Sunan Ibne-Majah

All 4,346 hadiths in order · Page 205 of 218

4078Sunan Ibne-Majah

فتنہ دجال حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کا نزول اور خروج یاجوج ماجوج۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تَقُومُ السَّاعَةُ، حَتَّى يَنْزِلَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا مُقْسِطًا، وَإِمَامًا عَدْلًا، فَيَكْسِرُ الصَّلِيبَ، وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ، وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ، وَيَفِيضُ الْمَالُ حَتَّى لَا يَقْبَلَهُ أَحَدٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک عیسیٰ بن مریم عادل حاکم اور منصف امام بن کر نازل نہ ہوں، وہ آ کر صلیب کو توڑیں گے، سور کو قتل کریں گے، اور جزیہ کو معاف کردیں گے، اور مال اس قدر زیادہ ہوگا کہ اسے کوئی قبول کرنے والا نہ ہوگا ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ P..B.U.H said: "The Hour will not begin until Eisa bin Maryam comes down as a just judge and a just ruler. He will break the cross, kill the pigs and abolish the Jizyah, and wealth will become so abundant that no one will accept it." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ١٠٢ (٢٢٢٢)، المظالم ٣١ (٢٤٧٦)، أحادیث الأنبیاء ٤٩ (٣٤٤٨، ٣٤٤٩)، صحیح مسلم/الإیمان ٧١ (١٥٥)، (تحفة الأشراف: ١٣١٣٥)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الملاحم ١٤ (٤٣٢٤)، سنن الترمذی/الفتن ٥٤ (٢٢٣٣)، مسند احمد (٢/٢٤٠، ٢٧٢) (صحیح )
4079Sunan Ibne-Majah

فتنہ دجال حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کا نزول اور خروج یاجوج ماجوج۔

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: تُفْتَحُ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ فَيَخْرُجُونَ كَمَا قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ سورة الأنبياء آية 96 فَيَعُمُّونَ الْأَرْضَ، وَيَنْحَازُ مِنْهُمُ الْمُسْلِمُونَ، حَتَّى تَصِيرَ بَقِيَّةُ الْمُسْلِمِينَ فِي مَدَائِنِهِمْ وَحُصُونِهِمْ، وَيَضُمُّونَ إِلَيْهِمْ مَوَاشِيَهُمْ، حَتَّى أَنَّهُمْ لَيَمُرُّونَ بِالنَّهَرِ فَيَشْرَبُونَهُ، حَتَّى مَا يَذَرُونَ فِيهِ شَيْئًا، فَيَمُرُّ آخِرُهُمْ عَلَى أَثَرِهِمْ، فَيَقُولُ قَائِلُهُمْ: لَقَدْ كَانَ بِهَذَا الْمَكَانِ مَرَّةً مَاءٌ، وَيَظْهَرُونَ عَلَى الْأَرْضِ، فَيَقُولُ قَائِلُهُمْ: هَؤُلَاءِ أَهْلُ الْأَرْضِ قَدْ فَرَغْنَا مِنْهُمْ، وَلَنُنَازِلَنَّ أَهْلَ السَّمَاءِ حَتَّى إِنَّ أَحَدَهُمْ لَيَهُزُّ حَرْبَتَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَتَرْجِعُ مُخَضَّبَةً بِالدَّمِ، فَيَقُولُونَ: قَدْ قَتَلْنَا أَهْلَ السَّمَاءِ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ، إِذْ بَعَثَ اللَّهُ دَوَابَّ كَنَغَفِ الْجَرَادِ، فَتَأْخُذُ بِأَعْنَاقِهِمْ فَيَمُوتُونَ مَوْتَ الْجَرَادِ، يَرْكَبُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، فَيُصْبِحُ الْمُسْلِمُونَ لَا يَسْمَعُونَ لَهُمْ حِسًّا، فَيَقُولُونَ: مَنْ رَجُلٌ يَشْرِي نَفْسَهُ وَيَنْظُرُ مَا فَعَلُوا، فَيَنْزِلُ مِنْهُمْ رَجُلٌ قَدْ وَطَّنَ نَفْسَهُ عَلَى أَنْ يَقْتُلُوهُ، فَيَجِدُهُمْ مَوْتَى فَيُنَادِيهِمْ أَلَا أَبْشِرُوا فَقَدْ هَلَكَ عَدُوُّكُمْ، فَيَخْرُجُ النَّاسُ، وَيَخْلُونَ سَبِيلَ مَوَاشِيهِمْ فَمَا يَكُونُ لَهُمْ رَعْيٌ إِلَّا لُحُومُهُمْ، فَتَشْكَرُ عَلَيْهَا كَأَحْسَنِ مَا شَكِرَتْ مِنْ نَبَاتٍ أَصَابَتْهُ قَطُّ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یاجوج و ماجوج کھول دئیے جائیں گے، پھر وہ باہر آئیں گے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:وهم من کل حدب ينسلون یہ لوگ ہر اونچی زمین سے دوڑتے آئیں گے (سورة الأنبياء: 96) پھر ساری زمین میں پھیل جائیں گے، اور مسلمان ان سے علاحدہ رہیں گے، یہاں تک کہ جو مسلمان باقی رہیں گے وہ اپنے شہروں اور قلعوں میں اپنے مویشیوں کو لے کر پناہ گزیں ہوجائیں گے، یہاں تک کہ یاجوج و ماجوج نہر سے گزریں گے، اس کا سارا پانی پی کر ختم کردیں گے، اس میں کچھ بھی نہ چھوڑیں گے، جب ان کے پیچھے آنے والوں کا وہاں پر گزر ہوگا تو ان میں کا کوئی یہ کہے گا کہ کسی زمانہ میں یہاں پانی تھا، اور وہ زمین پر غالب آجائیں گے، تو ان میں سے کوئی یہ کہے گا: ان اہل زمین سے تو ہم فارغ ہوگئے، اب ہم آسمان والوں سے لڑیں گے، یہاں تک کہ ان میں سے ایک اپنا نیزہ آسمان کی طرف پھینکے گا، وہ خون میں رنگا ہوا لوٹ کر گرے گا، پس وہ کہیں گے: ہم نے آسمان والوں کو بھی قتل کردیا، خیر یہ لوگ اسی حال میں ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ چند جانور بھیجے گا، جو ٹڈی کے کیڑوں کی طرح ہوں گے، جو ان کی گردنوں میں گھس جائیں گے، یہ سب کے سب ٹڈیوں کی طرح مرجائیں گے، ان میں سے ایک پر ایک پڑا ہوگا، اور جب مسلمان اس دن صبح کو اٹھیں گے، اور ان کی آہٹ نہیں سنیں گے تو کہیں گے: کوئی ایسا ہے جو اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر کے انہیں دیکھ کر آئے کہ یاجوج ماجوج کیا ہوئے؟ چناچہ مسلمانوں میں سے ایک شخص (قلعہ سے) ان کا حال جاننے کے لیے نیچے اترے گا، اور دل میں خیال کرے گا کہ وہ مجھ کو ضرور مار ڈالیں گے، خیر وہ انہیں مردہ پائے گا، تو مسلمانوں کو پکار کر کہے گا: سنو! خوش ہوجاؤ! تمہارا دشمن ہلاک ہوگیا، یہ سن کر لوگ نکلیں گے اور اپنے جانور چرنے کے لیے آزاد چھوڑیں گے، اور ان کے گوشت کے سوا کوئی چیز انہیں کھانے کے لیے نہ ملے گی، اس وجہ سے ان کا گوشت کھا کھا کر خوب موٹے تازے ہوں گے، جس طرح کبھی گھاس کھا کر موٹے ہوئے تھے ۔

It was narrated from Abu Saeed Al-Khudri that the said: "Go Messenger and Magog people will be set free and they will emerge as Allah says: "swoop(ing) down from every mound," They will spread throughout the earth, and the Muslims will flee from them until the remainder of the Muslims are in their cities and fortresses, taking their flocks them. They will pass by a river and drink from it, until they leave nothing behind, and the last of them will follow in their footsteps and one of them will say: There was once water in this place. They will prevail over the earth, and we have finished them off. Now let us fight the people of heaven! Then one of them will throw his spear towards the sky and it will come back down smeared with blood. And they will say: We have killed the people of heaven. While they are like that, Allah will send a worm like the worm that is found in the noses of sheep, which will penetrate their necks and they will die like locusts, one on top of another. In the morning the Muslims will not hear any sound from them, and they will say: Who will sell his soul for the sake of Allah and see what they are doing? A man will go down, having prepared himself to be killed by them, and he will find them dead, so he will call out to them: Be of good cheer, for your enemy is dead! Then the people will come out and will let their flocks loose, but they will not have anything to graze on except their flesh, and they will become very fat as if they were grazing on the best vegetation they ever found. (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٢٩٩، ومصباح الزجاجة: ١٤٣٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٧٧) (حسن صحیح )
4080Sunan Ibne-Majah

فتنہ دجال حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کا نزول اور خروج یاجوج ماجوج۔

حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ يَحْفِرُونَ كُلَّ يَوْمٍ، حَتَّى إِذَا كَادُوا يَرَوْنَ شُعَاعَ الشَّمْسِ، قَالَ الَّذِي عَلَيْهِمْ: ارْجِعُوا فَسَنَحْفِرُهُ غَدًا، فَيُعِيدُهُ اللَّهُ أَشَدَّ مَا كَانَ حَتَّى إِذَا بَلَغَتْ مُدَّتُهُمْ، وَأَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَبْعَثَهُمْ عَلَى النَّاسِ، حَفَرُوا حَتَّى إِذَا كَادُوا يَرَوْنَ شُعَاعَ الشَّمْسِ، قَالَ الَّذِي عَلَيْهِمْ: ارْجِعُوا فَسَتَحْفِرُونَهُ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى، وَاسْتَثْنَوْا فَيَعُودُونَ إِلَيْهِ وَهُوَ كَهَيْئَتِهِ حِينَ تَرَكُوهُ، فَيَحْفِرُونَهُ وَيَخْرُجُونَ عَلَى النَّاسِ، فَيُنْشِفُونَ الْمَاءَ وَيَتَحَصَّنُ النَّاسُ مِنْهُمْ فِي حُصُونِهِمْ، فَيَرْمُونَ بِسِهَامِهِمْ إِلَى السَّمَاءِ، فَتَرْجِعُ عَلَيْهَا الدَّمُ الَّذِي اجْفَظَّ، فَيَقُولُونَ: قَهَرْنَا أَهْلَ الْأَرْضِ، وَعَلَوْنَا أَهْلَ السَّمَاءِ، فَيَبْعَثُ اللَّهُ نَغَفًا فِي أَقْفَائِهِمْ فَيَقْتُلُهُمْ بِهَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّ دَوَابَّ الْأَرْضِ لَتَسْمَنُ وَتَشْكَرُ شَكَرًا مِنْ لُحُومِهِمْ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یاجوج و ماجوج ہر روز (اپنی دیوار) کھودتے ہیں یہاں تک کہ جب قریب ہوتا ہے کہ سورج کی روشنی ان کو دکھائی دے تو جو شخص ان کا سردار ہوتا ہے وہ کہتا ہے: اب لوٹ چلو (باقی) کل کھودیں گے، پھر اللہ تعالیٰ اسے ویسی ہی مضبوط کردیتا ہے جیسی وہ پہلے تھی، یہاں تک کہ جب ان کی مدت پوری ہوجائے گی، اور اللہ تعالیٰ کو ان کا خروج منظور ہوگا، تو وہ (عادت کے مطابق) دیوار کھودیں گے جب کھودتے کھودتے قریب ہوگا کہ سورج کی روشنی دیکھیں تو اس وقت ان کا سردار کہے گا کہ اب لوٹ چلو، انشاء اللہ کل کھودیں گے، اور انشاء اللہ کا لفظ کہیں گے، چناچہ (اس دن) وہ لوٹ جائیں گے، اور دیوار اسی حال پر رہے گی، جیسے وہ چھوڑ گئے تھے، پھر وہ صبح آ کر اسے کھودیں گے اور اسے کھود کر باہر نکلیں گے، اور سارا پانی پی کر ختم کردیں گے، اور لوگ (اس وقت) بھاگ کر اپنے قلعوں میں محصور ہوجائیں گے، یہ لوگ (زمین پر پھیل کر) آسمان کی جانب اپنے تیر ماریں گے، تو ان کے تیر خون میں لت پت ان کے پاس لوٹیں گے، وہ کہیں گے کہ ہم نے زمین والوں کو تو مغلوب کیا، اور آسمان والوں پر بھی غالب ہوئے، پھر اللہ تعالیٰ ان کی گدیوں (گردنوں) میں کیڑے پیدا فرمائے گا جو انہیں مار ڈالیں گے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! زمین کے جانور ان کا گوشت اور چربی کھا کر خوب موٹے ہوں گے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Gog and Magog people dig every day until, when dig every the rays of the sun, the one in charge of them says: Go back and we will dig it tomorrow." Then Allah puts it back, stronger than it was before. (This will continue) until, when their time has come, and Allah wants to send them against the people,they will dig until they can almost see the rays of the sun, then the one who is in charge of them will say: "Go back, we will dig it tomorrow "If Allah wills". Then they will come out to the people,and they will drink all the water. The people will fortify themselves against them in their fortresses. They will shoot their arrows towards the sky and they will come back with blood on them,and they will say: "We have defeated the people of earth and dominated the people of heaven," Then Allah will send a worm in the napes of their necks and kill them thereby. The Messenger of Allah ﷺ said: "By the One in Whose Hand is my soul, the beasts of the earth will grow fat on their flesh." (sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: حالانکہ گائے بیل بکری اونٹ وغیرہ چوپائے گوشت نہیں کھاتے مگر چارہ نہ ہونے کی وجہ سے یاجوج کا گوشت کھائیں گے اور کھا کر خوب موٹے ہوجائیں گے، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ یاجوج قیامت تک اس سد (باندھ) سے رکے رہیں گے، جب ان کے چھوٹنے کا وقت آئے گا تو سد (باندھ) ٹوٹ جائے گا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ یاجوج و ماجوج محض صحرائی اور وحشی ہوں گے جب تو تیر و کمان ان کا ہتھیار ہوگا، اور جہالت کی وجہ سے آسمان پر تیر ماریں گے وہ یہ نہیں جانیں گے کہ آسمان زمین سے اتنی دور ہے کہ برسوں تک بھی اگر تیر ان کا چلا جائے تو وہاں تک مشکل سے پہنچے گا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/التفسیر ١٩ (٣١٥٣)، (تحفة الأشراف: ١٤٦٧٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٥١٠، ٥١١) (صحیح )
4081Sunan Ibne-Majah

فتنہ دجال حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کا نزول اور خروج یاجوج ماجوج۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ، حَدَّثَنِي جَبَلَةُ بْنُ سُحَيْمٍ، عَنْ مُؤْثِرِ بْنِ عَفَازَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: لَمَّا كَانَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَقِيَ إِبْرَاهِيمَ، وَمُوسَى، وَعِيسَى فَتَذَاكَرُوا السَّاعَةَ، فَبَدَءُوا بِإِبْرَاهِيمَ فَسَأَلُوهُ عَنْهَا، فَلَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ مِنْهَا عِلْمٌ، ثُمَّ سَأَلُوا مُوسَى، فَلَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ مِنْهَا عِلْمٌ، فَرُدَّ الْحَدِيثُ إِلَى عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ، فَقَالَ: قَدْ عُهِدَ إِلَيَّ فِيمَا دُونَ وَجْبَتِهَا، فَأَمَّا وَجْبَتُهَا فَلَا يَعْلَمُهَا إِلَّا اللَّهُ، فَذَكَرَ خُرُوجَ الدَّجَّالِ، قَالَ: فَأَنْزِلُ فَأَقْتُلُهُ، فَيَرْجِعُ النَّاسُ إِلَى بِلَادِهِمْ فَيَسْتَقْبِلُهُمْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ، وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ، فَلَا يَمُرُّونَ بِمَاءٍ إِلَّا شَرِبُوهُ، وَلَا بِشَيْءٍ إِلَّا أَفْسَدُوهُ، فَيَجْأَرُونَ إِلَى اللَّهِ، فَأَدْعُو اللَّهَ أَنْ يُمِيتَهُمْ فَتَنْتُنُ الْأَرْضُ مِنْ رِيحِهِمْ، فَيَجْأَرُونَ إِلَى اللَّهِ، فَأَدْعُو اللَّهَ، فَيُرْسِلُ السَّمَاءَ بِالْمَاءِ فَيَحْمِلُهُمْ فَيُلْقِيهِمْ فِي الْبَحْرِ، ثُمَّ تُنْسَفُ الْجِبَالُ، وَتُمَدُّ الْأَرْضُ مَدَّ الْأَدِيمِ، فَعُهِدَ إِلَيَّ مَتَى كَانَ ذَلِكَ كَانَتِ السَّاعَةُ مِنَ النَّاسِ، كَالْحَامِلِ الَّتِي لَا يَدْرِي أَهْلُهَا مَتَى تَفْجَؤُهُمْ بِوِلَادَتِهَا، قَالَ الْعَوَّامُ: وَوُجِدَ تَصْدِيقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى حَتَّى إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ سورة الأنبياء آية 96، وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ اسراء (معراج) کی رات رسول اللہ ﷺ نے ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) سے ملاقات کی، تو سب نے آپس میں قیامت کا ذکر کیا، پھر سب نے پہلے ابراہیم (علیہ السلام) سے قیامت کے متعلق پوچھا، لیکن انہیں قیامت کے متعلق کچھ علم نہ تھا، پھر سب نے موسیٰ (علیہ السلام) سے پوچھا، تو انہیں بھی قیامت کے متعلق کچھ علم نہ تھا، پھر سب نے عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا: قیامت کے آ دھمکنے سے کچھ پہلے (دنیا میں جانے کا) مجھ سے وعدہ لیا گیا ہے، لیکن قیامت کے آنے کا صحیح علم صرف اللہ ہی کو ہے (کہ وہ کب قائم ہوگی) ، پھر عیسیٰ (علیہ السلام) نے دجال کے ظہور کا تذکرہ کیا، اور فرمایا: میں (زمین پر) اتر کر اسے قتل کروں گا، پھر لوگ اپنے اپنے شہروں (ملکوں) کو لوٹ جائیں گے، اتنے میں یاجوج و ماجوج ان کے سامنے آئیں گے، اور ہر بلندی سے وہ چڑھ دوڑیں گے، وہ جس پانی سے گزریں گے اسے پی جائیں گے، اور جس چیز کے پاس سے گزریں گے، اسے تباہ و برباد کردیں گے، پھر لوگ اللہ سے دعا کرنے کی درخواست کریں گے، میں اللہ سے دعا کروں گا کہ انہیں مار ڈالے (چنانچہ وہ سب مرجائیں گے) ان کی لاشوں کی بو سے تمام زمین بدبودار ہوجائے گی، لوگ پھر مجھ سے دعا کے لیے کہیں گے تو میں پھر اللہ سے دعا کروں گا، تو اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش نازل فرمائے گا جو ان کی لاشیں اٹھا کر سمندر میں بہا لے جائے گی، اس کے بعد پہاڑ ریزہ ریزہ کر دئیے جائیں گے، اور زمین چمڑے کی طرح کھینچ کر دراز کردی جائے گی، پھر مجھے بتایا گیا ہے کہ جب یہ باتیں ظاہر ہوں تو قیامت لوگوں سے ایسی قریب ہوگی جس طرح حاملہ عورت کے حمل کا زمانہ پورا ہوگیا ہو، اور وہ اس انتظار میں ہو کہ کب ولادت کا وقت آئے گا، اور اس کا صحیح وقت کسی کو معلوم نہ ہو۔ عوام (عوام بن حوشب) کہتے ہیں کہ اس واقعہ کی تصدیق اللہ کی کتاب میں موجود ہے: حتى إذا فتحت يأجوج ومأجوج وهم من کل حدب ينسلون یہاں تک کہ جب یاجوج و ماجوج کھول دئیے جائیں گے، تو پھر وہ ہر ایک ٹیلے پر سے چڑھ دوڑیں گے (سورة الأنبياء: 96) ۔

It was narrated that Abdullah bin Masud said: "On the night on which the Messenger of Allah ﷺ was taken on the Night Journey (Isra), he met Ibrahim, Musa and Eisa, and they discussed the Hour. They started with Ibrahim, and asked him about it, but he did not have any knowledge of it. Then they asked Musa, and he did not have any knowledge of it. Then they asked Eisa bin Maryam, and he said: I have been assigned to some tasks before it happens. As for as when it will take place, no one knows that except Allah. Then he mentioned Dajjal and said: I will descend and kill him, then the people will return to their own lands and will be confronted with Gog and Magog people, who will: "swoop down from every mound."They will not pass by any water but they will drink it, (and they will not pass) by anything but they will spoil it. They (the people) will beseech Allah, and I will pray to Allah to kill them. The earth will be filled with their stench and (the people) will beseech Allah and I will pray to Allah, then the sky will send down rain that will carry them and through them in the sea.Then the mountains will turn dust and the earth will be stretched out like a hide. I have been promised that when that the Hour will come upon the peoples like a pregnant woman whose family does not know when she will suddenly give birth.” (One of the narrators) ‘Awwâm said: Confirmation of that is found in the Book of Allah, where Allah says: “Until, when Gog and Magog people are let loose (from their bather), and they swoop down from every mound.” (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٥٩٠، ومصباح الزجاجة: ١٤٤٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٧٥) (ضعیف) (مؤثر بن عفازہ مقبول عند المتابعہ ہیں، متابعت کی نہ ہونے وجہ سے یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن بعض ٹکڑے صحیح مسلم میں ہیں )
4082Sunan Ibne-Majah

حضرت مہدی کی تشریف آوری۔

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ أَقْبَلَ فِتْيَةٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ، فَلَمَّا رَآهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اغْرَوْرَقَتْ عَيْنَاهُ وَتَغَيَّرَ لَوْنُهُ، قَالَ: فَقُلْتُ: مَا نَزَالُ نَرَى فِي وَجْهِكَ شَيْئًا نَكْرَهُهُ، فَقَالَ: إِنَّا أَهْلُ بَيْتٍ، اخْتَارَ اللَّهُ لَنَا الْآخِرَةَ عَلَى الدُّنْيَا، وَإِنَّ أَهْلَ بَيْتِي سَيَلْقَوْنَ بَعْدِي بَلَاءً وَتَشْرِيدًا وَتَطْرِيدًا، حَتَّى يَأْتِيَ قَوْمٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ مَعَهُمْ رَايَاتٌ سُودٌ، فَيَسْأَلُونَ الْخَيْرَ فَلَا يُعْطَوْنَهُ، فَيُقَاتِلُونَ فَيُنْصَرُونَ، فَيُعْطَوْنَ مَا سَأَلُوا، فَلَا يَقْبَلُونَهُ حَتَّى يَدْفَعُوهَا إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي فَيَمْلَؤُهَا قِسْطًا كَمَا مَلَئُوهَا جَوْرًا، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَلْيَأْتِهِمْ وَلَوْ حَبْوًا عَلَى الثَّلْجِ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اتنے میں بنی ہاشم کے چند نوجوان آئے، جب نبی اکرم ﷺ نے انہیں دیکھا، تو آپ کی آنکھیں بھر آئیں، اور آپ کا رنگ بدل گیا، میں نے عرض کیا: ہم آپ کے چہرے میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی ایسی بات ضرور دیکھتے ہیں جسے ہم اچھا نہیں سمجھتے (یعنی آپ کے رنج سے ہمیشہ صدمہ ہوتا ہے) ، آپ ﷺ نے فرمایا: ہم اس گھرانے والے ہیں جن کے لیے اللہ نے دنیا کے مقابلے آخرت پسند کی ہے، میرے بعد بہت جلد ہی میرے اہل بیت مصیبت، سختی، اخراج اور جلا وطنی میں مبتلا ہوں گے، یہاں تک کہ مشرق کی طرف سے کچھ لوگ آئیں گے، جن کے ساتھ سیاہ جھنڈے ہوں گے، وہ خیر (خزانہ) طلب کریں گے، لوگ انہیں نہ دیں گے تو وہ لوگوں سے جنگ کریں گے، اور (اللہ کی طرف سے) ان کی مدد ہوگی، پھر وہ جو مانگتے تھے وہ انہیں دیا جائے گا، (یعنی لوگ ان کی حکومت پر راضی ہوجائیں گے اور خزانہ سونپ دیں گے) ، یہ لوگ اس وقت اپنے لیے حکومت قبول نہ کریں گے یہاں تک کہ میرے اہل بیت میں سے ایک شخص کو یہ خزانہ اور حکومت سونپ دیں گے، وہ شخص زمین کو اس طرح عدل سے بھر دے گا جس طرح لوگوں نے اسے ظلم سے بھر دیا تھا، لہٰذا تم میں سے جو شخص اس زمانہ کو پائے وہ ان لوگوں کے ساتھ (لشکر میں) شریک ہو، اگرچہ اسے گھٹنوں کے بل برف پر کیوں نہ چلنا پڑے ۔

It was narrated that Abdullah said: "While we were with the Messenger of Allah ﷺ some youngsters from Banu Hashim came along. When the Prophet ﷺ saw them, his eyes filled with tears and his color changed. I said: We still see something in your face that we do like (to see). He said: We are members of a Household for whom Allah has chosen the Hereafter over this world. The people of my Household will face calamity, expulsion and exile after I am gone, until some peeple will come from the east carrying black banners. They will ask for something good but will not be given it. Then they will fight and will be victorious, then they will be given what they wanted, but they will not accept it and will give leadership to a man from my family. Then they will fill it with justice just as it was filled with injustice. Whoever among you lives to see that, let him go to them even if he has to crawl over snow. (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٤٦٢، ومصباح الزجاجة: ١٤٤١) (ضعیف) (سند میں یزید بن أبی زیاد ضعیف ہیں )
4083Sunan Ibne-Majah

حضرت مہدی کی تشریف آوری۔

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ الْعُقَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ، عَنْ أَبِي صِدِّيقٍ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَكُونُ فِي أُمَّتِي الْمَهْدِيُّ، إِنْ قُصِرَ فَسَبْعٌ وَإِلَّا فَتِسْعٌ، فَتَنْعَمُ فِيهِ أُمَّتِي نِعْمَةً لَمْ يَنْعَمُوا مِثْلَهَا قَطُّ، تُؤْتَى أُكُلَهَا وَلَا تَدَّخِرُ مِنْهُمْ شَيْئًا، وَالْمَالُ يَوْمَئِذٍ كُدُوسٌ، فَيَقُومُ الرَّجُلُ فَيَقُولُ: يَا مَهْدِيُّ أَعْطِنِي، فَيَقُولُ: خُذْ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میری امت میں مہدی ہوں گے، اگر وہ دنیا میں کم رہے تو بھی سات برس تک ضرور رہیں گے، ورنہ نو برس رہیں گے، ان کے زمانہ میں میری امت اس قدر خوش حال ہوگی کہ اس سے پہلے کبھی نہ ہوئی ہوگی، زمین کا یہ حال ہوگا کہ وہ اپنا سارا پھل اگا دے گی، اس میں سے کچھ بھی اٹھا نہ رکھے گی، اور ان کے زمانے میں مال کا ڈھیر لگا ہوگا، تو ایک شخص کھڑا ہوگا اور کہے گا: اے مہدی! مجھے کچھ دیں، وہ جواب دیں گے: لے لو (اس ڈھیر میں سے جتنا جی چاہے) ١ ؎۔

It was narrated from Abu Saeed Al-Khudri that the Prophet ﷺ said: "The Mahdi will be among my nation. If he lives for a short period, it will be seven, and if he lives for a long period, it will be nine, during which my nation will enjoy a time of ease such as it has never enjoyed. The land will bring forth its yield and will not hold back anything, and wealth at that time will be piled up. A man will stand up and say: O Mahdi, give me! He will say: Take." (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: مہدی کے معنی لغت میں ہدایت پایا ہوا کے ہیں، اور اسی سے ہیں مہدی آخرالزمان، زرکشی کہتے ہیں کہ یہ وہ مہدی ہیں، جو عیسیٰ (علیہ السلام) کا زمانہ پائیں گے اور ان کے ساتھ نماز پڑھیں گے، اور قسطنطنیہ کو نصاریٰ سے چھین لیں گے اور عرب و عجم کے مالک ہوجائیں گے اور زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے اور مسجد حرام میں رکن اور مقام ابراہیم کے درمیان ان سے بیعت کی جائے گی۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الفتن ٥٣ (٢٢٣٢)، (تحفة الأشراف: ٣٩٧٦)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/المھدي ١ (٤٢٨٥)، مسند احمد (٣/٢١، ٢٦) (حسن) (سند میں زید ا لعمی ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حسن ہے )
4084Sunan Ibne-Majah

حضرت مہدی کی تشریف آوری۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَأَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْأَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَقْتَتِلُ عِنْدَ كَنْزِكُمْ ثَلَاثَةٌ، كُلُّهُمُ ابْنُ خَلِيفَةٍ، ثُمَّ لَا يَصِيرُ إِلَى وَاحِدٍ مِنْهُمْ، ثُمَّ تَطْلُعُ الرَّايَاتُ السُّودُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ، فَيَقْتُلُونَكُمْ قَتْلًا لَمْ يُقْتَلْهُ قَوْمٌ، ثُمَّ ذَكَرَ شَيْئًا لَا أَحْفَظُهُ، فَقَالَ: فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَبَايِعُوهُ، وَلَوْ حَبْوًا عَلَى الثَّلْجِ، فَإِنَّهُ خَلِيفَةُ اللَّهِ الْمَهْدِيُّ.

ثوبان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارے ایک خزانے کے پاس تین آدمی باہم لڑائی کریں گے، ان میں سے ہر ایک خلیفہ کا بیٹا ہوگا، لیکن ان میں سے کسی کو بھی وہ خزانہ میسر نہ ہوگا، پھر مشرق کی طرف سے کالے جھنڈے نمودار ہوں گے، اور وہ تم کو ایسا قتل کریں گے کہ اس سے پہلے کسی نے نہ کیا ہوگا، پھر آپ ﷺ نے کچھ اور بھی بیان فرمایا جسے میں یاد نہ رکھ سکا، اس کے بعد آپ نے فرمایا: لہٰذا جب تم اسے ظاہر ہوتے دیکھو تو جا کر اس سے بیعت کرو اگرچہ گھٹنوں کے بل برف پر گھسٹ کر جانا پڑے کیونکہ وہ اللہ کا خلیفہ مہدی ہوگا ۔

It was narrated from Thawban that the Messenger of Allah ﷺ said: "Three will fight one another for your treasure, each one of them the son of a caliph,but none of them will gain it. Then the black banners will d th wil comefrom the east, an ey kill you in an unprecedented manner." Then he mentioned something that I do not I remember, then he said: "When you see them, then pledge your allegiance to them even if you have to crawl over the snow, for that is the caliph of Allah, Mahdi." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢١١١، ومصباح الزجاجة: ١٤٤٢) (ضعیف) (سند میں ابوقلابہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، اس لئے یہ ضعیف ہے لیکن حدیث کا معنی ابن ماجہ کی ابن مسعود ؓ سے مروی حدیث میں ہے، اس حدیث میں فإنه خليفة الله المهدي کا لفظ صحیح نہیں ہے، جس کی روایت میں ابن ماجہ یہاں منفرد ہیں، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٨٥ )
4085Sunan Ibne-Majah

حضرت مہدی کی تشریف آوری۔

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، حَدَّثَنَا يَاسِينُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمَهْدِيُّ مِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ، يُصْلِحُهُ اللَّهُ فِي لَيْلَةٍ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مہدی ہم اہل بیت میں سے ہوگا، اور اللہ تعالیٰ ایک ہی رات میں ان کو صالح بنا دے گا ۔

It was narrated from ‘Ali that the Messenger of Allah ﷺ Said: “Mahdi is one of us, the people of the Household. Allah rectifying him in a single night.” (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٢٧٠، ومصباح الزجاجة: ١٤٤٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٨٤) (حسن) (ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٢٣٧ )
4086Sunan Ibne-Majah

حضرت مہدی کی تشریف آوری۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمَلِيحِ الرَّقِّيُّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ بَيَانٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ نُفَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ أُمِّ سَلَمَةَ، فَتَذَاكَرْنَا الْمَهْدِيَّ، فَقَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: الْمَهْدِيُّ مِنْ وَلَدِ فَاطِمَةَ.

سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ ہم ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کے پاس تھے، ہم نے مہدی کا تذکرہ کیا، تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ مہدی فاطمہ کی اولاد میں سے ہوں گے ۔

It was narrated that Saeed bin Musayyab said: "We were with Umm Salamah and we were discussing Mahdi. She said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: "Mahdi will be one of the descendents of Fatimah." (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/المھدي ١ (٤٢٨٤)، (تحفة الأشراف: ١٨١٥٣) (صحیح )
4087Sunan Ibne-Majah

حضرت مہدی کی تشریف آوری۔

حَدَّثَنَا هَدِيَّةُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ الْيَمَامِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: نَحْنُ وَلَدَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، سَادَةُ أَهْلِ الْجَنَّةِ، أَنَا، وَحَمْزَةُ، وَعَلِيٌّ، وَجَعْفَرٌ، وَالْحَسَنُ، وَالْحُسَيْنُ، وَالْمَهْدِيُّ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ہم عبدالمطلب کی اولاد ہیں، اور اہل جنت کے سردار ہیں، یعنی: میں، حمزہ، علی، جعفر، حسن، حسین اور مہدی ۔

It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: We, the sons of Abdul-Muttalib, will be the leaders of the people of Paradise: Myself, Hazmah. Ali, [aTar , Hasan, Husain and Mahdi." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٩٥، ومصباح الزجاجة: ١٤٤٤) (موضوع) (علی بن زیاد ضعیف اور سعد بن عبد الحمید صدوق ہیں، لیکن ان کے یہاں غلط احادیث ہیں، اور عکرمہ بن عمار صدوق ہیں غلطی کرتے ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٤٦٨٨ )
4088Sunan Ibne-Majah

حضرت مہدی کی تشریف آوری۔

حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى الْمِصْرِيُّ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ دَاوُدَ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَمْرِو بْنِ جَابِرٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنَ جَزْءٍ الزَّبِيدِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَخْرُجُ نَاسٌ مِنَ الْمَشْرِقِ، فَيُوَطِّئُونَ لِلْمَهْدِيِّيَعْنِي: سُلْطَانَهُ.

عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کچھ لوگ مشرق (پورب) کی جانب سے نکلیں گے جو مہدی کی حکومت کے لیے راستہ ہموار کریں گے ۔

It is narrated from Abdullah bin Harith bin jaz Az-zabidi that the Messenger of Allah ﷺ said :People will come from the east,c paving the way pf Mehdi , meaning for his rule. (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٢٣٧، ومصباح الزجاجة: ١٤٤٥) (ضعیف) (سند میں عمرو بن جابر الحضرمی اور ابن لہیعہ ضعیف ہیں )
4089Sunan Ibne-Majah

بڑی بڑی لڑائیاں

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ، قَالَ: مَالَ مَكْحُولٌ، وَابْنُ أَبِي زَكَرِيَّا: إِلَى خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، وَمِلْتُ مَعَهُمَا فَحَدَّثَنَا، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، قَالَ: قَالَ لِي جُبَيْرٌ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَى، ذِي مِخْمَرٍ، وَكَانَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُمَا، فَسَأَلَهُ عَنِ الْهُدْنَةِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: سَتُصَالِحُكُمْ الرُّومُ صُلْحًا آمِنًا، ثُمَّ تَغْزُونَ أَنْتُمْ وَهُمْ عَدُوًّا، فَتَنْتَصِرُونَ وَتَغْنَمُونَ وَتَسْلَمُونَ، ثُمَّ تَنْصَرِفُونَ حَتَّى تَنْزِلُوا بِمَرْجٍ ذِي تُلُولٍ، فَيَرْفَعُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الصَّلِيبِ الصَّلِيبَ، فَيَقُولُ: غَلَبَ الصَّلِيبُ، فَيَغْضَبُ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَيَقُومُ إِلَيْهِ فَيَدُقُّهُ، فَعِنْدَ ذَلِكَ تَغْدِرُ الرُّومُ وَيَجْتَمِعُونَ لِلْمَلْحَمَةِ. حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ، وَزَادَ فِيهِ: فَيَجْتَمِعُونَ لِلْمَلْحَمَةِ، فَيَأْتُونَ حِينَئِذٍ تَحْتَ ثَمَانِينَ غَايَةٍ تَحْتَ كُلِّ غَايَةٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا.

حسان بن عطیہ کہتے ہیں کہ مکحول اور ابن ابی زکریا، خالد بن معدان کی طرف مڑے، اور میں بھی ان کے ساتھ مڑا، خالد نے جبیر بن نفیر کے واسطہ سے بیان کیا کہ جبیر نے مجھ سے کہا کہ تم ہمارے ساتھ ذی مخمر ؓ کے پاس چلو، جو نبی اکرم ﷺ کے صحابہ میں سے تھے، چناچہ میں ان دونوں کے ہمراہ چلا، ان سے صلح کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا ہے: عنقریب ہی روم والے تم سے ایک پر امن صلح کریں گے، اور تمہارے ساتھ مل کر دشمن سے لڑیں گے، پھر تم فتح حاصل کرو گے، اور بہت سا مال غنیمت ہاتھ آئے گا، اور تم لوگ سلامتی کے ساتھ جنگ سے لوٹو گے یہاں تک کہ تم ایک تروتازہ اور سرسبز مقام پر جہاں ٹیلے وغیرہ ہوں گے، اترو گے، وہاں صلیب والوں یعنی رومیوں میں سے ایک شخص صلیب بلند کرے گا، اور کہے گا: صلیب غالب آگئی، مسلمانوں میں سے ایک شخص غصے میں آئے گا، اور اس کے پاس جا کر صلیب توڑ دے گا، اس وقت رومی عہد توڑ دیں گے، اور سب جنگ کے لیے جمع ہوجائیں گے ۔

It was narrated that Jubair bin Nufair said: Zubair said to me: Lets go to Dhu Mikhmar, who was a man from among the Companions of the Prophet ﷺ : SoI went with them and he asked him about the peace treaty (with !heRomans). He said: I heard the Prophet ﷺ i/i! say: "The Romans will enter into a peace treaty with you, then you and they will fight one anotheras enemies, and you will be victorious; you will collect the spoils of war and be safe. Then you will come back until you will stop in a meadow with many hillocks. A man from among the people of the Cross will raise the Cross and will say: The Cross has prevailed: Then a man among the muslims will become angry and will go and break the Cross. Then the Romans will prove treacherous (breaking the treaty) (and will gather) for the fierce battle." (Sahih) Another chain with a similar report to which he added: "They will gather for the fierce battle, and at that time they will come with eighty banners, under each of which will be twelve thousand troops."

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نصاریٰ کی شان و شوکت اور سلطنت قیامت تک باقی رہے گی یعنی مہدی (علیہ السلام) کے وقت تک، دوسری حدیث میں ہے کہ قیامت نہیں قائم ہوگی یہاں تک کہ اکثر لوگ دنیا کے نصاریٰ ہوں گے، یہ حدیث بڑی دلیل ہے آپ کی نبوت کی کیونکہ یہ پیشین گوئی آپ کی بالکل سچی نکلی، کئی سو برس سے نصاریٰ کا برابر عروج ہو رہا ہے، اور ہر ایک ملک میں ان کا مذہب پھیلتا جاتا ہے، دنیا کے چاروں حصوں میں یا ان کی حکومت قائم ہوگئی ہے، یا ان کے زیر اثر سلطنتیں قائم ہیں، اور اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ قیامت کے قریب مسلمانوں کا بادشاہ نصاریٰ کی ایک قوم کے ساتھ مل کر تیسری سلطنت سے لڑے گا اور فتح پائے گا، پھر صلیب پر تکرار ہو کر سب نصاریٰ مل جائیں گے اور متفق ہو کر مسلمانوں سے مقابلہ کریں گے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٥٤٧، ومصباح الزجاجة: ١٤٤٦)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجہاد ١٦٨ (٢٧٦٧)، والملاحم ٢ (٤٢٩٣) (صحیح ) اس سند سے بھی حسان بن عطیہ سے اسی طرح مروی ہے، اس میں اتنا زیادہ ہے: وہ (نصاریٰ مسلمانوں سے) لڑنے کے لیے اکٹھے ہوجائیں گے، اس وقت اسی جھنڈوں کی سر کردگی میں آئیں گے، اور ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار فوج ہوگی ١ ؎۔ تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٥٤٧، ومصباح الزجاجة: ١٤٤٧ )
4090Sunan Ibne-Majah

بڑی بڑی لڑائیاں

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاتِكَةِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَبِيبٍ الْمُحَارِبِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا وَقَعَتِ الْمَلَاحِمُ، بَعَثَ اللَّهُ بَعْثًا مِنَ الْمَوَالِي هُمْ أَكْرَمُ الْعَرَبِ فَرَسًا، وَأَجْوَدُهُ سِلَاحًا، يُؤَيِّدُ اللَّهُ بِهِمُ الدِّينَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب بڑی بڑی جنگیں ہونے لگیں گی، تو اللہ تعالیٰ موالی (جن کو عربوں نے آزاد کیا ہے) میں سے ایک لشکر اٹھائے گا، جو عربوں سے زیادہ اچھے سوار ہوں گے اور ان سے بہتر ہتھیار رکھتے ہوں گے، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ دین کی مدد فرمائے گا ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "When the fierce battles take place, Allah will send a troop of freed slaves who will be the best Arab horsemen and the best armed, with whom Allah will support His religion." (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٣٤٧٨، ومصباح الزجاجة: ١٤٤٨) (حسن )
4091Sunan Ibne-Majah

بڑی بڑی لڑائیاں

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَتُقَاتِلُونَ جَزِيرَةَ الْعَرَبِ فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ، ثُمَّ تُقَاتِلُونَ الرُّومَ فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ، ثُمَّ تُقَاتِلُونَ الدَّجَّالَ فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ، قَالَ جَابِرٌ: فَمَا يَخْرُجُ الدَّجَّالُ حَتَّى تُفْتَحَ الرُّومُ.

جابر بن سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ نافع بن عتبہ بن ابی وقاص ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم عنقریب جزیرہ عرب والوں سے جنگ کرو گے، اللہ تعالیٰ اس پر فتح دے گا، پھر تم رومیوں سے جنگ کرو گے، ان پر بھی اللہ تعالیٰ فتح عنایت فرمائے گا، پھر تم دجال سے جنگ کرو گے، اللہ تعالیٰ اس پر فتح دے گا ۔ جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ جب تک روم فتح نہ ہوگا، دجال کا ظہور نہ ہوگا۔

It was narrated from Jabir bin Samrah, that Nafi bin Utbah bin Abu Waqqas narrated that the Prophet ﷺ said: You will fight the Arabian Peninsula and victory will be granted by Allah. Then you will fight the Romans and victory will be granted (by Allah). Then you will fight DajjaI and victory will be granted (by Allah)." Jabir said: "DajjaI will not appear until you have fought the Romans." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الفتن ١٢ (٢٩٠٠)، (تحفة الأشراف: ١١٥٨٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٧٨، ٤/٣٤٧) (صحیح )
4092Sunan Ibne-Majah

بڑی بڑی لڑائیاں

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَإِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ قُطَيْبٍ السَّكُونِيِّ، وَقَالَ الْوَلِيدُ: يَزِيدُ بْنُ قُطْبَةَ، عَنْ أَبِي بَحْرِيَّةَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْمَلْحَمَةُ الْكُبْرَى، وَفَتْحُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ، وَخُرُوجُ الدَّجَّالِ فِي سَبْعَةِ أَشْهُرٍ.

معاذ بن جبل ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جنگ عظیم، قسطنطنیہ کی فتح اور دجال کا خروج تینوں چیزیں سات مہینے کے اندر ہوں گی ۔

It was narrated from Muodh bin Jabal that the Prophet ﷺ said: "The great fierce battle, the conquest of Constantinople and the emergence of Dajjal, will all happen within seven months " (Daif)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الملاحم ٤ (٤٢٩٥)، سنن الترمذی/الفتن ٥٨ (٢٢٣٨)، (تحفة الأشراف: ١١٣٢٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٣٤) (ضعیف) (سند میں ابوبکر ضعیف اور ولید بن سفیان ضعیف ہیں )
4093Sunan Ibne-Majah

بڑی بڑی لڑائیاں

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي بِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَيْنَ الْمَلْحَمَةِ وَفَتْحِ الْمَدِينَةِ، سِتُّ سِنِينَ، وَيَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِي السَّابِعَةِ.

عبداللہ بن بسر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جنگ عظیم اور فتح مدینہ (قسطنطنیہ) کے درمیان چھ سال کا وقفہ ہے، اور دجال کا ظہور ساتویں سال میں ہوگا ۔

It was narrated from b Abdullah bin Busr that the Messenger of Allah ﷺ said: "Between the fierce battle and the conquest of Al-Madinah will be six years, and the appearance? Dajjal Will come m the seventh.(Daif)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الملاحم ٤ (٤٢٩٦)، (تحفة الأشراف: ٥١٩٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٨٩) (ضعیف) (سند میں سوید بن سعید اور بقیہ میں ضعف ہے )
4094Sunan Ibne-Majah

بڑی بڑی لڑائیاں

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو يَعْقُوبَ الْحُنَيْنِيُّ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَقُومُ السَّاعَةُ، حَتَّى تَكُونَ أَدْنَى مَسَالِحِ الْمُسْلِمِينَ بِبَوْلَاءَ، ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَلِيُّ يَا عَلِيُّ يَا عَلِيُّ، قَالَ: بِأَبِي وَأُمِّي، قَالَ: إِنَّكُمْ سَتُقَاتِلُونَ بَنِي الْأَصْفَرِ وَيُقَاتِلُهُمُ الَّذِينَ مِنْ بَعْدِكُمْ، حَتَّى تَخْرُجَ إِلَيْهِمْ رُوقَةُ الْإِسْلَامِ أَهْلُ الْحِجَازِ، الَّذِينَ لَا يَخَافُونَ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ، فَيَفْتَتِحُونَ الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ بِالتَّسْبِيحِ وَالتَّكْبِيرِ، فَيُصِيبُونَ غَنَائِمَ لَمْ يُصِيبُوا مِثْلَهَا، حَتَّى يَقْتَسِمُوا بِالْأَتْرِسَةِ، وَيَأْتِي آتٍ، فَيَقُولُ: إِنَّ الْمَسِيحَ قَدْ خَرَجَ فِي بِلَادِكُمْ، أَلَا وَهِيَ كِذْبَةٌ فَالْآخِذُ نَادِمٌ، وَالتَّارِكُ نَادِمٌ.

عمرو بن عوف ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوسکتی جب تک مسلمانوں کا نزدیک ترین مورچہ مقام بولاء میں نہ ہو ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اے علی! اے علی! اے علی! انہوں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں (فرمائیے) ، آپ ﷺ نے فرمایا: تم بہت جلد بنی اصفر (اہل روم) سے جنگ کرو گے اور ان سے وہ مسلمان بھی لڑیں گے جو تمہارے بعد پیدا ہوں گے، یہاں تک کہ جو لوگ اسلام کی رونق ہوں گے (یعنی اہل حجاز) وہ بھی ان سے جنگ کے لیے نکلیں گے، اور اللہ کے معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہ کریں گے، بلکہ تسبیح و تکبیر کے ذریعہ قسطنطنیہ فتح کرلیں گے، اور انہیں (وہاں) اس قدر مال غنیمت حاصل ہوگا کہ اتنا کبھی حاصل نہ ہوا تھا، یہاں تک کہ وہ ڈھا لیں بھربھر کر تقسیم کریں گے، اور ایک آنے والا آ کر کہے گا: مسیح (دجال) تمہارے ملک میں ظاہر ہوگیا ہے، سن لو! یہ خبر جھوٹی ہوگی، تو مال لینے والا بھی شرمندہ ہوگا، اور نہ لینے والا بھی ۔

It was narrated from Kathir bin AbdullahbinAmrbinAwf from his father, that his grandfather said: "The Messenger of Allah ﷺ said: The Hour will not begin until the closest Muslim "outpost will be at Baula. Then he said: O Ali, O Ali, O Ali. He (Ali) said: May my father and mother be ransomed for you. He said: You will fight Banu Asfar (the Romans) and those who come after you will fight them, until the best of the Muslims go out to fight them, the people of Hijaz who do not fear the blame of anyone for the sake of Allah. They will conquer Constantinople with Tasbih and Takbir and will acquire such spoils of war as has never been seen before, which they will distribute by the shieldful. Someone will come and say: "Masih has appeared in your land!" But he will be lying, so the one who takes (some of the spoils) will regret it, and the one who leaves it behind will regret it too.":(Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٧٧٩، ومصباح الزجاجة: ١٤٤٩) (موضوع) (سند میں کثیر بن عبد اللہ ہیں، جن کے بارے میں ابن حبان کہتے ہیں کہ اپنے والد کے حوالہ سے انہوں نے اپنے دادا سے ایک موضوع نسخہ روایت کیا ہے، جس کا تذکرہ کتابوں میں حلال نہیں ہے، اور نہ اس کی روایت جائز ہے، الا یہ کہ تعجب و استغراب کے نقطئہ نظر سے ہو )
4095Sunan Ibne-Majah

بڑی بڑی لڑائیاں

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنِي بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ، حَدَّثَنِي عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَكُونُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ بَنِي الْأَصْفَرِ هُدْنَةٌ، فَيَغْدِرُونَ بِكُمْ، فَيَسِيرُونَ إِلَيْكُمْ فِي ثَمَانِينَ غَايَةً، تَحْتَ كُلِّ غَايَةٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا.

عوف بن مالک اشجعی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارے اور بنی اصفر (رومیوں) کے درمیان صلح ہوگی، پھر وہ تم سے عہد شکنی کریں گے، اور تمہارے مقابلے کے لیے اسی جھنڈوں کے ساتھ فوج لے کر آئیں گے، اور ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار فوج ہوگی ۔

It was narrated from Awf bin Malik AI-Ashra that the Messenger of Allah ﷺ said: "Tere will be a treaty between ou and Banu Asfar (The komans), but they will betray you and will march against you with eighty banners, under each of which there will be twelve thousand troops." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجزیة ١٥ (٣١٧٦)، سنن ابی داود/الأدب ٩٢ (٥٠٠٠، ٥٠٠١)، (تحفة الأشراف: ١٠٩١٨) (صحیح )
4096Sunan Ibne-Majah

ترک کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا نِعَالُهُمُ الشَّعَرُ، وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا صِغَارَ الْأَعْيُنِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تم ایک ایسی قوم سے جنگ نہ کرو گے جن کے جوتے بالوں کے ہوں گے، قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تم ایک ایسی قوم سے جنگ نہ کرو گے جن کی آنکھیں چھوٹی ہوں گی ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) h, conveying it from the Prophet ﷺ "The Hour will not begin until you fight people with shoes of hair, and the Hour will not begin until you fight people with small eyes." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ٩٥ (٢٩٢٩)، صحیح مسلم/الفتن ١٨ (٢٩١٢)، سنن ابی داود/الملاحم ٩ (٤٣٠٤)، سنن الترمذی/الفتن ٤٠ (٢٢١٥)، (تحفة الأشراف: ١٣١٢٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٣٩، ٢٧١، ٣٩٨) (صحیح )
4097Sunan Ibne-Majah

ترک کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا صِغَارَ الْأَعْيُنِ، ذُلْفَ الْأُنُوفِ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ، وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا نِعَالُهُمُ الشَّعَرُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ تم ایک ایسی قوم سے جنگ کرو گے جن کی آنکھیں چھوٹی اور ناکیں چپٹی ہوں گی اور ان کے چہرے تہ بہ تہ ڈھال کی طرح ہوں گے، اور قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ تم ایسی قوم سے جنگ کرو گے جن کے جوتے بالوں کے ہوں گے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: The Hour will not begin until you fight people with small eyes smaII,even noses, and if there faces were hammered sheilds. And the Hour will not begin until you fight people whose shoes are made of hair, (Sahih)

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٣٦٧٧) (صحیح )