ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پل صراط جہنم کے دونوں کناروں پر رکھا جائے گا، اس پر سعدان کے کانٹوں کی طرح کانٹے ہوں گے، پھر لوگ اس پر سے گزرنا شروع کریں گے، تو بعض لوگ صحیح سلامت گزر جائیں گے، بعض کے کچھ اعضاء کٹ کر جہنم میں گرپڑیں گے، پھر نجات پائیں گے، بعض اسی پر اٹکے رہیں گے، اور بعض اوندھے منہ جہنم میں گریں گے ۔
Abu Saeed narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: "The Sirat will be placed across Hell, on thorns like the thorns of the Sadan plant . Then the people will cross it. Some will pass over safe and sound some will be detained, and some will fall in headfirst." (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٠٦٨، ومصباح الزجاجة: ١٥٣٠)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الإیمان ٨١ (٢٨٣)، مسند احمد (٢/٢٩٣، ٣/١١، ١٧) (صحیح )
ام المؤمنین حفصہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مجھے امید ہے جو لوگ بدر و حدیبیہ کی جنگوں میں شریک تھے، ان میں سے کوئی جہنم میں نہ جائے گا، إ ن شاء اللہ اگر اللہ نے چاہا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد نہیں ہے: وإن منکم إلا واردها کان على ربک حتما مقضيا تم میں سے ہر ایک کو اس میں وارد ہونا ہے، یہ تیرے رب کا حتمی فیصلہ ہے (سورة مريم: 71) ؟، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ قول نہیں سنا: ثم ننجي الذين اتقوا ونذر الظالمين فيها جثيا پھر ہم پرہیزگاروں کو نجات دیں گے اور ظالموں کو اسی میں اوندھے منہ چھوڑ دیں گے (سورة مريم: 72۔
It was narrated from Hafsah that the Prophet ﷺ said: "I hope that no one of those who witnessed (the battle of) Badr and (Treaty) Hudaybiyah will enter Hell, if Allah wills." I said: "O Messenger of Allah, doesnt Allah say "There is not one of you but will pass over it (Hell); this is with your Lord, a decree which must be accomplished. He said: "Have you not heard that He says: Then We shall save those who use to fear Allah and were dutiful to Him. And We shall leave the wrongdoers therein (humbled) to their knees (in Hell). ?"
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٨٢٠، ومصباح الزجاجة: ١٥٣٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد ٦/٢٨٥) (صحیح) (سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٢٤٠٥ )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میرے پاس آؤ گے اس حال میں کہ وضو کی وجہ سے تمہارے ہاتھ پاؤں اور پیشانیاں روشن ہوں گی، یہ میری امت کا نشان ہوگا، اور کسی امت کا یہ نشان نہ ہوگا ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "You will come to me with radiant faces, hands and feet from the traces of ablution.This is the characteristic sign of my nation which does not belong to anyone else." (Sahih)
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک خیمے میں تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم اس پر راضی اور خوش ہو گے کہ تمہاری تعداد جنت والوں کے چوتھائی ہو ، ہم نے کہا: کیوں نہیں، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم خوش ہو گے کہ تمہاری تعداد جنت والوں کے ایک تہائی ہو ، ہم نے کہا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، مجھے امید ہے کہ تمہاری تعداد تمام اہل جنت کا نصف ہوگی، ایسا اس لیے ہے کہ جنت میں صرف مسلمان ہی جائے گا، اور مشرکین کے مقابلے میں تمہاری مثال ایسی ہے جیسے کالے بیل کی جلد پر سفید بال یا سرخ بیل کی جلد پر کالا بال ۔
It was narrated that Abdullah bin Masud said: "We were with the Messenger of Allah ﷺ , and he said: Will it not . I pease you to be one quarter of the people of Paradise? We said: He said: Will it not please you to be one third of the people of Paradise? We said: Yes: He :By the One in Whose Hand is my soul,I hope that you will be haIf of the people of Paradise. For no one will enter Paradise but a Muslim soul, and among the people of polytheism you are like a white hair on the hide of a black bull, or like a black hair on the hide of a red bull.": (Sahih)
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الرقاق ٤٥ (٦٥٢٦)، صحیح مسلم/الإیمان ٩٥ (٢٢١)، سنن الترمذی/صفة الجنة ١٣ (٢٥٤٧)، (تحفة الأشراف: ٩٤٨٣)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/قصرالصلاة ٢٤ (٨٨)، مسند احمد (١/٣٨٦، ٤٣٧، ٤٤٥) (صحیح )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (قیامت کے دن) ایک نبی آئے گا اور اس کے ساتھ دو ہی آدمی ہوں گے، اور ایک نبی آئے گا اس کے ساتھ تین آدمی ہوں گے، اور کسی نبی کے ساتھ زیادہ لوگ ہوں گے، کسی کے ساتھ کم، اس نبی سے پوچھا جائے گا: کیا تم نے اپنی قوم تک اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچایا تھا؟ وہ کہے گا: جی ہاں پھر اس کی قوم بلائی جائے گی اور پوچھا جائے گا: کیا اس نے تم کو اللہ کا پیغام پہنچا دیا تھا؟ وہ کہیں گے: نہیں نبی سے پوچھا جائے گا: تمہارا گواہ کون ہے؟ وہ کہے گا: محمد اور ان کی امت، پھر محمد کی امت بلائی جائے گی اور کہا جائے گا: کیا اس نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا تھا؟ وہ کہے گی: جی ہاں اس سے پوچھا جائے گا: تمہیں کیسے معلوم ہوا؟ جواب دے گی کہ ہمارے نبی نے ہم کو یہ بتایا کہ رسولوں نے پیغام پہنچا دیا ہے تو ہم نے ان کی تصدیق کی، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: یہی اللہ تعالیٰ کے قول: وكذلک جعلناکم أمة وسطا لتکونوا شهداء على الناس ويكون الرسول عليكم شهيدا اسی طرح ہم نے تم کو امت وسط بنایا تاکہ تم گواہ رہو لوگوں پر اور رسول گواہ رہیں تمہارے اوپر (سورة البقرة: 143) کا مطلب ہے ۔
It was narrated from Abu Sa’eed that the Messenger of Allah ﷺ said: “A Prophet ﷺ win come accompanied by two men, and a Prophet ﷺ will come accompanied by three, and (some will come) with more or less than that. It will be said to him: ‘Did you convey the message to your people?’ And he will say: ‘Yes.’ Then his people will be called and it will be said: ‘Did he convey the message to you?’ They will say: ‘No.’ Then it will be said: ‘Who will bear witness for you?’ He will say: ‘Muhammad and his nation.’ So the nation of Muhammad will be called and it will be said: ‘Did this man convey the message?’ They will say: ‘Yes.’ He will say: ‘How did you know that?’ They will say: ‘Our Prophet ﷺ told us that the Messengers had conveyed the message, and we believed him.’ This is what Allah says “Thus We have made you, a just (and the best) nation, that you be witnesses over mankind and the Messenger (Muhammad ﷺ ) be a witness over you. (Sahih)
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء ٣ (٣٣٣٩)، سنن الترمذی/تفسیر القرآن ٣ (٢٩٦١)، (تحفة الأشراف: ٤٠٠٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٩، ٣٢، ٥٨) (صحیح )
رفاعہ جہنی ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ لوٹے تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، کوئی بندہ ایسا نہیں ہے، جو ایمان لائے، پھر اس پر جما رہے مگر وہ اس کی وجہ سے جنت میں داخل کیا جائے گا، اور میں امید کرتا ہوں کہ وہ اس میں داخل نہ ہوں گے یہاں تک کہ تم اور تمہاری اولاد میں جو لوگ نیک ہوئے جنت کے مکانات میں ٹھکانا نہ بنالیں، اور مجھ سے میرے رب نے وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت میں سے ستر ہزار لوگوں کو بغیر حساب و کتاب جنت میں داخل کرے گا ۔
It was narrated that Rifaah Al-Juhani said: "We came back Messenger of Allah ﷺ and he said: By the One in Whose Hand is the soul of Muhammad, there is no person who believes then " stands firm, but he will be caused to enter Paradise. I hope that they will not enter it until you and those who are righteous among your offspring will enter it and take up your dwelling places therein. And my Lord has promised me that seventy thousand of my nation will enter Paradise without being brought to account. (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٦١١، ومصباح الزجاجة: ١٥٣٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٦) (صحیح )
ابوامامہ باہلی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: میرے رب (سبحانہ و تعالیٰ ) نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت میں سے ستر ہزار لوگوں کو جنت میں داخل کرے گا، نہ ان کا حساب ہوگا، اور نہ ان پر کوئی عذاب، ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار ہوں گے، اور ان کے سوا میرے رب عزوجل کی مٹھیوں میں سے تین مٹھیوں کے برابر بھی ہوں گے ۔
Abu Umamah Al-Bahili said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: My Lord has promised me that seventy thousand of my nation will enter Paradise without being brought to account or punished. With every thousand will be (another) seventy thousand, and three handfuls of my Lord, the Glorified." (Hasan)
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/صفة القیامة ١٢ (٢٤٣٧)، (تحفة الأشراف: ٤٩٢٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٦٨) (صحیح )
معاویہ بن حیدۃ قشیری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہم قیامت کے دن ستر امتوں کا تکملہ ہوں گے، اور ہم ان سب سے آخری اور بہتر امت ہوں گے ۔
It was narrated from Bahz bin Hakim, from his father, that his grandfather said: "The Messenger of Allah ﷺ said: On the Day of Resurrection, we will complete seventy nations, of whom we are the last and the best.": (Hasan)
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/تفسیر القرآن ٤ (٣٠٠١)، (تحفة الأشراف: ١١٣٨٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤٤٧٤، ٥/٣، ٥)، سنن الدارمی/الرقاق ٤٧ (٢٨٠٢) (حسن )
معاویہ بن حیدۃ قشیری ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: تمہیں لے کر ستر امتیں پوری ہوئیں، اور تم ان میں سب سے بہتر ہو، اور اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ باعزت ہو ۔
It was narrated from Bahz bi Hakim, from his father, that his grandfather said: .I heared the Messenger of Allah ﷺ say: You complete seventy nations, of which you are the best and dearest to Allah." (Hasan)
بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جنت والوں کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی، ان میں سے اسی صفیں اس امت کے لوگوں کی ہوں گی، اور چالیس صفیں اور امتوں میں سے ۔
It was narrated from Sulaiman bin Buraidah, from his father, that the Prophet ﷺ said: "The people of Paradise are one hundred and twenty ranks, eighty from this nation and forty from all other nations." (Hasan)
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ہم آخری امت ہیں اور سب سے پہلے حساب کے لیے بلائے جائیں گے، کہا جائے گا: امت اور اس کے نبی کہاں ہیں؟ تو ہم اول بھی ہیں اور آخر بھی ۔
It was narrated from Ibn Abbas that the Prophet ﷺ said: "We are the last of the nations, and the first to be brought to account. It will be said: Where is the unlettered nation and its Prophet? So we are the last and the first." (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٥٠٠، ومصباح الزجاجة: ١٥٣٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٦) (صحیح )
ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام مخلوق کو جمع کرے گا، تو محمد ﷺ کی امت کو سجدے کا حکم دے گا، وہ بڑی دیر تک اس کو سجدہ کرتے رہیں گے، پھر حکم ہوگا اپنے سروں کو اٹھاؤ ہم نے تمہاری تعداد کے مطابق تمہارے فدئیے جہنم سے کر دئیے ۔
It was narrated from Abu Burdah that his father said: "The Messenger of Allah ﷺ said: When Allah gathers all creatures on the Day of Resurrection, permission will be given to the nation of Muhammad to prostrate, so they will prostrate to Him for a long time. Then it will be said: "Raise your heads, for a certain number of you will go to Hell-fire and these will be your ransom from Hell." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجة، (تحفة الأشراف: ٩١١١، ومصباح الزجاجة: ١٥٣٦) (ضعیف جدا) (جبارہ بن المغلس ضعیف اور عبد الاعلی بن ابی المساور متروک راوی ہیں )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیشک یہ امت امت مرحومہ ہے (یعنی اس پر رحمت نازل کی گئی ہے) ، اس کا عذاب اسی کے ہاتھوں میں ہے، جب قیامت کا دن ہوگا تو ہر مسلمان کے حوالے ایک مشرک کیا جائے گا، اور کہا جائے گا: یہ تیرا فدیہ ہے جہنم سے ۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "This nation has been granted mercy (in the Hereafter) and its torment (in this world) is at the hands of one another. When the Day of Resurrection comes, each Muslim man will be given a man from among the idolaters and it will be said: This is your ransom from the Fire. (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٤٩، ومصباح الزجاجة: ١٥٣٧) (صحیح) (سند میں جبارہ و کثیر ضعیف ہیں لیکن صحیح مسلم میں ابو موسیٰ اشعری کی حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی سو رحمتیں ہیں، ان میں سے ایک رحمت کو تمام مخلوقات کے درمیان تقسیم کردیا ہے، اسی کی وجہ سے وہ ایک دوسرے پر رحم اور شفقت کرتے ہیں، اور اسی وجہ سے وحشی جانور اپنی اولاد پر رحم کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ننانوے رحمتیں محفوظ کر رکھی ہیں، ان کے ذریعے وہ قیامت کے دن اپنے بندوں پر رحم کرے گا ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: "Allah has one hundred (degrees of) mercy, of which He has shared one between all of creation, by virtue of which you show mercy and compassion towards one another and the wild animals show compassion towards their young. And He has kept back ninety-nine (degrees of) mercy by virtue of which He will show mercy to His slaves on the Day of Resurrection." (Sahih)
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ عزوجل نے جس دن آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، سو رحمتیں پیدا کیں، زمین میں ان سو رحمتوں میں سے ایک رحمت بھیجی، اسی کی وجہ سے ماں اپنے بچے پر رحم کرتی ہے، اور چرند و پرند جانور بھی ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں، اور ننانوے رحمتوں کو اس نے قیامت کے دن کے لیے اٹھا رکھا ہے، جب قیامت کا دن ہوگا، تو اللہ تعالیٰ ان رحمتوں کو پورا کرے گا ۔
It was narrated from Abu Saeed that the Messenger of Allah ﷺ said: "On the day when He created the heavens and the earth, Allah created one hundred (degrees of) mercy, of which He placed one on earth, by virtue of which mothers show compassion to their children and animals as well as the birds show compassion to one another. And He kept back ninety-nine (degrees of) mercy. When the Day of Resurrection comes, Allah will complete this mercy." (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٠٢٤، ومصباح الزجاجة: ١٥٣٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٥٥) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب اللہ عزوجل نے مخلوق کو پیدا کیا تو اپنے ہاتھ سے اپنے اوپر یہ لکھا کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "When Allah created the universe, He decreed for Himself: My mercy prevails over My wrath:" (Sahih)
معاذ بن جبل ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس گزرے اور میں ایک گدھے پر سوار تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: معاذ! کیا تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کا حق بندوں پر کیا ہے؟ اور بندوں کا حق اللہ تعالیٰ پر کیا ہے ؟ میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں، اور بندوں کا حق اللہ تعالیٰ پر یہ ہے کہ جب وہ ایسا کریں تو وہ ان کو عذاب نہ دے ۔
It was narrated that Muadh bin Jabal said: "The Messenger of Allah ﷺ passed by me when I was riding a donkey, and said: O Muadh, do you Allahs right over His is and what His slaves right over Allah is? I said: Allah and His Messenger know best: : The right of Allah over His slaves is that they should worship Him and not associate anything with Him. And the right of the slaves over Allah, if they do that, is that He should not punish them:" (Sahih)
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک غزوے میں شریک تھے کہ آپ کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے تو پوچھا: تم کون لوگ ہو ؟ انہوں نے کہا: ہم مسلمان ہیں، ان میں ایک عورت تنور میں ایندھن جھوک رہی تھی، اور اس کے ساتھ اس کا بیٹا بھی تھا، جب تنور کی آگ بھڑک اٹھی وہ اپنے بیٹے کو لے کر ہٹ گئی، اس نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں عورت نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، کیا اللہ سارے رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا نہیں ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کیوں نہیں وہ بولی: کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس سے زیادہ رحم نہیں کرے گا جتنا ماں اپنے بچے پر کرتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کیوں نہیں ؟ اس نے کہا: ماں تو اپنے بچے کو آگ میں نہیں ڈالتی، آپ ﷺ نے سر جھکا دیا، اور روتے رہے پھر اپنا سر اٹھایا، اور فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے انہی بندوں کو عذاب دے گا جو بہت سرکش و شریر ہیں، اور جو اللہ تعالیٰ کے باغی ہوتے ہیں اور لا إله إلا الله کہنے سے انکار کرتے ہیں ۔
It was narrated that Ibn Umar said: "We were with the Messenger of Allah ﷺ on one of his campaigns. He passed by some people and said: Who are these people? They said: We are Muslims. There was a woman putting wood in her oven, and a son of hers was with her. When the flames of the oven got higher, she moved him away. She came to the Prophet ﷺ and said: Are you the Messenger of Allah? ﷺ He said: Yes: She said: May my father and mother be ransomed for you. Is not Allah the Most Merciful of those who show mercy? He said: Yes indeed. She said: Is not Allah more Merciful than a mother to her child? He said: Yes indeed: She said: A mother would not throw her child into the fire. The Messenger of Allah ﷺ lowered his head and wept. Then he looked up at her and said: Allah does not punish any of His slaves except those who are defiant and rebellious, who rebel against Allah and refuse to say: La ilaha illallah:" (Maudu)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٧٣٩، ومصباح الزجاجة: ١٥٣٩) (موضوع) (سند میں اسماعیل بن یحییٰ متہم بالکذب ہے، اور عبد اللہ بن عمر العمری ضعیف )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جہنم میں کوئی نہیں جائے گا سوائے بدبخت کے لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! بدبخت کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جس نے کبھی اللہ تعالیٰ کی اطاعت نہیں کی، اور کوئی گناہ نہ چھوڑا ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: "No one will enter Hell except one who is doomed." It was said: "O Messenger of Allah, who is the one who is doomed?" He said: "The one who never does any act of obedience (towards Allah) and who never omitted any act of sin." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٩٧٤، ومصباح الزجاجة: ١٥٤٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٤٩) (ضعیف) (سند میں ابن لہیعہ ضعیف ہیں )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت: هو أهل التقوى وأهل المغفرة یعنی اللہ ہی سے ڈرنا چاہیئے اور وہی گناہ بخشنے کا اہل ہے (سورۃ المدثر: ٥٦ ) تلاوت فرمائی، اور فرمایا: اللہ عزوجل فرماتا ہے میں اس کے لائق ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے، اور میرے ساتھ کوئی اور معبود نہ بنایا جائے، تو جو میرے ساتھ کوئی دوسرا معبود بنانے سے بچے تو میں ہی اس کا اہل ہوں کہ اس کو بخش دوں دوسری سند اس سند سے بھی انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت: هو أهل التقوى وأهل المغفرة کے بارے میں کہ تمہارے رب نے فرمایا: میں ہی اس بات کا اہل ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے، میرے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کیا جائے، اور جو میرے ساتھ شریک کرنے سے بچے میں اہل ہوں اس بات کا کہ اسے بخش دوں ١ ؎۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ recited this Verse: "He (Allah) is the One, deserving that mankind should be afraid of, and should be dutiful to Him, and should not take any llah (god) along with Him, and He is the One Who forgives (sins)." Then he said: "Allah says I m the One who deserves to be feared, one no other god should be so appointed alongside Me. Whoever avoids appointing another god alongside Me, I am the One Who should forgive him. (Daif) Abul-Hasan Al-Qattán (narrated nothet chain): From Anas, that the Messenger of Allah ﷺ said concerning this Verse: “He (Allah) is the One, deserving that ,mankind should be afraid of, and should be dutiful to Him, and should not take any lid (god) along with Him, and He is the One Who forgives (sins).” The Messenger O Allah said: “Your Lord says: ‘I am the One Who deserves to be feared, so do not issociate anything else with Me. And I am the One Who forgives the one who avoids associating anything with Me.”
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/تفسیر القرآن ٧٠ (٣٣٢٨)، (تحفة الأشراف: ٤٣٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٤٢، ٢٤٣)، سنن الدارمی/الرقاق ١٦ (٢٧٦٦) (ضعیف) (سند میں سہیل بن عبد اللہ ضعیف ہیں )