عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک آدمی کا کھانا دو کے لیے کافی ہوتا ہے، دو کا کھانا تین اور چار کے لیے کافی ہوتا ہے، اور چار کا کھانا پانچ اور چھ کے لیے کافی ہوتا ہے ۔
It was narrated from Ibn Umar that the Prophet ﷺ said: "The disbeliever eats with seven intestines and the believer eats with one intestine."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٥٣٥، ومصباح الزجاجة: ١١١٨) (ضعیف جدا) (سند میں عمرو بن دینار ہیں، جنہوں نے سالم سے منکر احادیث روایت کی ہے، ملاحظہ ہو: تراجع الألبانی: رقم: ٥٦١ )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مومن ایک آنت میں کھاتا ہے، اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Musa that the Messenger of Allah ﷺ said: "The believer eats with one intestine and the disbeliever eats with seven intestines."
Notes · وضاحت
١ ؎: اس کا مطلب یہ ہے کہ کافر کئی طرح کا کھانا کھاتا ہے، سود کا، رشوت کا، غبن کا، چوری کا، ڈاکہ کا، بددیانتی کا، ملاوٹ کا، اور مومن صرف حلال کا کھانا کھاتا ہے۔ حدیث کا مقصود یہ ہے کہ کافر بہت کھاتا ہے اور مومن کم کھاتا ہے نیز یہ بات بطور اکثر کے ہے یہ مطلب نہیں کہ بہت کھانے والے کافر ہی ہوتے ہیں بعض مسلمان بھی بہت کھاتے ہیں شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ کافر کی تمام تر حرص پیٹ ہوتا ہے اور مومن کا اصل مقصود آخرت ہوا کرتی ہے پس مومن کی شان ہے کہ وہ کھانا کم کھاتا ہے اور زیادہ کھانے کی حرص کفر کی خصلت ہے۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے، اور مومن صرف ایک آنت میں کھاتا ہے ۔
It was narrated from Abu Hazim that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ never criticized any food. If it pleased him, he would eat it and if it did not he would leave it." Another chain from Abu Yahya from Abu Hurairah (RA) from the Prophet ﷺ with similar wording. Abu Bakr (RA) said: “We differ in it, they said: From Abu Hazim.
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو یہ پسند کرے کہ اللہ تعالیٰ اس کے گھر میں خیر و برکت زیادہ کرے، اسے چاہیئے کہ وضو کرے جب دوپہر کا کھانا آجائے، اور جب اسے اٹھا کر واپس لے جایا جائے ۔
Kathir bin Sulaim narrated that he heard Anas bin Malik (RA) say: "The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever would like Allah to increase the goodness of his house, should perform ablution (wash hands) when his breakfast is brought to him and when it is taken away.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٤٥، ومصباح الزجاجة: ١١١٩) (ضعیف) (سند میں جبارہ بن المغلس اور کثیر بن سلیم دونوں ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ١١٧ )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بیت الخلاء سے نکلے تو کھانا لایا گیا، ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں آپ کے لیے وضو کا پانی نہ لاؤں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا میں نماز ادا کرنا چاہتا ہوں ؟ ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ went out to toilet, then food was brought. A man said: "O Messenger of Allah, are you not going to perform ablution? He said: Am I going to pray?"
Notes · وضاحت
١ ؎: جو وضو ضروری ہو، معلوم ہوا کہ کھانے سے پہلے وضو ضروری نہیں صرف ہاتھ دھونا ہی کافی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٢٢٩، ومصباح الزجاجة: ١١٢٠) (حسن صحیح) (سند میں صاعد بن عبید مقبول ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے )
ابوحجیفہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا ١ ؎۔
It was narrated from Abu Juhaifah that, the Messenger of Allah ﷺ said: I do not eat while reclining."
Notes · وضاحت
١ ؎: تکیہ لگا کر کھانا تکبر اور گھمنڈ کی نشانی ہے، اس وجہ سے نبی اکرم ﷺ نے اس سے پرہیز کیا، اور بعضوں نے کہا: عجمیوں کی نشانی ہے جو تکلف میں پھنسے ہوئے ہیں، اور آپ عرب میں پیدا ہوئے تھے بےتکلفی کو پسند کرتے تھے۔
عبداللہ بن بسر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں ایک بکری ہدیہ کے طور پر بھیجی، آپ ﷺ گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اسے کھانے لگے، اس پر ایک اعرابی (دیہاتی) نے کہا: بیٹھنے کا یہ کون سا انداز ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک مہربان و شفیق بندہ بنایا ہے، ناکہ مغرور اور عناد رکھنے والا ١ ؎۔
Abdullah bin Busr said: "I gave the Prophet ﷺ a gift of a sheep, and the Messenger of Allah ﷺ sat on his knees to eat. A Bedouin said: What is this sitting? He said: Allah has made me a humble and generous slave (of Allah) and has not made me arrogant and stubborn."
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی دونوں زانو کھڑے کر کے بیٹھنا عاجزی اور انکساری کی علامت ہے، آپ ﷺ نے اسی طرح بیٹھ کر کھانا پسند فرمایا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٢٠٢، ومصباح الزجاجة: ١١٢١)، وقد أخرج بعضہ: سنن ابی داود/الأطعمة ١٨ (٣٧٧٣) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے چھ صحابہ کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے کہ ایک اعرابی (دیہاتی) آیا، اور اس نے اسے دو لقموں میں کھالیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: سنو، اگر یہ شخص بسم الله کہہ لیتا، تو یہی کھانا تم سب کے لیے کافی ہوتا، لہٰذا تم میں سے جب کوئی کھانا کھائے تو چاہیئے کہ وہ (بسم الله ) کہے، اگر وہ شروع میں (بسم الله ) کہنا بھول جائے تو یوں کہے: بسم الله في أوله وآخره ١ ؎۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ was eating food with six of his Companions when a Bedouin came and ate it all in two bites. The Messenger of Allah ﷺ said: If he had said Bismillah, it would have sufficed you (all). When anyone of you eats food, let him say Bismillah, and if he forgets to say Bismillah at the beginning, let him say Bismillah fi awwalihi wa akhirih (In the Name of Allah at the beginning and at the end).
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اللہ تعالیٰ کا نام لیتا ہوں شروع اور اخیر دونوں میں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٢٦٧، ومصباح الزجاجة: ١١٢٢)، وقد أخر جہ: سنن ابی داود/الأطعمة ١٦ (٣٧٦٧)، سنن الترمذی/الأطعمة ٤٧ (١٨٥٨)، مسند احمد (٦/١٤٣، ٢٠٧، ٢٤٦، ٢٦٥)، سنن الدارمی/الأطعمة ١ (٢٠٦٣) (صحیح) (عبد بن عبید بن عمیر اور ام المؤمنین عائشہ ؓ کے درمیان سند میں انقطاع ہے، لیکن حدیث امیہ بن مخشی اور ابن مسعود ؓ کے شواہد کی بناء پر صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ١٩٦٥ )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم میں ہر شخص کو چاہیئے کہ وہ دائیں ہاتھ سے کھائے، دائیں ہاتھ سے پیئے، دائیں ہاتھ سے لے، دائیں ہاتھ سے دے، اس لیے کہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے، بائیں ہاتھ سے پیتا ہے، بائیں ہاتھ سے دیتا ہے اور بائیں ہاتھ سے لیتا ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: "Let one of you eat with his right hand and drink with his right hand, and take with his right hand and give with his right hand, for Satan eats with his left hand, drinks with his left hand, gives with his left hand and takes with his left hand,"
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٤٢٠، ومصباح الزجاجة: ١١٢٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٤٩) (صحیح )
عمر بن ابی سلمہ ؓ کہتے ہیں کہ میں بچہ تھا اور نبی اکرم ﷺ کے زیر تربیت تھا، میرا ہاتھ پلیٹ میں چاروں طرف چل رہا تھا ١ ؎، تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: لڑکے! بسم الله کہو، دائیں ہاتھ سے کھاؤ، اور اپنے قریب سے کھاؤ۔
It was narrated from Wahb bin Kaisan that he heard Umar bin Abu Salamah say: "I was a boy in the care of the Prophet ﷺ and my hand used to wander all over the plate. He said to me: O boy! Say the Name of Allah, eat with your right hand, and eat from what is in front of you."
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی میں ہر طرف سے اٹھا اٹھا کر کھا رہا تھا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأطعمة ٢ (٥٣٧٦)، صحیح مسلم/الإشربة ١٣ (٢٠٢٢)، سنن النسائی/الیوم و اللیلة (٢٧٨، ٢٧٩، ٢٨٠)، (تحفة الأشراف: ١٠٦٨٨)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صفة النبی ﷺ ١٠ (٣٢)، مسند احمد (٤/ ٢٦)، سنن الدارمی/الأطمة ١ (٢٠٦٢) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو اپنے ہاتھ نہ پونچھے یہاں تک کہ وہ چاٹ لے یا کسی اور کو چٹا دے، سفیان (ابن عیینہ) کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن قیس کو عمرو بن دینار سے سوال کرتے سنا کہ عطا کی حدیث: تم میں سے کوئی اپنا ہاتھ نہ صاف کرے یہاں تک کہ وہ اسے چاٹ لے یا کسی اور کو چٹا دے کے بارے میں بتاؤ، وہ کس سے مروی ہے؟ عمرو بن دینار نے کہا: ابن عباس ؓ سے مروی ہے، انہوں نے کہا: ہمیں یہ حدیث جابر ؓ سے روایت کی گئی ہے، عمرو بن دینار نے کہا: ہم نے یہ حدیث عطاء سے اور عطاء نے ابن عباس ؓ سے یاد کی ہے، اور یہ بات جابر ؓ کے ہمارے پاس آنے سے پہلے کی ہے جب کہ عطاء کی ملاقات جابر ؓ سے اس سال ہوئی جب وہ مکہ میں قیام پزیر ہوئے ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Abbas that the Prophet ﷺ said: "When one of you eats food, let him not wipe his hand until he has licked it or has someone else to lick it." Discussion of another chain for this Hadith from Jabir.
Notes · وضاحت
١ ؎: اپنی بیوی یا بچہ یا لونڈی یا غلام کو، امام نووی کہتے ہیں کہ کھانے کی سنت میں سے یہ ہے کہ انگلیاں چاٹنا، اور تین انگلیوں سے کھانا، اور انگلیاں نہ چاٹنا کھانا ضائع کرنا ہے، اور شیطان کو دینا ہے، اور تکبر کی نشانی ہے، اسی طرح جو لقمہ دسترخوان پر گرجائے اس کا اٹھا لینا سنت ہے۔
Takhrij · تخریج
حدیث جابر تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٤٦٧)، وحدیث ابن عباس أخرجہ: صحیح البخاری/الأطعمة ٥٢ (٥٤٥٦)، صحیح مسلم/الأشربة ١٨ (٢٠٣١)، (تحفة الأشراف: ٥٩٤٢)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأطعمة ٥٢ (٣٨٤٧)، مسند احمد (١/٢٩٣، ٣٤٦، ٣٧٠)، سنن الدارمی/الأطعمة ٦ (٢٠٦٩) (صحیح )
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی اپنے ہاتھ کو صاف نہ کرے یہاں تک کہ اسے چاٹ لے، اس لیے کہ اسے نہیں معلوم کہ اس کے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے ١ ؎۔
It was narrated from Jabir that the Messenger of Allah ﷺ said: "None of you should wipe his hand until he has licked it, for he does not know where the blessing is in his food.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ سنت ہے گو اس زمانہ میں بعض متکبر دنیا دار اس کو تہذیب کے خلاف سمجھتے ہیں، وہ خود بےتہذیب ہیں، جب آدمی پاک صاف ہو، اور ہاتھ دھو کر کھانا کھائے، تو انگلیاں چاٹنے میں کیا قباحت ہے، البتہ ہاتھ نجس ہو اور چمچہ سے کھانا کھائے تو نہ چاٹے، اس سے پہلا ادب یہ بتلایا گیا ہے کہ بسم اللہ پڑھ کر کھانے یا پینے کا آغاز کیا جائے، دوسرا ادب یہ کہ داہنے ہاتھ سے کھایا جائے، اور تیسرا ادب یہ ہے کہ اپنے سامنے اور اپنے قریب سے کھایا جائے، اس صورت میں ہے کہ جب کھانا کسی بڑے برتن (طباق سینی یا تھالی وغیرہ) میں ہو اور بیک وقت کئی افراد مل کر کھا رہے ہوں، اور کھانا بھی ایک ہی قسم کا ہو اگر مختلف اقسام کی چیزیں ہوں، تو پھر دوسرے لوگوں کی طرف سے بھی ہاتھ بڑھا کر چیز لینا جائز ہوگا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأشربة ١٨ (٢٠٣٣)، (تحفة الأشراف: ٢٧٤٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٠١، ٣٣١، ٣٣٧، ٣٦٥، ٣٩٣) (صحیح )
ام عاصم بیان کرتی ہیں کہ ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ کے غلام نبیشہ ؓ آئے، اس وقت ہم ایک بڑے پیالے میں کھانا کھا رہے تھے، انہوں نے کہا کہ نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے: جو شخص کسی بڑے پیالے میں کھاتا ہے پھر چاٹ کر صاف کرتا ہے، اس کے لیے یہ پیالہ استغفار کرتا ہے ۔
It was narrated that Umm Asim said: "Nubaishah, the freed slave of the Messenger of Allah ﷺ entered upon us when we were eating from a bowl He said that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever eats from a bowl and cleans it, the bowl will pray for forgiveness for him."
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأطعمة ١١ (١٨٠٤)، (تحفة الأشراف: ١١٥٨٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٧٦)، سنن الدارمی/الأطمة ٧ (٢٠٧٠) (ضعیف) (سند میں ام عاصم مجہول الحال ہیں )
معلی بن راشد ابوالیمان بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے میری دادی نے ہذیل کے نبیشہ الخیر نامی شخص سے نقل کیا کہ ایک بار جب ہم اپنے ایک بڑے پیالے میں کھا رہے تھے نبیشہ ؓ ہمارے پاس آئے اور کہنے لگے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: جو شخص کسی پیالے میں کھائے، اور اسے چاٹ کر صاف کرلے تو یہ پیالہ اس کے لیے استغفار کرے گا ۔
Mualla bin Rashid Abu Yaman said: "My grandmother narrated to me from a man of Hudhail who was called Nubaishah Al-Khair. She said: Nubaishah entered upon us when we were eating from a bowl of ours. He said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever eats from a bowl then cleans it, the bowl will pray for forgiveness for him."
Takhrij · تخریج
أنظر ما قبلہ (ضعیف) (سند میں ام عاصم مجہول الحال ہیں )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب دستر خوان لگایا جائے تو ہر شخص کو اس جانب سے کھانا چاہیئے جو اس سے قریب ہو، وہ اپنے ساتھی کے سامنے سے نہ کھائے ۔
It was narrated from Ibn Umar (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "When food is served, eat from that which is in front of you, and do not take from what is in front of your companion."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٣٢٧، ومصباح الزجاجة: ١١٢٤) (ضعیف جدا) (عبدالاعلی بن اعین نے ابن ابی کثیر سے منکر احادیث روایت کی ہے، نیز ملاحظہ ہو: المشکاة: ٤٢٥٤ )
عکراش بن ذویب ؓ کہتے ہیں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں ایک لگن لایا گیا جس میں بہت سا ثرید اور روغن تھا، ہم سب اس میں سے کھانے لگے، میں اپنا ہاتھ پیالے میں ہر طرف پھرا رہا تھا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: عکراش! ایک جگہ سے کھاؤ، اس لیے کہ یہ پورا ایک ہی کھانا ہے ، پھر ایک طبق لایا گیا جس میں مختلف اقسام کی تازہ کھجوریں تھیں تو رسول اللہ ﷺ کا ہاتھ طبق میں چاروں طرف گھومنے لگا، آپ ﷺ نے فرمایا: عکراش! جہاں سے جی چاہے کھاؤ، اس لیے کہ اس میں کئی طرح کی کھجوریں ہیں ۔
It was narrated that Ikrash bin Dhu aib said: "The Prophet ﷺ was brought a bowl filled with Tharid and fatty meat, and we started to eat from it. My hand was wandering all over, so he said: O Ikrash, eat from one spot, for it is all the same food. Then we were brought a plate on which were different kinds of fresh dates, and the hand of the Messenger of Allah ﷺ went all around the plate. He said: O Ikrash, eat from wherever you want, for they are not all the same.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأطعمة ٤١ (١٨٤٨)، (تحفة الأشراف: ١٠٠١٦) (ضعیف) (علاء بن فضل ضعیف راوی ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٥٠٩٨ )
عبداللہ بن بسر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک پیالا لایا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس کے اطراف سے کھاؤ، اور اس کی چوٹی یعنی درمیان کو چھوڑ دو کہ اس میں برکت ہوتی ہے ۔
Abdullah bin Busr narrated that the Messenger of Allah ﷺ was brought a bowl (of food). The Messenger of Allah ﷺ said: "Eat from the sides and leave the top, so that it may be blessed."
واثلہ بن اسقع لیثی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ثرید کے اونچے حصہ پر ہاتھ رکھا، اور فرمایا: بسم اللہ کہہ کر اس کے اطراف سے کھاؤ، اور اس کے اونچے حصہ کو چھوڑ دو، اس لیے کہ برکت اس کے اوپر والے حصے سے ہی آتی ہے ۔
It was narrated that Wathilah bin Asqa Al-Laithi said: "The Messenger of Allah ﷺ took hold of the top of the Tharid and said: Eat in the Name of Allah from its sides and leave the top, for the blessing comes from its top."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٧٤٣، ومصباح الزجاجة: ١١٢٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٩٠) (صحیح )