب میں کھڑے ہو کر نماز پڑھانی شروع کر دی ابھی تکبیر تحریمہ ہی کہی تھی کہ اس خبیث ایرانی مجوسی نے اپنے خنجر سے تین کاری زخم آپ کے شکم مبارک پر لگائے، آپ بےہوش ہو کر گر گئے، حضرت عبدالرحمٰن بن عوف نے جلدی سے آپ کی جگہ آ کر مختصر نماز پڑھائی، ابو لؤلؤ نے بھاگ کر مسجد سے نکل جانا چاہا نمازیوں کی صفیں دیواروں کی طرف حائل تھیں، پھر اس نے اور نمازیوں کو زخمی کر کے نکل جانا چاہا اس سلسلہ میں اس نے تیرہ صحابہ کرام کو زخمی کیا جن میں سے سات شہید ہو گئے اتنے میں نما زختم ہو گئی اور ابو لؤلؤ کو پکڑ لیا گیا، تو اس نے اسی خنجر سے خودکشی کر لی نماز ختم ہو جانے کے بعد حضرت فاروق اعظمؓ کو اٹھا کر گھر لایا گیا، تھوڑی دیر میں آپ کو ہوش آیا تو اسی حالت میں آپ نے نماز ادا کی ..... سب سے پہلے آپ نے پوچھا کہ میرا قاتل کون ہے بتلایا گیا کہ ابو لؤلؤ مجوسی آپ نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس نے ایک کافر کے ہاتھ سے شہادت عطا فرمائی۔ آپ کو یقین ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ نے میری دعا کو قبولیت اس طرح مقدر فرمائی۔ آپ دعا کرتے تھے کہ اے اللہ مجھے شہادت نصیب فرما اور میری موت تیرے رسول پاک ﷺ کے شہر مدینہ میں ہو۔ ایک دفعہ آپ کی صاحبزادی ام المؤمنین حضرت حفصہؓ نے آپ کی زبان سے یہ دعا سن کر عرض کیا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ فی سبیل اللہ شہید ہوں اور آپ کی وفات مدینہ ہی میں ہو (ان کا خیال تھا کہ فی سبیل اللہ شہادت کی صورت تو یہی ہے کہ اللہ کا بندہ میدان جہاد میں کافروں کے ہاتھ سے شہید ہو) آپ نے فرمایا کہ اللہ قادر ہے اگر چاہے گا تو یہ دونوں نعمتیں مجھے نصیب فرما دے گا بہرحال آپ کو اپنی شہادت کا یقین ہو گیا، آپ نے حضرت صہیبؓ کو اپنی جگہ امام نماز مقرر کیا اور اکابر صحابہ سے چھ حضرات کو (جو سب عشری مبشرہ میں سے تھے) نامزد کیا کہ وہ میرے بعد تین دن کے اندر مشورہ سے اپنے ہی میں سے ایک کو خلیفہ مقرر کر لیں۔
پھر آپ نے اپنے صاحبزادے حضرت عبداللہ بن عمر سے فرمایا کہ ام المومنین حضرت عائشہؓ کے پاس جاؤ اور میری طرف سے سلام کے بعد عرض کرو کہ میری دلی خواہش یہ ہے کہ میں اپنے دونوں بزرگ ساتھیوں (یعنی آنحضرت ﷺ اور صدیق اکبرؓ) کے ساتھ دفن کیا جاؤں، اگر آپ اس کے لئے دل سے راضی نہ ہوں تو پھر جنت البقیع میرے لئے بہتر ہے ..... انہوں نے ام المومنین کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ پیام پہنچایا انہوں نے فرمایا کہ وہ جگہ میں نے اپنے لئے رکھی تھی، لیکن اب میں اپنے اوپر ان کو ترجیح دیتی ہوں۔ جب عبداللہ بن عمرؓ نے آپ کو یہ خبر پہنچائی تو فرمایا کہ میری سب سے بڑی تمنا یہی تھی اللہ کا شکر ہے کہ اس نے یہ بھی پوری فرما دی۔
۲۷؍ ذی الحجہ بروز چہار شنبہ آپ زخمی کئے گئے تھے یکم محرم بروز یکشنبہ وفات پائی جب آپ کا جنازہ نماز کے لئے رکھا گیا تو حضرت علی مرتضیٰؓ نے آپ کے بارے میں وہ فرمایا جو ناظرین کرام آگے فضائل شیخین میں درج ہونے والی حدیث میں پڑھیں گے۔ نماز جنازہ حضرت صہیبؓ نے پڑھائی اور روضہ اقدس میں حضرت ابو بکر صدیقؓ کے پہلو میں آپ دن کئے گئے۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وارضاہ۔
عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: وُضِعَ عُمَرُ عَلَى سَرِيرِهِ فَتَكَنَّفَهُ النَّاسُ، يَدْعُونَ وَيُصَلُّونَ قَبْلَ أَنْ يُرْفَعَ وَأَنَا فِيهِمْ، فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا رَجُلٌ آخِذٌ مَنْكِبِي، فَإِذَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَتَرَحَّمَ عَلَى عُمَرَ، وَقَالَ: مَا خَلَّفْتَ أَحَدًا أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَلْقَى اللَّهَ بِمِثْلِ عَمَلِهِ مِنْكَ، وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كُنْتُ لَأَظُنُّ أَنْ يَجْعَلَكَ اللَّهُ مَعَ صَاحِبَيْكَ، وَحَسِبْتُ إِنِّي كُنْتُ كَثِيرًا أَسْمَعُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «ذَهَبْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَدَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَخَرَجْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ» (رواه البخارى ومسلم)
ابن ملیکہ (تابعی) سے روایت ہے کہ میں نے عبداللہ بن عباس ؓ سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ حضرت عمرؓ کو (وفات کے بعد) جب (غسل دینے کے لئے) تخت پر رکھا گیا تو لوگ ان کے ارد گرد کھڑے تھے اور ان کے لئے دعائیں اور اللہ تعالیٰ سے رحمت کی استدعا کر رہے تھے، قبل اس کے کہ ان کو تخت سے اٹھایا جائے اور میں بھی ان لوگوں میں کھڑا تھا، تو اچانک میں نے محسوس کیا کہ کوئی آدمی میرا کندھا پکڑے کھڑا ہے (میں نے دیکھا) کہ وہ حضرت علی ابن ابی طالبؓ ہیں، وہ حضرت عمرؓ کے لئے رحمت کی دعائیں کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ تم نے اپنے بعد کوئی ایسا شخص نہیں چھوڑا کہ مجھے اس کی خواہش ہو کہ میں اس شخص کے سے عمل لے کر اللہ کے حضور میں حاضر ہوں، اور خدا کی قسم! میں یہی گمان کرتا تھا کہ تم کو اللہ تعالیٰ تمہارے دونوں (پیش رو) ساتھیوں (رسول اللہ ﷺ و ابو بکر صدیقؓ) کے ساتھ کر دے گا، میں (یہ اس لئے) سمجھتا تھا کہ رسول اللہ ﷺ سے بہت موقعوں پر سنتا تھا آپ ﷺ فرماتے تھے (فلاں کام کے لئے) میں گیا اور ابو بکر و عمر بھی گئے اور (مسجد میں فلاں مکان میں) میں داخل ہوا اور میرے ساتھ ابو بکر و عمر بھی داخل ہوئے اور میں نکلا اور ابو بکرؓ و عمرؓ بھی نکلے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
گزشتہ صفحات میں پہلے حضرت صدیق اکبرؓ کے فضائل و مناقب سے متعلق حدیثیں نذر ناظرین کی گئی تھیں، اس کے بعد حضرت فاروق اعظمؓ کے فضائل و مناقب سے متعلق ..... اب آنحضرت ﷺ کے چند وہ ارشادات پیش کئے جا رہے ہیں، جن میں آپ ﷺ نے اپنے ان دونوں خاص رفیقوں کا ایک ساتھ اس طرح ذکر فرمایا ہے، جس سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ کی نظر مبارک میں ان دونوں کا خاص الخاص مقام تھا اور بہت سے موقعوں پر آپ نے ان دونوں کا اپنے ساتھ اس طرح ذکر فرمایا ہے کہ گویا یہ دونوں آپ ﷺ کے شریک حال اور خاص رفیق کار ہیں ..... اس سلسلہ میں سب سے پہلے حضرت ابن عباسؓ کی روایت سے حضرت علی مرتضیٰ کا ایک بیان نذر ناظرین کیا جا رہا ہے۔
تشریح ..... حضرت علی مرتضیٰ ؓ کا یہ بیان کسی وضاحت اور تشریح کا محتاج نہیں ہے، اس میں انہوں نے یہ جو فرمایا کہ “اللہ کی قسم! میں یہی گمان کرتا تھا کہ تہ تم کو تمہارے دونوں ساتھیوں (رسول اللہ ﷺ اور ابو بکر صدیقؓ) کے ساتھ کر دے گا”۔ اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مجھے یہی امید تھی کہ تم انہیں کے ساتھ دفن کئے جاؤ گے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آخرت میں جنت میں تم ان کے ساتھ کر دئیے جاؤ گے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ دونوں ہی مراد ہوں .... اور اس عاجز کے نزدیک یہی راجح ہے۔
حضرت علی مرتضیٰؓ نے اپنے اس بیان میں اس واقعی حقیقت کا واضح طور پر اظہار فرما دیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا اپنے ان دونوں صاحبوں رفیقوں کے ساتھ خاص الخاص تعلق تھا جو صرف انہی کا حصہ تھا۔
حضرت علی مرتضیٰ ؓ نے اپنے اس کلام کے شروع میں یہ جو فرمایا “مَا خَلَّفْتَ أَحَدًا الخ” (یعنی تم نے اپنے بعد اللہ کا کوئی ایسا بندہ نہیں چھوڑا جس کے اعمال کے مثل اعمال لے کر اللہ کے حضور میں حاضر ہونے کی مجھے تمنا اور خواہش ہو) اس سے معلوم ہوا کہ حضرت علی مرتضیٰؓ کی تمنا اور خواہش تھی کہ میں اللہ تعالیٰ کے حضور میں حضرت عمرؓ کے جیسے اعمال لے کر حاضر ہوں اور حضرت عمرؓ کے بعد کوئی کے بعد کوئی آدمی ایسا نہیں رہا۔
حافظ ابن حجرؒ نے اسی حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھا ہے:
وَقد اخْرُج بن أَبِي شَيْبَةَ وَمُسَدَّدٌ مِنْ طَرِيقِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ نَحْوَ هَذَا الْكَلَامِ وَسَنَدُهُ صَحِيحٌ وَهُوَ شَاهِدٌ جَيِّدٌ لِحَدِيثِ ابن عباس لكون مخرجه من ال على رضى الله عنهم .(فتح البارى جزء 14 صفحه 374 طبع انصارى دهلى)
ترجمہ .... اور ابن ابی شیبہ اور مسدد نے جعفر صادق کے طریقے سے روایت کیا ہے انہوں نے اپنے والد محمد (باقر) سے خود حضرت علیؓ سے اس قسم کا کلام روایت کیا ہے اور اس کی اسناد صحیح ہے اور یہ روایت ابن عباس کی اس حدیث کے لئے بہت اچھا شاہد ہے کیوں کہ یہ خود حضرت علیؓ کی اولاد کی روایت ہے۔