Maarif-ul-Hadith

All 2,115 hadiths in order · Page 5 of 106

81Maarif-ul-Hadith

قیامت

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِشَهْرٍ: «تَسْأَلُونِي عَنِ السَّاعَةِ؟، وَإِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللهِ، وَأُقْسِمُ بِاللهِ مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ تَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ وَهِىَ حَيَّةٌ يَوْمَئِذٍ» (رواه مسلم)

حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ اپنی وفات شریف سے ایک مہینہ پہلے فرماتے تھے، کہ: ”تم لوگ مجھ سے قیامت کے متعلق پوچھتے ہو، اور اس کا (یعنی اس کے معین وقت کا) علم تو بس اللہ ہی کے پاس ہے، اور میں اللہ کی قسم کھا کر یہ کہہ سکتا ہوں کہ روئے زمین پر کوئی متنفس ایسا نہیں ہے کہ اس پر سو سال گذریں اور وہ اس وقت تک زندہ باقی رہے “۔ تشریح قرآن پاک سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے اور حدیثوں سے بھی، کہ بہت سے لوگ رسول اللہ ﷺ سے قیامت کے متعلق دریافت کرتے تھے، کہ وہ کب آئے گی؟ آپ ہمیشہ اس کے جواب میں وہی فرماتے تھے جو اس حدیث میں آپ نے ارشاد فرمایا، یعنی یہ کہ اس کے مقررہ وقت کا علم اللہ ہی کو ہے، یعنی وہی جانتا ہے، کہ کس سن کے کس مہینے کی کس تاریخ کو آئے گی، اس کا علم اس نے کسی اور کو نہیں دیا ہے۔ اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے اس جواب کے علاوہ اور اصل سوال سے زائد ایک بات یہ بھی فرمائی ہے کہ ـ اس وقت جو لوگ روئے زمین پر زندہ ہیں، وہ سب سو سال کے اندر اندر ختم ہو جائیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ قیامت کبریٰ جس میں یہ سارا عالم ختم ہو جائے گا، اس کا معین وقت تو مجھے معلوم نہیں، بس اللہ ہی کو اس کا علم ہے، ہاں! اللہ نے مجھے اس کی اطلاع دی ہے کہ اس نسل اور اس قرن کا خاتمہ سو سال تک ہو جائے گا، اور جو لوگ اس وقت زندہ ہیں، وہ سو سال پورے ہونے تک ختم ہو جائیں گے، اس لئے یوں سمجھو کہ تمہاری قیامت تو اس صدی کے اندر ہی اندر آ جائے گی۔

82Maarif-ul-Hadith

قیامت

عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى لَا يُقَالَ فِي الْأَرْضِ : اللهُ، اللهُ " وَفِىْ رِوَايَةٍ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ عَلَى أَحَدٍ يَقُولُ: اللهُ، اللهُ " (رواه مسلم)

حضرت انسؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: قیامت نہیں آئے گی جب تک کہ (ایسا برا وقت نہ آ جائے کہ) بالکل نہ کہا جائے دنیا میں اللہ اللہ۔ اور اسی حدیث کو بعض راویوں نے اسی طرح نقل کیا ہے کہ: ”قیامت نہیں قائم ہو گی کسی ایسے شخص پر، جو کہتا ہو اللہ اللہ“۔ (۱) تشریح یہ ہے کہ قیامت اس وقت آئے گی جب کہ دنیا اللہ کی یاد سے اور اللہ کو یاد کرنے والوں سے بالکل ہی خالی ہو جائے گی اور اللہ کی عبادت اور فرمانبرداری، اور اللہ کے ساتھ بندگی کے صحیح تعلق کا دنیا سے بالکل خاتمہ ہو جائے گا۔ جب ایسا وقت آئے گا اس وقت یہ پورا عالم فنا کر دیا جائے گا، گویا اللہ کا ذکر اور اللہ کے ساتھ بندگی کا صحیح تعلق اس عالم کی روح اور اس کے باقی رہنے کے لئے وجہ جواز ہے، جس دن ہماری یہ دنیا اس سے بالکل خالی ہو جائے گی، اسی دن اپنے پیدا کرنے والے اور چلانے والے کے حکمسے توڑ پھوڑ کے برابر کر دی جائے گی۔

83Maarif-ul-Hadith

قیامت

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا عَلَى شِرَارِ الْخَلْقِ

عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے، کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا، کہ: ”قیامت نہیں قائم ہو گی، مگر بدترین آدمیوں پر“۔ تشریح مطلب یہ ہے کہ اللہ سے تعلق رکھنے والے اچھے لوگ جب سب ختم ہو جائیں گے اور یہ دنیا جب صرف بدکرداروں اور خدا فراموشوں ہی کی دنیا رہ جائے گی، تب اللہ کے حکم سے قیامت آ جائے گی۔

84Maarif-ul-Hadith

قیامت

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنَ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ يَخْرُجُ الدَّجَّالُ فَيَمْكُثُ أَرْبَعِينَ - لَا أَدْرِي: أَرْبَعِينَ يَوْمًا، أَوْ شَهْرًا، أَوْ عَامًا فَيَبْعَثُ اللهُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ كَأَنَّهُ عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ، فَيَطْلُبُهُ فَيُهْلِكُهُ، ثُمَّ يَمْكُثُ النَّاسُ سَبْعَ سِنِينَ، لَيْسَ بَيْنَ اثْنَيْنِ عَدَاوَةٌ، ثُمَّ يُرْسِلُ اللهُ رِيحًا بَارِدَةً مِنْ قِبَلِ الشَّأْمِ، فَلَا يَبْقَى عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ خَيْرٍ أَوْ إِيمَانٍ إِلَّا قَبَضَتْهُ، حَتَّى لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ دَخَلَ فِي كَبِدِ جَبَلٍ لَدَخَلَتْهُ عَلَيْهِ، حَتَّى تَقْبِضَهُ " قَالَ: سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " فَيَبْقَى شِرَارُ النَّاسِ فِي خِفَّةِ الطَّيْرِ وَأَحْلَامِ السِّبَاعِ، لَا يَعْرِفُونَ مَعْرُوفًا وَلَا يُنْكِرُونَ مُنْكَرًا، فَيَتَمَثَّلُ لَهُمُ الشَّيْطَانُ، فَيَقُولُ: أَلَا تَسْتَجِيبُونَ؟ فَيَقُولُونَ: فَمَا تَأْمُرُنَا؟ فَيَأْمُرُهُمْ بِعِبَادَةِ الْأَوْثَانِ، وَهُمْ فِي ذَلِكَ دَارٌّ رِزْقُهُمْ، حَسَنٌ عَيْشُهُمْ، ثُمَّ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ، فَلَا يَسْمَعُهُ أَحَدٌ إِلَّا أَصْغَى لِيتًا وَرَفَعَ لِيتًا، قَالَ: وَأَوَّلُ مَنْ يَسْمَعُهُ رَجُلٌ يَلُوطُ حَوْضَ إِبِلِهِ، قَالَ: فَيَصْعَقُ، وَيَصْعَقُ النَّاسُ، ثُمَّ يُرْسِلُ اللهُ - أَوْ قَالَ يُنْزِلُ اللهُ - مَطَرًا كَأَنَّهُ الطَّلُّ أَوِ الظِّلُّ - نُعْمَانُ الشَّاكُّ - فَتَنْبُتُ مِنْهُ أَجْسَادُ النَّاسِ، ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ أُخْرَى، فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ، ثُمَّ يُقَالُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ هَلُمَّ إِلَى رَبِّكُمْ، وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ، قَالَ: ثُمَّ يُقَالُ: أَخْرِجُوا بَعْثَ النَّارِ، فَيُقَالُ: مِنْ كَمْ؟ فَيُقَالُ: مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَمِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ، قَالَ فَذَاكَ يَوْمَ يَجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِيبًا، وَذَلِكَ يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ " (رواه مسلم)

حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”(قیامت سے پہلے) دجال کا خروج ہو گا، اور وہ ٹھہرے گا چالیس تک “ (اس حدیث کو روایت کرنے والے صحابی عبداللہ بن عمرو کہتے ہیں کہ) میں نہیں جانتا کہ حضور(ﷺ) کا مطلب چالیس سے چالیس دن تھے، یا چالیس مہینے، یا چالیس سال۔ آگے حدیث بیان کرتے ہیں، کہ پھر اللہ تعالیٰ عیسیٰ بن مریم کو (اس دنیا میں) بھیجیں گے، گویا کہ وہ عروہ بن مسعود ہیں (یعنی ان کی شکل و صورت عروہ بن مسعود ثقفی سے بہت ملتی جلتی ہو گی) وہ دجال کو تلاش کریں گے (اور اس کا تعاقب کریں گے، اور اس کو پا کر) اس کا خاتمہ کر دیں گے۔ پھر (دجال کا خاتمہ کر دینے کے بعد) سات سال تک وہ اس دنیا کے لوگوں اور ان کے ساتھ رہیں گے (اور ان کی برکت سے لوگوں میں ایسا اتحاد و اتفاق ہو جائے گا، کہ) دو آدمی بھی ایسے نہیں رہیں گے جن میں باہم عداوت اور دشمنی ہو، پھر اللہ تعالیٰ شام کی طرف سے (ایک خاص قسم کی) ٹھنڈی ہوا چلائے گا، جس کا اثر یہ ہو گا، کہ روئے زمین پر کوئی ایسا باقی نہیں رہے گا جس کے دل میں ذرہ برابر بھی نیکی ہو، یا فرمایا: کہ ذرہ برابر ایمان ہو، (بہر حال اس ہوا سے تمام اہل ایمان، اور اہلِ خیر ختم ہو جائیں گے)(۱) یہاں تک کہ اگر تم میں سے کوئی شخص کسی پہاڑکے اندر چلا جائے گا، تو یہ ہوا وہیں پہنچ کر اس کا خاتمہ کرے گی، آنحضرتﷺ نے فرمایا، کہ اس کے بعد صرف خراب آدمی ہی دنیا میں رہ جائیں گےئ (جن کے دل ایمان اور نیکی سے بالکل خالی ہوں گے) ان میں پرندوں والی تیزی اور پھرتی، اور درندوں والا ذہن جمع ہو گا (اس کا مطلب بظاہر یہ ہے، کہ ان میں ظلم اور سفاکی تو درندوں کی سی ہو گی، اور اپنے ظالمانہ مقاصد اور اپنی ناپاک خواہشات کو پورا کرنے میں وہ ہلکے پھلکے برق رفتار پرندوں کی طرح تیز رو، اور پھرتیلے ہوں گے) نیکی اور بھلائی سے وہ مانوس نہ ہوں گے اور برائی کو وہ برائی نہ سمجھیں گے، (نہ اس کی مذمت کرین گے) پس شیطان ایک شکل بنا کر ان کے سامنے آئے گا، اور ان سے کہے گا، کیا تم شرم و حیا نہیں کرو گے، وہ کہیں گے کہ تم ہم کو کیا حکم دیتے ہو؟ (یعنی تم جو کہو، وہ ہم کریں) پس شیطان انہیں بتوں کی پرستش کا حکم دے گا (اور وہ اس کا اتباع کریں گے) اور وہ اس حال میں ہوں گے، کہ رزق کی افراط اور بارش ہو گی، اور دنیوی زندگی بطاہر بڑی اچھی (عیش و نشاط والی زندگی ہو گی)۔ پھر صور پھونکا جائے گا، پس جو کوئی اس کو سُنے گا، اس کی جانب گردن ایک طرف کو جھک جائے گی اور ایک طرف کو اٹھ جائے گی (یعنی سر جسم پر سیدھا قائم نہ رہےگا، بلکہ ادھر یا ادھر کو لٹک جائے گا، جیسا کہ اس شخص کا حال ہو جاتا ہے جس پر اچانک کوئی ایسا دورہ پڑے جس سے اس کے رگ پٹھے بےکار اور بے جان ہو جائیں) اور سب سے پہلے جو شخص صور کی آواز سنے گا (اور جس پر سب سے پہلے اس کا اثر پڑے گا)وہ ایک آدمی ہو گا، جو اپنے اونٹ کے حوض کو مٹی سے درست کر رہا ہو گا، پس وہ بے ہوش اور بے جان ہو کر گر جائے گا (یعنی مر جائے گا) اور دوسرے سب لوگ بھی اسی طرح بے جان ہو کر گر جائیں گے، پھر اللہ تعالیٰ (ایک ہلکی سی) بارش بھیجے گا، گویا کہ وہ شبنم ہے، اس کے اثر سے انسانوں کے جسموں میں روئیدگی آ جائے گی پھر دوسری مرتبہ صور پھونکا جائے گا۔ تو ایک دم سب کے سب کھڑے ہوں گے دیکھتے ہوں گے، پھر کہا جائے گا، کہ اے لوگو! اپنے مالک اور رب کی طرف چلو (اور فرشتوں کو حکم ہو گا، کہ) انہیں (حساب کے میدان میں) کھڑا کرو، ان سے پوچھا جائے گا (اور ان کے اعمال کا حساب کتاب ہو گا) پھر حکمہو گا، کہ ان میں سے دوزخ کی فوج نکالو، عرض کیا جائے گا، کہ کتنےمیں سے کتنے؟ حکم ہو گا، کہ ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ یہ ہو گا وہ دن، جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا اور یہیہے دن سخت مصیبت اور مشقت کا۔ (مسلم) تشریح اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے خروج دجال سے لے کر حشر تک کے بلکہ میدانِ حساب میں جمع ہونے تک کے، بعض واقعات کا تذکرہ فرمایا ہے، اس طرح کی اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں،جن میں قیامت سے پہلے ہونے والے بعض اہم واقعات، اور قیامت اور اس کے بعد کی منزلوں کا بیان اس سے بھی زیادہ اجمال کے ساتھ، یا اس سے کچھ زیادہ تفصیل سے کیا گیا ہے، ان سب حدیثوں کے متعلق یہ بات ذہن میں رہنی چاہئے کہ سینکڑوں، ہزاروں سال کی مدت میں ہونے والے واقعات کا بہت ہی مجمل بیان ان میں کیا گیا ہے، جو لوگ اس نکتہ کو ملحوظ رکھیں گے، ان شاء اللہ وہ ان حدیثوں کے بارے میں بہت سے شبہات اور وساوس سے محفوظ ہو جائیں گے۔ حدیث کے آخر میں ذکر کیا گیا ہے، کہ فرشتوں کو بتلایا جائے گا، کہ ایک ہزار میں سے نو سو ننانوے جہنم والے ہیں، دنیا میں مؤمنین اور غیر مؤمنین کا جو تناسب ہے، اور جو اکثر زمانوں میں رہا ہے، اس کو ملحوظ رکھتے ہوئے اہل جہنم کی یہ تعداد ۱۰۰۰/۹۹۹ مستبعد نہیں معلوم ہوتی، تاہم بعض شارحین نے لکھا ہے، کہ ان ۹۹۹ فی ہزار میں سے بہت بڑی تعداد ایسے لوگوں کی بھی ہو گی، جو اگرچہ اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے دوزخ کے اہل ہوں گے، لیکن اللہ تعالیٰ کی مغفرت سے یا شافعین کی سفارش سے آخر میں وہ نجات پا جائیں گے۔ اَللَّهُمَّ اِنَّ مَغْفِرَتُكَ اَوْسَعُ مِنْ ذُنُوْبِنَا وَرَحْمَتَكَ اَرْجَى عِنْدَنَا مِنْ اَعْمَالِنَا۔

85Maarif-ul-Hadith

قیامت

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيْفَ أَنْعَمُ وَصَاحِبُ الصُّوْرِ قَدِ الْتَقَمَهُ ، وَأَصْغَى سَمْعَهُ وَقَنَى جَبْهَتَهُ، يَنْتَظِرُ مَتَى يُؤْمَرُ بِالنَّفْخِ» ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: " قُولُوا: حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ (رواه الترمذى)

ابو سعید خدری سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ”میں کیونکر خوش اور بے غم ہو کر رہ سکتا ہوں، حالانکہ واقعہ یہ ہے، کہ صور والا فرشتہ صور کو اپنے منہ میں لئے ہوئے ہے، اور اپنا کان اس نے لگا رکھا ہے اور اس کی پیشانی خمیدہ اور جھکی ہوئی ہے، وہ انتظار کر رہا ہے کہ کب اس کو صُور کے پھونک دینے کا حکم ہو، اور وہ پھونک دے، (یعنی جب مجھے اس واقعہ کا علم ہے، تو میں کیسے اس دنیا میں اطمینان سے اور خوشی سے رہ سکتا ہوں)“ صحابہؓ نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! تو ہمیں آپ کا کیا حکم ہے، (ان کا مطلب یہ تھا، کہ جب معاملہ اتنا خطرناک ہے، تو ہماری رہنمائی فرمائیے، کہ قیامت کی ہولناکیوں اور سختیوں سے بچنے کے لئے ہم کیا کریں؟) “ آپ نے ارشاد فرمایا: کہتے رہا کرو “حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ”۔ (ترمذی)

86Maarif-ul-Hadith

قیامت

عَنْ أَبِي رَزِيْنٍ الْعُقَيْلِىْ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ يُعِيدُ اللَّهُ الْخَلْقَ وَمَا اٰيَةُ ذَالِكَ فِىْ خَلْقِهِ قَالَ اَمَا مَرَرْتَ بِوَادِىْ قَوْمِكَ جَدْبًا ثُمَّ مَرَرْتَ بِهِ يَهْتَزُّ خَضِرًا قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَتِلْكَ اٰيَةُ اللهِ فِىْ خَلْقِهِ كَذَالِكَ يُحْيِى اللهُ الْمَوْتٰى (واه رزين)

رزین عُقیلی سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ میں نے (ایک دفعہ) عرض کیا یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ مخلوق کو دوبارہ کیسے پیدا کرے گا، اور (اس عالم میں) اس کی مخلوق میں اس کی کیا نشانی ہے (اور کیا دلیل اور مثال ہے) آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے لئے ایسا کبھی نہیں ہوا، کہ تم اپنی قوم کی وادی پر ایسی حالت میں کذرے ہو جب کہ وہ (پانی نہ برسنے کی وجہ سے) سبزے سے خالی اور خشک ہو، اور پھر کبھی ایسی حالت میں گذرے ہو کہ (جپانی برس جانے کی وجہ سے) ہری لہلہا رہی ہو۔ (ابو رزین کہتے ہیں) میں نے عرض کیا، ہاں! “ (ایسا ہوا ہے، اور میں نے یہ دونوں منظر دیکھے ہیں)۔ آپ نے فرمایا ”حیات بعد الموت کو سمجھنے کے لئے) یہی اللہ کی نشانی ہے، اس کی مخلوق میں، ایسے ہی زندہ کر دے گا اللہ مُردوں کو“۔ (رزین)

87Maarif-ul-Hadith

قیامت

عَنِ ابْنَ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُ رَأْيُ عَيْنٍ فَلْيَقْرَأْ: إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ، وَإِذَا السَّمَاءُ انْفَطَرَتْ، وَإِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ (رواه احمد والترمذى)

حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے رویت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جس شخص کی یہ خوشی ہو، یعنی جو یہ چاہے کہ قیامت کا منظر وہ اس طرح دیکھے، کہ گویا سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے، تو قرآن مجید کی سورۃ إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ، وَإِذَا السَّمَاءُ انْفَطَرَتْاور وَإِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ پڑھے ”۔

88Maarif-ul-Hadith

قیامت

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَرَأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَذِهِ الْاٰيَةَ {يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا} قَالَ: أَتَدْرُونَ مَا أَخْبَارُهَا؟ قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَإِنَّ أَخْبَارَهَا أَنْ تَشْهَدَ عَلَى كُلِّ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ بِمَا عَمِلَ عَلَى ظَهْرِهَا أَنْ تَقُولَ: عَمِلَ كَذَا وَكَذَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: فَهَذِهِ أَخْبَارُهَا. (رواه احمد والترمذى)

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سورہ زلزال کی یہ آیت تلاوت فرمائی “يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا” (جس کا مطلب ہے کہ قیامت کے دن زمین اپنی سب خبریں بیان کرے گی) پھر حاضرین سے فرمایا، کیا تم جانتے ہو، کہ زمین کی خبریں کیا ہیں؟ انہوں نے عرض کیا، اللہ اور اس کے رسول ہی کو زیادہ علم ہے، آپ نے فرمایا: اس کی خبریں یہ ہیں کہ وہ ہر بندہ اور ہر بندی کے متعلق شہادت دے گی، کہ اس نے فلاں دن میرے اوپر فلاں کام کیا تھا، اور فلاں دن فلاں عمل کیا تھا، پس یہ ہیں زمیں کی خبریں (جو قیامت کے دن وہ بیان کرے گی)۔ (مسند احمد و ترمذی) تشریح گویا انسان جو عمل زمین کے جس حصے پر کرتا ہے زمین کا وہ حصہ اس کو محفوظ رکھتا ہے، اور قیامت تک محفوظ رکھے گا اور اللہ کے سامنے اس کی شہادت ادا کرے گا، اللہ تعالیٰ اس دن اس پر اس وقت کی رسوائیوں سے حفاظت فرمائے۔ اس قسم کی چیزوں پر یقین لانا ایمان والوں کے لئے تو پہلے بھی مشکل نہ تھا۔ لیکن اب تو ریکارڈ وغیرہ کی ایجادوں نے ان باتوں کا سمجھنا، اور ان پر یقین کرنا سب کے لئے آسان کر دیا ہے۔ صدق الله عز وجل سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ

89Maarif-ul-Hadith

قیامت

عَنِ الْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «تُدْنَى الشَّمْسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الْخَلْقِ، حَتَّى تَكُونَ مِنْهُمْ كَمِقْدَارِ مِيلٍ» - قَالَ سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ: فَوَاللهِ مَا أَدْرِي مَا يَعْنِي بِالْمِيلِ؟ أَمَسَافَةَ الْأَرْضِ، أَمِ الْمِيلَ الَّذِي تُكْتَحَلُ بِهِ الْعَيْنُ - قَالَ: «فَيَكُونُ النَّاسُ عَلَى قَدْرِ أَعْمَالِهِمْ فِي الْعَرَقِ، فَمِنْهُمْ مَنْ يَكُونُ إِلَى كَعْبَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَكُونُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَكُونُ إِلَى حَقْوَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يُلْجِمُهُ الْعَرَقُ إِلْجَامًا» قَالَ: وَأَشَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِلَى فِيه . (رواه المسلم)

حضرت مقداد سے روایت ہے، فرماتے ہیں، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے، آپ ارشاد فرماتے تھے، ”قیامت کے دن سورج مخلوق سے بہت قریب ہو جائے گا، یہاں تک کہ ان سے صرف ایک میل کے بقدر رہ جائے گا اور (اس کی گرمی سے) لوگ بقدر اپنے اعمال کے پسینہ پسینہ ہو جائیں گے (یعنی جس کے اعمال جتنے برے ہوں گے، اسی قدر اس کو پسینہ زیادہ چھوٹے گا) پس بعض وہ ہوں گے جن کا پسینہ ان کے ٹخنوں تک آئے گا اور بعض کا پسینہ ان کے گھٹنوں تک ہو گا، اور بعض کا ان کے کولھوں کے اوپر تک (یعنی کمر تک) اور بعض وہ ہوں گے جن کا پسینہ ان کے منہ میں جا رہا ہو گا، اور رسول اللہ ﷺ نے اپنے دہن مبارک کی طرف ہاتھ سے اشارہ کر کے دکھایا (کہ ان کا پسینہ یہاں تک پہنچ رہا ہو گا اور ان کے اس منہ میں جا رہا ہو گا) “۔ (مسلم) تشریح قیامت اور آخرت میں پیش آنے والے ان واقعات کی جو واقعی نوعیت ہو گی اس کا اس دنیا میں صحیح تصور نہیں کیا جا سکتا، پورا انکشاف بس اسی وقت ہو گا، جب کہ یہ حقائق سامنے آئیں گے۔

90Maarif-ul-Hadith

قیامت

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ القِيَامَةِ ثَلاَثَةَ أَصْنَافٍ: صِنْفًا مُشَاةً، وَصِنْفًا رُكْبَانًا، وَصِنْفًا عَلَى وُجُوهِهِمْ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَكَيْفَ يَمْشُونَ عَلَى وُجُوهِهِمْ؟ قَالَ: إِنَّ الَّذِي أَمْشَاهُمْ عَلَى أَقْدَامِهِمْ قَادِرٌ عَلَى أَنْ يُمْشِيَهُمْ عَلَى وُجُوهِهِمْ، أَمَا إِنَّهُمْ يَتَّقُونَ بِوُجُوهِهِمْ كُلَّ حَدَبٍ وَشَوْكٍ. (رواه الترمذى)

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، کہ ”قیامت کے دن سب آدمی تین قسموں اور تین گروہوں میں اٹھائے جائیں گے، ایک قسم پیدل چلنے والے، اور ایک قسم سوار، اور ایک قسم منہ کے بل چلنے والے “۔ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! یہ (تیسرے گروہ والے) منہ کے بل کس طرح چل سکیں گے؟ آپ نے فرمایا: ”جساللہ نے انہیں پاؤں کے بل چلایا ہے، وہ اس پر بھی قدرت رکھتا ہے کہ ان کو منہ کے بل چلائے“۔ معلوم ہونا چاہئے کہ یہ لوگ اپنے منہ کے ذریعے ہیزمین کے ہر ٹیلے ٹھیرے، اور ہر کانٹے سے بچیں گے۔ (ترمذی) تشریح حدیث میں جن تین گروہوں کا ذکر کیا گیا ہے شارحین حدیث نے ان کی تفصیل اس طرح کی ہے، کہ پیدل چلنے والا گروہ عام اہلِ ایمان کا ہو گا، اور دوسرا گروہ جو سواریوں پر ہو گا، وہ خاص مقربین اور عبادِ صالحین کا گروہ ہو گا، جن کا وہاں شروع ہی سے اعزاز و اکرام ہوگا، اور سر کے بل، اور منہ کے بل چلنے والے وہ بد نصیب ہوں گے، جنہوں نے اس دنیوی زندگی میں انبیاء علیہم السلام کی تعلیم اور ہدایت کے مطابق سیدھا چلنا قبول نہیں کیا، اور مرتے دم تک وہ الٹے ہی چلتے رہے۔ قیامت کے دن اس کی پہلی سزا انہیں یہ ملے گی، کہ سیدھے پاؤں پر چلنے کے بجائے وہاں وہ الٹے منہ کے اور سر کے بل چلائے جائیں گے، یہاں تک کہ جس طرح اس دنیا میں چلنے والے راستے کی اونچ نیچ سے، اور جھاڑیوں اور کانٹوں سے اپنے پاؤں کے ذریعہ بچ کر نکلتے ہیں، اسی طرح قیامت میں یہ سر کے بل چلنے والے وہاں کے راستے کی اونچ نیچ سے، اور وہاں کے کانٹوں سے اپنے سروں اور چہروں ہی کے ذریعہ بچ کر نکلیں گے، یعنی یہاں پر جو کام پاؤں سے کئے جاتے ہیں، وہاں وہ سبکام خدا کے ان مجرموں کو سر سے اور منہ سے کرنے پڑیں گے۔ اَللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْنَا مِنْهُمْ

91Maarif-ul-Hadith

قیامت

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ أَحَدٍ يَمُوتُ إِلَّا نَدِمَ»، قَالُوا: وَمَا نَدَامَتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «إِنْ كَانَ مُحْسِنًا نَدِمَ أَنْ لَا يَكُونَ ازْدَادَ، وَإِنْ كَانَ مُسِيئًا نَدِمَ أَنْ لَا يَكُونَ نَزَعَ» (رواه الترمذى)

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہتے ہیں، کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص بھی مرے گا، اس کو (مرنے کے بعد اپنی زندگی پر) ندامت اور پشیمانی ضرور ہو گی “۔ عرض کیا گیا کہ: حضرت! اس کو ندامت کیوں ہو گی؟ اور اس کا کیا سبب ہو گا؟ آپ نے فرمایا، اگر وہ مرنے والا نیکو کار ہو گا، تو اس کو تو اس کی ندامت اور حسرت ہو گی، کہ اس نے نیکوکاری میں اور زیادہ ترقی کیوں نہیں کی (اور جو حسنات وہ کما کے لایا ہے اس سے زیادہ کیوں نہیں کما کے لایا) اور اگر وہ بدکار ہو گا، تو اس کو اس کی ندامت و حسرت ہو گی، کہ وہ بدکاری سے باز کیوں نہیں رہا “۔ (ترمذی)

92Maarif-ul-Hadith

اللہ کے حضور میں پیشی اور اعمال کی جانچ

عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْكُمْ أَحَدٌ إِلَّا سَيُكَلِّمُهُ رَبُّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ تُرْجُمَانٌ، فَيَنْظُرُ أَيْمَنَ مِنْهُ فَلاَ يَرَى إِلَّا مَا قَدَّمَ مِنْ عَمَلِهِ، وَيَنْظُرُ أَشْأَمَ مِنْهُ فَلاَ يَرَى إِلَّا مَا قَدَّمَ، وَيَنْظُرُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلاَ يَرَى إِلَّا النَّارَ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ، فَاتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ " (رواه البخارى ومسلم)

ابن حاتم سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: “(قیامت میں) تم میں سے ہر شخص سے اس کا پروردگار اس طرح بلا واسطہ اور دو بدو کلام فرمائے گا، کہ نہ درمیان میں کوئی ترجمان ہو گا، نہ کوئی پردہ حائل ہو گا (اس وقت بندہ کی یہ کیفیت ہو گی کہ وہ حیرت اور بے بسی سے ادھر اُدھر دیکھے گا)۔ پس جب نظر کرے گا اپنی داہنی جانب، تو سوائے اپنے اعمال کے کچھ اس کو نظر نہ آئے گا، اور ایسے ہی جب نظر آئے گا بائیں جانب تو سوائے اپنے اعمال کے کچھ اسے نظر نہ آئے گا۔ اور جب سامنے نظر دوڑائے گا، تو اپنے رو برو آگ ہی آگ دیکھے گا، پس اے لوگوں! دوزخ کی اس آگ سے بچو، اگرچہ خشک کھجور کے ایک خشک ٹکڑے ہی کے ذریعہ اس سے بچنے کی فکر کرو ”۔ تشریح قرآن مجید میں اور احادیث میں بھی جہاں جہاں قیامت کے حساب اور وہان کے ہولناک منظروں کا اور دوزخ کے لرزہ خیز عذابوں کا ذکر کیا گیا ہے، وہ اس لئے ہے کہ بندے اس سے خبردار ہو کر اپنے کو اس سے بچانے کی فکر کریں، اس حدیث میں تو آخر میں صراحت کے ساتھ اس مقصد کو بیان بھی فرما دیا گیا ہے لیکنک جن حدیثوں میں اس مقصد کی تصریح نہ بھی کی گئی ہو، ان کا مقصد بھی یہی سمجھنا چاہئے اور اس سلسلہ کی تمام آیات و احادیث سے ہم کو یہی سبق لینا چاہئے۔

93Maarif-ul-Hadith

اللہ کے حضور میں پیشی اور اعمال کی جانچ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: «هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ فِي الظَّهِيرَةِ، لَيْسَتْ فِي سَحَابَةٍ؟» قَالُوا: لَا، قَالَ: «فَهَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، لَيْسَ فِي سَحَابَةٍ؟» قَالُوا: لَا، قَالَ: " فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ رَبِّكُمْ، إِلَّا كَمَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ أَحَدِهِمَا، قَالَ: فَيَلْقَى الْعَبْدَ، فَيَقُولُ: أَيْ فُلْ أَلَمْ أُكْرِمْكَ، وَأُسَوِّدْكَ، وَأُزَوِّجْكَ، وَأُسَخِّرْ لَكَ الْخَيْلَ وَالْإِبِلَ، وَأَذَرْكَ تَرْأَسُ وَتَرْبَعُ؟ فَيَقُولُ: بَلَى، قَالَ: فَيَقُولُ: أَفَظَنَنْتَ أَنَّكَ مُلَاقِيَّ؟ فَيَقُولُ: لَا، فَيَقُولُ: فَإِنِّي أَنْسَاكَ كَمَا نَسِيتَنِي، ثُمَّ يَلْقَى الثَّانِيَ فَيَقُولُ: أَيْ فُلْ أَلَمْ أُكْرِمْكَ، وَأُسَوِّدْكَ، وَأُزَوِّجْكَ، وَأُسَخِّرْ لَكَ الْخَيْلَ وَالْإِبِلَ، وَأَذَرْكَ تَرْأَسُ، وَتَرْبَعُ، فَيَقُولُ: بَلَى، أَيْ رَبِّ فَيَقُولُ: أَفَظَنَنْتَ أَنَّكَ مُلَاقِيَّ؟ فَيَقُولُ: لَا، فَيَقُولُ: فَإِنِّي أَنْسَاكَ كَمَا نَسِيتَنِي، ثُمَّ يَلْقَى الثَّالِثَ، فَيَقُولُ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ آمَنْتُ بِكَ، وَبِكِتَابِكَ، وَبِرُسُلِكَ، وَصَلَّيْتُ، وَصُمْتُ، وَتَصَدَّقْتُ، وَيُثْنِي بِخَيْرٍ مَا اسْتَطَاعَ، فَيَقُولُ: هَاهُنَا إِذًا، قَالَ: ثُمَّ يُقَالُ لَهُ: الْآنَ نَبْعَثُ شَاهِدَنَا عَلَيْكَ، وَيَتَفَكَّرُ فِي نَفْسِهِ: مَنْ ذَا الَّذِي يَشْهَدُ عَلَيَّ؟ فَيُخْتَمُ عَلَى فِيهِ، وَيُقَالُ لِفَخِذِهِ وَلَحْمِهِ وَعِظَامِهِ: انْطِقِي، فَتَنْطِقُ فَخِذُهُ وَلَحْمُهُ وَعِظَامُهُ بِعَمَلِهِ، وَذَلِكَ لِيُعْذِرَ مِنْ نَفْسِهِ، وَذَلِكَ الْمُنَافِقُ وَذَلِكَ الَّذِي سَخِطَ اللهُ عَلَيْهِ "(رواه مسلم)

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہتے ہیں، کہ بعض صحابہؓ نےعرض کیا، “یا رسول اللہ! کیا قیامت کے دن ہم اپنے پروردگار کو دیکھیں گے؟“ آپ نے فرمایا ”کیا دوپہر کے وقت میں آفتاب کے دیکھنے میں، جب کہ وہ بدلی میں بھی نہ ہو، تم میں کوئی کشمکش ہوتی ہے؟“ انہوں نے عرض کیا، ”نہیں!“ پھر آپ نے فرمایا ”کیا چودھویں رات کے چاند کے دیکھنے میں، جب کہ وہ بدلی میں بھی نہ ہو، تم میں کوئی کشمکش اور کوئی رد و کد ہوتی ہے؟“ انہوں نے عرض کیا ”نہیں!“ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ”قسم ہے اس ذات کی، جس کے قبضے میں میری جان ہے تم جس طرح چاند اور سورج کو بلا کسی کشمکش اور بغیر کسی اختلاف اور نزاع کے دیکھتے ہو، اسی طرح قیامت میں اپنے پروردگار کو دیکھو گے”۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کہ قیامت میں جب اللہ سے ایک بندہ کا سامنا ہو گا، تو اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا، اے فلانے کیا میں نے دنیا میں تجھے عزت نہیں دی تھی، کیا تجھے تیری قوم میں سرداری نہیں دی تھی، کیا تجھے بیوی نہیں عطا کی تھی، اور کیا تیرے لئے گھوڑے اور اونٹ (سواریوں) کو مسخر نہیں کیا تھا، اور کیا میں نے تجھے چھوڑے نہیں رکھا تھا، کہ تو ریاست اور سرداری کے، اور مالِ غنیمت میں سے چوتھائی وصول کرے، وہ بندہ عرض کرے گا، ہاں! اے پروردگار آپ نے یہ سب کچھ مجھے عطا فرمایا تھا، پھر اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا، تو کیا تجھے اس کا خیال اور گمان تھا، کہ تو ایک دن میرے سامنےا ٓئے گا؟ وہ عرض کرے گا، میں یہ خیال نہیں کرتا تھا، پس اللہ تعالیٰ فرمائے گا، آج میں تجھے اپنے رحم و کرم سے اسی طرح بُھلاتا ہوں جس طرح تو نے مجھے بھلائے رکھا تھا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ سے دوسرے ایک بندہ کا سامنا ہو گا، اور اس سے بھی حق تعالیٰ اسی طرح فرمائے گا، اس کے بعد اللہ تعالیٰ تیسرے ایک بندہ سے ملے گا، اور اس سے بھی اسی طرح فرمائے گا، یہ بندہ عرض کرے گا، کہ اے پروردگار میں تجھ پر ایمان لایا، اور تیری کتاب پر، اور تیرے رسولوں پر ایمان لایا، اور میں نے نمازیں پڑھیں اور روزے رکھے، اور صدقہ بھی ادا کیا (اور اس کے علاوہ بھی) وہ بندہ خوب اپنے اچھے کارنامے بیان کرے گا، جہاں تک بھی بیان کر سکے گا، پس اللہ تعالیٰ فرمائے گا، یہاں ٹھہر! پھر اس سے کہا جائے گا، کہ ہم ابھی تجھ پر ایک گواہ قائم کرتے ہیں، اور وہ اپنے جی میں سوچے گا، کہ وہ کون ہو گا جو مجھ پر گواہی دے گا، پھر اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اس کی ران کو حکم دیا جائے گا، کہ بول! تو اس کی ران اور اس کا وگوشت اور اس کی ہڈیاں اُس کے اعمال کی گواہی دیں گے، اور اللہ تعالیٰ یہ اسلئے کرے گا، کہ اس کا عذر باقی نہ رہے، اور یہ منافق ہو گا، اور اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہو گا۔ (مسلم) تشریح پوچھنے والوں نے رسول اللہ ﷺ سے صرف اتنا پوچھا تھا، کہ کیا قیامت میں ہم اللہ تعالیٰ کو دیکھ سکیں گے؟ آپ نے چاند اور سورج کی مثال دے کر یہ سمجھا دینا چاہا، کہ قیامت میں اللہ تعالیٰ کا دیکھنا اتنے واضح طریقے پر ہو گا جس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہ ہو گی، نیز یہ بھی آپ نے واضح فرمایا کہ جس طرح چاند اور سورج کو مشرق و مغرب کے کروڑوں آدمی بیک وقت دیکھتے ہیں، اور بالکل یکساں طور پر دیکھتے ہیں، اور ان کے درمیان کوئی کشمکش نہیں ہوتی، اسی طرح قیامت میں سب اللہ تعالیٰ کو بھی دیکھ سکیں گے۔ پھر مزید برآن آپ نے یہ بھی فرما دیا، کہ بعض لوگ جن کو اللہ تعالیٰ نے دنیا میں بڑی بڑی نعمتیں دے رکھی ہیں، اور وہ اللہ تعالیٰ کو بالکل بھولے ہوئے ہیں، اور آخرت کی پیشی سے بالکل بے فکر ہو گئے ہیں، جب قیامت میں اللہ تعالیٰ سے ان کا سامنا ہو گا، اور اللہ تعالیٰ ان سے باز پرس کرے گا، تو اس دن وہ کیسے لا جواب، اور کیسے ذلیل و خوار ہوں گے، اور ان میں سے جو دیدہ ور اور بے حیا منافق اس وقت غلط بیانی کریں گے، اللہ تعالیٰ خود انہیں کے اعضاء سے اور انہیں کے گوشت اور انہیں کی ہڈیوں سے ان کے خلاف گواہی دلوا کر ان پر حجت قائم فرما دیں گے، اور اس طرح علی رؤس الاشھاد ان کے جھوٹ، اور ان کی منافقت کا بھانڈا پھوٹ جائے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے اصل سوال سے زائد یہ بیان، سوال کرنے والے صحابہ کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کرنے کے لئے فرمایا، کہ قیامت میں صرف اللہ تعالیٰ کا دیکھنا ہی نہ ہو گا بلکہ حق تعالیٰ نے جو نعمتیں جس کو دی ہین اس وقت وہ ان کی بابت پوچھ گچھ بھی کرے گا۔ (ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ) اور جن لوگوں نے اللہ کے احکام سے بے پروا ہو کر آخرت کی پیشی سے بے فکر رہ کر ان نعمتوں کو دنیا میں استعمال کیا ہو گا، وہ اس دن سیاہ ہوں گے، اور وہاں کسی کی مکاری اور عیاری بالکل پردہ پوشی نہ کر سکے گا۔

94Maarif-ul-Hadith

اللہ کے حضور میں پیشی اور اعمال کی جانچ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ يُدْنِي المُؤْمِنَ، فَيَضَعُ عَلَيْهِ كَنَفَهُ وَيَسْتُرُهُ، فَيَقُولُ: أَتَعْرِفُ ذَنْبَ كَذَا؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ أَيْ رَبِّ، حَتَّى إِذَا قَرَّرَهُ بِذُنُوبِهِ، وَرَأَى فِي نَفْسِهِ أَنَّهُ هَلَكَ، قَالَ: سَتَرْتُهَا عَلَيْكَ فِي الدُّنْيَا، وَأَنَا أَغْفِرُهَا لَكَ اليَوْمَ، فَيُعْطَى كِتَابَ حَسَنَاتِهِ، وَأَمَّا الكَافِرُ وَالمُنَافِقُونَ، فَيَقُولُ الأَشْهَادُ: {هَؤُلاَءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ أَلاَ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ} (رواه البخارى ومسلم)

حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت میں اللہ تعالیٰ ایمان والے اپنے بندے کو (اپنی رحمت سے) قریب کرے گا، اور اس پر اپنا خاص پردہ ڈالے گا، اور دوسروں سے اس کو پردہ میں کر لے گا، پھر اس سے پوچھے گا، کہ کیا تو پہچانتا ہے فلاں گناہ، فلاں گناہ! (یعنی کیا تجھے یاد ہے، کہ تو نے یہ یہ گناہ کئے تھے؟) وہ عرض کرے گا ہاں! اے پروردگار! مجھے یاد ہے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کے سارے گناہوں کا اس سے اقرار کرا لے گا، اور وہ اپنے جی میں خیال کرے گا کہ میں تو ہلاک ہوا (یعنی اس کو خیال ہو گا، کہ جب اتنے میرے گناہ ہیں، تو اب میں کیسے چھٹکارا پا سکوں گا) پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا، میں نے دنیا میں تیرے ان گناہوں کو چھپایا تھا، اور آج میں ان کو بخشتا ہوں اور معافی دیتا ہوں، پھر اس کا نیکیوں والا اعمال نامہ اس کے حوالے کر دیا جائے گا (یعنی اہلِ محشر کے سامنے صرف نیکیوں والا ہی اعمال نامہ آئے گا، اور گناہوں معاملہ اللہ تعالیٰ پردہ ہی پردہ میں ختم کر دیں گے) لیکن اہلِ کفر اور منافقین کا معاملہ یہ ہو گا، کہ ان کے متعلق برسر عام پکارا جائے گا، کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے اللہ پر جھوٹی جھوٹی باتیں باندھیں (یعنی غلط اور بے اصل خیالات کو اللہ کی طرف نسبت دے کر اپنا دین و مذہب بنایا) خبردار اللہ کی لعنت ہے ایسے ظالموں پر۔

95Maarif-ul-Hadith

اللہ کے حضور میں پیشی اور اعمال کی جانچ

عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا ذَكَرَتِ النَّارَ فَبَكَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا يُبْكِيكِ؟» قَالَتْ: ذَكَرْتُ النَّارَ فَبَكَيْتُ، فَهَلْ تَذْكُرُونَ أَهْلِيكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَّا فِي ثَلَاثَةِ مَوَاطِنَ فَلَا يَذْكُرُ أَحَدٌ أَحَدًا: عِنْدَ الْمِيزَانِ حَتَّى يَعْلَمَ أَيَخِفُّ مِيزَانُهُ [ص:241] أَوْ يَثْقُلُ، وَعِنْدَ الْكِتَابِ حِينَ يُقَالُ {هَاؤُمُ اقْرَءُوا كِتَابِيَهْ} حَتَّى يَعْلَمَ أَيْنَ يَقَعُ كِتَابُهُ أَفِي يَمِينِهِ أَمْ فِي شِمَالِهِ أَمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِهِ، وَعِنْدَ الصِّرَاطِ إِذَا وُضِعَ بَيْنَ ظَهْرَيْ جَهَنَّمَ ". (رواه ابو داؤد)

حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ انہیں ایک دفعہ دوزخ کا خیال آیا، اور وہ رونے لگیں، رسول اللہ ﷺ نے پوچھا، تمہیں کس چیز نے رلایا؟ عرض کیا، مجھےدوزخ یاد آئی، اور اسی کے خوف نے مجھے رلایا ہے، تو کیا آپ قیامت کے دن اپنے گھر والوں کو یاد رکھیں گے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تین جگہ تو کوئی کسی کو یاد نہیں کرے گا (اور کسی کی خبر نہیں لے گا) ایک وزنِ اعمال کے وقت، جب تک کہ یہ نہ معلوم ہو جائے، کہ اس کے اعمال کا وز ہلکا ہے یا بھاری، اور دوسرے اعمالناموں کے ملنے کے وقت جب کہ مرد مؤمن داہنے ہاتھ میں اپنا اعمال نامہ پا کر خوشی خوشی دوسرے سے کہے گا، کہ پڑھو میرا اعمال نامہ، یہاں تک کہ معلوم ہو جائے، کہ کس ہاتھ میں دیا جاتا ہے اس کا اعمال نامہ، آیا داہنے ہاتھ میں، یا پیچھے کی جانب سے بائیں ہاتھ میں، اور تیسرے پُل صراط پر جب کہ وہ رکھا جائے گا، جہنم کے اوپر (اور حکم دیا جائے گا سب کو اس پر سے گزرنے کا)۔ (ابو داؤد) تشریح رسول اللہ ﷺ کے جواب کا حاصل یہ ہوا کہ یہ تین وقت ایتے نفسا نفسی کے ہوں گے کہ ہر ایک کو صرف اپنی فکر ہو گی، اور کوئی کسی دوسرے کی مدد نہ کر سکے گا، ایک وزن اعمال کا وقت، جب تک کہ نتیجہ معلوم نہ ہو جائے گا، اور دوسرا وہ وقت جب لوگ اپنے اپنے اعمال ناموں کے منتظر ہوں گے، اور ہر ایک اس فکر میں غرق ہو گا، کہ اس کا اعمال نامہ داہنے ہاتھ میں دیا جاتا ہے یا بائیں ہاتھ میں دیا جاتا ہے، وہ مغفرت اور رحمت کا مستحق قرار پاتا ہے، یا لعنت اور عذاب کا، اور تیسرے اس وقت جب کہ صراط کا پل جہنم پر لگا دیا جائے گا اور اس پر سے گزرنے کا حکم ہو گا، تو یہ تین وقت ایسے نفسا نفسی کے ہوں گے کہ ہر ایک اپنی ہی فکر میں ڈوبا ہو گا، اور کوئی کسی کی خبر نہ لے سکے گا۔ اس حدیث کی روح اور رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد کا منشاء بس یہی ہے، کہ ہر شخص آخرت کی فکر کرے، اور کوئی کسی دوسرے کے بھروسہ نہ رہے۔

96Maarif-ul-Hadith

قیامت میں حقوق العباد کا انصاف

عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَجُلًا قَعَدَ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي مَمْلُوكِينَ يُكَذِّبُونَنِي وَيَخُونُونَنِي وَيَعْصُونَنِي، وَأَشْتُمُهُمْ وَأَضْرِبُهُمْ فَكَيْفَ أَنَا مِنْهُمْ؟ قَالَ: «يُحْسَبُ مَا خَانُوكَ وَعَصَوْكَ وَكَذَّبُوكَ وَعِقَابُكَ إِيَّاهُمْ، فَإِنْ كَانَ عِقَابُكَ إِيَّاهُمْ بِقَدْرِ ذُنُوبِهِمْ كَانَ كَفَافًا، لَا لَكَ وَلَا عَلَيْكَ، وَإِنْ كَانَ عِقَابُكَ إِيَّاهُمْ دُونَ ذُنُوبِهِمْ كَانَ فَضْلًا لَكَ، وَإِنْ كَانَ عِقَابُكَ إِيَّاهُمْ فَوْقَ ذُنُوبِهِمْ اقْتُصَّ لَهُمْ مِنْكَ الفَضْلُ». قَالَ: فَتَنَحَّى الرَّجُلُ وَجَعَلَ يَهْتِفُ وَيَبْكِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَا تَقْرَأُ كِتَابَ اللَّهِ {وَنَضَعُ المَوَازِينَ القِسْطَ لِيَوْمِ القِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا وَإِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا وَكَفَى بِنَا حَاسِبِينَ }. فَقَالَ الرَّجُلُ: مَا أَجِدُ لِي وَلِهَؤُلَاءِ شَيْئًا خَيْرًا مِنْ مُفَارَقَتِهِمْ، أُشْهِدُكَ أَنَّهُمْ كُلُّهُمْ أَحْرَارٌ. (رواه الترمذى)

عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ھاضر ہوا، اور آپ کے سامنے بیٹھ گیا، پھر عرض کیا، یا رسول اللہ! میرے پاس کچھ غلام ہیں (جن کی حالت یہ ہے کہ بسا اوقات وہ مجھ سے جھوٹ بولتے ہیں، میری چیزوں میں خیانتیں بھی کرتے ہیں، میری نافرمانی بھی کرتے ہیں اور میں (ان کی ان حرکتوں پر) کبھی انہیں گالیاں دیتا ہوں اور کبھی مارتا بھی ہوں، پس کیا حال ہو گا میرا قیامت کے دن ان کی وجہ سے (یعنی اللہ تعالیٰ میرا اور ان کا فیصلہ کس طرح فرمائے گا) رسول اللہ ﷺ نے اس کے جواب میں فرمایا: کہ ”تمہارے ان غلاموں نے تمہاری جو خیانت اور نافرمانی کی ہو گی، اور تم سے جو جو جھوٹ بولے ہون گے، اور پھر تم نے ان کو جو سزائیں دی ہوں گی، قیامت کے دن ان سب کا پورا پورا حساب کیا جائے گا، پس اگر تمہاری سزا ان کے قصوروں کے بقدر ہی ہو گی تو معاملہ برابر پر ختم ہو جائے گا، نہ تم کو کچھ ملے گا اور نہ تمہیں کچھ دینا پڑے گا، اور اگر تمہاری سزا ان کے قصوروں سے کم ثابت ہو گی تو تمہارا فاضل حق تمہیں وہاں ملے گا، اور اگر تمہاری سزا ان کے قصوروں سے زیادہ ثابت ہو گی تو تم سے اس کا بدلہ اور قصاص ان کو دلوایا جائے گا (جب اس شخص نے رسول اللہ ﷺ کا یہ جواب سُنا) تو آپ کے پاس سے ایک طرف کو ہٹ کر رونے اور چلانے لگا (یعنی قیامت کے اس محاسبہ اور پھر وہاں کے عذاب کے خوف سے جب اس پر گریہ غالب ہوا تو وہ ادب کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کے سامنے سے اٹھ گیا، اور ایک طرف کو ہٹ کر بے اختیار رونے اور چلانے لگا)۔ رسول اللہ ﷺ نے پھر اس سے فرمایا، کیا تم قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد نہیں پڑھتے: وَنَضَعُ المَوَازِينَ القِسْطَ لِيَوْمِ القِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا وَإِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا وَكَفَى بِنَا حَاسِبِينَ اور ہم قائم کریں گے قیامت کے دن انصاف کی میزانیں، پس نہیں ظلم ہو گا، کسی نفس پر کچھ بھی، اور اگر ہو گا کسی کا عمل، یا حق، رائی کے ایک دانے کے برابر ھاضر کریں گے ہم اس کو بھی، اور کافی ہیں ہم حساب کرنے والے۔ اس شخص نے عرض کیا، یا رسول اللہ! (یہ سب کچھ سننے کے بعد) میں اپنے لئے اور ان کے لئے اس سے بہتر کچھ نہیں سمجھتا، کہ (لوجہ اللہ آزاد کر کے) ان کو اپنے سے الگ کر دوں، میں آپ کو گواہ کرتا ہوں کہ میں نے ان کو آزاد کر دیا اور اب وہ آزاد ہیں۔ تشریح ایمان کی یہی شان ہے، اور سچے ایمان والوں کا طرزِ عمل یہی ہونا چاہئے کہ جس چیز میں آخرت کا خطرہ نظر آئے اس سے بچا جائے، اگرچہ دنیوی نقطہ نظر سے اس میں اپنا کتنا ہی نقصان ہو۔

97Maarif-ul-Hadith

میزانِ اعمال میں اللہ کے نام کا وزن

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنَ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ سَيُخَلِّصُ رَجُلاً مِنْ أُمَّتِي عَلَى رُءُوسِ الخَلاَئِقِ يَوْمَ القِيَامَةِ فَيَنْشُرُ عَلَيْهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ سِجِلًّا كُلُّ سِجِلٍّ مِثْلُ مَدِّ البَصَرِ، ثُمَّ يَقُولُ: أَتُنْكِرُ مِنْ هَذَا شَيْئًا؟ أَظَلَمَكَ كَتَبَتِي الحَافِظُونَ؟ فَيَقُولُ: لاَ يَا رَبِّ، فَيَقُولُ: أَفَلَكَ عُذْرٌ؟ فَيَقُولُ: لاَ يَا رَبِّ، فَيَقُولُ: بَلَى إِنَّ لَكَ عِنْدَنَا حَسَنَةً، فَإِنَّهُ لاَ ظُلْمَ عَلَيْكَ اليَوْمَ، فَتَخْرُجُ بِطَاقَةٌ فِيهَا: أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، فَيَقُولُ: احْضُرْ وَزْنَكَ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ مَا هَذِهِ البِطَاقَةُ مَعَ هَذِهِ السِّجِلاَّتِ، فَقَالَ: إِنَّكَ لاَ تُظْلَمُ، قَالَ: فَتُوضَعُ السِّجِلاَّتُ فِي كَفَّةٍ وَالبِطَاقَةُ فِي كَفَّةٍ، فَطَاشَتِ السِّجِلاَّتُ وَثَقُلَتِ البِطَاقَةُ، فَلاَ يَثْقُلُ مَعَ اسْمِ اللهِ شَيْءٌ. (رواه الترمذى وابن ماجه)

حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا ”قیامت کے دن اللہ تعالیٰ میری امت میں سے ایک شخص کو ساری مخلوق کے روبرو الگ نکالے گا، اور اس کے سامنے ننانوے دفتر کھولے جائیں گے، جن میں ہر دفتر کی لمبائی گویا حد نظر تک ہو گی، (یہ دفتر اس کے اعمال نامے ہوں گے) پھر اس سے فرمایا جائے گا، کہ (تیرے جو اعمال ان دفتروں میں لکھے ہوئے ہیں) کیا ان میں سے کسی کا تجھے انکار ہے؟ کیا تیرے اعمال کی نگرانی کرنے والے، اور لکھنے والے میرے فرشتوں نے تجھ پر ظلم کیا ہے (اور غلط طور پر کوئی گناہ تیرے اعمال نامے میں لکھ دیا ہے)۔ وہ عرض کرے گا نہیں پروردگار! (مجھ پر کسی نے ظلم نہیںکیا ہے، بلکہ یہ سب میرے کئے ہوئے اعمال ہیں)۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا، تو کیا تیرے پاس کوئی عذر ہے، وہ عرض کرے گا، خدا وندا میرے پاس کوئی عذر بھی نہیں (یہاں تک کہ سوال و جواب سے خوس اس شخص کو اور دوسرے لوگوں کو بھی خیال ہو گا کہ یہ بندہ اب گرفت اور عذاب سے کہاں بچ سکے گا، لیکن ارحم الراحمین کی رحمت کا اس طرح ظہور ہو گا کہ) اللہ تعالیٰ اس شخص سے فرمائیں گے، ہاں! ہمارے پاس تیری ایک خاص نیکی بھی ہے، اور آج تیرے ساتھ کوئی ظلم نہیں ہو گا (اور اس نیکی کے فائدہ سے تجھے محروم نہیں کیا جائے گا)۔ یہ فرما کر کاغذ کا ایک پرزہ نکالا جائے گا۔ اس میں لکھا ہو گا “أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ” اور اس بندے سے کہا جائے گا کہ اپنے اعمال کے وزن کے پاس حاضر ہو (یعنی چل کر اپنے سامنے وزن کرا) وہ عرض کرے گا، خدا وندا! ان دفتروں کے سامنے اس پرزہ کی کیا حقیقت ہے، اور ان سے اس کو کیا نسبت ہے (یعنی میں وہاں جا کر کیا دیکھوں گا، اور کیا کروں گا، نتیجہ تو معلوم ہی ہے، کہاں اتنے بڑے بڑے ننانوے دفتر، اور کہاں یہ ذرا سا پرزہ) اللہ تعالیٰ فرمائے گا، نہیں تجھ پر ظلم نہیں کیا جائے گا (بلکہ پورا پورا انصاف کیا جائے گا، جس پرزہ کو تو معمولی اور بےوزن سمجھ رہا ہے تیرے سامنے اس کا بھی وزن کیا جائے گا اور آج اس کا، اور اس میں لکھئے ہوئے ایمانی کلمہ کا وزن ظاہر ہو گا اور اس کا تجھے پورا پورا فائدہ پہنچایا جائے گا، اس لئے مایوس نہ ہو، اور میزان کے پاس جا کر وزن کو دیکھ) رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد وہ ننانوے دفتر ایک پلڑے میں رکھے جائیں گے، اور کاغذ کا وہ پرزہ دوسرے پلڑے میں، پس ہلکے ثابت ہوں گے وہ دفتر اور بھاری رہے گا وہ پرزہ، اور کوئی چیز بھاری نہیں ہو سکتی، اللہ کے نام کے مقابلے میں۔ (ترمذی، ابن ماجہ) تشریح بعض شارحین نے اس حدیث کی توجیہ میں لکھا ہے کہ یہ شہادت کا وہ کلمہ ہو گا جو کفر و شرک سے نکلنے کے لیے اور ایمان و اسلام میں آنے کے لیے پہلی دفعہ دل و زبان سے پڑھا گیا ہو گا، قیامت میں وزن اعمال کے وقتاس کا یہ اثر ظاہر ہو گا، کہ ساری عمر کے پہلے گناہ اس کے اثر سے بے وزن اور بے اثر ہو جائیں گے پہلے بھی ایک حدیث گذر چکی ہے: “أَنَّ الْإِسْلَامَ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهُ” (یعنی اسلام قبول کرنے سے وہ سارے گناہ ختم ہو جاتے ہیں جو پہلی زندگی میں آدمی نے کئےہوں)۔ اور ایکدوسری توجیہ اس حدیث کی یہ بھی کی گئی ہے کہ یہ معاملہ اس شخص کا ہو گا جو مدت دراز تک غفلت اور بے پروائی سے گناہ پر گناہ کرتا رہا اور دفتر کے دفتر لکھے جاتے رہے، پھر اللہ نے اسے توفیق دی اور اس نے دل کی گہرائی سے اور پورے اخلاص سے اس کلمہ شہادت اور کلمہ ایمانکے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اپنی ایمانی نسبت کو درست کر لیا، اور اسی پر اس کو موت آ گئی۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔

98Maarif-ul-Hadith

آسان حساب

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي بَعْضِ صَلَاتِهِ: «اللَّهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا» فَلَمَّا انْصَرَفَ، قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَا الْحِسَابُ الْيَسِيرُ؟ قَالَ: «أَنْ يَنْظُرَ فِي كِتَابِهِ فَيَتَجَاوَزَ عَنْهُ، إِنَّهُ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ يَوْمَئِذٍ يَا عَائِشَةُ هَلَكَ . (رواه احمد)

حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ میں نے بعض نمازوں میں رسول اللہ ﷺ کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا: اللَّهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا (اے اللہ! میرا حساب آسان فرما) میں نے عرض کیا ”حضرت! آسان حساب کا کیا مطلب ہے؟“ آپ نے فرمایا: ”آسان حساب یہ ہے کہ بندہ کے اعمال نامہ پر نظر ڈالی جائے اور اس سے درگذر کی جائے (یعنی کوئی پوچھ گچھ، اور جرح نہ کی جائے) بات یہ ہے کہ جس کے حساب میں اس دن جرح کی جائے گی، اے عائشہ (اس کی خیر نہیں) وہ ہلاک ہو جائے گا“۔ (مسند احمد)

99Maarif-ul-Hadith

ایمان والوں کے لیے قیامت کا دن کیسا ہلکا اور مختصر ہو گا

عَنْ اَبِىْ سَعِيْدِ الْخُدْرِىْ، اَنَّهُ اَتَى رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَقَالَ اَخْبِرْنِىْ مَنْ يَّقْوِىْ عَلَى الْقِيَامِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِىْ قَالَ عَزَّوَ جَلَّ {يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ} فَقَالَ يُخَفَّفُ عَلَى الْمُؤْمِنِ حَتَّى يَكُوْنَ عَلَيْهِ كَالصَّلَوةِ الْمَكْتُوْبَةِ (رواه البيهقى فى البعث والنشور)

ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ”مجھے بتائیے کہ قیامت کے دن جس کے متعلق فرمایا گیا ہے کہ: اس دن لوگ کھڑے ہوں گے رب العالمین کے حضور میں، تو اس دن کس کو کھڑے رہنے کی طاقت اور قدرت ہو گی (اور کون اس پورے دن کھڑا رہ سکے گا جس کے متعلق قرآن و حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ (وہ دن پچاس ہزار سال کے برابر ہو گا)۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ”سچے ایمان والوں کے حق میں یہ کھڑا ہونا بہت ہلکا اور خفیف کر دیا جائے گا، یہاں تک کہ ان کے لئے بس ایک فرض نماز کی طرح ہو جائے گا“۔ (البعث و النشور للبیھقی) تشریح رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں ابو سعید خدری کو جو جواب دیا اس کا اشارہ قرآن میں بھی موجود ہے سورہ مدثر میں فرمایا گیا ہے کہ: فَإِذَا نُقِرَ فِي النَّاقُورِ (8) فَذَلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ (9) عَلَى الْكَافِرِينَ غَيْرُ يَسِيرٍ (10) تو جب صور پھونک دیا جائے گا تو وہدن بڑا سخت ہو گا ایمان نہ لانے والوں کے لئے آسان نہ ہو گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سخت اور بھاری دن ایمان والوں کے حق میں سخت اور بھاری نہ ہو گا بلکہ آسان اور ہلکا کر دیا جائے گا۔

100Maarif-ul-Hadith

راتوں کو اللہ کے لیے جاگنے والوں کا جنت میں بے حساب داخلہ

عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَعَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يُحْشَرُ النَّاسُ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُنَادِي مُنَادٍ فَيَقُولُ: أَيْنَ الَّذِينَ كَانَتْ تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ , فَيَقُومُونَ وَهُمْ قَلِيلٌ فَيُدْخَلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ، ثُمَّ يُؤْمَرُ سَائِرُ النَّاسِ الى الحساب". (رواه البيهقى فى شعب الايمان)

اسماء بنت یزید سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: قیامت کے دن سب لوگ (زندہ کئےجانے کے بعد) ایک وسیع اور ہموار میدان میں جمع کئے جائیں گے (یعنی سب میدانِ حشر میں جمع ہو جائیں گے) پھر اللہ کا منادی پکارے گا، کہ کہاں ہیں وہ بندے جن کے پہلو راتوں کو بستروں سے الگ رہتے تھے (یعنی اپنے بستر چھوڑ کر جو راتوں کو تہجد پڑھتے تھے) پس وہ اس پکار پر کھڑے ہوجائیں گے، اور ان کی تعداد زیادہ نہ ہو گی، پھر وہ اللہ کے حکم سے بغیر حساب کتاب کے جنت میں چلے جائیں گے اس کے بعد باقی تمام لوگوں کے لئے حکم ہو گا کہ وہ حساب کے لئے حاضر ہوں۔ (شعب الایمان للبیھقی)