عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے گھوڑوں کو پھرتیلا بنایا، آپ پھرتیلے چھریرے بدن والے گھوڑوں کو مقام حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک اور غیر پھرتیلے گھوڑوں کو ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق تک دوڑاتے تھے ١ ؎۔
It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ made a horse lean, and he would send the horse that he had made lean from Hafya to Thaniyyatul-Wadil, and (he would send) the horse that he had not made lean from Thaniyyatul-Wadil to the Masjid of Banu Zuraiq." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: تضمیر (پھرتیلا بنانا) یہ ہے کہ گھوڑے کو پہلے خوب کھلایا جائے یہاں تک کہ موٹا ہوجائے، پھر اس کا چارہ آہستہ آہستہ کم کردیا جائے، اور اسے ایک کوٹھری میں بند کر کے اس پر جھول ڈال دی جائے تاکہ گرم ہو اور اسے خوب پسینہ آجائے، ایسا کرنے سے گھوڑا سبک اور تیز رفتار ہوجاتا ہے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسابقت (آگے بڑھنے) کی شرط گھوڑے اور اونٹ کے علاوہ کسی میں جائز نہیں ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "There should be no prizes for racing except races with camels and horses." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: ترمذی اور ابوداود کی روایت میں أو نصل (یا تیر میں) زیادہ ہے، مطلب یہ ہے کہ ان تینوں میں آگے بڑھنے کی شرط لگانا اور جیتنے پر مال لینا جائز ہے، تیر میں یہ شرط ہے کہ کس کا دور جاتا ہے، علامہ طیبی کہتے ہیں کہ گدھے اور خچر بھی گھوڑے کی طرح ہیں، ان میں بھی شرط درست ہوگی، لیکن حدیث میں یہ تین چیزیں مذکور ہیں: نصل یعنی تیر، خف یعنی اونٹ، حافر یعنی گھوڑا، ایک شخص نے حدیث میں اپنی طرف سے یہ بڑھا دیا أو جناح یعنی پرندہ اڑانے میں شرط لگانا درست ہے جیسے کبوتر باز کیا کرتے ہیں اور یہ لفظ اس وقت روایت کیا جب ایک عباسی خلیفہ کبوتر بازی کر رہا تھا، یہ شخص خلیفہ کے پاس گیا اور اس کا دل خوش کرنے اور کبوتر بازی کو جائز کرنے کی خاطر حدیث میں یہ لفظ اپنی طرف سے بڑھا دیا اور اللہ کا خوف بالکل نہ کیا، اللہ تعالیٰ ائمہ حدیث کو جزائے خیر دے اگر وہ محنت کر کے صحیح حدیثوں کو جھوٹی اور ضعیف حدیثوں سے الگ نہ کرتے تو دین برباد ہوجاتا، حدیث سے یہ اہتمام اس امت سے خاص ہے، اگلی امتوں والے کتاب الہی کی بھی اچھی طرح حفاظت نہ کرسکے حدیث کا کیا ذکر ذلک فضل الله يؤتيه من يشاء والله ذو الفضل العظيم (سورة الجمعة: 4)۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دشمن کی سر زمین میں قرآن لے کر جانے کی ممانعت اس خطرے کے پیش نظر فرمائی کہ کہیں اسے دشمن پا نہ لیں ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ forbade traveling with he Quran to the land of the enemy, lest the enemy gets hold fit. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اور اس کو ضائع کردیں یا اس کی اہانت اور بےحرمتی کریں، ممکن ہے کہ یہ ممانعت نبی کریم ﷺ کے عہد سے خاص ہو جب مصحف کے نسخے بہت کم تھے، اور اکثر ایسا تھا کہ مصحف کی بعض آیتیں یا بعض سورتیں خاص خاص لوگوں کے پاس تھیں اور پورا مصحف کسی کے پاس نہ تھا تو آپ ﷺ کو یہ ڈر ہوا کہ کہیں یہ مصحف تلف ہوجائیں اور قرآن کا کوئی جزء مسلمانوں سے بالکل اٹھ جائے، لیکن اس زمانہ میں جب قرآن مجید کے لاکھوں نسخے چھپے موجود ہیں اور قرآن کے ہزاروں بلکہ لاکھوں حفاظ موجود ہیں، یہ اندیشہ بالکل نہیں رہا، جب کہ قرآن کریم کی اہانت اور بےحرمتی کا اندیشہ اب بھی باقی ہے، سبحان اللہ، اگلی امتوں میں سے کسی بھی امت میں ایک شخص بھی ایسا نہیں ملتا تھا جو پوری تورات یا انجیل کا حافظ ہو، اب مسلمانوں میں ہر بستی میں سینکڑوں حافظ موجود ہیں، یہ فضیلت بھی اللہ تعالیٰ نے اسی امت کو دی ہے۔
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ دشمن کی سر زمین میں قرآن لے کر جانے سے منع فرماتے تھے، کیونکہ یہ خطرہ ہے کہ کہیں دشمن اسے پا نہ لیں ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ used to forbid traveling with the Quran to the land of the enemy, lest the enemy gets hold of it. (Sahih)
جبیر بن مطعم ؓ کا بیان ہے کہ وہ اور عثمان بن عفان ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، اور خیبر کے خمس مال میں سے جو حصہ آپ نے بنی ہاشم اور بنی مطلب کو دیا تھا اس کے بارے میں گفتگو کرنے لگے، چناچہ انہوں نے کہا: آپ نے ہمارے بھائی بنی ہاشم اور بنی مطلب کو تو دے دیا، جب کہ ہماری اور بنی مطلب کی قرابت بنی ہاشم سے یکساں ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں بنی ہاشم اور بنی مطلب کو ایک ہی سمجھتا ہوں ١ ؎۔
It was narrated from Saeed bin Musayyab that jubair bin Mutim told him that he and Uthman bin Affan came to the Messenger of Allah ﷺ to speak to him about the way in which the one fifth from Khaibar had been distributed to Banu Hashim and Banu Muttalib. They said: "You have distributed it to our brothers Banu Hashim and Banu Muttalib, but we are related to you (to Banu Hashim) in the same way (as Banu Muttalib)." The Messenger of Allah ﷺ said: "Rather I think that Banu Hashim and Banu Muttalib are the same. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: عبد مناف کے چار بیٹے تھے: ہاشم، مطلب، نوفل اور عبد شمس، جبیر نوفل کی اولاد میں سے تھے اور عثمان عبد شمس کی اولاد میں سے، تو نبی کریم ﷺ نے ذوی القربی کا حصہ ہاشم اور مطلب کو دیا، اس وقت ان دونوں نے اعتراض کیا کہ بنی ہاشم کی فضیلت کا تو ہمیں انکار نہیں کیونکہ آپ ﷺ بنی ہاشم کی اولاد میں سے ہیں، لیکن بنی مطلب کو ہمارے اوپر ترجیح کی کوئی وجہ نہیں، ہماری اور ان کی قرابت آپ ﷺ سے یکساں ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: سچ یہی ہے لیکن بنی مطلب ہمیشہ یہاں تک کہ جاہلیت کے زمانہ میں بھی بنی ہاشم کے ساتھ رہے تو وہ اور بنی ہاشم ایک ہی ہیں، برخلاف بنی امیہ کے یعنی عبدشمس کی اولاد کے کیونکہ امیہ عبد شمس کا بیٹا تھا جس کی اولاد میں عثمان اور معاویہ اور تمام بنی امیہ تھے کہ ان میں اور بنی ہاشم میں کبھی اتفاق نہیں رہا، اور جب قریش نے قسم کھائی تھی کہ بنی ہاشم اور بنی مطلب سے نہ شادی بیاہ کریں گے، نہ میل جول رکھیں گے جب تک وہ نبی کریم ﷺ کو ہمارے حوالہ نہ کردیں، اس وقت بھی بنی مطلب اور بنی ہاشم ساتھ ہی رہے، پس اس لحاظ سے آپ ﷺ نے ذوی القربی کا حصہ دونوں کو دلایا۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے، وہ تمہارے سونے، اور کھانے پینے (کی سہولتوں) میں رکاوٹ بنتا ہے، لہٰذا تم میں سے کوئی جب اپنے سفر کی ضرورت پوری کرلے، تو جلد سے جلد اپنے گھر لوٹ آئے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Traveling is a kind of torment, it keeps anyone of you from his sleep, food and drink. When anyone of you has fulfilled the purpose for which he traveled, let him hasten to return to his family." (Sahih) Another chain from Abu Hurairah (RA) h, from the Prophet ﷺ with similar wording. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بلا ضرورت سفر میں رہنا اور تکلیفیں اٹھانا صحیح نہیں ہے، یہ بھی معلوم ہوا کہ سفر گرچہ حج یا جہاد کے لیے ہو تب بھی کام پورا ہونے کے بعد جلدی گھر لوٹنا بہتر ہے، اس میں خود اس شخص کو بھی آرام ہے اور اس کے گھر والوں کو بھی جو جدائی سے پریشان رہتے ہیں، اور مدت دراز تک شوہر کا اپنی بیوی سے علاحدہ رہنا بھی مناسب نہیں ہے، حاجت بشری اور خواہش انسانی ساتھ لگی ہوئی ہے مبادا گناہ میں گرفتاری ہو، اللہ بچائے۔
اس سند سے بھی ابوہریرہ ؓ سے اسی طرح مروی ہے۔
عبداللہ بن عباس، فضل ؓ سے روایت کرتے ہیں یا ان میں ایک دوسرے سے روایت کرتے ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص حج کا قصد کرے تو اسے جلدی سے انجام دے لے، اس لیے کہ کبھی آدمی بیمار پڑجاتا ہے یا کبھی کوئی چیز گم ہوجاتی ہے، (جیسے سواری وغیرہ) یا کبھی کوئی ضرورت پیش آجاتی ہے ١ ؎۔
It was narrated from Ibn ‘Abbâs that Fadl said — or vice versa: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Whoever intends to perform Hajj, let him hasten to do so, for he may fall sick, lose his mount, or be faced with some need.” (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: تاخیر کی صورت میں اس قسم کے حالات سے دو چار ہوسکتا ہے، اور آدمی ایک فرض کا تارک ہوسکتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٠٤٧، ومصباح الزجاجة: ١٠١٥)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/المناسک ٦ (١٧٣٢)، مسند احمد (١/٢٢٥، ٣٢٣، ٣٥٥)، سنن الدارمی/الحج ١ (١٨٢٥) (حسن) (سند میں اسماعیل بن خلیفہ ضعیف ہیں، لیکن متابعات و شواہد کی وجہ سے یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ٩٩٠ )
علی ؓ کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ: ولله على الناس حج البيت من استطاع إليه سبيلا اللہ کے لیے ان لوگوں پر بیت اللہ کا حج کرنا فرض ہے، جو وہاں تک پہنچنے کی قدرت رکھتے ہوں (سورۃ آل عمران: ٩٧ ) نازل ہوئی تو لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا حج ہر سال فرض ہے ١ ؎؟ آپ ﷺ خاموش رہے، لوگوں نے پھر سوال کیا: کیا ہر سال حج فرض ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، اور اگر میں، ہاں، کہہ دیتا تو (ہر سال) واجب ہوجاتا ، اس پر آیت کریمہ: يا أيها الذين آمنوا لا تسألوا عن أشياء إن تبد لکم تسؤكم اے ایمان والو! تم ان چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو اگر وہ تم پر ظاہر کردی جائیں تو تمہارے لیے بار خاطر ہوں گی (سورۃ المائدہ: ١٠١ ) نازل ہوئی ٢ ؎۔
It was narrated that Ali said: "When the following was revealed: "And Hajj (pilgrimage to Makkah) to the House (Ka’bahh) is a duty that mankind owes to Allah, for whoever can bear the way." They asked: O Messenger of Allah, is Hajj every Year? He remained silent. They asked: Is it every year? He said: No. I had said yes, It wouId have become obligatory. Then the following was revealed: "O you who believe! Ask not about things which, if made plain to you, may cause you trouble. (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: حج اسلام کا پانچواں بنیادی رکن ہے جو ٥ ھ یا ٦ ھ میں فرض ہوا، بعض لوگوں کے نزدیک ٩ ھ یا ١٠ ھ میں فرض ہوا ہے زادالمعاد میں حافظ ابن القیم کا رجحان اسی طرف ہے۔ ٢ ؎: بلا ضرورت سوال کرنا منع ہے، کیونکہ سوال سے ہر چیز کھول کر بیان کی جاتی ہے اور جو سوال نہ ہو تو مجمل رہتی ہے اور مجمل میں بڑی گنجائش رہتی ہے، اسی حج کی آیت میں دیکھیں کہ اس میں تفصیل نہیں تھی کہ ہر سال حج فرض ہے یا زندگی میں ایک بار، پس اگر زندگی میں ایک بار بھی حج کرلیا تو آیت پر عمل ہوگیا، اور یہ کافی تھا پوچھنے کی حاجت نہ تھی، لیکن صحابہ کرام ؓ نے پوچھا، اگر رسول اکرم ﷺ ہاں فرما دیتے تو ہر سال حج فرض ہوجاتا اور امت کو بڑی تکلیف ہوتی خصوصاً دور دراز ملک والوں کو وہ ہر سال حج کے لیے کیونکر جاسکتے ہیں، مگر آپ ﷺ نے اپنی امت پر رحم فرمایا، اور خاموش رہے جب انہوں نے پھر سوال کیا تو انکار میں جواب دیا یعنی ہر سال فرض نہیں، اور آئندہ کے لیے ان کو بلاضرورت سوال کرنے سے منع فرمایا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحج ٥ (٨١٤)، (تحفة الأشراف: ١٠١١١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١١٣) (ضعیف) (سند میں عبدالاعلی ضعیف راوی ہیں، لیکن متن حدیث نزول آیت کے علاوہ صحیح و ثابت ہے، ملاحظہ ہو: آگے حدیث نمبر ٢٨٨٥ )
انس ؓ کہتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا حج ہر سال واجب ہے؟ آپ ﷺ نے جواب دیا: اگر میں ہاں کہہ دوں تو وہ (ہر سال) واجب ہوجائے گا، اور اگر (ہر سال) واجب ہوگیا تو تم اسے انجام نہ دے سکو گے، اور اگر انجام نہ دے سکے تو تمہیں عذاب دیا جائے گا ۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "They said: O Messenger of Allah, is Hajj (required) every year? He said: I were to say yes, it would have become obligatory, and if it were to become obligatory, you would not (be able to) do it, and if you did not do it you would be Punished. (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٢٧، ومصباح الزجاجة: ١٠١٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٨٧) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اقرع بن حابس ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا اور کہا: اللہ کے رسول! کیا حج ہر سال فرض ہے، یا صرف ایک بار؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، صرف ایک مرتبہ فرض ہے، البتہ جو (مزید کی) استطاعت رکھتا ہو تو وہ اسے بطور نفل کرے ۔
It was narrated from Ibn Abbas that Aqre bin Habis asked the Prophet ﷺ "O Messenger of Allah, is Hajj (required) every year, or just once?" He said: "Rather it is just once. And whoever can perform Hajj voluntarily, let him do so." (Sahih)
عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: حج اور عمرہ کو یکے بعد دیگرے ادا کرو، اس لیے کہ انہیں باربار کرنا فقر اور گناہوں کو ایسے ہی دور کردیتا ہے جیسے بھٹی لوہے کے میل کو ۔
It was narrated from Umar that the Prophet ﷺ said: "Perform Hajj and Ummh, one after the other, for performing them one after the other removes poverty and sin as the bellows removes impurity from iron." (Sahih) Another chain with similar wording.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٤٧٧، ومصباح الزجاجة: ١٠١٨) (صحیح) (سند میں عاصم بن عبید اللہ ضعیف راوی ہیں، لیکن اصل حدیث ابن مسعود ؓ وغیرہ سے ثابت ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ١٢٠٠ )
اس سند سے بھی عمر بن خطاب ؓ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ایک عمرے سے دوسرے عمرے تک جتنے گناہ ہوں ان سب کا کفارہ یہ عمرہ ہوتا ہے، اور حج مبرور (مقبول) کا بدلہ سوائے جنت کے کچھ اور نہیں ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: "From one Umrah to another is an expiation for the sins that came in between them, and Hajj Mabrur (an accepted Hajj) brings no less a reward than Paradise." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: حج مبرور: حج مقبول کو کہتے ہیں اور بعض کے نزدیک مبرور وہ حج ہے جس میں کوئی گناہ سرزد نہ ہو، نیز ایک قول یہ بھی ہے کہ حج مبرور وہ حج ہے جس میں حج کے تمام شرائط اور آداب کی پابندی کی گئی ہو، اور بعضوں نے کہا کہ حج مبرور کی نشانی یہ ہے کہ اس کے بعد حاجی کا حال بدل جائے یعنی توجہ الی اللہ اور عبادت میں مصروف رہے، اور جن گناہوں کو حج سے پہلے کیا کرتا تھا ان سے باز رہے۔ واللہ اعلم۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اس گھر (کعبہ) کا حج کیا، اور نہ (ایام حج میں) جماع کیا، اور نہ گناہ کے کام کئے، تو وہ اس طرح واپس آئے گا جیسے اس کی ماں نے اسے جنم دیا ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever performs Hajj to this House, and does not have sexual relations nor commit any disobedience, will go back like the day his mother bore him." (Sahih)
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک پرانے کجاوے پر سوار ہو کر ایک ایسی چادر میں حج کیا جس کی قیمت چار درہم کے برابر رہی ہوگی، یا اتنی بھی نہیں، پھر فرمایا: اے اللہ! یہ ایسا حج ہے جس میں نہ ریا کاری ہے اور نہ شہرت ١ ؎۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The Prophet ﷺ performed Hajj on an old saddle, wearing a cloak that was worth four Dirham or less. Then he said: O Allah, a Hajj in which there is no showing off nor reputation sought." (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی خالص تیری رضا مندی اور ثواب کے لیے حج کرتا ہوں، نہ نمائش اور فخر و مباہات کے لیے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حج میں زیادہ زیب و زینت کرنا اور زیادہ عمدہ سواری یا عمدہ لباس رکھنا خلاف سنت ہے، حج میں بندہ اپنے مالک کے حضور میں جاتا ہے تو جس قدر عاجزی کے ساتھ جائے پھٹے پرانے حال سے اتنا ہی بہتر ہے تاکہ مالک کی رحمت جوش میں آئے، اور یہی وجہ ہے کہ حج میں سلے ہوئے کپڑے پہننے سے اور خوشبو لگانے سے منع کیا گیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٧٢، ومصباح الزجاجة: ١٠١٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج ٣ (١٥١٧)، عن ثمامة بن عبد اللہ بن أنس قال: حج أنس علی رحل ولم یکن شحیحاً وحدث أن رسول اللہ ﷺ حج علی رحل وکانت زاعلتہ (صحیح) (الربیع بن صبیح و یزید بن ابان دونوں ضعیف ہیں، لیکن حدیث متابعت اور شواہد کی بناء پر صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٢٦١٧ ، و مختصر الشمائل: ٢٨٨ ، فتح الباری: ٣؍ ٣٨٧ )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مکہ اور مدینہ کے درمیان تھے، ہمارا گزر ایک وادی سے ہوا، آپ ﷺ نے پوچھا: یہ کون سی وادی ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: وادی ازرق ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: گویا میں موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھ رہا ہوں، پھر آپ ﷺ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے بالوں کی لمبائی کا تذکرہ کیا (جو راوی داود کو یاد نہیں رہا) اپنی دو انگلیاں اپنے دونوں کانوں میں ڈالے ہوئے بلند آواز سے، لبیک کہتے ہوئے، اللہ سے فریاد کرتے ہوئے اس وادی سے گزرے ۔ عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ہم چلے یہاں تک کہ ہم ایک وادی میں پہنچے تو آپ ﷺ نے پوچھا: یہ کون سی وادی ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا: هرشى أو لفت کی وادی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: گویا میں یونس (علیہ السلام) کو دیکھ رہا ہوں جو بالوں کا جبہ پہنے ہوئے، سرخ اونٹنی پر سوار ہیں، ان کی اونٹنی کی نکیل کھجور کے پتوں کی رسی کی ہے، اور وہ اس وادی سے لبیک کہتے ہوئے گزر رہے ہیں ١ ؎۔
It was narrated that Ibn Abbas (RA) said: "We were with the Messenger of Allah ﷺ between Makkah and Al-Madinah, and we passed through a valley. He said: What valley is this? They said: Azraq Valley. He said: It is as if I can see Musa - and he mentioned something about the length of his hair, which Dawud (one of the narrators) did not remember - putting his fingers in his ears and raising his voice to Allah r e ci t ing the Talbiyah, we traveled on until we came to a narrow pass, and he said: What pass is this? They said: Thaniyyat Harsha or Laft. He said: It is as if I can see Yunus, on a red she-camel, wearing a woolen cloak and holding the reins of his she-camel, woven from palm fibers, passing through this valley, reciting the Talbiyah." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: هرشى أو لفت دونوں ٹیلوں کے نام ہیں۔ ٢ ؎: احتمال ہے کہ عالم ارواح میں موسیٰ اور یونس (علیہما السلام) آپ ﷺ کے سامنے اس وقت اسی طرح سے گزرے ہوں، یا یہ واقعہ ان کے زمانہ کا ہے، اللہ تبارک وتعالی نے آپ ﷺ کو پھر دکھلا دیا، یا یہ تشبیہ ہے کمال علم اور یقین کی جیسے اس بات کو دیکھ رہے ہیں۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حجاج اور معتمرین (حج اور عمرہ کرنے والے) اللہ کے وفد (مہمان) ہیں، اگر وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں تو وہ ان کی دعاؤں کو قبول کرتا ہے، اور اگر وہ اس سے مغفرت طلب کرتے ہیں تو وہ انہیں معاف کردیتا ہے ۔
If was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "The pilgrims performing Hajj and Umrah are a delegafion to Allah. If they call upon Him, He will answer them; and if they ask for His forgiveness, He will forgive them." (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٨٨٨، ومصباح الزجاجة: ١٠٢٠) (ضعیف) (سند میں صالح بن عبد اللہ منکر الحدیث راوی ہے )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا، حج کرنے والا اور عمرہ کرنے والا اللہ تعالیٰ کا مہمان ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کو بلایا تو انہوں نے حاضری دی، اور انہوں نے اللہ تعالیٰ سے مانگا تو اس نے انہیں عطا کیا ۔
It was narrated from Ibn Unar that the Prophet ﷺ said "The one who fights in the cause of Allah, and the pilgrim performing Hajj and Umrah are a delegation to Allah.He invited them, so they responded to Him,and they ask Him and He gives to them."(Hasan)
عمر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے عمرہ کی اجازت طلب کی تو آپ ﷺ نے اجازت عطا فرمائی، اور ان سے فرمایا: اے میرے بھائی! ہمیں بھی دعاؤں میں شریک رکھنا، اور ہمیں نہ بھولنا ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Umar (from Umar) that he asked the Prophet ﷺ for permission to perform Umrah, and he gave him permission and said to him: "O younger brother, give us a share of your supplication, and do not forget us." (Daif)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٣٥٨ (١٤٩٨)، سنن الترمذی/الدعوات ١١٠ (٣٥٦٢)، (تحفة الأشراف: ١٠٥٢٢)، وقد أٰخرجہ: مسند احمد (/٢٩) (ضعیف) (سند میں عاصم بن عبید اللہ ضعیف راوی ہیں )
صفوان بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ ان کی زوجیت میں ابوالدرداء ؓ کی صاحبزادی تھیں، وہ ان کے پاس گئے، وہاں ام الدرداء یعنی ساس کو پایا، ابو الدرداء کو نہیں، ام الدرداء نے ان سے پوچھا: کیا تمہارا امسال حج کا ارادہ ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں، تو انہوں نے کہا: ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے خیر کی دعا کرنا، اس لیے کہ نبی اکرم ﷺ فرماتے تھے: آدمی کی وہ دعا جو وہ اپنے بھائی کے لیے اس کے غائبانے میں کرتا ہے قبول کی جاتی ہے، اس کے سر کے پاس ایک فرشتہ ہوتا ہے، جو اس کی دعا پر آمین کہتا ہے، جب وہ اس کے لیے خیر کی دعا کرتا ہے تو وہ آمین کہتا ہے، اور کہتا ہے: تیرے لیے بھی ایسا ہی ہو ۔ صفوان ؓ کہتے ہیں کہ پھر میں بازار کی طرف چلا گیا، تو میری ملاقات ابو الدرداء ؓ سے ہوئی تو انہوں نے بھی مجھ سے اسی کے مثل نبی اکرم ﷺ سے بیان کیا۔
It was narrated from Safwan bin Abdullah bin Safwan said that he was married to a daughter of Abu Darda. He came to her and found Umm Darda there, but he did not find Abu Darda. She said to him: "Do you intend to perform Hajj this year?" He said: "Yes." She said: "Pray to Allah for us to grant us goodness, for the Prophet ﷺ used to say: The supplication of a man for his brother in his absence will be answered. By his head there is an angel who says Amin to his supplication, and every time he prays for his brother, he says:" Amin and the same for you . He said: "Then I went out to the marketplace where I met Abu Darda, and he told me something similar from the Prophet ﷺ ."(Sahih)
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس کھڑا ہوا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سی چیز حج کو واجب کردیتی ہے،؟ آپ ﷺ نے جواب دیا: زاد سفر اور سواری (کا انتظام) اس نے پوچھا: اللہ کے رسول! حاجی کیسا ہوتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: پراگندہ سر اور خوشبو سے عاری ایک دوسرا شخص اٹھا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! حج کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: عج اور ثج۔ وکیع کہتے ہیں کہ عج کا مطلب ہے لبیک پکارنا، اور ثج کا مطلب ہے خون بہانا یعنی قربانی کرنا۔
It was narrated that Ibn Umar said: "A man stood up and said to the Prophet ﷺ : O Messenger of Allah ﷺ What makes Hajj obligatory? He said: Provision and a mount. He said: O Messenger of Allah, what is the (real) Hajj? He said: The one with disheveled hair and no perfume. Another (man) stood up and said: O Messenger of Allah, what is the (real) Hajj? He said: Raising ones voice and slaughtering the sacrificial animal." (Daif) Waki’ said: “The me of Al-Hajj is raising the voice with the Talbiyah and Ath-Thajj is performing the Nahr (sacrifice) on the camel."
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحج ٤ (٨١٣)، (تحفة الأشراف: ٧٤٤٠) (ضعیف جدا) (ابراہیم بن یزید مکی متروک الحدیث راوی ہے، لیکن العج و الثج کا جملہ دوسری حدیث سے ثابت ہے، جو ٢٩٢٤ نمبر پر آئے گا، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ٩٨٨ )