ابو یعلیٰ شداد بن اوس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے، اور موت کے بعد کی زندگی کے لیے عمل کرے، اور عاجز وہ ہے جو اپنے نفس کو خواہشوں پر لگا دے، پھر اللہ تعالیٰ سے تمنائیں کرے۔
It was narrated from Abu Yala Shaddad bin Aws that the Messenger of Allah ﷺ said: "The wise man is the one who takes account of himself and strives for that which is after death. And the helpless man is the one who follows his own whims then ind ulges in wishful thinking about Allah." (Daif)
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/صفة القیامة ٢٥ (٢٤٥٩)، تحفة الأشراف: (٤٨٢٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٢٤) (ضعیف) (سند میں بقیہ مدلس اور ابن ابی مریم ضعیف ہیں )
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ایک نوجوان کے پاس آئے جو مرض الموت میں تھا، آپ ﷺ نے اس سے پوچھا: تم اپنے آپ کو کیسا پاتے ہو ؟ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کی رحمت کی امید کرتا ہوں، اور اپنے گناہوں سے ڈرتا ہوں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس بندے کے دل میں ایسے وقت میں یہ دونوں کیفیتیں جمع ہوجائیں، اللہ تعالیٰ اس کو وہ چیز دے گا جس کی وہ امید کرتا ہے، اور جس چیز سے ڈرتا ہے، اس سے محفوظ رکھے گا ۔
It was narrated from Anas that the Prophet ﷺ entered upon a young man who was dying and said: "How do you feel?" He said: "I have hope in Allah, a Messenger of Allah, but I fear my sins." The Messenger of Allah ﷺ said: "These two things (hope and fear) do not coexist in the heart of a person in a situation like this, but Allah will give him that which he hopes for and keep him safe from that which he fears." (Hasan)
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجنائز ١١ (٩٨٣)، (تحفة الأشراف: ٢٦٢) (حسن) (سند میں سیار بن حاتم ضعیف ہیں، لیکن شاہد کی بناء پر یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ١٠٥١ )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مرنے والے کے پاس فرشتے آتے ہیں، اگر وہ نیک ہوتا ہے تو کہتے ہیں: نکل اے پاک جان! جو کہ ایک پاک جسم میں تھی، نکل، تو لائق تعریف ہے، اور خوش ہوجا، اللہ کی رحمت و ریحان (خوشبو) سے اور ایسے رب سے جو تجھ سے ناراض نہیں ہے، اس سے برابر یہی کہا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ نکل پڑتی ہے، پھر اس کو آسمان کی طرف چڑھا کرلے جایا جاتا ہے، اس کے لیے آسمان کا دروازہ کھولتے ہوئے پوچھا جاتا ہے کہ یہ کون ہے؟ فرشتے کہتے ہیں کہ یہ فلاں ہے، کہا جاتا ہے: خوش آمدید! پاک جان جو کہ ایک پاک جسم میں تھی، تو داخل ہوجا، تو نیک ہے اور خوش ہوجا اللہ کی رحمت و ریحان (خوشبو) سے، اور ایسے رب سے جو تجھ سے ناخوش نہیں، اس سے برابر یہی کہا جاتا ہے یہاں تک کہ روح اس آسمان تک پہنچ جاتی ہے جس کے اوپر اللہ عزوجل ہے، اور جب کوئی برا شخص ہوتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے: نکل اے ناپاک نفس، جو ایک ناپاک بدن میں تھی، نکل تو بری حالت میں ہے، خوش ہوجا گرم پانی اور پیپ سے، اور اس جیسی دوسری چیزوں سے، اس سے برابر یہی کہا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ نکل جاتی ہے، پھر اس کو آسمان کی طرف چڑھا کرلے جایا جاتا ہے، لیکن اس کے لیے دروازہ نہیں کھولا جاتا، پوچھا جاتا ہے کہ یہ کون ہے؟ جواب ملتا ہے: یہ فلاں ہے، کہا جاتا ہے: ناپاک روح کے لیے کوئی خوش آمدید نہیں، جو کہ ناپاک بدن میں تھی، لوٹ جا اپنی بری حالت میں، تیرے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے، اس کو آسمان سے چھوڑ دیا جاتا ہے پھر وہ قبر میں آجاتی ہے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: Angels come to the dying person, and if the man was righteous, they say ‘Come out, O good soul that was in a good body,come out praiseworthy and glad tidings of mercy ‘and fragrance and a Lord Who is not Angry. And this is repeated until it comes out, then it is taken heaven, and it is opened for is asked: ‘Who is this?’‘So-and-so.’ It is said: to the good soul that a good body. Enter praiseworthy and receive the glad mercy and fragrance and a Lord Who is not angry.’ is repeated until it is brought to the heaven above which is Allah. But if the man was evil, they say: ‘Come out O Evil soul that was in an evil body. Come out blameworthy, and recieve the tidings of boiling water and the discharge of dirty wounds, and other torments of similar kind, all together. And it is asked: Who is this? It is said: so-and-so. And it is said: No welcome to the evil body.Go back blameworthy, for the gates of heaven will not be opened to you. So it is sent back down from heaven,then it goes to the grave.” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے اللہ تعالیٰ کا آسمان کے اوپر بلندی میں ہونا ثابت ہے، فاسد عقائد والے اس کا انکار کرتے ہیں، اور اہل حدیث اور اہل حق کو مشبہہ اور مجسمہ کہتے ہیں۔ جبکہ اللہ تعالیٰ کے آسمان کے اوپر بلندی میں ہونے کے عقیدے پر کتاب و سنت کے بیشمار دلائل ہیں، اور صحابہ و تابعین و تبع تابعین اور ائمہ دین کا اس پر اتفاق ہے، اور یہ چیز انسان کی فطرت میں ہے کہ اپنے خالق ومالک کو پکارتے ہی اس کے ہاتھ اوپر اٹھ جاتے ہیں، اور نگاہیں اوپر دیکھنے لگتی ہیں۔
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کی موت کسی زمین میں لکھی ہوتی ہے تو ضرورت اس کو وہاں لے جاتی ہے، جب وہ اپنے آخری نقش قدم کو پہنچ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی روح قبض کرلیتا ہے، زمین قیامت کے دن کہے گی: اے رب! یہ تیری امانت ہے جو تو نے میرے سپرد کی تھی ۔
It was narrated from Abdullah bin Masud that the Prophet ﷺ said: "If the appointed time of death of anyone of you is in a certain land, some need will cause him to go there, then when he reaches the furthest point that it is decreed he will reach, Allah takes (his soul). And on the Day of Resurrection the earth will say. My Lord, this is what You entrusted to me."(Sahih)
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ سے ملاقات پسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملاقات پسند کرتا ہے، اور جو اللہ تعالیٰ سے ملاقات ناپسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملاقات ناپسند کرتا ہے ، آپ سے عرض کیا گیا: اللہ تعالیٰ سے ملنے کو برا جاننا یہ ہے کہ موت کو برا جانے، اور ہم میں سے ہر شخص موت کو برا جانتا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، بلکہ یہ موت کے وقت کا ذکر ہے، جب بندے کو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی مغفرت کی خوشخبری دی جاتی ہے، تو وہ اس سے ملنا پسند کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنا پسند کرتا ہے، اور جب اس کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کی خبر دی جاتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ سے ملنا ناپسند کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے نہیں ملنا چاہتا ۔
It was narrated from Aisha (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever Ioves to meet Allah, Allah loves to meet him, and whoever hates to meet Allah ?Allah hates to meet him. It was said to him: O Messenger of Allah, does hating to meet Allah mean hating to meet death? For all of us hate death. He Said: "No. Rather that is only at the moment of death. But if he is given the glad tidings of the mercy and forgiveness of Allah, he loves to meet Allah and Allah loves to meet him; and if he is given the tidings of the punishment of Allah, he hates to meet Allah and Allah ha tes to meet him." (Sahih)
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی کسی مصیبت کی وجہ سے جو اس کو پیش آئے موت کی تمنا نہ کرے، اگر موت کی خواہش کی ضرورت پڑ ہی جائے تو یوں کہے: اے اللہ! مجھے زندہ رکھ جب تک جینا میرے لیے بہتر ہو، اور مجھے موت دے اگر مرنا میرے لیے بہتر ہو ۔
It was narrated from Anas that the Messenger of Allah ﷺ said: "None of you should wish for death because of some harm that befalls him. If he must wish for death, then let him say: O Allah, keep me alive so long as living is good for me and cause me to die when death is good for me. (Sahih)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: انسان کے جسم کی ہر چیز سڑ گل جاتی ہے، سوائے ایک ہڈی کے اور وہ ریڑھ کی ہڈی ہے، اور اسی سے قیامت کے دن انسان کی پیدائش ہوگی ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "There is no part of man that will not disintegrate, apart from a single bone at the base of the coccyx, from which he will be recreated on the Day of Resurrection." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: ليس من الإنسان شئ إلا يبلى إلا عظما واحدا انسان کی ہر چیز ایک ہڈی کے علاوہ بوسیدہ ہوجائے گی اور ایک دوسری روایت کے الفاظ ہیں: إن في الإنسان عظما لا تأكله الأرض أبدا فيه يركب يوم القيامة، قالوا: أي عظم هو قال: عظم الذنب انسان میں ایک ایسی ہڈی ہے جسے زمین کبھی بھی نہیں کھائے گی، قیامت کے دن اسی میں دوبارہ اس کی تخلیق ہوگی، لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول وہ کونسی ہڈی ہے؟ تو آپ نے کہا: وہ دم کی ہڈی ہے مستدرک علی الصحیحین اور مسند ابی یعلی میں ابوسعید خدری ؓ کی حدیث میں ہے: قيل: يارسول الله! ما عجب الذنب؟ قال: مثل حبة خردل کہا گیا: اللہ کے رسول! دم کی ہڈی کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: رائی کے دانے کے برابر۔ عجب: ع کے فتحہ اور ج کے سکون کے ساتھ اور اس کو عجم بھی کہتے ہیں، ریڑھ کی ہڈی کی جڑ میں یہ ایک باریک ہڈی ہوتی ہے، یہ دم کی ہڈی کا سرا ہے، یہ چاروں طرف سے ریڑھ کی باریک والی ہڈی کا سرا ہے، ابن ابی الدنیا، ابوداود اور حاکم کے یہاں ابوسعید خدری ؓ کی مرفوع حدیث میں ہے کہ یہ رائی کے دانے کے مثل ہے، علامہ ابن الجوزی کہتے ہیں کہ ابن عقیل نے کہا: اللہ رب العزت کا اس میں کوئی راز ہے، جس کا علم صرف اسی کو ہے، اس لیے کہ جو ذات عدم سے وجود بخشے وہ کسی ایسی چیز کی محتاج نہیں ہے جس کو وہ نئی خلقت کی بنیاد بنائے، اس بات کا احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو فرشتوں کے لیے نشانی بنایا ہے کہ وہ ہر انسان کو اس کے جوہر کے ساتھ زندہ کرے، اور فرشتوں کو اس کا علم صرف اسی طریقے سے ہوگا کہ ہر شخص کی ہڈی باقی اور موجود ہو، تاکہ وہ اس بات کو جانے کہ روحوں کو ان کے اعیان میں ان اجزاء کے ذریعے سے لوٹایا جائے، اور حدیث میں جو یہ آیا ہے کہ ويبلى كل شئ من الإنسان انسان کی ہرچیز بوسیدہ ہوجائے گی تو اس میں احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد اس کا فنا ہوجانا ہے یعنی اس کے اجزاء کلی طور پر ختم ہوجائیں گے اور اس بات کا بھی احتمال ہے کہ اس سے مراد اس کا پگھلنا اور تحلیل ہونا ہے، تو معہود صورت ختم ہوجائے گی اور وہ مٹی کی شکل میں ہوجائے گی، پھر اس کی دوبارہ ترکیب میں اپنی اصل کی طرف لوٹ آئے، بعض شراح حدیث کے خیال میں اس سے مراد اس کے بقا کا طویل ہونا ہے، نہ یہ کہ اصل میں وہ ہڈی فنا نہیں ہوگی، اس میں حکمت یہ ہے کہ یہ ہڈی انسان کی تخلیق کی بنیاد ہے، جو سب سے زیادہ سخت ہے، جیسے دیوار کی بنیاد اور جب زیادہ سخت ہوگی تو اس کو زیادہ بقائے دوام حاصل ہوگا، اور یہ قابل رد ہے اس لیے کہ یہ ظاہر کے خلاف ہے، اور اس پر کوئی دلیل نہیں ہے، اور علماء کہتے ہیں کہ یہ حدیث عام ہے، اس سے مراد خصوصیت سے انبیاء ہیں، اس لیے کہ زمین ان کے جسم کو نہ کھائے گی، ابن عبدالبر نے ان کے ساتھ شہداء کو رکھا، اور قرطبی نے ثواب کے خواہاں موذن کو، قاضی عیاض کہتے ہیں کہ حدیث کا معنی یہ ہوگا کہ ہر آدمی کو مٹی کھالے گی اور بہت سے اجسام جیسے انبیاء ہیں کو مٹی نہیں کھائے گی۔ حدیث میں إلا عجب ذنبه ہے یعنی انسان کے جسم میں اس کے دم کی ہڈی ہی بچے گی جمہور اس کے ظاہر کو دیکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ دم کی ہڈی نہ بوسیدہ ہوگی، اور نہ اس سے مٹی کھائے گی، مزنی نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ إلا یہاں واو عطف کے معنی میں ہے، یعنی دم کی ہڈی بھی پرانی ہوجائے گی، اور اس معنی کو فراء اور اخفش نے ثابت کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ واو إلا کے معنی میں آتا ہے، مزنی کی اس شاذ اور منفرد رائے کی تردید حدیث میں وارد وہ صراحت ہے جو ہمام کی روایت میں ہے کہ زمین اس کو کبھی بھی نہ کھائے گی، اور اعرج کی روایت میں ہے: منہ خلق اس کا تقاضا یہ ہے کہ آدمی میں سب سے پہلے اسی کی پیدائش ہوئی، اور اس کی معارض سلمان ؓ کی حدیث: إن أول ما خلق من آدم رأسه نہیں ہے اس لیے کہ ان دونوں میں توفیق و تطبیق اس طرح سے ہوگی کہ یہ آدم (علیہ السلام) کے حق میں ہے، اور دم کی ہڈی کی تخلیق اولاد آدم میں پہلے ہے، یا سلمان ؓ کے قول کا مقصد یہ ہو کہ آدم میں روح پھونکی گئی نہ کہ ان کے جسم کی تخلیق ہوئی۔ (ملاحظہ ہو: فتح الباری ٨ /٥٥٢-٥٥٣، حدیث نمبر ٤٨١٤ )
ہانی بربری مولیٰ عثمان کہتے ہیں کہ عثمان بن عفان ؓ جب کسی قبر پر کھڑے ہوتے تو رونے لگتے یہاں تک کہ ان کی ڈاڑھی تر ہوجاتی، ان سے پوچھا گیا کہ آپ جنت اور جہنم کا ذکر کرتے ہیں تو نہیں روتے اور قبر کو دیکھ کر روتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: قبر آخرت کی پہلی منزل ہے، اگر وہ اس منزل پر نجات پا گیا تو اس کے بعد کی منزلیں آسان ہوں گی، اور اگر یہاں اس نے نجات نہ پائی تو اس کے بعد کی منزلیں اس سے سخت ہیں ، اور کہنے لگے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے کبھی قبر سے زیادہ ہولناک کوئی چیز نہیں دیکھی ۔
It was narrated that Hani the freed slave of "Uthman bin Affan, said: "When Uthman bin Affan stood beside a grave, he would weep until his beard became wet. It was said to him: You remember Paradise and Hell, and you do not weep, but you weep for this? He said: The Messenger of Allah ﷺ said: "The grave is the first stage of the Hereafter. Whoever is delivered from it, what comes after it is easier. If he is not delivered from it, then what comes after it is harder." He said that the Messenger of Allah ﷺ said: “I have never seen any horrible scene but the grave is more horrible.’ (Hasan)
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الزھد ٥ (٢٣٠٨)، (تحفة الأشراف: ٩٨٣٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٦٣) (حسن )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مرنے والا قبر میں جاتا ہے، نیک آدمی تو اپنی قبر میں بیٹھ جاتا ہے، نہ کوئی خوف ہوتا ہے نہ دل پریشان ہوتا ہے، اس سے پوچھا جاتا ہے کہ تو کس دین پر تھا؟ تو وہ کہتا ہے: میں اسلام پر تھا، پھر پوچھا جاتا ہے کہ یہ شخص کون ہیں؟ وہ کہتا ہے: یہ محمد اللہ کے رسول ہیں، یہ ہمارے پاس اللہ تعالیٰ کی جانب سے دلیلیں لے کر آئے تو ہم نے ان کی تصدیق کی، پھر اس سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا تم نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے؟ جواب دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو بھلا کون دیکھ سکتا ہے؟ پھر اس کے لیے ایک کھڑکی جہنم کی جانب کھولی جاتی ہے، وہ اس کی شدت اشتعال کو دیکھتا ہے، اس سے کہا جاتا ہے: دیکھ، اللہ تعالیٰ نے تجھ کو اس سے بچا لیا ہے، پھر ایک دوسرا دریچہ جنت کی طرف کھولا جاتا ہے، وہ اس کی تازگی اور لطافت کو دیکھتا ہے، اس سے کہا جاتا ہے کہ یہی تیرا ٹھکانا ہے، اور اس سے کہا جاتا ہے کہ تو یقین پر تھا، یقین پر ہی مرا، اور یقین پر ہی اٹھے گا اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا۔ اور برا آدمی اپنی قبر میں پریشان اور گھبرایا ہوا اٹھ بیٹھتا ہے، اس سے کہا جاتا ہے کہ تو کس دین پر تھا؟ تو وہ کہتا ہے: میں نہیں جانتا، پھر پوچھا جاتا ہے کہ یہ شخص کون ہیں؟ جواب دیتا ہے کہ میں نے لوگوں کو کچھ کہتے سنا تو میں نے بھی وہی کہا، اس کے لیے جنت کا ایک دریچہ کھولا جاتا ہے، وہ اس کی لطافت و تازگی کو دیکھتا ہے پھر اس سے کہا جاتا ہے کہ دیکھ! اس سے اللہ تعالیٰ نے تجھے محروم کیا، پھر جہنم کا دریچہ کھولا جاتا ہے، وہ اس کی شدت اور ہولناکی کو دیکھتا ہے، اس سے کہا جاتا ہے کہ یہی تیرا ٹھکانا ہے، تو شک پر تھا، شک پر ہی مرا اور اسی پر تو اٹھایا جائے گا اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: "The dead person ends up in his grave, then the righteous man is made to sit up in his grave with no fear or panic. Then it is said to him: What religion did you follow? He said: I was in Islam. It is said to him: Who is this man? He says: Muhammad the Messenger of Allah ﷺ P.U.B.H. He brought us clear signs from Allah and we believed him. It is said to him: Have you seen Allah? He says: No one is able to see Allah. Then a window to Hell is opened for him: and he sees it, parts of it estroying others. Then it is said to him: Look at what Allah has saved you from. Then a window to Paradise is opened to him, and he looks at its beauty and what is in it. It is said to him: This is your place. And it is said to him: You had certain faith and you died in that state, and in that state you will be resurrected if Allah wills. And the evil man is made to sit up in his grave with fear and panic. It is said to him: What religion did you follow? He says: I do not know. It is said to him: Who is this man? He says: I heard the people saying something and I said it too. Then a window to Paradise is opened to him, and he looks at its beauty and what is in it. It is said to him: Look at what Allah has diverted away from you. Then a window to Hell is opened for him. and he sees it, parts of it destroying others, and it is said to him: This is your place. You were doubtful; in this state you died and in this state you will be resurrected, if Allah wills. (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٣٣٨٧، ومصباح الزجاجة: ١٥٢٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٤٠، ٣٦٤، ٦/١٣٩) (صحیح )
براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: یہ آیت: يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت عذاب قبر کے سلسلے میں نازل ہوئی ہے، اس (مردے) سے پوچھا جائے گا کہ تیرا رب کون ہے؟ تو وہ کہے گا کہ میرا رب اللہ ہے، اور میرے نبی محمد ﷺ ہیں، یہی مراد ہے اس آیت: يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الآخرة اللہ ایمان والوں کو مضبوط قول پر ثابت رکھتا ہے دنیوی زندگی میں بھی آخرت میں بھی (سورة ابراهيم: 72) سے۔
It was narrated from Bara bin Azib (RA) that the Prophet ﷺ said: "Allah will keep firm those who believe, with the word that stands firm. This has been revealed concerning the torment of the grave.It will be said to him: Who is your Lord? He will say: My Lord is Allah, and my Prophet ﷺ is Muuhammad. This is what Allah says: Allah will keep firm those who believe, with the word that stands firm in this world (i.e. they will keep on worshipping Allah Alone and none else), and in the Hereafter [i.e., at the time of questioning in the grave).(Sahih)
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مرجاتا ہے، تو اس کے سامنے اس کا ٹھکانا صبح و شام پیش کیا جاتا ہے، اگر اہل جنت میں سے تھا تو اہل جنت کا ٹھکانا، اور اگر جہنمی تھا تو جہنمیوں کا ٹھکانا، اور کہا جائے گا کہ یہ تمہارا ٹھکانا ہے یہاں تک کہ تم قیامت کے دن اٹھائے جاؤ۔
It was narrated from Ibn :Umar that the Prophet ﷺ said: When anyone of you dies, he is shown his place morning and evening. If he is one of the people of Paradise, then he will be shown seat in Paradise, and if he is one of the people of Hell, then he will be shown his seat in Hell. And it is said: This is your place until you are raised on the Day of Resurrection. (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٠١٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجنائز ٨٩ (١٣٧٩)، بدء الخلق ٨ (٣٢٤٠)، الرقاق ٤٢ (٦٥١٥)، صحیح مسلم/الجنة ١٧ (٢٨٦٦)، سنن الترمذی/الجنائز ٧٠ (١٠٧٢)، سنن النسائی/الجنائز ١١٦ (٢٠٧٢)، موطا امام مالک/الجنائز ١٦ (٤٧)، مسند احمد (٢/١٦، ٥١، ١١٣، ١٢٣) (صحیح )
کعب ؓ کہتے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مومن کی روح ایک پرندے کی شکل میں جنت کے درخت میں لٹکتی رہے گی، یہاں تک کہ وہ قیامت کے دن اپنے اصلی بدن میں لوٹ جائے گی ۔
It was narrated from Abdur-Rahman bin Kab AIAnsari that his father used to narrate that the Messenger of Allah ﷺ said: "The believers soul is a bird that eats from the trees of Paradise, until it will be returned to his body on the Day when he is resurrected."
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/فضائل الجہاد ١٣ (١٦٤١)، سنن النسائی/الجنائز ١١٧ (٢٠٧٥)، (تحفة الأشراف: ١١٤٨)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجنائز ١٦ (٤٩)، مسند احمد (٣/٤٥٥، ٤٥٦، ٤٦٠) (صحیح )
جابر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب مردہ قبر میں جاتا ہے تو اسے ایسا لگتا ہے کہ سورج ڈوبنے کا وقت قریب ہے، وہ بیٹھتا ہے اپنی دونوں آنکھوں کو ملتے ہوئے، اور کہتا ہے: مجھے نماز پڑھنے کے لیے چھوڑ دو ۔
It was narrated from Jabir that the Prophet ﷺ said: "When the deceased enters the grave, the sun is made to appear as if it is setting. He sits up, wipes his eyes and says: Let me pray." (Sahih)
ابوسعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا: بیشک صور والے دونوں فرشتے اپنے ہاتھوں میں صور ١ ؎ لیے برابر دیکھتے رہتے ہیں کہ کب پھونکنے کا حکم ہو ۔
It was narrated from Abu Saeed that the Messenger of Allah ﷺ said: "The two who are entrusted with the Trumpet have two horns in their hands, waiting until they will be commanded (to blow them)." (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: صور کی جمع اصوار یعنی نرسنگا، اور بگل۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤١٩٣، ومصباح الزجاجة: ١٥٢٩) (منکر) (سند میں حجاج بن ارطاہ وعطیہ العوفی ضعیف ہیں، اور حجاج نے ثقات کی مخالفت کی ہے، اس لئے یہ لفظ منکر ہے، محفوظ حدیث صاحب القرن ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ١٠٧٩ )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک یہودی نے مدینہ کے بازار میں کہا: اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ کو تمام لوگوں سے برگزیدہ بنایا، یہ سن کر ایک انصاری نے اس کو ایک طمانچہ مارا، اور کہا: تم ایسا کہتے ہو جب کہ اللہ کے رسول ﷺ ہمارے درمیان موجود ہیں؟ آپ ﷺ کے سامنے جب اس کا تذکرہ کیا گیا تو آپ نے فرمایا: اللہ عزوجل فرماتا ہے: ونفخ في الصور فصعق من في السموات ومن في الأرض إلا من شاء الله ثم نفخ فيه أخرى فإذا هم قيام ينظرون اور صور پھونکا جائے گا تو زمین و آسمان والے سب بیہوش ہوجائیں گے، سوائے اس کے جس کو اللہ چاہے، پھر دوسرا صور پھونکا جائے گا تب وہ سب کھڑے ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوں گے (سورۃ الزمر: ٦٨ ) ، میں سب سے پہلے اپنا سر اٹھاؤں گا، تو دیکھوں گا کہ موسیٰ (علیہ السلام) عرش کا ایک پایہ تھامے ہوئے ہیں، میں نہیں جانتا کہ انہوں نے مجھ سے پہلے سر اٹھایا، یا وہ ان لوگوں میں سے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے مستثنیٰ کردیا ہے، اور جس نے یہ کہا: میں یونس بن متی سے بہتر ہوں تو اس نے غلط کہا ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "A Jewish man said in the marketplace of AI- Madinah:By the One Who chose Musa above all of mankind. Ansari man raised his hand and slapped him. He said: How dare you say this when the Messenger of Allah ﷺ is among us.? " ention of that was made to the : Messenger of Allah ﷺ , and he said: Allah says: "And the Trumpet will be blown, and all who are in the heavens and all who are on the earth will swoon away, except him whom Allah wills. Then it will be blown a second time, and behold they will be standing, looking on (waiting)." I will be the first one to raise his head, and I will see Musa holding on to one of the pillars of the Throne, and I do not know whether he will have raised his head before me, or he will be one of those whom Allah exempts. And whoever says that I am better than Yunus bin Matta, he is lying." (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: یونس (علیہ السلام) سے غلطی ہوئی تھی، لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کردیا تھا، رسول اکرم ﷺ کا مطلب یہ ہے کہ تمام انبیاء کی شان بڑی ہے اور نبوت اور رسالت کا مرتبہ سب کو حاصل ہے لہذا اپنی رائے سے ایک کو دوسرے پر فضیلت مت دو، بعضوں نے کہا کہ یہ حدیث پہلے کی ہے، جب آپ ﷺ کو معلوم ہوا کہ آپ تمام انبیاء کے سردار ہیں اور انجیل مقدس میں مذکور ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے آپ کے بارے میں فرمایا کہ اس جہاں کا سردار آتا ہے، یا حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ایک نبی کو دوسرے نبی پر اس طرح فضیلت مت دو کہ دوسرے نبی کی تحقیر یا توہین نکلے کیونکہ کسی نبی کی تحقیر یا توہین کفر ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٠٧٦، ومصباح الزجاجة: ١٥٣١)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الفضائل ٤٢ (٢٣٧٣) (حسن صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر فرماتے سنا: جبار (اللہ) آسمانوں اور زمینوں کو اپنے ہاتھ میں لے گا، (آپ نے مٹھی بند کی پھر اس کو بند کرنے اور کھولنے لگے) پھر فرمائے گا: میں جبار ہوں، میں بادشاہ ہوں، کہاں ہیں دوسرے جبار؟ کہاں ہیں دوسرے متکبر؟ یہ کہہ کر رسول اللہ ﷺ دائیں اور بائیں جھک رہے تھے، یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ منبر کچھ نیچے سے ہل رہا تھا، حتیٰ کہ میں کہنے لگا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو لے کر گر نہ پڑے۔
It was narrated that Abdullah bin Umar (RA) said: I the Messenger of Allah ﷺ the pulpit: The Compeller (Al-Jabbar) will seize His heavens and His earths in His Hand - he clenched his hand and started to open and" close it - Then He will say: I am The compeller, I am the King, Where are the tyrants? Where are the arrogants?" And the Messenger of Allah ﷺ was leaning to his right and his left, until I could see the pulpit shaking at the bottom, and I thought that it would fall alongwith the Messenger of Allah ﷺ ." (Sahih)
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/صفة القیامة نحوہ (٢٧٨٨)، (تحفة الأشراف: ٧٣١٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٧٢، ٨٧) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! لوگ قیامت کے دن کیسے اٹھائے جائیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ننگے پاؤں، ننگے بدن ، میں نے کہا: عورتیں بھی اسی طرح؟ آپ ﷺ نے فرمایا: عورتیں بھی ، میں نے کہا: اللہ کے رسول! پھر شرم نہیں آئے گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: عائشہ! معاملہ اتنا سخت ہوگا کہ (کوئی) ایک دوسرے کی طرف نہ دیکھے گا ١ ؎۔
It was narrated that Qasim said: Aisha (RA) said: "I said: O Messenger of Allah ﷺ , how will the people be gathered on the Day of Resurrection? He said: Barefoot and naked.I said: And the women? He said: And the women. I said: O Messenger of Allah ﷺ , will we not feel embarrassed? He said: O Aisha (RA) , the matter will be too serious for them to look at one another. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اپنی جان بچانے کی فکر ہوگی ایسے وقت میں بدنظری کیسی۔
ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن لوگوں کی تین پیشیاں ہوں گی، دو بار کی پیشی میں بحث و تکرار اور عذر و بہانے ہوں گے اور تیسری بار میں اعمال نامے ہاتھوں میں اڑ رہے ہوں گے، تو کوئی اس کو اپنے دائیں ہاتھ میں اور کوئی بائیں ہاتھ میں پکڑے ہوگا ۔
It was narrated from Abu Musa AI-Ash’ari that the Messenger of Allah ﷺ said: “The people will be presented (before Allah) three times on the Day of Resurrection. The first two times will be for disputes and excuses, and the third time will be when the scrolls (of deeds) fly into their hands; some will take it in the right hand and some in the left.” (Da`if)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٩٨٦، ومصباح الزجاجة: ١٥٣٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤١٤) (ضعیف) (حسن بصری کا سماع ابوموسیٰ سے ثابت نہیں ہے، اس لئے انقطاع کی وجہ سے سند ضعیف ہے )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے: يوم يقوم الناس لرب العالمين جس دن لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے (سورۃ المطففین: ٦ ) کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: لوگ اس طرح کھڑے ہوں گے کہ نصف کان تک اپنے پسینے میں غرق ہوں گے ۔
It was narrated from Ibn Umar that the Prophet ﷺ said: "The Day when (all) mankind will stand hefore the Lord of all that exists." One of them will stand in his sweat up to halfway up his ears." (Sahih)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عن قَوْلةِ: يَوْمَ تُبَدَّلُ الأَرْضُ غَيْرَ الأَرْضِ وَالسَّمَوَاتُ سورة إبراهيم آية 48، سورة إبراهيم آية 48 فَأَيْنَ تَكُونُ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: عَلَى الصِّرَاطِ.
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے يوم تبدل الأرض غير الأرض والسموات جس دن زمین اور آسمان بدل دئیے جائیں گے (سورة إبراهيم: 48) سے متعلق پوچھا کہ لوگ اس وقت کہاں ہوں گے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: پل صراط پر ۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "I asked the Messenger af Allah ﷺ : On the Day when the earth will changed to another earth an so will be the heavens. - where will the people be on that Day? He said: On the Sirat (the Bridge across Hell·fire). (Sahih)
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/صفة القیامة ٢ (٢٧٩١)، سنن الترمذی/تفسیر القرآن ١٥ (٣١٢١)، (تحفة الأشراف: ١٧٦١٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد ٦/٣٥)، سنن الدارمی/الرقاق ٨٨ (٢٨٥١) (صحیح )