عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں ایک شخص آیا، اس وقت آپ جنگ احد سے واپس تشریف لائے تھے، اس نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے خواب میں بادل کا ایک سایہ (ٹکڑا) دیکھا جس سے گھی اور شہد ٹپک رہا تھا، اور میں نے لوگوں کو دیکھا کہ اس میں سے ہتھیلی بھربھر کرلے رہے ہیں، کسی نے زیادہ لیا، کسی نے کم، اور میں نے دیکھا کہ ایک رسی آسمان تک تنی ہوئی ہے، میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے وہ رسی پکڑی اور اوپر چڑھ گئے، آپ کے بعد ایک اور شخص نے پکڑی اور وہ بھی اوپر چڑھ گیا، اس کے بعد ایک اور شخص نے پکڑی تو وہ بھی اوپر چڑھ گیا، پھر اس کے بعد ایک اور شخص نے پکڑی تو رسی ٹوٹ گئی، لیکن وہ پھر جوڑ دی گئی، اور وہ بھی اوپر چڑھ گیا، یہ سن کر ابوبکر ؓ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس خواب کی تعبیر مجھے بتانے دیجئیے، آپ ﷺ نے فرمایا: تم اس کی تعبیر بیان کرو ، ابوبکر ؓ نے عرض کیا کہ وہ بادل کا ٹکڑا دین اسلام ہے، شہد اور گھی جو اس سے ٹپک رہا ہے اس سے مراد قرآن، اور اس کی حلاوت (شیرینی) اور لطافت ہے، اور لوگ جو اس سے ہتھیلی بھربھر کرلے رہے ہیں اس سے مراد قرآن حاصل کرنے والے ہیں، کوئی زیادہ حاصل کر رہا ہے کوئی کم، اور وہ رسی جو آسمان تک گئی ہے اس سے وہ حق (نبوت یا خلافت) کی رسی مراد ہے جس پر آپ ﷺ ہیں، اور جو آپ نے پکڑی اور اوپر چلے گئے (یعنی اس حالت میں آپ نے وفات پائی) ، پھر اس کے بعد دوسرے نے پکڑی اور وہ بھی اوپر چڑھ گیا، پھر تیسرے نے پکڑی وہ بھی اوپر چڑھ گیا، پھر چوتھے نے پکڑی تو حق کی رسی کمزور ہو کر ٹوٹ گئی، لیکن اس کے بعد اس کے لیے وہ جوڑی جاتی ہے تو وہ اس کے ذریعے اوپر چڑھ جاتا ہے، یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم نے کچھ تعبیر صحیح بتائی اور کچھ غلط ، ابوبکر ؓ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں آپ کو قسم دلاتا ہوں، آپ ضرور بتائیے کہ میں نے کیا صحیح کہا، اور کیا غلط؟ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اے ابوبکر! قسم نہ دلاؤ ۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "A man came to the Prophet(saw), upon his return from Uhud, and said: O Messenger of Allah, in my dream I saw a cloud giving shade, from which drops of ghee and honey were falling, and I saw people collecting them in the palms of their hands, some gathering a lot and some a little. And I saw a rope reaching up into heaven, and I saw you take hold of it and rise with it. Then another man took hold of it after you and rose with it, then another man took hold of it after him and rose with it. Then a man took hold of it after him and it broke, then it was reconnected and he rose with it. Abu Bakr (RA) said: Let me interpret it, a Messenger of Allah. He said: Interpret it. He said: As for the cloud giving shade, it is Islam and the drops of honey and ghee that fall from it (represent) the Quran with its sweettness and softness. As for the people collecting that in their palms some learn a lot of the Quran and some learn a little. As for the rope reaching up into heaven. it is the truth that you are following;you took hold of it and rose with it, then another man will take hold of it after you and rise with you, then another, who will rise with it, then another, but it will break and then he reconnected,then he will rise with it He said: You have got some of it right and some of it wrong. Abu Bakr (RA) said: I adjure you a O Messengerof Allah, tell me what I got right and what I got wrong. The Prophet(saw) said: Do not swear,O Abu Bakr." (Sahih) Another chain with similar wording.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التعبیر ٤٧ (٧٠٤٦)، صحیح مسلم/الرؤیا ٣ (٢٢٦٩)، سنن ابی داود/الأیمان والنذور ١٣ (٣٢٦٧، ٣٢٦٩)، السنة ٩ (٤٦٣٢، ٤٦٣٣)، سنن الترمذی/الرؤیا ١٠ (٢٢٨٧)، (تحفة الأشراف: ٥٨٣٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢١٩)، سنن الدارمی/الرؤیا ١٣ (٢٢٠٢) (صحیح )
اس سند سے بھی ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے تھے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے آسمان اور زمین کے درمیان ایک سایہ (بادل کا ایک ٹکڑا) دیکھا، جس سے شہد اور گھی ٹپک رہا تھا، پھر راوی نے باقی حدیث اسی طرح ذکر کی۔
سنن ابی داود/الأیمان والنذور ١٣ (٣٢٦٨، ٤٦٣٢)، سنن الترمذی/الرؤیا ٩ (٢٢٩٣)، (تحفة الأشراف: ١٣٥٧٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التعبیر ٤٧ (٧٠٤٦)، صحیح مسلم/الرؤیا ٣ (٢٢٦٩)، سنن الدارمی/الرؤیا ١٣ (٢٢٠٢ )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ایک نوجوان غیر شادی شدہ لڑکا تھا، اور رات میں مسجد میں سویا کرتا تھا، اور ہم میں سے جو شخص بھی خواب دیکھتا وہ اس کی تعبیر آپ سے پوچھا کرتا، میں نے (ایک دن دل میں) کہا: اے اللہ! اگر میرے لیے تیرے پاس خیر ہے تو مجھے بھی ایک خواب دکھا جس کی تعبیر میرے لیے نبی اکرم ﷺ بیان فرما دیں، پھر میں سویا تو میں نے دو فرشتوں کو دیکھا کہ وہ میرے پاس آئے، اور مجھے لے کر چلے، (راستے میں) ان دونوں کو ایک اور فرشتہ ملا اور اس نے کہا: تم خوفزدہ نہ ہو، بالآخر وہ دونوں فرشتے مجھ کو جہنم کی طرف لے گئے، میں نے اسے ایک کنویں کی طرح گھرا ہوا پایا، (اور میں نے اس میں اوپر نیچے بہت سے درجے دیکھے) اور مجھے بہت سے جانے پہچانے لوگ بھی نظر آئے، اس کے بعد وہ فرشتے مجھے دائیں طرف لے کر چلے، پھر صبح ہوئی تو میں نے یہ خواب حفصہ ؓ سے بیان کیا، حفصہ ؓ کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ خواب رسول اللہ ﷺ سے بیان کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: عبداللہ ایک نیک آدمی ہے، اگر وہ رات کو نماز زیادہ پڑھا کرے ۔ راوی کہتے ہیں اس کے بعد عبداللہ بن عمر ؓ رات کو نماز زیادہ پڑھنے لگے۔
It was narrated that Ibn Umar said: "I was a young unmarried man at the time of the Messenger of Allah ﷺ ,and I used to stay overnight in the Masjid. If any of us had seen a dream, he would tell it to the Prophet ﷺ . I said: O Allah, if there is any good in me before You, show me a dream that the Prophet ﷺ can interpret for me: So I went to sleep and I saw two angels who came to me and took me away. They were met by another angel who said: Do not be alarmed: and they took me to Hell which was built like a well. In it were people, some of whom I recognized. Then they took me off to the right. In the morning I mentioned that to Hafsah, and Hafsah said that she told the Messenger of Allah ﷺ P.U.B.H about it, and he said: Abdullah is a righteous man, if only he would pray more at night:" (Sahih) He (the narrator) said: "And Abdullah used to pray a great deal at night."
خرشہ بن حرر ؓ کہتے ہیں کہ جب میں مدینہ آیا تو مسجد نبوی میں چند بوڑھوں کے پاس آ کر بیٹھ گیا، اتنے میں ایک بوڑھا اپنی لاٹھی ٹیکتے ہوئے آیا، تو لوگوں نے کہا: جسے کوئی جنتی آدمی دیکھنا پسند ہو وہ اس شخص کو دیکھ لے، پھر اس نے ایک ستون کے پیچھے جا کر دو رکعت نماز ادا کی، تو میں ان کے پاس گیا، اور ان سے عرض کیا کہ آپ کی نسبت کچھ لوگوں کا ایسا ایسا کہنا ہے؟ انہوں نے کہا: الحمدللہ! جنت اللہ کی ملکیت ہے وہ جسے چاہے اس میں داخل فرمائے، میں نے رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں ایک خواب دیکھا تھا، میں نے دیکھا، گویا ایک شخص میرے پاس آیا، اور کہنے لگا: میرے ساتھ چلو، تو میں اس کے ساتھ ہوگیا، پھر وہ مجھے ایک بڑے میدان میں لے کر چلا، پھر میرے بائیں جانب ایک راستہ سامنے آیا، میں نے اس پر چلنا چاہا تو اس نے کہا: یہ تمہارا راستہ نہیں، پھر دائیں طرف ایک راستہ سامنے آیا تو میں اس پر چل پڑا یہاں تک کہ جب میں ایک ایسے پہاڑ کے پاس پہنچا جس پر پیر نہیں ٹکتا تھا، تو اس شخص نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھ کو دھکیلا یہاں تک کہ میں اس چوٹی پر پہنچ گیا، لیکن وہاں پر میں ٹھہر نہ سکا اور نہ وہاں کوئی ایسی چیز تھی جسے میں پکڑ سکتا، اچانک مجھے لوہے کا ایک کھمبا نظر آیا جس کے سرے پر سونے کا ایک کڑا تھا، پھر اس شخص نے میرا ہاتھ پکڑا، اور مجھے دھکا دیا یہاں تک کہ میں نے وہ کڑا پکڑ لیا، تو اس نے مجھ سے پوچھا: کیا تم نے مضبوطی سے پکڑ لیا؟ میں نے کہا: ہاں، میں نے پکڑ لیا، پھر اس نے کھمبے کو پاؤں سے ٹھوکر ماری، لیکن میں کڑا پکڑے رہا۔ میں نے یہ خواب نبی اکرم ﷺ سے بیان کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم نے خواب تو بہت ہی اچھا دیکھا، وہ بڑا میدان میدان حشر تھا، اور جو راستہ تمہارے بائیں جانب دکھایا گیا وہ جہنمیوں کا راستہ تھا، لیکن تم جہنم والوں میں سے نہیں ہو اور وہ راستہ جو تمہارے دائیں جانب دکھایا گیا وہ جنتیوں کا راستہ ہے، اور جو پھسلنے والا پہاڑ تم نے دیکھا وہ شہیدوں کا مقام ہے، اور وہ کڑا جو تم نے تھاما وہ اسلام کا کڑا ہے، لہٰذا تم اسے مرتے دم تک مضبوطی سے پکڑے رہو، تو مجھے امید ہے کہ میں اہل جنت میں ہوں گا اور وہ (بوڑھے آدمی) عبداللہ بن سلام ؓ تھے۔
It was narrated that bin Hurr said: “I came to Al-Madinah and sat with some 0ld men in the mosque of the prophet ﷺ . Then an old man came leaning on his stick, and the people said: ‘Whoever would like to look at a man from among the people of Paradise, let him look at He stood behind a this man. pillar and prayed two Rak’ah. I got up and went to him, and said to him: ‘Some of the people said such and such.’ He said: ‘Praise is to Allah. Paradise belongs to Allah and He admits whomsoever He wills to it. At the time of the Messenger of Allah ﷺ I saw a dream in which a man came to me and said: “Let’s go.” So I went with him and he took me along a great road. A mad was shown to me on the left and I wanted to follow it, but he said: “You are not one of its people.” Then a road was shown to me on the right, and I followed it until I reached a slippew mountain. He took me by the hand and helped me up. When I reached the top I could not stand firm. There was an iron pillar there with a golden ring at the top. He took my hand and helped me up until I reached the han then he said: “Have YOU gotten a firm hold?” I said: ‘Yes.” Then he struck the pillar With his foot and I held fight to the Pillar. I told this to the Prophet ﷺ and he said.” You have seen SOflletb The great road the plain of gathering (on the Day of Resurrection). The road that you were shown on your left is the way of the people of Hell, and you are not one of its people. The road which you were shown on your right is the way of the people of Paradise. The slippery mountain is the place of the martyrs, and the handhold that you held on tight to is the handhold of Islam. Hold on tight to it until you die.” I hope to be one of the people of Paradise,’ and he was ‘Abdulláh bin Salãm.” (Sahih)
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٣٣ (٢٤٨٤)، (تحفة الأشراف: ٥٣٣٠)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/مناقب الأنصار ١٩ (٣٨١٣)، مسند احمد (٢/٣٤٣، ٣٦٧ ٥/٤٥٢) (صحیح) (یہ سند حسن ہے، اور اصل حدیث صحیح مسلم میں: جریر عن الاعمش عن سلیمان بن مسہر عن خرشہ ؓ سے مروی ہے: نیز یہ صحیح بخاری میں بھی ہے: کما فی التخریج
ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مکہ سے ایسی سر زمین کی طرف ہجرت کر رہا ہوں جہاں کھجور کے درخت (بہت) ہیں، پھر میرا خیال یمامہ (ریاض) یا ہجر (احساء) کی طرف گیا، لیکن وہ مدینہ (یثرب) نکلا، اور میں نے اسی خواب میں یہ بھی دیکھا کہ میں نے ایک تلوار ہلائی جس کا سرا ٹوٹ گیا، اس کی تعبیر وہ صدمہ ہے جو احد کے دن مسلمانوں کو لاحق ہوا، اس کے بعد میں نے پھر تلوار لہرائی تو وہ پہلے سے بھی بہتر ہوگئی، اس کی تعبیر وہ فتح اور وہ اجتماعیت ہے جو اللہ نے بعد میں مسلمانوں کو عطا کی، پھر میں نے اسی خواب میں کچھ گائیں بھی دیکھیں، اور یہ آواز سنی، والله خير یعنی اللہ بہتر ہے ، اس کی تعبیر یہ تھی کہ چند مسلمان جنگ احد کے دن کام آئے ١ ؎، والله خير، کی آواز آنے سے مراد وہ بہتری تھی جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کے بعد دی، اور وہ سچا ثواب ہے جو غزوہ بدر میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کیا ۔
It was narrated from Abu Musa that the Prophet ﷺ said: "In a dream I saw myself emigrating from Makkah to a land in which there were date-palm trees, and I thought that it was Yamamah or Hajar, but it was Al-Madinah, Yathrib. And I saw in this dream of mine that I was wielding a sword then it broke in the middle. That was what befell the believers on the Day of Uhud. Then I wielded it again and it was better than it had been before, and that is what Allah brought about of the conquest and the regrouping of the believers. And I also saw cows, and by Allah it is good, for they are the group of the believers (who were martyred) on the Day of Uhud, and the goodness is that which Allah brought forth after that, and the reward of the truth which Allah brought us on the Day of Badr.” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: تو گایوں کا ذبح ہونا ان لوگوں کی شہادت کی طرف اشارہ تھا۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے خواب میں سونے کے دو کنگن دیکھے، پھر میں نے انہیں پھونک ماری (تو وہ اڑ گئے) ، پھر میں نے اس کی تعبیر یہ سمجھی کہ اس سے مراد نبوت کے دونوں جھوٹے دعوے دار مسیلمہ اور عنسی ہیں ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “ I saw wristbands of gold on my arms, so I blew into them, and I interpreted them as being these two liars, Musailimah and ‘Ansi” (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: نبوت کے یہ دونوں جھوٹے دعویدار مارے گئے، اسود عنسی فیروز دیلمی ؓ کے ہاتھ سے مارا گیا، اور مسیلمہ کذاب وحشی بن حرب حبشی ؓ کے ہاتھوں مارا گیا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٠٩٧)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المناقب ٢٥ (٣٦٢١)، صحیح مسلم/الرؤیا ٤ (٢٢٧٤)، سنن الترمذی/الرؤیا ١٠ (٢٢٩٢)، مسند احمد (٢/٣٣٨، ٣٤٤) (صحیح )
قابوس کہتے ہیں کہ ام الفضل ؓ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ آپ کے جسم کا ایک ٹکڑا میرے گھر میں آگیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: تم نے اچھا خواب دیکھا ہے، فاطمہ کو اللہ تعالیٰ بیٹا عطا کرے گا اور تم اسے دودھ پلاؤ گی ، پھر جب حسین یا حسن ؓ پیدا ہوئے تو انہوں نے ان کو دودھ پلایا، جو قثم بن عباس کا دودھ تھا، پھر میں اس بچے کو لے کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آئی، اور آپ کی گود میں بٹھا دیا، اس بچے نے پیشاب کردیا، میں نے اس کے کندھے پر مارا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم نے میرے بچے کو تکلیف پہنچائی ہے، اللہ تم پر رحم کرے !۔
It was narrated that Qabus said: "Umm Fadl said: O Messenger of Allah ﷺ It is as if I saw (in a dream) one of Your limbs in my house. He sa id: What you have seen is good. Fatimah will give birth to a boy and you will breastfeed him. Fatimah gave birth to Husain or Hasan, and I breastfed him with the milk of Qutham. She said: I brought him to the Prophet ﷺ and placed him in his lap, and he urinated, so I struck him on the shoulder." The Prophet ﷺ said "You have hurt my son, may Allah have mercy on you."(Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٨٠٥٥، ومصباح الزجاجة: ١٣٧١)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطہارة ١٣٧ (٣٧٥)، مسند احمد (٦/٣٣٩) (ضعیف) (سند میں قابوس اور ام الفضل ؓ کے درمیان انقطاع ہے )
عبداللہ بن عمر ؓ نبی اکرم ﷺ کے خواب کے متعلق روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک کالی عورت جس کے بال بکھرے ہوئے تھے، مدینہ سے نکلی یہاں تک کہ مقام مہیعہ آ کر رکی، اور وہ جحفہ ہے، پھر میں نے اس کی تعبیر مدینے کی وبا سے کی جسے جحفہ منتقل کردیا گیا ١ ؎۔
It was narrated Abdullah bin Umar concem the dream of the Prophet ﷺ that he (the Prophet) said: "I saw a black woman with disheveled hair, who left Al-Madina and went to stay in AI-Mahya`ah which is Juhfah. I interpreted it as referring to an epidemic in Al-Madinah which moved to Juhfah." (Sahih)
طلحہ بن عبیداللہ ؓ سے روایت ہے کہ دور دراز کے دو شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، وہ دونوں ایک ساتھ اسلام لائے تھے، ان میں ایک دوسرے کی نسبت بہت ہی محنتی تھا، تو محنتی نے جہاد کیا اور شہید ہوگیا، پھر دوسرا شخص اس کے ایک سال بعد تک زندہ رہا، اس کے بعد وہ بھی مرگیا، طلحہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں جنت کے دروازے پر کھڑا ہوں، اتنے میں وہ دونوں شخص نظر آئے اور جنت کے اندر سے ایک شخص نکلا، اور اس شخص کو اندر جانے کی اجازت دی جس کا انتقال آخر میں ہوا تھا، پھر دوسری بار نکلا، اور اس کو اجازت دی جو شہید کردیا گیا تھا، اس کے بعد اس شخص نے میرے پاس آ کر کہا: تم واپس چلے جاؤ، ابھی تمہارا وقت نہیں آیا، صبح اٹھ کر طلحہ ؓ لوگوں سے خواب بیان کرنے لگے تو لوگوں نے بڑی حیرت ظاہر کی، پھر خبر رسول اللہ ﷺ کو پہنچی، اور لوگوں نے یہ سارا قصہ اور واقعہ آپ سے بیان کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: تمہیں کس بات پر تعجب ہے ؟ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! پہلا شخص نہایت عبادت گزار تھا، پھر وہ شہید بھی کردیا گیا، اور یہ دوسرا اس سے پہلے جنت میں داخل کیا گیا! آپ ﷺ نے فرمایا: کیا یہ اس کے بعد ایک سال مزید زندہ نہیں رہا؟ ، لوگوں نے عرض کیا: کیوں نہیں، ضرور زندہ رہا، آپ ﷺ نے فرمایا: ایک سال میں تو اس نے رمضان کا مہینہ پایا، روزے رکھے، اور نماز بھی پڑھی اور اتنے سجدے کئے، کیا یہ حقیقت نہیں ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: یہ تو ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: تو اسی وجہ سے ان دونوں (کے درجوں) میں زمین و آسمان کے فاصلہ سے بھی زیادہ دوری ہے ١ ؎۔
It was narrated from Talhah bin Ubaidullah that two Ten from Bali came to the Messenger of Allah ﷺ . They had becomeMuslim together, but one ofthem used to strive harder than the other. The one who used to strive harder went out to fight and was martyred. The other one stayed for a year longer, then he passed away. Talhah said: "I saw in a dream that I was at the gate ofParadise and I saw them (those two men). Someone came out of Paradise and admitted the one who had died last, then he came out and admitted the one who hadbeen martyred. Then he came backto me and said: Go back, for yourtime has not yet come. The next morning, Talhah told the people of that and they were amazect.News of that reached the Messengerof Allah and they told him the story. He said: "Why ": you so amazed at that?" They: "O Messenger of Allah, the one Was the one who strove the er, then he was martyred, but other one was admitted to Paradise to him.The Messenger of Allah ﷺ said: "Did he not stay behind for a year?" They said: "Yes." He said: "And did not Ramadan come and he fasted, and he offered such and such prayers during that year?" They said: "Yes." The Messenger of Allah ﷺ said: "The difference between them is greater than the difference between heaven and earth." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں کوئی عمل ضائع ہونے والا نہیں بشرطیکہ خلوص دل کے ساتھ اس کو راضی کرنے کے لیے کیا ہو، اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ تھوڑی عبادت کا درجہ بڑے عابد اور زاہد سے بڑھ جاتا ہے، خلوص اور محبت الہیٰ کے ساتھ تھوڑا عمل بھی سینکڑوں اعمال سے زیادہ ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٠١٧، ومصباح الزجاجة: ١٣٧٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٦٣) (صحیح) (سند میں ابوسلمہ اور طلحہ کے مابین انقطاع ہے، لیکن دوسرے شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں خواب میں گلے میں زنجیر اور طوق دیکھنے کو ناپسند کرتا ہوں، اور پاؤں میں بیڑی دیکھنے کو پسند کرتا ہوں، کیونکہ بیڑی کی تعبیر دین میں ثابت قدمی ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "I dislike (to see in a dream) a chain around the neck, but I like to see fetters on the feet. for fetters (represent) steadfastness in religion." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٥٨٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التعبیر ٢٦ (٧٠١٧)، صحیح مسلم/الرؤیا (٢٢٦٣)، سنن ابی داود/الأدب ٩٦ (٥٠١٩)، سنن الترمذی/الرؤیا ١ (٢٢٧٠)، سنن الدارمی/الرؤیا ١٣ (٢٢٠٦) (ضعیف) (سند میں ابوبکرا لہذلی متروک الحدیث ہے، لیکن موقوفا ثابت ہے، ملاحظہ ہو: فتح الباری: ١٢؍ ٤٠٤ - ٤١ )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اس وقت تک لوگوں سے جنگ کروں جب تک وہ لا إله إلا الله نہ کہہ دیں، جب وہ لا إله إلا الله کا اقرار کرلیں (اور شرک سے تائب ہوجائیں) تو انہوں نے اپنے مال اور اپنی جان کو مجھ سے بچا لیا، مگر ان کے حق کے بدلے اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "I have been commanded to fight the people until they say: La ilaiha illallah. If they say it, then their blood and wealth are protected from me, except for a right that is due from it, and their reckoning will be with Allah." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: ان کے حق کے بدلے کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی نے اس کلمہ کے اقرار کے بعد کوئی ایسا جرم کیا جو قابل حد ہے تو وہ حد اس پر نافذ ہوگی مثلاً چوری کی تو ہاتھ کاٹا جائے گا، زنا کیا تو سو کوڑوں کی یا رجم کی سزا دی جائے گی، کسی کو ناحق قتل کیا تو قصاص میں اسے قتل کیا جائے گا۔ ٢ ؎: اور ان کا حساب اللہ کے سپرد ہے کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ قبول اسلام میں مخلص نہیں ہوں گے بلکہ منافقانہ طور پر اسلام کا اظہار کریں گے یا قابل حد جرم کا ارتکاب کریں گے، لیکن اسلامی عدالت اور حکام کے علم میں ان کا جرم نہیں آسکا اور وہ سزا سے بچ گئے، تو ان کا حساب اللہ کے سپرد ہوگا یعنی آخرت میں اللہ تعالیٰ ان کا فیصلہ فرمائے گا۔
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں اس وقت تک لوگوں سے لڑتا رہوں جب تک وہ لا إله إلا الله کا اقرار نہ کرلیں، جب انہوں نے اس کا اقرار کرلیا، تو اپنے مال اور اپنی جان کو مجھ سے بچا لیا، مگر ان کے حق کے بدلے، اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے ۔
It was narrated from Jâbir that the Messenger of Allah ﷺ said: I have been commanded to fight the people until they say: La ilaha illallah. If they say La ilaha illallah, then their and wealth are protected from me, except for a right that is due from it, and their reckoning will be with Allah.(sahih)
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإیمان ٨ (٢١)، سنن النسائی/الجہاد ١ (٣٠٩٢)، تحریم الدم ١ (٣٩٨٢)، (تحفة الأشراف: ٢٢٩٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٩٤) (صحیح )
اوس ؓ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اور آپ حکایات و واقعات سنا کر ہمیں نصیحت فرما رہے تھے، کہ اتنے میں ایک شخص حاضر ہوا، اور اس نے آپ کے کان میں کچھ باتیں کیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اسے لے جا کر قتل کر دو ، جب وہ جانے لگا تو آپ ﷺ نے اسے پھر واپس بلایا، اور پوچھا: کیا تم لا إله إلا الله کہتے ہو ؟ اس نے عرض کیا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ جاؤ اسے چھوڑ دو، کیونکہ مجھے لوگوں سے لڑائی کرنے کا حکم دیا گیا ہے یہاں تک کہ وہ لا إله إلا الله کہیں، جب انہوں نے لا إله إلا الله کہہ دیا تو اب ان کا خون اور مال مجھ پر حرام ہوگیا ۔
Amr bin Aws narrated that his father, Aws, told him: We were sitting with the Prophet ﷺ and he was narrating to us and reminding us, when a man came and spoke privately to him. He said: Take him away and kill him: When the man turned away, the Messenger of Allah ﷺ called him back and said: Do you bear witness that none has the right to be worshiped but Allah?" He said, Yes: He said: Then go and let him go, for I have been commanded to fight the people until they say: La ilaha illallah, then if they do that, their blood and wealth are forbidden to me:" (Sahih)
عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ نافع بن ازرق اور ان کے اصحاب (و تلامیذ) آئے، اور کہنے لگے: عمران! آپ ہلاک و برباد ہوگئے! عمران ؓ نے کہا: میں ہلاک نہیں ہوا، انہوں نے کہا: کیوں نہیں، آپ ضرور ہلاک ہوگئے، تو انہوں نے کہا: آخر کس چیز نے مجھے ہلاک کیا ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وقاتلوهم حتى لا تکون فتنة ويكون الدين كله لله کافروں و مشرکوں سے قتال کرو یہاں تک کہ فتنہ (یعنی شرک) باقی نہ رہے، اور دین پورا کا پورا اللہ کا ہوجائے (سورة الأنفال: 39) ، عمران ؓ نے کہا: ہم نے کفار سے اسی طرح لڑائی کی یہاں تک کہ ہم نے ان کو وطن سے باہر نکال دیا، اور دین پورا کا پورا اللہ کا ہوگیا، اگر تم چاہو تو میں تم سے ایک حدیث بیان کروں جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے، ان لوگوں نے کہا: کیا آپ نے اسے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے؟ کہا: ہاں، میں نے خود رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے، میں آپ کے ساتھ موجود تھا، اور آپ نے مسلمانوں کا ایک لشکر مشرکین کے مقابلے کے لیے بھیجا تھا، جب ان کی مڈبھیڑ مشرکوں سے ہوئی، تو انہوں نے ان سے ڈٹ کر جنگ کی، آخر کار مشرکین نے اپنے کندھے ہماری جانب کر دئیے (یعنی ہار کر بھاگ نکلے) ، میرے ایک رشتہ دار نے مشرکین کا تعاقب کر کے ایک مشرک پر نیزے سے حملہ کیا، جب اس کو پکڑ لیا، (اور کافر نے اپنے آپ کو خطرہ میں دیکھا) تو اس نے أشهد أن لا إله إلا الله کہہ کر اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کیا، لیکن اس نے اسے برچھی سے مار کر قتل کردیا، پھر وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں ہلاک اور برباد ہوگیا، آپ ﷺ نے فرمایا: تم نے کیا کیا ؟، ایک بار یا دو بار کہا، اس نے آپ ﷺ سے اپنا وہ واقعہ بتایا جو اس نے کیا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم نے اس کا پیٹ کیوں نہیں پھاڑا کہ جان لیتے اس کے دل میں کیا ہے ؟، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر میں اس کا پیٹ پھاڑ دیتا تو کیا میں جان لیتا کہ اس کے دل میں کیا تھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تم نے نہ تو اس کی بات قبول کی، اور نہ تمہیں اس کی دلی حالت معلوم تھی ١ ؎۔ عمران ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اس کے متعلق خاموش رہے، پھر وہ کچھ ہی دن زندہ رہ کر مرگیا، ہم نے اسے دفن کیا، لیکن صبح کو اس کی لاش قبر کے باہر پڑی تھی، لوگوں نے خیال ظاہر کیا کہ کسی دشمن نے اس کی لاش نکال پھینکی ہے، خیر پھر ہم نے اس کو دفن کیا، اس کے بعد ہم نے اپنے غلاموں کو حکم دیا کہ اس کی قبر کی حفاظت کریں، لیکن پھر صبح اس کی لاش قبر سے باہر پڑی تھی، ہم نے سمجھا کہ شاید غلام سو گئے (اور کسی دشمن نے آ کر پھر اس کی لاش نکال کر باہر پھینک دی) ، آخر ہم نے اس کو دفن کیا، اور رات بھر خود پہرا دیا لیکن پھر اس کی لاش صبح کے وقت قبر کے باہر تھی، پھر ہم نے اس کی لاش ان گھاٹیوں میں سے ایک گھاٹی میں ڈال دی ١ ؎۔
It was narrated from Sumait bin Sumair, that Imran bin Husain said: "Nafi bin Azraq and his companions came and said: You are doomed, O Imran! He [Tmran) said: I am not doomed. They said: Yes you are. I said: Why am I doomed? They said: Allah says: "And fight them until there is no more Fitnah (disbelief and polytheism, i.e., worshipping others besides Allah), and the religion (worship) will all be for Allah Alone." He said: We fought them until they were defeated and the religion was all for Allah Alone. If you wish, I will tell you a Hadith that I heard from the Messenger of Allah ﷺ . They said: Did you (really) hear it from the Messenger of Allah ﷺ ? He said: Yes. I was with the Messenger of Allah ﷺ and he had sent an army of the Muslims to the idolators. When they met them they fought them fiercely, and they (the idolators) gave them their shoulders (i.e., turned and fled). A man among my kin attacked an idolator man with a spear, and when he was defeated he said: "I bear witness that none has the right to be worshiped but Allah, I am a Muslim." But he stabbed him and killed him.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس لئے جب اس نے کلمہ شہادت پڑھ کر اپنے آپ کو مسلمان کہا تو اسے چھوڑ دینا تھا۔ ٢ ؎: نافع بن ازرق وغیرہ نے عمران بن حصین ؓ کو مسلمانوں سے لڑنے کا مشورہ دیا، اور یہ سمجھے کہ آیت میں قتال کا حکم فتنہ کے دفع کرنے کے لئے ہے اور عمران بن حصین ؓ نے اس حکم کو چھوڑ دیا ہے، جب عمران بن حصین ؓ نے یہ جواب دیا کہ آیت میں فتنے سے شرک مراد ہے، اور مشرکین سے ہم ہی لوگوں نے لڑائی کی تھی، اور شرک کو مٹایا تھا، اب تم مسلمانوں سے لڑنا چاہتے ہو جو کلمہ گو ہیں؟ تمہارا حال وہی ہوگا جو اس شخص کا ہوا کہ زمین نے اس کی لاش قبول نہیں کی، اس کو بار بار دفن کرتے تھے، اور زمین اس کو نکال کر قبر سے باہر پھینک دیتی تھی، مسلمان کو قتل کرنے کی یہی سزا ہے، دوسرے ایک صحابی سے منقول ہے کہ مسلمانوں کے آپسی فتنے میں ان کو بھی لڑنے کے لئے کہا گیا، تو انہوں نے کہا کہ ہم نے تو اس واسطے کفار کے خلاف جنگ کی تھی کہ فتنہ باقی نہ رہے اور اللہ تعالیٰ کا دین ایک ہوجائے اور تم اس لئے لڑتے ہو کہ فتنہ پیدا ہو۔
اس سند سے بھی عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم کو ایک سریہ کے ساتھ روانہ کیا تو ایک مسلمان نے ایک مشرک پر حملہ کیا، پھر راوی نے وہی سابقہ قصہ بیان کیا، اور اتنا اضافہ کیا کہ زمین نے اس کو پھینک دیا، اس کی خبر نبی اکرم ﷺ کو دی گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: زمین تو اس سے بھی بدتر آدمی کو قبول کرلیتی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ تمہیں یہ دکھائے کہ لا إله إلا الله کی حرمت کس قدر بڑی ہے ١ ؎۔
١ ؎: جب کافر نے لا إله إلا الله کہہ دیا تو اس کو چھوڑ دینا چاہیے اس شخص نے اس کلمے کا احترام نہیں کیا تو اس کی سزا اللہ تعالیٰ نے تم کو دکھلا دی تاکہ آئندہ تم کو خیال رہے کہ کسی مسلمان کو مت قتل کرو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٨٢٨، ومصباح الزجاجة: ١٣٧٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤٣٨) (حسن) (سند میں سوید بن سعید متکلم فیہ راوی ہیں، نیز علی بن مسہر کے یہاں نابینا ہونے کے بعد غرائب کی روایت ہے، لیکن اگلے طریق سے یہ حسن ہے بوصیری نے اس کی تحسین کی ہے )
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٨٢٨)، ومصباح الزجاجة: ١٣٧٥) (حسن) (آخری عمر میں حفص بن غیاث کے حافظہ میں معمولی تبدیلی آگئی تھی، لیکن سابقہ طریق سے تقویت پاکر یہ حسن ہے، بوصیری نے اس کی تحسین کی ہے )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: آگاہ رہو! تمام دنوں میں سب سے زیادہ حرمت والا تمہارا یہ دن ہے، آگاہ رہو! تمام مہینوں میں سب سے زیادہ حرمت والا تمہارا یہ مہینہ ہے، آگاہ رہو! شہروں میں سب سے زیادہ حرمت والا تمہارا یہ شہر ہے، آگاہ رہو! تمہاری جان، تمہارے مال ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہیں جیسے تمہارا یہ دن تمہارے اس مہینے میں، تمہارے اس شہر میں، آگاہ رہو! کیا میں نے تمہیں اللہ کا پیغام نہیں پہنچا دیا ؟، لوگوں نے عرض کیا: ہاں، آپ نے پہنچا دیا، آپ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ تو گواہ رہ ۔
It was narrated that Abu Sa’eed said: “The Messenger of A said, during the Farewell Pilgrimage: ‘Is not the most sacred of your days this day, is not the most sacred of your months this month, is not the most sacred of your lands this land? Your blood and your wealth are as sacred to you as this day of yours in this month of yours in this land of yours. Have I not conveyed (the message)?’ They said: ‘Yes.’ He said: ‘O Allah, bear witness.” (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٠٢٢، ومصباح الزجاجة: ١٣٧٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٨٠، ٣٧١) (صحیح )
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو خانہ کعبہ کا طواف کرتے دیکھا، اور آپ ﷺ یہ فرما رہے تھے: تو کتنا عمدہ ہے، تیری خوشبو کتنی اچھی ہے، تو کتنا بڑے رتبہ والا ہے اور تیری حرمت کتنی عظیم ہے، لیکن قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، مومن کی حرمت (یعنی مومن کے جان و مال کی حرمت) اللہ تعالیٰ کے نزدیک تجھ سے بھی زیادہ ہے، اس لیے ہمیں مومن کے ساتھ حسن ظن ہی رکھنا چاہیئے ۔
It was narrated that Abu Sa eed said: "The Messenger of Allah ﷺ said, during the Farewell Pilgrimage: Is not the most sacred of your days this day, is not the most sacred of your months this month, is not the most sacred of your lands this land? Your blood and your wealth are as sacred to you as this day of yours in this month of yours in this land of yours. Have I not conveyed (the message)? They said: Yes. He said: O Allah, bear witness:" (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٢٨٤، ومصباح الزجاجة: ١٣٧٧) (حسن) (سند میں نصر بن محمد ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو: تراجع الألبانی: رقم: ٨٩ )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر مسلمان کا خون، مال اور عزت و آبرو دوسرے مسلمان پر حرام ہے ۔
It was narrated that Abdullah bin Amr said: "I saw the Messenger of Allah ﷺ the Ka’bahh and saying: How good you are and how good is your fragrance; how you are and how great is your sanctity. By the One in Whose Hand is the soul of Muhammad, the sanctity of the believer is greater before Allah .than your sanctity, his blood and his wealth, and to think anything but good of him:" (Daif) .
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/البر والصلة ١٠ (٢٥٦٤)، (تحفة الأشراف: ١٤٩٤١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٧٧، ٣١١، ٣٦٠) (صحیح )
فضالہ بن عبید ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مومن وہ ہے جس سے لوگوں کو اپنی جان اور مال کا خوف اور ڈر نہ ہو، اور مہاجر وہ ہے جو برائیوں اور گناہوں کو ترک کر دے ۔
Fadâlah bin ‘Ubaid narrated that the Prophet ﷺ said: “The believer is the one from whom theft (people’s) wealth and lives are safe, and the Muhajir is the one who forsakes mistakes and sins.” (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٠٣٩، ومصباح الزجاجة: ١٣٧٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٠، ٢١، ٢٢) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب زانی زنا کرتا ہے تو اس وقت وہ مومن نہیں ہوتا، اور جب شرابی شراب پیتا ہے تو اس وقت وہ مومن نہیں ہوتا، اور جب چور چوری کرتا ہے تو وہ اس وقت مومن نہیں ہوتا، جب لوٹ مار کرنے والا لوگوں کی نظروں کے سامنے لوٹ مار کرتا ہے تو اس وقت وہ مومن نہیں ہوتا ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ : "The adultere, at the time he is committing the adultury, is not a believer; at the time he is ,he is not a believer; the thief at the time he is stealing, is not a believer; the plunderer, at the time he is plundering wIth the people looking on, is not a believer. (Sahih)