Maarif-ul-Hadith

All 2,115 hadiths in order · Page 4 of 106

61Maarif-ul-Hadith

ایمان و اسلام کا خلاصہ اور اس کا عطر

عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ الثَّقَفِيِّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، قُلْ لِي فِي الْإِسْلَامِ قَوْلًا لَا أَسْأَلُ عَنْهُ أَحَدًا بَعْدَكَ - وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ غَيْرَكَ - قَالَ: " قُلْ: آمَنْتُ بِاللهِ، ثُمَّ اسْتَقِمْ " (رواه مسلم)

سفیان بن عبد اللہ ثقفی سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ دے عرض کیا، کہ: “یا رسول اللہ! اسلام کے بارے میں مجھے کوئی ایسی جامع اور شافی بات بتائیے کہ آپ کے بعد پھر میں کسی سے اس بارے میں کچھ نہ پوچھوں” آپ نے ارشاف فرمایا: “کہو میں اللہ پر ایمان لایا اور پھر پوری طرح اور ٹھیک ٹھیک اُس پر قائم رہو ”۔ (مسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ اللہ ہی کو اپنا الہ اور رب مان کر اپنے کو بس اُس کا بندہ بنا دو، اور پھر اس ایمان اور عبدیت کے تقاضوں کے مطابق ٹھیک ٹھیک چلنا اپنی زنگی کا دستور بنا لو، بس یہی کافی ہے۔ یہ حدیث “جوامع الکلم” میں سے ہے، رسول اللہ ﷺ کے جواب کے ان دو لفظوں میں اسلام کا پورا خلاصہ آ گیا ہے “ایمان باللہ اور اس پر استقامت” ہی اسلام کی غرض و غایت، بلکہ اُس کی روح ہے۔ “ایمان باللہ” کا مطلب تو کتاب کے بالکل شروع میں حدیث جبرئیل کی تشریح میں بیان کیا جا چکا ہے، اور استقامت کے معنی ہیں بلا افراط و تفریط اور بغیر کسی کجی اور انحراف کے اللہ کی مقرر کی ہوئی “صراط مستقیم” پر قائم رہنا، ار ہمیشہ اُس کی ٹھیک ٹھیک پیروی کرتے رہنا گویا تمام اوامر و نواہی اور جملہ احکام خداوندی کے صحیح مکمل اور دائمی اتباع کا نام استقامت ہے، اور ظاہر ہے کہ بندوں کے لیے اس سے آگے کوئی مقام نہیں ہے، اسی لئے بعض اکابر صرفیہ نے فرمایا ہے: الْاِسْتِقَامَةُ خَيْرٌ مِنْ اَلْفِ كَرَامَةیعنی استقامت ہزاروں کرامتوں سے بہتر اور بالا تر ہے۔ بہر حال استقامت وہ چیز ہے کہ اس کی تعلیم کے بعد کسی اور سبق کے لینے کی ضرورت نہیں رہتی، اور بس وہی انسان کے لیے کافی ہے، قرآن مجید میں بھی کئی جگہ انسان کی سوادت اور فلاح کو ایمان باللہ اور استقامت ہی سے وابستہ کیا گیا ہے۔ اُن میں سے ایک آیت یہ ہے: اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَ لَا هُمْ يَحْزَنُوْنَۚ۰۰۱۳ اُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۰۰۱۴ (الاحقاف: ۴۶: ۱۳، ۱۴) بے شک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہی ہے (اور ہم اسی کے بندے ہیں) اور پھر وہ اس پر مستقیم رہے تو انہیں کوئی خوف و خطر نہیں، اور نہ اُن کو رنج و غم ہو گا وہ سب جنتی ہیں، اپنے اعمال کے بدلہ میں وہ جنت ہی میں ہمیشہ رہیں گے۔ بلکہ “اِرْجَاعُ السُّنَّةِ اِلَى الْكِتَاب ” کے اصول پر کہا جا سکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سفیان بن عبداللہ ثقفی کو یہ جواب شاید ایسی ہی آیات کی روشنی میں دیا ہو گا۔ (۱)

62Maarif-ul-Hadith

ایمان و اسلام کا خلاصہ اور اس کا عطر

عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الدِّينُ النَّصِيحَةُ» قُلْنَا: لِمَنْ؟ قَالَ: «لِلَّهِ وَلِكِتَابِهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ وَعَامَّتِهِمْ» (رواه مسلم)

حضرت تمیم داری روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دین نام ہے “خلوص اور وفاداری” کا۔ ہم نے عرض کیا کہ “کس کے ساتھ خلوص (۲) اور وفا داری؟” ارشاد فرمایا: اللہ کے ساتھ، اللہ کی کتاب کے ساتھ، اللہ کے رسول کے ساتھ، مسلمانوں کے سرداروں، پیشواؤں کے ساتھ اور اُن کے عوام کے ساتھ (مسلم) تشریح یہ حدیث بھی “جوامع الکلم” میں سے ہے، امام نوویؒ نے لکھا ہے کہ کل مقاصدِ دین کو یہ حدیث جامع ہے، اور اس پر عمل کر لینا گویا دین کے پورے منشا کو ادا کر دینا ہے، کیوں کہ دین کاکوئی شعبہ اور کوئی گوشہ ایسا نہیں ہے جو اس حدیث کے مضمون سے باہر رہ گیا ہو۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے، کہ اس حدیث میں اللہ، کتاب اللہ، رسول اللہ، ائمہ امت و پیشوایانِ ملت، اور عوام مسلمانوں کے ساتھ خلوص و وفاداری کو دین بتلایا گیا ہے، اور یہی کُل دین ہے، کیوں کہ اللہ کے ساتھ اخلاص و وفاداری کا مطلب یہ ہے کہ اُس پر ایمان لایا جائے، ممکن حد تک اُس کی معرفت حاصل کی جائے، اُس کے ساتھ انتہائی محبت کی جائے، اُس کی اطاعت و عبادت کی جائے، اُس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے، اور مالک و مقتدر جانتے ہوئے اُس سے ڈرا جائے، غرض پورے اخلاص و وفا کے ساتھ عبدیت کا حق ادا کیا جائے۔ اور کتاب اللہ کے ساتھ وفاداری یہ ہے کہ اُس پر ایمان لایا جائے، اُس کا حقِ عظمت ادا کیا جائے، اُس کا علم حاصل کیا جائے، اُس کا علم پھیلایا جائے، اُس پر عمل کیا جائے۔ علیٰ ھذا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خلوص و وفا یہ ہے کہ اُن کی تصدیق کی جائے، تعظیم و توقیر کی جائے، اُن سے ان کی تعلیمات اور ان کی سنتوں سے محبت کی جائے، اور دل و جان سے اُن کی پیروی و غلامی میں اپنی نجات سمجھی جائے۔ اور ائمہ مسلمین (یعنی مسلمانوں کے سرداروں اور پیشواؤں، حاکموں اور رہنماؤں) کے ساتھ خلوص و وفاداری یہ ہے کہ اُن کی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں اُن کی مدد کی جائے، اُن کے ساتھ نیک گمان رکھا جائے، اور اگر اُن سے کوئی غفلت اور غلطی ہوتی نظر آئے تو بہتر طریقہ پر اُس کی اصلاح اور درستگی کی کوشش کی جائے، اچھے مشوروں سے دریغ نہ کیا جائے، اورع معروف کی حد تک اُن کی بات مانی جائے۔ اور عام مسلمانوں کے ساتھ خلوص و وفا یہ ہے کہ اُن کی ہمدردی و خیر خواہی کا پورا پورا خیال رکھا جائے، اُن کا نفع اپنا نفع اور اُن کا نقصان اپنا نقصان سمجھا جائے، جائز اور ممکن خدمت اور مدد سے دریغ نہ کیا جائے۔ الغرض علیٰ فرقِ مراتب اُن کے جو حقوق عظمت و شفقت اور خدمت و تعاون کے مقرر ہیں اُن کو ادا کیا جائے۔ اس تفصیل سے ہر شخص سمجھ سکتا ہے، کہ یہ حدیث کس طرح پورے دین کو حاوی ہے اور دین کے تمام شعبوں کو اِن مختصر لفظوں میں کس طرح ادا کر دیا گیا ہے۔ اور اس پر صحیح طور سے عمل کرنا گویا پورے دین پر عمل کرنا ہے۔ تقدیر کا ماننا بھی شرطِ ایمان ہے (حدیث جبرئیل کے ضمن میں اور بعض اور حدیثوں میں بھی تقدیر کا ذکر پہلے آچکا ہے، اور اجمالاً معلوم ہو چکا ہے کہ تقدیر پر ایمان لانا بھی ضروریات میں سے ہے، لیکن یہاں تقدیر کے متعلق چند حدیثیں مستقل طور سے ذکر کی جائیں گی، جن سے اس اہم مسئلہ کی اہمیت اور کچھ تفصیلات بھی معلوم ہوں گی)۔

63Maarif-ul-Hadith

ایمان و اسلام کا خلاصہ اور اس کا عطر

عَنِ ابْنِ الدَّيْلَمِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ، فَقُلْتُ: لَهُ قَدْ وَقَعَ فِي نَفْسِي شَيْءٌ مِنَ الْقَدَرِ، فَحَدِّثْنِي لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُذْهِبَهُ مِنْ قَلْبِي، فَقَالَ: «لَوْ أَنَّ اللَّهَ عَذَّبَ أَهْلَ سَمَاوَاتِهِ وَأَهْلَ أَرْضِهِ عَذَّبَهُمْ وَهُوَ غَيْرُ ظَالِمٍ لَهُمْ، وَلَوْ رَحِمَهُمْ كَانَتْ رَحْمَتُهُ خَيْرًا لَهُمْ مِنْ أَعْمَالِهِمْ، وَلَوْ أَنْفَقْتَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا قَبِلَهُ اللَّهُ مِنْكَ حَتَّى تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ، وَتَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ، وَأَنَّ مَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ، وَلَوْ مُتَّ عَلَى غَيْرِ هَذَا لَدَخَلْتَ النَّارَ»، قَالَ: ثُمَّ أَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، قَالَ: ثُمَّ أَتَيْتُ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، قَالَ: ثُمَّ أَتَيْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَحَدَّثَنِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ (رواه احمد وابو داؤد وابن ماجة)

ابن الدیلمی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں (مشہور صحابی رسول) ابی بن کعبؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا، کہ: تقدیر کے متعلق میرے دل میں کچھ خلجان سا پیدا ہو گیا ہے، لہذا آپ اس کے متعلق کچھ بیان فرمائیں، شاید اللہ تعالیٰ اس خلجان کو میرے دل سے دور کر دے (اور مجھے اس مسئلہ میں اطمینان نصیب ہو جائے)۔ انہوں نے فرمایا: سنو! اگر اللہ تعالیٰ اپنے زمین و آسمان کی ساری مخلوق کو عذاسب میں ڈال دے، تو وہ اپنے اس فعل میں ظالم نہ ہو گا اور اگر وہ ان سب کو اپنی رحمت سے نوازے، تو اس کی یہ رحمت اُن کے اعمال سے بہتر ہو گی، (یعنی ان پر یہ اس کا محض فضل و احسان ہو گا، اُن کے اعمال کا واجب حق نہ ہو گا اور سنو! تقدیر پر ایمان لانا اس قدر ضروری ہے، کہ اگر تم احد پہاڑ کے برابر سونا راہِ خدا میں خرچ کر دو، تو اللہ کے یہاں وہ قبول نہ ہو گا جب تک کہ تم تقدیر پر ایمان نہ لاؤ، اور تمہارا پختہ اعتقاد یہ نہ ہو کہ جو کچھ تمہیں پیش آتا ہے، تم کسی طرح اُس سے چھوٹ نہیں سکتے تھے، اور جو حالات تم پر پیش نہیں آتے وہ تم پر آ ہی نہیں سکتے تھے (یعنی جو کچھ، ہوتا ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقدر اور مقرر ہو چکا ہے اور اس مقررہ پروگرام میں ذرہ برابر تبدیلی بھی ممکن نہیں ہے) اور اگر تم اس کے خلاف اعتقاد رکھتے ہوئے مر گئے، تو یقیناً تم دوزخ میں جاؤ گے۔ ابن الدیلمی کہتے ہیں، کہ ابی بن کعب سے یہ سننے کے بعد میں عبداللہ بن مسعود کی خدمت میں حاضر ہوا، تو انہوں نے بھی مجھ سے یہی فرمایا، اس کے بعد میں حذیفہ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو انہوں نے بھی مجھ سے یہی فرمایا، پھر میں زید بن ثابت کی خدمت میں حاضر ہوا، تو انہوں نے یہی بات رسول اللہ ﷺ کی حدیث کے طور پر مجھ سے بیان فرمائی (مسند احمد، ابو داؤد، ابن ماجہ) تشریح تقدیر کے متعلق ایک عام وسوسہ جس کو شیطان کبھی کبھی بعض ایمان والوں کے قلوب میں بھی ڈالتا ہے، یہی ہے کہ جب سب کچھ اللہ ہی کی تقدیر سے ہو رہا ہے تو پھر دنیا میں کوئی اچھے حال میں اور کوئی بُرے حال میں کیوں ہے، اور آخرت میں کیوں کسی کو جنت میں اور کسی کو دوزخ میں ڈالا جائے گا!۔۔۔ اگر کسی صاحب ایمان کے دل میں کبھی یہ وسوسہ آئے، تو اس کے دفع کرنے کی آسان اور مختصر تدبیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کوسارے عالم کا خالق و مالک ہونے کی حیثیت سے تمام بندوں اور ساری مخلوقات پرجو کامل اختیار حاصل ہے اُس کی یاد تازہ کر لی جائے، اور سوچا جائے کہ ایسا لا شریک مالک الملک اور عدم محض سے وجود میں لانے والا خالق و صانع اپنی جس مخلوق کے ساتھ جو معاملہ بھی کرے، بلا شبہ وہ اُس کا حقدار ہے، وہ سب کو عذاب میں مبتل کرے، تو کسی قانون سے اُس کو ظالم نہیں کہا جا سکتا اور اگر سب کو رحمت سے نوازے، تو یہ رحمت اُس کی محض بخشش ہی ہو گی، کیوں کہ جو نیکو کار لوگ نیک اعمال کرتے ہیں ان کی توفیق دینے والا، اور اعمال کرانے والا بھی وہی ہے۔ بہر حال مخلوق کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی اس خاص حیثیت کو اگر اچھی طرح ذہن نشین کر لیا جائے، تو مؤمن کے دل سے تو یہ شبہ بالکل جاتا رہے گا اور اُس کو اطمینان ہو جائے گا۔ ابن الدیلمی بحمد اللہ چونکہ سچے مؤمن تھے، اور اللہ تعالیٰ کی اس شان پر ایمان و اعتقاد رکھتے تھے، اس لیے ان صحابہ کرامؓ نے اسی کی یاد ہانی کے ذریعہ ان کے وسوسہ کا علاج کیا اور انہیں یہ بھی بتلادیا کہ تقدیر پر ایمان و اعتقاد اتنا ضروری ہے کہ اگر کوئی شخص اس عقیدے کے بغیر پہاڑ کے برابر سونا بھی راہِ خدا میں خرچ کرے،تو اللہ تعالیٰ کے یہاں قبول نہیں، اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہی ہو گا۔ بہر حال یہ ملحوظ رہنا چاہیے، کہ اس طریقہ سے صرف اہلِ ایمان ہی کے اس قسم کے وسوسے کا علاج کیا جا سکتا ہے دوسرے لوگوں کی طرف سے تقدیر کے متعلق جو شبہات کئے جاتے ہیں ان کے جواب کا طریقہ دوسرا ہے، اس کے معلوم کرنے کے لیے علم کلام کی کتابوں کی طرف رجوع کرنا چاہیے، اور کچھ مختصر اشارات ان شاء اللہ تعالیٰ آئندہ صفحات میں کئے جائیں گے۔

64Maarif-ul-Hadith

ایمان و اسلام کا خلاصہ اور اس کا عطر

عَنْ ابْنِ أَبِي خُزَامَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ رُقًى نَسْتَرْقِيهَا وَدَوَاءً نَتَدَاوَى بِهِ وَتُقَاةً نَتَّقِيهَا هَلْ تَرُدُّ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ شَيْئًا؟ فَقَالَ: «هِيَ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ» (رواه احمد والترمذى وابن ماجه)

ابو خزامہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، کہ انہوں نے بیان کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: کیا ارشاد ہے اس بارہ میں کہ جھاڑ پھونک کے وہ طریقے جن کو ہم دکھ درد میں استعمال کرتے ہیں، یا دوائیں جن سے ہم اپنا علاج کرتے ہین، یا مصیبتوں اور تکلیفوں سے بچنے کی وہ تدبیریں جن کو ہم اپنے بچاؤ کے لیے استعمال کرتے ہیں، کیا یہ چیزیں اللہ کی قضاء و قدر کو لوٹا دیتی ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ یہ سب چیزیں بھی اللہ کی تقدیر سے ہے۔ (مسند احمد، ترمذی، ابن ماجہ) تشریح رسول اللہ ﷺ کے جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم جن مقاصد کے حاصل کرنے کے لیے جو تدبیریں اور کوششیں کرتے ہیں، اور اس سلسلہ میں جن اسباب کا استعمال کرتے ہیں، وہ سب بھی اللہ کی قضاء و قدر کے ماتحت ہیں، گویا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی یہ مقدر اور مقرر ہوتا ہے کہ فلاں شخص پر فلاں بیماری آئے گی اور فلاں قسم کے جھاڑ پھونک، یا فلاں دوا کے استعمال سے وہ اچھا ہو جائے گا۔۔۔ اگر غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ رسول اللہ ﷺ کے اس نہایت مختصر دو لفظی جواب سے مسئلہ تقدیر کے متعلق بہت سے شبہات اور سوالات کا جواب ہو جاتا ہے۔

65Maarif-ul-Hadith

ایمان و اسلام کا خلاصہ اور اس کا عطر

عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ كُتِبَ مَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ، وَمَقْعَدُهُ مِنَ الجَنَّةِ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلاَ نَتَّكِلُ عَلَى كِتَابِنَا، وَنَدَعُ العَمَلَ؟ قَالَ: «اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ، أَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ فَيُيَسَّرُ لِعَمَلِ أَهْلِ السَّعَادَةِ، وَأَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الشَّقَاءِ فَيُيَسَّرُ لِعَمَلِ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ»، ثُمَّ قَرَأَ: {فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى وَصَدَّقَ بِالحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى، وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَى، وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى} (رواه البخارى و مسلم)

حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے ہر ایک کا ٹھکانا دوزخ کا اور جنت کا لکھا جا چکا ہے (مطلب یہ ہے کہ جو شخص دوزخ میں یا جنت میں جہاں بھی جائے گا، اس کی وہ جگہ پہلے سے مقدر اور مقرر ہو چکی ہے“۔ صحابہ نے عرض کیا: تو کیا ہم اپنے اس نوشتہ تقدیر پر بھروسہ کرکے نہ بیٹھ جائیں، اور سعی و عمل چھوڑ نہ دیں (مطلب یہ ہے کہ جب سب کچھ پہلے ہی سے طے شدہ اور لکھا ہوا ہے تو پھر ہم سعی و عمل کی درد سری کیوں مول لیں)۔ آپ نے فرمایا ”نہیں! عمل کئے جاؤ، کیوں کہ ہر ایک کو اسی کی توفیق ملتی ہے جس کے لیے وہ پیدا ہوا ہے، پس جو کوئی نیک بختوں میں سے ہے تو اُس کو سعادت اور نیک بختی کے کاموں کی توفیق ملتی ہے، اور جو کوئی بدبختوں میں سے ہے اُس کو شقاوت اور بدبختی والے اعمالِ بد ہی کی توفیق ملتی ہے، اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے قرآن پاک کی یہ آیت تلاوت فرمائی: فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى وَصَدَّقَ بِالحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى، وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَى، وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى (والليل) جس نے راہِ خدا میں دیا اور تقویٰ اختیار کیا اور اچھ بات کی تصدیق کی (یعنی دعوتِ اسلام کو قبول کیا) تو اُسکو ہم چین و راحت کی زندگی یعنی جنت حاصل کرنے کی توفیق دیں گے اور جس نے بخل سے کام لیا، اور مغرور و بے پرواہ رہا، اور اچھی بات کو یعنی دعوتِ ایمان کو جھٹلایا، تو اس کے واسطے ہم تکلیف کی اور دشواری والی زندگی (یعنی دوزخ) کی طرف چلنا آسان کر دیں گے۔ (بخاری و مسلم) تشریح رسول اللہ ﷺ کے جواب کا حاصل یہ ہے کہ اگرچہ ہر شخص کے لیے اُس کا آخری ٹھکانہ دوزخ یاجنت میں پہلے سے مقرر ہو چکا ہے، لیکن اچھے یا برے اعمال سے وہاں تک پہنچنے کا راستہ بھی پہلے سے مقدر ہے اور تقدیر الہی میں یہ بھی طے ہو چکا ہے کہ جو جنت میں جائے گا، وہ اپنے فلاں فلاں اعمالِ خیر کے راستے جائے گا اور جو جہنم میں جائے گا وہ اپنی فلاں فلاں بد اعمالیوں کی وجہ سے جائے گا، پس جنتیوں کے اعمالِ خیر اور دوزخیوں کے لیے اعمالِ بد بھی مقدور و مقرر ہیں، اور اس لئے ناگزیر ہیں، حضور ﷺ کے اس جواب کا ما حصل بھی قریب قریب وہی ہے، جو اوپر والی حدیث میں آپ کے جواب کا تھا۔ ابھی عنقریب اس مضمون کی کچھ اور وضاحت اور تفصیل بھی کی جائے گی۔

66Maarif-ul-Hadith

ایمان و اسلام کا خلاصہ اور اس کا عطر

عَنِ بْنَ عُمَرَ قال قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ، حَتَّى الْعَجْزِ وَالْكَيْسِ، أَوِ الْكَيْسِ وَالْعَجْزِ» (رواه مسلم)

عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر چیز تقدیر سے ہی، یہاں تک کہ آدمی کا ناکارہ اور ناقابل ہونا، اور قابل و ہوشیار ہونا بھی تقدیر ہی سے ہے۔“ تشریح مطلب یہ ہے کہ آدمی کی صفات قابلیت و ناقابلیت، صلاحیت و عدم صلاحیت، اور عقلمندی و بےوقوفی وغیرہ بھی اللہ کی تقدیر ہی سے ہیں، الغرض اس دنیا میں جو کوئی جیسا، اور جس حالت میں ہے وہ اللہ کی قضاء و قدر کے ماتحت ہے۔

67Maarif-ul-Hadith

ایمان و اسلام کا خلاصہ اور اس کا عطر

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَتَنَازَعُ فِي القَدَرِ فَغَضِبَ حَتَّى احْمَرَّ وَجْهُهُ، حَتَّى كَأَنَّمَا فُقِئَ فِي وَجْنَتَيْهِ حُبُّ الرُّمَّانِ، فَقَالَ: أَبِهَذَا أُمِرْتُمْ أَمْ بِهَذَا أُرْسِلْتُ إِلَيْكُمْ؟ إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ حِينَ تَنَازَعُوا فِي هَذَا الأَمْرِ، عَزَمْتُ عَلَيْكُمْ أَلاَّ تَنَازَعُوا فِيهِ. (رواه الترمذى)

ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ ہم لوگ (مسجد نبوی میں بیٹھے) قضاو قدر کے مسئلہ میں بحث مباحثہ کر رہے تھے، کہ اسی حال میں رسول اللہ ﷺ باہر سے تشریف لے آئے (اور ہم کو یہ بحث کرتے دیکھا) تو آپ بہت برافروختہ اور غضب ناک ہوئے، یہاں تک کہ چہرہ مبارک سُرخ ہو گیا، اور اس قدر سُرخ ہوا، کہ معلوم ہوتا تھا آپ کے رخساروں پر انار نچوڑ دیا گیا ہے۔ پھر آپ نے ہم سے فرمایا: کیا تم کو یہی حکم کیا گیا ہے، کیا میں تمہارے لئے یہی پیام لایا ہوں (کہ تم قضاء و قدر کے جیسے اہم اور نازک مسئلوں میں بحث کرو)۔ خبردار! تم سے پہلی امتیں اُسی وقت ہلاک ہوئیں جب اُنہوں نے اس مسئلہ میں حجت اور بحث کو اپنا طریقہ بنا لیا، میں تم کو قسم دیتا ہوں، میں تم پر لازم کرتا ہوں، کہ اس مسئلہ میں ہرگز حجت اور بحث نہ کیا کرو۔ تشریح قضاء و قدر کا مسئلہ بلا شبہ مشکل و نازک مسئلہ ہے، لہذا مؤمن کو چاہئے کہ اگر یہ مسئلہ اس کی سمجھ میں نہ آئے، تو بحث اور حجت نہ کرے، بلکہ اپنے دل و دماغ کو اس پر مطمئن کر لے کہ اللہ کے صادق و مصدوق رسول نے اس مسئلہ کو اسی طرح بیان فرمایا ہے، لہذا ہم اس پر ایمان لائے۔ تقدیر کا مسئلہ تو اللہ تعالیٰ کی صفات سے تعلق رکھتا ہے، اس لیے اس کو نازک اور مشکل ہونا ہی چاہئے، ہمارا حال تو یہ ہے کہ اسی دنیا کے بہت سے معاملات اور بہت سے رازوں کو ہم میں سے بہت سے نہیں سمجھ سکتے، پس جب اللہ کے سچے پیغمبر (علیہ الصلوٰۃ والسلام) نے ایک حقیقت بیان فرما دیا (جس کا پوری طرح سمجھ لینا سب کے لیے آسان نہیں ہے) تو جن لوگوں کی سمجھ میں نہ آئے، اُن کے لیے بھی ایمان لائے کے بعد صحیح طریق کار یہی ہے کہ وہ اُس کے بارے میں کوئی بحث اور کٹ حجتی نہ کریں، بلکہ اپنے قول اور اپنے ذہن کی نا رسائی کا اعتراف کرتے ہوئے اس پر ایمان لائیں۔ رسول اللہ ﷺ کے سخت غصہ اور جلال کی وجہ غالباً یہ تھی،کہ حضرات آپ کی تعلیم و تربیت میں تھے اور آپ براہِ راست دین حاصل کر رہے تھے، ان کو جب آپ نے اس غلطی میں مبتلا دیکھا، تو قلبی تعلق رکھنے والے معلم و مربی کی طرٖح آپ کو سخت غصہ آیا۔ اس موقع پر آپ نے جو یہ ارشاد فرمایا کہ: ”تم سے پہلی امتیں اسی وقت ہلاک ہوئیں جب کہ انہوں نے اس مسئلہ میں حجت و بحث کا طریقہ اختیار کیا“۔ تو یہاں امتوں کے ہلاک ہونے سے مراد غالباً ان کی گمراہی ہے، قرآن و حدیث میں ہلاکت کا لفظ گمراہی کے لیے بکثرت استعمال ہوا ہے، اس بنا پر آپ کے اس ارشاد کا مطلب یہ ہو گا کہ اگلی امتوں میں اعتقادی گمراہیاں اُس وقت آئیں، جب کہ انہوں نے اس مسئلہ کو حجت و بحث کا موضوع بنایا۔ تاریخ شاہد ہے کہ امتِ محمدیہ میں بھی اعتقادی گمراہیوں کا سلسلہ اسی مسئلہ سے شروع ہوا ہے۔ یہ واضح رہے کہ اس حدیث میں ممانعت حجت اور نزاع سے فرمائی گئی ہے، پس اگر کوئی شخص تقدیر کے مسئلہ پر ایک مؤمن کی طرح قطعی ایمان رکھتے ہوئے صرف اطمینان قلبی کے لیے اس مسئلہ کے بارے میں کسی اہل سے سوال کرے تو اس کی ممانعت نہیں ہے۔ اس سے پہلی دو حدیثوں میں خود رسول اللہ ﷺ نے بعض صحابہ کرامؓ کے سوال کے جواب ہی میں اس مسئلہ کے بعض پہلوؤں کو خود سمجھایا ہے۔

68Maarif-ul-Hadith

ایمان و اسلام کا خلاصہ اور اس کا عطر

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَتَبَ اللهُ مَقَادِيرَ الْخَلَائِقِ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِخَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ، قَالَ: وَعَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ " (رواه مسلم)

عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تخلیق سے پچاس ہزار برس پہلے تمام مخلوقات کی تقدیریں لکھ دی ہیں، اور فرمایا، کہ اس کا عرش پانی پر تھا۔ تشریح اس حدیث میں چند چیزیں غور طلب ہیں: اول یہ کہ اللہ تعالیٰ کے تقدیر لکھنے سے کیا مراد ہے؟ ظاہر ہے کہ اس کا مطلب یہ تو ہے نہیں، کہ جس طرح ہم انسان ہاتھ میں قلم لے کے کاغذ یا تختی پر کچھ لکھتے ہیں، ایسے ہی اللہ تعالیٰ نے لکھا ہو، ایسا خیال کرنا اللہ تعالیٰ کی شانِ اقدس میں ناواقفی ہے، در اصل اللہ تعالیٰ کے افعال و صفات کی حقیقت اور کیفتیت کے ادراک سے ہم قاصر ہیں، اور چونکہ اس کے لیے الگ کوئی زبان اور لغت نہیں ہے، اس لئے مجبوراً انہیں الفاظ سے اس کے افعال و صفات کی تعبیر کرتے ہیں جو دراصل ہمارے افعال و صفات کے لئے وضع کئے گئے ہیں، ورنہ اُسکے اور ہمارے افعال و صفات کی حقیقت اور کیفیت میں اتنا ہی فرق ہے، جتنا کہ اس کی عالی ذات اور ہماری ذاتوں میں ہے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ اس حدیث میں جس کتابت تقدیر کا ذکر کیا گیا ہے، اس کی حقیقت اور نوعیت کیا ہے، علاوہ ازیں یہ بھی واقعہ ہے کہ عربی زبان میں کسی چیز کے طے کر دینے اور معین و مقرر کر دینے کو بھی کتابت سے تعبیر کیا جاتا ہے، چنانچہ قرآن مجید میں اسی معنی کے اعتبار سے روزہ کی فرضیت کو “كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ” سے اور قصاص کے حکم کو “كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ”سے تعبیر کیا گیا ہے، پس اگر حدیث مذکور میں بھی کتابت سے یہی مراد ہو تو مطلب یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی پیدائش سے پچاس ہزار برس پہلے تمام مخلوقات کی تقدیریں معین کیں، اور جو کچھ ہونا ہے اُس کو مقرر فرمایا۔ (۱) اس معنی کا ایک قرینہ یہ بھی ہے، کہ بعض روایات میں بجائے ”کُتِبَ“ کے ”قَدَّرَ“ کا لفظ بھی آیا ہے۔ اس موقع پر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے، کہ کتابت تقدیر کے سلسلے کی بعض غیر معتبر روایتوں میں قلم اور لوح وغیرہ سے متعلق جو تفصیلات نقل کی گئی ہیں، وہ اسرائیلیات سے ماخوذ ہیں، رسول اللہ ﷺ کی صحیح احادیث میں ان کا کوئی ذکر نہیں ہے۔(۲) دوسری بات اس حدیث سے متعلق یہ بھی ملحوظ رہنی چاہئے کہ پچاس ہزار برس سے مراد بہت طویل زمانہ بھی ہو سکتا ہے، عربی زبان اور عربی محاورے میں یہ استعمال شائع ذائع ہے۔ حدیث کے آخر میں فرمایا گیا ہے، کہ: ”جس طرح ہماری قوتِ خیالیہ میں ہزاروں چیزوں کی صورتیں، اور ان کے متعلق معلومات جمع رہتی ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے عرش کی قوتوں میں سے کسی خاص قوت میں (جس کو ہماری قوتِ خیالیہ کے مشابہ سمجھنا چاہیے) “ تمام مخلوقات اور ان کے تمام احوال اور حرکات و سکنات کو، غرض جو کچھ عالم وجود میں آنے والا ہے اس سب کو عرش کی اس قوت میں ثبت فرما دیا، گویا دنیا کے پردے پر جو کچھ ہو رہا ہے، وہ سب عرش کی اس قوت میں اسی طرح موجودہ محفوظ ہے جس طرح ہمارے خیال میں لاکھوں صورتیں اور ان کے متعلق معلومات ہوتے ہیں۔ شاہ صاحبؒ کے نزدیک تمام مخلوقات کی تقدیر لکھنے سے یہی مراد ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔

69Maarif-ul-Hadith

ایمان و اسلام کا خلاصہ اور اس کا عطر

عَنِ ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ الصَّادِقُ المَصْدُوقُ: " أَنَّ خَلْقَ أَحَدِكُمْ يُجْمَعُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً، ثُمَّ يَكُونُ عَلَقَةً مِثْلَهُ، ثُمَّ يَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَهُ، ثُمَّ يُبْعَثُ إِلَيْهِ المَلَكُ فَيُؤْذَنُ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ، فَيَكْتُبُ: رِزْقَهُ، وَأَجَلَهُ، وَعَمَلَهُ، وَشَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ، ثُمَّ يَنْفُخُ فِيهِ الرُّوحَ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الجَنَّةِ حَتَّى لاَ يَكُونُ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ إِلَّا ذِرَاعٌ، فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الكِتَابُ، فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فَيَدْخُلُ النَّارَ، وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ، حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ إِلَّا ذِرَاعٌ، فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الكِتَابُ، فَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ الجَنَّةِ فَيَدْخُلُهَا " (رواه البخارى ومسلم)

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے صادق و مصدوق پیغمبر ﷺ نے ہم سے بیان فرمایا: ”تم میں سے ہر ایک کا مادہ تخلیق اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس روز تک نطفہ کی شکل میں جمع رہتا ہے (یعنی پہلے چلہ میں کوئی غیر معمولی تغیر نہیں ہوتا، صرف خون میں کچھ غلظت آ جاتی ہے، اس کو ”نطفہ“ کہا گیا ہے۔ (۱) پھر اس کے بعد اتنی ہی مدت منجمد خون کی شکل میں رہتا ہے، پھر اتنے ہی دنوں وہ گوشت کا لوتھڑا رہتا ہے (اور اسی مدت میں اعضاء کی تشکیل اور ہڈیوں کی بناوٹ بھی شروع ہو جاتی ہے) پھر اللہ تعالیٰ (مندرجہ ذیل) چار باتیں لے کر ایک فرشتہ کو بھیجتا ہے، یہ فرشتہ اس کے اعمال اس کی مدت عمر اور وقت موت، اور س کا رزق لکھتا ہے، اور یہ کہ بدبخت ہے یا نیک بخت، پھر س میں روح ڈالی جاتی ہے۔ پس قسم اُس ذات کی جس کے سوا کوئی عبادت و بندگی کے لائق نہیں، کبھی ایسا ہوتا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص جنتیوں کے سے عمل کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے، پھر نوشتہ تقدیر آگے آ جاتا ہے، اور وہ دوزخیوں کے عمل کرنے لگتا ہے، اور انجام کار دوزخ میں چلا جاتا ہے اور (اسی طرح کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ) تم میں سے کوئی دوزخیوں کے سے عمل کرنے لگتا ہے، یہاں تک کہ اس کے اور دوزخ کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے، پھر نوشتہ تقدیر آگے آ جاتا ہے اور وہ جنتیوں کے عمل کرنے لگتا ہے اور جنت میں پہنچ جاتا ہے۔ (بخاری و مسلم) تشریح اس حدیث میں دو مضمون بیان فرمائے گئے یہں، شروع میں تو تخلیق انسانی کے ان چند مرحلوں کا ذکر کا ذکر ہے جس سے انسان نفخ روح تک رحم مادر میں گزرتا ہے، (اور غالباً ان مرحلوں کا ذکر فرمایا ہے جو اللہ تعالیٰ کا مقرر کیا ہوا فرشتہ نفخ روح کے وقت پر پیدا ہونے والے انسان کے متعلق لکھتا ہے، جس میں اس کے اعمال، اس کی مدتِ حیات اور وقتِ موت، اور روزی اور نیک بختی یا بد بختی کی تفصیل ہوتی ہے، حدیث کے سیاق سے معلوم ہوتا ہے، کہ حضور ﷺ کا کاص منشاء اسی نوشتہ کے متعلق یہ بیان فرمانا ہے، کیہ یہ ایسا قطعی اور اٹل ہوتا ہے کہ ایک شخص جو اس نوشتہ میں دوزخیوں میں لکھا ہوتا ہے، بسا اوقات وہ ایک مدت تک جنتیوں کی سی پاکبازانہ زندگی گزارتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ جنت سے بہت ہی قریب ہوتا جاتا ہے لیکن پھر ایک دم اُس کے رویہ میں تبدیلی ہوتی ہے، اور وہ دوزخ میں لے جانے والے بُرے اعمال کرنے لگتا ہے، اور اسی حال میں مر کر بالآخر دوزخ میں چلا جاتا ہے، اور اس کے برعکس ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک آدمی جو فرشتہ کے نوشتہ میں اہل جنت میں لکھا ہوتا ہے، وہ ایک عرصہ تک دوزخیوں کی سی زندگی گزارتا رہتا ہے، اور دوزخ کے اتنا قریب ہو جاتا ہے کہ اس کے اور دوزخ کے درمیان گویا ایک ہاتھ سے زیادہ فاصلہ نہیں رہتا لیکن پھر ایک دم وہ سنبھل جاتا ہے، اور اہلِ جنت کے اعمالِ صالحہ کرنے لگتا ہے، اور اسی حال میں مر کر جنت میں چلا جاتا ہے۔ اس حدیث کا خاص سبق یہ ہے کہ کسی کو بد اعمالیوں میں مبتلا دیکھ کر اس کے قطعی دوزخی ہونے کا حکم نہ لگانا چاہئے، کیا معلوم زندگی کے باقی حصے میں اس کا رخ اور رویہ کیا ہونے والا ہے، اسی طرح اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے آج اعمالِ خیر کی توفیق کسی کو مل رہی ہے تو اس پر اس کو مطمئن نہ ہو جانا چاہئے، بلکہ برابر حسن خاتمہ کے لیے فکر مند رہنا چاہیے۔

70Maarif-ul-Hadith

ایمان و اسلام کا خلاصہ اور اس کا عطر

عَنْ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«إِنَّ قُلُوبَ بَنِي آدَمَ كُلَّهَا بَيْنَ إِصْبَعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمَنِ، كَقَلْبٍ وَاحِدٍ، يُصَرِّفُهُ كَيْفَ يَشَاءُ» ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللهُمَّ مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ صَرِّفْ قُلُوبَنَا عَلَى طَاعَتِكَ» (رواه مسلم)

حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بنی آدم کے تمام قلوب اللہ تعالیٰ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہیں، ایک دل کی طرح، وہ جس طرح (اور جس طرف) چاہتا ہے اس کو پھیر دیتا ہے“۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ”اے دلوں کے پھیرنے والے، ہمارے دل اپنی اطاعت وبندگی کی طرف پھیر دے “۔ تشریح ابھی اوپر بتلایا جا چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے افعال و صفات کو سمجھنے کے لئے چوں کہ الگ کوئی زبان نہیں ہے، اس لئے مجبوراً اس کے لئے بھی ان ہی الفاظ و محاورات کا استعمال کیا جاتا ہے، جو دراصل انسانی افعال و صفات کے لیے وضع کئے گئے ہیں، چنانچہ اس حدیث میں جو کہا گیا ہے، کہ بنی آدم کے قلوب اللہ تعالیٰ کی دو انگلیوں کے درمیان ہیں، تو اس کا مطلب صرف یہی ہے کہ انسانوں کے دل اللہ تعالیٰ کے اختیار اور اس کے قبضہ تصرف میں تصرف میں ہیں، وہی جدھر چاہتا ہے انہیں پھیر دیتا ہے۔ اور حدیث کی یہ تعبیر بالکل ایسی ہے جیسے کہ ہمارے محاورے میں کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص تو بالکل میری مٹھی میں ہے۔ مطلب یہی ہوتا ہے کہ وہ بالکل میرے اختیار میں ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہمارے دلوں کو بھی اللہ ہی جدھر چاہتا ہے پھیرتا ہے۔ مندرجہ بالا حدیثوں سےتقدری کے متعلق چند باتیں معلوم ہوئیں: ۱۔ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تخلیق سے پچاس ہزار برس پہلے تمام مخلوقات کی تقدیریں مقدر فرما دیں، اور جو کچھ ہونا ہے گویا وہ سب بالتفصیل لکھ دیا۔ ۲۔ انسان جب رحم مادر میں ہوتا ہے اور اس پر تین چلے گزر جاتے ہیں، اور نفخ روح کا وقت آتا ہے تو اللہ کا مقرر کیا ہوا فرشتہ اس کے متعلق چار باتیں لکھتا ہے۔اس کی مدتِ عمر، اس کے اعمال، اس کا رزق اور اس کا نیک بخت یا بدبخت ہونا۔ ۳۔ ہمارے دلوں کو بھی اللہ تعالیٰ ہی جدھر چاہتا ہے پھیر دیتا ہے۔ دراصل تقدیر الہی کے یہ مختلف درجےاور مختلف مظاہر ہیں، اور حقیقی ازلی تقدیر ان سے سابق ہے، حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے تقدیر الہی کے ان مختلف مدارج اور مظاہر کو بہت سلجھا کر بیان فرمایا ہے، ذیل میں ہم ان کے کلام کا خلاصہ درج کرتے ہیں: تقدیر کے مختلف مدارج ۱۔ ازل میں جب کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کچھ بھی نہ تھا، زمین و آسمان، ہوا پانی، عرش و کرسی میں سے کوئی چیز بھی پیدا نہ کی گئی تھی (كَاَنَّ اللهُ وَلَمْ يَكُنْ مَعَهُ شَيْئٌ) تو اس وقت بھی اللہ تعالیٰ کو بعد میں پیدا ہونے والی اس ساری کائنات کا پورا پورا علم تھا۔ پس اس دور ازل ہی میں اس نے ارادہ اور فیصلہ کیا، کہ اس تفصیل اور ترتیب کے مطابق جو میرے علم میں ہے، میں عالم کو پیدا کروں گا اور اس میں یہ یہ واقعات پیش آئیں گے۔ الغرض آئندہ وجود میں آنے والے کے متعلق جو تفصیل و ترتیب اس کے ازلی علم میں تھی، اس نے ازل ہی میں طے فرمایا، کہ میں اس سب کو وجود میں لاؤں گا۔ پس یہ طے فرمانا ہی تقیر کا پہلا مرتبہ اور پہلا ظہور ہے۔ ۲۔ پھر ایک وقت آیا، جب کہ پانی اور عرش پیدا کئے جا چکے تھے، مگر زمین و آسمان پیدا نہ ہوئے تھے۔ (بلکہ حدیث نمبر ۶۸ کی تصریح کے مطابق زمین و آسمان کی تخلیق سے پچاس ہزار برس پہلے) اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کی تقدیریں پہلی ازلی تقدیر کے مطابق لکھ دیں۔ (جسکی حقیقت حضرت شاہ ولی الہ کے نزدیک یہ ہے کہ عرش کی قوتِ خیالیہ میں تمام مخلوق کی تفصیلی تقدیر منعکس کر دی اور اس طرح عرش اس تقدیر کا حامل ہو گیا) یہ تقدیر کا دوسرا درجہ اور دوسرا ظہور ہوا۔ ۳۔ پھر ہر انسان کی تخلیق جب رحم مادر میں شروع ہوتی ہے، اور تین چلے گزر جانے پر جب اُس میں روح ڈالنے کا وقت آتا ہے تو اللہ تعالیٰ کا مقرر کیا ہوا فرشتہ اللہ تعالیٰ ہی سے علم حاصل کر کے اس کے متعلق ایک تقدیری نوشتہ مرتب کرتا ہے، جس میں اس کی مدتِ حیات، اعمال، رزق اور شقاوت یا سعادت کی تفصیل ہوتی ہے، یہ نوشتہ تقدیر کا تیسرا درجہ اور تیسرا ظہور ہے۔ ۴۔ پھر انسان جب کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو اللہ تعالیٰ ہی کے حکم سے وہ اس کو کرتا ہے، جیسا کہ حدیث نمبر ۷۰ میں فرمایا، کہ انسانوں کے سب دل اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہیں، وہ جدھر چاہتا ہے انہیں پھیرتا ہے، پس یہ تقدیر کا چوتھا درجہ اور چوتھا ظہور ہے۔ اگر اس تفصیل کو ملحوظ رکھا جائے تو تقدیر کے سلسلہ کی مختلف احادیث کے مطالب و محامل کے سمجھنے میں ان شاء اللہ مشکل پیش نہ آئے گی۔ مسئلہ تقدیر سے متعلق بعض شبہات کا ازالہ بہت سے لوگوں کو کم فہمی سے تقدیر کے متعلق جو شبہات ہوتے ہیں، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مختصراً اُن کے متعلق بھی کچھ عرض کر دیا جائے۔ اس مسئلہ میں مندرجہ ذیل تین اشکال مشہور ہیں۔ اول۔۔۔یہ کہ دنیا میں اچھا بُرا جو کچھ ہوتا ہے، اگر یہ سب اللہ ہی کی تقدیر سے ہے، اور اللہ ہی نے اس کو مقدر کیا ہے تو پھر اچھائیوں کے ساتھ تمام بُرائیوں کی ذمہ داری بھی (معاذ اللہ) اللہ تعالیٰ پر آئے گی۔ دوسرا۔۔۔ یہ کہ جب سب کچھ پہلے سے من جانب اللہ مقدور ہو چکا ہے، اور اس کی تقدیر اٹل ہے، تو بندے اسی کے مطابق کرنے پر مجبور ہیں، لہذا انہیں کوئی جزا سزا نہ ملنی چاہئے۔ تیسرا۔۔۔ شبہ یہ کیا جاتا ہے کہ جو کچھ ہونا ہے جب وہ سب پہلے سے مقدر ہی ہو چکا ہے اور اس کے خلاف کچھ ہو ہی نہیں سکتا ہے، تو پھر کسی مقصد کے لئے کچھ کرنے دھرنے کی ضرورت ہی نہیں لہذا دنیا یا آخرت کے کسی کام کے لیے محنت اور کوشش فضول ہے۔ لیکن اگر غور کیا جائے تو معلوم ہو گا، کہ یہ تینوں شبہے تقدیر کے غلط اور ناقص تصور سے پیدا ہوتے ہیں۔ عرض کیا جا چکا ہے کہ اللہ کی تقدیر اس کے علم ازلی کے مطابق، اور اس کارخانہ عالم میں جو کچھ جس طرح اور جس صفت کے ساتھ اور جس سلسلہ سے ہو رہا ہے وہ بالکل اسی طرح، اور اسی صفت اور اسی سلسلہ کے ساتھ اس کے علم ازلی میں تھا، اور اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اس کو مقدر فرما دیا ہے۔ اور ہم میں سے جو شخص بھی اپنے اعمال و افعال پر غور کرے گا، وہ بغیر کسی شک شبہ کے اس حقیقت کو محسوس کرے گا کہ اس دنیا میں ہم جو بھی اچھے یا برے عمل کرتے ہیں، وہ اپنے ارادے اور اختیار سے کرتے ہیں، ہر کام کے کرنے کے وقت اگر ہم غور کریں تو بدیہی اور یقینی طور پر محسوس ہو گا کہ ہم کو یہ قدرت حاصل ہے کہ چاہیں تو اس کو کریں اور چاہیں تو نہ کریں، پھر اس قدرت کے باوجود ہم اپنے خداد ارادے اور اختیار سے کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں اور اسی فیصلے کے مطابق عمل ہوتا ہے پس اس عالم میں جس طرح ہم اپنے ارادہ اور اختیار سے اپنے تمام کام کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ کو ازل میں اسی طرح ان کا علم تھا اور پھر اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ان کو مقدر فرمایا اور اس پورے سلسلے کے وجود کا فیصلہ فرما دیا۔ بہر حال اللہ تعالیٰ نے صرف ہمارے اعمال ہی کو مقدر نہیں فرمایا ہے بلکہ جس ارادہ اور اختیار سے ہم عمل کرتے ہیں وہ بھی تقدیر میں آ چکا ہے، گویا تقدیر میں صرف یہی نہیں ہے، کہ فلاں شخص فلاں اچھا یا بُرا کام کرے گا، بلکہ تقدیر میں یہ پوری بات ہے، کہ فلاں شخص اپنے ارادہ و اختیار سے ایسا کرے گا، پھر اس سے یہ نتائج پیدا ہوں گے، پھر اس کو یہ جزا یا سزا ملے گی۔ الغرض ہم کو اعمال میں جو ایک گونہ خود اختیاری اور خود ارادیت حاصل ہے، جس کی بناء پر ہم کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں، وہ بھی تقدیر میں ہے، اور ہمارے اعمال کی ذمہ داری اسی پر ہے، اور اسی کی بناء پر انسان مکلف ہے، اور اسی پر جزا و سزا کی بنیاد ہے۔ بہر حال تقدیر نے اس خود اختیاری اور خود ارادیت کو باطل اور ختم نہیں کیا، بلکہ اس کو اور زیادہ ثابت اور مستحکم کر دیا ہے، لہذا تقدیر کی وجہ سے نہ تو ہم مجبور ہیں، اور نہ ہمارے اعمال کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ پر ہوتی ہے۔ ایسے ہی جن مقاصد کے لئے ہم جو کوششیں اور جو تدبیریں اس دُنیا میں کرتے ہیں، تقدیر میں بھی ہمارے ان مقاصد کو ان ہی تدبیروں اور کوششوں سے وابستہ کیا گیا ہے۔ الغرض تقدیر میں صرف یہ نہیں ہے کہ فلاں شخص کو فلاں فلاں چیز حاصل ہو جائے گی، بلکہ جس کوشش اور جس تدبیر سے وہ چیز اس دُنیا میں حاصل ہونے والی ہوتی ہے، تقدیر میں بھی وہ اسی تدبیر سے بندھی ہوئی ہے۔ بہر حال جیسا کہ عرض کیا گیا تقدیر میں اسباب و مُسببات کا پورا سلسلہ بالکل اسی طرح ہے جس طرح کہ اس دنیا میں ہے۔ پس یہ خیال کرنا کہ تقدیر مٰں جو کچھ ہے وہ آپ سے آپ مل جائے گا، اور اس بناء پر اس عالم اسباب کی کوششوں اور تدبیروں سے دست بردار ہونا دراصل تقدیر کی حقیقت سے ناواقفی ہے۔ حدیث نمبر ۶۴، ۶۵ میں بعض صحابہؓ کے سوالات کے جواب میں رسول اللہ ﷺ نے جو کچھ ارشاد فرمایا ہے اس کا حاصل بھی یہی ہے۔ الغرض اگر تقدیر کی پوری حقیقت سامنے رکھ لی جائے، تو ان شاء اللہ اس قسم کا کوئی شبہ بھی پیدانہ ہو گا۔ وَاللَّـهُ يَهْدِي مَن يَشَاءُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ

71Maarif-ul-Hadith

عالم برزخ (عالمِ قبر)

عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيُجْلِسَانِهِ فَيَقُولَانِ لَهُ: مَنْ رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: رَبِّيَ اللَّهُ، فَيَقُولَانِ لَهُ: مَا دِينُكَ؟ فَيَقُولُ: دِينِيَ الْإِسْلَامُ، فَيَقُولَانِ لَهُ: مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ؟ " قَالَ: " فَيَقُولُ: هُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولَانِ: وَمَا يُدْرِيكَ؟ فَيَقُولُ: قَرَأْتُ كِتَابَ اللَّهِ فَآمَنْتُ بِهِ وَصَدَّقْتُ «زَادَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ» فَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا} الْآيَةُ قَالَ: " فَيُنَادِي مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ: أَنْ قَدْ صَدَقَ عَبْدِي، فَأَفْرِشُوهُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَافْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى الْجَنَّةِ، وَأَلْبِسُوهُ مِنَ الْجَنَّةِ " قَالَ: «فَيَأْتِيهِ مِنْ رَوْحِهَا وَطِيبِهَا» قَالَ: «وَيُفْتَحُ لَهُ فِيهَا مَدَّ بَصَرِهِ» قَالَ: «وَإِنَّ الْكَافِرَ» فَذَكَرَ مَوْتَهُ قَالَ: " وَتُعَادُ رُوحُهُ فِي جَسَدِهِ، وَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيُجْلِسَانِهِ فَيَقُولَانِ: لَهُ مَنْ رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: هَاهْ هَاهْ هَاهْ، لَا أَدْرِي، فَيَقُولَانِ لَهُ: مَا دِينُكَ؟ فَيَقُولُ: هَاهْ هَاهْ، لَا أَدْرِي، فَيَقُولَانِ: مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ؟ فَيَقُولُ: هَاهْ هَاهْ، لَا أَدْرِي، فَيُنَادِي مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ: أَنْ كَذَبَ، فَأَفْرِشُوهُ مِنَ النَّارِ، وَأَلْبِسُوهُ مِنَ النَّارِ، وَافْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى النَّارِ " قَالَ: «فَيَأْتِيهِ مِنْ حَرِّهَا وَسَمُومِهَا» قَالَ: «وَيُضَيَّقُ عَلَيْهِ قَبْرُهُ حَتَّى تَخْتَلِفَ فِيهِ أَضْلَاعُهُ» زَادَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ قَالَ: «ثُمَّ يُقَيَّضُ لَهُ أَعْمَى أَبْكَمُ مَعَهُ مِرْزَبَّةٌ مِنْ حَدِيدٍ لَوْ ضُرِبَ بِهَا جَبَلٌ لَصَارَ تُرَابًا» قَالَ: «فَيَضْرِبُهُ بِهَا ضَرْبَةً يَسْمَعُهَا مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ إِلَّا الثَّقَلَيْنِ فَيَصِيرُ تُرَابًا» قَالَ: «ثُمَّ يُعَادُ فِيهِ الرُّوحُ» (رواه احمد وابو داؤد)

حضرت براء بن عازب سے روایت ہے، وہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں، کہ آپ نے (ایک سلسلہ کلام میں مردہ کے سوال و جواب اور عالمِ برزخ یعنی قبر کے ثواب و عذاب کا تذکرہ کرتے ہوئے) فرمایا: (اللہ کا مؤمن بندہ اس دنیا سے منتقل ہو کر جب عالم برزخ میں پہنچتا ہے، یعنی قبر میں دفن کر دیا جاتا ہے تو) اس کے پاس اللہ کے دو فرشتے آتے ہیں، وہ اس کو بٹھاتے ہیں، پھر اس سے پوچھتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے؟ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے، پھر پوچھتے ہیں، کہ تیرا دین کیا ہے؟ وہ کہتا ہے کہ میرا دین اسلام ہے، پھر پوچھتے ہیں، کہ یہ آدمی جو تمہارے اندر (نبی کی حیثیت سے) کھڑا کیا گیا تھا (یعنی حضرت محمد ﷺ) ان کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ وہ کہتا ہے وہ اللہ کے سچے رسول ہیں، وہ فرشتے کہتے ہیں کہ تمہیں یہ بات کس نے بتلائی؟ (یعنی ان کے رسول ہونے کا علم کس ذریعہ سے ہوا؟) وہ کہتا ہے کہ میں نے اللہ کی کتاب پڑھی (اس نے مجھے بتلایا کہ یہ اللہ کے رسول ہیں) تو میں ایمان لایا، اور میں نے ان کی تصدیق کی (رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ) مؤمن بندہ کا یہی جواب ہے، جس کے متعلق قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ: يُثَبِّتُ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو سچی پکی بات (یعنی صحیح عقیدہ اور صحیح جواب) کی برکت سے ثابت رکھے گا، دنیا میں اور آخرت میں۔ یعنی وہ گمراہی سے، اور اس کے نتیجہ میں آنے والے عذاب سے محفوظ رکھے جائیں گے۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مؤمن بندہ فرشتوں کے مذکورہ بالا سوالات کے جب اس طرح ٹھیک ٹھیک جوابات دے دیتا ہے)“ تو ایک ندا دینے والا آسمان سے نداس دیتا ہے (یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آسمان سے اعلان کرایا جاتا ہے) کہ میرے بندے نے ٹھیک بات کہی، اور صحیح صحیح جوابات دئیے، لہذا اس کے لئے جنت کا فرش کرو، اور جنت کا اس کو لباس پہناؤ اور جنت کی طرف اس کے لئے ایک دروازہ کھول دو، چناں چہ وہ دروازہ کھول دیا جاتا ہے، اور اس سے جنت کی خوشگوار ہوائیں اور خوشبوئیں آتی ہیں، اور جنت میں اس کے لئے منتہائے نظر تک کشادگی کر دی جاتی ہے (یعنی پردے اس طرح اٹھا فئیے جاتے ہیں کہ جہاں تک اس کی نگاہ جائے، وہ جنت کی بہاروں اور اس کے نظاروں سے لذت اور فرحت حاصل کرتا رہے۔) (یہ حال تو رسول اللہ ﷺ نے مرنے والے سچے اہل ایمان کا بیان فرمایا)، اس کے بعد ایمان نہ لانے والے (کافر) کی موت کا ذخر آپ نے کیا، اور فرمایا: (مرنے کے بعد) اس کی روح اس کے جسم میں لوٹائی جاتی ہے، اور اس کے پاس بھی دو فرشتے اسٓتے ہیں، وہ اس کو بٹھاتے ہین، اور اس سے بھی پوچھتے ہیں، کہ تیرا رب کون ہے؟ وہ (خدا ناشناس) کہتا ہے: ”ہائے ہائے میں کچھ نہیں جانتا“ پھر فرشتے اس سے پوچھتے ہیں کہ دین تیرا کیا تھا؟ وہ کہتا ہے کہ ”ہائے ہائے میں کچھ نہیں جانتا“۔ پھر فرشتے اس سے کہتے ہیں کہ یہ آدمی جو تمہارے اندر (بحیثیت نبی کے) مبعوث ہوا تھا، تمہارا اس کے بارے میں کیا خیال تھا؟ وہ پھر بھی یہی کہتا ہے: ”ہائے ہائے میں کچھ نہیں جانتا“۔ (اس سوال و جواب کے بعد) آسمان سے ایک ندا دینے والا اللہ تعالیٰ کی طرف سے پکارتا ہے کہ اس نے جھوٹ کہا (یعنی اس نے فرشتوں کے سوال کے جواب میں اپنا بالکل انجان اور بے جُرم ہونا ظاہر کیا یہ اس نے جھوٹ بولا، کیوں کہ واقعے میں وہ اللہ کی توحید کا، اس کے دین اسلام کا اور اس کے رسول برحق کا منکر تھا) پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے منادی ندا کرے گا کہ اس کے لئے دوزخ کا فرش کرو، اور دوزخ کا اس کو لباس پہناؤ، اور اس کے لئے دوزخ کا ایک دروازہ کھول دو (چناں چہ یہ سب کچب کر دیا جائے گا) رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں، کہ: ”(دوزخ کے اس دروازے سے) اس کو برابر دوزخ کی گرمی اور دوزخ کی لپیٹیں اور جلانے جھلسانے والی ہوائیں اس کے پاس آتی رہیں گی اور اس قبر اس پر نہایت تنگ کر دی جائے گی، جس کی وجہ سے (اتنا دباؤ پڑے گا، کہ) اس کے سینے کی پسلیاں ادھر سے ادھر ہو جائیں گی، پھر اس کو عذاب دینے کے لئے ایک ایسا فرشتہ اس پر مسلط کیا جائے گا، جو نہ کچھ دیکھے گا، نہ سنے گا، اس کے پاس لوہے کی ایسی مونگری ہو گی، کہ اگر اس کی ضرب کسی پہاڑ پر لگائی جائے تو وہ بھی مٹی کا ڈھیر ہو جائے، وہ فرشتہ اس مونگری سے اس پر ایک ضرب لگائے گا، جس سے وہ اس طرح چیخے گا، جس کو جن و انس کے علاوہ وہ سب چیزیں سنیں گی، جو مشرق اور مغرب کے درمیان ہیں، اس ضرب سے وہ کاک ہو جائے گا، اس کے بعد اس میں پھر روح ڈالی جائے گی۔ (مسند احمد، ابو داؤد) تشریح مرنے کے بعد برزخ (۱)، قیامت، آخرت چند اصولی باتیں ما بعد الموت کے سلسلہ کی حدیثیں پڑھنے اور اُن کے مطالب سمجھنے سے پہلے چند اصولی باتیں ذہن نشین کر لینی چاہئیں، ان باتوں کے مستحضر کر لینے کے بعد ان حدیثوں کے مضامین کے متعلق وہ وساوس، اور شبہات ان شاء اللہ پیدا نہ ہوں گے، جو حقیقت نا شناسی کی وجہ سے بہت سے دلوں میں اس زمانہ میں پیدا ہوتے ہیں۔ ۱۔ انبیاء علیہم السلام کا خاص کام (جس کے لیے وہ مبعوث ہوتے ہیں) ہمیں ان باتوں کا بتلانا ہے، جن کے ہم ضرورت مند تو ہیں لیکن اپنے عقل و حواس سے بطور خود ہم ان کو نہیں جان سکتے، یعنی وہ ہماری عقل کی دسترس سے باہر ہیں۔ ۲۔ انبیاء علیہم السلام کے لیے یقینی علم کا ایک خاص ذریعہ جو دسرے عام انسانوں کے پاس نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کی وحی ہے، ان کو اسی ذریعہ سے ان چیزوں کا علم ہوتا ہے، جس کو ہم اپنی آنکھوں کانوں سے اور اپنی عقل و فہم سے دریافت نہیں کر سکتے، جس طرح دوربین رکھنے والا آدمی بہت دور کی وہ چیزیں دیکھ لیتا ہے، جن کو عام آدمی اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھتے۔ ۳۔ کسی نبی کو نبی مان لینے، اور اس پر ایمان لانے کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ ہم نے اس بات کو تسلیم کر لیا، اور پورے یقین کے ساتھ ان کو مان لیا اور قبول کر لیا، کہ وہ ایسی جو بات بتلاتا ہے جس کو ہم خود نہیں جانتے، اور نہیں دیکھتے، وہ اللہ کی وحی سے اس کا علم حاصل کر کے ہمیں بتلاتا ہے، اور وہ سب حرف بحرف صحیح ہے، اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ ۴۔ انبیاء علیہم السلام کبھی کوئی ایسی بات نہیں کہتے، جو عقلاً ناممکن اور محال ہو، ہاں! یہ ہو سکتا ہے کہ ہماری عقل اور ہمارے حواس بطور خود اس کو سمجھ لینے سے عاجز اور قاصر ہوں، بلکہ ایسا ہونا ضروری ہے، اگر انبیاء علیہم السلام صرف وہی باتیں بتلائیں جن کو ہم خود ہی غور و فکر سے معلوم کر سکتے ہوں، تو پھر ان کی ضرورت ہی کیا ہے۔ ۵۔ انبیاء علیہم السلام نے مابعد یعنی عالم برزخ (عالمِ قبر) اور عالم آخرت کے متعلق جو کچھ بتلایا ہے اس میں کوئی بات بھی ایسی نہیں ہے جو عقلاً ناممکن اور محال ہو، ہاں ایسی چیزیں ضرور ہیں جن کو ہم اپنے غور و فکر سے از خود نہیں جان سکتے اور اس دنیا میں ان چیزوں کے نمونے نہ ہونے کی وجہ سے ہم ان کو اس طرح سمجھ بھی نہیں سکتے، جس طرح اس دنیا کی دیکھی بھالی چیزوں کو سمجھ لیتے ہیں۔ ۶۔ علم کے جو عام فطری ذریعے اور وسیلے ہمیں دئیے گئے ہیں، مثلاً آنکھ، ناک، کان، عقل و فہم، ظاہر ہے کہ ان طاقت اور ان کا دائرہ عمل بہت محدود ہے، اور ہم دیکھتے ہیں کہ جدید آلات کی خارجی مدد سے ان کے ذریعہ بہت سی وہ چیزیں ہمارے علم میں آ جاتی ہیں جن کا پہلے کبھی تصور بھی نہیں کیا جاتا تھا۔ مثلاً: پانی میں یا خون میں جو جراثیم پائے جاتے ہیں، اب خوردبین کی مدد سے آنکھ ان کو دیکھ لیتی ہے، ریڈیو کی مدد سے کان ہزاروں میل دور کی آواز سن لیتے ہیں، اسی طرح کتابی معلومات کی مدد سے پڑھے لکھے انسان کی عقل اس سے زیادہ سوچ لیتی ہے، جتنا کہ آنکھ کان کے ذریعہ حاصل شدہ معلومات کی مدد سے سوچ سکتی تھی۔ اس تجربے سے معلوم ہوا کہ کسی حقیقت کا صرف اس بنیاد پر انکار کر دینا کہ آج ہم اس کو نہیں دیکھتے، نہیں سنتے، یا ہماری عقل اس کو نہیں سمجھتی، بڑی بے عقلی کی بات ہے۔ وَمَا أُوتِيتُم مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا ۷۔ انسان دو چیزوں سے مرکب ہے ایک جسم جو ظاہر ہے اور نظر آتا ہے، دوسری روھ جو اگرچہ آنکھوں سے نظر نہیں آتی، لیکن اس کے ہونے کا ہم سب کو یقین ہے، پھر انسان کے ان دونوں جزوں کا باہمی تعلق اس دنیا میں اس طرح ہے کہ تکلیف و مصیبت، یا راحت و لذت کی جو کیفیت یہاں آتی ہے وہ براہ راست جسم پر آتی ہے، اور روح اس سے تبعاً متاثر ہوتی ہے، مثلاً انسان کو چوٹ لگتی ہے، وہ زخمی ہوتا ہے، یا مثلاً وہ کہیں آگ سے جل جاتا ہے تو ظاہر کہ چوٹ اور آگ کا تعلق براہ راست اس کے جسم سے ہوتا ہے، لیکن اس کے اثر سے روح کو بھی دکھ ہوتا ہے، اسی طرح کھانے پینے سے جو لذت حاصل ہوتی ہے وہ بھی راہ راست جسم ہی کو ہوتی ہے، لیکن روح بھی اس سے لذت حاصل کرتی ہے۔ الغرض اس دنیا میں انسان کے وجود اور اس کے حالات میں گویا جسم اصل ہے اور روح اس کے تابع ہے، لیکن قرآن و حدیث میں عالمِ برزخ کے متعلق جو کچھ بتلایا گیا ہے اس میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں معاملہ اس کے برعکس ہوگا، یعنی اس عالم میں جس پر جو اچھی بری واردات ہو گی وہ براہ راست اس کی روح پر ہو گی، اور جسم اس سے تبعاً متاثر ہو گا، اللہ تعالیٰ نے (شاید اسی لیے کہ اس حقیقت کا سمجھنا ہمارے لئے آسان ہو جائے) اس دنیا میں بھی اس کا ایک نمونہ پیدا کر دیا ہے، اور وہ عالم رؤیا یعنی خواب ہے، عقل و ہوش رکھنے والا ہر انسان اپنی زندگی میں بار بار ایسے خواب دیکھتا ہے جن میں اس کو بڑی لذت ملتی ہے، یا بڑی تکلیف ہوتی ہے۔ لیکن خواب میں یہ لذت یا تکلیف براہ راست در اصل روح کے لیے ہوتی ہے اور جسم تبعاً اس سے متاثر ہوتا ہے یعنی خواب میں آدمی مثلاً جب یہ دیکھتا ہے کہ کوئی لذیذ کھانا کھا رہا ہے، تو صرف یہی نہیں دیکھتا کہ میری روح ہی کھا رہی ہے، یا خیالی قوت ہی کھا رہی ہے، بلکہ اس وقت وہ یہی دیکھتا ہے کہ بیداری کی طرح وہ اپنے اس جسم والے منہ سے کھا رہا ہے جس سے روزانہ کھایا کرتا ہے۔ اسی طرح خوابمیں اگر وہ یہ دیکھتا ہے کہ کسی نے اس کو مارا، تو وہ یہ نہیں دیکھتا، کہ اس کی روح کو مارا گیا، بلکہ وہ اس وقت یہی دیکھتا ہے کہ مار اس کے جسم پر پڑی ہے اور اس کے جسم پر اس وقت ویسی ہی چوٹ لگی، جس بیداری میں مار پڑنے سے لگتی ہے، حالاں کہ واقعہ میں جو کچھ گزرتا ہے وہ خواب میں در اصل روح پر گزرتا ہے اور جسم اس سے تبعاً متاثر ہوتا ہے، البتہ کبھی کبھی جسم کا یہ تاثر اتنا محسوس ہو جاتا ہے کہ آدمی بیدار ہونے کے بعد جس پر اس کے نشانات اور اثرات پاتا ہے۔الغرض نیند کی حالت میں اچھے یا برے خواب دیکھنے والے شخص پر جو کچھ گذرتا ہے اس کی نوعیت یہی ہے کہ وہ براہ راست اور اصلی طور پر روح پر گزرتا ہے، اور جسم پر اس کا اثر تبعاً پڑتا ہے، اسی لیے خواب دیکھنے والے کے قریب والا آدمی بھی اس کے جسم پر کوئی واردات گزرتے ہوئے نہیں دیکھتا، کیوں کہ ہم اس دنیا میں کسی انسان کے ان ہی حالات کو دیکھ سکتے ہین جن کا تعلق براہ راست اس کے جسم سے ہو۔ پس عالم برزخ میں (یعنی مرنے کے بعد سے قیامت تک کے دور میں) اچھے برے انسانوں پر جو کچھ گزرنے والا ہے (جس کی بعض تفصیلات آگے آنے والی حدیثوں میں رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمائی ہیں) اس کی نوعیت بھی یہی ہے کہ وہ اصلی طور پر اور براہ راست روح پر گزرے گا اور جسم تبعاسً اس میں شریک ہو گا، اور عالم رؤیا (خواب) کے تجربات کی روشنی میں اس کو سمجھ لینا کسی سمجھنے والے آدمی کے لئے زیادہ مشکل نہیں ہے۔ امید ہے کہ اس دنیا، اور عالم برزخ کے اس فرق کو جان لینے کے بعد وہ عامیانہ اور جاہلانہ شبہے اور وسوسے پیدا نہ ہوں گے، جو قبر کے سوال و جواب اور عذاب و ثواب کی حدیثوں کے متعلق بعض ضعیف الایمان اور کم عقل لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوا کرتے ہیں۔

72Maarif-ul-Hadith

عالم برزخ (عالمِ قبر)

عَنْ أَنَس قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ العَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ، وَإِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ، أَتَاهُ مَلَكَانِ فَيُقْعِدَانِهِ، فَيَقُولاَنِ: مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَّا المُؤْمِنُ، فَيَقُولُ: أَشْهَدُ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ، فَيُقَالُ لَهُ: انْظُرْ إِلَى مَقْعَدِكَ مِنَ النَّارِ قَدْ أَبْدَلَكَ اللَّهُ بِهِ مَقْعَدًا مِنَ الجَنَّةِ، فَيَرَاهُمَا جَمِيعًا - قَالَ قَتَادَةُ: وَذُكِرَ لَنَا: أَنَّهُ يُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى حَدِيثِ أَنَسٍ - قَالَ: وَأَمَّا المُنَافِقُ وَالكَافِرُ فَيُقَالُ لَهُ: مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟ فَيَقُولُ: لاَ أَدْرِي كُنْتُ أَقُولُ مَا يَقُولُ النَّاسُ، فَيُقَالُ: لاَ دَرَيْتَ وَلاَ تَلَيْتَ، وَيُضْرَبُ بِمَطَارِقَ مِنْ حَدِيدٍ ضَرْبَةً، فَيَصِيحُ صَيْحَةً يَسْمَعُهَا مَنْ يَلِيهِ غَيْرَ الثَّقَلَيْنِ " (رواه البخارى ومسلم واللفظ البخارى)

انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، کہ (مرنے کے بعد) بندہ جب اپنی قبر میں رکھ دیا جاتا ہے، اور اس کے ساتھ (یعنی اس کے جنازے کے ساتھ آنے والے) واپس چل دیتے ہں، (اور ابھی وہ اتنے قریب ہوتے ہیں کہ) ان کی جوتیوں کی چاپ وہ سن رہا ہوتا ہے تو اسی وقت اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، وہ اس کو بٹھاتے ہیں، پھر اس سے پوچھتے ہیں کہ تم اس شخص کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ ان کا یہ سوال رسول اللہ ﷺ کے متعلق ہوتا ہے۔ پس جو سچا مؤمن ہوتا ہے، وہ کہتا ہے کہ (میں گواہی دیتا رہا ہوں، اور اب بھی) میں گواہی دیتا ہوں، کہ وہ اللہ کےبندے، اور اس کے رسولِ برحق ہیں، (یہ جواب سن کے) فرشتے اس سے کہتے ہیں (ایمان نہ لانے کی صورت میں) دوزخ میں جو تمہاری جگہ ہونے والی تھی، ذرا اس کو دیکھ لو، اب اللہ نے بجائے اس کے، تمہارے لئے جنت میں ایک جگہ عطا فرمائی ہے (اور وہ یہ ہے) اس کو بھی دیکھ لو (یعنی دوزخ اور جنت کے دونوں مقام اس کے سامنے کر دئیے جائیں گے) چناں چہ وہ دونوں کو ایک ساتھ دیکھے گا۔ اور جو منافق اور کافر ہوتا ہے، تو اسی طرح (مرنے کے بعد) اس سے بھی (رسول اللہ ﷺ) کے متعلق پوچھا جاتا ہے کہ اس شخص کے بارےمیں تم کیا کہتے تھے؟ (اور اس کو کیا اور کیسا سمجھتے تھے؟) پس وہ منافق اور کافر کہتا ہے کہ میں ان کے بارے میں خود تو کچھ جانتا نہیں، دوسرے لوگ جو کہا کرتے تھے، وہی میں بھی کہتا تھا(اس کے اس جواب پر) اس کو کہا جائے گا، کہ تو نے نہ تو خود جانا اور نہ (جان کر ایمان لانے والوں کی) تو نے پیروی کی، اور لوہے کے گرزوں سے اس کو مارا جائے گا، جس سے وہ اس طرح چیخے گا کہ جن و انس کے علاوہ اس کے آس پاس کی ہر چیز اس کا چیخنا سنے گی۔ (بخاری و مسلم) تشریح پہلی حدیث سے معلوم ہوا تھا، کہ مرنے والے سے فرشتے تین سوال کرتے ہیں، اور اس دوسری حدیث میں صرف ایک ہی سوال کا ذکر کیا گیا ہے، اصل بات یہ ہے کہ یہ سوال چوں کہ باقی دونوں سوالوں پر بھی حاوی ہے، اور اس کے جواب سے ان دونوں سوالوں کا جواب بھی معلوم ہو جاتا ہے، اس لئے بعض حدیثوں میں صرف اسی ایک سوال کا ذکر کر دیا جاتا ہے، قرآن و حدیث کا طریق بیان یہی ہے کہ ایک واقعہ کو کبھی تفصیل سے بیان کیا جاتا ہے اور کبھی صرف اس کے بعض اجزاء ہی بیان کر دئیے جاتے ہیں۔ یہ اصولی بات پہلے بھی ذکر کی گئی ہے، اور اب پھر اس کو یاد دلایا جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی حدیثیں تصنیفی مقالات نہیں ہیں، بلکہ عموماً مجلسی ارشادات ہیں، اور کسی معلم اور مربی کے مجلسی ارشادات میں ایسا ہونا کہ کبھی ایک بات کو پوری تفصیل سے بیان کیا جائے، اور کبھی اس کے صرف بعض اجزاء کا ذکر کر دیا جائے، بالکل صحیح اور فطری بات ہے۔ حضرت انس والی اس دوسری حدیث میں اس سوال جواب کے سلسلے میں قبر کا لفظ بھی آیا ہے اور اسی طرح بعض اور حدیثوں میں بھی قبر کا ذکر ہے، اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ یہ سوال و جواب صرف ان ہی مُردوں سے مخصوص ہے، جو قبروں میں دفن ہوتے ہیں، دراصل قبر کا ذکر ان حدیثوں میں صرف اس لئے کر دیا گیا ہے کہ وہاں مُردوں کو قبروں ہی میں دفن کرنے کا عام رواج تھا، اور لوگ صرف اسی طریقے کو جانتے تھے، ورنہ اللہ کے فرشتوں کی طرف سے یہ سوال و جواب ہر مُردے والے سے ہوتا ہے، خواہ اس کا جسم قبر میں دفن کیا جائے، خواہ دریا میں بہایا جائے، خواہ آگ میں جلایا جائے، خواہ گوشت خور جانوروں کے پیٹ میں چلا جائے۔ اور جیسا کہ اوپر بتلایا جا چکا ہے یہ سب کچھ براہ راست اور اصلی طور سے روح کے ساتھ ہوتا ہے اور جسم خواہ کہیں ہو، اور کسی حال میں ہو، وہ تبعاً اس سے متاثر ہوتا ہے، اور خواب کی مثال اس کے سمجھنے کے لئے کافی ہے۔ اور خواب ہی کی مثال سے اس شبہ کا جواب بھی مل جاتا ہے کہ کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کوئی مردہ دو چار دن تک ہمارے سامنے پڑا رہتا ہے اور اس سوال و جواب کی آواز اس کی لاش سے کوئی نہیں سنتا، اور نہ اس پر عذاب یا ثواب کا کوئی اثر معلوم ہوتا ہے۔ پس یہ ایسے ہی ہے جیسے کہ خواب میں ایک آدمی پر سب کچھ گذر جاتا ہے، وہ بات چیت کرتا ہے،کھاتا ہے، پیتا ہے، لیکن اس کے برابر والوں کو کچھ بھی نہیں نظر آتا۔ اسی قسم کے عامیانہ اور جاہلانہ شبہوں میں سے قبر کے اس سوال و جواب پر ایک شبہ یہ بھی کیا جاتا ہے کہ قبر میں جانے کے لئے جب کوئی اور راستہ اور کوئی چھوٹے سے چھوٹا روزن بھی نہیں ہوتا، تو فرشتے اس میں جاتے کس طرح ہیں؟ یہ شبہ دراصل ان حقیقت ناشناسوں کو ہوتا ہے جو فرشتوں کو شاید اپنی طرح گوشت پوست سے بنی ہوئی مادی مخلوق سمجھتے ہیں، اصل واقعہ یہ ہے کہ فرشتوں کے کہیں پہنچنے کے لئے دروازے یا کھڑکی کی ضرورت نہیں، ہماری نگاہیں یا آفتاب کی شعاعیں جس طرح شیشوں میں سے نکل جاتی ہیں اسی طرح فرشتے اپنے وجود کی لطافت اور اللہ کی دی ہوئی قدرت سے پتھروں میں سے بھی پار ہو جاتے ہیں۔ سبحانہ تعالیٰ شانہ۔

73Maarif-ul-Hadith

عالم برزخ (عالمِ قبر)

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا مَاتَ عُرِضَ عَلَيْهِ مَقْعَدُهُ بِالْغَدَاةِ وَالعَشِيِّ، إِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الجَنَّةِ فَمِنْ أَهْلِ الجَنَّةِ، وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَمِنْ أَهْلِ النَّارِ، فَيُقَالُ: هَذَا مَقْعَدُكَ حَتَّى يَبْعَثَكَ اللَّهُ يَوْمَ القِيَامَةِ " (رواه البخارى ومسلم)

حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا کہ تم میں سے کوئی جب مر جاتا ہے تو ہر صبح و شام اس کے سامنے اس کا ٹھکانا پیش کیا جاتا ہے، اگر وہ جنتیوں میں سے ہے، تو جنتیوں کے مقام میں سے (اس کا جو مقام ہونے والا ہوتا ہے وہ ہر صبح و شام اس کے سامنے کیا جاتا ہے، اور اس کو دکھلایا جاتا ہے) اور اگر وہ مرنے والا دوزخیوں میں سے ہوتا ہے تو (اسی طرح صبح و شام) دوزخیوں کے مقامات میں سے (اس کا مقام اس کے سامنے کیا جاتا ہے) اور کہا جاتا ہے کہ یہ ہونے والا تیرا مستقل ٹھکانا (اور یہ اس وقت ہو گا) جب کہ اللہ تجھے اپنی طرف اٹھائے گا قیامت کے دن۔ (بخاری و مسلم) تشریح قبر میں روزانہ صبح و شام جنتیوں کو اپنا مقام دیکھ کر جو غیر معمولی لذت و مسرت حاصل ہوا کرے گی، اور دوزخیوں کو دوزک کو اپنا ٹھکانا دیکھ کر روزانہ صبح شام جو رنج و غم مزید ہوا کرے گا، اس دنیا میں کوئی اس کا اندازہ نہیں کر سکتا، اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اہل جنت میں شامل فرمائے۔

74Maarif-ul-Hadith

عالم برزخ (عالمِ قبر)

عَنْ عُثْمَانَ رَضِىَ اللهُ عَنْهُ قَالَ اَنَّهُ كَانَ إِذَا وَقَفَ عَلَى قَبْرٍ يَبْكِي حَتَّى يَبُلَّ لِحْيَتَهُ، فَقِيلَ لَهُ: تَذْكُرُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ، وَلَا تَبْكِي، وَتَبْكِي مِنْ هَذَا؟ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ الْقَبْرَ أَوَّلُ مَنَازِلِ الْآخِرَةِ، فَإِنْ نَجَا مِنْهُ، فَمَا بَعْدَهُ أَيْسَرُ مِنْهُ، وَإِنْ لَمْ يَنْجُ مِنْهُ، فَمَا بَعْدَهُ أَشَدُّ مِنْهُ» قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا رَأَيْتُ مَنْظَرًا قَطُّ إِلَّا وَالْقَبْرُ أَفْظَعُ مِنْهُ» (رواه الترمذى وابن ماجه)

حضرت عثمان ؓ سے روایت ہے (کہ ان کا حال یہ تھا) کہ جب وہ کسی قبر کے پاس کھڑے ہوتے تو بہت روتے، یہاں تک کہ آنسوؤں سے ان کی ڈاڑھی تر ہو جاتی، ان سے پوچھا گیا (یہ کیا بات ہے) کہ آپ جنت و دوزخ کو یاد کرتے ہیں تو نہیں روتے اور قبر کی وجہ سے اس قدر روتے ہیں؟ آپ نے جواب دیا، کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے کہ،: قبر آخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے، پس اگر بندہ اس سے نجات پا گیا، تو آگے کی منزلیں اس سے زیادہ آسان ہیں، اور اگر قبر کی منزل سے بندہ نجات نہ پا سکا، تو اس کے بعد کی منزلیں اس سے اور زیادہ سخت اور کٹھن ہیں۔ نیز رسول اللہ ﷺ یہ بھی فرماتے تھے، کہ: نہیں دیکھا میں نے کوئی منظر مگر یہ کہ قبر کا منظر اس سے زیادہ خوفناک اور شدید ہے (ترمذی، ابن ماجہ) تشریح مطلب یہ ہے کہ جب کسی قبر سے میرا گذر ہوتا ہے، تو قبر کے بارے میں حضور ﷺ کے یہ ارشادات یاد آ جاتے ہیں، اور فکر و غم میں مبتلا کر کے مجھے رُلاتے ہیں۔

75Maarif-ul-Hadith

عالم برزخ (عالمِ قبر)

عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا فَرَغَ مِنْ دَفْنِ الْمَيِّتِ وَقَفَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: «اسْتَغْفِرُوا لِأَخِيكُمْ، وَسَلُوا لَهُ بِالتَّثْبِيتِ، فَإِنَّهُ الْآنَ يُسْأَلُ» (رواه ابو داؤد)

حضرت عثمانؓ ہی سے روایت ہے، کہ رسول اللہ ﷺ کا طریقہ تھا، کہ جب میت کے دفن سے فارغ ہو جاتے، تو قبر کے پاس کھڑے ہوتے اور فرماتے، کہ: اپنے اس بھائی کے لئے اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی دُعا کرو، اور یہ بھی استدعا کرو، کہ اللہ تعالیٰ اس کو سوالوں کے جواب میں ثابت قدم رکھے، کیوں کہ اس وقت اس سے پوچھ گچھ ہو گی۔

76Maarif-ul-Hadith

عالم برزخ (عالمِ قبر)

عَنْ جَابِرِ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا إِلَى سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ حِينَ تُوُفِّيَ، قَالَ: فَلَمَّا صَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَسُوِّيَ عَلَيْهِ، سَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَبَّحْنَا طَوِيلًا، ثُمَّ كَبَّرَ فَكَبَّرْنَا، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِمَ سَبَّحْتَ؟ ثُمَّ كَبَّرْتَ؟ قَالَ: «لَقَدْ تَضَايَقَ عَلَى هَذَا الْعَبْدِ الصَّالِحِ قَبْرُهُ حَتَّى فَرَّجَهُ اللَّهُ عَنْهُ» (رواه احمد)

حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ جب (مشہور انصاری صحابی) سعد بن معاذ کی وفات ہوئی تو ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اُن کے جنازے پر گئے، پھر جب رسول اللہ ﷺ نے نمازِ جنازہ پڑھائی، اور ان کو قبر میں اتار کر جب قبر برابر کر دی گئی، تو رسول اللہ ﷺ نے سبحان اللہ، سبحان اللہ کہا (آپ کو دیکھ کر آپ کی اتباع میں) ہم بھی دیر تک سبحان اللہ، سبحان اللہ کہتے رہے، پھر آپ نے اللہ اکبر، اللہ اکبر کہنا شروع کیا، تو ہم بھی آپ کے اتباع میں اللہ اکبر، اللہ اکبر کہنے لگے۔ پھر آپ سے پوچھا گیا کہ: ”یا رسول اللہ! اس وقت آپ کی اس تسبیح اور تکبیر کا کیا خاص سبب تھا؟ “آپ نے فرمایا کہ: ”اللہ کے اس نیک بندے پر اس کی قبر تنگ ہوئی تھی (جس سے اس کو تکلیف تھی) یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے تنگی کی اس کیفیت کو دور فرما کر کشادگی پیدا فرما دی، اور اس کی تکلیف دور کر دی۔ (مسند احمد) تشریح یہ سعد بن معاذ انصاریؓ رسول اللہ ﷺ کے مشہور اور ممتاز اصحاب کرام میں سے تھے، غزوہ بدر کی شرکت کی فضیلت اور سعادت بھی نہیں حاصل تھی، ۵ ھ ؁ میں ان کا وصال ہوا، اور ایک دوسری حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا: ”ستر ہزار فرشتوں نے ان کے جنازے میں شرکت کی، اور آسمان کے دروازے ان کے لئے کھولے گئے۔ باوجود اس کے قبر کی تنگی کی تکلیف سے ان کو بھی واسطہ پڑا (اگرچہ فوراً ہی وہ اٹھا لی گئی)۔ اس سے ہم جیسوں کے لیے بڑا انتباہ اور بڑا سبق ہے۔ اَللّٰهُمَّ ارْحَمْنَا اَللّٰهُمَّ احْفَظْنَا!

77Maarif-ul-Hadith

عالم برزخ (عالمِ قبر)

عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ : «قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا فَذَكَرَ فِتْنَةَ القَبْرِ الَّتِي يَفْتَنُ فِيهَا المَرْءُ، فَلَمَّا ذَكَرَ ذَلِكَ ضَجَّ المُسْلِمُونَ ضَجَّةً» (رواه البخارى)

اسماء بنت ابی بکر سے روایت ہے، کہتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے خطبہ ارشاد فرمایا، اور اس میں اس آزمائش کا ذکر فرمایا، جس میں مرنے والا آدمی مبتلا ہوتا ہے تو جب آپ نے اس کا ذکر فرمایا، تو خوف و دہشت سے سب مسلمان چیخ اٹھے اور ایک کہرام مچ گیا (بخاری)

78Maarif-ul-Hadith

عالم برزخ (عالمِ قبر)

عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: بَيْنَا رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ لِبَنِي النَّجَّارِ، عَلَى بَغْلَةٍ لَهُ وَنَحْنُ مَعَهُ، إِذْ حَادَتْ بِهِ فَكَادَتْ تُلْقِيهِ، وَإِذَا أَقْبُرٌ سِتَّةٌ أَوْ خَمْسَةٌ فَقَالَ: «مَنْ يَعْرِفُ أَصْحَابَ هَذِهِ الْأَقْبُرِ؟» فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا، قَالَ: فَمَتَى مَاتَ هَؤُلَاءِ؟ " قَالَ: مَاتُوا فِي الْإِشْرَاكِ، فَقَالَ: «إِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ تُبْتَلَى فِي قُبُورِهَا، فَلَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا، لَدَعَوْتُ اللهَ أَنْ يُسْمِعَكُمْ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ الَّذِي أَسْمَعُ مِنْهُ» ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: «تَعَوَّذُوا بِاللهِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ» قَالُوا: نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ، فَقَالَ: «تَعَوَّذُوا بِاللهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ» قَالُوا: نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، قَالَ: «تَعَوَّذُوا بِاللهِ مِنَ الْفِتَنِ، مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ» قَالُوا: نَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ، قَالَ: «تَعَوَّذُوا بِاللهِ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ» قَالُوا: نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ (رواه مسلم)

حضرت زید بن ثابت انصاری سے روایت ہے کہ ایک دفعہ جب کہ رسول اللہ ﷺ اپنی خچری پر سوار قبیلہ بنی نجار کے ایک باغ میں سے گزر رہے تھے، اچانک آپ کی خچری راستے سے ہٹی اور ٹیڑھی ہوئی (اور اس کی ایسی حالت ہوئی) کہ قریب تھا کہ آپ کو گرا دے، اچانک نظر پڑی تو دیکھا کہوہاں چھ یا پانچ قبریں ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ان قبر کے مردوں سے کون واقف ہے؟ (یعنی تم میں کوئی ہے جو ان لوگوں کو جانتا ہو، جو ان قبروں میں مدفون ہیں) ساتھیوں میں سے ایک شخص نے کہا: میں جانتا ہوں، آپ نے فرمایا یہ لوگ کس زمانے میں مرے تھے؟ اس شخص نے عرض کیا: زمانہ شرک میں۔ آپ نے فرمایا: یہ لوگ اپنی قبروں میں عذاب میں مبتلا ہیں، اگر یہ خوف کہ تم مردوں کو دفن نہ کر سکو گے، تو میں اللہ سے دعا کرتا کہ قبر کے عذاب میں جتنا کچھ میں سن رہا ہوں وہ اس میں سے کچھ تم کو بھی سُنا دے۔ یہ فرمانے کے بعد آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے، اور فرمایا: (دوزخ کے عذاب سے اللہ سے پناہ مانگو: سب کی زبان سے نکلا: ہم دوزخ کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو۔ سب نے کہا: ہم قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، آپ نے فرمایا: سب فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگو، ظاہری فتنوں سے بھی، اور باطنی فتنوں سے بھی۔ سب نے کہا: ہم سب ظاہری و باطنی فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ آپ نے فرمایا، کہ: دجال کے (عظیم ترین) فتنے سے اللہ کی پناہ مانگو۔ سب نے کہ: ”ہم دجالی فتنہ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں“۔ (مسلم) تشریح اس سلسلہ کی بعض حدیثوں سے پہلے معلوم ہو چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے برزخ (قبر) کے عذاب کو جن و انس سے مخفی رکھا ہے، اُن کو اس کا بالکل پتہ نہیں چلتا، لیکن ان کے علاوہ دوسری مخلوقات کو اس کا ادراک و احساس کچھ ہوتا ہے، اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ بنی نجار کے اس باغ میں جن لوگوں کی وہ چند قبریں تھیں ان پر جو عذاب ہو رہا تھا، رسول اللہ ﷺ کے اصحاب و رفقاء کو اگرچہ اس کا کوئی احساس نہیں ہوا۔ لیکن جس خچری پر آپ سوار تھے، اس کو اس کا احساس ہوا اور اس پر اثر پڑا۔ اس کی حکمت ظاہر ہے، مرنے والوں پر مرنے کے بعد جو کچھ گذرتا ہے، اگر ہم سب بھی اس کو دیکھ یا سن لیا کرتے، تو ”ایمان بالغیب“ نہ رہتا اور دنیا کا یہ نظام بھی نہ چل سکتا، جس وقت ہمارے سامنے ہمارا کوئی عزیز سخت تکلیف اور مصیبت میں مبتلا ہو، ہم سے اس وقت کوئی کام نہیں ہو سکتا، اگر کہیں قبروں کا عذاب ہم پر منکشف ہو جایا کرتا، تو کسی اور کام کا کیا ذکر، مائیں بچوں بچوں کو دودھ بھی نہ پلا سکتیں۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا، کہ ان قبر والوں پر جو عذاب ہو رہا تھا، اس کی وجہ سے جو چیخ پکار ان قبروں میں مچی ہوئی تھی، جس کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ والے صحابہ کرامؓ بالکل نہیں سن رہے تھے، خود آپ اس کو سن رہے تھے۔ یہ ایسا ہی تھا جیسا کہ وحی کا فرشتہ جب وحی لے کر آتا تھا، تو بسا اوقات صحابہ کرامؓ بھی اس وقت آپ کے قریب ہوتے تھے، لیکن آنے والے فرشتے کو ان کی آنکھیں عام طور سے نہیں دیکھ سکتی تھیں، نہ وہ اس کی آواز سنتے تھے، حالانکہ رسول اللہ ﷺ اس کو دیکھتے اور اس کی آواز سنتے تھے، اہل مکاشفہ تو اس صورت حال کو بڑی آسانی سے سمجھ سکتے ہیں، لیکن ہم جیسے عام بھی اس کو خواب والی مثال ہی سے کچھ سمجھ سکتے ہیں۔ (۱) اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے جو یہ فرمایا کہ: لَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا، لَدَعَوْتُ اللهَ أَنْ يُسْمِعَكُمْ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ الَّذِي أَسْمَعُ مِنْهُ (یعنی اگر یہ خوف نہ ہوتا کہ تم مردوں کو دفن نہ کر سکو گے، تو میں اللہ تعالیٰ سے یہ دعاکرتا، کہ قبر کے عذاب میں سے جتنا کچھ میں سن رہا ہوں، اس میں سے کچھ وہ تم کو بھی سنا دیتے)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قبر کے عذاب کی جو کیفیت اللہ تعالیٰ نے مجھ پر منکشف فرما دی ہے، اور عذاب اور عذاب دئیے جانے والوں کی چیخ و پکار، جو میں سن رہا ہوں، اگر اللہ تعالیٰ وہ تمہیں بھی سنوا دے، تو اس کا خطرہ ہے کہ تمہیں موت سے اتنی دہشت ہو جائے کہ مردوں کو دفن و کفن کا انتظام بھی نہ کر سکو، اس لیے میں اللہ سے دعا نہیں کرتا، کہ وہ تمہیں بھی سنا دے۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرامؓ کو تعوذ (اللہ سے پناہ مانگنے) کی طرف متوجہ کیا۔ اس میں اس کی تعلیم ہے کہ مومنین کو چاہیے کہ وہ قبر کے عذاب کو جاننے اور دیکھنے کی فکر کے بجائے اس سے بچنے کی فکر کریں، اور اس سے۔۔۔ اور ہر قسم کے عذاب اور فتنہ سے بچانے والا بس اللہ ہی ہے، لہذا اس سے برابر پناہ مانگتے رہیں، دوزخ کے عذاب سے پناہ مانگیں عذابِ قبر سے پناہ مانگیں، ظاہر و باطن کے سب فتنوں سے پناہ مانگیں خاص کر دجال کے عظیم فتنہ سے اللہ کی پناہ مانگتے رہیں۔ اور کفر و شرک اور ان سب فتنوں اور معصیتوں سے بچنے کی فکر رکھیں جو عذاب کو لانے والے ہیں۔ اَللّٰهُمَّ اِنَّا نَعُوْذُبِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَنَعُوْذُبِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ وَنَعُوْذُبِكَ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَنَعُوْذُبِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ۔

79Maarif-ul-Hadith

قیامت

عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةَ كَهَاتَيْنِ» (رواه البخارى ومسلم)

حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ”میں اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح ہیں“۔ تشریح یعنی آنحضرتﷺ نے کلمہ شہادت والی انگلی، اور اس کے برابر والی بیچ کی انگلی ملا کر فرمایا: میری بعثت میں اور قیامت میں اتنا قرب اور اتصال ہے جتنا کہ ان دو انگلیوں میں۔ اس سے غالباً آپ کا مطلب یہ تھا، کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کے جتنے دور مقرر کئے تھے وہ سب ختم ہو گئے، اب یہ دور اس کا آخری دور ہے جو میری بعثت سے شروع ہوا ہے، اور قیامت پر ختم ہو گا، میرے اور قیامت کے درمیان کوئی نیا نبی نہیں آئے گا، نہ کوئی نئی امت پیدا ہو گی، اس لئے اس کو بہت دور سمجھ کر اس کی طرف سے بے فکر اور بے پروا نہ ہونا چاہئے۔

80Maarif-ul-Hadith

قیامت

عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَثَلُ هَذِةِ الدُّنْيَا مِثْلُ ثَوْبٍ شُقَّ مِنْ اَوَّلِهِ اِلىٰ اٰخِرِهِ فَبَقِىَ مُتَعَلِّقًا بِخَيْطٍ فِىْ اٰخِرِهِ فَيُوْشَكُ ذَالِكَ الْخَيْطُ اَنْ يَّنْقَطِعَ (رواه البيهقى فى شعب الايمان)

انسؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا، کہ: ”اس دنیا کی مثال اس کپڑے کی سی ہے جو اول سے آخر تک پھاڑ دیا گیا اور بس سرے پر ایک دھاگے سے وہ جڑا رہ گیا، اور یہ آخری دھاگا بھی بس عنقریب ٹوٹنا ہی چاہتا ہے “۔ (شعب الایمان) تشریح پہلی حدیث کی طرح اس حدیث میں بھی قیامت کا قریب ہونا بیان فرمایا گیا ہے، اور مقصد یہی ہے کہ قیامت کو بہت دور سمجھ کے اس کی طرف سے غفلت نہ کی جائے، بلکہ اس کو بہت قریب اور ناگہانی پیش آنے والا ایک عظیم حادثہ یقین کرتے ہوئے ہر وقت اس کی فکر اور اس کے لئے تیاری کی جائے۔