Maarif-ul-Hadith 128

کتاب الایمان

128Maarif-ul-Hadith

جنت میں دیدارِ الہٰی

عَنْ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَكُلُّنَا يَرَى رَبَّهُ مُخْلِيًا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، قَالَ بَلَى قُلْتُ وَمَا آيَةُ ذَالِكَ ؟ قَالَ: يَا أَبَا رَزِينٍ، أَلَيْسَ كُلُّكُمْ يَرَى الْقَمَرَ لَيْلَةَ الْبَدْرِ مُخْلِيًا بِهِ قَالَ: بَلَى، قَالَ: «فَإِنَّمَا هُوَ خَلْقٌ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَجَلُّ وَأَعْظَمُ» (رواه ابو داؤد)

ابو رزین عقیلی سے روایت ہے کہتے ہیں کہ میں نے ایک دن رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا قیامت میں ہم میں سے ہر ایک اپنے رب کو اکیلا (بغیر بھیڑ بھاڑ اور کشمکش کے) دیکھ سکے گا؟ آپ نے فرمایا: ہاں! دیکھ سکے گا، میں نے عرض کیا: اور کیا اس کی کوئی نشانی اور مثال (ہماری اس دنیا میں بھی ہے) آپ نے فرمایا: اے ابو رزین! کیا چودھویں رات کو تم میں سے ہر ایک چاند کو بجائے خود اور اکیلا بغیر بھیڑ بھاڑ کے نہیں دیکھتا؟ میں نے عرض کیا کہ: ہاں بے شک چاند کو تو ہم سب ہی اسی طرح دیکھتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ: وہ تو اللہ کی مخلوق ہے، اور اللہ تو بڑی جلالت والا اور نہایت عظمت والا ہے (پھر اس کے لیے کیا چیز مشکل ہے)۔ (ابو دؤد)