Maarif-ul-Hadith

All 2,115 hadiths in order · Page 7 of 106

121Maarif-ul-Hadith

شفاعت

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ فِي الجَنَّةِ لَشَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ سَنَةٍ، وَلَقَابُ قَوْسِ أَحَدِكُمْ فِي الجَنَّةِ ، خَيْرٌ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ أَوْ تَغْرُبُ " (رواه البخارى ومسلم)

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جنت میں ایک ایسادرخت ہے کہ سوار اس کے سایے میں سو سال چلے اور پھر بھی اس کو پار نہ کر سکے، اور جنت میں تم میں سے کسی کی کمان کے بقدر جگہ بھی اس ساری کائنات سے بہتر ہے، جس پر آفتاب طلوع ہوتاہے، یا غروب ہوتا ہے۔ (بخاری و مسلم) تشریح حدیث کا مقصد دنیا اور اس کی راحتوں اور لذتوں کے مقابلے میں جنت اور اس کی نعمتوں کی بالاتری بیان فرما کے اس کا شوق دلوں میں پیدا کرنا ہے، اس سلسلہ میں پہلی بات یہ بیا ن فرمائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں اور راحت کے جو سامان اپنے بندوں کے لیے جنت میں پیدا کیے ہیں، ان میں سے ایک جنت کے وہ طویل و عریض سایہ دار درخت ہیں جن کا سایہ اتنے وسیع رقبہ پر پڑتا ہے، کہ سوار سو سال میں بھی اس کو طے نہیں کر سکتا، اور دوسری بات یہ فرمائی گئی ہے کہ جنت میں ایک کمان کی جگہ دنیا وما فیہا سے بہتر ہے، ابھی اوپر عرب کے اس دستور کا ذکر کیا جا چکا ہے کہ کوئی سوار جب کہیں اترنا چاہتا تھا کہ جب کوئی پیدل آدمی کسی جگہ منزل کرنا چاہتا تھا، تو وہ اپنی کمان وہاں ڈال دیتا تھا، اور اس طرح وہ جگہ اس کے لئے مخصوص ہو جاتی تھی، پس اس حدیث میں کمان کی جگہ سے مراد گویا ایک آدمی کی منزل ہے، اور مطلب یہ ہے کہ ایک پیادہ مسافر کمان ڈال کر جتنی جگہ کا مستحق ہو جاتا ہے، جنت کی اتنی مختصر سی جگہ بھی اس دنیا کی اس ساری کائنات سے زیادہ قیمتی اور بہتر ہے، جس پر آفتاب طلوع ہوتا ہے۔

122Maarif-ul-Hadith

شفاعت

عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يَأْكُلُونَ فِيهَا وَيَشْرَبُونَ، وَلَا يَتْفُلُونَ وَلَا يَبُولُونَ وَلَا يَتَغَوَّطُونَ وَلَا يَمْتَخِطُونَ» قَالُوا: فَمَا بَالُ الطَّعَامِ؟ قَالَ: «جُشَاءٌ وَرَشْحٌ كَرَشْحِ الْمِسْكِ، يُلْهَمُونَ التَّسْبِيحَ وَالتَّحْمِيدَ، كَمَا تُلْهَمُونَ النَّفَسَ» (رواه مسلم)

جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ:”اہلِ جنت جنت میں کھائیں گے بھی اور پئیں گے بھی، لیکن نہ تو انہیں تھوک آئے گا، اور نہ پیشاب پاخانہ ہو گا، اور نہ ان کی ناک سے ریزش آئے گی۔ بعض صحابہؓ نے عرض کیا، تو کھانے کا کیا ہو گا؟ (یعنی جب پیشاب پاخانہ کچھ بھی نہ ہو گا تو جو کچھ کھایا جائے گا وہ آخر کہاں جائے گا؟) آپ نے فرمایا کہ ڈکار اور پسینہ مشک کے پسینہ کی طرح (یعنی غذا کا جو اثر نکلنا ہو گا، وہ انہی دو طریقوں سے نکل جایا کرے گا) اور ان اہلِ جنت کی زبانوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اللہ کی حمد و تسبیح اس طرح جاری ہو گی، جس طرح تمہارا سانس جاری رہتا ہے “۔ تشریح مطلب یہ ہے کہ جنت کی ہر غذا کثیف مادہ سے پاک ایسی لطیف اور نورانی ہو گی، کہ پیٹ میں اس کا کوئی فضلہ تیار نہیں ہو گا، بس ایک خوشگوار ڈکار کے آنے سے معدہ خالی اور ہلکا ہو جایا کرے گا، اور کچھ پسینے کےراستے نکلا جایا کرے گا، لیکن اس پسینہ میں بھی مشک کی سی خوشبو ہو گی، اور اس دنیا میں جس طرح آپ سے آپ ہمارے اندر سے باہر، اور باہر سے اندر سانس کی آمدورفت ہے، جنت میں اسی طرح اللہ کا ذکر جاری ہو گا، اور سبحان اللہ والحمدللہ، یا سبحان اللہ وبحمدہ سانس کی طرح ہر دم جاری رہے گا۔

123Maarif-ul-Hadith

شفاعت

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يُنَادِي مُنَادٍ: إِنَّ لَكُمْ أَنْ تَصِحُّوا فَلَا تَسْقَمُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَحْيَوْا فَلَا تَمُوتُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَشِبُّوا فَلَا تَهْرَمُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَنْعَمُوا فَلَا تَبْأَسُوا أَبَدًا " (رواه مسلم)

حضرت ابو سعیدؓ اور ابو ہریرہؓ سے روایت ہے، یہ دونوں بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک پکارنے والا جنت میں جنتیوں کو مخاطب کر کے پکارے گا، کہ یہاں صحت ہی تمہارا حق ہے، اور تندرستی ہی تمہارے لئے مقدر ہے، اس لیے اب تم کبھی بیمار نہ پڑو گے، اور یہاں تمہارے لئے زندگی اور حیات ہی ہے، اس لئے اب تمہیں موت کبھی نہ آئے گی، اور تمہارے واسطے جوانی اور شباب ہی ہے، اس لئے اب کبھی تمہیں بڑھاپا نہیں آئے گا، اور تمہارے واسطے یہاں چین اور عیش ہی ہے، اس لئے اب کبھی تمہیں کوئی تنگی اور تکلیف نہ ہو گی۔ (مسلم) تشریح جنت صرف آرام اور راحت کا گھر ہے، اس لئے وہاں کسی تکلیف کا، اور کسی تکلیف دہ حالت کا گذر نہ ہو گا، نہ وہاں بیماری ہو گی، نہ موت آئے گی، نہ بڑھاپا کسی کو ستائے گا، نہ کسی اور قسم کی کوئی تنگی اور پریشانی کسی کو لاحق ہو گی، اور جنتی بندے جب جنت میں پہنچیں گے تو شروع ہی میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ابدی حیات اور ابدی راحت کی یہ بشارت سنا کر ان کو مطمئن کر دیا جائے گا۔

124Maarif-ul-Hadith

شفاعت

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ مِمَّ خُلِقَ الخَلْقُ؟ قَالَ: مِنَ الْمَاءِ، قُلْتُ: الْجَنَّةُ مَا بِنَاؤُهَا؟ قَالَ: لِبْنَةُ مِنْ ذَهَبٍ وَلِبْنَةُ مِنْ فِضَّةٍ ، وَمِلاَطُهَا الْمِسْكُ الأَذْفَرُ، وَحَصْبَاؤُهَا اللُّؤْلُؤُ وَاليَاقُوتُ، وَتُرْبَتُهَا الزَّعْفَرَانُ مَنْ يَدْخُلُهَا يَنْعَمُ وَلاَ يَبْأَسُ، وَيَخْلُدُ وَلاَ يَمُوتُ، لاَ يَبْلَى ثِيَابُهُمْ، وَلاَ يَفْنَى شَبَابُهُمْ . (رواه احمد والترمذى والدارمى)

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا، کہ مخلوق کس چیز سے پیدا کی گئی؟ آپ نے فرمایا پانی سے پھر ہم نے عرض کیا، کہ جنت کس چیز سے بنی (یعنی اس کی تعمیر پتھروں سے ہوئی یا انیٹوں سے، یا کس چیز سے؟) آپ نے فرمایا، اس کی تعمیر اس طرح ہے، کہ ایک اینٹ سونے کی، اور ایک اینٹ چاندی کی، اور اس کا مسالہ (جس سے اینٹوں کو جوڑا گیا ہے) تیز خوشبودار مشک ہے، اور وہاں کے سنگریزے جو بچھے ہوئے ہیں وہ موتی اور یاقوت ہین، اور وہاں کی خاک گویا زعفران ہے، جو لوگ اس جنت میں پہنچیں گے، ہمیشہ عیش اور چین سے رہیں گے، اور کوئی تنگی، تکلیف، ان کو نہ ہو گی۔ اور ہمیشہ زندہ رہیں گے، وہاں ان کو موت نہیں آئے گی، اور کبھی ان کے کپڑے پرانے اور خستہ نہ ہوں گے، اور ان کی جوانی کبھی زائل نہ ہو گی۔ (رواہ احمد والترمذی والدارمی) تشریح حضرت ابو ہریرہؓ کے پہلے سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ عام مخلوق پانی سے پیدا کی گئی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے پہلے پانی پیدا کیا، اور پھر سے اور مخلوق وجود میں آئی۔ قرآن مجید میں بھی فرمایا گیا ہے: “وَاللَّهُ خَلَقَ كُلَّ دَابَّةٍ مِنْ مَاءٍ” اور دوسری جگہ فرمایا گیا ہے: “وَجَعَلْنا مِنَ الْماءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ” جس کا حاصل یہ ہے کہ ہر جاندار پانی سے پیدا کیا گیا ہے۔ پھر دوسرے سوال کے جواب میں جنت کی تعمیر اور وہاں کے فرش اور وہاں کی خاک کے متعلق جو کچھ رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا، اس کی اصلی حقیقت اور کیفیت مشاہدے ہی سے معلوم ہو گی، البتہ یہ بات ذہن میں رہنی چاہئے کہ جنت کی تعمیر اس طر ح نہیں ہوئی ہے کہ کسی عملے نے اسے بنایا ہو، جس طرح ہماری اس دنیا میں عمارتیں بنتی ہیں، بلکہ جنت اور اس کی ہر چیز معماروں اور صناعوں کے توسط کے بغیر اللہ کے حکم سے بنی ہے، جس طرح زمین و آسمان اور آسمان کے ستارے، آفتاب و ماہتاب وغیرہ سب براہ راست اللہ کے حکم سےبنے ہیں۔ “إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئاً أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ”

125Maarif-ul-Hadith

اہل جنت کے لیے حق تعالیٰ کی دائمی رضا

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ لِأَهْلِ الجَنَّةِ: يَا أَهْلَ الجَنَّةِ؟ فَيَقُولُونَ: لَبَّيْكَ رَبَّنَا وَسَعْدَيْكَ، فَيَقُولُ: هَلْ رَضِيتُمْ؟ فَيَقُولُونَ: وَمَا لَنَا لاَ نَرْضَى وَقَدْ أَعْطَيْتَنَا مَا لَمْ تُعْطِ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ، فَيَقُولُ: أَنَا أُعْطِيكُمْ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ، قَالُوا: يَا رَبِّ، وَأَيُّ شَيْءٍ أَفْضَلُ مِنْ ذَلِكَ؟ فَيَقُولُ: أُحِلُّ عَلَيْكُمْ رِضْوَانِي، فَلاَ أَسْخَطُ عَلَيْكُمْ بَعْدَهُ أَبَدًا " (رواه البخارى ومسلم)

حضرت ابو سعیدؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا کہ: (جنتی جب جنت میں پہنچ جائیں گے اور وہاں کی نعمتیں ان کو عطا ہو جائیں گی تو) اللہ تعالیٰ ان کو مخاطب کر کے فرمائیں گے، کہ اے اہلِ جنت! وہ عرض کریں گے، کہ اے ہمارے رب! ہم حاضر ہیں، حاضر ہین، آُ کی بارگاہ قدس میں، اور ساری خیر اور سب بھلائی آپ ہی کے قبضے میں ہے (جس کو چاہیں عطا فرمائیں، یا عطا نہ فرمائیں) پھر اللہ تعالیٰ ان بندوں سے فرمائیں گے، تم خوش ہو؟ (یعنی جنت اور جو نعمتیں جنت میں تم کو دی گئی، تم ان سے راضی ہو؟) یہ جنتی بندے عرض کریں گے، اے پروردگار! جب آپ نے ہمیں یہاں وہ کچھ نصیب فرمایا جو اپنی کسی مخلوق کو نہیں دیا تھا (یعنی آپ کی بخشش، اور آپ کے کرم سے جب یہاں ہمیں وہ نعمتیں اور وہ راحتیں اور لذتیں نصیب ہیں، جو دنیا میں کسی بڑے سے بڑے کو بھی نصیب نہیں تھیں) تو ہم کیوں راضی اور خوش نہ ہوں گے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرمائیں گے، کیا میں تمہیں اس سب سے اعلیٰ و افضل ایک چیز اور دوں! وہ بندے عرض کریں گے کہ خداودا! وہ کیا چیز ہے، جو اس جنت اور اس کی ان نعمتوں سے بھی افضل ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے، میں تم کو اب اپنی دائمی اور ابدی رضا مندی، اور خوشنودی کا تحفہ دیتا ہوں، اس کے بعد اب میں کبھی تم پر ناراض نہ ہوں گے۔ (بخاری و مسلم) تشریح جنت اور اس کی ساری نعمتیں عطا فرمانے کے بعد اس رب کریم کا اپنے بندوں سے پوچھنا، کہ “تم راضی ہو، خوش اور مطمئن ہو؟ “ بجائے خود کتنی بڑی نعمت ہے اور پھر دائمی رضا کا تحفہ، اور کبھی ناراض نہ ہونے کا اعلان، کتنا بڑا انعام اور احسان ے، اس سے جو لذت اور مسرت اہلِ جنت کو اس وقت حاصل ہو گی، اگر اس کا ایک ذرہ اس دنیا میں ہم پر منکشف کر دیا جائے، تو دنیا کی کسی لذت اور مسرت کی چاہت ہمارے دلوں میں نے رہے، بے شک، شے شک اللہ کی رضا، جنت اور اس کی ساری نعمتوں سے بہت ہی اعلیٰ و بالا ہے، “وَرِضْوَانٌ مِنَ اللَّهِ أَكْبَرُ” اور لذت و مسرت میں اعلان رضا سے بڑھ کر صرف “دیدارِ الہٰی ہے ”۔

126Maarif-ul-Hadith

جنت میں دیدارِ الہٰی

عَنْ صُهَيْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ: يَقُولُ اللهُ تَعَالَى: أَتُرِيدُونَ شَيْئًا أَزِيدُكُمْ؟ فَيَقُولُونَ: أَلَمْ تُبَيِّضْ وُجُوهَنَا؟ أَلَمْ تُدْخِلْنَا الْجَنَّةَ، وَتُنَجِّنَا مِنَ النَّارِ؟ قَالَ: فَيَرْفَعُ الْحِجَابُ فَيَنْظُرُوْنَ اِلَى وَجْهِ اللهِ، فَمَا أُعْطُوا شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنَ النَّظَرِ إِلَى رَبِّهِمْ ثُمَّ تَلَا "لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ ". (رواه مسلم)

حضرت صہیبؓ رومی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا کہ: جب جنتی جنت میں پہنچ جائیں گے، تو اللہ تعالیٰ ان سے ارشاد فرمائیں گے، کیا تم چاہتے ہو میں تم کو ایک چیز مزید عطا کروں؟ (یعنی تم کو جو کچھ اب تک عطا ہوا، اس پر مزید اور اس سے سوا ایک خاص چیز اور عنایت کروں)۔ وہ بندے عرض کریں گے، آپ نے ہمارے چہرے روشن کئے (یعنی سرخروئی اور خوبروئی عطا فرمائی) اور دوزخ سے بچا کر جنت میں داخل کیا (اب اس کے آگے اور کیا چیز ہو سکتی ہے جس کی ہم خواہش کریں)۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ ان بندوں کے اس جواب کے بعد یکا یک حجاب اٹھ جائے گا (یعنی ان کا آنکھوں سے پردہ اٹھا دیا جائے گا) پس وہ روئے حق، اور جمالِ الہٰی کو بے پردہ دیکھیں گے، پس ان کا حال یہ ہو گا (اور وہ محسوس کریں گے) کہ جو کچھ اب تک انہیںملا تھا،اس سب سے زیادہ محبوب اور پیاری چیز ان کے لئے یہی دیدار کی نعمت ہے، یہ بیان فرما کے آپ نے قرآن کی یہ آیت تلاوت فرمائی: “لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ” (جن لوگوں نے اس دنیا میں اچھی بندگی والی زندگی گزاری، ان کے لیے اچھی جگہ ہے (یعنی جنت وما فیہا) اور اس پر مزید ایک نعمت (یعنی دیدارِ حق)۔ (مسلم) تشریح حق تعالیٰ کا دیدار وہ سب سے بڑی نعمت ہے جس سے اہل جنت کو نوازا جائے گا، اور اللہ تعالیٰ نے جن کو عقلِ صحیح اور ذوق سلیم عطا کیا ہے، وہ اگر خعس اپنے سجداسن میں غور کریں، تو اس نعمت کی خواہش اور تمنا وہ ضرور اپنے میں پائیں گے، اور کیوں نہ ہو جو بندہ اپنے خالق اور رب کی بےشمار نعمتیں اس دنیا میں پا رہا ہے، اور پھر جنت میں پہنچ کر اس سے لاکھوں گنی نعمتیں پائے گا، لازماً اس کے دل میں یہ تمنا اور تڑپ پیدا ہو گی کہ کسی طرح میں اپنے اس محسن اور کریم رب کو دیکھ پاتا، جس نے مجھے وجود بخشا، اور جو اس طرح مجھ پر اپنی نعمتیں انڈیل رہا ہے۔ پس اگر اسے کبھی بھی یہ نظارہ نصیب نہ ہو، تو یقیناً اس کی لذت و مسرت اور اس کے عیش میں بڑی تشنگی رہے گی، اور اللہ تعالیٰ جس بندہ سے راضی ہو کر اس کو جنت میں پہنچائیں گے اس کو ہرگز اس سے تشنہ اور محروم نہیں رکھیں گے۔ اہلِ ایمانکے لیے قرآن مجید میں بھی اس نعمتِ عظمیٰ کی بشارت سنائی گئی ہے، اور رسول اللہ ﷺ نے بھی اپنے ارشادات میں صاف صاف اس کی خوش خبری دی ہے، اور تمام اہلِ ایمان نے بغیر کسی تردد کے اس پر یقین کیا ہے، لیکن بعض ایسے طبقے اور ایسے لوگ جو آخرت کی چیزوںکو بھی اس دنیا کے انداز سے سوچتے ہین، اوریہاں کے اپنے محدود علم و تجربے کو، علم و تجربے کاآخری اور انتہائی درجہ سمجھتے ہیں، انہیں اس مسئلہ میں شبہات پیش آتے ہیں، وہ سوچتے ہین کہ دیکھا تو اس چیز کو جا سکتا ہے جو جسم ہو اور اللہ تعالیٰ نہ جسم ہے، نہ اس کا کوئ رنگ ہے، اور نہ اس کے لیے آگے یا پیچھے کی کوئی جہت ہے، تو پھر اس کو دیکھا کیونکر جا سکتا ہے! حالانکہ یہ سراسر مغالطہ ہے، اگر اہلِ حق کا عقیدہ یہ ہوتا، کہ اللہ تعالیٰ کا دیدار دنیا کی انہی آنکھوں سے ہو گا، جو صرف جسم کی، اور کسی رنگ دار چیز ہی کو دیکھ سکتی ہیں، اور جن کی بینائی صرف اس چیز کاادراک کر سکتی ہے، جو ان کی سیدھ میں یعنی سامنے ہو، تو بے شک ان منکرین کا یہ سوچنا کسی درجہ میں صحیح ہوتا، لیکن نہ قرآن و حدیث نے یہ بتلایا ہے، اور نہ اہلِ حق کا یہ عقیدہ ہے۔ اہلِ حق، اہل السنۃ والجماعۃ جو قرآن و حدیث کے اتباع میں اس کے قائل ہیں، کہ جنت میں حق تعالیٰ کا دیدار ان بندوں کو نصیب ہو گا جو اس نعمتِ عظمیٰ کے مستحق ہوں گے، وہ اس کے بھی قائل ہیں، کہ اللہ تعالیٰ جنتیوں کو بہت سی ایسی قوتیں عطا فرمائین گے، جو اس دنیا میں کسی کو عطا نہیں ہوئیں، اور انہی میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ایسی آنکھیں عطا ہوں گی، جن کی بینائی کی قوت اتنی محدود اور کمزور نہ ہو گی، جتنی کہ اس دنیا میں ہماری آنکھوں کی ہے، اور ان ہی آنکھوں سے اہلِ جنت کو اپنے اس رب قدوس کا دیدار نصیب ہو گا، جو نہ جسم ہے، نہ اس کا کوئی رنگ ہے اور نہ اس کے لیے کوئی جہت ہے، بلکہ وہ ان سب چیزوں سے وراء الوراء ہے، وہ نور ہے، سراسر نور ہے اور سارے انوار کا سرچشمہ ہے۔ اس توضیح کے بعد بھی رؤیت باری کے مسئلہ میں جن لوگوں کو عقلی استحالہ کا وسوسہ ہو، انہیں ذرا دیر کے لیے اس پر غور کرنا چاہیے کہ اپنی مخلوقات کو اللہ تعالیٰ بھی دیکھتا ہے، یا نہیں؟ اگر دیکھنا صرف ان ہی ذرائع سے، اور ان ہی شرائط کے ساتھ ہو سکتا ہے جن سے ہم دیکھتے ہیں، تو پھر تو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ بھی کسی کو نہ دیکھ سکتا ہو، کیوں کہ نہ اس کی آنکھ ہے، اور نہ کوئ مخلوق اس کی نسبت سے کسی جہت میں ہے۔ پس جو لوگ اس پر ایمان رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آنکھوں کے بغیر دیکھتا ہے، اور ہماری آنکھیں جن چیزوں کو کسی طرح، اور کسی حال نہیں دیکھ سکتیں، وہ ان کو بھی دیکھتا ہے اور بغیر مقابلہ اور جہت کے دیکھتا ہے، انہیں رؤیتِ باری کے مسئلہ میں بھی اس قسم کا کوئی وسوسہ نہ ہونا چاہئے، اور اللہ و رسول کی اطلاعات اور بشارات پر یقین کرتے ہوئے سمجھ لینا چاہئے کہ آخرت میں اللہ تعالیٰ اپنی قدرت اور رحمت سے ایسی آنکھیں نصیب فرمائیں گے، جو حق تعالیٰ شانہ کے جمال کے نظارہ کی لذت بھی حاصل کر سکیں گی۔ قرآن پاک میں اہلِ ایمان کو بشارت سنائی گئی ہے، کہ “وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ” (مطلب یہ ہے کہ اہلِ جنت کے چہرے اس دن ترو تازہ ہوں گے، وہ خوش و خرم اور شاد ہوں گے اور اپنے رب کو دیکھتے ہوں گے)۔ اور اس کے بالمقابل دوسرے موقع پر مکذبین اور منکرین کے بارے میں فرمایا گیا ہے “إِنَّهُمْ عَنْ رَبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَمَحْجُوبُونَ” (یعنی یہ بدنصیب لوگ اس دن اپنے رب سے روک دئیے جائیں گے، اس کی زیارت اور اس کے دید سے محروم رکھے جائیں گے)۔ جنت میں حق تعالیٰ کی رؤیت سے متعلق رسول اللہ ﷺ سے جو احادیث مروی ہیں، وہ سب مل کر حد تواتر کو پہنچ جاتی ہیں، اور ایک مومن کے یقین کے لیے بالکل کافی ہیں، ذیل میں ان میں سے صرف چند حدیثیں درج کی جاتی ہیں: آنکھوں سے پردہ اٹھنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ دفعۃً ان کی آنکھوں کو بینائی کی ایسی طاقت عطا فرما دے گا، کہ وہ روئے حق کا نظارہ کر سکیں گے۔ واللہ اعلم۔ رسول اللہ ﷺ نے آخر میں جو آیت تلاوت فرمائی، اس کے ذریعہ یہ بتلایا ہے کہ اس آیت میں “زِيَادَةٌ” سے مراد حق تعالیٰ کے دیدار کی نعمت ہے، جو جنت اور نعمائے جنت کے علاوہ اور ان سے سوا ہے۔

127Maarif-ul-Hadith

جنت میں دیدارِ الہٰی

عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرَ إِلَى القَمَرِ لَيْلَةَ البَدْرِ قَالَ: «إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا القَمَرَ، لاَ تُضَامُونَ فِي رُؤْيَتِهِ، فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لاَ تُغْلَبُوا عَلَى صَلاَةٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، وَصَلاَةٍ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ، فَافْعَلُوا ثُمَّ قَرَأَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا ». (رواه البخارى ومسلم)

جریر بن عبداللہ بجلی سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ (ایک رات کو) ہم رسول اللہ ﷺ کے پس بیٹھے ہوئے تھے، آپ نے چاند کی طرف دیکھا، اور یہ چودھویں رات تھی (اور چودھویں کا چاند پوری آب و تاب کے ساتھ، اور بھرپور نکلا ہوا تھا) پھر آپ نے ہم سے مخاطب ہو کر فرمایا، کہ: ”یقیناً تم اپنے پروردگار کو اسی طرح دیکھو گے، جیسے کہ اس چاند کو دیکھ رہے ہو، تمہیں اس کے دیکھنے میں کوئی کشمکش نہیں کرنی پڑے گی، اور کوئی زحمت نہ ہو گی، پس اگر تم یہ کر سکو، کہ طلوع آفتاب سے پہلی نماز، اور غروب آفتاب سے پہلی والی نماز کے مقابلے میں کوئی چیز کبھی تم پر غالب نہ آئے (یعنی کوئی مشغلہ اور کوئی دلچسپی اور آرام طلبی ان نمازوں کے وقت میں تمہیں اپنی طرف متوجہ نہ کر سکے) تو لازماً ایسا کرو (پھر ان شاء اللہ دیدارِ حق اور نظارہ جمالِ الہٰی کی نعمت ضرور تم کو نصیب ہو گی) اس کے بعد آپ نے یہ آیت پڑھی: “وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا”۔ (اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو (یعنی اس کی تعریف بیان کرنے کے ساتھ اس کی پاکی بیان کرو) سورج کے نکلنے سے پہلے، اور اس کے ڈوبنے سے پہلے“۔ (بخاری و مسلم) تشریح دنیا میں جب کسی حسین و جمیل چیز کے دیکھنے والے لاکھوں کروڑوں جمع ہو جائیں اور سب اس کے دیکھنے کے انتہائی درجہ میں مشتاق ہوں، تو ایسے موقعوں پر عموماً بڑی کشمکش اور بڑی زحمت ہوتی ہے، اور اس چیز کو اچھی طرح دیکھنا بھی مشکل ہوتا ہے، لیکن چاند کا معاملہ یہ ہے کہ اس کو مشرق و مغرب کے آدمی بغیر کسی کشمکش اور زحمت کے، اور پورے اطمینان سے بیک وقت دیکھ سکتے ہیں، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے اس کی مثال سے سمجھایا، کہ جنت میں حق تعالیٰ کا دیدار اسی طرح بیک وقت اس کے بے شمار خوش نصیب بندوں کو نصیب ہو گا، اور کسی کو کشمکش اور زحمت سے سابقہ نہیں پڑے گا، سب کی آنکھیں بڑے سکون و اطمینا سے وہاں جمالِ حق کے نظارہ کی لذت حاصل کریں گی۔ اللَّهُمَّ اجْعَلْنَا مِنْهُمْ۔ آخر میں رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسے عمل کی طرف بھی توجہ دلائی جو بندہ کو اس نعمت (دیدارِ حق) کا مستحق بنانے میں خاص اثر رکھتا ہے، یعنی فکر و عصر کی نمازوں کا خصوصیت سے ایسا اہتمام، کہ کوئی مشغولیت اور کوئی دلچسپی ان نمازوں کے وقت میں اپنی طرف متوجہ نہ کر سکے، اگرچہ فرض تو پانچ نمازیں ہیں، لیکن نصوص کتاب و سنت ہی سے مفہوم ہوتا ہے کہ ان دو نمازوں کو خاص اہمیت اور فضیلت حاصل ہے،رسول اللہ ﷺ نے قرآنی آیت: “وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا” پڑھ کر، ان دو نمازوں کی اسی خصوصیت اور فضیلت کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔

128Maarif-ul-Hadith

جنت میں دیدارِ الہٰی

عَنْ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَكُلُّنَا يَرَى رَبَّهُ مُخْلِيًا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، قَالَ بَلَى قُلْتُ وَمَا آيَةُ ذَالِكَ ؟ قَالَ: يَا أَبَا رَزِينٍ، أَلَيْسَ كُلُّكُمْ يَرَى الْقَمَرَ لَيْلَةَ الْبَدْرِ مُخْلِيًا بِهِ قَالَ: بَلَى، قَالَ: «فَإِنَّمَا هُوَ خَلْقٌ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَجَلُّ وَأَعْظَمُ» (رواه ابو داؤد)

ابو رزین عقیلی سے روایت ہے کہتے ہیں کہ میں نے ایک دن رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا قیامت میں ہم میں سے ہر ایک اپنے رب کو اکیلا (بغیر بھیڑ بھاڑ اور کشمکش کے) دیکھ سکے گا؟ آپ نے فرمایا: ہاں! دیکھ سکے گا، میں نے عرض کیا: اور کیا اس کی کوئی نشانی اور مثال (ہماری اس دنیا میں بھی ہے) آپ نے فرمایا: اے ابو رزین! کیا چودھویں رات کو تم میں سے ہر ایک چاند کو بجائے خود اور اکیلا بغیر بھیڑ بھاڑ کے نہیں دیکھتا؟ میں نے عرض کیا کہ: ہاں بے شک چاند کو تو ہم سب ہی اسی طرح دیکھتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ: وہ تو اللہ کی مخلوق ہے، اور اللہ تو بڑی جلالت والا اور نہایت عظمت والا ہے (پھر اس کے لیے کیا چیز مشکل ہے)۔ (ابو دؤد)

129Maarif-ul-Hadith

دوزخ اور اس کا عذاب

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «نَارُكُمْ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ»، قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ كَانَتْ لَكَافِيَةً قَالَ: «فُضِّلَتْ عَلَيْهِنَّ بِتِسْعَةٍ وَسِتِّينَ جُزْءًا كُلُّهُنَّ مِثْلُ حَرِّهَا» (رواه البخارى ومسلم واللفظ البخارى)

ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: تمہاری اس دنیا کی آگ دوزخ کی آگ سے ستر حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! یہی (دنیا کی آگ) کافی تھی؟ آپ نے فرمایا: ”دوزخ کی آگ دنیا کی آگ کے مقابلہ میں انہتر (۶۹) درجہ بڑھا دی گئی ہے، اور ہر درجہ کی حرارت آتش دنیا کی حرارت کے برابر ہے “۔ (صحیح بخاری و مسلم) تشریح جس طرح جنت کے متعلق قرآن پاک کی آیات اور رسول اللہ ﷺ کی احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں اعلیٰ درجے کی ایسی لذتیں اور راحتیں ہیں، کہ دنیا کی بڑی لذتوں اور راحتوں کو ان سے کوئی نسبت نہیں، اور پھر وہ سب ابدی اور غیر فانی ہیں، اسی طرح دوزخ کے متعلق قرآن و حدیث میں جو کچھ بتلایا گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں ایسی تکلیفیں اور ایسے دکھ ہیں کہ دنیا کے بڑے سے بڑے دکھوں اور بڑی سے بڑی تکلیفوں کو ان سے کوئی نسبت نہیں۔ بلکہ واقعہ یہ ہے کہ قرآن و حدیث کے الفاظ سے جنت کے عیش و راحت اور دوزخ کے دُکھ اور عذاب کا جو تصور اور جو نقشہ ہمارے ذہنوں میں قائم ہوتا ہے وہ بھی اصل حقیقت سے بہت ناقص اور کمتر ہے، اور یہ اس لیے کہ ہماری زبان کے سارے الفاظ ہماری اس دنیا کی چیزوں کے لیے وضع کئے گئے ہیں، مثلاً سیب یا انگور کے لفظوں سے ہمارا ذہن بس اسی قسم کے سیبوں یا انگوروں کی طرف جا سکتا ہے جن کو ہم نے دیکھا اور چکھا ہے ہم جنت کے ان سیبوں اور انگوروں کی اصل حقیقت اور کیفیت کا تصور کیسے کر سکتے ہیں۔ جو اپنی خوبیوں میں یہاں کے سیبوں اور انگوروں سے ہزاروں درجہ زیادہ ترقی یافتہ ہوں گے، اور جن کا کوئی نمونہ ہم نے یہاں نہیں دیکھا۔ اسی طرح مثلاً سانپ اور بچھو کے لفظ سے ہمارا ذہن اسی قسم کے سانپوں اور بچھوؤں کی طرف جا سکتا ہے جو ہم نے اس دنیا میں دیکھے ہیں، دوزخ کے ان سانپوں اور بچھوؤں کا پورا نقشہ ہمارے ذہنوں میں کیسے آسکتا ہے جو اپنی جسامت اور خوف ناکی اور زہریلے پن میں یہاں کے ان سانپوں اور بچھوؤں سے ہزاروں درجہ بڑھے ہوئے ہوں گے، اور کبھی ہم نے ان کی تصویر تک نہیں دیکھی ہے۔ بہر حال قرآن و حدیث کے الفاظ سے بھی جنت و دوزخ کی چیزوں کی اصل کیفیت، اور اصل حقیقت کو ہم یہاں پورے طور پر نہیں سمجھ سکتے، بس وہاں پہنچ کر ہی معلوم ہو گا، کہ جنت کے عیش و راحت کے بارے میں جو کچھ ہم نے جانا اور سمجھا تھا، ہمارا وہ علم بڑا ہی ناقص تھا، اور جنت میں تو اس سے ہزاروں درجہ عیش و راحت ہے، اور دوزخ کے دکھ اور عذاب کے بارے میں جو کچھ ہم نے سمجھا تھا اصل حقیقت کے مقابلے میں وہ بھی بہت ہی ناقص تھا، اور یہاں تو ہمار ے سمجھے ہوئے سے ہزاروں گنا زیادہ دکھ اور عذاب ہے۔ اور جیسا کہ اس سے پہلے جنت کے بیان میں بتلایا جا چکا ہے، دوزخ اور جنت کے متعلق جو کچھ قرآن و حدیث میں بیان فرمایا گیا ہے اس کا یہ مقصد ہے ہی نہیں، کہ جو کچھ وہاں پر پیش آنے والا ہے، اس کو ہم یہاں پوری طرح سمجھ لیں اور جان لیں، اور وہاں کے حالات کا صحیح نقشہ ہمارے سامنے آ جائے، بلکہ اس بیان کا اصل مقصد تبشیر اور انزار ہے، یعنی جنت کا شوق اور دوزخ کا خوف دلا کر اللہ کی رضا والی اور دوزخ سے بچا کر جنت میں پہنچانے والی زندگی پر اللہ کے بندوں کو آمادہ کرنا، اور اس مقصد کے لیے جنت و دوزخ سے متعلق قرآن و حدیث کا یہ بیان بالکل کافی ہے، پس اس سلسلے کی آیات و احادیث پر غور کرتے وقت ہمیں اسی خاص مقصد کو سامنے رکھنا چاہے۔ تشریح۔۔۔ اس دنیا کی آگ کی قسموں میں بھی درجہ حرارت میں بعض بعض سے بہت بڑھی ہوئی ہیں، مثلاً لکڑی کی آگ میں گھاس پھونس کی آگ سے زیادہ گرمی ہوتی ہے اور مثلاً پتھر کے کوئلے کی آگ میں لکڑی کی آگ کے مقابلے میں بہت زیادہ حرارت ہوتی ہے اور بعض بموں سے جو آگ پیدا ہوتی ہے، وہ درجہ حرارت میں ان سے بدرجہا بڑھی ہوئی ہوتی ہے اور اب تو آلات سے معلوم کرنا بھی آسان ہو گیا ہے کہ ایک آگ دوسری آگ کے مقابلہ میں کتنے درجہ کم یا زیادہ گرم ہے، پس اب حدیث کے اس مضمون کا سمجھنا کچھ مشکل نہیں رہا، کہ ”دوزخ کی آگ دنیا کی آگ کے مقابلہ میں سر درجہ زیادہ حرارت اپنے اندر رکھتی ہے“۔ اور جیسا کہ پہلے بھی کئی بار شرح حدیث کے اسی سلسلہ میں بتلایا گیا ہے کہ عربی زبان میں ایسے موقعوں پر ستر کا عدد کسی چیز کی صرف زیادتی اور کثرت ظاہر کرنے کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے، پس ہو سکتا ہے، کہ اس حدیث میں بھی یہ عدد اسی محاورے کے مطابق استعمال کیا گیا ہو، اس صورت میں حدیث کا حاصل یہ ہو گا کہ دوزخ کی آگ اپنی گرمی، اور جلانے کی صفت میں دنیا کی آگ سے بہت زیادہ بڑھی ہوئی ہے۔ واللہ اعلم۔ آگے حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب دوزخ کی آگ کا یہ حال بیان فرمایا تو کسی صحابی نے عرض کیا، کہ یا رسول اللہ! دنیا کی آگ کی حرارت ہی کافی تھی، اس پر آپ نے اور زیادہ واضح لفظوں میں پھر پہلے ہی مضمون کو دہرایا، اس کے علاوہ کوئی اور جواب نہیں دیا، غالباً اس طریق جواب سے آپ نے اس پر متنبہ فرمایا، کہ ہمیں اللہ کے افعال اور اس کے فیصلوں کے بارے میں ایسے سوالات نہیں کرنا چاہئیں، جو کچھ اس نے کیا ہے، اور جو کچھ وہ کرے گا، وہی ٹھیک ہے۔

130Maarif-ul-Hadith

دوزخ اور اس کا عذاب

عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا مَنْ لَهُ نَعْلَانِ وَشِرَاكَانِ مِنْ نَارٍ، يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ كَمَا يَغْلِ الْمِرْجَلُ، مَا يَرَى أَنَّ أَحَدًا أَشَدُّ مِنْهُ عَذَابًا وَإِنَّهُ لَأَهْوَنُهُمْ عَذَابًا» (رواه البخارى ومسلم)

نعما ن بن بشیر سے روایت ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا کہ دوزخیوں میں سب سے ہلکے عذاب والا وہ شخص ہو گا، جس کی چپلیں اور ان چپلوں کے تسمے آگ کے ہوں گے، ان کی گرمی سے اس کا دماغ اس طرح کھولے گا اور جوش مارے گا، جس طرح چولہے پر دیگچی کھولتی ہے۔ اور اس میں جوش آتا ہے وہ نہیں خیال کرے گا، کہ کوئی شخص اس سے زیادہ سخت عذاب میں بھی ہے (یعنی وہ اپنے ہی کو سب سے زیادہ سخت عذاب میں سمجھے گا) حالانکہ وہ دوزخیوں میں سب سے ہلکے عذاب والا ہو گا۔ (بخاری و مسلم)

131Maarif-ul-Hadith

دوزخ اور اس کا عذاب

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُؤْتَى بِأَنْعَمِ أَهْلِ الدُّنْيَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُصْبَغُ فِي النَّارِ صَبْغَةً، ثُمَّ يُقَالُ: يَا ابْنَ آدَمَ هَلْ رَأَيْتَ خَيْرًا قَطُّ؟ هَلْ مَرَّ بِكَ نَعِيمٌ قَطُّ؟ فَيَقُولُ: لَا، وَاللهِ يَا رَبِّ وَيُؤْتَى بِأَشَدِّ النَّاسِ بُؤْسًا فِي الدُّنْيَا، مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَيُصْبَغُ صَبْغَةً فِي الْجَنَّةِ، فَيُقَالُ لَهُ: يَا ابْنَ آدَمَ هَلْ رَأَيْتَ بُؤْسًا قَطُّ؟ هَلْ مَرَّ بِكَ شِدَّةٌ قَطُّ؟ فَيَقُولُ: لَا، وَاللهِ يَا رَبِّ مَا مَرَّ بِي بُؤْسٌ قَطُّ، وَلَا رَأَيْتُ شِدَّةً قَطُّ " (رواه مسلم)

حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ قیامت کے دن اہلِ دوزخ میں سے (یعنی ان لوگوں میں سے جو اپنے کفر و شرک کی وجہ سے یا فسق و فجور کی وجہ سے دوزخ میں جانے والے ہوں گے) ایک ایسے شخص کو لایا جائے گا جس نے اپنی دنیا کی زندگی نہایت عیش و آرام کے ساتھ گزاری ہو گی، اور پھر اس کو دوزخ کی آگ میں ایک غوطہ دلایا جائے گا (یعنی جس طرح کپڑے کو رنگتے وقت رنگ میں ڈال کر اور بس ایک ڈوب دے کر نکال لیتے ہیں، اسی طرح اس شخص کو دوزخ کی آگ میں ڈال کر فوراً نکال لیا جائے گا) پھر اس سے کہا جائے گا، کہ آدم کے فرزند! کیا تو نے کبھی خیریت اور اچھی حالت بھی دیکھی ہے، اور کیا کبھی عیش و آرام کا کوئی دور تجھ پر گذرا ہے؟ وہ کہے گا کبھی نہیں، قسم خدا کی اے پروردگار! اور ایک شخص اہلِ جنت میں سے (یعنی ان خوش نصیب بندوں میں سے جو اپنی ایمان والی زندگی کی وجہ سے جنت کے مستحق ہوں گے) ایسا لایا جائے گا جس کی زندگی دنیا میں سب سے زیادہ تکلیف میں اور دکھ میں گزری ہو گی، اور اس کو ایک غوطہ جنت میں دیا جائے گا (یعنی جنت کی فضاؤں اور ہواؤں میں پہنچا کر فوراً نکال لیا جائے گا) اور اس سے کہا جائے گا، کہ اے آدم کے فرزند! کیا کبھی تو نے کوئی دکھ دیکھا۔ اور کیا تجھ پر کوئی دور شدت اور تکلیف کا گزرا ہے، پس وہ کہے گا نہیں، خدا کی قسم اے میرے پروردگار! مجھ پر کبھی کوئی تکلیف نہیں گذری، اور میں نے کبھی کسی تکلیف کا منہ نہیں دیکھا! (مسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ دوزخ کا عذاب اتنا سخت ہے کہ اس کا ایک لمحہ عمر بھر کے عیش و راحت کو بھلا دے گا، اور جنت میں وہ راحت اور عیش ہے کہ اس میں قدم رکھتے ہی آدمی عمر بھر کے سارے دکھ اور ساری کلفتیں بھول جائے گا۔

132Maarif-ul-Hadith

دوزخ اور اس کا عذاب

عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى كَعْبَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى حُجْزَتِهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى تَرْقُوَتِهِ» (رواه مسلم)

سمرہ بن جندب سے روایت ہے، کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: دوزخیوں میں سے بعض وہ ہوں گے کہ جن کو پکڑے گی آگ ان کے ٹخنوں تک، اور بعض وہ ہوں گے کہ جن کو پکڑے گی آگ ان کے زانوؤں تک، اور بعض وہ ہوں گے کہ جن کو پکڑے گی آگ ان کے کمرتک، اور بعض وہ ہوں گے کہ جن کو پکڑے گی آگ ان کے ہنسلی تک۔ (مسلم) تشریح حدیث کا مقصد یہ ہے کہ دوزخ میں سب ایک درجہ میں اور ایک ہی حال میں نہیں ہوں گے، بلکہ جرائم کی نوعیت کے لحاظ سے ان کے عذاب میں کمی بیشی ہو گی، مثلاً کچھ لوگوں کا حال یہ ہو گا کہ آگ ان کے صرف ٹخنوں تک پہنچے گی،اور کچھ لوگوں پر عذاب ان سے زیادہ ہو گا، اور آگ ان کے زانوؤں تک پہنچے گی، اور کچھ لوگوں پر اس سے زیادہ ہو گا، اور آگ ان کی کمر تک پہنچا کرے گی، اور کچھ لوگان سے بھی سخت تر اور بدتر حالت میں رہیں گے، اور آگ ان کی گردن تک پہنچے گی۔ اَللَّهُمَّ احْفَظْنَا

133Maarif-ul-Hadith

دوزخ اور اس کا عذاب

عَنْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ فِي النَّارِ حَيَّاتٍ كَأَمْثَالِ الْبُخْتِ، تَلْسَعُ إِحْدَاهُنَّ اللَّسْعَةَ فَيَجِدُ حَمْوَتَهَا أَرْبَعِينَ خَرِيفًا، وَإِنَّ فِي النَّارِ عَقَارِبَ كَأَمْثَالِ الْبِغَالِ الْمُوكَفَةِ، تَلْسَعُ إِحْدَاهُنَّ اللَّسْعَةَ، فَيَجِدُ حَمْوَتَهَا أَرْبَعِينَ خَرِيْفًا» (رواه احمد)

عبداللہ بن الحارث سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا کہ: جہنم میں سانپ ہیں، جو اپنی جسامت میں بختی اونٹوں کے برابر ہیں (جو جثّہ میں عام اونٹوں سے بھی بڑے ہوتے ہیں) اور وہ اس قدر زہریلے ہیں کہ ان میں کا کوئی سانپ جس دوزخی کو ایک دفعہ ڈسے گا، تو چالیس سال کی مدت تک وہ اس کے زہر کا اثر پائے گا (اور تڑپے گا) اور اسی طرح دوزخ میں بچھو ہیں، جو (اپنی جسامت میں) پالان بندھے خچروں کی مانند ہیں (وہ بھی ایسے ہی زہریلے ہیں کہ) ان میں سے کوئی کسی دوزخی کو ایک دفعہ ڈنک مارے گا، تو چالیس سال تک وہ اس کے زہر کی تکلیف پائے گا (مسند احمد)

134Maarif-ul-Hadith

دوزخ اور اس کا عذاب

عَنْ اَبِىْ سَعِيْدٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ أَنَّ دَلْوًا مِنْ غَسَّاقٍ يُهْرَاقُ فِي الدُّنْيَا لأَنْتَنَ أَهْلَ الدُّنْيَا. (رواه الترمذى)

ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا کہ: غساق (یعنی وہ سڑی ہوئی پیپ جو جہنمیوں کے زخموں سے نکلے گی اور جس کے متعلق قرآن مجید میں بتلایا گیا ہے کہ وہی انتہائی بھوک میں ان کی غذا ہو گی، وہ اس قدر بدبودار ہو گی کہ) اگر اس کا ایک ڈول اس دنیا پر بہا دیا جائے، تو ساری دنیا (اس کی سڑاہند سے) بدبودار ہو جائے (ترمذی)

135Maarif-ul-Hadith

دوزخ اور اس کا عذاب

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ هَذِهِ الآيَةَ: {اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلاَ تَمُوتُنَّ إِلاَّ وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ أَنَّ قَطْرَةً مِنَ الزَّقُّومِ قُطِرَتْ فِي دَارِ الدُّنْيَا لأَفْسَدَتْ عَلَى أَهْلِ الدُّنْيَا مَعَايِشَهُمْ، فَكَيْفَ بِمَنْ يَكُونُ طَعَامَهُ؟. (رواه الترمذى)

عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: “اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلاَ تَمُوتُنَّ إِلاَّ وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ” (اللہ سے ڈرو، جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے، اور فیصلہ کر لو کہ ہرگز نہ مرو گے، مگر اس حال میں کہ تم مسلم (اللہ کے فرمانبردار بندے) ہو گے) (اور اللہ سے اس کے عذاب سے ڈرنے کے سلسلے میں) آپ نے بیان فرمایا کہ “زَّقُّوم” (جس کے متعلق قرآن مجید میں ہے کہ وہ جہنم میں پیدا ہونے والا ایک درخت ہے، اور وہ دوزخیوں کی خوراک بنے گا) اگر اس کا ایک قطرہ اس دنیا میں ٹپک جائے، تو زمین پر بسنے والوں کے سارے سامانِ زندگی کو خراب کر دے، پس کیا گزرے گی اس شخص پر جس کا کھانا وہی زقوم ہو گا (ترمذی) تشریح مطلب یہ ہے کہ زقوم اس قدر گندی اور زہریلی چیز ہے، کہ اگر اس کا ایک قطرہ ہماری اس دنیا میں ٹپک جائے تو یہاں کی تمام چیزیں اس کی بدبو اور گندگی اور زہریلے پن سے متاثر ہو جائیں، اور ہمارے کھانے پینے کی ساری چیزیں خراب ہو جائیں، پس سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ زقوم جس کو کھانا پڑے گا اس پر کیا گزرے گی۔

136Maarif-ul-Hadith

دوزخ اور اس کا عذاب

عَنْ أَنَسِ عَنِ النَّبِىِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، ابْكُوا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِيْعُوْا فَتَبَاكَوْا؛ فَإِنَّ أَهْلَ النَّارِ يَبْكُونَ فِى النَّارِ حَتَّى تَسِيلَ دُمُوعُهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ كَأَنَّهَا جَدَاوِلُ حَتَّى تَنْقَطِعَ الدُّمُوعُ فَتَسِيلَ الدِّمَاءُ، فَتَقْرَحَ الْعُيُونَ، فَلَوْ أَنَّ سُفُنًا أُجْرِيَتْ فِيهِ لَجَرَتْ» (رواه البغوى فى شرح السنة)

حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (اپنے ایک خطاب میں) فرمایا کہ: اے لوگو (اللہ اور اس کے عذاب کے خوف سے) خوب روؤ، اوراگر تم یہ نہ کر سکو، یعنی اگر حقیقی گریہ کی کیفیت تم پر طاری نہ ہو (کیوں کہ وہ ایسی اختیاری چیز نہیں ہے کہ آدمی جب چاہے اس کو اپنے اندر پیدا کر سکے) تو پھر (اللہ کے قہر اور اس کے عذاب کا خیال کر کے) تکل سے روؤ، اور رونے کی شکل بناؤ، کیوں کہ دوزخی دوزخ میں اتنا روئیں گے کہ ان کے چہروں پر ان کے آنسو ایسے بہیں گے، کہ گویا وہ (بہتی ہوئی) نالیاں ہیں، یہاں تک کہ آنسو ختم ہو جائیں گے، اور پھر (آنسوؤں کی جگہ) خون بہے گا اور پھر (اس خون بہنے سے) آنکھوں میں زخم پڑ جائیں گے (اور پھر ان زخموں سے اور زیادہ خون جاری ہو گا، اور ان دوزخیوں کے ان آنسوؤں اور خونوں کی مجموعی مقدار اتنی ہو گی کہ اگر کشتیاں اس میں چلائی جائیں تو خوب چلیں۔ (شرح السنہ) تشریح حدیث کا مقصد یہ ہے کہ دوزخ میں اتنا دکھ اور ایسا عذاب ہو گا، کہ آنکھیں آنسوؤں کا ذخیرہ ختم کر کے خون روئیں گی، اور اس مسلسل رونے سے ان میں زخم پڑ جائیں گے، پس وہاں کے اس دکھ اور عذاب سے، اور آنسوؤں کا اور خون کا دریا بہانے والے اس رونے سے بچنے کے لیے آدمیوں کو چاہئے، کہ وہ یہاں اپنے اندر خدا کا خوف پیدا کریں، اور روئیں، دوسری ایک حدیث میں ہے کہ “لَا يَلِجُ النَّارَ أَحَدٌ بَكَى مِنْ خَشْيَةِ اللهِ، حَتَّى يَعُودَ اللَّبَنُ فِي الضَّرْعِ” (۱) (یعنی جو یہاں اللہ کے خوف سے روئے گا، وہ ہرگز دوزخ میں نہیں جائے گا) بہرحال اللہ کے خوف سے رونا اور اگر رونا نہ آئے تو رونے کی صورت ہی بنانا، اللہ کے رحم کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا خاص ذریعہ ہے، اور دوزخ کے عذاب سے بچانے والے خاص اعمال میں سے ہے۔

137Maarif-ul-Hadith

دوزخ اور اس کا عذاب

عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: «أَنْذَرْتُكُمُ النَّارَ، أَنْذَرْتُكُمُ النَّارَ، » فَمَا زَالَ يَقُولُهَا حَتَّى لَوْ قَامَ فِي مَقَامِي هَذَا، سَمِعَهُ أَهْلُ السُّوقِ، وَحَتَّى سَقَطَتْ خَمِيصَةٌ كَانَتْ عَلَيْهِ عِنْدَ رِجْلَيْهِ. (رواه الدارمى)

نعمان بن بشیر سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ (اپنے ایک خطاب میں) فرماتے تھے: میں نے تمہیں آتش دوزخ سے خبردار کردیا ہے، میں نے تمہیں دوزخ کے عذاب سے آگاہ کر دیا ہے۔ آپ یہی کلمہ بار بار فرماتے تھے (آگے حدیث کے راوی نعمان بن بشیر کہتے ہیں کہ آپ یہ بات اتنی بلند آواز سے فرماتے) کہ اگر آپ اس جگہ ہوتے جہاں پر اس وقت میں ہوں (اور یہاں سے فرماتے) تو بازار والے بھی آپ کے اس ارشاد کو سن لیتے، اور (اس وقت آپ پر خود فراموشی کی ایک خاص کیفیت طاری تھی) یہاں تک کہ آپ کی کمبلی جو اس وقت آپ اوڑھے ہوئے تھے، آپ کے قدموں کے پاس آ گری۔ (دارمی) تشریح بعض خطابات کے وقت حضور ﷺ کی کوئی خاص کیفیت ہوتی تھی، صحابہ کرامؓ اس کی کوشش فرماتے تھے کہ ان خطابات کی روایت کے وقت اس خاص کیفیت کو بھی کسی طرح نقل کر دیں، چنانچہ حضرت نعماب بن بشیر نے اس حدیث کے بیان میں جو اتنی تفصیل کی تو اس سے ان کا مقصد یہی تھا۔ کہ لوگوں کو یہ بات بتلا دیں کہ اس خطاب کے وقت آپ کی یہ خاص حالت تھی، اور دوسروں کو دوزخ سے ڈراتے ہوئے آپ خود اتنے متاثر ہوتے تھے۔

138Maarif-ul-Hadith

جنت اور دوزخ کے بارے میں ایک اہم انتباہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حُفَّتِ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ وَحُفَّتِ الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِِ» (رواه البخارى ومسلم)

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دوزخ شہوات و لذات سے گھیر دی گئی ہے اور جنت سختیوں اور مشقتوں سے گھری ہوئی ہے“۔ (بخاری و مسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ معاصی، یعنی جو اعمال انسان کو دوزخ میں پہنچانے والے ہیں، ان میں عموماً نفس کی شہوت و لذت کا بڑا سامان ہے، اور طاعات یعنی جو اعمال انسان کو جنت کا مستحق بنانے والے ہیں وہ عموماً نفسِ انسانی کے لیے شاق اور گراں ہیں پس جو شخص نفس کی خواہشوں سے مغلوب ہو کر معاصی کا ارتکاب کرے گا، اس کا ٹھکانا دوزخ ہو گا، اور اللہ کا جو بندہ اللہ کی فرمانبرداری کی مشقتوں کو برداشت کرے گا، اور خواہشات والی ”خوشگوار اور لذیذ“ زندگی کے بجائے احکام الہٰی کی اطاعت والی مجاہدہ کی زندگی گزارے گا، وہ جنت میں اپنا مقام حاصل کر لے گا۔ اس سے اگلی حدیث میں اسی حقیقت کو ایک اور عنوان سے، اور کسی قدر تفصیل سے بیا فرمایا گیا ہے۔

139Maarif-ul-Hadith

جنت اور دوزخ کے بارے میں ایک اہم انتباہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْجَنَّةَ قَالَ لِجِبْرِيلَ: اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا، فَذَهَبَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: أَيْ رَبِّ وَعِزَّتِكَ لَا يَسْمَعُ بِهَا أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَهَا، ثُمَّ حَفَّهَا بِالْمَكَارِهِ، ثُمَّ قَالَ: يَا جِبْرِيلُ اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا، فَذَهَبَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا، ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: أَيْ رَبِّ وَعِزَّتِكَ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ لَا يَدْخُلَهَا أَحَدٌ " قَالَ: " فَلَمَّا خَلَقَ اللَّهُ النَّارَ قَالَ: يَا جِبْرِيلُ اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا، فَذَهَبَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا، ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: أَيْ رَبِّ وَعِزَّتِكَ لَا يَسْمَعُ بِهَا أَحَدٌ فَيَدْخُلُهَا، فَحَفَّهَا بِالشَّهَوَاتِ ثُمَّ قَالَ: يَا جِبْرِيلُ اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا، قَالَ فَذَهَبَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا، ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: أَيْ رَبِّ وَعِزَّتِكَ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ لَا يَبْقَى أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَهَا " (رواه الترمذى وابوداؤد والنسائى)

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا کہ: جب اللہ نے جنت کو بنایا، تو اپنے مقرب فرشتے جبرئیل سے فرمایا کہ تم جاؤ اور اس کو دیکھو (کہ ہم نے اس کو کیسا بنایا ہے، اور اس میں کیسی کیسی نعمتیں پیدا کیں ہیں) چنانچہ وہ گئے، اور انہوں نے جا کر جنت کو اوعر راحت و لذت کے ان سامانوں کو دیکھا، جو اللہ تعالیٰ نے اہلِ جنت کے لیے اس میں تیار کئے ہیں، اور پھر حق تعالیٰ کے حضور میں حاضر ہوئے اور عرض کیا، کہ خداوندا! آپ کی عزت و عظمت کی قسم (آپ نے جنت کو ایسا حسین بنایا ہے اور اس میں راحت و لذت کے ایسے ایسے سامان پیدا کئے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ) جو کوئی بھی اس کا حال سن پائے گا، وہ اس میں ضرور پہنچے گا (یعنی اس کا حال سن کر وہ دل و جان سے اس کا طالب بن جائے گا، اور پھر اس میں پہنچنے کے لئے جو اچھے اعمال کرنے چاہئیں وہ پویر مستعدی کے ساتھ وہی اعمال کرے گا، اور جن برے کاموں سے بچنا چاہئے ان سے پوری طرح بچے گا اور اس طرح اس میں پہنچ ہی جائے گا) پھر اللہ تعالیٰ نے اس جنت کو سختیوں اور مشقتوں سے گھیر دیا (یعنی جنت کے گرد شرعی احکام کی پابندی کا باڑہ لگا دیا، جو طبیعت اور نفس کے لئے بہت شاق اور گراں ہے، مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنت میں پہنچنے کے لئے احکام کی اطاعت کی گھاٹی کو عبور کرنے کی شرط لگا دی، جس میں طبیعتوں کو اور نفسوں کو بڑی سختی اور دشواری محسوس ہوتی ہے) اور پھر جبرئیل سے فرمایا، کہ اب پھر جاؤ، اور پھر اس جنت کو (اور اس کے گردا گرد لگائی ہوئی باڑہ کو) دیکھو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرماتے ہیں کہ وہ پھر گئے، اور جا کر پھر جنت کو دیکھا اور اس مرتبہ آ کر فرمایا: خداوندا قسم آپ کی عزت و عظمت کی، اب تو مجھے یہ ڈر ہے کہ اس میں کوئی بھی نہ جا سکے گا (مطلب یہ ہے کہ جنت میں جانے کے لیے شرعی احکام کی پابندی کی گھاٹی کو عبور کرنے کی جو شرط آپ کی طرف سے لگائی گئی ہے، وہ نفس اور نفسانی خواہشات رکھنے والے انسان کے لئے اتنی شاق، اور اس قدر دشوار ہے کہ اس کو کوئی بھی پورا نہ کر سکے گا، اس لئے مجھے ڈر ہے کہ اب اس جنت کو شاید کوئی بھی حاصل نہ کر سکے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ پھر اللہ تعالیٰ نے جب دوزخ کو بنایا تو پھر جبرئیل سے فرمایا کہ: جاؤ اور ہماری بنائی ہوئی دوزخ کو (اور اس میں انواع و اقسام کے عذاب کے جو سامان پیدا کئے ہیں، ان کو) دیکھو، چنانچہ وہ گئے اور جا کر اس کو دیکھا، اور آ کر عرض کیا، خداوندا! آپ کی عزت کی قسم (آپ نے دوزخ کو تو ایسا بنایا ہے، کہ میرا خیال ہے کہ) جو کوئی بھی اس کا حال سنے گا وہ کبھی بھی اس میں نہ جائے گا (یعنی ایسے کاموں کے پاس نہیں جائے گا جو آدمی کو دوزخ میں پہنچانے والے ہیں) اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے دوزخ کو شہوات اور نفسانی لذات سے گھیر دیا (مطلب یہ ہے کہ نفسانی خواہشات والے وہ اعمال جن میں انسان کی طبیعتاور نفس کے لئے بڑی کشش ہے، جہنم کے گرد اُن کی باڑہ لگا دی، اور اس طرح جہنم کی طرف جانے کے لئے بڑی کشش پیدا ہو گئی) اور پھر اللہ تعالیٰ نے جبرئیل سے فرمایا: اب پھر جا کر اس دوزخ کو دیکھو۔ رسول اللہ ﷺفرماتے ہیں کہ جبرئیل پھر گئے اور جا کر اس کو اور اس کے گرد شہوات و لذات کی جو باڑہ لگائی گئی تھی، اس کو) دیکھا اور آ کر عرض کیا: خدا وندا! آپ کی عزت و جلال کی قسم! اب تو مجھے یہ ڈر ہے کہ سب انسان اسی میں نہ پہنچ جائیں (مطلب یہ ہے کہ ج شہوات و لذات سے آپ نے جہنم کو گھیر دیا ہے ان میں نفس رکھنے والے انسانوں کے لئے اتنی زبردست کشش ہے کہ ان سے رکنا بہت مشکل ہے اور اس لئے خطرہ ہے کہ بے چاری ساری اولادِ آدم نفسانی لذات و شہوات کی کشش سے مغلوب ہو کر دوزخ ہی میں نہ پہنچ جائے)۔ (ترمذی، ابو داؤد، نسائی) تشریح حدیث کا اصل مقصد اور اس میں ہمارے لئے خاص سبق یہ ہے کہ نفسانی خواہشات جو بظاہر بڑی لذیذ اور بڑی مرغوب ہیں۔ ہم جان لیں کہ ان کا انجام دوزخ کا دردناک عذاب ہے، جس کا ایک لمحہ زندگی بھر کے عیشوں کو بھلادے گا، اور احکامِ الہٰی کی پابندی والی زندگی جس میں ہمارے نفسوں کو گرانی اور سختی محسوس ہوتی ہے اس کا انجام اور منتہی جنت ہے جس میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے عیش و راحت کے وہ سامان ہیں جن کی دنیا کے کسی انسان کو ہوا بھی نہیں لگی ہے۔

140Maarif-ul-Hadith

جنت اور دوزخ کے بارے میں ایک اہم انتباہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا رَأَيْتُ مِثْلَ النَّارِ نَامَ هَارِبُهَا، وَلاَ مِثْلَ الجَنَّةِ نَامَ طَالِبُهَا. (رواه الترمذى)

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں نے نہیں دیکھی دوزخ کی طرح کی کوئی خوفناک بلا، ک ہ سوتا ہو اس سے بھاگنے والا، اور نہیں دیکھی میں نے جنت کی طرح کی کوئی مرغوب و محبوب چیز، کہ سوتا ہو اس کا چاہنے والا۔ (ترمذی) تشریح انسان کی فطرت ہے کہ جب وہ کسی بلا سے مثلاً اپنی طرف آنے والے کسی خوفناک درندے سے، یا اپنا تعاقب کرنے والے کسی سخت ظالم اور طاقتور دشمن سے جان بچانے کے لیے بھاگتا ہے، تو بس بھاگا ہی چلا جاتا ہے، اور جب تک کہ اطمینان نہ ہو جائے، نہ سوتا ہے اور نہ آرام کرتا ہے، اسی طرح جب کسی انتہائی محبوب و مرغوب چیز کے حاصل کرنے کے لئے تگ و دو کرتا ہے تو اثناء راہ میں نہ تو سوتا ہے، نہ چین سے بیٹھتا ہے۔ لیکن دوزخ اور جنت کے بارے میں انسانوں کا عجب حال ہے، دوزخ سے بڑھ کر کوئی خوفناک بلا نہیں، مگر جن کو اس سے بچنے کے لئے بھاگنا چاہئے، وہ غفلت کی نیند سوتے ہیں، اور جنت جس کے حاصل کرنے کے لئے دل و جان سے جدو جہد کرنا چاہئے، اس کے چاہنے والے بھی محو خواب ہیں۔ پردے غفلت کے پڑ گئے ہیں، بلا کی نیندیں امنڈ رہی ہیں کچھ ایسے سوئے ہیں سونے والے، کہ حشر تک جاگنا قسم ہے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پہلی جلد ختم ہوئی۔ فَالْحَمْدُ لِلهِ الَّذِىْ بِعِزَّتِهِ وَجَلَالِهِ تَتِمُّ الصَّالِحَاتُ اللہ تعالیٰ باقی جلدوں کی بھی تکمیل اور اشاعت کی توفیق دے بندہ ناچیز محمد منظور نعمانی عفا اللہ عنہ